Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں ( یعنی زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ) کو بلاؤ۔ وہ اپنے ساتھ دوات اور تختی یا شانہ کی ہڈی لے کر حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لکھو «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» ۔ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے موجود تھے، عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نابینا ہوں۔ چنانچہ وہیں اس طرح آیت نازل ہوئی «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر والمجاهدون في سبيل الله» ۔
حدثنا محمد بن يوسف، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن البراء، قال لما نزلت {لا يستوي القاعدون من المومنين} قال النبي صلى الله عليه وسلم " ادعوا فلانا ". فجاءه ومعه الدواة واللوح او الكتف فقال " اكتب لا يستوي القاعدون من المومنين والمجاهدون في سبيل الله ". وخلف النبي صلى الله عليه وسلم ابن ام مكتوم فقال يا رسول الله انا ضرير. فنزلت مكانها {لا يستوي القاعدون من المومنين غير اولي الضرر والمجاهدون في سبيل الله}
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا ہم کو عبدالکریم جرزی نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن حارث کے غلام مقسم نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» سے اشارہ ہے ان لوگوں کی طرف جو بدر میں شریک تھے اور جنہوں نے بلا کسی عذر کے بدر کی لڑائی میں شرکت نہیں کی تھی، وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، ان ابن جريج، اخبرهم ح، وحدثني اسحاق، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، اخبرني عبد الكريم، ان مقسما، مولى عبد الله بن الحارث اخبره ان ابن عباس رضى الله عنهما اخبره {لا يستوي القاعدون من المومنين} عن بدر والخارجون الى بدر
ہم سے عبداللہ بن یزید المقری نے بیان کیا، کہا ہم سے حیوہ بن شریح وغیرہ (ابن لہیعہ) نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن عبدالرحمٰن ابوالاسود نے بیان کیا، کہا کہ اہل مدینہ کو ( جب مکہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کی خلافت کا دور تھا ) شام والوں کے خلاف ایک فوج نکالنے کا حکم دیا گیا۔ اس فوج میں میرا نام بھی لکھا گیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عکرمہ سے میں ملا اور انہیں اس صورت حال کی اطلاع کی۔ انہوں نے بڑی سختی کے ساتھ اس سے منع کیا اور فرمایا کہ مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی تھی کہ کچھ مسلمان مشرکین کے ساتھ رہتے تھے اور اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ان کی زیادتی کا سبب بنتے، پھر تیر آتا اور وہ سامنے پڑ جاتے تو انہیں لگ جاتا اور اس طرح ان کی جان جاتی یا تلوار سے ( غلطی میں ) انہیں قتل کر دیا جاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين توفاهم الملائكة ظالمي أنفسهم» ”بیشک ان لوگوں کی جان جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کر رکھا ہے ( جب ) فرشتے قبض کرتے ہیں۔“ آخر آیت تک۔ اس روایت کو لیث بن سعد نے بھی ابوالاسود سے نقل کیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يزيد المقري، حدثنا حيوة، وغيره، قالا حدثنا محمد بن عبد الرحمن ابو الاسود، قال قطع على اهل المدينة بعث فاكتتبت فيه، فلقيت عكرمة مولى ابن عباس فاخبرته، فنهاني عن ذلك اشد النهى، ثم قال اخبرني ابن عباس ان ناسا من المسلمين كانوا مع المشركين يكثرون سواد المشركين على رسول الله صلى الله عليه وسلم ياتي السهم فيرمى به، فيصيب احدهم فيقتله او يضرب فيقتل، فانزل الله {ان الذين توفاهم الملايكة ظالمي انفسهم} الاية. رواه الليث عن ابي الاسود
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے «إلا المستضعفين» کے متعلق فرمایا کہ میری ماں بھی ان ہی لوگوں میں تھیں جنہیں اللہ نے معذور رکھا تھا۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن ابن عباس رضى الله عنهما {الا المستضعفين} قال كانت امي ممن عذر الله
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں ( رکوع سے اٹھتے ہوئے ) «سمع الله لمن حمده .» کہا اور پھر سجدہ میں جانے سے پہلے یہ دعا کی ”اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے۔ اے اللہ! سلمہ بن ہشام کو نجات دے۔ اے اللہ! ولید بن ولید کو نجات دے۔ اے اللہ کمزور مومنوں کو نجات دے۔ اے اللہ! کفار مضر کو سخت سزا دے۔ اے اللہ انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی یوسف علیہ السلام کے زمانے میں قحط سالی آئی تھی۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال بينا النبي صلى الله عليه وسلم يصلي العشاء اذ قال " سمع الله لمن حمده ". ثم قال قبل ان يسجد " اللهم نج عياش بن ابي ربيعة، اللهم نج سلمة بن هشام، اللهم نج الوليد بن الوليد، اللهم نج المستضعفين من المومنين، اللهم اشدد وطاتك على مضر، اللهم اجعلها سنين كسني يوسف
ہم سے ابوالحسن محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو حجاج بن محمد اعور نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، انہیں یعلیٰ بن مسلم نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «إن كان بكم أذى من مطر أو كنتم مرضى» کے سلسلے میں بتلایا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے ان سے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔
حدثنا محمد بن مقاتل ابو الحسن، اخبرنا حجاج، عن ابن جريج، قال اخبرني يعلى، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما {ان كان بكم اذى من مطر او كنتم مرضى} قال عبد الرحمن بن عوف كان جريحا
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ حماد بن اسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت «ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن» ”لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں فتویٰ مانگتے ہیں۔ آپ کہہ دیں کہ اللہ تمہیں ان کے بارے میں ( وہی ) فتویٰ دیتا ہے“ آیت «وترغبون أن تنكحوهن» تک۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ آیت ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی کہ اگر اس کی پرورش میں کوئی یتیم لڑکی ہو اور وہ اس کا ولی اور وارث بھی ہو اور لڑکی اس کے مال میں بھی حصہ دار ہو۔ یہاں تک کہ کھجور کے درخت میں بھی۔ اب وہ شخص خود اس لڑکی سے نکاح کرنا چاہے، کیونکہ اسے یہ پسند نہیں کہ کسی دوسرے سے اس کا نکاح کر دے کہ وہ اس کے اس مال میں حصہ دار بن جائے، جس میں لڑکی حصہ دار تھی، اس وجہ سے اس لڑکی کا کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ ہونے دے تو ایسے شخص کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها {ويستفتونك في النساء قل الله يفتيكم فيهن} الى قوله {وترغبون ان تنكحوهن}. قالت هو الرجل تكون عنده اليتيمة، هو وليها ووارثها، فاشركته في ماله حتى في العذق، فيرغب ان ينكحها، ويكره ان يزوجها رجلا، فيشركه في ماله بما شركته فيعضلها فنزلت هذه الاية
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے آیت «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا أو إعراضا.» ”اور کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بے رغبتی کا خوف ہو“ کے متعلق کہا کہ ایسا مرد جس کے ساتھ اس کی بیوی رہتی ہے، لیکن شوہر کو اس کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں، بلکہ وہ اسے جدا کر دینا چاہتا ہے، اس پر عورت کہتی ہے کہ میں اپنی باری اور اپنا ( نان نفقہ ) معاف کر دیتی ہوں ( تم مجھے طلاق نہ دو ) تو ایسی صورت کے متعلق یہ آیت اسی باب میں اتری۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها {وان امراة خافت من بعلها نشوزا او اعراضا}. قالت الرجل تكون عنده المراة ليس بمستكثر منها يريد ان يفارقها فتقول اجعلك من شاني في حل. فنزلت هذه الاية في ذلك
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسود نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حلقہ درس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر سلام کیا۔ پھر کہا نفاق میں وہ جماعت مبتلا ہو گئی جو تم سے بہتر تھی۔ اس پر اسود بولے، سبحان اللہ، اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے «إن المنافقين في الدرك الأسفل من النار» کہ ”منافق دوزخ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مسکرانے لگے اور حذیفہ رضی اللہ عنہ مسجد کے کونے میں جا کر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اٹھ گئے اور آپ کے شاگرد بھی اِدھر اُدھر چلے گئے۔ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مجھ پر کنکری پھینکی ( یعنی مجھ کو بلایا ) میں حاضر ہو گیا تو کہا کہ مجھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی ہنسی پر حیرت ہوئی حالانکہ جو کچھ میں نے کہا تھا اسے وہ خوب سمجھتے تھے۔ یقیناً نفاق میں ایک جماعت کو مبتلا کیا گیا تھا جو تم سے بہتر تھی، اس لیے کہ پھر انہوں نے توبہ کر لی اور اللہ نے بھی ان کی توبہ قبول کر لی۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني ابراهيم، عن الاسود، قال كنا في حلقة عبد الله فجاء حذيفة حتى قام علينا، فسلم ثم قال لقد انزل النفاق على قوم خير منكم. قال الاسود سبحان الله، ان الله يقول {ان المنافقين في الدرك الاسفل من النار} فتبسم عبد الله، وجلس حذيفة في ناحية المسجد، فقام عبد الله فتفرق اصحابه، فرماني بالحصا، فاتيته فقال حذيفة عجبت من ضحكه، وقد عرف ما قلت، لقد انزل النفاق على قوم كانوا خيرا منكم، ثم تابوا فتاب الله عليهم
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی کے لیے مناسب نہیں کہ مجھے یونس بن متی سے بہتر کہے۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما ينبغي لاحد ان يقول انا خير من يونس بن متى
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص یہ کہتا ہے میں یونس بن متی سے بہتر ہوں اس نے جھوٹ کہا۔“
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا فليح، حدثنا هلال، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قال انا خير من يونس بن متى فقد كذب
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ سب سے آخر میں جو سورت نازل ہوئی وہ سورۃ برات ہے اور ( احکام میراث کے سلسلے میں ) سب سے آخر میں جو آیت نازل ہوئی وہ «يستفتونك قل الله یفتیکم فى الکلالة» ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، سمعت البراء رضى الله عنه قال اخر سورة نزلت براءة، واخر اية نزلت {يستفتونك}
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے قیس بن اسلم نے اور ان سے طارق بن شہاب نے کہ یہودیوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ لوگ ایک ایسی آیت کی تلاوت کرتے ہیں کہ اگر ہمارے یہاں وہ نازل ہوئی ہوتی تو ہم ( جس دن وہ نازل ہوئی ہوتی ) اس دن عید منایا کرتے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، میں خوب اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ آیت «اليوم أكملت لكم دينكم» کہاں اور کب نازل ہوئی تھی اور جب عرفات کے دن نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تشریف رکھتے تھے۔ اللہ کی قسم! ہم اس وقت میدان عرفات میں تھے۔ سفیان ثوری نے کہا کہ مجھے شک ہے کہ وہ جمعہ کا دن تھا یا اور کوئی دوسرا دن۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن قيس، عن طارق بن شهاب، قالت اليهود لعمر انكم تقرءون اية لو نزلت فينا لاتخذناها عيدا. فقال عمر اني لاعلم حيث انزلت، واين انزلت، واين رسول الله صلى الله عليه وسلم حين انزلت يوم عرفة، وانا والله بعرفة قال سفيان واشك كان يوم الجمعة ام لا – {اليوم اكملت لكم دينكم}
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد قاسم بن محمد نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک سفر میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ جب ہم مقام بیداء یا ذات الجیش تک پہنچے تو میرا ہار گم ہو گیا۔ اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تلاش کروانے کے لیے وہیں قیام کیا اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کیا۔ وہاں کہیں پانی نہیں تھا اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بھی پانی نہیں تھا۔ لوگ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے، ملاحظہ نہیں فرماتے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیا کر رکھا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہیں ٹھہرا لیا اور ہمیں بھی، حالانکہ یہاں کہیں پانی نہیں ہے اور نہ کسی کے پاس پانی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ ( میرے یہاں ) آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک میری ران پر رکھ کر سو گئے تھے اور کہنے لگے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور سب کو روک لیا، حالانکہ یہاں کہیں پانی نہیں ہے اور نہ کسی کے ساتھ پانی ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ مجھ پر بہت خفا ہوئے اور جو اللہ کو منظور تھا مجھے کہا، سنا اور ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگائے۔ میں نے صرف اس خیال سے کوئی حرکت نہیں کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر رکھے ہوئے تھے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور صبح تک کہیں پانی کا نام و نشان نہیں تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو اسید بن حضیر نے کہا کہ آل ابی بکر! یہ تمہاری کوئی پہلی برکت نہیں ہے۔ بیان کیا کہ پھر ہم نے وہ اونٹ اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو ہار اسی کے نیچے مل گیا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن عبد الرحمن بن القاسم، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره، حتى اذا كنا بالبيداء او بذات الجيش انقطع عقد لي، فاقام رسول الله صلى الله عليه وسلم على التماسه، واقام الناس معه، وليسوا على ماء، وليس معهم ماء فاتى الناس الى ابي بكر الصديق فقالوا الا ترى ما صنعت عايشة اقامت برسول الله صلى الله عليه وسلم وبالناس، وليسوا على ماء، وليس معهم ماء، فجاء ابو بكر ورسول الله صلى الله عليه وسلم واضع راسه على فخذي قد نام، فقال حبست رسول الله صلى الله عليه وسلم والناس، وليسوا على ماء، وليس معهم ماء قالت عايشة فعاتبني ابو بكر، وقال ما شاء الله ان يقول، وجعل يطعنني بيده في خاصرتي، ولا يمنعني من التحرك الا مكان رسول الله صلى الله عليه وسلم على فخذي، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اصبح على غير ماء، فانزل الله اية التيمم فقال اسيد بن حضير ما هي باول بركتكم يا ال ابي بكر. قالت فبعثنا البعير الذي كنت عليه فاذا العقد تحته
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد قاسم نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میرا ہار مقام بیداء میں گم ہو گیا تھا۔ ہم مدینہ واپس آ رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہیں اپنی سواری روک دی اور اتر گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر مبارک میری گود میں رکھ کر سو رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اندر آ گئے اور میرے سینے پر زور سے ہاتھ مار کر فرمایا کہ ایک ہار کے لیے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روک لیا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام کے خیال سے میں بےحس و حرکت بیٹھی رہی حالانکہ مجھے تکلیف ہوئی تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور صبح کا وقت ہوا اور پانی کی تلاش ہوئی لیکن کہیں پانی کا نام و نشان نہ تھا۔ اسی وقت یہ آیت اتری «يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة» الخ۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے آل ابی بکر! تمہیں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے لیے باعث برکت بنایا ہے۔ یقیناً تم لوگوں کے لیے باعث برکت ہو۔ تمہارا ہار گم ہوا اللہ نے اس کی وجہ سے تیمم کی آیت نازل فرما دی جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے آسانی اور برکت ہے۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال اخبرني عمرو، ان عبد الرحمن بن القاسم، حدثه عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها سقطت قلادة لي بالبيداء ونحن داخلون المدينة، فاناخ النبي صلى الله عليه وسلم ونزل، فثنى راسه في حجري راقدا، اقبل ابو بكر فلكزني لكزة شديدة وقال حبست الناس في قلادة. فبي الموت لمكان رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد اوجعني، ثم ان النبي صلى الله عليه وسلم استيقظ وحضرت الصبح فالتمس الماء فلم يوجد فنزلت {يا ايها الذين امنوا اذا قمتم الى الصلاة} الاية. فقال اسيد بن حضير لقد بارك الله للناس فيكم يا ال ابي بكر، ما انتم الا بركة لهم
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے مخارق نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کے قریب موجود تھا ( دوسری سند ) اور مجھ سے حمدان بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالنضر ( ہاشم بن قاسم ) نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن عبدالرحمٰن اشجعی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے مخارق بن عبداللہ نے، ان سے طارق بن شہاب نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ بدر کے موقع پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: یا رسول اللہ! ہم آپ سے وہ بات نہیں کہیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی «فاذهب أنت وربك فقاتلا إنا ها هنا قاعدون» کہ ”آپ خود اور آپ کے خدا چلے جائیں اور آپ دونوں لڑ بھڑ لیں۔ ہم تو یہاں سے ٹلنے کے نہیں۔“ نہیں! آپ چلئے، ہم آپ کے ساتھ جان دینے کو حاضر ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اس بات سے خوشی ہوئی۔ اس حدیث کو وکیع نے بھی سفیان ثوری سے، انہوں نے مخارق سے، انہوں نے طارق سے روایت کیا ہے کہ مقداد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا ( جو اوپر بیان ہوا ) ۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا اسراييل، عن مخارق، عن طارق بن شهاب، سمعت ابن مسعود رضى الله عنه قال شهدت من المقداد ح وحدثني حمدان بن عمر حدثنا ابو النضر حدثنا الاشجعي عن سفيان عن مخارق عن طارق عن عبد الله قال قال المقداد يوم بدر يا رسول الله انا لا نقول لك كما قالت بنو اسراييل لموسى {فاذهب انت وربك فقاتلا انا ها هنا قاعدون} ولكن امض ونحن معك. فكانه سري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. ورواه وكيع عن سفيان عن مخارق عن طارق ان المقداد قال ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلمان ابورجاء، ابوقلابہ کے غلام نے بیان کیا اور ان سے ابوقلابہ نے کہ وہ ( امیرالمؤمنین ) عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ خلیفہ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے ( مجلس میں قسامت کا ذکر آ گیا ) لوگوں نے کہا کہ قسامت میں قصاص لازم ہو گا۔ آپ سے پہلے خلفاء راشدین نے بھی اس میں قصاص لیا ہے۔ پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ابوقلابہ کی طرف متوجہ ہوئے وہ پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اور پوچھا: عبداللہ بن زید تمہاری کیا رائے ہے، یا یوں کہا کہ ابوقلابہ! آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ مجھے تو کوئی ایسی صورت معلوم نہیں ہے کہ اسلام میں کسی شخص کا قتل جائز ہو، سوا اس کے کہ کسی نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو، یا ناحق کسی کو قتل کیا ہو، یا ( پھر ) اللہ اور اس کے رسول سے لڑا ہو ( مرتد ہو گیا ہو ) ۔ اس پر عنبسہ نے کہا کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے اس طرح حدیث بیان کی تھی۔ ابوقلابہ بولے کہ مجھ سے بھی انہوں نے یہ حدیث بیان کی تھی۔ بیان کیا کہ کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام پر بیعت کرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ہمیں اس شہر مدینہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ہمارے یہ اونٹ چرنے جا رہے ہیں تم بھی ان کے ساتھ چلے جاؤ اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو ( کیونکہ ان کے مرض کا یہی علاج تھا ) چنانچہ وہ لوگ ان اونٹوں کے ساتھ چلے گئے اور ان کا دودھ اور پیشاب پیا۔ جس سے انہیں صحت حاصل ہو گئی۔ اس کے بعد انہوں نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے ) کو پکڑ کر قتل کر دیا اور اونٹ لے کر بھاگے۔ اب ایسے لوگوں سے بدلہ لینے میں کیا تامل ہو سکتا تھا۔ انہوں نے ایک شخص کو قتل کیا اور اللہ اور اس کے رسول سے لڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خوفزدہ کرنا چاہا۔ عنبسہ نے اس پر کہا: سبحان اللہ! میں نے کہا، کیا تم مجھے جھٹلانا چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ( نہیں ) یہی حدیث انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بھی بیان کی تھی۔ میں نے اس پر تعجب کیا کہ تم کو حدیث خوب یاد رہتی ہے۔ ابوقلابہ نے بیان کیا کہ عنبسہ نے کہا، اے شام والو! جب تک تمہارے یہاں ابوقلابہ یا ان جیسے عالم موجود رہیں گے، تم ہمیشہ اچھے رہو گے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، حدثنا ابن عون، قال حدثني سلمان ابو رجاء، مولى ابي قلابة عن ابي قلابة، انه كان جالسا خلف عمر بن عبد العزيز، فذكروا وذكروا فقالوا وقالوا قد اقادت بها الخلفاء، فالتفت الى ابي قلابة وهو خلف ظهره، فقال ما تقول يا عبد الله بن زيد او قال ما تقول يا ابا قلابة قلت ما علمت نفسا حل قتلها في الاسلام الا رجل زنى بعد احصان، او قتل نفسا بغير نفس، او حارب الله ورسوله صلى الله عليه وسلم. فقال عنبسة حدثنا انس بكذا وكذا. قلت اياى حدث انس قال قدم قوم على النبي صلى الله عليه وسلم فكلموه فقالوا قد استوخمنا هذه الارض. فقال " هذه نعم لنا تخرج، فاخرجوا فيها، فاشربوا من البانها وابوالها ". فخرجوا فيها فشربوا من ابوالها والبانها واستصحوا، ومالوا على الراعي فقتلوه، واطردوا النعم، فما يستبطا من هولاء قتلوا النفس وحاربوا الله ورسوله، وخوفوا رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقال سبحان الله. فقلت تتهمني قال حدثنا بهذا انس. قال وقال يا اهل كذا انكم لن تزالوا بخير ما ابقي هذا فيكم او مثل هذا
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مروان بن معاویہ فزاری نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ربیع نے جو انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں، انصار کی ایک لڑکی کے آگے کے دانت توڑ دیئے۔ لڑکی والوں نے قصاص چاہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قصاص کا حکم دیا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ان کا دانت نہ توڑ ا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انس! لیکن کتاب اللہ کا حکم قصاص ہی کا ہے۔ پھر لڑکی والے معافی پر راضی ہو گئے اور دیت لینا منظور کر لیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بہت سے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم سچی کر دیتا ہے۔
حدثني محمد بن سلام، اخبرنا الفزاري، عن حميد، عن انس رضى الله عنه قال كسرت الربيع وهى عمة انس بن مالك ثنية جارية من الانصار، فطلب القوم القصاص، فاتوا النبي صلى الله عليه وسلم فامر النبي صلى الله عليه وسلم بالقصاص. فقال انس بن النضر عم انس بن مالك لا والله لا تكسر سنها يا رسول الله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا انس كتاب الله القصاص ". فرضي القوم وقبلوا الارش فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من عباد الله من لو اقسم على الله لابره
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے شعبی نے، ان سے مسروق نے کہ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، جو شخص بھی تم سے یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کچھ نازل کیا تھا، اس میں سے آپ نے کچھ چھپا لیا تھا، تو وہ جھوٹا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك» کہ ”اے پیغمبر! جو کچھ آپ پر آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے، یہ ( سب ) آپ ( لوگوں تک ) پہنچا دیں۔“
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن اسماعيل، عن الشعبي، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت من حدثك ان محمدا صلى الله عليه وسلم كتم شييا مما انزل عليه، فقد كذب، والله يقول {يا ايها الرسول بلغ ما انزل اليك} الاية
ہم سے علی بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مالک بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ آیت «لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم» ”اللہ تم سے تمہاری فضول قسموں پر پکڑ نہیں کرتا۔“ کسی کے اس طرح قسم کھانے کے بارے میں نازل ہوئی تھی کہ نہیں، اللہ کی قسم، ہاں اللہ کی قسم!۔
حدثنا علي بن سلمة، حدثنا مالك بن سعير، حدثنا هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها انزلت هذه الاية {لا يواخذكم الله باللغو في ايمانكم} في قول الرجل لا والله، وبلى والله