Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مدینہ میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس انصار میں سب سے زیادہ کھجوروں کے درخت تھے اور بیرحاء کا باغ اپنی تمام جائیداد میں انہیں سب سے زیادہ عزیز تھا۔ یہ باغ مسجد نبوی کے سامنے ہی تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے جاتے اور اس کے میٹھے اور عمدہ پانی کو پیتے، پھر جب آیت «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون» ”جب تک تم اپنی عزیز ترین چیزوں کو نہ خرچ کرو گے نیکی کے مرتبہ کو نہ پہنچ سکو گے۔“ نازل ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب تک تم اپنی عزیز چیزوں کو خرچ نہ کرو گے نیکی کے مرتبہ کو نہ پہنچ سکو گے اور میرا سب سے زیادہ عزیز مال بیرحاء ہے اور یہ اللہ کی راہ میں صدقہ ہے۔ اللہ ہی سے میں اس کے ثواب و اجر کی توقع رکھتا ہوں، پس یا رسول اللہ! جہاں آپ مناسب سمجھیں اسے استعمال کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خوب یہ فانی ہی دولت تھی، یہ فانی ہی دولت تھی۔ جو کچھ تم نے کہا ہے وہ میں نے سن لیا اور میرا خیال ہے کہ تم اپنے عزیز و اقرباء کو اسے دے دو۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ایسا ہی کروں گا، یا رسول اللہ! چنانچہ انہوں نے وہ باغ اپنے عزیزوں اور اپنے ناطہٰ والوں میں بانٹ دیا۔ عبداللہ بن یوسف اور روح بن عبادہ نے «ذلك مال رايح» ( «ربح» سے ) بیان کیا ہے۔ یعنی یہ مال بہت نفع دینے والا ہے۔ مجھ سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے امام مالک کے سامنے «مال رايح» ( «رواح» سے ) پڑھا تھا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، انه سمع انس بن مالك رضى الله عنه يقول كان ابو طلحة اكثر انصاري بالمدينة نخلا، وكان احب امواله اليه بيرحاء، وكانت مستقبلة المسجد، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدخلها ويشرب من ماء فيها طيب، فلما انزلت {لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون} قام ابو طلحة فقال يا رسول الله، ان الله يقول {لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون} وان احب اموالي الى بيرحاء وانها صدقة لله، ارجو برها وذخرها عند الله، فضعها يا رسول الله حيث اراك الله. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بخ، ذلك مال رايح، ذلك مال رايح، وقد سمعت ما قلت، واني ارى ان تجعلها في الاقربين ". قال ابو طلحة افعل يا رسول الله. فقسمها ابو طلحة في اقاربه وبني عمه. قال عبد الله بن يوسف وروح بن عبادة " ذلك مال رابح ". حدثني يحيى بن يحيى قال قرات على مالك " مال رايح
ہم سے محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ابوطلحہ نے وہ باغ حسان اور ابی رضی اللہ عنہما کو دے دیا تھا۔ میں ان دونوں سے ان کا زیادہ قریبی تھا لیکن مجھے نہیں دیا۔
حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، قال حدثني ابي، عن ثمامة، عن انس رضى الله عنه قال فجعلها لحسان وابي، وانا اقرب اليه، ولم يجعل لي منها شييا
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ کچھ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے قبیلہ کے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے، جنہوں نے زنا کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا اگر تم میں سے کوئی زنا کرے تو تم اس کو کیا سزا دیتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم اس کا منہ کالا کر کے اسے مارتے پیٹتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا توریت میں رجم کا حکم نہیں ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم نے توریت میں رجم کا حکم نہیں دیکھا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بولے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو، توریت لاؤ اور اسے پڑھو، اگر تم سچے ہو۔ ( جب توریت لائی گئی ) تو ان کے ایک بہت بڑے مدرس نے جو انہیں توریت کا درس دیا کرتا تھا، آیت رجم پر اپنی ہتھیلی رکھ لی اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی عبارت پڑھنے لگا اور آیت رجم نہیں پڑھتا تھا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے اس کے ہاتھ کو آیت رجم سے ہٹا دیا اور اس سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ جب یہودیوں نے دیکھا تو کہنے لگے کہ یہ آیت رجم ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ان دونوں کو مسجد نبوی کے قریب ہی جہاں جنازے لا کر رکھے جاتے تھے، رجم کر دیا گیا۔ میں نے دیکھا کہ اس عورت کا ساتھی عورت کو پتھر سے بچانے کے لیے اس پر جھک جھک پڑتا تھا۔
حدثني ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابو ضمرة، حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان اليهود، جاءوا الى النبي صلى الله عليه وسلم برجل منهم وامراة قد زنيا، فقال لهم " كيف تفعلون بمن زنى منكم ". قالوا نحممهما ونضربهما. فقال " لا تجدون في التوراة الرجم ". فقالوا لا نجد فيها شييا. فقال لهم عبد الله بن سلام كذبتم {فاتوا بالتوراة فاتلوها ان كنتم صادقين} فوضع مدراسها الذي يدرسها منهم كفه على اية الرجم، فطفق يقرا ما دون يده وما وراءها، ولا يقرا اية الرجم، فنزع يده عن اية الرجم فقال ما هذه فلما راوا ذلك قالوا هي اية الرجم. فامر بهما فرجما قريبا من حيث موضع الجنايز عند المسجد، فرايت صاحبها يجنا عليها يقيها الحجارة
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ان سے سفیان نے، ان سے میسرہ نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت «كنتم خير أمة أخرجت للناس» ”تم لوگ لوگوں کے لیے سب لوگوں سے بہتر ہو“ اور کہا ان کو گردنوں میں زنجیریں ڈال کر ( لڑائی میں گرفتار کر کے ) لاتے ہو پھر وہ اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں۔
حدثنا محمد بن يوسف، عن سفيان، عن ميسرة، عن ابي حازم، عن ابي هريرة رضى الله عنه {كنتم خير امة اخرجت للناس} قال خير الناس للناس، تاتون بهم في السلاسل في اعناقهم حتى يدخلوا في الاسلام
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا عمرو بن دینار نے کہا، انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا عمرو بن دینار نے کہا، انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال قال عمرو سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما يقول فينا نزلت {اذ همت طايفتان منكم ان تفشلا والله وليهما} قال نحن الطايفتان بنو حارثة وبنو سلمة، وما نحب وقال سفيان مرة وما يسرني انها لم تنزل لقول الله {والله وليهما}
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے سالم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھا کر یہ بددعا کی۔ ”اے اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں کافر پر لعنت کر۔ یہ بددعا آپ نے «سمع الله لمن حمده» اور «ربنا ولك الحمد» کے بعد کی تھی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «ليس لك من الأمر شىء» ”آپ کو اس میں کوئی دخل نہیں۔“ آخر آیت «فإنهم ظالمون» تک۔ اس روایت کو اسحاق بن راشد نے زہری سے نقل کیا ہے۔
حدثنا حبان بن موسى، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، قال حدثني سالم، عن ابيه، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا رفع راسه من الركوع في الركعة الاخرة من الفجر يقول " اللهم العن فلانا وفلانا وفلانا ". بعد ما يقول " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ". فانزل الله {ليس لك من الامر شىء} الى قوله {فانهم ظالمون}. رواه اسحاق بن راشد عن الزهري
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بددعا کرنا چاہتے یا کسی کے لیے دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد کرتے «سمع الله لمن حمده، اللهم ربنا لك الحمد» کے بعد۔ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا بھی کی ”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! مضر والوں کو سختی کے ساتھ پکڑ لے اور ان میں ایسی قحط سالی لا، جیسی یوسف علیہ السلام کے زمانے میں ہوئی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے یہ دعا کرتے اور آپ نماز فجر کی بعض رکعت میں یہ دعا کرتے۔ اے اللہ، فلاں اور فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔ عرب کے چند خاص قبائل کے حق میں آپ ( یہ بددعا کرتے تھے ) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی «ليس لك من الأمر شىء» کہ ”آپ کو اس امر میں کوئی دخل نہیں۔“
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن سعد، حدثنا ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا اراد ان يدعو على احد او يدعو لاحد قنت بعد الركوع، فربما قال اذا قال " سمع الله لمن حمده، اللهم ربنا لك الحمد، اللهم انج الوليد بن الوليد، وسلمة بن هشام، وعياش بن ابي ربيعة، اللهم اشدد وطاتك على مضر واجعلها سنين كسني يوسف ". يجهر بذلك وكان يقول في بعض صلاته في صلاة الفجر " اللهم العن فلانا وفلانا ". لاحياء من العرب، حتى انزل الله {ليس لك من الامر شىء} الاية
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا۔ ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تیر اندازوں کے ) پیدل دستے پر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ کو افسر مقرر کیا تھا، پھر بہت سے مسلمانوں نے پیٹھ پھیر لی، آیت «فذاك إذ يدعوهم الرسول في أخراهم» ”اور رسول تم کو پکار رہے تھے تمہارے پیچھے سے۔“ میں اسی کی طرف اشارہ ہے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ صحابیوں کے سوا اور کوئی موجود نہ تھا۔
حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، قال سمعت البراء بن عازب رضى الله عنهما قال جعل النبي صلى الله عليه وسلم على الرجالة يوم احد عبد الله بن جبير، واقبلوا منهزمين، فذاك اذ يدعوهم الرسول في اخراهم، ولم يبق مع النبي صلى الله عليه وسلم غير اثنى عشر رجلا
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن ابو یعقوب بغدادی نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن محمد نے بیان کیا، ان سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا، احد کی لڑائی میں جب ہم صف باندھے کھڑے تھے تو ہم پر غنودگی طاری ہو گئی تھی۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کیفیت یہ ہو گئی تھی کہ نیند سے میری تلوار ہاتھ سے باربار گرتی اور میں اسے اٹھاتا۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم بن عبد الرحمن ابو يعقوب، حدثنا حسين بن محمد، حدثنا شيبان، عن قتادة، حدثنا انس، ان ابا طلحة، قال غشينا النعاس ونحن في مصافنا يوم احد قال فجعل سيفي يسقط من يدي واخذه، ويسقط واخذه
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ کہا کہ ہم سے ابوبکر شعبہ بن عیاش نے بیان کیا، ان سے ابوحصین عثمان بن عاصم نے اور ان سے ابوالضحیٰ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ کلمہ «حسبنا الله ونعم الوكيل» ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا، اس وقت جب ان کو آگ میں ڈالا گیا تھا اور یہی کلمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت کہا تھا جب لوگوں نے مسلمانوں کو ڈرانے کے لیے کہا تھا کہ لوگوں ( یعنی قریش ) نے تمہارے خلاف بڑا سامان جنگ اکٹھا کر رکھا ہے، ان سے ڈرو لیکن اس بات نے ان مسلمانوں کا ( جوش ) ایمان اور بڑھا دیا اور یہ مسلمان بولے کہ ہمارے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کام بنانے والا ہے۔
حدثنا احمد بن يونس اراه قال حدثنا ابو بكر، عن ابي حصين، عن ابي الضحى، عن ابن عباس، {حسبنا الله ونعم الوكيل} قالها ابراهيم عليه السلام حين القي في النار، وقالها محمد صلى الله عليه وسلم حين قالوا {ان الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم ايمانا وقالوا حسبنا الله ونعم الوكيل}
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابوحصین نے، ان سے ابوالضحیٰ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو آخری کلمہ جو آپ کی زبان مبارک سے نکلا «حسبي الله ونعم الوكيل.» تھا یعنی میری مدد کے لیے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کام بنانے والا ہے۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا اسراييل، عن ابي حصين، عن ابي الضحى، عن ابن عباس، قال كان اخر قول ابراهيم حين القي في النار حسبي الله ونعم الوكيل
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے ابوالنضر ہاشم بن قاسم سے سنا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا اور پھر اس نے اس کی زکٰوۃ نہیں ادا کی تو ( آخرت میں ) اس کا مال نہایت زہریلے سانپ بن کر جس کی آنکھوں کے اوپر دو نقطے ہوں گے۔ اس کی گردن میں طوق کی طرح پہنا دیا جائے گا۔ پھر وہ سانپ اس کے دونوں جبڑوں کو پکڑ کر کہے گا کہ میں ہی تیرا مال ہوں، میں ہی تیرا خزانہ ہوں، پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله» کی ”اور جو لوگ کہ اس مال میں بخل کرتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے دے رکھا ہے، وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ مال ان کے حق میں بہتر ہے۔“ آخر تک۔
حدثني عبد الله بن منير، سمع ابا النضر، حدثنا عبد الرحمن هو ابن عبد الله بن دينار عن ابيه، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من اتاه الله مالا فلم يود زكاته، مثل له ماله شجاعا اقرع، له زبيبتان يطوقه يوم القيامة، ياخذ بلهزمتيه يعني بشدقيه يقول انا مالك انا كنزك ". ثم تلا هذه الاية {ولا يحسبن الذين يبخلون بما اتاهم الله من فضله} الى اخر الاية
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور انہیں اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے کی پشت پر فدک کی بنی ہوئی ایک موٹی چادر رکھنے کے بعد سوار ہوئے اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو اپنے پیچھے بٹھایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارث بن خزرج میں سعد بن عبادہ رضی اللہ کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لے جا رہے تھے۔ یہ جنگ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ راستہ میں ایک مجلس سے آپ گزرے جس میں عبداللہ بن ابی ابن سلول ( منافق ) بھی موجود تھا، یہ عبداللہ بن ابی کے ظاہری اسلام لانے سے بھی پہلے کا قصہ ہے۔ مجلس میں مسلمان اور مشرکین یعنی بت پرست اور یہودی سب ہی طرح کے لوگ تھے، انہیں میں عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ سواری کی ( ٹاپوں سے گرد اڑی اور ) مجلس والوں پر پڑی تو عبداللہ بن ابی نے چادر سے اپنی ناک بند کر لی اور بطور تحقیر کہنے لگا کہ ہم پر گرد نہ اڑاؤ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قریب پہنچ گئے اور انہیں سلام کیا، پھر آپ سواری سے اتر گئے اور مجلس والوں کو اللہ کی طرف بلایا اور قرآن کی آیتیں پڑھ کر سنائیں۔ اس پر عبداللہ بن ابی ابن سلول کہنے لگا، جو کلام آپ نے پڑھ کر سنایا ہے، اس سے عمدہ کوئی کلام نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ یہ کلام بہت اچھا، پھر بھی ہماری مجلسوں میں آ آ کر آپ ہمیں تکلیف نہ دیا کریں، اپنے گھر بیٹھیں، اگر کوئی آپ کے پاس جائے تو اسے اپنی باتیں سنایا کریں۔ ( یہ سن کر ) عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا، ضرور یا رسول اللہ! آپ ہماری مجلسوں میں تشریف لایا کریں، ہم اسی کو پسند کرتے ہیں۔ اس کے بعد مسلمان، مشرکین اور یہودی آپس میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے اور قریب تھا کہ فساد اور لڑائی تک کی نوبت پہنچ جاتی لیکن آپ نے انہیں خاموش اور ٹھنڈا کر دیا اور آخر سب لوگ خاموش ہو گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہو کر وہاں سے چلے آئے اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کے یہاں تشریف لے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے بھی اس کا ذکر کیا کہ سعد! تم نے نہیں سنا، ابوحباب، آپ کی مراد عبداللہ بن ابی ابن سلول سے تھی، کیا کہہ رہا تھا؟ اس نے اس طرح کی باتیں کی ہیں۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اسے معاف فرما دیں اور اس سے درگزر کر دیں۔ اس ذات کی قسم! جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے اللہ نے آپ کے ذریعہ وہ حق بھیجا ہے جو اس نے آپ پر نازل کیا ہے۔ اس شہر ( مدینہ ) کے لوگ ( پہلے ) اس پر متفق ہو چکے تھے کہ اس ( عبداللہ بن ابی ) کو تاج پہنا دیں اور ( شاہی ) عمامہ اس کے سر پر باندھ دیں لیکن جب اللہ تعالیٰ نے اس حق کے ذریعہ جو آپ کو اس نے عطا کیا ہے، اس باطل کو روک دیا تو اب وہ چڑ گیا ہے اور اس وجہ سے وہ معاملہ اس نے آپ کے ساتھ کیا جو آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے۔ آپ نے اسے معاف کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم مشرکین اور اہل کتاب سے درگزر کیا کرتے تھے اور ان کی اذیتوں پر صبر کیا کرتے تھے۔ اسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ”اور یقیناً تم بہت سی دل آزاری کی باتیں ان سے بھی سنو گے، جنہیں تم سے پہلے کتاب مل چکی ہے اور ان سے بھی جو مشرک ہیں اور اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو یہ بڑے عزم و حوصلہ کی بات ہے“ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”بہت سے اہل کتاب تو دل ہی سے چاہتے ہیں کہ تمہیں ایمان ( لے آنے ) کے بعد پھر سے کافر بنا لیں، حسد کی راہ سے جو ان کے دلوں میں ہے۔“ آخر آیت تک۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کفار کو معاف کر دیا کرتے تھے۔ آخر اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے ساتھ جنگ کی اجازت دے دی اور جب آپ نے غزوہ بدر کیا تو اللہ تعالیٰ کی منشا کے مطابق قریش کے کافر سردار اس میں مارے گئے تو عبداللہ بن ابی ابن سلول اور اس کے دوسرے مشرک اور بت پرست ساتھیوں نے آپس میں مشورہ کر کے ان سب نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کر لی اور ظاہراً اسلام میں داخل ہو گئے۔
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چند منافقین ایسے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے تشریف لے جاتے تو یہ مدینہ میں پیچھے رہ جاتے اور پیچھے رہ جانے پر بہت خوش ہوا کرتے تھے لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے تو عذر بیان کرتے اور قسمیں کھا لیتے بلکہ ان کو ایسے کام پر تعریف ہونا پسند آتا جس کو انہوں نے نہ کیا ہوتا اور بعد میں چکنی چیڑی باتوں سے اپنی بات بنانا چاہتے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی پر یہ آیت «لا يحسبن الذين يفرحون» آخر آیت تک اتاری۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، اخبرنا محمد بن جعفر، قال حدثني زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه ان رجالا من المنافقين على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم كان اذا خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الغزو تخلفوا عنه، وفرحوا بمقعدهم خلاف رسول الله صلى الله عليه وسلم فاذا قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتذروا اليه وحلفوا، واحبوا ان يحمدوا بما لم يفعلوا، فنزلت {لا يحسبن الذين يفرحون} الاية
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے اور انہیں علقمہ بن وقاص نے خبر دی کہ مروان بن حکم نے ( جب وہ مدینہ کے امیر تھے ) اپنے دربان سے کہا کہ رافع! ابن عباس رضی اللہ عنہما کے یہاں جاؤ اور ان سے پوچھو کہ آیت «لا يحسبن الذين يفرحون» کی رو سے تو ہم سب کو عذاب ہونا چاہیئے کیونکہ ہر ایک آدمی ان نعمتوں پر جو اس کو ملی ہیں، خوش ہے اور یہ چاہتا ہے کہ جو کام اس نے کیا نہیں اس پر بھی اس کی تعریف ہو۔ ابورافع نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جا کر پوچھا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، تم مسلمانوں سے اس آیت کا کیا تعلق! یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو بلایا تھا اور ان سے ایک دین کی بات پوچھی تھی۔ ( جو ان کی آسمانی کتاب میں موجود تھی ) انہوں نے اصل بات کو تو چھپایا اور دوسری غلط بات بیان کر دی، پھر بھی اس بات کے خواہشمند رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال کے جواب میں جو کچھ انہوں نے بتایا ہے اس پر ان کی تعریف کی جائے اور ادھر اصل حقیقت کو چھپا کر بھی بڑے خوش تھے۔ پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس آیت کی تلاوت «وإذ أخذ الله ميثاق الذين أوتوا الكتاب» کی ”اور وہ وقت یاد کرو جب اللہ نے اہل کتاب سے عہد لیا تھا کہ کتاب کو پوری ظاہر کر دینا لوگوں پر، آیت «يفرحون بما أتوا ويحبون أن يحمدوا بما لم يفعلوا» ”جو لوگ اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام نہیں کئے ہیں، ان پر بھی ان کی تعریف کی جائے۔“ تک۔ ہشام بن یوسف کے ساتھ اس حدیث کو عبدالرزاق نے بھی ابن جریج سے روایت کیا۔ ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو حجاج بن محمد نے خبر دی، انہوں نے ابن جریج سے کہا مجھ کو ابن ابی ملیکہ نے خبر دی، ان کو حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہ مروان نے اپنے دربان رافع سے کہا، پھر یہی حدیث بیان کی۔
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، ان ابن جريج، اخبرهم عن ابن ابي مليكة، ان علقمة بن وقاص، اخبره ان مروان قال لبوابه اذهب يا رافع الى ابن عباس فقل لين كان كل امري فرح بما اوتي، واحب ان يحمد بما لم يفعل، معذبا، لنعذبن اجمعون. فقال ابن عباس وما لكم ولهذه انما دعا النبي صلى الله عليه وسلم يهود فسالهم عن شىء، فكتموه اياه، واخبروه بغيره، فاروه ان قد استحمدوا اليه بما اخبروه عنه فيما سالهم، وفرحوا بما اوتوا من كتمانهم، ثم قرا ابن عباس {واذ اخذ الله ميثاق الذين اوتوا الكتاب} كذلك حتى قوله {يفرحون بما اتوا ويحبون ان يحمدوا بما لم يفعلوا}. تابعه عبد الرزاق عن ابن جريج. حدثنا ابن مقاتل، اخبرنا الحجاج، عن ابن جريج، اخبرني ابن ابي مليكة، عن حميد بن عبد الرحمن بن عوف، انه اخبره ان مروان بهذا
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا کہ مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے خبر دی، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ایک رات اپنی خالہ ( ام المؤمنین ) میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رہ گیا۔ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی ( میمونہ رضی اللہ عنہا ) کے ساتھ تھوڑی دیر تک بات چیت کی پھر سو گئے۔ جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہا تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آسمان کی طرف نظر کی اور یہ آیت تلاوت کی «إن في خلق السموات والأرض واختلاف الليل والنهار لآيات لأولي الألباب» ”بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن و رات کے مختلف ہونے میں عقلمندوں کے لیے ( بڑی ) نشانیاں ہیں۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور مسواک کی، پھر گیارہ رکعتیں تہجد اور وتر پڑھیں۔ جب بلال رضی اللہ عنہ نے ( فجر کی ) اذان دی تو آپ نے دو رکعت ( فجر کی سنت ) پڑھی اور باہر مسجد میں تشریف لائے اور فجر کی نماز پڑھائی۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، اخبرنا محمد بن جعفر، قال اخبرني شريك بن عبد الله بن ابي نمر، عن كريب، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال بت عند خالتي ميمونة، فتحدث رسول الله صلى الله عليه وسلم مع اهله ساعة ثم رقد، فلما كان ثلث الليل الاخر قعد فنظر الى السماء فقال {ان في خلق السموات والارض واختلاف ��لليل والنهار لايات لاولي الالباب}، ثم قام فتوضا واستن، فصلى احدى عشرة ركعة، ثم اذن بلال فصلى ركعتين، ثم خرج فصلى الصبح
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے امام مالک بن انس نے، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سو گیا، ارادہ یہ تھا کہ آج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز دیکھوں گا۔ میری خالہ نے آپ کے لیے گدا بچھا دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے طول میں لیٹ گئے پھر ( جب آخری رات میں بیدار ہوئے تو ) چہرہ مبارک پر ہاتھ پھیر کر نیند کے آثار دور کئے۔ پھر سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں، اس کے بعد آپ ایک مشکیزے کے پاس آئے اور اس سے پانی لے کر وضو کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں بھی کھڑا ہو گیا اور جو کچھ آپ نے کیا تھا وہی سب کچھ میں نے بھی کیا اور آپ کے پاس آ کر آپ کے بازو میں میں بھی کھڑا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر اپنا دایاں ہاتھ رکھا اور میرے کان کو ( شفقت سے ) پکڑ کر ملنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت تہجد کی نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت نماز پڑھی، پھر وتر کی نماز پڑھی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، عن مالك بن انس، عن مخرمة بن سليمان، عن كريب، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال بت عند خالتي ميمونة فقلت لانظرن الى صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم فطرحت لرسول الله صلى الله عليه وسلم وسادة، فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم في طولها، فجعل يمسح النوم عن وجهه، ثم قرا الايات العشر الاواخر من ال عمران حتى ختم، ثم اتى شنا معلقا، فاخذه فتوضا، ثم قام يصلي، فقمت فصنعت مثل ما صنع ثم جيت فقمت الى جنبه، فوضع يده على راسي، ثم اخذ باذني، فجعل يفتلها، ثم صلى ركعتين، ثم صلى ركعتين، ثم صلى ركعتين، ثم صلى ركعتين، ثم صلى ركعتين، ثم صلى ركعتين، ثم اوتر
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ ایک رات وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں رہ گئے جو ان کی خالہ تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بستر کے عرض میں لیٹا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی طول میں لیٹے، پھر آپ سو گئے اور آدھی رات میں یا اس سے تھوڑی دیر پہلے یا بعد میں آپ بیدار ہوئے اور چہرہ پر ہاتھ پھیر کر نیند کو دور کیا۔ پھر سورۃ آل عمران کی آخری دس آیتوں کی تلاوت کی۔ اس کے بعد آپ اٹھ کر مشکیزے کے قریب گئے جو لٹکا ہوا تھا۔ اس کے پانی سے آپ نے وضو بہت ہی اچھی طرح سے پورے آداب کے ساتھ کیا اور نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں نے بھی آپ ہی کی طرح ( وضو وغیرہ ) کیا اور نماز کے لیے آپ کے بازو میں جا کر کھڑا ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور اسی ہاتھ سے ( بطور شفقت ) میرا کان پکڑ کر ملنے لگے، پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی اور پھر دو رکعت پڑھی اور آخر میں وتر کی نماز پڑھی۔ اس سے فارغ ہو کر آپ لیٹ گئے، پھر جب مؤذن آیا تو آپ اٹھے اور دو ہلکی ( فجر کی سنت ) رکعتیں پڑھیں اور نماز فرض کے لیے باہر تشریف ( مسجد میں ) لے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا معن بن عيسى، حدثنا مالك، عن مخرمة بن سليمان، عن كريب، مولى عبد الله بن عباس ان عبد الله بن عباس، اخبره انه، بات عند ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم وهى خالته قال فاضطجعت في عرض الوسادة، واضطجع رسول الله صلى الله عليه وسلم واهله في طولها، فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى انتصف الليل، او قبله بقليل، او بعده بقليل، ثم استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل يمسح النوم عن وجهه بيديه، ثم قرا العشر الايات الخواتم من سورة ال عمران، ثم قام الى شن معلقة فتوضا منها، فاحسن وضوءه، ثم قام يصلي، فصنعت مثل ما صنع، ثم ذهبت فقمت الى جنبه، فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده اليمنى على راسي، واخذ باذني بيده اليمنى يفتلها، فصلى ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم اوتر، ثم اضطجع حتى جاءه الموذن، فقام فصلى ركعتين خفيفتين، ثم خرج فصلى الصبح
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ آپ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رہ گئے۔ میمونہ رضی اللہ عنہا ان کی خالہ تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں بستر کے عرض میں لیٹ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی طول میں لیٹے، پھر آپ سو گئے اور آدھی رات میں یا اس سے تھوڑی دیر پہلے یا تھوڑی دیر بعد آپ جاگے اور بیٹھ کر چہرہ پر نیند کے آثار دور کرنے کے لیے ہاتھ پھیرنے لگے اور سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں۔ اس کے بعد آپ مشکیزہ کے پاس گئے جو لٹکا ہوا تھا، اس سے تمام آداب کے ساتھ آپ نے وضو کیا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں بھی اٹھا اور میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو وغیرہ کیا اور جا کر آپ کے بازو میں کھڑا ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور ( شفقت سے ) میرے داہنے کان کو پکڑ کر ملنے لگے۔ پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی اور آخر میں انہیں وتر بنایا، پھر آپ لیٹ گئے اور جب مؤذن آپ کے پاس آیا تو آپ اٹھے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھ کر باہر مسجد میں تشریف لے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، عن مالك، عن مخرمة بن سليمان، عن كريب، مولى ابن عباس ان ابن عباس رضى الله عنهما اخبره انه، بات عند ميمونة زوج النبي صلى الله عليه وسلم وهى خالته قال فاضطجعت في عرض الوسادة، واضطجع رسول الله صلى الله عليه وسلم واهله في طولها، فنام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا انتصف الليل، او قبله بقليل، او بعده بقليل، استيقظ رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس يمسح النوم عن وجهه بيده، ثم قرا العشر الايات الخواتم من سورة ال عمران، ثم قام الى شن معلقة فتوضا منها، فاحسن وضوءه، ثم قام يصلي. قال ابن عباس فقمت فصنعت مثل ما صنع، ثم ذهبت فقمت الى جنبه، فوضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده اليمنى على راسي، واخذ باذني اليمنى يفتلها، فصلى ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم ركعتين، ثم اوتر ثم، اضطجع حتى جاءه الموذن، فقام فصلى ركعتين خفيفتين، ثم خرج فصلى الصبح
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے کہا، کہا مجھ کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک آدمی کی پرورش میں ایک یتیم لڑکی تھی، پھر اس نے اس سے نکاح کر لیا، اس یتیم لڑکی کی ملکیت میں کھجور کا ایک باغ تھا۔ اسی باغ کی وجہ سے یہ شخص اس کی پرورش کرتا رہا حالانکہ دل میں اس سے کوئی خاص لگاؤ نہ تھا۔ اس سلسلے میں یہ آیت اتری «وإن خفتم أن لا تقسطوا في اليتامى» کہ ”اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے حق میں انصاف نہ کر سکو گے۔“ ہشام بن یوسف نے کہا میں سمجھتا ہوں، ابن جریج نے یوں کہا یہ لڑکی اس درخت اور دوسرے مال اسباب میں اس مرد کی حصہ دار تھی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن ابن جريج، قال اخبرني هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها ان رجلا، كانت له يتيمة فنكحها، وكان لها عذق، وكان يمسكها عليه، ولم يكن لها من نفسه شىء فنزلت فيه {وان خفتم ان لا تقسطوا في اليتامى} احسبه قال كانت شريكته في ذلك العذق وفي ماله
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان اسامة بن زيد رضى الله عنهما اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ركب على حمار على قطيفة فدكية، واردف اسامة بن زيد وراءه، يعود سعد بن عبادة في بني الحارث بن الخزرج قبل وقعة بدر قال حتى مر بمجلس فيه عبد الله بن ابى، ابن سلول، وذلك قبل ان يسلم عبد الله بن ابى فاذا في المجلس اخلاط من المسلمين والمشركين عبدة الاوثان واليهود والمسلمين، وفي المجلس عبد الله بن رواحة، فلما غشيت المجلس عجاجة الدابة خمر عبد الله بن ابى انفه بردايه، ثم قال لا تغبروا علينا. فسلم رسول الله صلى الله عليه وسلم عليهم ثم وقف فنزل فدعاهم الى الله، وقرا عليهم القران، فقال عبد الله بن ابى ابن سلول ايها المرء، انه لا احسن مما تقول، ان كان حقا، فلا توذينا به في مجلسنا، ارجع الى رحلك، فمن جاءك فاقصص عليه. فقال عبد الله بن رواحة بلى يا رسول الله، فاغشنا به في مجالسنا، فانا نحب ذلك. فاستب المسلمون والمشركون واليهود حتى كادوا يتثاورون، فلم يزل النبي صلى الله عليه وسلم يخفضهم حتى سكنوا، ثم ركب النبي صلى الله عليه وسلم دابته فسار حتى دخل على سعد بن عبادة، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " يا سعد الم تسمع ما قال ابو حباب ". يريد عبد الله بن ابى " قال كذا وكذا ". قال سعد بن عبادة يا رسول الله، اعف عنه واصفح عنه، فوالذي انزل عليك الكتاب، لقد جاء الله بالحق الذي انزل عليك، لقد اصطلح اهل هذه البحيرة على ان يتوجوه فيعصبونه بالعصابة، فلما ابى الله ذلك بالحق الذي اعطاك الله شرق بذلك، فذلك فعل به ما رايت. فعفا عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه يعفون عن المشركين واهل الكتاب كما امرهم الله، ويصبرون على الاذى قال الله عز وجل {ولتسمعن من الذين اوتوا الكتاب من قبلكم ومن الذين اشركوا اذى كثيرا } الاية، وقال الله {ود كثير من اهل الكتاب لو يردونكم من بعد ايمانكم كفارا حسدا من عند انفسهم} الى اخر الاية، وكان النبي صلى الله عليه وسلم يتاول العفو ما امره الله به، حتى اذن الله فيهم، فلما غزا رسول الله صلى الله عليه وسلم بدرا، فقتل الله به صناديد كفار قريش قال ابن ابى ابن سلول، ومن معه من المشركين، وعبدة الاوثان هذا امر قد توجه. فبايعوا الرسول صلى الله عليه وسلم على الاسلام فاسلموا