Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابھی لوگ مسجد قباء میں صبح کی نماز پڑھ ہی رہے تھے کہ ایک آنے والے صاحب آئے اور کہا کہ رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل ہوا ہے اور آپ کو کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا ہے۔ اس لیے آپ لوگ بھی اسی طرف منہ کر لیں۔ وہ لوگ شام کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے لیکن اسی وقت کعبہ کی طرف پھر گئے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال بينما الناس في صلاة الصبح بقباء اذ جاءهم ات فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد انزل عليه الليلة، وقد امر ان يستقبل الكعبة، فاستقبلوها. وكانت وجوههم الى الشام فاستداروا الى القبلة
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ( ان دنوں میں نوعمر تھا ) کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے «إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما» ”صفا اور مروہ بیشک اللہ کی یادگار چیزوں میں سے ہیں۔ پس جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ ان دونوں کے درمیان آمدورفت ( یعنی سعی ) کرے۔“ میرا خیال ہے کہ اگر کوئی ان کی سعی نہ کرے تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ہونا چاہئیے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہرگز نہیں جیسا کہ تمہارا خیال ہے۔ اگر مسئلہ یہی ہوتا تو پھر واقعی ان کے سعی نہ کرنے میں کوئی گناہ نہ تھا۔ لیکن یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی ( اسلام سے پہلے ) انصار منات بت کے نام سے احرام باندھتے تھے، یہ بت مقام قدید میں رکھا ہوا تھا اور انصار صفا اور مروہ کی سعی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے۔ جب اسلام آیا تو انہوں نے سعی کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إن الصفا والمروة من شعائر الله فمن حج البيت أو اعتمر فلا جناح عليه أن يطوف بهما» ”صفا اور مروہ بیشک اللہ کی یادگار چیزوں میں سے ہیں، سو جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی بھی گناہ نہیں کہ ان دونوں کے درمیان ( سعی ) کرے۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، انه قال قلت لعايشة زوج النبي صلى الله عليه وسلم وانا يوميذ حديث السن ارايت قول الله تبارك وتعالى {ان الصفا والمروة من شعاير الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما} فما ارى على احد شييا ان لا يطوف بهما. فقالت عايشة كلا لو كانت كما تقول كانت فلا جناح عليه ان لا يطوف بهما، انما انزلت هذه الاية في الانصار، كانوا يهلون لمناة، وكانت مناة حذو قديد، وكانوا يتحرجون ان يطوفوا بين الصفا والمروة، فلما جاء الاسلام سالوا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك فانزل الله {ان الصفا والمروة من شعاير الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما}
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے بیان کیا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے صفا اور مروہ کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ اسے ہم جاہلیت کے کاموں میں سے سمجھتے تھے۔ جب اسلام آیا تو ہم ان کی سعی سے رک گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إن الصفا والمروة» سے ارشاد «أن يطوف بهما» تک۔ یعنی بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ پس ان کی سعی کرنے میں حج اور عمرہ کے دوران کوئی گناہ نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن عاصم بن سليمان، قال سالت انس بن مالك رضى الله عنه عن الصفا، والمروة،. فقال كنا نرى انهما من امر الجاهلية، فلما كان الاسلام امسكنا عنهما، فانزل الله تعالى {ان الصفا والمروة } الى قوله {ان يطوف بهما}
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کلمہ ارشاد فرمایا اور میں نے ایک اور بات کہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حالت میں مر جائے کہ وہ اللہ کے سوا اوروں کو بھی اس کا شریک ٹھہراتا رہا ہو تو وہ جہنم میں جاتا ہے اور میں نے یوں کہا کہ جو شخص اس حالت میں مرے کہ اللہ کا کسی کو شریک نہ ٹھہراتا رہا تو وہ جنت میں جاتا ہے۔
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم كلمة وقلت اخرى قال النبي صلى الله عليه وسلم " من مات وهو يدعو من دون الله ندا دخل النار ". وقلت انا من مات وهو لا يدعو لله ندا دخل الجنة
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے مجاہد سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ بنی اسرائیل میں قصاص یعنی بدلہ تھا لیکن دیت نہیں تھی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس امت سے کہا کہ ”تم پر مقتولوں کے باب میں قصاص فرض کیا گیا، آزاد کے بدلے میں آزاد اور غلام کے بدلے میں غلام اور عورت کے بدلے میں عورت، ہاں جس کسی کو اس کے فریق مقتول کی طرف سے کچھ معافی مل جائے۔“ تو معافی سے مراد یہی دیت قبول کرنا ہے۔ سو مطالبہ معقول اور نرم طریقہ سے ہو اور مطالبہ کو اس فریق کے پاس خوبی سے پہنچایا جائے۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے رعایت اور مہربانی ہے۔“ یعنی اس کے مقابلہ میں جو تم سے پہلی امتوں پر فرض تھا۔ ”سو جو کوئی اس کے بعد بھی زیادتی کرے گا، اس کے لیے آخرت میں درد ناک عذاب ہو گا۔“ ( زیادتی سے مراد یہ ہے کہ ) دیت بھی لے لی اور پھر اس کے بعد قتل بھی کر دیا۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، قال سمعت مجاهدا، قال سمعت ابن عباس رضى الله عنهما يقول كان في بني اسراييل القصاص، ولم تكن فيهم الدية فقال الله تعالى لهذه الامة {كتب عليكم القصاص في القتلى الحر بالحر والعبد بالعبد والانثى بالانثى فمن عفي له من اخيه شىء} فالعفو ان يقبل الدية في العمد {فاتباع بالمعروف واداء اليه باحسان} يتبع بالمعروف ويودي باحسان، {ذلك تخفيف من ربكم} ورحمة مما كتب على من كان قبلكم. {فمن اعتدى بعد ذلك فله عذاب اليم} قتل بعد قبول الدية
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے حمیدی نے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کتاب اللہ کا حکم قصاص کا ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، حدثنا حميد، ان انسا، حدثهم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كتاب الله القصاص
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن بکر سہمی سے سنا، ان سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ میری پھوپھی ربیع نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دئیے، پھر اس لڑکی سے لوگوں نے معافی کی درخواست کی لیکن اس لڑکی کے قبیلے والے معافی دینے کو تیار نہیں ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قصاص کے سوا اور کسی چیز پر راضی نہیں تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا۔ اس پر انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ربیع رضی اللہ عنہا کے دانت توڑ دئیے جائیں گے، نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، ان کے دانت نہ توڑے جائیں گے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انس! کتاب اللہ کا حکم قصاص کا ہی ہے۔ پھر لڑکی والے راضی ہو گئے اور انہوں نے معاف کر دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری کر ہی دیتا ہے۔
حدثني عبد الله بن منير، سمع عبد الله بن بكر السهمي، حدثنا حميد، عن انس، ان الربيع، عمته كسرت ثنية جارية، فطلبوا اليها العفو فابوا، فعرضوا الارش فابوا، فاتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم وابوا الا القصاص، فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم بالقصاص، فقال انس بن النضر يا رسول الله، اتكسر ثنية الربيع لا والذي بعثك بالحق لا تكسر ثنيتها. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا انس كتاب الله القصاص ". فرضي القوم فعفوا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من عباد الله من لو اقسم على الله لابره
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، انہیں نافع نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عاشوراء کے دن جاہلیت میں ہم روزہ رکھتے تھے لیکن جب رمضان کے روزے نازل ہو گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا جی چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كان عاشوراء يصومه اهل الجاهلية، فلما نزل رمضان قال " من شاء صامه، ومن شاء لم يصمه
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ عاشوراء کا روزہ رمضان کے روزوں کے حکم سے پہلے رکھا جاتا تھا۔ پھر جب رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا جی چاہے عاشوراء کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها كان عاشوراء يصام قبل رمضان، فلما نزل رمضان قال " من شاء صام، ومن شاء افطر
مجھ سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ نے خبر دی، انہیں اسرائیل نے، انہیں منصور نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اشعث ان کے یہاں آئے، وہ اس وقت کھانا کھا رہے تھے، اشعث نے کہا کہ آج تو عاشوراء کا دن ہے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان دنوں میں عاشوراء کا روزہ رمضان کے روزوں کے نازل ہونے سے پہلے رکھا جاتا تھا لیکن جب رمضان کے روزے کا حکم نازل ہوا تو یہ روزہ چھوڑ دیا گیا۔ آؤ تم بھی کھانے میں شریک ہو جاؤ۔
حدثني محمود، اخبرنا عبيد الله، عن اسراييل، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال دخل عليه الاشعث وهو يطعم فقال اليوم عاشوراء. فقال كان يصام قبل ان ينزل رمضان، فلما نزل رمضان ترك، فادن فكل
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ عاشوراء کے دن قریش زمانہ جاہلیت میں روزے رکھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس دن روزہ رکھتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہاں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو بھی اس کے رکھنے کا حکم دیا، لیکن جب رمضان کے روزوں کا حکم نازل ہوا تو رمضان کے روزے فرض ہو گئے اور عاشوراء کے روزہ ( کی فرضیت ) باقی نہیں رہی۔ اب جس کا جی چاہے اس دن بھی روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، حدثنا هشام، قال اخبرني ابي، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان يوم عاشوراء تصومه قريش في الجاهلية، وكان النبي صلى الله عليه وسلم يصومه، فلما قدم المدينة صامه وامر بصيامه، فلما نزل رمضان كان رمضان الفريضة، وترك عاشوراء، فكان من شاء صامه، ومن شاء لم يصمه
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو روح نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے عطاء نے اور انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ یوں قرآت کر رہے تھے «وعلى الذين يطوقونه فدية طَعام مسكين» ( تفعیل سے ) «فدية طَعام مسكين» ۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے۔ اس سے مراد بہت بوڑھا مرد یا بہت بوڑھی عورت ہے۔ جو روزے کی طاقت نہ رکھتی ہو، انہیں چاہئیے کہ ہر روزہ کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔
حدثني اسحاق، اخبرنا روح، حدثنا زكرياء بن اسحاق، حدثنا عمرو بن دينار، عن عطاء، سمع ابن عباس، يقرا {وعلى الذين يطوقونه فدية طعام مسكين }. قال ابن عباس ليست بمنسوخة، هو الشيخ الكبير والمراة الكبيرة لا يستطيعان ان يصوما، فليطعمان مكان كل يوم مسكينا
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انھوں نے یوں قرآت کی «فدية» بغیر تنوین «طَعام مساكين» بتلایا کہ یہ آیت منسوخ ہے۔
حدثنا عياش بن الوليد، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما انه قرا {فدية طعام مساكين} قال هي منسوخة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حارث نے، ان سے بکیر بن عبداللہ نے، ان سے سلمہ بن اکوع کے مولیٰ یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی۔ «وعلى الذين يطيقونه فدية طَعام مسكين» تو جس کا جی چاہتا تھا روزہ چھوڑ دیتا تھا اور اس کے بدلے میں فدیہ دے دیتا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے بعد والی آیت نازل ہوئی اور اس نے پہلی آیت کو منسوخ کر دیا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ بکیر کا انتقال یزید سے پہلے ہو گیا تھا۔ بکیر جو یزید کے شاگرد تھے یزید سے پہلے 120 ھ میں مر گئے تھے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا بكر بن مضر، عن عمرو بن الحارث، عن بكير بن عبد الله، عن يزيد، مولى سلمة بن الاكوع عن سلمة، قال لما نزلت {وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين} كان من اراد ان يفطر ويفتدي حتى نزلت الاية التي بعدها فنسختها. مات بكير قبل يزيد
ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) اور ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، ان سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جب رمضان کے روزے کا حکم نازل ہوا تو مسلمان پورے رمضان میں اپنی بیویوں کے قریب نہیں جاتے تھے اور کچھ لوگوں نے اپنے کو خیانت میں مبتلا کر لیا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «علم الله أنكم كنتم تختانون أنفسكم فتاب عليكم وعفا عنكم» ”اللہ نے جان لیا کہ تم اپنے کو خیانت میں مبتلا کرتے رہتے تھے۔ پس اس نے تم پر رحمت سے توجہ فرمائی اور تم کو معاف کر دیا۔“
حدثنا عبيد الله، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء، وحدثنا احمد بن عثمان، حدثنا شريح بن مسلمة، قال حدثني ابراهيم بن يوسف، عن ابيه، عن ابي اسحاق، قال سمعت البراء رضى الله عنه . لما نزل صوم رمضان كانوا لا يقربون النساء رمضان كله، وكان رجال يخونون انفسهم، فانزل الله {علم الله انكم كنتم تختانون انفسكم فتاب عليكم وعفا عنكم}
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے، ان سے عامر شعبی نے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ انھوں نے ایک سفید دھاگا اور ایک سیاہ دھاگا لیا ( اور سوتے ہوئے اپنے ساتھ رکھ لیا ) ۔ جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو انہوں نے اسے دیکھا، وہ دونوں میں تمیز نہیں ہوئی۔ جب صبح ہوئی تو عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنے تکئے کے نیچے ( سفید و سیاہ دھاگے رکھے تھے اور کچھ نہیں ہوا ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بطور مذاق کے فرمایا کہ پھر تو تمہارا تکیہ بہت لمبا چوڑا ہو گا کہ صبح کا سفیدی خط اور سیاہ خط اس کے نیچے آ گیا تھا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن حصين، عن الشعبي، عن عدي، قال اخذ عدي عقالا ابيض وعقالا اسود حتى كان بعض الليل نظر فلم يستبينا، فلما اصبح قال يا رسول الله، جعلت تحت وسادتي. قال " ان وسادك اذا لعريض ان كان الخيط الابيض والاسود تحت وسادتك
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے مطرف نے بیان کیا، ان سے شعبی نے بیان کیا اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ( آیت میں ) «الخيط الأبيض» اور «الخيط الأسود» سے کیا مراد ہے؟ کیا ان سے مراد دو دھاگے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری کھوپڑی پھر تو بڑی لمبی چوڑی ہو گی۔ اگر تم نے رات کو دو دھاگے دیکھے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان سے مراد رات کی سیاہی اور صبح کی سفیدی ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن مطرف، عن الشعبي، عن عدي بن حاتم رضى الله عنه قال قلت يا رسول الله ما الخيط الابيض من الخيط الاسود اهما الخيطان قال " انك لعريض القفا ان ابصرت الخيطين ". ثم قال " لا بل هو سواد الليل وبياض النهار
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا ابو غسان، محمد بن مطرف حدثني ابو حازم، عن سهل بن سعد، قال وانزلت {وكلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود} ولم ينزل {من الفجر} وكان رجال اذا ارادوا الصوم ربط احدهم في رجليه الخيط الابيض والخيط الاسود، ولا يزال ياكل حتى يتبين له رويتهما، فانزل الله بعده {من الفجر} فعلموا انما يعني الليل من النهار
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب لوگ جاہلیت میں احرام باندھ لیتے تو گھروں میں پیچھے کی طرف سے چھت پر چڑھ کر داخل ہوتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «وليس البر بأن تأتوا البيوت من ظهورها ولكن البر من اتقى وأتوا البيوت من أبوابها» کہ ”اور یہ نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کے پیچھے کی طرف سے آؤ، البتہ نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص تقویٰ اختیار کرے اور گھروں میں ان کے دروازوں سے آؤ۔“
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال كانوا اذا احرموا في الجاهلية اتوا البيت من ظهره، فانزل الله {وليس البر بان تاتوا البيوت من ظهورها ولكن البر من اتقى واتوا البيوت من ابوابها}
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما اتاه رجلان في فتنة ابن الزبير فقالا ان الناس قد ضيعوا، وانت ابن عمر وصاحب النبي صلى الله عليه وسلم فما يمنعك ان تخرج فقال يمنعني ان الله حرم دم اخي. فقالا الم يقل الله {وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة } فقال قاتلنا حتى لم تكن فتنة، وكان الدين لله، وانتم تريدون ان تقاتلوا حتى تكون فتنة، ويكون الدين لغير الله. وزاد عثمان بن صالح عن ابن وهب، قال اخبرني فلان، وحيوة بن شريح، عن بكر بن عمرو المعافري، ان بكير بن عبد الله، حدثه عن نافع، ان رجلا، اتى ابن عمر فقال يا ابا عبد الرحمن ما حملك على ان تحج عاما وتعتمر عاما، وتترك الجهاد في سبيل الله عز وجل، وقد علمت ما رغب الله فيه قال يا ابن اخي بني الاسلام على خمس ايمان بالله ورسوله، والصلاة الخمس، وصيام رمضان، واداء الزكاة، وحج البيت. قال يا ابا عبد الرحمن، الا تسمع ما ذكر الله في كتابه {وان طايفتان من المومنين اقتتلوا فاصلحوا بينهما} {الى امر الله} {قاتلوهم حتى لا تكون فتنة} قال فعلنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان الاسلام قليلا، فكان الرجل يفتن في دينه اما قتلوه، واما يعذبوه، حتى كثر الاسلام فلم تكن فتنة. قال فما قولك في علي وعثمان قال اما عثمان فكان الله عفا عنه، واما انتم فكرهتم ان تعفوا عنه، واما علي فابن عم رسول الله صلى الله عليه وسلم وختنه. واشار بيده فقال هذا بيته حيث ترون