Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے حفص بن عاصم نے اور ان سے ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں مسجد میں نماز پڑھ رہا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اسی حالت میں بلایا، میں نے کوئی جواب نہیں دیا ( پھر بعد میں، میں نے حاضر ہو کر ) عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے تم سے نہیں فرمایا ہے «استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم» ”اللہ اور اس کے رسول جب تمہیں بلائیں تو ہاں میں جواب دو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ آج میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے ایک ایسی سورت کی تعلیم دوں گا جو قرآن کی سب سے بڑی سورت ہے۔ پھر آپ نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور جب آپ باہر نکلنے لگے تو میں نے یاد دلایا کہ آپ نے مجھے قرآن کی سب سے بڑی سورت بتانے کا وعدہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «الحمد لله رب العالمين» یہی وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، قال حدثني خبيب بن عبد الرحمن، عن حفص بن عاصم، عن ابي سعيد بن المعلى، قال كنت اصلي في المسجد فدعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم اجبه، فقلت يا رسول الله اني كنت اصلي. فقال " الم يقل الله {استجيبوا لله وللرسول اذا دعاكم} ثم قال لي لاعلمنك سورة هي اعظم السور في القران قبل ان تخرج من المسجد ". ثم اخذ بيدي، فلما اراد ان يخرج قلت له الم تقل " لاعلمنك سورة هي اعظم سورة في القران ". قال " {الحمد لله رب العالمين} هي السبع المثاني والقران العظيم الذي اوتيته
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں سمی نے، انہیں ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب امام «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» کہے تو تم «آمين.» کہو کیونکہ جس کا یہ کہنا ملائکہ کے کہنے کے ساتھ ہو جائے اس کی تمام پچھلی خطائیں معاف ہو جاتی ہیں۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قال الامام {غير المغضوب عليهم ولا الضالين} فقولوا امين. فمن وافق قوله قول الملايكة غفر له ما تقدم من ذنبه
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (دوسری سند) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومنین قیامت کے دن پریشان ہو کر جمع ہوں گے اور ( آپس میں ) کہیں گے، بہتر یہ تھا کہ اپنے رب کے حضور میں آج کسی کو ہم اپنا سفارشی بناتے۔ چنانچہ سب لوگ آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونگے اور عرض کریں گے کہ آپ انسانوں کے باپ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے بنایا۔ آپ کے لیے فرشتوں کو سجدہ کا حکم دیا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھائے۔ آپ ہمارے لیے اپنے رب کے حضور میں سفارش کر دیں تاکہ آج کی مصیبت سے ہمیں نجات ملے۔ آدم علیہ السلام کہیں گے، میں اس کے لائق نہیں ہوں، وہ اپنی لغزش کو یاد کریں گے اور ان کو پروردگار کے حضور میں جانے سے شرم آئے گی۔ کہیں گے کہ تم لوگ نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ وہ سب سے پہلے نبی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ( میرے بعد ) زمین والوں کی طرف مبعوث کیا تھا۔ سب لوگ نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے۔ وہ بھی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں اور وہ اپنے رب سے اپنے سوال کو یاد کریں گے جس کے متعلق انہیں کوئی علم نہیں تھا۔ ان کو بھی شرم آئے گی اور کہیں گے کہ اللہ کے خلیل علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہوں گے لیکن وہ بھی یہی کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں، موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، ان سے اللہ تعالیٰ نے کلام فرمایا تھا اور تورات دی تھی۔ لوگ ان کے پاس آئیں گے لیکن وہ بھی عذر کر دیں گے کہ مجھ میں اس کی جرات نہیں۔ ان کو بغیر کسی حق کے ایک شخص کو قتل کرنا یاد آ جائے گا اور اپنے رب کے حضور میں جاتے ہوئے شرم دامن گیر ہو گی۔ کہیں گے تم عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول، اس کا کلمہ اور اس کی روح ہیں لیکن عیسیٰ علیہ السلام بھی یہی کہیں گے کہ مجھ میں اس کی ہمت نہیں، تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ، وہ اللہ کے مقبول بندے ہیں اور اللہ نے ان کے تمام اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں۔ چنانچہ لوگ میرے پاس آئیں گے، میں ان کے ساتھ جاؤں گا اور اپنے رب سے اجازت چاہوں گا۔ مجھے اجازت مل جائے گی، پھر میں اپنے رب کو دیکھتے ہی سجدہ میں گر پڑوں گا اور جب تک اللہ چاہے گا میں سجدہ میں رہوں گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اپنا سر اٹھاؤ اور جو چاہو مانگو، تمہیں دیا جائے گا، جو چاہو کہو تمہاری بات سنی جائے گی۔ شفاعت کرو، تمہاری شفاعت قبول کی جائے گی۔ میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور اللہ کی وہ حمد بیان کروں گا جو مجھے اس کی طرف سے سکھائی گئی ہو گی۔ اس کے بعد شفاعت کروں گا اور میرے لیے ایک حد مقرر کر دی جائے گی۔ میں انہیں جنت میں داخل کراؤں گا چوتھی مرتبہ جب میں واپس آؤں گا تو عرض کروں گا کہ جہنم میں ان لوگوں کے سوا اور کوئی اب باقی نہیں رہا جنہیں قرآن نے ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنا ضروری قرار دے دیا ہے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ قرآن کی رو سے دوزخ میں قید رہنے سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے لیے «خالدين فيها» کہا گیا ہے۔ کہ وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے، ان سے عمرو بن شرحبیل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اللہ کے نزدیک کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ فرمایا اور یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو برابر ٹھہراؤ حالانکہ اللہ ہی نے تم کو پید اکیا ہے۔ میں نے عرض کیا یہ تو واقعی سب سے بڑا گناہ ہے، پھر اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ فرمایا یہ کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائیں گے۔ میں نے پوچھا اور اس کے بعد؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی عورت سے زنا کرو۔
حدثني عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن عمرو بن شرحبيل، عن عبد الله، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم اى الذنب اعظم عند الله قال " ان تجعل لله ندا وهو خلقك ". قلت ان ذلك لعظيم، قلت ثم اى قال " وان تقتل ولدك تخاف ان يطعم معك ". قلت ثم اى قال " ان تزاني حليلة جارك
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالملک نے، ان سے عمرو بن حریث نے اور ان سے سعید بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” «كمأة» ( یعنی کھنبی ) بھی «من» کی قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کی دوا ہے۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن عبد الملك، عن عمرو بن حريث، عن سعيد بن زيد رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الكماة من المن، وماوها شفاء للعين
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے، ان سے عبداللہ بن مبارک نے، ان سے معمر نے، ان سے ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو یہ حکم ہوا تھا کہ شہر کے دروازے میں جھکتے ہوئے داخل ہوں اور «حطة» کہتے ہوئے ( یعنی ) ”اے اللہ! ہمارے گناہ معاف کر دے۔“ لیکن وہ الٹے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور کلمہ «حطة» کو بھی بدل دیا اور کہا کہ «حبة في شعرة» یعنی دل لگی کے طور پر کہنے لگے کہ ”دانہ بال کے اندر ہونا چاہیے۔“
حدثني محمد، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن ابن المبارك، عن معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " قيل لبني اسراييل {ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة} فدخلوا يزحفون على استاههم، فبدلوا وقالوا حطة، حبة في شعرة
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن بکر سے سنا، اس نے کہا کہ مجھ سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ( جو یہود کے بڑے عالم تھے ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( مدینہ ) تشریف لانے کی خبر سنی تو وہ اپنے باغ میں پھل توڑ رہے تھے۔ وہ اسی وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ سے ایسی تین چیزوں کے متعلق پوچھتا ہوں، جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ بتلائیے! قیامت کی نشانیوں میں سب سے پہلی نشانی کیا ہے؟ اہل جنت کی دعوت کے لیے سب سے پہلے کیا چیز پیش کی جائے گی؟ بچہ کب اپنے باپ کی صورت میں ہو گا اور کب اپنی ماں کی صورت پر؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ابھی جبرائیل نے آ کر ان کے متعلق بتایا ہے۔ عبداللہ بن سلام بولے جبرائیل علیہ السلام نے! فرمایا: ہاں، عبداللہ بن سلام نے کہا کہ وہ تو یہودیوں کے دشمن ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی «من كان عدوا لجبريل فإنه نزله على قلبك» اور ان کے سوالات کے جواب میں فرمایا، قیامت کی سب سے پہلی نشانی ایک آگ ہو گی جو انسانوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کر لائے گی۔ اہل جنت کی دعوت میں جو کھانا سب سے پہلے پیش کیا جائے گا وہ مچھلی کے جگر کا بڑھا ہوا حصہ ہو گا اور جب مرد کا پانی عورت کے پانی پر غلبہ کر جاتا ہے تو بچہ باپ کی شکل پر ہوتا ہے اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر غلبہ کر جاتا ہے تو بچہ ماں کی شکل پر ہوتا ہے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بول اٹھے «أشهد أن لا إله إلا الله، وأشهد أنك رسول الله.» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ ( پھر عرض کیا ) یا رسول اللہ! یہودی بڑی بہتان باز قوم ہے، اگر اس سے پہلے کہ آپ میرے متعلق ان سے کچھ پوچھیں، انہیں میرے اسلام کا پتہ چل گیا تو مجھ پر بہتان تراشیاں شروع کر دیں گے۔ بعد میں جب یہودی آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ عبداللہ تمہارے یہاں کیسے آدمی سمجھے جاتے ہیں؟ وہ کہنے لگے، ہم میں سب سے بہتر اور ہم میں سب سے بہتر کے بیٹے! ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں پھر تمہارا کیا خیال ہو گا؟ کہنے لگے، اللہ تعالیٰ اس سے انہیں پناہ میں رکھے۔ اتنے میں عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ظاہر ہو کر کہا «أشهد أن لا إله إلا الله، وأن محمدا رسول الله.» کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے سچے رسول ہیں۔“ اب وہی یہودی ان کے بارے میں کہنے لگے کہ یہ ہم میں سب سے بدتر ہے اور سب سے بدتر شخص کا بیٹا ہے اور ان کی توہین شروع کر دی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! یہی وہ چیز تھی جس سے میں ڈرتا تھا۔
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے حبیب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، ہم میں سب سے بہتر قاری قرآن ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں اور ہم میں سب سے زیادہ علی رضی اللہ عنہ میں قضاء یعنی فیصلے کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس کے باوجود ہم ابی رضی اللہ عنہ کی اس بات کو تسلیم نہیں کرتے جو ابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جن آیات کی بھی تلاوت سنی ہے، میں انہیں نہیں چھوڑ سکتا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے «ما ننسخ من آية أو ننسأها» الخ کہ ”ہم نے جو آیت بھی منسوخ کی یا اسے بھلایا تو پھر اس سے اچھی آیت لائے۔“
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا يحيى، حدثنا سفيان، عن حبيب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال قال عمر رضى الله عنه اقرونا ابى، واقضانا علي، وانا لندع من قول ابى، وذاك ان ابيا يقول لا ادع شييا سمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد قال الله تعالى {ما ننسخ من اية او ننساها}
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی حسین نے، ان سے ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے، ابن آدم نے مجھے جھٹلایا حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا۔ اس نے مجھے گالی دی، حالانکہ اس کے لیے یہ مناسب نہ تھا۔ اس کا مجھے جھٹلانا تو یہ ہے کہ وہ کہتا ہے کہ میں اسے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہوں اور اس کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ میرے لیے اولاد بتاتا ہے، میری ذات اس سے پاک ہے کہ میں اپنے لیے بیوی یا اولاد بناؤں۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن عبد الله بن ابي حسين، حدثنا نافع بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " قال الله كذبني ابن ادم ولم يكن له ذلك، وشتمني ولم يكن له ذلك، فاما تكذيبه اياى فزعم اني لا اقدر ان اعيده كما كان، واما شتمه اياى فقوله لي ولد، فسبحاني ان اتخذ صاحبة او ولدا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ فرمایا، تین مواقع پر اللہ تعالیٰ کے نازل ہونے والے حکم سے میری رائے نے پہلے ہی موافقت کی یا میرے رب نے تین مواقع پر میری رائے کے موافق حکم نازل فرمایا۔ میں نے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! کیا اچھا ہوتا کہ آپ مقام ابراہیم کو طواف کے بعد نماز پڑھنے کی جگہ بناتے تو بعد میں یہی آیت نازل ہوئی۔ اور میں نے عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! آپ کے گھر میں اچھے اور برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں۔ کیا اچھا ہوتا کہ آپ امہات المؤمنین کو پردہ کا حکم دے دیتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت حجاب ( پردہ کی آیت ) نازل فرمائی اور انہوں نے بیان کیا اور مجھے بعض ازواج مطہرات سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی کی خبر ملی۔ میں نے ان کے یہاں گیا اور ان سے کہا کہ تم باز آ جاؤ، ورنہ اللہ تعالیٰ تم سے بہتر بیویاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بدل دے گا۔ بعد میں ازواج مطہرات میں سے ایک کے ہاں گیا تو وہ مجھ سے کہنے لگیں کہ عمر! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی ازواج کو اتنی نصیحتیں نہیں کرتے جتنی تم انہیں کرتے رہتے ہو۔ آخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «عسى ربه إن طلقكن أن يبدله أزواجا خيرا منكن مسلمات» ”کوئی تعجب نہ ہونا چاہئیے اگر اس نبی کا رب تمہیں طلاق دلا دے اور دوسری مسلمان بیویاں تم سے بہتر بدل دے۔“ آخر آیت تک۔ اور ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، ان سے حمید نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا۔
حدثنا مسدد، عن يحيى بن سعيد، عن حميد، عن انس، قال قال عمر وافقت الله في ثلاث او وافقني ربي في ثلاث قلت يا رسول الله، لو اتخذت مقام ابراهيم مصلى وقلت يا رسول الله يدخل عليك البر والفاجر، فلو امرت امهات المومنين بالحجاب فانزل الله اية الحجاب قال وبلغني معاتبة النبي صلى الله عليه وسلم بعض نسايه، فدخلت عليهن قلت ان انتهيتن او ليبدلن الله رسوله صلى الله عليه وسلم خيرا منكن. حتى اتيت احدى نسايه، قالت يا عمر، اما في رسول الله صلى الله عليه وسلم ما يعظ نساءه حتى تعظهن انت فانزل الله {عسى ربه ان طلقكن ان يبدله ازواجا خيرا منكن مسلمات} الاية. وقال ابن ابي مريم اخبرنا يحيى بن ايوب حدثني حميد سمعت انسا عن عمر
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے، ان سے عبداللہ بن محمد بن ابی بکر نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھتی نہیں ہو کہ جب تمہاری قوم ( قریش ) نے کعبہ کی تعمیر کی تو ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے اسے کم کر دیا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر آپ ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق پھر سے کعبہ کی تعمیر کیوں نہیں کروا دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تمہاری قوم ابھی نئی نئی کفر سے نکلی نہ ہوتی ( تو میں ایسا ہی کرتا ) ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا، جب کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکنوں کا جو حطیم کے قریب ہیں ( طواف کے وقت ) چھونا اسی لیے چھوڑا تھا کہ بیت اللہ کی تعمیر ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد کے مطابق مکمل نہیں تھی۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن محمد بن ابي بكر، اخبر عبد الله بن عمر، عن عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الم ترى ان قومك بنوا الكعبة واقتصروا عن قواعد ابراهيم ". فقلت يا رسول الله الا تردها على قواعد ابراهيم قال " لولا حدثان قومك بالكفر ". فقال عبد الله بن عمر لين كانت عايشة سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما ارى رسول الله صلى الله عليه وسلم ترك استلام الركنين اللذين يليان الحجر، الا ان البيت لم يتمم على قواعد ابراهيم
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہیں علی بن مبارک نے خبر دی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے کہ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اہل کتاب ( یہودی ) توراۃ کو خود عبرانی زبان میں پڑھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تم تکذیب کرو بلکہ یہ کہا کرو «آمنا بالله وما أنزل إلينا» یعنی ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی ہے۔“
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عثمان بن عمر، اخبرنا علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال كان اهل الكتاب يقرءون التوراة بالعبرانية، ويفسرونها بالعربية لاهل الاسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تصدقوا اهل الكتاب ولا تكذبوهم، وقولوا {امنا بالله وما انزل} الاية
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا میں نے زہیر سے سنا، انہوں نے ابواسحاق سے اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے سولہ یا سترہ مہینے تک نماز پڑھی لیکن آپ چاہتے تھے کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ ( کعبہ ) ہو جائے ( آخر ایک دن اللہ کے حکم سے ) آپ نے عصر کی نماز ( بیت اللہ کی طرف رخ کر کے ) پڑھی اور آپ کے ساتھ بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی پڑھی۔ جن صحابہ نے یہ نماز آپ کے ساتھ پڑھی تھی، ان میں سے ایک صحابی مدینہ کی ایک مسجد کے قریب سے گزرے۔ اس مسجد میں لوگ رکوع میں تھے، انہوں نے اس پر کہا کہ میں اللہ کا نام لے کر گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے، تمام نمازی اسی حالت میں بیت اللہ کی طرف پھر گئے۔ اس کے بعد لوگوں نے کہا کہ جو لوگ کعبہ کے قبلہ ہونے سے پہلے انتقال کر گئے، ان کے متعلق ہم کیا کہیں۔ ( ان کی نمازیں قبول ہوئیں یا نہیں؟ ) اس پر یہ آیت نازل ہوئی «وما كان الله ليضيع إيمانكم إن الله بالناس لرءوف رحيم» ”اللہ ایسا نہیں کہ تمہاری عبادات کو ضائع کرے، بیشک اللہ اپنے بندوں پر بہت بڑا مہربان اور بڑا رحیم ہے۔“
حدثنا ابو نعيم، سمع زهيرا، عن ابي اسحاق، عن البراء، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى الى بيت المقدس ستة عشر شهرا او سبعة عشر شهرا، وكان يعجبه ان تكون قبلته قبل البيت، وانه صلى او صلاها صلاة العصر، وصلى معه قوم، فخرج رجل ممن كان صلى معه، فمر على اهل المسجد وهم راكعون قال اشهد بالله لقد صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم قبل مكة، فداروا كما هم قبل البيت، وكان الذي مات على القبلة قبل ان تحول قبل البيت رجال قتلوا لم ندر ما نقول فيهم، فانزل الله {وما كان الله ليضيع ايمانكم ان الله بالناس لرءوف رحيم}
ہم سے یوسف بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر اور ابواسامہ نے بیان کیا۔ (حدیث کے الفاظ جریر کی روایت کے مطابق ہیں) ان سے اعمش نے، ان سے ابوصالح نے اور ابواسامہ نے بیان کیا (یعنی اعمش کے واسطہ سے کہ) ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے دن نوح علیہ السلام کو بلایا جائے گا۔ وہ عرض کریں گے، «لبيك وسعديك» : یا رب! اللہ رب العزت فرمائے گا، کیا تم نے میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ نوح علیہ السلام عرض کریں گے کہ میں نے پہنچا دیا تھا، پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا، کیا انہوں نے تمہیں میرا پیغام پہنچا دیا تھا؟ وہ لوگ کہیں گے کہ ہمارے یہاں کوئی ڈرانے والا نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ( نوح علیہ السلام سے ) کہ آپ کے حق میں کوئی گواہی بھی دے سکتا ہے؟ وہ کہیں گے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کی امت میری گواہ ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت ان کے حق میں گواہی دے گی کہ انہوں نے پیغام پہنچا دیا تھا اور رسول ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی امت کے حق میں گواہی دیں گے ( کہ انہوں نے سچی گواہی دی ہے ) یہی مراد ہے اللہ کے اس ارشاد سے «وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا» کہ ”اور اسی طرح ہم نے تم کو امت وسط بنایا تاکہ تم لوگوں کے لیے گواہی دو اور رسول تمہارے لیے گواہی دیں۔“ آیت میں لفظ «وسط» کے معنی عادل، منصف، بہتر کے ہیں۔
حدثنا يوسف بن راشد، حدثنا جرير، وابو اسامة واللفظ لجرير عن الاعمش، عن ابي صالح، وقال ابو اسامة، حدثنا ابو صالح، عن ابي سعيد الخدري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يدعى نوح يوم القيامة فيقول لبيك وسعديك يا رب. فيقول هل بلغت فيقول نعم. فيقال لامته هل بلغكم فيقولون ما اتانا من نذير. فيقول من يشهد لك فيقول محمد وامته. فتشهدون انه قد بلغ ". {ويكون الرسول عليكم شهيدا} فذلك قوله جل ذكره {وكذلك جعلناكم امة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا} والوسط العدل
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا ہے کہ آپ نماز میں کعبہ کی طرف منہ کریں، لہٰذا آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف رخ کر لیں۔ سب نمازی اسی وقت کعبہ کی طرف پھر گئے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما بينا الناس يصلون الصبح في مسجد قباء اذ جاء جاء فقال انزل الله على النبي صلى الله عليه وسلم قرانا ان يستقبل الكعبة فاستقبلوها. فتوجهوا الى الكعبة
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے سوا ان صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی اور کوئی اب زندہ نہیں رہا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا معتمر، عن ابيه، عن انس رضى الله عنه قال لم يبق ممن صلى القبلتين غيري
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک صاحب وہاں آئے اور کہا کہ رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے کہ ( نماز میں ) کعبہ کی طرف منہ کریں، پس آپ لوگ بھی اب کعبہ کی طرف رخ کر لیں۔ راوی نے بیان کیا کہ لوگوں کا منہ اس وقت شام ( بیت المقدس ) کی طرف تھا، اسی وقت لوگ کعبہ کی طرف پھر گئے۔
حدثنا خالد بن مخلد، حدثنا سليمان، حدثني عبد الله بن دينار، عن ابن عمر رضى الله عنهما بينما الناس في الصبح بقباء جاءهم رجل فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد انزل عليه الليلة قران، وامر ان يستقبل الكعبة الا فاستقبلوها. وكان وجه الناس الى الشام فاستداروا بوجوههم الى الكعبة
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک صاحب ( مدینہ سے ) آئے اور کہا کہ رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے اور آپ کو حکم ہوا ہے کہ کعبہ کی طرف منہ کر لیں۔ اس لیے آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف پھر جائیں۔ اس وقت ان کا منہ شام کی طرف تھا۔ چنانچہ سب نمازی کعبہ کی طرف پھر گئے۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال بينا الناس بقباء في صلاة الصبح اذ جاءهم ات فقال ان النبي صلى الله عليه وسلم قد انزل عليه الليلة قران، وقد امر ان يستقبل الكعبة فاستقبلوها. وكانت وجوههم الى الشام فاستداروا الى الكعبة
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم دیا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني ابو اسحاق، قال سمعت البراء رضى الله عنه قال صلينا مع النبي صلى الله عليه وسلم نحو بيت المقدس ستة عشر او سبعة عشر شهرا، ثم صرفه نحو القبلة
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک صاحب آئے اور کہا کہ رات قرآن نازل ہوا ہے اور کعبہ کی طرف منہ کر لینے کا حکم ہوا ہے۔ اس لیے آپ لوگ بھی کعبہ کی طرف منہ کر لیں اور جس حالت میں ہیں، اسی طرح اس کی طرف متوجہ ہو جائیں ( یہ سنتے ہی ) تمام صحابہ رضی اللہ عنہم کعبہ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ اس وقت لوگوں کا منہ شام کی طرف تھا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن مسلم، حدثنا عبد الله بن دينار، قال سمعت ابن عمر رضى الله عنهما يقول بينا الناس في الصبح بقباء اذ جاءهم رجل فقال انزل الليلة قران، فامر ان يستقبل الكعبة، فاستقبلوها. واستداروا كهييتهم، فتوجهوا الى الكعبة وكان وجه الناس الى الشام
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، حدثنا قتادة، عن انس رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم. وقال لي خليفة حدثنا يزيد بن زريع حدثنا سعيد عن قتادة عن انس رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يجتمع المومنون يوم القيامة فيقولون لو استشفعنا الى ربنا فياتون ادم فيقولون انت ابو الناس، خلقك الله بيده واسجد لك ملايكته، وعلمك اسماء كل شىء، فاشفع لنا عند ربك حتى يريحنا من مكاننا هذا. فيقول لست هناكم ويذكر ذنبه فيستحي ايتوا نوحا فانه اول رسول بعثه الله الى اهل الارض. فياتونه فيقول لست هناكم. ويذكر سواله ربه ما ليس له به علم فيستحي، فيقول ايتوا خليل الرحمن. فياتونه فيقول لست هناكم، ايتوا موسى عبدا كلمه الله واعطاه التوراة. فياتونه فيقول لست هناكم. ويذكر قتل النفس بغير نفس فيستحي من ربه فيقول ايتوا عيسى عبد الله ورسوله، وكلمة الله وروحه. فيقول لست هناكم، ايتوا محمدا صلى الله عليه وسلم عبدا غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تاخر. فياتوني فانطلق حتى استاذن على ربي فيوذن {لي} فاذا رايت ربي وقعت ساجدا، فيدعني ما شاء الله ثم يقال ارفع راسك، وسل تعطه، وقل يسمع، واشفع تشفع. فارفع راسي فاحمده بتحميد يعلمنيه، ثم اشفع، فيحد لي حدا، فادخلهم الجنة، ثم اعود اليه، فاذا رايت ربي مثله ثم اشفع، فيحد لي حدا، فادخلهم الجنة {ثم اعود الثالثة} ثم اعود الرابعة فاقول ما بقي في النار الا من حبسه القران ووجب عليه الخلود ". قال ابو عبد الله " الا من حبسه القران ". يعني قول الله تعالى {خالدين فيها}
حدثنا عبد الله بن منير، سمع عبد الله بن بكر، حدثنا حميد، عن انس، قال سمع عبد الله بن سلام، بقدوم رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو في ارض يخترف، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال اني سايلك عن ثلاث لا يعلمهن الا نبي فما اول اشراط الساعة وما اول طعام اهل الجنة وما ينزع الولد الى ابيه او الى امه قال " اخبرني بهن جبريل انفا ". قال جبريل قال " نعم ". قال ذاك عدو اليهود من الملايكة. فقرا هذه الاية {من كان عدوا لجبريل فانه نزله على قلبك} اما اول اشراط الساعة فنار تحشر الناس من المشرق الى المغرب، واما اول طعام اهل الجنة فزيادة كبد حوت، واذا سبق ماء الرجل ماء المراة نزع الولد، واذا سبق ماء المراة نزعت ". قال اشهد ان لا اله الا الله، واشهد انك رسول الله. يا رسول الله ان اليهود قوم بهت، وانهم ان يعلموا باسلامي قبل ان تسالهم يبهتوني. فجاءت اليهود فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اى رجل عبد الله فيكم ". قالوا خيرنا وابن خيرنا، وسيدنا وابن سيدنا. قال " ارايتم ان اسلم عبد الله بن سلام ". فقالوا اعاذه الله من ذلك. فخرج عبد الله فقال اشهد ان لا اله الا الله، وان محمدا رسول الله. فقالوا شرنا وابن شرنا. وانتقصوه. قال فهذا الذي كنت اخاف يا رسول الله