Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے حارث بن شبل نے، ان سے ابوعمرو شیبانی نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پہلے ہم نماز پڑھتے ہوئے بات بھی کر لیا کرتے تھے، کوئی بھی شخص اپنے دوسرے بھائی سے اپنی کسی ضرورت کے لیے بات کر لیتا تھا۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» ”سب ہی نمازوں کی پابندی رکھو اور خاص طور پر بیچ والی نماز کی اور اللہ کے سامنے فرماں برداروں کی طرح کھڑے ہوا کرو۔“ اس آیت کے ذریعہ ہمیں نماز میں چپ رہنے کا حکم دیا گیا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن الحارث بن شبيل، عن ابي عمرو الشيباني، عن زيد بن ارقم، قال كنا نتكلم في الصلاة يكلم احدنا اخاه في حاجته حتى نزلت هذه الاية {حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين} فامرنا بالسكوت
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نماز خوف کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ فرماتے کہ امام مسلمانوں کی ایک جماعت کو لے کر خود آگے بڑھے اور انہیں ایک رکعت نماز پڑھائے۔ اس دوران میں مسلمانوں کی دوسری جماعت ان کے اور دشمن کے درمیان میں رہے۔ یہ لوگ نماز میں ابھی شریک نہ ہوں، پھر جب امام ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھا چکے جو پہلے اس کے ساتھ تھے تو اب یہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں اور ان کی جگہ لے لیں، جنہوں نے اب تک نماز نہیں پڑھی ہے، لیکن یہ لوگ سلام نہ پھیریں۔ اب وہ لوگ آگے بڑھیں جنہوں نے نماز نہیں پڑھی ہے اور امام انہیں بھی ایک رکعت نماز پڑھائے، اب امام دو رکعت پڑھ چکنے کے بعد نماز سے فارغ ہو چکا۔ پھر دونوں جماعتیں ( جنہوں نے الگ الگ امام کے ساتھ ایک ایک رکعت نماز پڑھی تھی ) اپنی باقی ایک ایک رکعت ادا کر لیں۔ جبکہ امام اپنی نماز سے فارغ ہو چکا ہے۔ اس طرح دونوں جماعتوں کی دو دو رکعت پوری ہو جائیں گی۔ لیکن اگر خوف اس سے بھی زیادہ ہے تو ہر شخص تنہا نماز پڑھ لے، پیدل ہو یا سوار، قبلہ کی طرف رخ ہو یا نہ ہو۔ امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے کہ مجھ کو یقین ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر ہی بیان کی ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا مالك، عن نافع، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما كان اذا سيل عن صلاة الخوف قال يتقدم الامام وطايفة من الناس فيصلي بهم الامام ركعة، وتكون طايفة منهم بينهم وبين العدو لم يصلوا، فاذا صلوا الذين معه ركعة استاخروا مكان الذين لم يصلوا ولا يسلمون، ويتقدم الذين لم يصلوا فيصلون معه ركعة، ثم ينصرف الامام وقد صلى ركعتين، فيقوم كل واحد من الطايفتين فيصلون لانفسهم ركعة بعد ان ينصرف الامام، فيكون كل واحد من الطايفتين قد صلى ركعتين، فان كان خوف هو اشد من ذلك صلوا رجالا، قياما على اقدامهم، او ركبانا مستقبلي القبلة او غير مستقبليها. قال مالك قال نافع لا ارى عبد الله بن عمر ذكر ذلك الا عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
مجھ سے عبداللہ بن ابی اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید بن اسود اور یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حبیب بن شہید نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ سورۃ البقرہ کی آیت «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا» یعنی ”جو لوگ تم میں سے وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں۔“ اللہ تعالیٰ کے فرمان «غير إخراج» تک کو دوسری آیت نے منسوخ کر دیا ہے۔ اس کو آپ نے مصحف میں کیوں لکھوایا، چھوڑ کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے کہا: میرے بھتیجے! میں کسی آیت کو اس کے ٹھکانے سے بدلنے والا نہیں۔ یہ حمید نے کہا یا کچھ ایسا ہی جواب دیا۔
حدثني عبد الله بن ابي الاسود، حدثنا حميد بن الاسود، ويزيد بن زريع، قالا حدثنا حبيب بن الشهيد، عن ابن ابي مليكة، قال قال ابن الزبير قلت لعثمان هذه الاية التي في البقرة {والذين يتوفون منكم ويذرون ازواجا} الى قوله {غير اخراج} قد نسختها الاخرى، فلم تكتبها قال تدعها. يا ابن اخي لا اغير شييا منه من مكانه. قال حميد او نحو هذا
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے بیان کیا، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ اور سعید نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شک کرنے کا ہمیں ابراہیم علیہ السلام سے زیادہ حق ہے، جب انہوں نے عرض کیا تھا کہ اے میرے رب! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ کرے گا، اللہ کی طرف سے ارشاد ہوا، کیا تجھ کو یقین نہیں ہے؟ عرض کی یقین ضرور ہے، لیکن میں نے یہ درخواست اس لیے کی ہے کہ میرے دل کو اور اطمینان حاصل ہو جائے۔“
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، وسعيد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نحن احق بالشك من ابراهيم اذ قال {رب ارني كيف تحيي الموتى قال اولم تومن قال بلى ولكن ليطمين قلبي}
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہوں نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے سنا، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے، ابن جریج نے کہا اور میں نے ابن ابی ملیکہ کے بھائی ابوبکر بن ابی ملیکہ سے بھی سنا، وہ عبید بن عمیر سے روایت کرتے تھے کہ ایک دن عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے دریافت کیا کہ آپ لوگ جانتے ہو یہ آیت کس سلسلے میں نازل ہوئی ہے «أيود أحدكم أن تكون له جنة» ”کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا ایک باغ ہو۔“ سب نے کہا کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ بہت خفا ہو گئے اور کہا، صاف جواب دیں کہ آپ لوگوں کو اس سلسلے میں کچھ معلوم ہے یا نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: امیرالمؤمنین! میرے دل میں ایک بات آتی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیٹے! تمہیں کہو اور اپنے کو حقیر نہ سمجھو۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ اس میں عمل کی مثال بیان کی گئی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا، کیسے عمل کی؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا کہ عمل کی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ ایک مالدار شخص کی مثال ہے جو اللہ کی اطاعت میں نیک عمل کرتا رہتا ہے۔ پھر اللہ شیطان کو اس پر غالب کر دیتا ہے، وہ گناہوں میں مصروف ہو جاتا ہے اور اس کے اگلے نیک اعمال سب غارت ہو جاتے ہیں۔
حدثنا ابراهيم، اخبرنا هشام، عن ابن جريج، سمعت عبد الله بن ابي مليكة، يحدث عن ابن عباس،. قال وسمعت اخاه ابا بكر بن ابي مليكة، يحدث عن عبيد بن عمير، قال قال عمر رضى الله عنه يوما لاصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فيم ترون هذه الاية نزلت {ايود احدكم ان تكون له جنة} قالوا الله اعلم. فغضب عمر فقال قولوا نعلم او لا نعلم. فقال ابن عباس في نفسي منها شىء يا امير المومنين. قال عمر يا ابن اخي قل ولا تحقر نفسك. قال ابن عباس ضربت مثلا لعمل. قال عمر اى عمل قال ابن عباس لعمل. قال عمر لرجل غني يعمل بطاعة الله عز وجل، ثم بعث الله له الشيطان فعمل بالمعاصي حتى اغرق اعماله. {فصرهن} قطعهن
ہم سے سعید ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے شریک بن ابی نمر نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار اور عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ انصاری نے بیان کیا اور انہوں نے کہا ہم نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مسکین وہ نہیں ہے جسے ایک یا دو کھجور، ایک یا دو لقمے در بدر لیے پھریں، بلکہ مسکین وہ ہے جو مانگنے سے بچتا رہے اور اگر تم دلیل چاہو تو ( قرآن سے ) اس آیت کو پڑھ لو «لا يسألون الناس إلحافا» کہ ”وہ لوگوں سے چمٹ کر نہیں مانگتے۔“
حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا محمد بن جعفر، قال حدثني شريك بن ابي نمر، ان عطاء بن يسار، وعبد الرحمن بن ابي عمرة الانصاري، قالا سمعنا ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " ليس المسكين الذي ترده التمرة والتمرتان ولا اللقمة ولا اللقمتان. انما المسكين الذي يتعفف واقرءوا ان شيتم يعني قوله {لا يسالون الناس الحافا}
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، ہم سے اعمش نے بیان کیا، ہم سے مسلم نے بیان کیا، ان سے مسروق نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب سود کے سلسلے میں سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پڑھ کر لوگوں کو سنایا اور اس کے بعد شراب کی تجارت بھی حرام قرار پائی۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا مسلم، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت لما نزلت الايات من اخر سورة البقرة في الربا قراها رسول الله صلى الله عليه وسلم على الناس، ثم حرم التجارة في الخمر
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان اعمش نے، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالضحیٰ سے سنا، وہ مسروق سے روایت کرتے تھے کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جب سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور مسجد میں انہیں پڑھ کر سنایا اس کے بعد شراب کی تجارت حرام ہو گئی۔
حدثنا بشر بن خالد، اخبرنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن سليمان، سمعت ابا الضحى، يحدث عن مسروق، عن عايشة، انها قالت لما انزلت الايات الاواخر من سورة البقرة خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم فتلاهن في المسجد، فحرم التجارة في الخمر
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیتیں نازل ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں پڑھ کر سنایا اور شراب کی تجارت حرام قرار دی گئی۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن منصور، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة، قالت لما انزلت الايات من اخر سورة البقرة قراهن النبي صلى الله عليه وسلم في المسجد، وحرم التجارة في الخمر
اور ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے منصور اور اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب سورۃ البقرہ کی آخری آیات نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں پڑھ کر سنایا پھر شراب کی تجارت حرام کر دی۔
وقال لنا محمد بن يوسف عن سفيان، عن منصور، والاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة، قالت لما انزلت الايات من اخر سورة البقرة قام رسول الله صلى الله عليه وسلم فقراهن علينا، ثم حرم التجارة في الخمر
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عاصم بن سلیمان نے، ان سے شعبی نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ آخری آیت جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ سود کی آیت تھی۔
حدثنا قبيصة بن عقبة، حدثنا سفيان، عن عاصم، عن الشعبي، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال اخر اية نزلت على النبي صلى الله عليه وسلم اية الربا
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن محمد نفیلی نے بیان کیا، کہا ہم سے مسکین بن بکیر حران نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے خالد حذاء نے، ان سے مروان اصفر نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ آیت «وإن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه» ”اور جو کچھ تمہارے نفسوں کے اندر ہے اگر تم ان کو ظاہر کر ویا چھپائے رکھو۔“ آخر تک منسوخ ہو گی تھی۔
حدثنا محمد، حدثنا النفيلي، حدثنا مسكين، عن شعبة، عن خالد الحذاء، عن مروان الاصفر، عن رجل، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم وهو ابن عمر انها قد نسخت {وان تبدوا ما في انفسكم او تخفوه} الاية
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہیں روح بن عبادہ نے خبر دی، انہیں شعبہ نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں مروان اصفر نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے، کہا کہ وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ انہوں نے آیت «إن تبدوا ما في أنفسكم أو تخفوه» کے متعلق بتلایا کہ اس آیت کو اس کے بعد کی آیت ( «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها» ) نے منسوخ کر دیا ہے۔
حدثني اسحاق، اخبرنا روح، اخبرنا شعبة، عن خالد الحذاء، عن مروان الاصفر، عن رجل، من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال احسبه ابن عمر {ان تبدوا ما في انفسكم او تخفوه} قال نسختها الاية التي بعدها
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ابراہیم تستری نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «هو الذي أنزل عليك الكتاب منه آيات محكمات هن أم الكتاب وأخر متشابهات فأما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تأويله» یعنی ”وہ وہی اللہ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری ہے، اس میں محکم آیتیں ہیں اور وہی کتاب کا اصل دارومدار ہیں اور دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔ سو وہ لوگ جن کے دلوں میں چڑ پن ہے۔ وہ اس کے اسی حصے کے پیچھے لگ جاتے ہیں جو متشابہ ہیں، فتنے کی تلاش میں اور اس کی غلط تاویل کی تلاش میں۔“ آخر آیت «أولو الألباب» تک۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہوں تو یاد رکھو کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے ( آیت بالا میں ) ذکر فرمایا ہے۔ اس لیے ان سے بچتے رہو۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا يزيد بن ابراهيم التستري، عن ابن ابي مليكة، عن القاسم بن محمد، عن عايشة رضى الله عنها قالت تلا رسول الله صلى الله عليه وسلم هذه الاية {هو الذي انزل عليك الكتاب منه ايات محكمات هن ام الكتاب واخر متشابهات فاما الذين في قلوبهم زيغ فيتبعون ما تشابه منه ابتغاء الفتنة وابتغاء تاويله} الى قوله {اولو الالباب} قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فاذا رايت الذين يتبعون ما تشابه منه، فاوليك الذين سمى الله، فاحذروهم
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو شیطان اسے پیدا ہوتے ہی چھوتا ہے، جس سے وہ بچہ چلاتا ہے، سوا مریم اور ان کے بیٹے ( عیسیٰ علیہ السلام ) کے۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «وإني أعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم» یہ کلمہ مریم علیہ السلام کی ماں نے کہا تھا، اللہ نے ان کی دعا قبول کی اور مریم اور عیسیٰ علیہما السلام کو شیطان کے ہاتھ لگانے سے بچا لیا۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من مولود يولد الا والشيطان يمسه حين يولد، فيستهل صارخا من مس الشيطان اياه، الا مريم وابنها ". ثم يقول ابو هريرة واقرءوا ان شيتم {واني اعيذها بك وذريتها من الشيطان الرجيم}
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف يمين صبر ليقتطع بها مال امري مسلم، لقي الله وهو عليه غضبان ". فانزل الله تصديق ذلك {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا اوليك لا خلاق لهم في الاخرة} الى اخر الاية. قال فدخل الاشعث بن قيس وقال ما يحدثكم ابو عبد الرحمن قلنا كذا وكذا. قال في انزلت كانت لي بير في ارض ابن عم لي قال النبي صلى الله عليه وسلم " بينتك او يمينه " فقلت اذا يحلف يا رسول الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين صبر يقتطع بها مال امري مسلم وهو فيها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف يمين صبر ليقتطع بها مال امري مسلم، لقي الله وهو عليه غضبان ". فانزل الله تصديق ذلك {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا اوليك لا خلاق لهم في الاخرة} الى اخر الاية. قال فدخل الاشعث بن قيس وقال ما يحدثكم ابو عبد الرحمن قلنا كذا وكذا. قال في انزلت كانت لي بير في ارض ابن عم لي قال النبي صلى الله عليه وسلم " بينتك او يمينه " فقلت اذا يحلف يا رسول الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين صبر يقتطع بها مال امري مسلم وهو فيها فاجر، لقي الله وهو عليه غضبان
ہم سے علی بن ابی ہاشم نے بیان کیا، انہوں نے ہشیم سے سنا، انہوں نے کہا ہم کو عوام بن حوشب نے خبر دی، انہیں ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہ ایک شخص نے بازار میں سامان بیچتے ہوئے قسم کھائی کہ فلاں شخص اس سامان کا اتنا روپیہ دے رہا تھا، حالانکہ کسی نے اتنی قیمت نہیں لگائی تھی، بلکہ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس طرح کسی مسلمان کو وہ دھوکا دے کر اسے ٹھگ لے تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» کہ ”بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچتے ہیں۔“ آخر آیت تک۔
حدثنا علي هو ابن ابي هاشم سمع هشيما، اخبرنا العوام بن حوشب، عن ابراهيم بن عبد الرحمن، عن عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنهما ان رجلا، اقام سلعة في السوق فحلف فيها لقد اعطى بها ما لم يعطه. ليوقع فيها رجلا من المسلمين، فنزلت {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} الى اخر الاية
ہم سے نصر بن علی بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن داؤد نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ دو عورتیں کسی گھر یا حجرہ میں بیٹھ کر موزے بنایا کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک عورت باہر نکلی اس کے ہاتھ میں موزے سینے کا سوا چبھو دیا گیا تھا۔ اس نے دوسری عورت پر دعویٰ کیا۔ یہ مقدمہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر صرف دعویٰ کی وجہ سے لوگوں کا مطالبہ مان لیا جانے لگے تو بہت سوں کا خون اور مال برباد ہو جائے گا۔ جب گواہ نہیں ہے تو دوسری عورت کو جس پر یہ الزام ہے، اللہ سے ڈراؤ اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھو «إن الذين يشترون بعهد الله» چنانچہ جب لوگوں نے اسے اللہ سے ڈرایا تو اس نے اقرار کر لیا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، قسم مدعیٰ علیہ پر ہے۔ اگر وہ جھوٹی قسم کھا کر کسی کا مال ہڑپ کرے گا تو اس کو اس وعید کا مصداق قرار دیا جائے گا جو آیت میں بیان کی گئی ہے۔
حدثنا نصر بن علي بن نصر، حدثنا عبد الله بن داود، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، ان امراتين، كانتا تخرزان في بيت او في الحجرة فخرجت احداهما وقد انفذ باشفى في كفها، فادعت على الاخرى، فرفع الى ابن عباس، فقال ابن عباس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو يعطى الناس بدعواهم لذهب دماء قوم واموالهم ". ذكروها بالله واقرءوا عليها {ان الذين يشترون بعهد الله}. فذكروها فاعترفت، فقال ابن عباس قال النبي صلى الله عليه وسلم " اليمين على المدعى عليه
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے، ان سے معمر نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے امام زہری نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے منہ در منہ بیان کیا، انہوں نے بتلایا کہ جس مدت میں میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان صلح ( صلح حدیبیہ کے معاہدہ کے مطابق ) تھی، میں ( سفر تجارت پر شام میں ) گیا ہوا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ہرقل کے پاس پہنچا۔ انہوں نے بیان کیا کہ دحیہ الکلبی رضی اللہ عنہ وہ خط لائے تھے اور عظیم بصریٰ کے حوالے کر دیا تھا اور ہرقل کے پاس اسی سے پہنچا تھا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہرقل نے پوچھا کیا ہمارے حدود سلطنت میں اس شخص کی قوم کے بھی کچھ لوگ ہیں جو نبی ہونے کا دعویدار ہے؟ درباریوں نے بتایا کہ جی ہاں موجود ہیں۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر مجھے قریش کے چند دوسرے آدمیوں کے ساتھ بلایا گیا۔ ہم ہرقل کے دربار میں داخل ہوئے اور اس کے سامنے ہمیں بٹھا دیا گیا۔ اس نے پوچھا، تم لوگوں میں اس شخص سے زیادہ قریبی کون ہے جو نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے کہا کہ میں زیادہ قریب ہوں۔ اب درباریوں نے مجھے بادشاہ کے بالکل قریب بٹھا دیا اور میرے دوسرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا۔ اس کے بعد ترجمان کو بلایا اور اس سے ہرقل نے کہا کہ انہیں بتاؤ کہ میں اس شخص کے بارے میں تم سے کچھ سوالات کروں گا، جو نبی ہونے کا دعویدار ہے، اگر یہ ( یعنی ابوسفیان رضی اللہ عنہ ) جھوٹ بولے تو تم اس کے جھوٹ کو ظاہر کر دینا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا بیان تھا کہ اللہ کی قسم! اگر مجھے اس کا خوف نہ ہوتا کہ میرے ساتھی کہیں میرے متعلق جھوٹ بولنا نقل نہ کر دیں تو میں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ) ضرور جھوٹ بولتا۔ پھر ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ جس نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ اپنے نسب میں کیسے ہیں؟ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ان کا نسب ہم میں بہت ہی عزت والا ہے۔ اس نے پوچھا کیا ان کے باپ دادا میں کوئی بادشاہ بھی ہوا ہے؟ بیان کیا کہ میں نے کہا، نہیں۔ اس نے پوچھا، تم نے دعویٰ نبوت سے پہلے کبھی ان پر جھوٹ کی تہمت لگائی تھی؟ میں نے کہا نہیں۔ پوچھا ان کی پیروی معزز لوگ زیادہ کرتے ہیں یا کمزور؟ میں نے کہا کہ قوم کے کمزور لوگ زیادہ ہیں۔ اس نے پوچھا، ان کے ماننے والوں میں زیادتی ہوتی رہتی ہے یا کمی؟ میں نے کہا کہ نہیں بلکہ زیادتی ہوتی رہتی ہے۔ پوچھا کبھی ایسا بھی کوئی واقعہ پیش آیا ہے کہ کوئی شخص ان کے دین کو قبول کرنے کے بعد پھر ان سے بدگمان ہو کر ان سے پھر گیا ہو؟ میں نے کہا ایسا بھی کبھی نہیں ہوا۔ اس نے پوچھا، تم نے کبھی ان سے جنگ بھی کی ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ اس نے پوچھا، تمہاری ان کے ساتھ جنگ کا کیا نتیجہ رہا؟ میں نے کہا کہ ہماری جنگ کی مثال ایک ڈول کی ہے کہ کبھی ان کے ہاتھ میں اور کبھی ہمارے ہاتھ میں۔ اس نے پوچھا، کبھی انہوں نے تمہارے ساتھ کوئی دھوکا بھی کیا؟ میں نے کہا کہ اب تک تو نہیں کیا، لیکن آج کل بھی ہمارا ان سے ایک معاہدہ چل رہا ہے، نہیں کہا جا سکتا کہ اس میں ان کا طرز عمل کیا رہے گا۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! اس جملہ کے سوا اور کوئی بات میں اس پوری گفتگو میں اپنی طرف سے نہیں ملا سکا، پھر اس نے پوچھا اس سے پہلے بھی یہ دعویٰ تمہارے یہاں کسی نے کیا تھا؟ میں نے کہا کہ نہیں۔ اس کے بعد ہرقل نے اپنے ترجمان سے کہا، اس سے کہو کہ میں نے تم سے نبی کے نسب کے بارے میں پوچھا تو تم نے بتایا کہ وہ تم لوگوں میں باعزت اور اونچے نسب کے سمجھے جاتے ہیں، انبیاء کا بھی یہی حال ہے۔ ان کی بعثت ہمیشہ قوم کے صاحب حسب و نسب خاندان میں ہوتی ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا کوئی ان کے باپ دادوں میں بادشاہ گزرا ہے، تو تم نے اس کا انکار کیا میں اس سے اس فیصلہ پر پہنچا کہ اگر ان کے باپ دادوں میں کوئی بادشاہ گزرا ہوتا تو ممکن تھا کہ وہ اپنی خاندانی سلطنت کو اس طرح واپس لینا چاہتے ہوں اور میں نے تم سے ان کی اتباع کرنے والوں کے متعلق پوچھا کہ آیا وہ قوم کے کمزور لوگ ہیں یا اشراف، تو تم نے بتایا کہ کمزور لوگ ان کی پیروی کرنے والوں میں ( زیادہ ) ہیں۔ یہی طبقہ ہمیشہ سے انبیاء کی اتباع کرتا رہا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم نے دعویٰ نبوت سے پہلے ان پر جھوٹ کا کبھی شبہ کیا تھا، تو تم نے اس کا بھی انکار کیا۔ میں نے اس سے یہ سمجھا کہ جس شخص نے لوگوں کے معاملہ میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو، وہ اللہ کے معاملے میں کس طرح جھوٹ بول دے گا اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ ان کے دین کو قبول کرنے کے بعد پھر ان سے بدگمان ہو کر کوئی شخص ان کے دین سے کبھی پھرا بھی ہے، تو تم نے اس کا بھی انکار کیا۔ ایمان کا یہی اثر ہوتا ہے جب وہ دل کی گہرائیوں میں اتر جائے۔ میں نے تم سے پوچھا تھا کہ ان کے ماننے والوں کی تعداد بڑھتی رہتی ہے یا کم ہوتی ہے، تو تم نے بتایا کہ ان میں اضافہ ہی ہوتا ہے، ایمان کا یہی معاملہ ہے، یہاں تک کہ وہ کمال کو پہنچ جائے۔ میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تم نے کبھی ان سے جنگ بھی کی ہے؟ تو تم نے بتایا کہ جنگ کی ہے اور تمہارے درمیان لڑائی کا نتیجہ ایسا رہا ہے کہ کبھی تمہارے حق میں اور کبھی ان کے حق میں۔ انبیاء کا بھی یہی معاملہ ہے، انہیں آزمائش میں ڈالا جاتا ہے اور آخر انجام انہیں کے حق میں ہوتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ اس نے تمہارے ساتھ کبھی خلاف عہد بھی معاملہ کیا ہے تو تم نے اس سے بھی انکار کیا۔ انبیاء کبھی عہد کے خلاف نہیں کرتے اور میں نے تم سے پوچھا تھا کہ کیا تمہارے یہاں اس طرح کا دعویٰ پہلے بھی کسی نے کیا تھا تو تم نے کہا کہ پہلے کسی نے اس طرح کا دعویٰ نہیں کیا، میں اس سے اس فیصلے پر پہنچا کہ اگر کسی نے تمہارے یہاں اس سے پہلے اس طرح کا دعویٰ کیا ہوتا تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ یہ بھی اسی کی نقل کر رہے ہیں۔ بیان کیا کہ پھر ہرقل نے پوچھا وہ تمہیں کن چیزوں کا حکم دیتے ہیں؟ میں نے کہا نماز، زکوٰۃ، صلہ رحمی اور پاکدامنی کا۔ آخر اس نے کہا کہ جو کچھ تم نے بتایا ہے اگر وہ صحیح ہے تو یقیناً وہ نبی ہیں اس کا علم تو مجھے بھی تھا کہ ان کی نبوت کا زمانہ قریب ہے لیکن یہ خیال نہ تھا کہ وہ تمہاری قوم میں ہوں گے۔ اگر مجھے ان تک پہنچ سکنے کا یقین ہوتا تو میں ضرور ان سے ملاقات کرتا اور اگر میں ان کی خدمت میں ہوتا تو ان کے قدموں کو دھوتا اور ان کی حکومت میرے ان دو قدموں تک پہنچ کر رہے گی۔ ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط منگوایا اور اسے پڑھا، اس میں یہ لکھا ہوا تھا، اللہ، رحمن، رحیم کے نام سے شروع کرتا ہوں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے عظیم روم ہرقل کی طرف، سلامتی ہو اس پر جو ہدایت کی اتباع کرے۔ امابعد! میں تمہیں اسلام کی طرف بلاتا ہوں، اسلام لاؤ تو سلامتی پاؤ گے اور اسلام لاؤ تو اللہ تمہیں دوہرا اجر دے گا۔ لیکن تم نے اگر منہ موڑا تو تمہاری رعایا ( کے کفر کا بار بھی سب ) تم پر ہو گا اور اے کتاب والو! ایک ایسی بات کی طرف آ جاؤ جو ہم میں اور تم میں برابر ہے، وہ یہ کہ ہم سوائے اللہ کے اور کسی کی عبادت نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان «اشهدوا بأنا مسلمون» تک جب ہرقل خط پڑھ چکا تو دربار میں بڑا شور برپا ہو گیا اور پھر ہمیں دربار سے باہر کر دیا گیا۔ باہر آ کر میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابن ابی کبشہ کا معاملہ تو اب اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ملک بنی الاصفر ( ہرقل ) بھی ان سے ڈرنے لگا۔ اس واقعہ کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غالب آ کر رہیں گے اور آخر اللہ تعالیٰ نے اسلام کی روشنی میرے دل میں بھی ڈال ہی دی۔ زہری نے کہا کہ پھر ہرقل نے روم کے سرداروں کو بلا کر ایک خاص کمرے میں جمع کیا، پھر ان سے کہا اے رومیو! کیا تم ہمیشہ کے لیے اپنی فلاح اور بھلائی چاہتے ہو اور یہ کہ تمہارا ملک تمہارے ہی ہاتھ میں رہے ( اگر تم ایسا چاہتے ہو تو اسلام قبول کر لو ) راوی نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی وہ سب وحشی جانوروں کی طرح دروازے کی طرف بھاگے، دیکھا تو دروازہ بند تھا، پھر ہرقل نے سب کو اپنے پاس بلایا کہ انہیں میرے پاس لاؤ اور ان سے کہا کہ میں نے تو تمہیں آزمایا تھا کہ تم اپنے دین میں کتنے پختہ ہو، اب میں نے اس چیز کا مشاہدہ کر لیا جو مجھے پسند تھی۔ چنانچہ سب درباریوں نے اسے سجدہ کیا اور اس سے راضی ہو گئے۔
حدثني ابراهيم بن موسى، عن هشام، عن معمر،. وحدثني عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، قال حدثني ابن عباس، قال حدثني ابو سفيان، من فيه الى في قال انطلقت في المدة التي كانت بيني وبين رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فبينا انا بالشام اذ جيء بكتاب من النبي صلى الله عليه وسلم الى هرقل قال وكان دحية الكلبي جاء به فدفعه الى عظيم بصرى، فدفعه عظيم بصرى الى هرقل قال فقال هرقل هل ها هنا احد من قوم هذا الرجل الذي يزعم انه نبي فقالوا نعم. قال فدعيت في نفر من قريش فدخلنا على هرقل، فاجلسنا بين يديه فقال ايكم اقرب نسبا من هذا الرجل الذي يزعم انه نبي فقال ابو سفيان فقلت انا. فاجلسوني بين يديه، واجلسوا اصحابي خلفي، ثم دعا بترجمانه فقال قل لهم اني سايل هذا عن هذا الرجل الذي يزعم انه نبي، فان كذبني فكذبوه. قال ابو سفيان وايم الله، لولا ان يوثروا على الكذب لكذبت. ثم قال لترجمانه سله كيف حسبه فيكم قال قلت هو فينا ذو حسب. قال فهل كان من ابايه ملك قال قلت لا. قال فهل كنتم تتهمونه بالكذب قبل ان يقول ما قال قلت لا. قال ايتبعه اشراف الناس ام ضعفاوهم قال قلت بل ضعفاوهم. قال يزيدون او ينقصون قال قلت لا بل يزيدون. قال هل يرتد احد منهم عن دينه، بعد ان يدخل فيه، سخطة له قال قلت لا. قال فهل قاتلتموه قال قلت نعم. قال فكيف كان قتالكم اياه قال قلت تكون الحرب بيننا وبينه سجالا، يصيب منا ونصيب منه. قال فهل يغدر قال قلت لا ونحن منه في هذه المدة لا ندري ما هو صانع فيها. قال والله ما امكنني من كلمة ادخل فيها شييا غير هذه. قال فهل قال هذا القول احد قبله قلت لا. ثم قال لترجمانه قل له اني سالتك عن حسبه فيكم، فزعمت انه فيكم ذو حسب، وكذلك الرسل تبعث في احساب قومها، وسالتك هل كان في ابايه ملك فزعمت ان لا فقلت لو كان من ابايه ملك قلت رجل يطلب ملك ابايه، وسالتك عن اتباعه اضعفاوهم ام اشرافهم فقلت بل ضعفاوهم، وهم اتباع الرسل، وسالتك هل كنتم تتهمونه بالكذب قبل ان يقول ما قال فزعمت ان لا، فعرفت انه لم يكن ليدع الكذب على الناس ثم يذهب فيكذب على الله، وسالتك هل يرتد احد منهم عن دينه بعد ان يدخل فيه سخطة له فزعمت ان لا، وكذلك الايمان اذا خالط بشاشة القلوب، وسالتك هل يزيدون ام ينقصون فزعمت انهم يزيدون، وكذلك الايمان حتى يتم، وسالتك هل قاتلتموه فزعمت انكم قاتلتموه فتكون الحرب بينكم وبينه سجالا، ينال منكم وتنالون منه، وكذلك الرسل تبتلى، ثم تكون لهم العاقبة، وسالتك هل يغدر فزعمت انه لا يغدر، وكذلك الرسل لا تغدر، وسالتك هل قال احد هذا القول قبله فزعمت ان لا، فقلت لو كان قال هذا القول احد قبله قلت رجل ايتم بقول قيل قبله. قال ثم قال بم يامركم قال قلت يامرنا بالصلاة والزكاة والصلة والعفاف. قال ان يك ما تقول فيه حقا فانه نبي، وقد كنت اعلم انه خارج، ولم اك اظنه منكم، ولو اني اعلم اني اخلص اليه لاحببت لقاءه، ولو كنت عنده لغسلت عن قدميه، وليبلغن ملكه ما تحت قدمى. قال ثم دعا بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقراه، فاذا فيه " بسم الله الرحمن الرحيم من محمد رسول الله، الى هرقل عظيم الروم، سلام على من اتبع الهدى، اما بعد، فاني ادعوك بدعاية الاسلام، اسلم تسلم، واسلم يوتك الله اجرك مرتين، فان توليت فان عليك اثم الاريسيين، و{يا اهل الكتاب تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم ان لا نعبد الا الله} الى قوله {اشهدوا بانا مسلمون}". فلما فرغ من قراءة الكتاب ارتفعت الاصوات عنده، وكثر اللغط، وامر بنا فاخرجنا قال فقلت لاصحابي حين خرجنا لقد امر امر ابن ابي كبشة، انه ليخافه ملك بني الاصفر فما زلت موقنا بامر رسول الله صلى الله عليه وسلم انه سيظهر حتى ادخل الله على الاسلام. قال الزهري فدعا هرقل عظماء الروم فجمعهم في دار له فقال يا معشر الروم، هل لكم في الفلاح والرشد اخر الابد، وان يثبت لكم ملككم قال فحاصوا حيصة حمر الوحش الى الابواب، فوجدوها قد غلقت، فقال على بهم. فدعا بهم فقال اني انما اختبرت شدتكم على دينكم، فقد رايت منكم الذي احببت. فسجدوا له ورضوا عنه