Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے بکر بن مضر نے، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ لوط علیہ السلام پر اپنی رحمت نازل فرمائے کہ انہوں نے ایک زبردست سہارے کی پناہ لینے کے لیے کہا تھا اور اگر میں قید خانے میں اتنے دنوں تک رہ چکا ہوتا جتنے دن یوسف علیہ السلام رہے تھے تو بلانے والے کی بات رد نہ کرتا اور ہم کو تو ابراہیم علیہ السلام کے بہ نسبت شک ہونا زیادہ سزاوار ہے۔ جب اللہ پاک نے ان سے فرمایا «أولم تؤمن قال بلى ولكن ليطمئن قلبي» کہ کیا تجھ کو یقین نہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں یقین تو ہے پر میں چاہتا ہوں کہ اور اطمینان ہو جائے۔
حدثنا سعيد بن تليد، حدثنا عبد الرحمن بن القاسم، عن بكر بن مضر، عن عمرو بن الحارث، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يرحم الله لوطا، لقد كان ياوي الى ركن شديد، ولو لبثت في السجن ما لبث يوسف لاجبت الداعي، ونحن احق من ابراهيم اذ قال له {اولم تومن قال بلى ولكن ليطمين قلبي}
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، عن عايشة رضى الله عنها قالت له وهو يسالها عن قول الله تعالى {حتى اذا استياس الرسل} قال قلت اكذبوا ام كذبوا قالت عايشة كذبوا. قلت فقد استيقنوا ان قومهم كذبوهم فما هو بالظن قالت اجل لعمري لقد استيقنوا بذلك. فقلت لها وظنوا انهم قد كذبوا قالت معاذ الله لم تكن الرسل تظن ذلك بربها. قلت فما هذه الاية. قالت هم اتباع الرسل الذين امنوا بربهم وصدقوهم، فطال عليهم البلاء، واستاخر عنهم النصر حتى استياس الرسل ممن كذبهم من قومهم وظنت الرسل ان اتباعهم قد كذبوهم جاءهم نصر الله عند ذلك
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة، فقلت لعلها {كذبوا} مخففة. قالت معاذ الله نحوه
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کی پانچ کنجیاں ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کل کیا ہونے والا ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ عورتوں کے رحم میں کیا کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ بارش کب برسے گی، کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی موت کہاں ہو گی اور اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب قائم ہو گی۔
حدثني ابراهيم بن المنذر، حدثنا معن، قال حدثني مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " مفاتيح الغيب خمس لا يعلمها الا الله لا يعلم ما في غد الا الله، ولا يعلم ما تغيض الارحام الا الله ولا يعلم متى ياتي المطر احد الا الله، ولا تدري نفس باى ارض تموت، ولا يعلم متى تقوم الساعة الا الله
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: اچھا مجھ کو بتلاؤ تو وہ کون سا درخت ہے جو مسلمان کی مانند ہے جس کے پتے نہیں گرتے، ہر وقت میوہ دے جاتا ہے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میرے دل میں آیا وہ کھجور کا درخت ہے مگر میں نے دیکھا کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے جواب نہیں دیا تو مجھ کو ان بزرگوں کے سامنے کلام کرنا اچھا معلوم نہیں ہوا۔ جب ان لوگوں نے کچھ جواب نہیں دیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے۔ جب ہم اس مجلس سے کھڑے ہوئے تو میں نے اپنے والد عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: بابا جان! اللہ کی قسم! میرے دل میں آیا تھا کہ میں کہہ دوں وہ کھجور کا درخت ہے۔ انہوں نے کہا پھر تو نے کہہ کیوں نہ دیا۔ میں نے کہا آپ لوگوں نے کوئی بات نہیں کی میں نے آگے بڑھ کر بات کرنا مناسب نہ جانا۔ انہوں نے کہا واہ اگر تو اس وقت کہہ دیتا تو مجھ کو اتنے اتنے ( لال لال اونٹ کا ) مال ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔
حدثني عبيد بن اسماعيل، عن ابي اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اخبروني بشجرة تشبه او كالرجل المسلم لا يتحات ورقها ولا ولا ولا، توتي اكلها كل حين ". قال ابن عمر فوقع في نفسي انها النخلة، ورايت ابا بكر وعمر لا يتكلمان، فكرهت ان اتكلم، فلما لم يقولوا شييا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هي النخلة ". فلما قمنا قلت لعمر يا ابتاه والله لقد كان وقع في نفسي انها النخلة فقال ما منعك ان تكلم قال لم اركم تكلمون، فكرهت ان اتكلم او اقول شييا. قال عمر لان تكون قلتها احب الى من كذا وكذا
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے علقمہ بن مرثد نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سعد بن عبیدہ سے سنا اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان سے جب قبر میں سوال ہو گا تو وہ گواہی دے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» ”اللہ ایمان والوں کی اس پکی بات ( کی برکت ) سے مضبوط رکھتا ہے، دنیوی زندگی میں ( بھی ) اور آخرت میں ( بھی ) “ کا یہی مطلب ہے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، قال اخبرني علقمة بن مرثد، قال سمعت سعد بن عبيدة، عن البراء بن عازب، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " المسلم اذا سيل في القبر يشهد ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله، فذلك قوله {يثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الاخرة}
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ آیت «ألم تر إلى الذين بدلوا نعمة الله كفرا» میں کفار سے اہل مکہ مراد ہیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن عطاء، سمع ابن عباس، {الم تر الى الذين بدلوا نعمة الله كفرا} قال هم كفار اهل مكة
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی فیصلہ فرماتا ہے تو ملائکہ عاجزی سے اپنے پر مارنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد میں ہے کہ جیسے کسی صاف چکنے پتھر پر زنجیر کے ( مارنے سے آواز پیدا ہوتی ہے ) اور علی بن عبداللہ المدینی نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ کے سوا اور راویوں نے «صفوان» کے بعد «ينفذهم ذلك» ( جس سے ان پر دہشت طاری ہوتی ہے ) کے الفاظ کہے ہیں۔ پھر اللہ پاک اپنا حکم فرشتوں تک پہنچا دیتا ہے، جب ان کے دلوں پر سے ڈر جاتا رہتا ہے تو دوسرے دور والے فرشتے نزدیک والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں پروردگار نے کیا حکم صادر فرمایا۔ نزدیک والے فرشتے کہتے ہیں بجا ارشاد فرمایا اور وہ اونچا ہے بڑا۔ فرشتوں کی یہ باتیں چوری سے بات اڑانے والے شیطان پا لیتے ہیں۔ یہ بات اڑانے والے شیطان اوپر تلے رہتے ہیں ( ایک پر ایک ) سفیان نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیاں کھول کر ایک پر ایک کر کے بتلایا کہ اس طرح شیطان اوپر تلے رہ کر وہاں جاتے ہیں۔ پھر بھی کبھی ایسا ہوتا ہے۔ فرشتے خبر پا کر آگ کا شعلہ پھینکتے ہیں وہ بات سننے والے کو اس سے پہلے جلا ڈالتا ہے کہ وہ اپنے پیچھے والے کو وہ بات پہنچا دے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ شعلہ اس تک نہیں پہنچتا اور وہ اپنے نیچے والے شیطان کو وہ بات پہنچا دیتا ہے، وہ اس سے نیچے والے کو اس طرح وہ بات زمین تک پہنچا دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ زمین تک آ پہنچتی ہے۔ ( کبھی سفیان نے یوں کہا ) پھر وہ بات نجومی کے منہ پر ڈالی جاتی ہے۔ وہ ایک بات میں سو باتیں جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر لوگوں سے بیان کرتا ہے۔ کوئی کوئی بات اس کی سچ نکلتی ہے تو لوگ کہنے لگتے ہیں دیکھو اس نجومی نے فلاں دن ہم کو یہ خبر دی تھی کہ آئندہ ایسا ایسا ہو گا اور ویسا ہی ہوا۔ اس کی بات سچ نکلی۔ یہ وہ بات ہوتی ہے جو آسمان سے چرائی گئی تھی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن عكرمة، عن ابي هريرة، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا قضى الله الامر في السماء ضربت الملايكة باجنحتها خضعانا لقوله كالسلسلة على صفوان قال علي وقال غيره صفوان ينفذهم ذلك فاذا فزع عن قلوبهم قالوا ماذا قال ربكم، قالوا للذي قال الحق وهو العلي الكبير، فيسمعها مسترقو السمع، ومسترقو السمع هكذا واحد فوق اخر ووصف سفيان بيده، وفرج بين اصابع يده اليمنى، نصبها بعضها فوق بعض فربما ادرك الشهاب المستمع، قبل ان يرمي بها الى صاحبه، فيحرقه وربما لم يدركه حتى يرمي بها الى الذي يليه الى الذي هو اسفل منه حتى يلقوها الى الارض وربما قال سفيان حتى تنتهي الى الارض فتلقى على فم الساحر، فيكذب معها ماية كذبة فيصدق، فيقولون الم يخبرنا يوم كذا وكذا يكون كذا وكذا، فوجدناه حقا للكلمة التي سمعت من السماء ". حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، عن عكرمة، عن ابي هريرة، اذا قضى الله الامر. وزاد الكاهن. وحدثنا سفيان فقال قال عمرو سمعت عكرمة حدثنا ابو هريرة قال اذا قضى الله الامر وقال على فم الساحر. قلت لسفيان قال سمعت عكرمة قال سمعت ابا هريرة. قال نعم. قلت لسفيان ان انسانا روى عنك عن عمرو عن عكرمة عن ابي هريرة ويرفعه انه قرا فزع. قال سفيان هكذا قرا عمرو. فلا ادري سمعه هكذا ام لا. قال سفيان وهى قراءتنا
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حجر کے متعلق فرمایا تھا کہ اس قوم کی بستی سے جب گزرنا ہی پڑ گیا ہے تو روتے ہوئے گزرو اور اگر روتے ہوئے نہیں گزر سکتے تو پھر اس میں نہ جاؤ۔ کہیں تم پر بھی وہی عذاب نہ آئے جو ان پر آیا تھا۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا معن، قال حدثني مالك، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لاصحاب الحجر " لا تدخلوا على هولاء القوم الا ان تكونوا باكين فان لم تكونوا باكين فلا تدخلوا عليهم ان يصيبكم مثل ما اصابهم
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میں نماز سے فارغ ہونے کے بعد خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فوراً ہی کیوں نہ آئے؟ عرض کیا کہ نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ نے تم لوگوں کو حکم نہیں دیا ہے کہ اے ایمان والو! جب اللہ اور اس کے رسول تمہیں بلائیں تو لبیک کہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیوں نہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن کی سب سے عظیم سورت بتاؤں۔ پھر آپ ( بتانے سے پہلے ) مسجد سے باہر تشریف لے جانے کے لیے اٹھے تو میں نے بات یاد دلائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ «الحمد لله رب العالمين» یہی سبع مثانی ہے اور یہی قرآن عظیم ہے جو مجھے دیا گیا ہے۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي سعيد بن المعلى، قال مر بي النبي صلى الله عليه وسلم وانا اصلي فدعاني فلم اته حتى صليت ثم اتيت فقال " ما منعك ان تاتي ". فقلت كنت اصلي. فقال " الم يقل الله {يا ايها الذين امنوا استجيبوا لله وللرسول} ثم قال الا اعلمك اعظم سورة في القران قبل ان اخرج من المسجد " فذهب النبي صلى الله عليه وسلم ليخرج من المسجد فذكرته فقال "{الحمد لله رب العالمين} هي السبع المثاني والقران العظيم الذي اوتيته
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ام القرآن ( یعنی سورۃ فاتحہ ) ہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا ابن ابي ذيب، حدثنا سعيد المقبري، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ام القران هي السبع المثاني والقران العظيم
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہیں ابوبشر نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا آیت «الذين جعلوا القرآن عضين» ”جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے کر رکھے ہیں“ کے متعلق کہا کہ اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ انہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے۔
حدثني يعقوب بن ابراهيم، حدثنا هشيم، اخبرنا ابو بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، رضى الله عنهما {الذين جعلوا القران عضين} قال هم اهل الكتاب، جزءوه اجزاء، فامنوا ببعضه وكفروا ببعضه
مجھ سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوظبیان حصین بن جندب نے بیان کیا، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آیت «كما أنزلنا على المقتسمين» میں سے یہود و نصاریٰ مراد ہیں کچھ قرآن انہوں نے مانا کچھ نہ مانا۔
حدثني عبيد الله بن موسى، عن الاعمش، عن ابي ظبيان، عن ابن عباس رضى الله عنهما {كما انزلنا على المقتسمين} قال امنوا ببعض وكفروا ببعض، اليهود والنصارى
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہارون بن موسیٰ ابوعبداللہ اعور نے بیان کیا، ان سے شعیب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے «أعوذ بك من البخل والكسل، وأرذل العمر، وعذاب القبر، وفتنة الدجال، وفتنة المحيا والممات .» کہ اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے، سستی سے، ارذل عمر سے ( نکمی اور خراب عمر 80 یا 90 سال کے بعد ) عذاب قبر سے، دجال کے فتنے سے اور زندگی اور موت کے فتنے سے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا هارون بن موسى ابو عبد الله الاعور، عن شعيب، عن انس بن مالك رضى الله عنه . ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يدعو " اعوذ بك من البخل والكسل، وارذل العمر، وعذاب القبر، وفتنة الدجال، وفتنة المحيا والممات
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق عمرو بن عبیداللہ سبیعی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے سنا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ الکہف اور سورۃ مریم کے متعلق کہا کہ یہ اول درجہ کی عمدہ نہایت فصیح و بلیغ سورتیں ہیں اور میری پرانی یاد کی ہوئی ( آیت ) «فسينغضون» کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اپنے سر ہلائیں گے اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ یہ «نغضت سنك» سے نکلا ہے یعنی تیرا دانت ہل گیا۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت عبد الرحمن بن يزيد، قال سمعت ابن مسعود رضى الله عنه قال في بني اسراييل والكهف ومريم انهن من العتاق الاول، وهن من تلادي. قال ابن عباس {فسينغضون} يهزون. وقال غيره نغضت سنك اى تحركت
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، کہا ہم کو یونس بن یزید نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہ ابن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ معراج کی رات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیت المقدس میں دو پیالے پیش کئے گئے ایک شراب کا اور دوسرا دودھ کا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھا پھر دودھ کا پیالہ اٹھا لیا۔ اس پر جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ تمام حمد اس اللہ کے لیے ہے جس نے آپ کو فطرت ( اسلام ) کی ہدایت کی۔ اگر آپ شراب کا پیالہ اٹھا لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
حدثنا عبدان، حدثنا عبد الله، اخبرنا يونس، ح وحدثنا احمد بن صالح، حدثنا عنبسة، حدثنا يونس، عن ابن شهاب، قال ابن المسيب قال ابو هريرة اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة اسري به بايلياء بقدحين من خمر ولبن، فنظر اليهما فاخذ اللبن قال جبريل الحمد لله الذي هداك للفطرة، لو اخذت الخمر غوت امتك
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس بن یزید نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب قریش نے مجھ کو واقعہ معراج کے سلسلہ میں جھٹلایا تو میں ( کعبہ کے ) مقام حجر میں کھڑا ہوا تھا اور میرے سامنے پورا بیت المقدس کر دیا گیا تھا۔ میں اسے دیکھ دیکھ کر اس کی ایک ایک علامت بیان کرنے لگا۔ یعقوب بن ابراہیم نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا کہ ہم سے ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا ابن شہاب سے بیان کیا کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) جب مجھے قریش نے بیت المقدس کے معراج کے سلسلہ میں جھٹلایا، پھر پہلی حدیث کی طرح بیان کیا۔ «قاصفا» وہ آندھی جو ہر چیز کو تباہ کر دے۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال ابو سلمة سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لما كذبني قريش قمت في الحجر، فجلى الله لي بيت المقدس فطفقت اخبرهم عن اياته وانا انظر اليه ". زاد يعقوب بن ابراهيم حدثنا ابن اخي ابن شهاب عن عمه " لما كذبني قريش حين اسري بي الى بيت المقدس ". نحوه. {قاصفا} ريح تقصف كل شىء
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم کو منصور نے خبر دی، انہیں ابووائل نے اور ان سے عبداللہ نے بیان کیا کہ جب کسی قبیلہ کے لوگ بڑھ جاتے تو زمانہ جاہلیت میں ہم ان کے متعلق کہا کرتے تھے کہ «أمر بنو فلان.» ( یعنی فلاں کا خاندان بہت بڑھ گیا ) ۔ ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا اور اس روایت میں انہوں نے بھی لفظ «أمر.» کا ذکر کیا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، اخبرنا منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله، قال كنا نقول للحى اذا كثروا في الجاهلية امر بنو فلان. حدثنا الحميدي حدثنا سفيان وقال امر
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ابوحیان (یحییٰ بن سعید) تیمی نے خبر دی۔ انہیں ابوزرعہ (ہرم) بن عمرو بن جریر نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گوشت لایا گیا اور دست کا حصہ آپ کو پیش کیا گیا۔ تو آپ نے اپنے دانتوں سے اسے ایک بار نوچا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دست کا گوشت بہت پسند تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں سب لوگوں کا سردار ہوں گا تمہیں معلوم بھی ہے یہ کون سا دن ہو گا؟ اس دن دنیا کے شروع سے قیامت کے دن تک کی ساری خلقت ایک چٹیل میدان میں جمع ہو گی کہ ایک پکارنے والے کی آواز سب کے کانوں تک پہنچ سکے گی اور ایک نظر سب کو دیکھ سکے گی۔ سورج بالکل قریب ہو جائے گا اور لوگوں کی پریشانی اور بےقراری کی کوئی حد نہ رہے گی جو برداشت سے باہر ہو جائے گی۔ لوگ آپس میں کہیں گے، دیکھتے نہیں کہ ہماری کیا حالت ہو گئی ہے۔ کیا ایسا کوئی مقبول بندہ نہیں ہے جو اللہ پاک کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کرے؟ بعض لوگ بعض سے کہیں گے کہ آدم علیہ السلام کے پاس چلنا چاہئے۔ چنانچہ سب لوگ آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے آپ انسانوں کے پردادا ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اپنی طرف سے خصوصیت کے ساتھ آپ میں روح پھونکی۔ فرشتوں کو حکم دیا اور انہوں نے آپ کو سجدہ کیا اس لیے آپ رب کے حضور میں ہماری شفاعت کر دیں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس حال کو پہنچ چکے ہیں۔ آدم علیہ السلام کہیں گے کہ میرا رب آج انتہائی غضبناک ہے۔ اس سے پہلے اتنا غضبناک وہ کبھی نہیں ہوا تھا اور نہ آج کے بعد کبھی اتنا غضب ناک ہو گا اور رب العزت نے مجھے بھی درخت سے روکا تھا لیکن میں نے اس کی نافرمانی کی، پس نفسی، نفسی، نفسی مجھ کو اپنی فکر ہے تم کسی اور کے پاس جاؤ۔ ہاں نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ چنانچہ سب لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، اے نوح! آپ سب سے پہلے پیغمبر ہیں جو اہل زمین کی طرف بھیجے گئے تھے اور آپ کو اللہ نے ”شکر گزار بندہ“ ( عبد شکور ) کا خطاب دیا۔ آپ ہی ہمارے لیے اپنے رب کے حضور میں شفاعت کر دیں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس حالت کو پہنچ گئے ہیں۔ نوح علیہ السلام بھی کہیں گے کہ میرا رب آج اتنا غضبناک ہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضبناک نہیں تھا اور نہ آج کے بعد کبھی اتنا غضبناک ہو گا اور مجھے ایک دعا کی قبولیت کا یقین دلایا گیا تھا جو میں نے اپنی قوم کے خلاف کر لی تھی۔ نفسی، نفسی، نفسی آج مجھ کو اپنے ہی نفس کی فکر ہے تم میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ، ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ سب لوگ ابراہیم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، اے ابراہیم! آپ اللہ کے نبی اور اللہ کے خلیل ہیں روئے زمین میں منتخب، آپ ہماری شفاعت کیجئے، آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ ہم کس حالت کو پہنچ چکے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام بھی کہیں گے کہ آج میرا رب بہت غضبناک ہے؟ اتنا غضبناک نہ وہ پہلے ہوا تھا اور نہ آج کے بعد ہو گا اور میں نے تین جھوٹ بولے تھے ( راوی ) ابوحیان نے اپنی روایت میں تینوں کا ذکر کیا ہے۔ نفسی، نفسی، نفسی مجھ کو اپنے نفس کی فکر ہے۔ میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ۔ ہاں موسیٰ علیہ السلام پاس کے جاؤ۔ سب لوگ موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے اے موسیٰ! آپ اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی طرف سے رسالت اور اپنے کلام کے ذریعہ فضیلت دی۔ آپ ہماری شفاعت اپنے رب کے حضور میں کریں، آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہم کس حالت کو پہنچ چکے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کہیں گے کہ آج اللہ تعالیٰ بہت غضبناک ہے، اتنا غضبناک کہ وہ نہ پہلے کبھی ہوا تھا اور نہ آج کے بعد کبھی ہو گا اور میں نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا، حالانکہ اللہ کی طرف سے مجھے اس کا کوئی حکم نہیں ملا تھا۔ نفسی، نفسی، نفسی بس مجھ کو آج اپنی فکر ہے، میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ۔ ہاں عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ سب لوگ عیسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے۔ اے عیسیٰ! آپ اللہ کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جسے اللہ نے مریم علیھا السلام پر ڈالا تھا اور اللہ کی طرف سے روح ہیں، آپ نے بچپن میں ماں کی گود ہی میں لوگوں سے بات کی تھی، ہماری شفاعت کیجئے، آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہماری کیا حالت ہو چکی ہے۔ عیسیٰ بھی کہیں گے کہ میرا رب آج اس درجہ غضبناک ہے کہ نہ اس سے پہلے کبھی اتنا غضبناک ہوا تھا اور نہ کبھی ہو گا اور آپ کسی لغزش کا ذکر نہیں کریں گے ( صرف ) اتنا کہیں گے، نفسی، نفسی، نفسی میرے سوا کسی اور کے پاس جاؤ۔ ہاں، محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤ۔ سب لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے، اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ اللہ کے رسول اور سب سے آخری پیغمبر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں، اپنے رب کے دربار میں ہماری شفاعت کیجئے۔ آپ خود ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ ہم کس حالت کو پہنچ چکے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخر میں آگے بڑھوں گا اور عرش تلے پہنچ کر اپنے رب عزوجل کے لیے سجدہ میں گر پڑوں گا، پھر اللہ تعالیٰ مجھ پر اپنی حمد اور حسن ثناء کے دروازے کھول دے گا کہ مجھ سے پہلے کسی کو وہ طریقے اور وہ محامد نہیں بتائے تھے۔ پھر کہا جائے گا، اے محمد! اپنا سر اٹھایئے، مانگئے آپ کو دیا جائے گا۔ شفاعت کیجئے، آپ کی شفاعت قبول ہو جائے گی۔ اب میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور عرض کروں گا۔ اے میرے رب! میری امت، اے میرے رب! میری امت پر کرم کر، کہا جائے گا اے محمد! اپنی امت کے ان لوگوں کو جن پر کوئی حساب نہیں ہے، جنت کے داہنے دروازے سے داخل کیجئے ویسے انہیں اختیار ہے، جس دروازے سے چاہیں دوسرے لوگوں کے ساتھ داخل ہو سکتے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جنت کے دروازے کے دونوں کناروں میں اتنا فاصلہ ہے جتنا مکہ اور حمیر میں ہے یا جتنا مکہ اور بصریٰ میں ہے۔
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا اور ان سے معمر نے، ان سے ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ داؤد علیہ السلام پر زبور کی تلاوت آسان کر دی گئی تھی۔ آپ گھوڑے پر زین کسنے کا حکم دیتے اور اس سے پہلے کہ زین کسی جا چکے، تلاوت سے فارغ ہو جاتے تھے۔
حدثني اسحاق بن نصر، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خفف على داود القراءة، فكان يامر بدابته لتسرج، فكان يقرا قبل ان يفرغ ". يعني القران
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا ابو حيان التيمي، عن ابي زرعة بن عمرو بن جرير، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال اتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بلحم، فرفع اليه الذراع، وكانت تعجبه، فنهس منها نهسة ثم قال " انا سيد الناس يوم القيامة، وهل تدرون مم ذلك يجمع الناس الاولين والاخرين في صعيد واحد، يسمعهم الداعي، وينفذهم البصر، وتدنو الشمس، فيبلغ الناس من الغم والكرب ما لا يطيقون ولا يحتملون فيقول الناس الا ترون ما قد بلغكم الا تنظرون من يشفع لكم الى ربكم فيقول بعض الناس لبعض عليكم بادم فياتون ادم عليه السلام فيقولون له انت ابو البشر خلقك الله بيده. ونفخ فيك من روحه، وامر الملايكة فسجدوا لك، اشفع لنا الى ربك، الا ترى الى ما نحن فيه الا ترى الى ما قد بلغنا فيقول ادم ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله، وانه نهاني عن الشجرة فعصيته، نفسي نفسي نفسي، اذهبوا الى غيري، اذهبوا الى نوح، فياتون نوحا فيقولون يا نوح انك انت اول الرسل الى اهل الارض، وقد سماك الله عبدا شكورا اشفع لنا الى ربك، الا ترى الى ما نحن فيه فيقول ان ربي عز وجل قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، وانه قد كانت لي دعوة دعوتها على قومي نفسي نفسي نفسي اذهبوا الى غيري، اذهبوا الى ابراهيم، فياتون ابراهيم، فيقولون يا ابراهيم، انت نبي الله وخليله من اهل الارض اشفع لنا الى ربك الا ترى الى ما نحن فيه فيقول لهم ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله ولن يغضب بعده مثله، واني قد كنت كذبت ثلاث كذبات فذكرهن ابو حيان في الحديث نفسي نفسي نفسي، اذهبوا الى غيري اذهبوا الى موسى، فياتون موسى، فيقولون يا موسى انت رسول الله، فضلك الله برسالته وبكلامه على الناس، اشفع لنا الى ربك الا ترى الى ما نحن فيه فيقول ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله، واني قد قتلت نفسا لم اومر بقتلها، نفسي نفسي نفسي، اذهبوا الى غيري، اذهبوا الى عيسى، فياتون عيسى فيقولون يا عيسى انت رسول الله وكلمته القاها الى مريم وروح منه، وكلمت الناس في المهد صبيا اشفع لنا الا ترى الى ما نحن فيه فيقول عيسى ان ربي قد غضب اليوم غضبا لم يغضب قبله مثله، ولن يغضب بعده مثله ولم يذكر ذنبا نفسي نفسي نفسي، اذهبوا الى غيري اذهبوا الى محمد صلى الله عليه وسلم فياتون محمدا صلى الله عليه وسلم فيقولون يا محمد انت رسول الله وخاتم الانبياء، وقد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر، اشفع لنا الى ربك الا ترى الى ما نحن فيه فانطلق فاتي تحت العرش، فاقع ساجدا لربي عز وجل ثم يفتح الله على من محامده وحسن الثناء عليه شييا لم يفتحه على احد قبلي ثم يقال يا محمد ارفع راسك، سل تعطه، واشفع تشفع، فارفع راسي، فاقول امتي يا رب، امتي يا رب فيقال يا محمد ادخل من امتك من لا حساب عليهم من الباب الايمن من ابواب الجنة وهم شركاء الناس فيما سوى ذلك من الابواب، ثم قال والذي نفسي بيده ان ما بين المصراعين من مصاريع الجنة كما بين مكة وحمير، او كما بين مكة وبصرى