Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے آخر میں یہ آیت نازل ہوئی تھی «يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة» اور سب سے آخر میں سورۃ برات نازل ہوئی۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت البراء رضى الله عنه يقول اخر اية نزلت {يستفتونك قل الله يفتيكم في الكلالة} واخر سورة نزلت براءة
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے (کہا) اور مجھے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس حج کے موقع پر ( جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امیر بنایا تھا ) مجھے بھی اعلان کرنے والوں میں رکھا تھا، جنہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر میں اس لیے بھیجا تھا کہ اعلان کر دیں کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگے ہو کر نہ کرے۔ حمید بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے سے بھیجا اور انہیں سورۃ برات کے احکام کے اعلان کرنے کا حکم دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا، چنانچہ ہمارے ساتھ علی رضی اللہ عنہ نے بھی یوم نحر ہی میں سورۃ برات کا اعلان کیا اور اس کا کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی ننگے ہو کر طواف کرے۔
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، واخبرني حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال بعثني ابو بكر في تلك الحجة في موذنين، بعثهم يوم النحر يوذنون بمنى ان لا يحج بعد العام مشرك، ولا يطوف بالبيت عريان. قال حميد بن عبد الرحمن ثم اردف رسول الله صلى الله عليه وسلم بعلي بن ابي طالب، وامره ان يوذن ببراءة. قال ابو هريرة فاذن معنا علي يوم النحر في اهل منى ببراءة، وان لا يحج بعد العام مشرك، ولا يطوف بالبيت عريان
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حج کے موقع پر ( جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امیر بنایا تھا ) مجھ کو ان اعلان کرنے والوں میں رکھا تھا جنہیں آپ نے یوم نحر میں بھیجا تھا۔ منیٰ میں یہ اعلان کرنے کے لیے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی شخص بیت اللہ کا طواف ننگا ہو کر کرے۔ حمید نے کہا کہ پھر پیچھے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور انہیں حکم دیا کہ سورۃ برات کا اعلان کر دیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ نے ہمارے ساتھ منیٰ کے میدان میں دسویں تاریخ میں سورۃ برات کا اعلان کیا اور یہ کہ کوئی مشرک آئندہ سال سے حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی بیت اللہ کا طواف ننگا ہو کر کرے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثني عقيل، قال ابن شهاب فاخبرني حميد بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة، قال بعثني ابو بكر رضى الله عنه في تلك الحجة في الموذنين، بعثهم يوم النحر يوذنون بمنى ان لا يحج بعد العام مشرك، ولا يطوف بالبيت عريان. قال حميد ثم اردف النبي صلى الله عليه وسلم بعلي بن ابي طالب، فامره ان يوذن ببراءة. قال ابو هريرة فاذن معنا علي في اهل منى يوم النحر ببراءة، وان لا يحج بعد العام مشرك، ولا يطوف بالبيت عريان
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد (ابراہیم بن سعد) نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس حج کے موقع پر جس کا انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر بنایا تھا۔ حجۃ الوداع سے ( ایک سال ) پہلے 9 ھ میں انہیں بھی ان اعلان کرنے والوں میں رکھا تھا جنہیں لوگوں میں آپ نے یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا تھا کہ آئندہ سال سے کوئی مشرک حج کرنے نہ آئے اور نہ کوئی بیت اللہ کا طواف ننگا ہو کر کرے۔ حمید نے کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یوم نحر بڑے حج کا دن ہے۔
حدثنا اسحاق، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، ان حميد بن عبد الرحمن، اخبره ان ابا هريرة اخبره ان ابا بكر رضى الله عنه بعثه في الحجة التي امره رسول الله صلى الله عليه وسلم عليها قبل حجة الوداع في رهط يوذن في الناس ان لا يحجن بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عريان. فكان حميد يقول يوم النحر يوم الحج الاكبر. من اجل حديث ابي هريرة
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن وہب نے بیان کیا کہ ہم حذیفہ بن یمان کی خدمت میں حاضر تھے۔ انہوں نے کہا یہ آیت جن لوگوں کے بارے میں اتری ان میں سے اب صرف تین شخص باقی ہیں، اسی طرح منافقوں میں سے بھی اب چار شخص باقی ہیں۔ اتنے میں ایک دیہاتی کہنے لگا آپ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ہمیں ان لوگوں کے متعلق بتائیے کہ ان کا کیا حشر ہو گا جو ہمارے گھروں میں چھید کر کے اچھی چیزیں چرا کر لے جاتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ فاسق بدکار ہیں۔ ہاں ان منافقوں میں چار کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا ہے اور ایک تو اتنا بوڑھا ہو چکا ہے کہ اگر ٹھنڈا پانی پیتا ہے تو اس کی ٹھنڈ کا بھی اسے پتہ نہیں چلتا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، حدثنا اسماعيل، حدثنا زيد بن وهب، قال كنا عند حذيفة فقال ما بقي من اصحاب هذه الاية الا ثلاثة، ولا من المنافقين الا اربعة. فقال اعرابي انكم اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم تخبرونا فلا ندري فما بال هولاء الذين يبقرون بيوتنا ويسرقون اعلاقنا. قال اوليك الفساق، اجل لم يبق منهم الا اربعة. احدهم شيخ كبير لو شرب الماء البارد لما وجد برده
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تمہارا خزانہ جس میں زکوٰۃ نہ دی گئی ہو قیامت کے دن گنجے ناگ کی شکل اختیار کرے گا۔
حدثنا الحكم بن نافع، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، ان عبد الرحمن الاعرج، حدثه انه، قال حدثني ابو هريرة رضى الله عنه انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يكون كنز احدكم يوم القيامة شجاعا اقرع
ہم سے قتیبہ بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے زید بن وہب نے بیان کیا کہ میں مقام ربذہ میں ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اس جنگل میں آپ نے کیوں قیام کو پسند کیا؟ فرمایا کہ ہم شام میں تھے۔ ( مجھ میں اور وہاں کے حاکم معاویہ رضی اللہ عنہ میں اختلاف ہو گیا ) میں نے یہ آیت پڑھی «والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله فبشرهم بعذاب أليم» کہ ”اور جو لوگ سونا اور چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اس کو خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں، آپ انہیں ایک درد ناک عذاب کی خبر سنا دیں۔“ تو معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ یہ آیت ہم مسلمانوں کے بارے میں نہیں ہے ( جب وہ زکوٰۃ دیتے رہیں ) بلکہ اہل کتاب کے بارے میں ہے۔ فرمایا کہ میں نے اس پر کہا کہ یہ ہمارے بارے میں بھی ہے اور اہل کتاب کے بارے میں بھی ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن حصين، عن زيد بن وهب، قال مررت على ابي ذر بالربذة فقلت ما انزلك بهذه الارض قال كنا بالشام فقرات {والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله فبشرهم بعذاب اليم} قال معاوية ما هذه فينا، ما هذه الا في اهل الكتاب. قال قلت انها لفينا وفيهم
احمد بن شبیب بن سعید نے کہا کہ ہم سے میرے والد (شبیب بن سعید) نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے خالد بن اسلم نے کہ ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نکلے تو انہوں نے کہا کہ یہ ( مذکورہ بالا آیت ) زکوٰۃ کے حکم سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ پھر جب زکوٰۃ کا حکم ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ سے مالوں کو پاک کر دیا۔
وقال احمد بن شبيب بن سعيد حدثنا ابي، عن يونس، عن ابن شهاب، عن خالد بن اسلم، قال خرجنا مع عبد الله بن عمر فقال هذا قبل ان تنزل، الزكاة، فلما انزلت جعلها الله طهرا للاموال
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے، ان سے ان کے والد ابوبکرہ نفیع بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حجۃ الوداع کے خطبے میں ) فرمایا کہ دیکھو زمانہ پھر اپنی پہلی اسی ہیئت پر آ گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں۔ تین تو لگاتار یعنی ذی قعدہ، ذی الحجۃ اور محرم اور چوتھا رجب مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد، عن ابن ابي بكرة، عن ابي بكرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الزمان قد استدار كهييته يوم خلق الله السموات والارض، السنة اثنا عشر شهرا منها، اربعة حرم، ثلاث متواليات، ذو القعدة وذو الحجة والمحرم ورجب مضر الذي بين جمادى وشعبان
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے حبان بن ہلال باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: انہوں نے کہا کہ میں غار ثور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میں نے کافروں کے پاؤں دیکھے ( جو ہمارے سر پر کھڑے ہوئے تھے ) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور بولے: یا رسول اللہ! اگر ان میں سے کسی نے ذرا بھی قدم اٹھائے تو وہ ہم کو دیکھ لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو کیا سمجھتا ہے ان دو آدمیوں کو ( کوئی نقصان پہنچا سکے گا ) جن کے ساتھ تیسرا اللہ تعالیٰ ہو۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا حبان، حدثنا همام، حدثنا ثابت، حدثنا انس، قال حدثني ابو بكر رضى الله عنه قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في الغار، فرايت اثار المشركين قلت يا رسول الله، لو ان احدهم رفع قدمه رانا. قال " ما ظنك باثنين الله ثالثهما
ہم سے عبداللہ بن محمد بن جعفی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب میرا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے اختلاف ہو گیا تھا تو میں نے کہا کہ ان کے والد زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ تھے، ان کی والدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا تھیں، ان کی خالہ عائشہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ان کے نانا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے اور ان کی دادی ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ) صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ ( عبداللہ بن محمد نے بیان کیا کہ ) میں نے سفیان ( ابن عیینہ ) سے پوچھا کہ اس روایت کی سند کیا ہے؟ تو انہوں نے کہنا شروع کیا «حدثنا» ہم سے حدیث بیان کی لیکن ابھی اتنا ہی کہنے پائے تھے کہ انہیں ایک دوسرے شخص نے دوسری باتوں میں لگا دیا اور ( راوی کا نام ) ابن جریج وہ نہ بیان کر سکے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابن عيينة، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن ابن عباس رضى الله عنهما انه قال حين وقع بينه وبين ابن الزبير قلت ابوه الزبير، وامه اسماء، وخالته عايشة، وجده ابو بكر، وجدته صفية. فقلت لسفيان اسناده. فقال حدثنا، فشغله انسان ولم يقل ابن جريج
مجھ سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ ابن معین نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ابن عباس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہم کے درمیان بیعت کا جھگڑا پیدا ہو گیا تھا۔ میں صبح کو ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے جنگ کرنا چاہتے ہیں، اس کے باوجود کہ اللہ کے حرم کی بےحرمتی ہو گی؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: معاذاللہ! یہ تو اللہ تعالیٰ نے ابن زبیر اور بنو امیہ ہی کے مقدر میں لکھ دیا ہے کہ وہ حرم کی بےحرمتی کریں۔ اللہ کی قسم! میں کسی صورت میں بھی اس بےحرمتی کے لیے تیار نہیں ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ لوگوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ابن زبیر سے بیعت کر لو۔ میں نے ان سے کہا کہ مجھے ان کی خلافت کو تسلیم کرنے میں کیا تامل ہو سکتا ہے، ان کے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حواری تھے، آپ کی مراد زبیر بن عوام سے تھی۔ ان کے نانا صاحب غار تھے، اشارہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ ان کی والدہ صاحب نطاقین تھیں یعنی اسماء رضی اللہ عنہا۔ ان کی خالہ ام المؤمنین تھیں، مراد عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ ان کی پھوپھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ تھیں، مراد خدیجہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ ابن عباس کی مراد ان باتوں سے یہ تھی کہ وہ بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ان کی دادی ہیں، اشارہ صفیہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ اس کے علاوہ وہ خود اسلام میں ہمیشہ صاف کردار اور پاک دامن رہے اور قرآن کے عالم ہیں اور اللہ کی قسم! اگر وہ مجھ سے اچھا برتاؤ کریں تو ان کو کرنا ہی چاہئے وہ میرے بہت قریب کے رشتہ دار ہیں اور اگر وہ مجھ پر حکومت کریں تو خیر حکومت کریں وہ ہمارے برابر کے عزت والے ہیں۔ لیکن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے تو تویت، اسامہ اور حمید کے لوگوں کو ہم پر ترجیح دی ہے۔ ان کی مراد مختلف قبائل یعنی بنو اسد، بنو تویت، بنو اسامہ اور بنو اسد سے تھی۔ ادھر ابن ابی العاص بڑی عمدگی سے چل رہا ہے یعنی عبدالملک بن مروان مسلسل پیش قدمی کر رہا ہے اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس کے سامنے دم دبا لی ہے۔
حدثني عبد الله بن محمد، قال حدثني يحيى بن معين، حدثنا حجاج، قال ابن جريج قال ابن ابي مليكة وكان بينهما شىء فغدوت على ابن عباس فقلت اتريد ان تقاتل ابن الزبير، فتحل حرم الله. فقال معاذ الله، ان الله كتب ابن الزبير وبني امية محلين، واني والله لا احله ابدا. قال قال الناس بايع لابن الزبير. فقلت واين بهذا الامر عنه اما ابوه فحواري النبي صلى الله عليه وسلم، يريد الزبير، واما جده فصاحب الغار، يريد ابا بكر، وامه فذات النطاق، يريد اسماء، واما خالته فام المومنين، يريد عايشة، واما عمته فزوج النبي صلى الله عليه وسلم، يريد خديجة، واما عمة النبي صلى الله عليه وسلم فجدته، يريد صفية، ثم عفيف في الاسلام، قاري للقران. والله ان وصلوني وصلوني من قريب، وان ربوني ربني اكفاء كرام، فاثر التويتات والاسامات والحميدات، يريد ابطنا من بني اسد بني تويت وبني اسامة وبني اسد، ان ابن ابي العاص برز يمشي القدمية، يعني عبد الملك بن مروان، وانه لوى ذنبه، يعني ابن الزبير
ہم سے محمد بن عبید بن میمون نے بیان کیا، کہا ہم سے عیسیٰ بن یونس نے، ان سے عمر بن سعید نے، انہیں ابن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا کہ ابن زبیر پر تمہیں حیرت نہیں ہوتی۔ وہ اب خلافت کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں تو میں نے ارادہ کر لیا کہ ان کے لیے محنت مشقت کروں گا کہ ایسی محنت اور مشقت میں نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے لیے بھی نہیں کی۔ حالانکہ وہ دونوں ان سے ہر حیثیت سے بہتر تھے۔ میں نے لوگوں سے کہا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی کی اولاد میں سے ہیں۔ زبیر رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے نواسے، خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھائی کے بیٹے، عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے بیٹے۔ لیکن عبداللہ بن زبیر نے کیا کیا وہ مجھ سے غرور کرنے لگے۔ انہوں نے نہیں چاہا کہ میں ان کے خاص مصاحبوں میں رہوں ( اپنے دل میں کہا ) مجھ کو ہرگز یہ گمان نہ تھا کہ میں تو ان سے ایسی عاجزی کروں گا اور وہ اس پر بھی مجھ سے راضی نہ ہوں گے۔ خیر اب مجھے امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ بھلائی کریں گے جو ہونا تھا وہ ہوا اب بنی امیہ جو میرے چچا زاد بھائی ہیں اگر مجھ پر حکومت کریں تو یہ مجھ کو اوروں کے حکومت کرنے سے زیادہ پسند ہے۔
حدثنا محمد بن عبيد بن ميمون، حدثنا عيسى بن يونس، عن عمر بن سعيد، قال اخبرني ابن ابي مليكة، دخلنا على ابن عباس فقال الا تعجبون لابن الزبير قام في امره هذا فقلت لاحاسبن نفسي له ما حاسبتها لابي بكر ولا لعمر، ولهما كانا اولى بكل خير منه، وقلت ابن عمة النبي صلى الله عليه وسلم، وابن الزبير، وابن ابي بكر، وابن اخي خديجة، وابن اخت عايشة فاذا هو يتعلى عني ولا يريد ذلك فقلت ما كنت اظن اني اعرض هذا من نفسي، فيدعه، وما اراه يريد خيرا، وان كان لا بد لان يربني بنو عمي احب الى من ان يربني غيرهم
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں ان کے والد سعید بن مسروق نے، انہیں ابن ابی نعم نے اور ان سے ابو سعید خدری نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ مال آیا تو آپ نے چار آدمیوں میں اسے تقسیم کر دیا۔ ( جو نو مسلم تھے ) اور فرمایا کہ میں یہ مال دے کر ان کی دلجوئی کرنا چاہتا ہوں اس پر ( بنو تمیم کا ) ایک شخص بولا کہ آپ نے انصاف نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دین سے باہر ہو جائیں گے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن ابيه، عن ابن ابي نعم، عن ابي سعيد رضى الله عنه قال بعث الى النبي صلى الله عليه وسلم بشىء، فقسمه بين اربعة وقال " اتالفهم ". فقال رجل ما عدلت. فقال " يخرج من ضيضي هذا قوم يمرقون من الدين
مجھ سے ابو محمد بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان اعمش نے، انہیں ابووائل نے اور ان سے ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہمیں خیرات کرنے کا حکم ہوا تو ہم مزدوری پر بوجھ اٹھاتے ( اور اس کی مزدوری صدقہ میں دے دیتے ) چنانچہ ابوعقیل اسی مزدوری سے آدھا صاع خیرات لے کر آئے اور ایک دوسرے صحابی عبدالرحمٰن بن عوف اس سے زیادہ لائے۔ اس پر منافقوں نے کہا کہ اللہ کو اس ( یعنی عقیل ) کے صدقہ کی کوئی ضرورت نہیں تھی اور اس دوسرے ( عبدالرحمٰن بن عوف ) نے تو محض دکھاوے کے لیے اتنا بہت سا صدقہ دیا ہے۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «الذين يلمزون المطوعين من المؤمنين في الصدقات والذين لا يجدون إلا جهدهم» کہ ”یہ ایسے لوگ ہیں جو صدقات کے بارے میں نفل صدقہ دینے والے مسلمانوں پر طعن کرتے ہیں اور خصوصاً ان لوگوں پر جنہیں بجز ان کی محنت مزدوری کے کچھ نہیں ملتا۔“ آخر آیت تک۔
حدثني بشر بن خالد ابو محمد، اخبرنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن سليمان، عن ابي وايل، عن ابي مسعود، قال لما امرنا بالصدقة كنا نتحامل فجاء ابو عقيل بنصف صاع، وجاء انسان باكثر منه، فقال المنافقون ان الله لغني عن صدقة هذا، وما فعل هذا الاخر الا رياء. فنزلت {الذين يلمزون المطوعين من المومنين في الصدقات والذين لا يجدون الا جهدهم} الاية
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابواسامہ (حماد بن اسامہ) سے پوچھا، آپ حضرات سے زائدہ بن قدامہ نے بیان کیا تھا کہ ان سے سلیمان نے، ان سے شقیق نے اور ان سے ابومسعود انصاری نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ کی ترغیب دیتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ مزدوری کر کے لاتے اور ( بڑی مشکل سے ) ایک مد کا صدقہ کر سکتے لیکن آج انہیں میں بعض ایسے ہیں جن کے پاس لاکھوں درہم ہیں۔ غالباً ان کا اشارہ خود اپنی طرف تھا ( حماد نے کہا ہاں سچ ہے ) ۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، قال قلت لابي اسامة احدثكم زايدة عن سليمان عن شقيق عن اب��ي مسعود الانصاري قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يامر بالصدقة، فيحتال احدنا حتى يجيء بالمد، وان لاحدهم اليوم ماية الف. كانه يعرض بنفسه
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ بن عمری نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) کا انتقال ہوا تو اس کے لڑکے عبداللہ بن عبداللہ ( جو پختہ مسلمان تھے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ اپنی قمیص ان کے والد کے کفن کے لیے عنایت فرما دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قمیص عنایت فرمائی۔ پھر انہوں نے عرض کی کہ آپ نماز جنازہ بھی پڑھا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز جنازہ پڑھانے کے لیے بھی آگے بڑھ گئے۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اس کی نماز جنازہ پڑھانے جا رہے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے منع بھی فرما دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے فرمایا ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة» کہ ”آپ ان کے لیے استغفار کریں خواہ نہ کریں۔ اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں گے ( تب بھی اللہ انہیں نہیں بخشے گا ) ۔“ اس لیے میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔ ( ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ زیادہ استغفار کرنے سے معاف کر دے ) عمر رضی اللہ عنہ بولے لیکن یہ شخص تو منافق ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره» کہ ”اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس پر کبھی بھی نماز نہ پڑھئے اور نہ اس کی قبر پر کھڑا ہوئیے۔“
حدثنا عبيد بن اسماعيل، عن ابي اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال لما توفي عبد الله جاء ابنه عبد الله بن عبد الله الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فساله ان يعطيه قميصه يكفن فيه اباه فاعطاه، ثم ساله ان يصلي عليه، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي فقام عمر فاخذ بثوب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله تصلي عليه وقد نهاك ربك ان تصلي عليه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما خيرني الله فقال {استغفر لهم او لا تستغفر لهم ان تستغفر لهم سبعين مرة} وسازيده على السبعين ". قال انه منافق. قال فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فانزل الله {ولا تصل على احد منهم مات ابدا ولا تقم على قبره}
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے اور ان کے علاوہ (ابوصالح عبداللہ بن صالح) نے بیان کیا، کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے جب عبداللہ بن ابی ابن سلول کی موت ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے کہا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو میں جلدی سے خدمت نبوی میں پہنچا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ابن ابی ( منافق ) کی نماز جنازہ پڑھانے لگے حالانکہ اس نے فلاں فلاں دن اس اس طرح کی باتیں ( اسلام کے خلاف ) کی تھیں؟ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اس کی کہی ہوئی باتیں ایک ایک کر کے پیش کرنے لگا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم کر کے فرمایا کہ عمر! میرے پاس سے ہٹ جاؤ ( اور صف میں جا کے کھڑے ہو جاؤ ) ۔ میں نے اصرار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا ہے۔ اس لیے میں نے ( اس کے لیے استغفار کرنے اور اس کی نماز جنازہ پڑھانے ہی کو ) پسند کیا، اگر مجھے یہ معلوم ہو جائے کہ ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کرنے سے اس کی مغفرت ہو جائے گی تو میں ستر مرتبہ سے زیادہ استغفار کروں گا۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور واپس تشریف لائے، تھوڑی دیر ابھی ہوئی تھی کہ سورۃ برات کی دو آیتیں نازل ہوئیں «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا» کہ ”ان میں سے جو کوئی مر جائے اس پر کبھی بھی نماز نہ پڑھئے۔“ آخر آیت «وهم فاسقون» تک۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بعد میں مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی اس درجہ جرات پر خود بھی حیرت ہوئی اور اللہ اور اس کے رسول بہتر جاننے والے ہیں۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل،. وقال غيره حدثني الليث، حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن عمر بن الخطاب رضى الله عنه انه قال لما مات عبد الله بن ابى ابن سلول دعي له رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي عليه فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وثبت اليه، فقلت يا رسول الله، اتصلي على ابن ابى وقد قال يوم كذا كذا وكذا قال اعدد عليه قوله، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " اخر عني يا عمر ". فلما اكثرت عليه قال " اني خيرت فاخترت، لو اعلم اني ان زدت على السبعين يغفر له لزدت عليها ". قال فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم انصرف فلم يمكث الا يسيرا حتى نزلت الايتان من براءة {ولا تصل على احد منهم مات ابدا} الى قوله {وهم فاسقون} قال فعجبت بعد من جراتي على رسول الله صلى الله عليه وسلم والله ورسوله اعلم
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے، ان سے عبیداللہ نے اور ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی کا انتقال ہوا تو اس کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ بن ابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنا کرتہ عنایت فرمایا اور فرمایا کہ اس کرتے سے اسے کفن دیا جائے پھر آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے کھڑے ہوئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ کا دامن پکڑ لیا اور عرض کیا آپ اس پر نماز پڑھانے کے لیے تیار ہو گئے حالانکہ یہ منافق ہے، اللہ تعالیٰ بھی آپ کو ان کے لیے استغفار سے منع کر چکا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے۔ یا راوی نے «خيرني» کی جگہ لفظ «أخبرني» نقل کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے «استغفر لهم أو لا تستغفر لهم إن تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم» کہ ”آپ ان کے لیے استغفار کریں خواہ نہ کریں۔ اگر آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں گے جب بھی اللہ انہیں نہیں بخشے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں ستر مرتبہ سے بھی زیادہ استغفار کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور ہم نے بھی ان کے ساتھ پڑھی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره إنهم كفروا بالله ورسوله وماتوا وهم فاسقون» کہ ”اور ان میں سے جو کوئی مر جائے، آپ اس پر کبھی بھی جنازہ نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں۔ بیشک انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ اس حال میں مرے ہیں کہ وہ نافرمان تھے۔“
حدثني ابراهيم بن المنذر، حدثنا انس بن عياض، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه قال لما توفي عبد الله بن ابى جاء ابنه عبد الله بن عبد الله الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعطاه قميصه وامره ان يكفنه فيه ثم قام يصلي عليه، فاخذ عمر بن الخطاب بثوبه فقال تصلي عليه وهو منافق وقد نهاك الله ان تستغفر لهم. قال " انما خيرني الله او اخبرني فقال {استغفر لهم او لا تستغفر لهم ان تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم} فقال سازيده على سبعين ". قال فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم وصلينا معه ثم انزل الله عليه {ولا تصل على احد منهم مات ابدا ولا تقم على قبره انهم كفروا بالله ورسوله وماتوا وهم فاسقون}
ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے بیان کیا کہ انہوں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکنے کا واقعہ سنا۔ انہوں نے بتلایا، اللہ کی قسم! ہدایت کے بعد اللہ نے مجھ پر اتنا بڑا اور کوئی انعام نہیں کیا جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ بولنے کے بعد ظاہر ہوا تھا کہ اس نے مجھے جھوٹ بولنے سے بچایا، ورنہ میں بھی اسی طرح ہلاک ہو جاتا جس طرح دوسرے لوگ جھوٹی معذرتیں بیان کرنے والے ہلاک ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں وحی نازل کی تھی «سيحلفون بالله لكم إذا انقلبتم إليهم» کہ ”عنقریب یہ لوگ تمہارے سامنے، جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے۔ اللہ کی قسم کھا جائیں گے۔“ آخر آیت «الفاسقين» تک۔
حدثنا يحيى، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن عبد الله، ان عبد الله بن كعب بن مالك، قال سمعت كعب بن مالك، حين تخلف عن تبوك، والله، ما انعم الله على من نعمة بعد اذ هداني اعظم من صدقي رسول الله صلى الله عليه وسلم ان لا اكون كذبته فاهلك كما هلك الذين كذبوا حين انزل الوحى {سيحلفون بالله لكم اذا انقلبتم اليهم} الى {الفاسقين}