Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ سے زیادہ اور کوئی غیرت مند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے بےحیائیوں کو حرام قرار دیا ہے۔ خواہ وہ ظاہر ہوں خواہ پوشیدہ اور اللہ کو اپنی تعریف سے زیادہ اور کوئی چیز پسند نہیں، یہی وجہ ہے کہ اس نے اپنی خود مدح کی ہے۔ ( عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ ) میں نے پوچھا آپ نے یہ حدیث خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنی تھی انہوں نے بیان کیا کہ ہاں، میں نے پوچھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے حدیث بیان کی تھی؟ کہا کہ ہاں۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عمرو، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه قال " لا احد اغير من الله، ولذلك حرم الفواحش ما ظهر منها وما بطن، ولا شىء احب اليه المدح من الله، لذلك مدح نفسه ". قلت سمعته من عبد الله قال نعم. قلت ورفعه قال نعم
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمارہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت تک قیامت قائم نہ ہو گی، جب تک سورج مغرب سے طلوع نہ ہو لے۔ جب لوگ اسے دیکھیں گے تو ایمان لائیں گے لیکن یہ وہ وقت ہو گا جب کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کوئی نفع نہ دے گا جو پہلے سے ایمان نہ رکھتا ہو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا عمارة، حدثنا ابو زرعة، حدثنا ابو هريرة، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها، فاذا راها الناس امن من عليها، فذاك حين لا ينفع نفسا ايمانها، لم تكن امنت من قبل
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی، جب تک سورج مغرب سے نہ طلوع ہو لے۔ جب مغرب سے سورج طلوع ہو گا اور لوگ دیکھ لیں گے تو سب ایمان لائیں گے لیکن یہ وقت ہو گا جب کسی کو اس کا ایمان نفع نہ دے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی۔
حدثني اسحاق، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى تطلع الشمس من مغربها فاذا طلعت وراها الناس امنوا اجمعون، وذلك حين لا ينفع نفسا ايمانها ". ثم قرا الاية
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ( عمرو بن مرہ نے بیان کیا کہ ) میں نے ( ابووائل سے ) پوچھا، کیا تم نے یہ حدیث ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے زیادہ اور کوئی غیرت مند نہیں ہے۔ اسی لیے اس نے بےحیائیوں کو حرام کیا خواہ ظاہر میں ہوں یا پوشیدہ اور اللہ سے زیادہ اپنی مدح کو پسند کرنے والا اور کوئی نہیں، اسی لیے اس نے اپنے نفس کی خود تعریف کی ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه قال قلت انت سمعت هذا من عبد الله قال نعم، ورفعه. قال " لا احد اغير من الله، فلذلك حرم الفواحش ما ظهر منها وما بطن، ولا احد احب اليه المدحة من الله، فلذلك مدح نفسه
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عمرو بن یحییٰ مازنی نے، ان سے ان کے والد یحییٰ مازنی نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس کے منہ پر کسی نے طمانچہ مارا تھا۔ اس نے کہا: اے محمد! آپ کے انصاری صحابہ میں سے ایک شخص نے مجھے طمانچہ مارا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بلاؤ۔ لوگوں نے انہیں بلایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تم نے اسے طمانچہ کیوں مارا ہے؟ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں یہودیوں کی طرف سے گزرا تو میں نے سنا کہ یہ کہہ رہا تھا۔ اس ذات کی قسم! جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر فضیلت دی۔ میں نے کہا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی۔ مجھے اس کی بات پر غصہ آ گیا اور میں نے اسے طمانچہ مار دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ مجھے انبیاء پر فضیلت نہ دیا کرو۔ قیامت کے دن تمام لوگ بیہوش کر دیئے جائیں گے۔ سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا لیکن میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ وہ عرش کا ایک پایہ پکڑے کھڑے ہوں گے اب مجھے نہیں معلوم کہ وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے یا طور کی بے ہوشی کا انہیں بدلہ دیا گیا۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن عمرو بن يحيى المازني، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه قال جاء رجل من اليهود الى النبي صلى الله عليه وسلم قد لطم وجهه وقال يا محمد ان رجلا من اصحابك من الانصار لطم وجهي. قال " ادعوه ". فدعوه قال " لم لطمت وجهه ". قال يا رسول الله، اني مررت باليهود فسمعته يقول والذي اصطفى موسى على البشر. فقلت وعلى محمد واخذتني غضبة فلطمته. قال " لا تخيروني من بين الانبياء، فان الناس يصعقون يوم القيامة فاكون اول من يفيق، فاذا انا بموسى اخذ بقايمة من قوايم العرش، فلا ادري افاق قبلي ام جزي بصعقة الطور
ہم سے مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے عمرو بن حریث نے اور ان سے سعید بن زید رضی اللہ عنہما کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کھنبی «من» میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاء ہے۔
حدثنا مسلم، حدثنا شعبة، عن عبد الملك، عن عمرو بن حريث، عن سعيد بن زيد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الكماة من المن وماوها شفاء العين
ہم سے عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن اور موسیٰ بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن علاء بن زبیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے بسر بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوادریس خولانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابودرداء رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان کچھ بحث سی ہو گئی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پر غصہ ہو گئے اور ان کے پاس سے آنے لگے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ان کے پیچھے پیچھے ہو گئے، معافی مانگتے ہوئے۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں معاف نہیں کیا اور ( گھر پہنچ کر ) اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ اب ابوبکر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم لوگ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے یہ صاحب ( یعنی ابوبکر رضی اللہ عنہ ) لڑ آئے ہیں۔ راوی نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی اپنے طرز عمل پر نادم ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلے اور سلام کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب بیٹھ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ بہت ناراض ہوئے۔ ادھر ابوبکر رضی اللہ عنہ باربار یہ عرض کرتے کہ یا رسول اللہ! واقعی میری ہی زیادتی تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم لوگ مجھے میرے ساتھی سے جدا کرنا چاہتے ہو؟ کیا تم لوگ میرے ساتھی کو مجھ سے جدا کرنا چاہتے ہو؟ جب میں نے کہا تھا کہ اے انسانو! بیشک میں اللہ کا رسول ہوں، تم سب کی طرف، تو تم لوگوں نے کہا کہ تم جھوٹ بولتے ہو، اس وقت ابوبکر نے کہا تھا کہ آپ سچے ہیں۔ ابوعبداللہ نے کہا «غامر» کے معنی حدیث میں یہ ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھلائی میں سبقت کی ہے۔
حدثنا عبد الله، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن، وموسى بن هارون، قالا حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عبد الله بن العلاء بن زبر، قال حدثني بسر بن عبيد الله، قال حدثني ابو ادريس الخولاني، قال سمعت ابا الدرداء، يقول كانت بين ابي بكر وعمر محاورة، فاغضب ابو بكر عمر، فانصرف عنه عمر مغضبا، فاتبعه ابو بكر يساله ان يستغفر له، فلم يفعل حتى اغلق بابه في وجهه، فاقبل ابو بكر الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال ابو الدرداء ونحن عنده فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما صاحبكم هذا فقد غامر ". قال وندم عمر على ما كان منه فاقبل حتى سلم وجلس الى النبي صلى الله عليه وسلم وقص على رسول الله صلى الله عليه وسلم الخبر. قال ابو الدرداء وغضب رسول الله صلى الله عليه وسلم وجعل ابو بكر يقول والله يا رسول الله لانا كنت اظلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هل انتم تاركو لي صاحبي هل انتم تاركو لي صاحبي اني قلت يا ايها الناس اني رسول الله اليكم جميعا فقلتم كذبت. وقال ابو بكر صدقت قال ابو عبد الله غامر سبق بالخير
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام بن منبہ نے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ دروازے میں ( عاجزی سے ) جھکتے ہوئے داخل ہو اور کہتے جاؤ کہ توبہ ہے، تو ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے، لیکن انہوں نے حکم بدل ڈالا۔ چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور یہ کہا کہ «حبة في شعرة» یعنی ہم کو بالیوں میں دانہ چاہیئے۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام بن منبه، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قيل لبني اسراييل {ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة نغفر لكم خطاياكم} فبدلوا فدخلوا يزحفون على استاههم وقالوا حبة في شعرة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عیینہ بن حصن بن حذیفہ نے اپنے بھتیجے حر بن قیس کے یہاں آ کر قیام کیا۔ حر، ان چند خاص لوگوں میں سے تھے جنہیں عمر رضی اللہ عنہ اپنے بہت قریب رکھتے تھے جو لوگ قرآن مجید کے زیادہ عالم اور قاری ہوتے۔ عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں انہیں کو زیادہ نزدیکی حاصل ہوتی تھی اور ایسے لوگ آپ کے مشیر ہوتے۔ اس کی کوئی قید نہیں تھی کہ وہ عمر رسیدہ ہوں یا نوجوان۔ عیینہ نے اپنے بھتیجے سے کہا کہ تمہیں اس امیر کی مجلس میں بہت نزدیکی حاصل ہے۔ میرے لیے بھی مجلس میں حاضری کی اجازت لے دو۔ حر بن قیس نے کہا کہ میں آپ کے لیے بھی اجازت مانگوں گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ چنانچہ انہوں نے عیینہ کے لیے بھی اجازت مانگی اور عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں مجلس میں آنے کی اجازت دے دی۔ مجلس میں جب وہ پہنچے تو کہنے لگے: اے خطاب کے بیٹے! اللہ کی قسم! نہ تو تم ہمیں مال ہی دیتے ہو اور نہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتے ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی اس بات پر بڑا غصہ آیا اور آگے بڑھ ہی رہے تھے کہ حر بن قیس نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے خطاب کر کے فرمایا ہے ”معافی اختیار کر اور نیک کام کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کش ہو جایا کیجئے۔“ اور یہ بھی جاہلوں میں سے ہیں۔ اللہ کی قسم! کہ جب حر نے قرآن مجید کی تلاوت کی تو عمر رضی اللہ عنہ بالکل ٹھنڈے پڑ گئے اور کتاب اللہ کے حکم کے سامنے آپ کی یہی حالت ہوتی تھی۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان ابن عباس رضى الله عنهما قال قدم عيينة بن حصن بن حذيفة فنزل على ابن اخيه الحر بن قيس، وكان من النفر الذين يدنيهم عمر، وكان القراء اصحاب مجالس عمر ومشاورته كهولا كانوا او شبانا. فقال عيينة لابن اخيه يا ابن اخي، لك وجه عند هذا الامير فاستاذن لي عليه. قال ساستاذن لك عليه. قال ابن عباس فاستاذن الحر لعيينة فاذن له عمر، فلما دخل عليه قال هي يا ابن الخطاب، فوالله ما تعطينا الجزل، ولا تحكم بيننا بالعدل. فغضب عمر حتى هم به، فقال له الحر يا امير المومنين ان الله تعالى قال لنبيه صلى الله عليه وسلم {خذ العفو وامر بالعرف واعرض عن الجاهلين} وان هذا من الجاهلين. والله ما جاوزها عمر حين تلاها عليه، وكان وقافا عند كتاب الله
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آیت «خذ العفو وأمر بالعرف» ”معافی اختیار کیجئے اور نیک کام کا حکم دیتے رہئیے۔“ لوگوں کے اخلاق کی اصلاح کے لیے ہی نازل ہوئی ہے۔
حدثنا يحيى، حدثنا وكيع، عن هشام، عن ابيه، عن عبد الله بن الزبير، {خذ العفو وامر بالعرف} قال ما انزل الله الا في اخلاق الناس
اور عبداللہ بن براد نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا ہے کہ لوگوں کے اخلاق ٹھیک کرنے کے لیے درگزر اختیار کریں یا کچھ ایسا ہی کہا۔
وقال عبد الله بن براد حدثنا ابو اسامة، حدثنا هشام، عن ابيه، عن عبد الله بن الزبير، قال امر الله نبيه صلى الله عليه وسلم ان ياخذ العفو من اخلاق الناس. او كما قال
مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشیم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابوبشر نے خبر دی، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ الانفال کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتلایا کہ غزوہ بدر میں نازل ہوئی تھی۔ «الشوكة» کا معنی دھار نوک۔ «مردفين» کے معنی فوج در فوج۔ کہتے ہیں «ردفني وأردفني» یعنی میرے بعد آیا۔ «ذلكم فذوقوه ذوقوا» کا معنی یہ ہے کہ یہ عذاب اٹھاؤ اس کا تجربہ کرو، منہ سے چکھنا مراد نہیں ہے۔ «فيركمه» کا معنی اس کا جمع کرے۔ «شرد» کا معنی جدا کر دے ( یا سخت سزا دے ) ۔ «جنحوا» کے معنی طلب کریں۔ «يثخن» کا معنی غالب ہوا اور مجاہد نے کہا «مكاء» کا معنی انگلیاں منہ پر رکھنا۔ «تصدية» سیٹی بجانا۔ «يثبتوك» تاکہ تجھ کو قید کر لیں۔
حدثني محمد بن عبد الرحيم، حدثنا سعيد بن سليمان، اخبرنا هشيم، اخبرنا ابو بشر، عن سعيد بن جبير، قال قلت لابن عباس رضى الله عنهما سورة الانفال قال نزلت في بدر. الشوكة الحد {مردفين} فوجا بعد فوج، ردفني واردفني جاء بعدي {ذوقوا} باشروا وجربوا وليس هذا من ذوق الفم {فيركمه} يجمعه. {شرد} فرق {وان جنحوا} طلبوا {يثخن} يغلب. وقال مجاهد {مكاء} ادخال اصابعهم في افواههم و{تصدية} الصفير {ليثبتوك} ليحبسوك
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے ورقاء بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ آیت «إن شر الدواب عند الله الصم البكم الذين لا يعقلون» ”بدترین حیوانات اللہ کے نزدیک وہ بہرے گونگے ہیں جو عقل سے ذرا کام نہیں لیتے۔“ بنو عبدالدار کے کچھ لوگوں کے بارے میں اتری تھی۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا ورقاء، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابن عباس، {ان شر الدواب عند الله الصم البكم الذين لا يعقلون} قال هم نفر من بني عبد الدار
مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے انہوں نے حفص بن عاصم سے سنا اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکارا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نہ پہنچ سکا بلکہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ آنے میں دیر کیوں ہوئی؟ کیا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم نہیں دیا ہے «يا أيها الذين آمنوا استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم» کہ ”اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہو، جبکہ وہ ( یعنی رسول ) تم کو بلائیں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تمہیں قرآن کی عظیم ترین سورۃ سکھاؤں گا۔ تھوڑی دیر بعد آپ باہر تشریف لے جانے لگے تو میں نے آپ کو یاد دلایا۔ اور معاذ بن معاذ عنبری نے اس حدیث کو یوں روایت کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب نے، انہوں نے حفص سے سنا اور انہوں نے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے، سنا اور انہوں نے بیان کیا وہ ( سورۃ فاتحه ) «الحمد لله رب العالمين» ہے جس میں سات آیتیں ہیں جو ہر نماز میں مکرر پڑھی جاتی ہیں۔
حدثني اسحاق، اخبرنا روح، حدثنا شعبة، عن خبيب بن عبد الرحمن، سمعت حفص بن عاصم، يحدث عن ابي سعيد بن المعلى رضى الله عنه قال كنت اصلي فمر بي رسول الله صلى الله عليه وسلم فدعاني فلم اته حتى صليت، ثم اتيته فقال " ما منعك ان تاتي الم يقل الله {يا ايها الذين امنوا استجيبوا لله وللرسول اذا دعاكم} ثم قال لاعلمنك اعظم سورة في القران قبل ان اخرج ". فذهب رسول الله صلى الله عليه وسلم ليخرج فذكرت له. وقال معاذ حدثنا شعبة، عن خبيب، سمع حفصا، سمع ابا سعيد، رجلا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم بهذا، وقال هي {الحمد لله رب العالمين} السبع المثاني
مجھ سے احمد بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے صاحب الزیادی عبدالحمید نے جو کردید کے صاحبزادے تھے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ کلام تیری طرف سے واقعی حق ہے تو ہم پر آسمانوں سے پتھر برسا دے یا پھر کوئی اور ہی عذاب درد ناک لے آ!“ تو اس پر آیت «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون * وما لهم أن لا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام» ”حالانکہ اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ انہیں عذاب دے، اس حال میں کہ آپ ان میں موجود ہوں اور نہ اللہ ان پر عذاب لائے گا اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ ان لوگوں کے لیے کیا وجہ کہ اللہ ان پر عذاب ( ہی سرے سے ) نہ لائے درآں حالیکہ وہ مسجد الحرام سے روکتے ہیں۔“ آخر آیت تک۔
حدثني احمد، حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن عبد الحميد هو ابن كرديد صاحب الزيادي سمع انس بن مالك رضى الله عنه قال ابو جهل {اللهم ان كان هذا هو الحق من عندك فامطر علينا حجارة من السماء او ايتنا بعذاب اليم} فنزلت {وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون * وما لهم ان لا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام} الاية
ہم سے محمد بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے صاحب الزیادی عبدالحمید نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوجہل نے کہا تھا کہ اے اللہ! اگر یہ کلام تیری طرف سے واقعی حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا پھر کوئی اور ہی عذاب لے آ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وما كان الله ليعذبهم وأنت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون * وما لهم أن لا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام» ”حالانکہ اللہ ایسا نہیں کرے گا کہ انہیں عذاب دے اس حال میں کہ آپ ان میں موجود ہوں اور نہ اللہ ان پر عذاب لائے گا۔ اس حال میں کہ وہ استغفار کر رہے ہوں۔ ان لوگوں کو اللہ کیوں نہ عذاب کرے جن کا حال یہ ہے کہ وہ مسجد الحرام سے روکتے ہیں۔“ آخر آیت تک۔
حدثنا محمد بن النضر، حدثنا عبيد الله بن معاذ، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن عبد الحميد، صاحب الزيادي سمع انس بن مالك، قال قال ابو جهل {اللهم ان كان هذا هو الحق من عندك فامطر علينا حجارة من السماء او ايتنا بعذاب اليم} فنزلت {وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم وما كان الله معذبهم وهم يستغفرون * وما لهم ان لا يعذبهم الله وهم يصدون عن المسجد الحرام} الاية
ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن یحییٰ نے، کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے، انہوں نے بکر بن عمرو سے، انہوں نے بکیر سے، انہوں نے نافع سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ ایک شخص ( حبان یا علاء بن عرار نامی ) نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! آپ نے قرآن کی یہ آیت نہیں سنی «وإن طائفتان من المؤمنين اقتتلوا» کہ ”جب مسلمانوں کی دو جماعتیں لڑنے لگیں“ الخ، اس آیت کے بموجب تم ( علی اور معاویہ رضی اللہ عنہما دونوں سے ) کیوں نہیں لڑتے جیسے اللہ نے فرمایا «فقاتلوا التي تبغيإ» ۔ انہوں نے کہا میرے بھتیجے! اگر میں اس آیت کی تاویل کر کے مسلمانوں سے نہ لڑوں تو یہ مجھ کو اچھا معلوم ہوتا ہے بہ نسبت اس کے کہ میں اس آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» کی تاویل کروں۔ وہ شخص کہنے لگا اچھا اس آیت کو کیا کرو گے جس میں مذکور ہے «وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة» کہ ”ان سے لڑو تاکہ فتنہ باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ کا ہو جائے۔“ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ( واہ، واہ ) یہ لڑائی تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں کر چکے، اس وقت مسلمان بہت تھوڑے تھے اور مسلمان کو اسلام اختیار کرنے پر تکلیف دی جاتی۔ قتل کرتے، قید کرتے یہاں تک کہ اسلام پھیل گیا۔ مسلمان بہت ہو گئے اب فتنہ جو اس آیت میں مذکور ہے وہ کہاں رہا۔ جب اس شخص نے دیکھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کسی طرح لڑائی پر اس کے موافق نہیں ہوتے تو کہنے لگا اچھا بتلاؤ علی رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں تمہارا کیا اعتقاد ہے؟ انہوں نے کہا ہاں یہ کہو تو سنو، علی اور عثمان رضی اللہ عنہما کے بارے میں اپنا اعتقاد بیان کرتا ہوں۔ عثمان رضی اللہ عنہ کا جو قصور تم بیان کرتے ہو ( کہ وہ جنگ احد میں بھاگ نکلے ) تو اللہ نے ان کا یہ قصور معاف کر دیا مگر تم کو یہ معافی پسند نہیں ( جب تو اب تک ان پر قصور لگاتے جاتے ہو ) اور علی رضی اللہ عنہ تو ( سبحان اللہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور آپ داماد بھی تھے اور ہاتھ سے اشارہ کر کے بتلایا یہ ان کا گھر ہے جہاں تم دیکھ رہے ہو۔
حدثنا الحسن بن عبد العزيز، حدثنا عبد الله بن يحيى، حدثنا حيوة، عن بكر بن عمرو، عن بكير، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رجلا، جاءه فقال يا ابا عبد الرحمن، الا تسمع ما ذكر الله في كتابه {وان طايفتان من المومنين اقتتلوا} الى اخر الاية، فما يمنعك ان لا تقاتل كما ذكر الله في كتابه. فقال يا ابن اخي اغتر بهذه الاية ولا اقاتل احب الى من ان اغتر بهذه الاية التي يقول الله تعالى {ومن يقتل مومنا متعمدا} الى اخرها. قال فان الله يقول {وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة}. قال ابن عمر قد فعلنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم اذ كان الاسلام قليلا، فكان الرجل يفتن في دينه، اما يقتلوه واما يوثقوه، حتى كثر الاسلام، فلم تكن فتنة، فلما راى انه لا يوافقه فيما يريد قال فما قولك في علي وعثمان. قال ابن عمر ما قولي في علي وعثمان اما عثمان فكان الله قد عفا عنه، فكرهتم ان يعفو عنه، واما علي فابن عم رسول الله صلى الله عليه وسلم وختنه. واشار بيده وهذه ابنته او بنته حيث ترون
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے بیان نے بیان کیا، ان سے وبرہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید بن جبیر نے بیان کیا، کہا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے پاس تشریف لائے، تو ایک صاحب نے ان سے پوچھا کہ ( مسلمانوں کے باہمی ) فتنہ اور جنگ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے پوچھا تمہیں معلوم بھی ہے ”فتنہ“ کیا چیز ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین سے جنگ کرتے تھے اور ان میں ٹھہر جانا ہی فتنہ تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگ تمہاری ملک و سلطنت کی خاطر جنگ کی طرح نہیں تھی۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا بيان، ان وبرة، حدثه قال حدثني سعيد بن جبير، قال خرج علينا او الينا ابن عمر، فقال رجل كيف ترى في قتال الفتنة. فقال وهل تدري ما الفتنة كان محمد صلى الله عليه وسلم يقاتل المشركين، وكان الدخول عليهم فتنة، وليس كقتالكم على الملك
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين» کہ ”اگر تم میں سے بیس آدمی بھی صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے۔“ تو مسلمانوں کے لیے فرض قرار دے دیا گیا کہ ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے سے نہ بھاگے اور کئی مرتبہ سفیان ثوری نے یہ بھی کہا کہ بیس دو سو کے مقابلے سے نہ بھاگیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «الآن خفف الله عنكم» ”اب اللہ نے تم پر تخفیف کر دی۔“ اس کے بعد یہ فرض قرار دیا کہ ایک سو، دو سو کے مقابلے سے نہ بھاگیں۔ سفیان ثوری نے ایک مرتبہ اس زیادتی کے ساتھ روایت بیان کی کہ آیت نازل ہوئی «حرض المؤمنين على القتال إن يكن منكم عشرون صابرون» کہ ”اے نبی مومنوں کو قتال پر آمادہ کرو۔ اگر تم میں سے بیس آدمی صبر کرنے والے ہوں گے۔“ سفیان ثوری نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن شبرمہ ( کوفہ کے قاضی ) نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں بھی یہی حکم ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن ابن عباس رضى الله عنهما لما نزلت {ان يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مايتين} فكتب عليهم ان لا يفر واحد من عشرة فقال سفيان غير مرة ان لا يفر عشرون من مايتين ثم نزلت {الان خفف الله عنكم} الاية، فكتب ان لا يفر ماية من مايتين زاد سفيان مرة نزلت {حرض المومنين على القتال ان يكن منكم عشرون صابرون}. قال سفيان وقال ابن شبرمة وارى الامر بالمعروف والنهى عن المنكر مثل هذا
ہم سے یحییٰ بن عبداللہ سلمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو جریر بن حازم نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے زبیر ابن خریت نے خبر دی، انہیں عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب یہ آیت اتری «إن يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مائتين» کہ ”اگر تم میں سے بیس آدمی بھی صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے۔“ تو مسلمانوں پر سخت گزرا کیونکہ اس آیت میں ان پر یہ فرض قرار دیا گیا تھا کہ ایک مسلمان دس کافروں کے مقابلے سے نہ بھاگے۔ اس لیے اس کے بعد تخفیف کی گئی۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا «الآن خفف الله عنكم وعلم أن فيكم ضعفا فإن يكن منكم مائة صابرة يغلبوا مائتين» کہ ”اب اللہ نے تم سے تخفیف کر دی اور معلوم کر لیا کہ تم میں جوش کی کمی ہے۔ سو اب اگر تم میں صبر کرنے والے ہوں گے تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ تعداد کی اس کمی سے اتنی ہی مسلمانوں کے صبر میں کمی ہو گئی۔
حدثنا يحيى بن عبد الله السلمي، اخبرنا عبد الله بن المبارك، اخبرنا جرير بن حازم، قال اخبرني الزبير بن خريت، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لما نزلت {ان يكن منكم عشرون صابرون يغلبوا مايتين} شق ذلك على المسلمين حين فرض عليهم ان لا يفر واحد من عشرة، فجاء التخفيف فقال رالان خفف الله عنكم وعلم ان فيكم ضعفا فان يكن منكم ماية صابرة يغلبوا مايتين}. قال فلما خفف الله عنهم من العدة نقص من الصبر بقدر ما خفف عنهم