Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے مؤمل بن ہشام نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابورجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے سمرہ بن جندب نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ رات ( خواب میں ) میرے پاس دو فرشتے آئے اور مجھے اٹھا کر ایک شہر میں لے گئے جو سونے اور چاندی کی اینٹوں سے بنایا گیا تھا، وہاں ہمیں ایسے لوگ ملے جن کا آدھا بدن نہایت خوبصورت، اتنا کہ کسی دیکھنے والے نے ایسا حسن نہ دیکھا ہو گا اور بدن کا دوسرا آدھا حصہ نہایت بدصورت تھا، اتنا کہ کسی نے بھی ایسی بدصورتی نہیں دیکھی ہو گی۔ دونوں فرشتوں نے ان لوگوں سے کہا جاؤ اور اس نہر میں غوطہٰ لگاؤ۔ وہ گئے اور نہر میں غوطہٰ لگا آئے۔ جب وہ ہمارے پاس آئے تو ان کی بدصورتی جاتی رہی اور اب وہ نہایت خوبصورت نظر آتے تھے پھر فرشتوں نے مجھ سے کہا کہ یہ ”جنت عدن“ ہے اور آپ کا مکان یہیں ہے۔ جن لوگوں کو ابھی آپ نے دیکھا کہ جسم کا آدھا حصہ خوبصورت تھا اور آدھا بدصورت، تو یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا میں اچھے اور برے سب کام کئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دیا تھا۔
حدثنا مومل هو ابن هشام حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، وحدثنا عوف، حدثنا ابو رجاء، حدثنا سمرة بن جندب رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لنا " اتاني الليلة اتيان فابتعثاني، فانتهينا الى مدينة مبنية بلبن ذهب ولبن فضة، فتلقانا رجال شطر من خلقهم كاحسن ما انت راء، وشطر كاقبح ما انت راء قالا لهم اذهبوا فقعوا في ذلك النهر. فوقعوا فيه ثم رجعوا الينا قد ذهب ذلك السوء عنهم، فصاروا في احسن صورة قالا لي هذه جنة عدن، وهذاك منزلك قالا اما القوم الذين كانوا شطر منهم حسن وشطر منهم قبيح فانهم خلطوا عملا صالحا واخر سييا تجاوز الله عنهم
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد مسیب بن حزن نے کہ جب ابوطالب کے انتقال کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے، اس وقت وہاں ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ( آپ ایک بار زبان سے کلمہ ) لا الہٰ الا اللہ کہہ دیجئیے میں اسی کو ( آپ کی نجات کے لیے وسیلہ بنا کر ) اللہ کی بارگاہ میں پیش کر لوں گا۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ ابی امیہ کہنے لگے: ابوطالب! کیا آپ عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اب میں آپ کے لیے برابر مغفرت کی دعا مانگتا رہوں گا جب تک مجھے اس سے روک نہ دیا جائے، تو یہ آیت نازل ہوئی «ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين ولو كانوا أولي قربى من بعد ما تبين لهم أنهم أصحاب الجحيم» کہ ”نبی اور ایمان والوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں۔ اگرچہ وہ ( مشرکین ) رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔ جب ان پر یہ ظاہر ہو چکے کہ وہ ( یقیناً ) اہل دوزخ سے ہیں۔“
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابيه، قال لما حضرت ابا طالب الوفاة دخل عليه النبي صلى الله عليه وسلم وعنده ابو جهل وعبد الله بن ابي امية، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اى عم قل لا اله الا الله. احاج لك بها عند الله ". فقال ابو جهل وعبد الله بن ابي امية يا ابا طالب، اترغب عن ملة عبد المطلب. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لاستغفرن لك ما لم انه عنك ". فنزلت {ما كان للنبي والذين امنوا ان يستغفروا للمشركين ولو كانوا اولي قربى من بعد ما تبين لهم انهم اصحاب الجحيم}
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی (دوسری سند) احمد بن صالح نے بیان کیا کہ ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبدالرحمٰن بن کعب نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبداللہ بن کعب نے خبر دی کہ ( ان کے والد ) کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں یہی ان کو راستے میں ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک سے ان کے واقعہ کے سلسلے میں سنا جس کے بارے میں آیت «وعلى الثلاثة الذين خلفوا» نازل ہوئی تھی۔ آپ نے آخر میں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ) عرض کیا تھا کہ اپنی توبہ کے قبول ہونے کی خوشی میں اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں خیرات کرتا ہوں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اپنا کچھ تھوڑا مال اپنے پاس ہی رہنے دو۔ یہ تمہارے حق میں بھی بہتر ہے۔
حدثنا احمد بن صالح، قال حدثني ابن وهب، قال اخبرني يونس، قال احمد حدثنا عنبسة، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبد الرحمن بن كعب، قال اخبرني عبد الله بن كعب وكان قايد كعب من بنيه حين عمي قال سمعت كعب بن مالك، في حديثه {وعلى الثلاثة الذين خلفوا} قال في اخر حديثه ان من توبتي ان انخلع من مالي صدقة الى الله ورسوله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " امسك بعض مالك، فهو خير لك
مجھ سے محمد بن نصر نیشاپوری نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن ابی شعیب نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن اعین نے بیان کیا، کہا ہم سے اسحاق بن راشد نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی، ان سے ان کے والد عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ ان تین صحابہ میں سے تھے جن کی توبہ قبول کی گئی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ دو غزووں، غزوہ عسرت ( یعنی غزوہ تبوک ) اور غزوہ بدر کے سوا اور کسی غزوے میں کبھی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے سے نہیں رکا تھا۔ انہوں نے بیان کیا چاشت کے وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( غزوہ سے واپس تشریف لائے ) تو میں نے سچ بولنے کا پختہ ارادہ کر لیا اور آپ کا سفر سے واپس آنے میں معمول یہ تھا کہ چاشت کے وقت ہی آپ ( مدینہ ) پہنچتے تھے اور سب سے پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے اور دو رکعت نماز پڑھتے ( بہرحال ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اور میری طرح عذر بیان کرنے والے دو اور صحابہ سے دوسرے صحابہ کو بات چیت کرنے سے منع کر دیا۔ ہمارے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ ( جو ظاہر میں مسلمان تھے ) اس غزوے میں شریک نہیں ہوئے لیکن آپ نے ان میں سے کسی سے بھی بات چیت کی ممانعت نہیں کی تھی۔ چنانچہ لوگوں نے ہم سے بات چیت کرنا چھوڑ دیا۔ میں اسی حالت میں ٹھہرا رہا۔ معاملہ بہت طول پکڑتا جا رہا تھا۔ ادھر میری نظر میں سب سے اہم معاملہ یہ تھا کہ اگر کہیں ( اس عرصہ میں ) میں مر گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر نماز جنازہ نہیں پڑھائیں گے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو جائے تو افسوس لوگوں کا یہی طرز عمل میرے ساتھ پھر ہمیشہ کے لیے باقی رہ جائے گا، نہ مجھ سے کوئی گفتگو کرے گا اور نہ مجھ پر نماز جنازہ پڑھے گا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے ہماری توبہ کی بشارت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت نازل کی جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تشریف رکھتے تھے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا مجھ پر بڑا احسان و کرم تھا اور وہ میری مدد کیا کرتی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام سلمہ! کعب کی توبہ قبول ہو گئی۔ انہوں نے عرض کیا۔ پھر میں ان کے یہاں کسی کو بھیج کر یہ خوشخبری نہ پہنچوا دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ خبر سنتے ہی لوگ جمع ہو جائیں گے اور ساری رات تمہیں سونے نہیں دیں گے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھنے کے بعد بتایا کہ اللہ نے ہماری توبہ قبول کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ خوشخبری سنائی تو آپ کا چہرہ مبارک منور ہو گیا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو اور ( غزوہ میں نہ شریک ہونے والے دوسرے لوگوں سے ) جنہوں نے معذرت کی تھی اور ان کی معذرت قبول بھی ہو گئی تھی۔ ہم تین صحابہ کا معاملہ بالکل مختلف تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری توبہ قبول ہونے کے متعلق وحی نازل کی، لیکن جب ان دوسرے غزوہ میں شریک نہ ہونے والے لوگوں کا ذکر کیا، جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ بولا تھا اور جھوٹی معذرت کی تھی تو اس درجہ برائی کے ساتھ کیا کہ کسی کا بھی اتنی برائی کے ساتھ ذکر نہ کیا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «يعتذرون إليكم إذا رجعتم إليهم قل لا تعتذروا لن نؤمن لكم قد نبأنا الله من أخباركم وسيرى الله عملكم ورسوله» کہ ”یہ لوگ تمہارے سب کے سامنے عذر پیش کریں گے، جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو آپ کہہ دیں کہ بہانے نہ بناؤ ہم ہرگز تمہاری بات نہ مانیں گے! بیشک ہم کو اللہ تمہاری خبر دے چکا ہے اور عنقریب اللہ اور اس کا رسول تمہارا عمل دیکھ لیں گے۔“ آخر آیت تک۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے اور ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے، وہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔ ( جب وہ نابینا ہو گئے تھے ) عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ غزوہ تبوک میں اپنی غیر حاضری کا قصہ بیان کر رہے تھے، کہا کہ اللہ کی قسم! سچ بولنے کا جتنا عمدہ پھل اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا، کسی کو نہ دیا ہو گا۔ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میں نے اس بارے میں سچی بات کہی تھی، اس وقت سے آج تک کبھی جھوٹ کا ارادہ بھی نہیں کیا اور اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی تھی «لقد تاب الله على النبي والمهاجرين» کہ ”بیشک اللہ نے نبی پر اور مہاجرین و انصار پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی۔ آخر آیت «وكونوا مع الصادقين» تک۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، ان عبد الله بن كعب بن مالك وكان قايد كعب بن مالك قال سمعت كعب بن مالك، يحدث حين تخلف عن قصة، تبوك. فوالله ما اعلم احدا ابلاه الله في صدق الحديث احسن مما ابلاني، ما تعمدت منذ ذكرت ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم الى يومي هذا كذبا، وانزل الله عز وجل على رسوله صلى الله عليه وسلم {لقد تاب الله على النبي والمهاجرين} الى قوله {وكونوا مع الصادقين}
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے عبیداللہ بن سباق نے خبر دی اور ان سے زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے جو کاتب وحی تھے، بیان کیا کہ جب ( 11 ھ ) میں یمامہ کی لڑائی میں ( جو مسلیمہ کذاب سے ہوئی تھی ) بہت سے صحابہ مارے گئے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے بلایا، ان کے پاس عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا، عمر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور کہا کہ جنگ یمامہ میں بہت زیادہ مسلمان شہید ہو گئے ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ ( کفار کے ساتھ ) لڑائیوں میں یونہی قرآن کے علماء اور قاری شہید ہوں گے اور اس طرح بہت سا قرآن ضائع ہو جائے گا۔ اب تو ایک ہی صورت ہے کہ آپ قرآن کو ایک جگہ جمع کرا دیں اور میری رائے تو یہ ہے کہ آپ ضرور قرآن کو جمع کرا دیں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس پر میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، ایسا کام میں کس طرح کر سکتا ہوں جو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اللہ کی قسم! یہ تو محض ایک نیک کام ہے۔ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے اس معاملہ پر بات کرتے رہے اور آخر میں اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا اور میری بھی رائے وہی ہو گئی جو عمر رضی اللہ عنہ کی تھی۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ وہیں خاموش بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم جوان اور سمجھدار ہو ہمیں تم پر کسی قسم کا شبہ بھی نہیں اور تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی لکھا بھی کرتے تھے، اس لیے تم ہی قرآن مجید کو جابجا سے تلاش کر کے اسے جمع کر دو۔ اللہ کی قسم! کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے کوئی پہاڑ اٹھا کے لے جانے کے لیے کہتے تو یہ میرے لیے اتنا بھاری نہیں تھا جتنا قرآن کی ترتیب کا حکم۔ میں نے عرض کیا آپ لوگ ایک ایسے کام کے کرنے پر کس طرح آمادہ ہو گئے، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تھا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ ایک نیک کام ہے۔ پھر میں ان سے اس مسئلہ پر گفتگو کرتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس خدمت کے لیے میرا بھی سینہ کھول دیا۔ جس طرح ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا سینہ کھولا تھا۔ چنانچہ میں اٹھا اور میں نے کھال، ہڈی اور کھجور کی شاخوں سے ( جن پر قرآن مجید لکھا ہوا تھا، اس دور کے رواج کے مطابق ) قرآن مجید کو جمع کرنا شروع کر دیا اور لوگوں کے ( جو قرآن کے حافظ تھے ) حافظہ سے بھی مدد لی اور سورۃ التوبہ کی دو آیتیں خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس مجھے ملیں۔ ان کے علاوہ کسی کے پاس مجھے نہیں ملی تھی۔ ( وہ آیتیں یہ تھیں ) «لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم» آخر تک۔ پھر مصحف جس میں قرآن مجید جمع کیا گیا تھا، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس رہا، آپ کی وفات کے بعد عمر رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ رہا، پھر آپ کی وفات کے بعد آپ کی صاحبزادی ( ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ رہا ) ۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو عثمان بن عمر اور لیث بن سعد نے بھی یونس سے، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا، اور لیث نے کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب سے روایت کیا اس میں خزیمہ کے بدلے ابوخزیمہ انصاری ہے اور موسیٰ نے ابراہیم سے روایت کی، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، اس روایت میں بھی ابوخزیمہ ہے۔ موسیٰ بن اسماعیل کے ساتھ اس حدیث کو یعقوب بن ابراہیم نے بھی اپنے والد ابراہیم بن سعد سے روایت کیا اور ابوثابت محمد بن عبیداللہ مدنی نے، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا اس روایت میں شک کے ساتھ خزیمہ یا ابوخزیمہ مذکور ہے۔
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہود عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ اسی دن موسیٰ علیہ السلام کو فرعون پر فتح ملی تھی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ہم ان سے بھی زیادہ مستحق ہیں اس لیے تم بھی روزہ رکھو۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة واليهود تصوم عاشوراء فقالوا هذا يوم ظهر فيه موسى على فرعون. فقال النبي صلى الله عليه وسلم لاصحابه " انتم احق بموسى منهم، فصوموا
ہم سے حسن بن محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج بن محمد اعور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو محمد بن عباد بن جعفر نے خبر دی اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ آپ آیت کی قرآت اس طرح کرتے تھے «ألا إنهم تثنوني صدورهم» میں نے ان سے آیت کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس میں حیاء کرتے تھے کہ کھلی ہوئی جگہ میں حاجت کے لیے بیٹھنے میں، آسمان کی طرف ستر کھولنے میں، اس طرح صحبت کرتے وقت آسمان کی طرف کھولنے میں پروردگار سے شرماتے۔
حدثنا الحسن بن محمد بن صباح، حدثنا حجاج، قال قال ابن جريج اخبرني محمد بن عباد بن جعفر، انه سمع ابن عباس، يقرا {الا انهم تثنوني صدورهم} قال سالته عنها فقال اناس كانوا يستحيون ان يتخلوا فيفضوا الى السماء، وان يجامعوا نساءهم فيفضوا الى السماء، فنزل ذلك فيهم
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہیں محمد بن عباد بن جعفر نے خبر دی کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس طرح قرآت کرتے تھے «ألا إنهم تثنوني صدورهم» محمد بن عباد نے پوچھا: اے ابو العباس! «تثنوني صدورهم» کا کیا مطلب ہے؟ بتلایا کہ کچھ لوگ اپنی بیوی سے ہمبستری کرنے میں حیاء کرتے اور خلاء کے لیے بیٹھتے ہوئے بھی حیاء کرتے تھے۔ انہیں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی کہ «ألا إنهم تثنوني صدورهم» آخر آیت تک۔“
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن ابن جريج، واخبرني محمد بن عباد بن جعفر، ان ابن عباس، قرا {الا انهم تثنوني صدورهم} قلت يا ابا العباس ما تثنوني صدورهم قال كان الرجل يجامع امراته فيستحي او يتخلى فيستحي فنزلت {الا انهم يثنون صدورهم}
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت کی قرآت اس طرح کی تھی «ألا إنهم يثنون صدورهم ليستخفوا منه ألا حين يستغشون ثيابهم» اور عمرو بن دینار کے علاوہ اوروں نے بیان کیا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ «يستغشون» یعنی اپنے سر چھپا لیتے ہیں۔ «سيء بهم» یعنی اپنی قوم سے وہ بدگمان ہوا۔ «وضاق بهم» یعنی اپنے مہمانوں کو دیکھ کر وہ بدگمان ہوا کہ ان کی قوم انہیں بھی پریشان کرے گی۔ «بقطع من الليل» یعنی رات کی سیاہی میں اور مجاہد نے کہا «أنيب» کے معنی میں رجوع کرتا ہوں ( متوجہ ہوتا ہوں ) ۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، قال قرا ابن عباس {الا انهم يثنون صدورهم ليستخفوا منه الا حين يستغشون ثيابهم} وقال غيره عن ابن عباس {يستغشون} يغطون رءوسهم {سيء بهم} ساء ظنه بقومه. {وضاق بهم} باضيافه {بقطع من الليل} بسواد. وقال مجاهد {انيب} ارجع
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بندو! ( میری راہ میں ) خرچ کرو تو میں بھی تم پر خرچ کروں گا اور فرمایا، اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے۔ رات اور دن مسلسل کے خرچ سے بھی اس میں کم نہیں ہوتا اور فرمایا تم نے دیکھا نہیں جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے، مسلسل خرچ کئے جا رہا ہے لیکن اس کے ہاتھ میں کوئی کمی نہیں ہوئی، اس کا عرش پانی پر تھا اور اس کے ہاتھ میں میزان عدل ہے جسے وہ جھکاتا اور اٹھاتا رہتا ہے۔ «اعتراك» باب «افتعال» سے ہے «عروته» سے یعنی میں نے اس کو پکڑ پایا اسی سے ہے۔ «يعروه» مضارع کا صیغہ اور «اعتراني آخذ بناصيتها» یعنی اس کی حکومت اور قبضہ قدرت میں ہیں۔ «عنيد»، «عنود» اور «عاند» سب کے معنی ایک ہی ہیں یعنی سرکش مخالف اور یہ «جبار» کی تاکید ہے۔ «استعمركم» تم کو بسایا، آباد کیا۔ عرب لوگ کہتے ہیں «أعمرته الدار فهى عمرى» یعنی یہ گھر میں نے اس کو عمر بھر کے لیے دے ڈالا۔ «نكرهم»، «أنكرهم» اور «استنكرهم» سب کے ایک ہی معنی ہیں۔ یعنی ان کو پردیسی سمجھا۔ «حميد»، «فعيل» کے وزن پر ہے بہ معنی «محمود» میں سراہا گیا اور «مجيد»، «ماجد.» کے معنی میں ہے ( یعنی کرم کرنے والا ) ۔ «سجيل» اور «سجين» دونوں کے معنی سخت اور بڑا کے ہیں۔ «لام» اور «نون» بہنیں ہیں ( ایک دوسرے سے بدلی جاتی ہیں ) ۔ تمیم بن مقبل شاعر کہتا ہے۔ بعضے پیدل دن دھاڑے خود پر ضرب لگاتے ہیں ایسی ضرب جس کی سختی کے لیے بڑے بڑے پہلوان اپنے شاگردوں کو وصیت کیا کرتے ہیں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قال الله عز وجل انفق انفق عليك وقال يد الله ملاى لا تغيضها نفقة، سحاء الليل والنهار وقال ارايتم ما انفق منذ خلق السماء والارض فانه لم يغض ما في يده، وكان عرشه على الماء، وبيده الميزان يخفض ويرفع ". {اعتراك} افتعلت من عروته اى اصبته، ومنه يعروه واعتراني {اخذ بناصيتها} اى في ملكه وسلطانه. عنيد وعنود وعاند واحد، هو تاكيد التجبر، {استعمركم} جعلكم عمارا، اعمرته الدار فهى عمرى جعلتها له. {نكرهم} وانكرهم واستنكرهم واحد {حميد مجيد} كانه فعيل من ماجد. محمود من حمد. سجيل الشديد الكبير. سجيل وسجين واللام والنون اختان، وقال تميم بن مقبل ورجلة يضربون البيض ضاحية ضربا تواصى به الابطال سجينا
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ اور ہشام بن ابی عبداللہ دستوائی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے صفوان بن محرز نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما طواف کر رہے تھے کہ ایک شخص نام نامعلوم آپ کے سامنے آیا اور پوچھا: اے ابوعبدالرحمٰن! یا یہ کہا کہ اے ابن عمر! کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کے متعلق کچھ سنا ہے ( جو اللہ تعالیٰ مؤمنین سے قیامت کے دن کرے گا ) ۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ مومن اپنے رب کے قریب لایا جائے گا۔ اور ہشام نے «يدنو المؤمن» ( بجائے «يدنى المؤمن» کہا ) مطلب ایک ہی ہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا ایک جانب اس پر رکھے گا اور اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا کہ فلاں گناہ تجھے یاد ہے؟ بندہ عرض کرے گا، یاد ہے، میرے رب! مجھے یاد ہے، دو مرتبہ اقرار کرے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے دنیا میں تمہارے گناہوں کو چھپائے رکھا اور آج بھی تمہاری مغفرت کروں گا۔ پھر اس کی نیکیوں کا دفتر لپیٹ دیا جائے گا۔ لیکن دوسرے لوگ یا ( یہ کہا کہ ) کفار تو ان کے متعلق محشر میں اعلان کیا جائے گا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔ اور شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ ہم سے صفوان نے بیان کیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، وهشام، قالا حدثنا قتادة، عن صفوان بن محرز، قال بينا ابن عمر يطوف اذ عرض رجل فقال يا ابا عبد الرحمن او قال يا ابن عمر سمعت النبي صلى الله عليه وسلم في النجوى فقال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " يدنى المومن من ربه وقال هشام يدنو المومن حتى يضع عليه كنفه، فيقرره بذنوبه تعرف ذنب كذا يقول اعرف، يقول رب اعرف مرتين، فيقول سترتها في الدنيا واغفرها لك اليوم ثم تطوى صحيفة حسناته، واما الاخرون او الكفار فينادى على رءوس الاشهاد هولاء الذين كذبوا على ربهم ". وقال شيبان عن قتادة حدثنا صفوان
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے برید بن ابی بردہ نے بیان کیا، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو چند روز دنیا میں مہلت دیتا رہتا ہے لیکن جب پکڑتا ہے تو پھر نہیں چھوڑتا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «وكذلك أخذ ربك إذا أخذ القرى وهى ظالمة إن أخذه أليم شديد» ”اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے، جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے۔ جو ( اپنے اوپر ) ظلم کرتے رہتے ہیں، بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف دینے والی اور بڑی ہی سخت ہے۔“
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا ابو معاوية، حدثنا بريد بن ابي بردة، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الله ليملي للظالم حتى اذا اخذه لم يفلته ". قال ثم قرا {وكذلك اخذ ربك اذا اخذ القرى وهى ظالمة ان اخذه اليم شديد}
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان تیمی نے بیان کیا، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے کسی غیر عورت کو بوسہ دے دیا اور پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اپنا گناہ بیان کیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وأقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلك ذكرى للذاكرين» ”اور تم نماز کی پابندی کرو دن کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں بیشک نیکیاں مٹا دیتی ہیں بدیوں کو، یہ ایک نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لیے۔“ ان صاحب نے عرض کیا یہ آیت صرف میرے ہی لیے ہے ( کہ نیکیاں بدیوں کو مٹا دیتی ہیں ) ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے ہر انسان کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد هو ابن زريع حدثنا سليمان التيمي، عن ابي عثمان، عن ابن مسعود رضى الله عنه ان رجلا، اصاب من امراة قبلة، فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فانزلت عليه {واقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل ان الحسنات يذهبن السييات ذلك ذكرى للذاكرين}. قال الرجل الي هذه قال " لمن عمل بها من امتي
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کریم بن کریم بن کریم بن کریم یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم تھے۔ ( علیہم الصلٰوۃ والسلام ) ۔
وقال حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الصمد، عن عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن ابيه، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الكريم بن الكريم بن الكريم بن الكريم يوسف بن يعقوب بن اسحاق بن ابراهيم
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں عبیداللہ نے، انہیں سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی نے سوال کیا کہ انسانوں میں کون سب سے زیادہ شریف ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف یوسف علیہ السلام ہیں «نبي الله ابن نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله» ۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا یہ بھی مقصد نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا، عرب کے خاندانوں کے متعلق تم معلوم کرنا چاہتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاہلیت میں جو لوگ شریف سمجھے جاتے تھے، اسلام لانے کے بعد بھی وہ شریف ہیں، جبکہ دین کی سمجھ بھی انہیں حاصل ہو جائے۔ اس روایت کی متابعت ابواسامہ نے عبیداللہ سے کی ہے۔
حدثني محمد، اخبرنا عبدة، عن عبيد الله، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم اى الناس اكرم قال " اكرمهم عند الله اتقاهم ". قالوا ليس عن هذا نسالك. قال " فاكرم الناس يوسف نبي الله ابن نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله ". قالوا ليس عن هذا نسالك. قال " فعن معادن العرب تسالوني ". قالوا نعم. قال " فخياركم في الجاهلية خياركم في الاسلام اذا فقهوا ". تابعه ابو اسامة عن عبيد الله
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا کہا کہ میں زہری سے سنا، انہوں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہما کے اس واقعہ کے متعلق سنا جس میں تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی پاکی نازل کی۔ ان تمام لوگوں نے مجھ سے اس قصہ کا کچھ کچھ ٹکڑا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا سے ) فرمایا کہ اگر تم بَری ہو تو عنقریب اللہ تعالیٰ تمہاری پاکی نازل کر دے گا لیکن اگر تو آلودہ ہو گئی ہے تو اللہ سے مغفرت طلب کر اور اس کے حضور میں توبہ کر ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے اس پر کہا: اللہ کی قسم! میری اور آپ کی مثال یوسف علیہ السلام کے والد جیسی ہے ( اور انہیں کی کہی ہوئی بات میں بھی دہراتی ہوں کہ ) «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون» ”سو صبر کرنا ( ہی ) اچھا ہے اور تم جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے گا۔“ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاکی میں سورۃ النور کی «إن الذين جاءوا بالإفك» سے آخر تک دس آیات اتاریں۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب،. قال وحدثنا الحجاج، حدثنا عبد الله بن عمر النميري، حدثنا يونس بن يزيد الايلي، قال سمعت الزهري، سمعت عروة بن الزبير، وسعيد بن المسيب، وعلقمة بن وقاص، وعبيد الله بن عبد الله، عن حديث، عايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم حين قال لها اهل الافك ما قالوا فبراها الله، كل حدثني طايفة من الحديث قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان كنت بريية فسيبريك الله، وان كنت الممت بذنب فاستغفري الله وتوبي اليه ". قلت اني والله لا اجد مثلا الا ابا يوسف {فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون} وانزل الله {ان الذين جاءوا بالافك} العشر الايات
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے ابووائل شقیق بن سلمہ نے، کہا کہ مجھ سے مسروق بن اجدع نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ام رومان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ میں اور عائشہ بیٹھے ہوئے تھے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بخار چڑھ گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غالباً یہ ان باتوں کی وجہ ہوا ہو گا جن کا چرچا ہو رہا ہے۔ ام رومان رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ اس کے بعد عائشہ رضی اللہ عنہا بیٹھ گئیں اور کہا کہ میری اور آپ لوگوں کی مثال یعقوب علیہ السلام اور ان کے بیٹوں جیسی ہے اور آپ لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔
حدثنا موسى، حدثنا ابو عوانة، عن حصين، عن ابي وايل، قال حدثني مسروق بن الاجدع، قال حدثتني ام رومان، وهى ام عايشة قالت بينا انا وعايشة اخذتها الحمى، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لعل في حديث تحدث ". قالت نعم وقعدت عايشة قالت مثلي ومثلكم كيعقوب وبنيه والله المستعان على ما تصفون
مجھ سے احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے ابووائل نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے «هيت لك» پڑھا اور کہا کہ جس طرح ہمیں یہ لفظ سکھایا گیا ہے۔ اسی طرح ہم پڑھتے ہیں۔ «مثواه» یعنی اس کا ٹھکانا، درجہ۔ «ألفيا» یعنی پایا اسی سے ہے۔ «ألفوا آباءهم» اور «ألفينا» ( دوسری آیتوں میں ) اور ابن مسعود سے ( سورۃ الصافات ) میں «بل عجبت ويسخرون» منقول ہے۔
حدثني احمد بن سعيد، حدثنا بشر بن عمر، حدثنا شعبة، عن سليمان، عن ابي وايل، عن عبد الله بن مسعود، قال هيت لك قال وانما نقروها كما علمناها {مثواه} مقامه {الفيا} وجدا {الفوا اباءهم} {الفينا} وعن ابن مسعود {بل عجبت ويسخرون}
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ قریش نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے میں تاخیر کی تو آپ نے ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ کا سا قحط نازل فرما۔ چنانچہ ایسا قحط پڑا کہ کوئی چیز نہیں ملتی تھی اور وہ ہڈیوں کے کھانے پر مجبور ہو گئے تھے۔ لوگوں کی اس وقت یہ کیفیت تھی کہ آسمان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھتے تھے تو بھوک و پیاس کی شدت سے دھواں سا نظر آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين» ”تو آپ انتظار کیجئے اس روز کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو۔“ اور فرمایا «إنا كاشفو العذاب قليلا إنكم عائدون» ”بیشک ہم اس عذاب کو ہٹا لیں گے اور تم بھی ( اپنی پہلی حالت پر ) لوٹ آؤ گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عذاب سے یہی قحط کا عذاب مراد ہے کیونکہ آخرت کا عذاب کافروں سے ٹلنے والا نہیں ہے۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عبد الله رضى الله عنه ان قريشا لما ابطيوا عن النبي صلى الله عليه وسلم بالاسلام قال " اللهم اكفنيهم بسبع كسبع يوسف " فاصابتهم سنة حصت كل شىء حتى اكلوا العظام حتى جعل الرجل ينظر الى السماء فيرى بينه وبينها مثل الدخان قال الله {فارتقب يوم تاتي السماء بدخان مبين} قال الله {انا كاشفو العذاب قليلا انكم عايدون} افيكشف عنهم العذاب يوم القيامة، وقد مضى الدخان ومضت البطشة
حدثني محمد، حدثنا احمد بن ابي شعيب، حدثنا موسى بن اعين، حدثنا اسحاق بن راشد، ان الزهري، حدثه قال اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، عن ابيه، قال سمعت ابي كعب بن مالك،، وهو احد الثلاثة الذين تيب عليهم انه لم يتخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة غزاها قط غير غزوتين غزوة العسرة وغزوة بدر. قال فاجمعت صدق رسول الله صلى الله عليه وسلم ضحى، وكان قلما يقدم من سفر سافره الا ضحى وكان يبدا بالمسجد، فيركع ركعتين، ونهى النبي صلى الله عليه وسلم عن كلامي وكلام صاحبى، ولم ينه عن كلام احد من المتخلفين غيرنا، فاجتنب الناس كلامنا، فلبثت كذلك حتى طال على الامر، وما من شىء اهم الى من ان اموت فلا يصلي على النبي صلى الله عليه وسلم او يموت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاكون من الناس بتلك المنزلة، فلا يكلمني احد منهم، ولا يصلي على، فانزل الله توبتنا على نبيه صلى الله عليه وسلم حين بقي الثلث الاخر من الليل، ورسول الله صلى الله عليه وسلم عند ام سلمة، وكانت ام سلمة محسنة في شاني معنية في امري، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ام سلمة تيب على كعب ". قالت افلا ارسل اليه فابشره قال " اذا يحطمكم الناس فيمنعونكم النوم ساير الليلة ". حتى اذا صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الفجر اذن بتوبة الله علينا، وكان اذا استبشر استنار وجهه حتى كانه قطعة من القمر، وكنا ايها الثلاثة الذين خلفوا عن الامر الذي قبل من هولاء الذين اعتذروا حين انزل الله لنا التوبة، فلما ذكر الذين كذبوا رسول الله صلى الله عليه وسلم من المتخلفين، واعتذروا بالباطل، ذكروا بشر ما ذكر به احد قال الله سبحانه {يعتذرون اليكم اذا رجعتم اليهم قل لا تعتذروا لن نومن لكم قد نبانا الله من اخباركم وسيرى الله عملكم ورسوله} الاية
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابن السباق، ان زيد بن ثابت الانصاري رضى الله عنه وكان ممن يكتب الوحى قال ارسل الى ابو بكر مقتل اهل اليمامة وعنده عمر، فقال ابو بكر ان عمر اتاني فقال ان القتل قد استحر يوم اليمامة بالناس، واني اخشى ان يستحر القتل بالقراء في المواطن فيذهب كثير من القران، الا ان تجمعوه، واني لارى ان تجمع القران. قال ابو بكر قلت لعمر كيف افعل شييا لم يفعله رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال عمر هو والله خير. فلم يزل عمر يراجعني فيه حتى شرح الله لذلك صدري، ورايت الذي راى عمر. قال زيد بن ثابت وعمر عنده جالس لا يتكلم. فقال ابو بكر انك رجل شاب عاقل ولا نتهمك، كنت تكتب الوحى لرسول الله صلى الله عليه وسلم فتتبع القران فاجمعه. فوالله لو كلفني نقل جبل من الجبال ما كان اثقل على مما امرني به من جمع القران قلت كيف تفعلان شييا لم يفعله النبي صلى الله عليه وسلم فقال ابو بكر هو والله خير، فلم ازل اراجعه حتى شرح الله صدري للذي شرح الله له صدر ابي بكر وعمر، فقمت فتتبعت القران اجمعه من الرقاع والاكتاف والعسب وصدور الرجال، حتى وجدت من سورة التوبة ايتين مع خزيمة الانصاري، لم اجدهما مع احد غيره {لقد جاءكم رسول من انفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم} الى اخرهما، وكانت الصحف التي جمع فيها القران عند ابي بكر حتى توفاه الله، ثم عند عمر حتى توفاه الله، ثم عند حفصة بنت عمر. تابعه عثمان بن عمر والليث عن يونس عن ابن شهاب. وقال الليث حدثني عبد الرحمن بن خالد عن ابن شهاب وقال مع ابي خزيمة الانصاري. وقال موسى عن ابراهيم حدثنا ابن شهاب مع ابي خزيمة. وتابعه يعقوب بن ابراهيم عن ابيه. وقال ابو ثابت حدثنا ابراهيم وقال مع خزيمة، او ابي خزيمة