Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمیل نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ان کے والد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی قسم کے خلاف کبھی نہیں کیا کرتے تھے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ نے قسم کے کفارہ کا حکم نازل کر دیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب اگر اس کے ( یعنی جس کے لیے قسم کھا رکھی تھی ) سوا دوسری چیز مجھے اس سے بہتر معلوم ہوتی ہے تو میں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت پر عمل کرتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہوتا ہے۔
حدثنا احمد بن ابي رجاء، حدثنا النضر، عن هشام، قال اخبرني ابي، عن عايشة رضى الله عنها ان اباها، كان لا يحنث في يمين حتى انزل الله كفارة اليمين. قال ابو بكر لا ارى يمينا ارى غيرها خيرا منها، الا قبلت رخصة الله، وفعلت الذي هو خير
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر جہاد کیا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں ہوتی تھیں۔ اس پر ہم نے عرض کیا کہ ہم اپنے آپ کو خصی کیوں نہ کر لیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا اور اس کے بعد ہمیں اس کی اجازت دی کہ ہم کسی عورت سے کپڑے ( یا کسی بھی چیز ) کے بدلے میں نکاح کر سکتے ہیں۔ پھر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی «يا أيها الذين آمنوا لا تحرموا طيبات ما أحل الله لكم» ”اے ایمان والو! اپنے اوپر ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جو اللہ نے تمہارے لیے جائز کی ہیں۔“
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا خالد، عن اسماعيل، عن قيس، عن عبد الله، رضى الله عنه قال كنا نغزو مع النبي صلى الله عليه وسلم وليس معنا نساء فقلنا الا نختصي فنهانا عن ذلك، فرخص لنا بعد ذلك ان نتزوج المراة بالثوب، ثم قرا {يا ايها الذين امنوا لا تحرموا طيبات ما احل الله لكم}
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن بشر نے خبر دی، ان سے عبدالعزیز بن عمر بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو مدینہ میں اس وقت پانچ قسم کی شراب استعمال ہوتی تھی۔ لیکن انگوری شراب کا استعمال نہیں ہوتا تھا ( بہرحال وہ بھی حرام قرار پائی ) ۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا محمد بن بشر، حدثنا عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز، قال حدثني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال نزل تحريم الخمر وان في المدينة يوميذ لخمسة اشربة، ما فيها شراب العنب
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم لوگ تمہاری «فضيخ» ( کھجور سے بنائی ہوئی شراب ) کے سوا اور کوئی شراب استعمال نہیں کرتے تھے، یہی جس کا نام تم نے «فضيخ» رکھ رکھا ہے۔ میں کھڑا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو پلا رہا تھا اور فلاں اور فلاں کو، کہ ایک صاحب آئے اور کہا: تمہیں کچھ خبر بھی ہے؟ لوگوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شراب حرام قرار دی جا چکی ہے۔ فوراً ہی ان لوگوں نے کہا: انس رضی اللہ عنہ اب ان شراب کے مٹکوں کو بہا دو۔ انہوں نے بیان کیا کہ ان کی اطلاع کے بعد ان لوگوں نے اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ مانگا اور نہ پھر اس کا استعمال کیا۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابن علية، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، قال قال انس بن مالك رضى الله عنه ما كان لنا خمر غير فضيخكم هذا الذي تسمونه الفضيخ. فاني لقايم اسقي ابا طلحة وفلانا وفلانا اذ جاء رجل فقال وهل بلغكم الخبر فقالوا وما ذاك قال حرمت الخمر. قالوا اهرق هذه القلال يا انس. قال فما سالوا عنها ولا راجعوها بعد خبر الرجل
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی، انہیں عمرو نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ احد میں بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم نے صبح صبح شراب پی تھی اور اسی دن وہ سب شہید کر دیئے گئے تھے۔ اس وقت شراب حرام نہیں ہوئی تھی ( اس لیے وہ گنہگار نہیں ٹھہرے ) ۔
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا ابن عيينة، عن عمرو، عن جابر، قال صبح اناس غداة احد الخمر فقتلوا من يومهم جميعا شهداء، وذلك قبل تحريمها
ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عیسیٰ اور ابن ادریس نے خبر دی، انہیں ابوحیان نے، انہیں شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر کھڑے فرما رہے تھے۔ امابعد! اے لوگو! جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ پانچ چیزوں سے تیار کی جاتی تھی۔ انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو سے اور شراب ہر وہ پینے کی چیز ہے جو عقل کو زائل کر دے۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم الحنظلي، اخبرنا عيسى، وابن، ادريس عن ابي حيان، عن الشعبي، عن ابن عمر، قال سمعت عمر رضى الله عنه على منبر النبي صلى الله عليه وسلم يقول اما بعد ايها الناس انه نزل تحريم الخمر وهى من خمسة، من العنب والتمر والعسل والحنطة والشعير، والخمر ما خامر العقل
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے، ان سے انس بن مالک نے کہ ( حرمت نازل ہونے کے بعد ) جو شراب بہائی گئی تھی وہ «فضيخ.» کی تھی۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد نے ابوالنعمان سے اس زیادتی کے ساتھ بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں صحابہ کی ایک جماعت کو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر شراب پلا رہا تھا کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا اور انہوں نے اعلان کرنا شروع کیا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: باہر جا کے دیکھو یہ آواز کیسی ہے۔ بیان کیا کہ میں باہر آیا اور کہا کہ ایک منادی اعلان کر رہا ہے کہ ”خبردار ہو جاؤ، شراب حرام ہو گئی ہے۔“ یہ سنتے ہی انہوں نے مجھ کو کہا کہ جاؤ اور شراب بہا دو۔ راوی نے بیان کیا، مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔ راوی نے بیان کیا کہ ان دنوں «فضيخ.» شراب استعمال ہوتی تھی۔ بعض لوگوں نے شراب کو جو اس طرح بہتے دیکھا تو کہنے لگے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں نے شراب سے اپنا پیٹ بھر رکھا تھا اور اسی حالت میں انہیں قتل کر دیا گیا ہے۔ بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا» ”جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے رہتے ہیں، ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو انہوں نے کھا لیا۔“
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا ثابت، عن انس رضى الله عنه ان الخمر، التي اهريقت الفضيخ. وزادني محمد عن ابي النعمان قال كنت ساقي القوم في منزل ابي طلحة فنزل تحريم الخمر، فامر مناديا فنادى. فقال ابو طلحة اخرج فانظر ما هذا الصوت قال فخرجت فقلت هذا مناد ينادي الا ان الخمر قد حرمت. فقال لي اذهب فاهرقها. قال فجرت في سكك المدينة. قال وكانت خمرهم يوميذ الفضيخ فقال بعض القوم قتل قوم وهى في بطونهم قال فانزل الله {ليس على الذين امنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا}
ہم سے منذر بن ولید بن عبدالرحمٰن جارودی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن انس نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا خطبہ دیا کہ میں نے ویسا خطبہ کبھی نہیں سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تمہیں بھی معلوم ہوتا تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے اپنے چہرے چھپا لیے، باوجود ضبط کے ان کے رونے کی آواز سنائی دے رہی تھی۔ ایک صحابی نے اس موقع پر پوچھا: میرے والد کون ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» کہ ”ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزریں۔“ اس کی روایت نضر اور روح بن عبادہ نے شعبہ سے کی ہے۔
حدثنا منذر بن الوليد بن عبد الرحمن الجارودي، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن موسى بن انس، عن انس رضى الله عنه قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم خطبة ما سمعت مثلها قط، قال " لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا ". قال فغطى اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وجوههم لهم خنين، فقال رجل من ابي قال فلان فنزلت هذه الاية {لا تسالوا عن اشياء ان تبد لكم تسوكم}. رواه النضر وروح بن عبادة عن شعبة
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوخیثمہ نے بیان کیا، ان سے ابوجویریہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مذاقاً سوالات کیا کرتے تھے۔ کوئی شخص یوں پوچھتا کہ میرا باپ کون ہے؟ کسی کی اگر اونٹنی گم ہو جاتی تو وہ یہ پوچھتے کہ میری اونٹنی کہاں ہو گی؟ ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تسألوا عن أشياء إن تبد لكم تسؤكم» کہ ”اے ایمان والو! ایسی باتیں مت پوچھو کہ اگر تم پر ظاہر کر دی جائیں تو تمہیں ناگوار گزرے۔“ یہاں تک کہ پوری آیت پڑھ کر سنائی۔
حدثنا الفضل بن سهل، حدثنا ابو النضر، حدثنا ابو خيثمة، حدثنا ابو الجويرية، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان قوم يسالون رسول الله صلى الله عليه وسلم استهزاء، فيقول الرجل من ابي ويقول الرجل تضل ناقته اين ناقتي فانزل الله فيهم هذه الاية {يا ايها الذين امنوا لا تسالوا عن اشياء ان تبد لكم تسوكم} حتى فرغ من الاية كلها
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ «بحيرة» اس اونٹنی کو کہتے تھے جس کا دودھ بتوں کے لیے روک دیا جاتا اور کوئی شخص اس کے دودھ کو دوہنے کا مجاز نہ سمجھا جاتا اور «سائبة» اس اونٹنی کو کہتے تھے جسے وہ اپنے دیوتاؤں کے نام پر آزاد چھوڑ دیتے اور اس سے باربرداری و سواری وغیرہ کا کام نہ لیتے۔ سعید راوی نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتوں کو جہنم میں گھسیٹ رہا تھا، اس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم نکالی تھی۔ اور «وصيلة» اس جوان اونٹنی کو کہتے تھے جو پہلی مرتبہ مادہ بچہ جنتی اور پھر دوسری مرتبہ بھی مادہ ہی جنتی، اسے بھی وہ بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے تھے لیکن اسی صورت میں جبکہ وہ برابر دو مرتبہ مادہ بچہ جنتی اور اس درمیان میں کوئی نر بچہ نہ ہوتا۔ اور «حام» وہ نر اونٹ جو مادہ پر شمار سے کئی دفعہ چڑھتا ( اس کے نطفے سے دس بچے پیدا ہو جاتے ) جب وہ اتنی صحبتیں کر چکتا تو اس کو بھی بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے اور بوجھ لادنے سے معاف کر دیتے ( نہ سواری کرتے ) اس کا نام «حام» رکھتے اور ابوالیمان ( حکم بن نافع ) نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہوں نے زہری سے سنا، کہا میں نے سعید بن مسیب سے یہی حدیث سنی جو اوپر گزری۔ سعید نے کہا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ( وہی عمرو بن عامر خزاعی کا قصہ جو اوپر گزرا ) اور یزید بن عبداللہ بن ہاد نے بھی اس حدیث کو ابن شہاب سے روایت کیا۔ انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، کہا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، قال البحيرة التي يمنع درها للطواغيت فلا يحلبها احد من الناس. والسايبة كانوا يسيبونها لالهتهم لا يحمل عليها شىء. قال وقال ابو هريرة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رايت عمرو بن عامر الخزاعي يجر قصبه في النار، كان اول من سيب السوايب ". والوصيلة الناقة البكر تبكر في اول نتاج الابل، ثم تثني بعد بانثى. وكانوا يسيبونهم لطواغيتهم ان وصلت احداهما بالاخرى ليس بينهما ذكر. والحام فحل الابل يضرب الضراب المعدود، فاذا قضى ضرابه ودعوه للطواغيت واعفوه من الحمل فلم يحمل عليه شىء وسموه الحامي. وقال لي ابو اليمان اخبرنا شعيب، عن الزهري، سمعت سعيدا، قال يخبره بهذا قال وقال ابو هريرة سمعت النبي صلى الله عليه وسلم نحوه. ورواه ابن الهاد عن ابن شهاب عن سعيد عن ابي هريرة رضى الله عنه سمعت النبي صلى الله عليه وسلم
مجھ سے محمد بن ابی یعقوب ابوعبداللہ کرمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے حسان بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے جہنم کو دیکھا کہ اس کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں کو کھائے جا رہے ہیں اور میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا کہ وہ اپنی آنتیں اس میں گھسیٹا پھر رہا تھا۔ یہی وہ شخص ہے جس نے سب سے پہلے سانڈ چھوڑنے کی رسم ایجاد کی تھی۔
حدثني محمد بن ابي يعقوب ابو عبد الله الكرماني، حدثنا حسان بن ابراهيم، حدثنا يونس، عن الزهري، عن عروة، ان عايشة، رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " رايت جهنم يحطم بعضها بعضا، ورايت عمرا يجر قصبه، وهو اول من سيب السوايب
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم کو مغیرہ بن نعمان نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو! تم اللہ کے پاس جمع کئے جاؤ گے، ننگے پاؤں ننگے جسم اور بغیر ختنہ کے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين» ”جس طرح ہم نے اول بار پیدا کرنے کے وقت ابتداء کی تھی، اسی طرح اسے دوبارہ زندہ کر دیں گے، ہمارے ذمہ وعدہ ہے، ہم ضرور اسے کر کے ہی رہیں گے۔“ آخر آیت تک۔ پھر فرمایا قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا۔ ہاں اور میری امت کے کچھ لوگوں کو لایا جائے گا اور انہیں جہنم کی بائیں طرف لے جایا جائے گا۔ میں عرض کروں گا، میرے رب! یہ تو میرے امتی ہیں؟ مجھ سے کہا جائے گا، آپ کو نہیں معلوم ہے کہ انہوں نے آپ کے بعد نئی نئی باتیں شریعت میں نکالی تھیں۔ اس وقت میں بھی وہی کہوں گا جو عبد صالح عیسیٰ علیہ السلام نے کہا ہو گا «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت أنت الرقيب عليهم» کہ ”میں ان کا حال دیکھتا رہا جب تک میں ان کے درمیان رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا ( جب سے ) تو ہی ان پر نگراں ہے۔“ مجھے بتایا جائے گا کہ آپ کی جدائی کے بعد یہ لوگ دین سے پھر گئے تھے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، اخبرنا المغيرة بن النعمان، قال سمعت سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " يا ايها الناس انكم محشورون الى الله حفاة عراة غرلا ثم قال {كما بدانا اول خلق نعيده وعدا علينا انا كنا فاعلين} الى اخر الاية ثم قال الا وان اول الخلايق يكسى يوم القيامة ابراهيم، الا وانه يجاء برجال من امتي فيوخذ بهم ذات الشمال، فاقول يا رب اصيحابي. فيقال انك لا تدري ما احدثوا بعدك. فاقول كما قال العبد الصالح {وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم فلما توفيتني كنت انت الرقيب عليهم} فيقال ان هولاء لم يزالوا مرتدين على اعقابهم منذ فارقتهم
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مغیرہ بن نعمان نے بیان کیا، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں قیامت کے دن جمع کیا جائے گا اور کچھ لوگوں کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ اس وقت میں وہی کہوں گا جو نیک بندے نے کہا ہو گا «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم» ”میں ان کا حال دیکھتا رہا جب تک میں ان کے درمیان رہا“ آخر آیت «العزيز الحكيم» تک۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، حدثنا المغيرة بن النعمان، قال حدثني سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " انكم محشورون، وان ناسا يوخذ بهم ذات الشمال، فاقول كما قال العبد الصالح {وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم} الى قوله {العزيز الحكيم}
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کے خزانے پانچ ہیں۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے۔ بیشک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی جانتا ہے کہ رحموں میں کیا ہے اور کوئی بھی نہیں جان سکتا کہ وہ کل کیا عمل کرے گا اور نہ کوئی یہ جان سکتا ہے کہ وہ کس زمین پر مرے گا، بیشک اللہ ہی علم والا ہے، خبر رکھنے والا ہے۔“
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن سالم بن عبد الله، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " مفاتح الغيب خمس ان الله عنده علم الساعة، وينزل الغيث، ويعلم ما في الارحام، وما تدري نفس ماذا تكسب غدا، وما تدري نفس باى ارض تموت، ان الله عليم خبير
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب یہ آیت «قل هو القادر على أن يبعث عليكم عذابا من فوقكم» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر یہ اترا «أو من تحت أرجلكم» آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا اللہ! میں تیرے منہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ پھر یہ اترا «أو يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم بأس بعض» اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پہلے عذابوں سے ہلکا یا آسان ہے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار، عن جابر رضى الله عنه قال لما نزلت هذه الاية {قل هو القادر على ان يبعث عليكم عذابا من فوقكم} قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اعوذ بوجهك ". قال {او من تحت ارجلكم} قال " اعوذ بوجهك" {او يلبسكم شيعا ويذيق بعضكم باس بعض} قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا اهون ". او " هذا ايسر
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» نازل ہوئی صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، ہم میں کون ہو گا جس کا دامن ظلم سے پاک ہو۔ اس یہ آیت اتری «إن الشرك لظلم عظيم» ”بیشک شرک ظلم عظیم ہے۔“
حدثني محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن سليمان، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله رضى الله عنه قال لما نزلت {ولم يلبسوا ايمانهم بظلم} قال اصحابه واينا لم يظلم فنزلت {ان الشرك لظلم عظيم}
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے ابوالعالیہ نے بیان کیا کہ مجھ سے تمہارے نبی کے چچا زاد بھائی یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ مجھے یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر بتائے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن مهدي، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن ابي العالية، قال حدثني ابن عم، نبيكم يعني ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما ينبغي لعبد ان يقول انا خير من يونس بن متى
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سعد بن ابراہیم نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کے لیے جائز نہیں کہ مجھے یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر بتائے۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا شعبة، اخبرنا سعد بن ابراهيم، قال سمعت حميد بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما ينبغي لعبد ان يقول انا خير من يونس بن متى
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے سلیمان احول نے خبر دی، انہیں مجاہد نے خبر دی کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کیا سورۃ ص میں سجدہ ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتلایا، ہاں۔ پھر آپ نے آیت «ووهبنا» سے ( «فبهداهم اقتده» ) تک پڑھی اور کہا کہ داؤد علیہ السلام بھی ان انبیاء میں شامل ہیں ( جن کا ذکر آیت میں ہوا ہے ) ۔ یزید بن ہارون، محمد بن عبید اور سہل بن یوسف نے عوام بن حوشب سے، ان سے مجاہد نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا، تو انہوں نے کہا تمہارے نبی بھی ان میں سے ہیں جنہیں اگلے انبیاء کی اقتداء کا حکم دیا گیا ہے۔
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني سليمان الاحول، ان مجاهدا، اخبره انه، سال ابن عباس افي " ص " سجدة فقال نعم. ثم تلا {ووهبنا} الى قوله {فبهداهم اقتده} ثم قال هو منهم. زاد يزيد بن هارون ومحمد بن عبيد وسهل بن يوسف عن العوام عن مجاهد قلت لابن عباس فقال نبيكم صلى الله عليه وسلم ممن امر ان يقتدي بهم
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے کہ عطاء نے بیان کیا کہ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ یہودیوں کو غارت کرے، جب اللہ تعالیٰ نے ان پر مردہ جانوروں کی چربی حرام کر دی تو اس کا تیل نکال کر اسے بیچنے اور کھانے لگے۔ اور ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے یزید نے بیان کیا، انہیں عطاء نے لکھا تھا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، قال عطاء سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم قال " قاتل الله اليهود، لما حرم الله عليهم شحومها جملوه ثم باعوه فاكلوها ". وقال ابو عاصم حدثنا عبد الحميد، حدثنا يزيد، كتب الى عطاء سمعت جابرا، عن النبي صلى الله عليه وسلم