Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما اتاه رجلان في فتنة ابن الزبير فقالا ان الناس قد ضيعوا، وانت ابن عمر وصاحب النبي صلى الله عليه وسلم فما يمنعك ان تخرج فقال يمنعني ان الله حرم دم اخي. فقالا الم يقل الله {وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة } فقال قاتلنا حتى لم تكن فتنة، وكان الدين لله، وانتم تريدون ان تقاتلوا حتى تكون فتنة، ويكون الدين لغير الله. وزاد عثمان بن صالح عن ابن وهب، قال اخبرني فلان، وحيوة بن شريح، عن بكر بن عمرو المعافري، ان بكير بن عبد الله، حدثه عن نافع، ان رجلا، اتى ابن عمر فقال يا ابا عبد الرحمن ما حملك على ان تحج عاما وتعتمر عاما، وتترك الجهاد في سبيل الله عز وجل، وقد علمت ما رغب الله فيه قال يا ابن اخي بني الاسلام على خمس ايمان بالله ورسوله، والصلاة الخمس، وصيام رمضان، واداء الزكاة، وحج البيت. قال يا ابا عبد الرحمن، الا تسمع ما ذكر الله في كتابه {وان طايفتان من المومنين اقتتلوا فاصلحوا بينهما} {الى امر الله} {قاتلوهم حتى لا تكون فتنة} قال فعلنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان الاسلام قليلا، فكان الرجل يفتن في دينه اما قتلوه، واما يعذبوه، حتى كثر الاسلام فلم تكن فتنة. قال فما قولك في علي وعثمان قال اما عثمان فكان الله عفا عنه، واما انتم فكرهتم ان تعفوا عنه، واما علي فابن عم رسول الله صلى الله عليه وسلم وختنه. واشار بيده فقال هذا بيته حيث ترون
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما اتاه رجلان في فتنة ابن الزبير فقالا ان الناس قد ضيعوا، وانت ابن عمر وصاحب النبي صلى الله عليه وسلم فما يمنعك ان تخرج فقال يمنعني ان الله حرم دم اخي. فقالا الم يقل الله {وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة } فقال قاتلنا حتى لم تكن فتنة، وكان الدين لله، وانتم تريدون ان تقاتلوا حتى تكون فتنة، ويكون الدين لغير الله. وزاد عثمان بن صالح عن ابن وهب، قال اخبرني فلان، وحيوة بن شريح، عن بكر بن عمرو المعافري، ان بكير بن عبد الله، حدثه عن نافع، ان رجلا، اتى ابن عمر فقال يا ابا عبد الرحمن ما حملك على ان تحج عاما وتعتمر عاما، وتترك الجهاد في سبيل الله عز وجل، وقد علمت ما رغب الله فيه قال يا ابن اخي بني الاسلام على خمس ايمان بالله ورسوله، والصلاة الخمس، وصيام رمضان، واداء الزكاة، وحج البيت. قال يا ابا عبد الرحمن، الا تسمع ما ذكر الله في كتابه {وان طايفتان من المومنين اقتتلوا فاصلحوا بينهما} {الى امر الله} {قاتلوهم حتى لا تكون فتنة} قال فعلنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان الاسلام قليلا، فكان الرجل يفتن في دينه اما قتلوه، واما يعذبوه، حتى كثر الاسلام فلم تكن فتنة. قال فما قولك في علي وعثمان قال اما عثمان فكان الله عفا عنه، واما انتم فكرهتم ان تعفوا عنه، واما علي فابن عم رسول الله صلى الله عليه وسلم وختنه. واشار بيده فقال هذا بيته حيث ترون
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو نضر نے خبر دی، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے ابووائل سے سنا اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے رہو اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں سے ہلاکت میں نہ ڈالو۔“ اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا النضر، حدثنا شعبة، عن سليمان، قال سمعت ابا وايل، عن حذيفة، {وانفقوا في سبيل الله ولا تلقوا بايديكم الى التهلكة} قال نزلت في النفقة
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن اصبہانی نے، کہا میں نے عبداللہ بن معقل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس مسجد میں حاضر ہوا، ان کی مراد کوفہ کی مسجد سے تھی اور ان سے روزے کے فدیہ کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ لے گئے اور جوئیں ( سر سے ) میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا خیال یہ نہیں تھا کہ تم اس حد تک تکلیف میں مبتلا ہو گئے ہو تم کوئی بکری نہیں مہیا کر سکتے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا، پھر تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو، ہر مسکین کو آدھا صاع کھانا کھلانا اور اپنا سر منڈوا لو۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تو یہ آیت خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی اور اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن الاصبهاني، قال سمعت عبد الله بن معقل، قال قعدت الى كعب بن عجرة في هذا المسجد يعني مسجد الكوفة فسالته عن فدية من صيام فقال حملت الى النبي صلى الله عليه وسلم والقمل يتناثر على وجهي فقال " ما كنت ارى ان الجهد قد بلغ بك هذا، اما تجد شاة ". قلت لا. قال " صم ثلاثة ايام، او اطعم ستة مساكين، لكل مسكين نصف صاع من طعام، واحلق راسك ". فنزلت في خاصة وهى لكم عامة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عمران ابی بکر نے، ان سے ابورجاء نے بیان کیا اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( حج میں ) تمتع کا حکم قرآن میں نازل ہوا اور ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمتع کے ساتھ ( حج ) کیا، پھر اس کے بعد قرآن نے اس سے نہیں روکا اور نہ اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا، یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی ( لہٰذا تمتع اب بھی جائز ہے ) یہ تو ایک صاحب نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عمران ابي بكر، حدثنا ابو رجاء، عن عمران بن حصين رضى الله عنهما قال انزلت اية المتعة في كتاب الله ففعلناها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولم ينزل قران يحرمه، ولم ينه عنها حتى مات قال رجل برايه ما شاء
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن عیینہ نے خبر دی، انہیں عمرو نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عکاظ، مجنہ اور ذوالمجاز زمانہ جاہلیت کے بازار ( میلے ) تھے، اس لیے ( اسلام کے بعد ) موسم حج میں صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہاں کاروبار کو برا سمجھا تو آیت نازل ہوئی «ليس عليكم جناح أن تبتغوا فضلا من ربكم» کہ ”تمہیں اس بارے میں کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے پروردگار کے یہاں سے تلاش معاش کرو۔“ یعنی موسم حج میں تجارت کے لیے مذکورہ منڈیوں میں جاؤ۔
حدثني محمد، قال اخبرني ابن عيينة، عن عمرو، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كانت عكاظ ومجنة وذو المجاز اسواقا في الجاهلية فتاثموا ان يتجروا في المواسم فنزلت {ليس عليكم جناح ان تبتغوا فضلا من ربكم} في مواسم الحج
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن حازم نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ قریش اور ان کے طریقے کی پیروی کرنے والے عرب ( حج کے لیے ) مزدلفہ میں ہی وقوف کیا کرتے تھے، اس کا نام انہوں الحمس رکھا تھا اور باقی عرب عرفات کے میدان میں وقوف کرتے تھے۔ پھر جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ عرفات میں آئیں اور وہیں وقوف کریں اور پھر وہاں سے مزدلفہ آئیں۔ آیت «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس» سے یہی مراد ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا محمد بن خازم، حدثنا هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها كانت قريش ومن دان دينها يقفون بالمزدلفة، وكانوا يسمون الحمس، وكان ساير العرب يقفون بعرفات، فلما جاء الاسلام امر الله نبيه صلى الله عليه وسلم ان ياتي عرفات، ثم يقف بها ثم يفيض منها، فذلك قوله تعالى {ثم افيضوا من حيث افاض الناس}
مجھ سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو کریب نے خبر دی اور انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ ( جو کوئی تمتع کرے عمرہ کر کے احرام کھول ڈالے وہ ) جب تک حج کا احرام نہ باندھے بیت اللہ کا نفل طواف کرتا رہے۔ جب حج کا احرام باندھے اور عرفات جانے کو سوار ہو تو حج کے بعد جو قربانی ہو سکے وہ کرے، اونٹ ہو یا گائے یا بکری۔ ان تینوں میں سے جو ہو سکے اگر قربانی میسر نہ ہو تو تین روزے حج کے دنوں میں رکھے عرفہ کے دن سے پہلے اگر آخری روزہ عرفہ کے دن آ جائے تب بھی کوئی قباحت نہیں۔ شہر مکہ سے چل کر عرفات کو جائے وہاں عصر کی نماز سے رات کی تاریکی ہونے تک ٹھہرے، پھر عرفات سے اس وقت لوٹے جب دوسرے لوگ لوٹیں اور سب لوگوں کے ساتھ رات مزدلفہ میں گزارے اور اللہ کی یاد، تکبیر اور تہلیل بہت کرتا رہے صبح ہونے تک۔ صبح کو لوگوں کے ساتھ مزدلفہ سے منیٰ کو لوٹے جیسے اللہ نے فرمایا «ثم أفيضوا من حيث أفاض الناس واستغفروا الله إن الله غفور رحيم» یعنی کنکریاں مارنے تک اسی طرح اللہ کی یاد اور تکبیر و تہلیل کرتے رہو۔
حدثني محمد بن ابي بكر، حدثنا فضيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عقبة، اخبرني كريب، عن ابن عباس، قال يطوف الرجل بالبيت ما كان حلالا حتى يهل بالحج، فاذا ركب الى عرفة فمن تيسر له هدية من الابل او البقر او الغنم، ما تيسر له من ذلك اى ذلك شاء، غير ان لم يتيسر له فعليه ثلاثة ايام في الحج، وذلك قبل يوم عرفة، فان كان اخر يوم من الايام الثلاثة يوم عرفة فلا جناح عليه، ثم لينطلق حتى يقف بعرفات من صلاة العصر الى ان يكون الظلام، ثم ليدفعوا من عرفات اذا افاضوا منها حتى يبلغوا جمعا الذي يتبرر فيه، ثم ليذكروا الله كثيرا، او اكثروا التكبير والتهليل قبل ان تصبحوا ثم افيضوا، فان الناس كانوا يفيضون، وقال الله تعالى {ثم افيضوا من حيث افاض الناس واستغفروا الله ان الله غفور رحيم} حتى ترموا الجمرة
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے تھے ” «اللهم ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار» ”اے پروردگار! ہمارے! ہم کو دنیا میں بھی بہتری دے اور آخرت میں بھی بہتری اور ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچائیو۔“
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز، عن انس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم ربنا اتنا في الدنيا حسنة وفي الاخرة حسنة وقنا عذاب النار
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص وہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو اور عبداللہ ( عبداللہ بن ولید عدنی ) نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( وہی حدیث جو اوپر گزری ) ۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة، ترفعه قال " ابغض الرجال الى الله الالد الخصم ". وقال عبد الله حدثنا سفيان، حدثني ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن ابن جريج، قال سمعت ابن ابي مليكة، يقول قال ابن عباس رضى الله عنهما {حتى اذا استياس الرسل وظنوا انهم قد كذبوا} خفيفة، ذهب بها هناك، وتلا {حتى يقول الرسول والذين امنوا معه متى نصر الله الا ان نصر الله قريب} فلقيت عروة بن الزبير فذكرت له ذلك فقال قالت عايشة معاذ الله، والله ما وعد الله رسوله من شىء قط الا علم انه كاين قبل ان يموت، ولكن لم يزل البلاء بالرسل حتى خافوا ان يكون من معهم يكذبونهم، فكانت تقروها {وظنوا انهم قد كذبوا} مثقلة
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن ابن جريج، قال سمعت ابن ابي مليكة، يقول قال ابن عباس رضى الله عنهما {حتى اذا استياس الرسل وظنوا انهم قد كذبوا} خفيفة، ذهب بها هناك، وتلا {حتى يقول الرسول والذين امنوا معه متى نصر الله الا ان نصر الله قريب} فلقيت عروة بن الزبير فذكرت له ذلك فقال قالت عايشة معاذ الله، والله ما وعد الله رسوله من شىء قط الا علم انه كاين قبل ان يموت، ولكن لم يزل البلاء بالرسل حتى خافوا ان يكون من معهم يكذبونهم، فكانت تقروها {وظنوا انهم قد كذبوا} مثقلة
حدثنا اسحاق، اخبرنا النضر بن شميل، اخبرنا ابن عون، عن نافع، قال كان ابن عمر رضى الله عنهما اذا قرا القران لم يتكلم حتى يفرغ منه، فاخذت عليه يوما، فقرا سورة البقرة حتى انتهى الى مكان قال تدري فيما انزلت. قلت لا. قال انزلت في كذا وكذا. ثم مضى. وعن عبد الصمد، حدثني ابي، حدثني ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، {فاتوا حرثكم انى شيتم} قال ياتيها في. رواه محمد بن يحيى بن سعيد عن ابيه عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر
حدثنا اسحاق، اخبرنا النضر بن شميل، اخبرنا ابن عون، عن نافع، قال كان ابن عمر رضى الله عنهما اذا قرا القران لم يتكلم حتى يفرغ منه، فاخذت عليه يوما، فقرا سورة البقرة حتى انتهى الى مكان قال تدري فيما انزلت. قلت لا. قال انزلت في كذا وكذا. ثم مضى. وعن عبد الصمد، حدثني ابي، حدثني ايوب، عن نافع، عن ابن عمر، {فاتوا حرثكم انى شيتم} قال ياتيها في. رواه محمد بن يحيى بن سعيد عن ابيه عن عبيد الله عن نافع عن ابن عمر
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ یہودی کہتے تھے کہ اگر عورت سے ہمبستری کے لیے کوئی پیچھے سے آئے گا تو بچہ بھینگا پیدا ہو گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» کہ ”تمہاری بیویاں تمہاری کھیتی ہیں، سو اپنے کھیت میں آؤ جدھر سے چاہو۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن ابن المنكدر، سمعت جابرا رضى الله عنه قال كانت اليهود تقول اذا جامعها من ورايها جاء الولد احول. فنزلت {نساوكم حرث لكم فاتوا حرثكم انى شيتم}
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میری ایک بہن تھیں۔ ان کو ان کے اگلے خاوند نے نکاح کا پیغام دیا۔ ( دوسری سند ) اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے امام حسن بصری نے اور ان سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ ( تیسری سند ) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا اور ان سے امام حسن بصری نے کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی تھی لیکن جب عدت گزر گئی اور طلاق بائن ہو گئی تو انہوں نے پھر ان کے لیے پیغام نکاح بھیجا۔ معقل رضی اللہ عنہ نے اس پر انکار کیا، مگر عورت چاہتی تھی تو یہ آیت نازل ہوئی «فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن» کہ ”تم انہیں اس سے مت روکو کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کریں۔“
حدثنا عبيد الله بن سعيد، حدثنا ابو عامر العقدي، حدثنا عباد بن راشد، حدثنا الحسن، قال حدثني معقل بن يسار، قال كانت لي اخت تخطب الى. وقال ابراهيم عن يونس، عن الحسن، حدثني معقل بن يسار،. حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا يونس، عن الحسن، ان اخت، معقل بن يسار طلقها زوجها، فتركها حتى انقضت عدتها، فخطبها فابى معقل، فنزلت {فلا تعضلوهن ان ينكحن ازواجهن}
ہم سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے، ان سے حبیب نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» یعنی ”اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔“ کے متعلق عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ اس آیت کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔ اس لیے آپ اسے ( مصحف میں ) نہ لکھیں یا ( یہ کہا کہ ) نہ رہنے دیں۔ اس پر عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بیٹے! میں ( قرآن کا ) کوئی حرف اس کی جگہ سے نہیں ہٹا سکتا۔
حدثني امية بن بسطام، حدثنا يزيد بن زريع، عن حبيب، عن ابن ابي مليكة، قال ابن الزبير قلت لعثمان بن عفان {والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا} قال قد نسختها الاية الاخرى فلم تكتبها او تدعها قال يا ابن اخي، لا اغير شييا منه من مكانه
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شبل بن عباد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے اور انہوں نے مجاہد سے آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» ”اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں۔“ کے بارے میں ( زمانہ جاہلیت کی طرح ) کہا کہ عدت ( یعنی چار مہینے دس دن کی ) تھی جو شوہر کے گھر عورت کو گزارنی ضروری تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج فإن خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في أنفسهن من معروف» ”اور جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں ان کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے حق میں نفع اٹھانے کی وصیت ( کر جائیں ) کہ وہ ایک سال تک گھر سے نہ نکالی جائیں، لیکن اگر وہ ( خود ) نکل جائیں تو کوئی گناہ تم پر نہیں۔ اگر وہ دستور کے موافق اپنے لیے کوئی کام کریں۔“ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے عورت کے لیے سات مہینے اور بیس دن وصیت کے قرار دیئے کہ اگر وہ اس مدت میں چاہے تو اپنے لیے وصیت کے مطابق ( شوہر کے گھر میں ہی ) ٹھہرے اور اگر چاہے تو کہیں اور چلی جائے کہ اگر ایسی عورت کہیں اور چلی جائے تو تمہارے حق میں کوئی گناہ نہیں۔ پس عدت کے ایام تو وہی ہیں جنہیں گزارنا اس پر ضروری ہے ( یعنی چار مہینے دس دن ) ۔ شبل نے کہا ابن ابی نجیح نے مجاہد سے ایسا ہی نقل کیا ہے اور عطا بن ابی رباح نے کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، اس آیت نے اس رسم کو منسوخ کر دیا کہ عورت اپنے خاوند کے گھر والوں کے پاس عدت گزارے۔ اس آیت کی رو سے عورت کو اختیار ملا جہاں چاہے وہاں عدت گزارے اور اللہ پاک کے قول «غير إخراج» کا یہی مطلب ہے۔ عطا نے کہا، عورت اگر چاہے تو اپنے خاوند کے گھر والوں میں عدت گزارے اور خاوند کی وصیت کے موافق اسی کے گھر میں رہے اور اگر چاہے تو وہاں سے نکل جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فلا جناح عليكم فيما فعلن» ”اگر وہ نکل جائیں تو دستور کے موافق اپنے حق میں جو بات کریں اس میں کوئی گناہ تم پر نہ ہو گا۔“ عطاء نے کہا کہ پھر میراث کا حکم نازل ہوا جو سورۃ نساء میں ہے اور اس نے ( عورت کے لیے ) گھر میں رکھنے کے حکم کو منسوخ قرار دیا۔ اب عورت جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ اسے مکان کا خرچہ دینا ضروری نہیں اور محمد بن یوسف نے روایت کیا، ان سے ورقاء بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابن ابی نجیح نے اور ان سے مجاہد نے، یہی قول بیان کیا اور فرزندان ابن ابی نجیح سے نقل کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اس آیت نے صرف شوہر کے گھر میں عدت کے حکم کو منسوخ قرار دیا ہے۔ اب وہ جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «غير إخراج» وغیرہ سے ثابت ہے۔
حدثنا اسحاق، حدثنا روح، حدثنا شبل، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، {والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا} قال كانت هذه العدة تعتد عند اهل زوجها واجب، فانزل الله {والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا وصية لازواجهم متاعا الى الحول غير اخراج فان خرجن فلا جناح عليكم فيما فعلن في انفسهن من معروف} قال جعل الله لها تمام السنة سبعة اشهر وعشرين ليلة وصية، ان شاءت سكنت في وصيتها، وان شاءت خرجت، وهو قول الله تعالى {غير اخراج فان خرجن فلا جناح عليكم} فالعدة كما هي واجب عليها. زعم ذلك عن مجاهد. وقال عطاء قال ابن عباس نسخت هذه الاية عدتها عند اهلها، فتعتد حيث شاءت، وهو قول الله تعالى {غير اخراج}. قال عطاء ان شاءت اعتدت عند اهله وسكنت في وصيتها، وان شاءت خرجت لقول الله تعالى {فلا جناح عليكم فيما فعلن}. قال عطاء ثم جاء الميراث فنسخ السكنى فتعتد حيث شاءت، ولا سكنى لها. وعن محمد بن يوسف حدثنا ورقاء عن ابن ابي نجيح عن مجاهد بهذا. وعن ابن ابي نجيح عن عطاء عن ابن عباس قال نسخت هذه الاية عدتها في اهلها، فتعتد حيث شاءت لقول الله {غير اخراج} نحوه
ہم سے حبان بن موسیٰ مروزی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے، کہا ہم کو عبداللہ بن عون نے خبر دی، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں انصار کی ایک مجلس میں حاضر ہوا۔ بڑے بڑے انصاری وہاں موجود تھے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بھی موجود تھے۔ میں نے وہاں سبیعہ بنت حارث کے باب سے متعلق عبداللہ بن عتبہ کی حدیث کا ذکر کیا۔ عبدالرحمٰن نے کہا لیکن عبداللہ بن عتبہ کے چچا ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) ایسا نہیں کہتے تھے۔ ( محمد بن سیرین نے کہا ) کہ میں نے کہا کہ پھر تو میں نے ایک ایسے بزرگ عبداللہ بن عتبہ کے متعلق جھوٹ بولنے میں دلیری کی ہے کہ جو کوفہ میں ابھی زندہ موجود ہیں۔ میری آواز بلند ہو گئی تھی۔ ابن سیرین نے کہا کہ پھر جب میں باہر نکلا تو راستے میں مالک بن عامر یا مالک بن عوف سے ملاقات ہو گئی۔ ( راوی کو شک ہے کہ یہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے رفیقوں میں سے تھے ) میں نے ان سے پوچھا کہ جس عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے اور وہ حمل سے ہو تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس کی عدت کے متعلق کیا فتویٰ دیتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ تم لوگ اس حاملہ پر سختی کے متعلق کیوں سوچتے ہو اس پر آسانی نہیں کرتے ( اس کو لمبی ) عدت کا حکم دیتے ہو۔ سورۃ نساء چھوٹی ( سورۃ الطلاق ) لمبی سورۃ نساء کے بعد نازل ہوئی ہے اور ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہ میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا۔
حدثنا حبان، حدثنا عبد الله، اخبرنا عبد الله بن عون، عن محمد بن سيرين، قال جلست الى مجلس فيه عظم من الانصار وفيهم عبد الرحمن بن ابي ليلى، فذكرت حديث عبد الله بن عتبة في شان سبيعة بنت الحارث، فقال عبد الرحمن ولكن عمه كان لا يقول ذلك. فقلت اني لجريء ان كذبت على رجل في جانب الكوفة. ورفع صوته، قال ثم خرجت فلقيت مالك بن عامر او مالك بن عوف قلت كيف كان قول ابن مسعود في المتوفى عنها زوجها وهى حامل فقال قال ابن مسعود اتجعلون عليها التغليظ، ولا تجعلون لها الرخصة لنزلت سورة النساء القصرى بعد الطولى. وقال ايوب عن محمد لقيت ابا عطية مالك بن عامر
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن بشیر بن حکم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے، کہا کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے بیان کیا، ان سے عبیدہ بن عمرو نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خندق کے موقع پر فرمایا تھا، ان کفار نے ہمیں درمیانی نماز نہیں پڑھنے دی، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، اللہ ان کی قبروں اور گھروں کو یا ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔ قبروں اور گھروں یا پیٹوں کے لفظوں میں شک یحییٰ بن سعید راوی کی طرف سے ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا يزيد، اخبرنا هشام، عن محمد، عن عبيدة، عن علي رضى الله عنه قال النبي صلى الله عليه وسلم. حدثني عبد الرحمن حدثنا يحيى بن سعيد قال هشام حدثنا قال حدثنا محمد عن عبيدة عن علي رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم الخندق " حبسونا عن صلاة الوسطى حتى غابت الشمس ملا الله قبورهم وبيوتهم او اجوافهم شك يحيى نارا