Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوادریس نے بیان کیا اور انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے اور نہ زنا کرو گے اور نہ چوری کرو گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النساء کی آیتیں پڑھیں۔ سفیان نے اس حدیث میں اکثر یوں کہا کہ آپ نے یہ آیت پڑھی۔ پھر تم میں سے جو شخص اس شرط کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ پر ہے اور جو کوئی ان میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی کر بیٹھا اور اس پر اسے سزا بھی مل گئی تو سزا اس کے لیے کفارہ بن جائے گی لیکن کسی نے اپنے کسی عہد کے خلاف کیا اور اللہ نے اسے چھپا لیا تو وہ اللہ کے حوالے ہے اللہ چاہے تو اسے اس پر عذاب دے اور اگر چاہے معاف کر دے، سفیان کے ساتھ اس حدیث کو عبدالرزاق نے بھی معمر سے روایت کیا انہوں نے زہری سے اور یوں ہی کہا آیت پڑھی۔
{حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال الزهري حدثناه قال حدثني ابو ادريس، سمع عبادة بن الصامت رضى الله عنه قال كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اتبايعوني على ان لا تشركوا بالله شييا ولا تزنوا ولا تسرقوا ". وقرا اية النساء واكثر لفظ سفيان قرا الاية " فمن وفى منكم فاجره على الله، ومن اصاب من ذلك شييا فعوقب فهو كفارة له، ومن اصاب منها شييا من ذلك فستره الله فهو الى الله، ان شاء عذبه وان شاء غفر له} ". تابعه عبد الرزاق عن معمر في الاية
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہارون بن معروف نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا کہ مجھے ابن جریج نے خبر دی، انہیں حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھی ہے۔ ان تمام بزرگوں نے نماز خطبہ سے پہلے پڑھی تھی اور خطبہ بعد میں دیا تھا ( ایک مرتبہ خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اترے گویا اب بھی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، جب آپ لوگوں کو اپنے ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے پھر آپ صف چیرتے ہوئے آگے بڑھے اور عورتوں کے پاس تشریف لائے۔ بلال رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك على أن لا يشركن بالله شيئا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن أولادهن ولا يأتين ببهتان يفترينه بين أيديهن وأرجلهن» یعنی ”اے نبی! جب مومن عورتیں آپ کے پاس آئیں کہ آپ سے ان باتوں پر بیعت کریں کہ اللہ کے ساتھ نہ کسی کو شریک کریں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ بدکاری کریں گی اور نہ اپنے بچوں کو قتل کریں گی اور نہ بہتان لگائیں گی جسے اپنے ہاتھ اور پاؤں کے درمیان گھڑ لیں“ آپ نے پوری آیت آخر تک پڑھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آیت پڑھ چکے تو فرمایا تم ان شرائط پر قائم رہنے کا وعدہ کرتی ہو؟ ان میں سے ایک عورت نے جواب دیا جی ہاں یا رسول اللہ! ان کے سوا اور کسی عورت نے ( شرم کی وجہ سے ) کوئی بات نہیں کہی۔ حسن کو اس عورت کا نام معلوم نہیں تھا بیان کیا کہ پھر عورتوں نے صدقہ دینا شروع کیا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا لیا۔ عورتیں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں چھلے اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا هارون بن معروف، حدثنا عبد الله بن وهب، قال واخبرني ابن جريج، ان الحسن بن مسلم، اخبره عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال شهدت الصلاة يوم الفطر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر وعثمان فكلهم يصليها قبل الخطبة ثم يخطب بعد، فنزل نبي الله صلى الله عليه وسلم فكاني انظر اليه حين يجلس الرجال بيده، ثم اقبل يشقهم حتى اتى النساء مع بلال فقال {يا ايها النبي اذا جاءك المومنات يبايعنك على ان لا يشركن بالله شييا ولا يسرقن ولا يزنين ولا يقتلن اولادهن ولا ياتين ببهتان يفترينه بين ايديهن وارجلهن} حتى فرغ من الاية كلها ثم قال حين فرغ " انتن على ذلك ". وقالت امراة واحدة لم يجبه غيرها نعم يا رسول الله، لا يدري الحسن من هي. قال " فتصدقن " وبسط بلال ثوبه فجعلن يلقين الفتخ والخواتيم في ثوب بلال
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور ان سے زہری نے بیان کیا کہا ہم کو محمد بن جبیر بن مطعم نے خبر دی اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میرے کئی نام ہیں۔ میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں کہ جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کفر کو مٹا دے گا اور میں حاشر ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کو حشر میں میرے بعد جمع کرے گا اور میں عاقب ہوں۔ یعنی سب پیغمبروں کے بعد دنیا میں آنے والا ہوں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان لي اسماء، انا محمد، وانا احمد، وانا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر، وانا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي، وانا العاقب
مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان بن ہلال نے بیان کیا، ان سے ثور نے، ان سے ابوالغیث سالم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورۃ الجمعہ کی یہ آیتیں نازل ہوئیں «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» الایۃ اور دوسروں کے لیے بھی جو ابھی ان میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہادی اور معلم ہیں ) بیان کیا میں نے عرض کی یا رسول اللہ! یہ دوسرے کون لوگ ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر یہی سوال تین مرتبہ کیا۔ مجلس میں سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ہاتھ رکھ کر فرمایا اگر ایمان ثریا پر بھی ہو گا تب بھی ان لوگوں ( یعنی فارس والوں ) میں سے اس تک پہنچ جائیں گے یا یوں فرمایا کہ ایک آدمی ان لوگوں میں سے اس تک پہنچ جائے گا۔
حدثني عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني سليمان بن بلال، عن ثور، عن ابي الغيث، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم فانزلت عليه سورة الجمعة {واخرين منهم لما يلحقوا بهم} قال قلت من هم يا رسول الله فلم يراجعه حتى سال ثلاثا، وفينا سلمان الفارسي، وضع رسول الله صلى الله عليه وسلم يده على سلمان ثم قال " لو كان الايمان عند الثريا لناله رجال او رجل من هولاء
ہم سے عبدالعزیز بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا، انہیں ثور نے اور ان سے ابوالغیث نے، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ان کی قوم کے کچھ لوگ اسے پا لیں گے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا عبد العزيز، اخبرني ثور، عن ابي الغيث، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم " لناله رجال من هولاء
مجھ سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ابوسفیان نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے بیان کیا کہ جمعہ کے دن سامان تجارت لیے ہوئے اونٹ آئے ہم اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے انہیں دیکھ کر سوائے بارہ آدمی کے سب لوگ ادھر ہی دوڑ پڑے۔ اس پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «وإذا رأوا تجارة أو لهوا انفضوا إليها» الایۃ یعنی اور بعض لوگوں نے جب کبھی ایک سودے یا تماشے کی چیز کو دیکھا تو اس کی طرف دوڑے ہوئے پھیل گئے۔
حدثني حفص بن عمر، حدثنا خالد بن عبد الله، حدثنا حصين، عن سالم بن ابي الجعد، وعن ابي سفيان، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال اقبلت عير يوم الجمعة ونحن مع النبي صلى الله عليه وسلم فثار الناس الا اثنا عشر رجلا فانزل الله {واذا راوا تجارة او لهوا انفضوا اليها}
ہم سے عبداللہ بن رجاء نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا، ان سے اسحاق نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ایک غزوہ ( غزوہ تبوک ) میں تھا اور میں نے ( منافقوں کے سردار ) عبداللہ بن ابی کو یہ کہتے سنا کہ جو لوگ ( مہاجرین ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہیں ان پر خرچ نہ کرو تاکہ وہ خود ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا ہو جائیں گے۔ اس نے یہ بھی کہا اب اگر ہم مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلت والوں کو نکال باہر کرے گا۔ میں نے اس کا ذکر اپنے چچا ( سعد بن عبادہ انصاری ) سے کیا یا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا۔ ( راوی کو شک تھا ) انہوں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا میں نے تمام باتیں آپ کو سنا دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلا بھیجا۔ انہوں نے قسم کھا لی کہا کہ انہوں نے اس طرح کی کوئی بات نہیں کہی تھی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو جھوٹا سمجھا اور عبداللہ کو سچا سمجھا۔ مجھے اس کا اتنا صدمہ ہوا کہ ایسا کبھی نہ ہوا تھا۔ پھر میں گھر میں بیٹھ رہا۔ میرے چچا نے کہا کہ میرا خیال نہیں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری تکذیب کریں گے اور تم پر ناراض ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی «إذا جاءك المنافقون» ”جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں“ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور اس سورت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ اے زید! اللہ تعالیٰ نے تم کو سچا کر دیا ہے۔
حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن زيد بن ارقم، قال كنت في غزاة فسمعت عبد الله بن ابى، يقول لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا من حوله ولو رجعنا من عنده ليخرجن الاعز منها. الاذل فذكرت ذلك لعمي او لعمر فذكره للنبي صلى الله عليه وسلم فدعاني فحدثته فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم الى عبد الله بن ابى واصحابه فحلفوا ما قالوا فكذبني رسول الله صلى الله عليه وسلم وصدقه فاصابني هم لم يصبني مثله قط، فجلست في البيت فقال لي عمي ما اردت الى ان كذبك رسول الله صلى الله عليه وسلم ومقتك. فانزل الله تعالى {اذا جاءك المنافقون} فبعث الى النبي صلى الله عليه وسلم فقرا فقال " ان الله قد صدقك يا زيد
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ان سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اپنے چچا ( سعد بن عبادہ یا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہما ) کے ساتھ تھا میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے بھاگ جائیں۔ یہ بھی کہا کہ اگر اب ہم مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال کر باہر کر دے گا۔ میں نے اس کی یہ بات چچا سے آ کر کہی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو بلوایا انہوں نے قسم کھا لی کہ ایسی کوئی بات انہوں نے نہیں کہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان کو سچا جانا اور مجھ کو جھوٹا سمجھا۔ مجھے اس اتنا صدمہ پہنچا کہ ایسا کبھی نہیں پہنچا ہو گا پھر میں گھر کے اندر بیٹھ گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سورت نازل کی «إذا جاءك المنافقون» سے «هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله» اور آیت «ليخرجن الأعز منها الأذل» تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور میرے سامنے اس سورت کی تلاوت کی پھر فرمایا کہ اللہ نے تمہارے بیان کو سچا کر دیا ہے۔
حدثنا ادم بن ابي اياس، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن زيد بن ارقم رضى الله عنه قال كنت مع عمي فسمعت عبد الله بن ابى ابن سلول يقول لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا. وقال ايضا لين رجعنا الى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل. فذكرت ذلك لعمي فذكر عمي لرسول الله صلى الله عليه وسلم فارسل رسول الله صلى الله عليه وسلم الى عبد الله بن ابى واصحابه، فحلفوا ما قالوا، فصدقهم رسول الله صلى الله عليه وسلم وكذبني، فاصابني هم لم يصبني مثله، فجلست في بيتي، فانزل الله عز وجل {اذا جاءك المنافقون} الى قوله {هم الذين يقولون لا تنفقوا على من عند رسول الله} الى قوله {ليخرجن الاعز منها الاذل} فارسل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقراها على ثم قال " ان الله قد صدقك
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن کعب قرظی سے سنا، کہا کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول نے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہیں ان پر خرچ نہ کرو یہ بھی کہا کہ اب اگر ہم مدینہ واپس گئے تو ہم سے عزت والا ذلیلوں کو نکال باہر کرے گا تو میں نے یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی۔ اس پر کفار نے مجھے ملامت کی اور عبداللہ بن ابی نے قسم کھا لی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی تھی پھر میں گھر واپس آ گیا اور سو گیا۔ اس کے بعد مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے طلب فرمایا اور میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تصدیق میں آیت نازل کر دی ہے اور یہ آیت اتری ہے «هم الذين يقولون لا تنفقوا» الخ آخر تک۔ اور ابن ابی زائدہ نے اعمش سے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح نقل کیا۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن الحكم، قال سمعت محمد بن كعب القرظي، قال سمعت زيد بن ارقم رضى الله عنه قال لما قال عبد الله بن ابى لا تنفقوا على من عند رسول الله. وقال ايضا لين رجعنا الى المدينة. اخبرت به النبي صلى الله عليه وسلم فلامني الانصار، وحلف عبد الله بن ابى ما قال ذلك، فرجعت الى المنزل فنمت فدعاني رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتيته فقال " ان الله قد صدقك ". ونزل {هم الذين يقولون لا تنفقوا} الاية. وقال ابن ابي زايدة عن الاعمش عن عمرو عن ابن ابي ليلى عن زيد عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر ( غزوہ تبوک یا بنی مصطلق ) میں تھے جس میں لوگوں پر بڑے تنگ اوقات آئے تھے۔ عبداللہ بن ابی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع ہیں ان پر کچھ خرچ مت کرو تاکہ وہ ان کے پاس سے منتشر ہو جائیں گے۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم اب مدینہ لوٹ کر جائیں گے تو عزت والا وہاں سے ذلیلوں کو نکال باہر کرے گا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کی اس گفتگو کی اطلاع دی تو آپ نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو بلا کر پوچھا۔ اس نے بڑی قسمیں کھا کر کہا کہ میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی۔ لوگوں نے کہا کہ زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جھوٹ بولا ہے۔ لوگوں کی اس طرح کی باتوں سے میں بڑا رنجیدہ ہوا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میری تصدیق فرمائی اور یہ آیت نازل ہوئی «إذا جاءك المنافقون» الخ یعنی جب آپ کے پاس منافق آئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلایا تاکہ ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں لیکن انہوں نے اپنے سر پھیر لیے۔ زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «خشب مسندة» گویا وہ بہت بڑے لکڑی کے کھمبے ہیں ( ان کے متعلق اس لیے کہا گیا کہ ) وہ بڑے خوبصورت اور ڈیل ڈول معقول مگر دل میں منافق تھے۔
حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا ابو اسحاق، قال سمعت زيد بن ارقم، قال خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر اصاب الناس فيه شدة، فقال عبد الله بن ابى لاصحابه لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا من حوله. وقال لين رجعنا الى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل. فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته فارسل الى عبد الله بن ابى فساله، فاجتهد يمينه ما فعل، قالوا كذب زيد رسول الله صلى الله عليه وسلم فوقع في نفسي مما قالوا شدة، حتى انزل الله عز وجل تصديقي في {اذا جاءك المنافقون} فدعاهم النبي صلى الله عليه وسلم ليستغفر لهم فلووا رءوسهم. وقوله {خشب مسندة} قال كانوا رجالا اجمل شىء
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے اپنے چچا کے ساتھ تھا میں نے عبداللہ بن ابی ابن سلول کو کہتے سنا کہ جو لوگ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہو جائیں اور اگر اب ہم مدینہ واپس لوٹیں گے تو ہم میں سے جو عزت والے ہیں ان ذلیلوں کو نکال باہر کر دیں گے۔ میں نے اس کا ذکر اپنے چچا سے کیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی کی تصدیق کر دی تو مجھے اس کا اتنا افسوس ہوا کہ پہلے کبھی کسی بات پر نہ ہوا ہو گا، میں غم سے اپنے گھر میں بیٹھ گیا۔ میرے چچا نے کہا کہ تمہارا کیا ایسا خیال تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں جھٹلایا اور تم پر خفا ہوئے ہیں؟ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إذا جاءك المنافقون قالوا نشهد إنك لرسول الله» ”جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ آپ بیشک اللہ کے رسول ہیں“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوا کر اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری تصدیق نازل کر دی ہے۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن زيد بن ارقم، قال كنت مع عمي فسمعت عبد الله بن ابى ابن سلول، يقول لا تنفقوا على من عند رسول الله حتى ينفضوا، ولين رجعنا الى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل. فذكرت ذلك لعمي، فذكر عمي للنبي صلى الله عليه وسلم {فدعاني فحدثته، فارسل الى عبد الله بن ابى واصحابه فحلفوا ما قالوا، وكذبني النبي صلى الله عليه وسلم} وصدقهم، فاصابني غم لم يصبني مثله قط، فجلست في بيتي وقال عمي ما اردت الى ان كذبك النبي صلى الله عليه وسلم ومقتك. فانزل الله تعالى {اذا جاءك المنافقون قالوا نشهد انك لرسول الله} وارسل الى النبي صلى الله عليه وسلم فقراها وقال " ان الله قد صدقك
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم ایک غزوہ ( غزوہ تبوک ) میں تھے۔ سفیان نے ایک مرتبہ ( بجائے غزوہ کے ) جیش ( لشکر ) کا لفظ کہا۔ مہاجرین میں سے ایک آدمی نے انصار کے ایک آدمی کو لات مار دی۔ انصاری نے کہا کہ اے انصاریو! دوڑو اور مہاجر نے کہا اے مہاجرین! دوڑو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے سنا اور فرمایا کیا قصہ ہے؟ یہ جاہلیت کی پکار کیسی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ! ایک مہاجر نے ایک انصاری کو لات سے مار دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح جاہلیت کی پکار کو چھوڑ دو کہ یہ نہایت ناپاک باتیں ہیں۔ عبداللہ بن ابی نے بھی یہ بات سنی تو کہا اچھا اب یہاں تک نوبت پہنچ گئی۔ خدا کی قسم! جب ہم مدینہ لوٹیں گے تو ہم سے عزت والا ذلیلوں کو نکال کر باہر کر دے گا۔ اس کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ گئی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کو ختم کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو تاکہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ساتھیوں کو قتل کرا دیتے ہیں۔ جب مہاجرین مدینہ منورہ میں آئے تو انصار کی تعداد سے ان کی تعداد کم تھی۔ لیکن بعد میں ان مہاجرین کی تعداد زیادہ ہو گئی تھی۔ سفیان نے بیان کیا کہ میں نے حدیث عمرو بن دینار سے یاد کی، عمرو نے بیان کیا کہ میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، قال عمرو سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال كنا في غزاة قال سفيان مرة في جيش فكسع رجل من المهاجرين رجلا من الانصار فقال الانصاري يا للانصار. وقال المهاجري يا للمهاجرين. فسمع ذاك رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما بال دعوى جاهلية " قالوا يا رسول الله كسع رجل من المهاجرين رجلا من الانصار. فقال " دعوها فانها منتنة ". فسمع بذلك عبد الله بن ابى فقال فعلوها، اما والله لين رجعنا الى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل. فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فقام عمر فقال يا رسول الله دعني اضرب عنق هذا المنافق. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " دعه لا يتحدث الناس ان محمدا يقتل اصحابه " وكانت الانصار اكثر من المهاجرين حين قدموا المدينة، ثم ان المهاجرين كثروا بعد. قال سفيان فحفظته من عمرو قال عمرو سمعت جابرا كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن فضل نے بیان کیا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کا بیان نقل کیا کہ مقام حرہ میں جو لوگ شہید کر دیئے گئے تھے ان پر مجھے بڑا رنج ہوا۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہما کو میرے غم کی اطلاع پہنچی تو انہوں نے مجھے لکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اے اللہ! انصار کی مغفرت فرما اور ان کے بیٹوں کی بھی مغفرت فرما۔ عبداللہ بن فضل کو اس میں شک تھا کہ آپ نے انصار کے بیٹوں کے بیٹوں کا بھی ذکر کیا تھا یا نہیں۔ انس رضی اللہ عنہ سے ان کی مجلس کے حاضرین میں سے کسی نے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہما ہی وہ ہیں جن کے سننے کی اللہ تعالیٰ نے تصدیق کی تھی۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني اسماعيل بن ابراهيم بن عقبة، عن موسى بن عقبة، قال حدثني عبد الله بن الفضل، انه سمع انس بن مالك، يقول حزنت على من اصيب بالحرة فكتب الى زيد بن ارقم وبلغه شدة حزني يذكر انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اغفر للانصار ولابناء الانصار " وشك ابن الفضل في ابناء ابناء الانصار فسال انسا بعض من كان عنده فقال هو الذي يقول رسول الله صلى الله عليه وسلم " هذا الذي اوفى الله له باذنه
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے یاد کی، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ہم ایک غزوہ میں تھے، اچانک مہاجرین کے ایک آدمی نے انصاری کے ایک آدمی کو مار دیا۔ انصار نے کہا: اے انصاریو! دوڑو اور مہاجر نے کہا: اے مہاجرین! دوڑو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا بات ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری کو مار دیا ہے۔ اس پر انصاری نے کہا کہ اے انصاریو! دوڑو اور مہاجر نے کہا کہ اے مہاجرین! دوڑو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس طرح پکارنا چھوڑ دو کہ یہ نہایت ناپاک باتیں ہیں۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو شروع میں انصار کی تعداد زیادہ تھی لیکن بعد میں مہاجرین زیادہ ہو گئے تھے۔ عبداللہ بن ابی نے کہا اچھا اب نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے۔ اللہ کی قسم! مدینہ واپس ہو کر عزت والے ذلیلوں کو باہر نکال دیں گے۔ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اجازت ہو تو اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ورنہ لوگ یوں کہیں گے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنے ساتھیوں کو قتل کرانے لگے ہیں۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، قال حفظناه من عمرو بن دينار قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما يقول كنا في غزاة فكسع رجل من المهاجرين رجلا من الانصار فقال الانصاري يا للانصار. وقال المهاجري يا للمهاجرين. فسمعها الله رسوله صلى الله عليه وسلم قال " ما هذا ". فقالوا كسع رجل من المهاجرين رجلا من الانصار فقال الانصاري يا للانصار. وقال المهاجري ياللمهاجرين. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " دعوها فانها منتنة ". قال جابر وكانت الانصار حين قدم النبي صلى الله عليه وسلم اكثر، ثم كثر المهاجرون بعد، فقال عبد الله بن ابى اوقد فعلوا، والله لين رجعنا الى المدينة ليخرجن الاعز منها الاذل. فقال عمر بن الخطاب رضى الله عنه دعني يا رسول الله اضرب عنق هذا المنافق. قال النبي صلى الله عليه وسلم " دعه لا يتحدث الناس ان محمدا يقتل اصحابه
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو سالم نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے اپنی بیوی آمنہ بنت غفار کو جبکہ وہ حائضہ تھیں طلاق دے دی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ اس پر بہت غصہ ہوئے اور فرمایا کہ وہ ان سے ( اپنی بیوی سے ) رجوع کر لیں اور اپنے نکاح میں رکھیں یہاں تک کہ وہ ماہواری سے پاک ہو جائے پھر ماہواری آئے اور پھر وہ اس سے پاک ہو، اب اگر وہ طلاق دینا مناسب سمجھیں تو اس کی پاکی ( طہر ) کے زمانہ میں ان کے ساتھ ہمبستری سے پہلے طلاق دے سکتے ہیں بس یہی وہ وقت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ( مردوں کو ) حکم دیا ہے کہ اس میں یعنی حالت طہر میں طلاق دیں۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني سالم، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما اخبره انه، طلق امراته وهى حايض، فذكر عمر لرسول الله صلى الله عليه وسلم فتغيظ فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال " ليراجعها ثم يمسكها حتى تطهر، ثم تحيض فتطهر، فان بدا له ان يطلقها فليطلقها طاهرا قبل ان يمسها فتلك العدة كما امره الله
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آنے والے نے پوچھا کہ آپ مجھے اس عورت کے متعلق مسئلہ بتائیے جس نے اپنے شوہر کی وفات کے چار مہینے بعد بچہ جنا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جس کا خاوند فوت ہو وہ عدت کی دو مدتوں میں جو مدت لمبی ہو اس کی رعایت کرے۔ ( ابوسلمہ نے بیان کیا کہ ) میں نے عرض کیا کہ ( قرآن مجید میں تو ان کی عدت کا یہ حکم ہے ) حمل والیوں کی عدت ان کے حمل کا پیدا ہو جانا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں بھی اس مسئلہ میں اپنے بھتیجے کے ساتھ ہوں۔ ان کی مراد ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے تھی آخر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کریب کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا یہی مسئلہ پوچھنے کے لیے۔ ام المؤمنین نے بتایا کہ سبیعہ اسلمیہ کے شوہر ( سعد بن خولہ رضی اللہ عنہما ) شہید کر دیئے گئے تھے وہ اس وقت حاملہ تھیں شوہر کی موت کے چالیس دن بعد ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا پھر ان کے پاس نکاح کا پیغام پہنچا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح کر دیا۔ ابوالسنابل بھی ان کے پاس پیغام نکاح بھیجنے والوں میں سے تھے۔
حدثنا سعد بن حفص، حدثنا شيبان، عن يحيى، قال اخبرني ابو سلمة، قال جاء رجل الى ابن عباس وابو هريرة جالس عنده فقال افتني في امراة ولدت بعد زوجها باربعين ليلة. فقال ابن عباس اخر الاجلين. قلت انا {واولات الاحمال اجلهن ان يضعن حملهن} قال ابو هريرة انا مع ابن اخي يعني ابا سلمة فارسل ابن عباس غلامه كريبا الى ام سلمة يسالها فقالت قتل زوج سبيعة الاسلمية وهى حبلى، فوضعت بعد موته باربعين ليلة فخطبت فانكحها رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان ابو السنابل فيمن خطبها
اور سلیمان بن حرب اور النعمان نے بیان کیا، کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے اور ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں ایک مجلس میں جس میں عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ بھی تھے موجود تھا۔ ان کے شاگرد ان کی بہت عزت کیا کرتے تھے۔ میں نے وہاں سبیعہ بنت الحارث کا عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے بیان کیا کہ اس پر ان کے شاگرد نے زبان اور آنکھوں کے اشارے سے ہونٹ کاٹ کر مجھے تنبیہ کی۔ محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میں سمجھ گیا اور کہا کہ عبداللہ بن عتبہ کوفہ میں ابھی زندہ موجود ہیں۔ اگر میں ان کی طرف بھی جھوٹ نسبت کرتا ہوں تو بڑی جرات کی بات ہو گی مجھے تنبیہ کرنے والے صاحب اس پر شرمندہ ہو گئے اور عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے کہا لیکن ان کے چچا تو یہ بات نہیں کرتے تھے۔ ( ابن سیرین نے بیان کیا کہ ) پھر میں ابوعطیہ مالک بن عامر سے ملا اور ان سے یہ مسئلہ پوچھا وہ بھی سبیعہ والی حدیث بیان کرنے لگے لیکن میں نے ان سے کہا آپ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی اس سلسلہ میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے بیان کیا کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے تو انہوں نے کہا کیا تم اس پر ( جس کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور وہ حاملہ ہو۔ عدت کی مدت کو طول دے کر ) سختی کرنا چاہتے ہو اور رخصت و سہولت دینے کے لیے تیار نہیں، بات یہ ہے کہ چھوٹی سورۃ نساء یعنی ( سورۃ الطلاق ) بڑی سورۃ النساء کے بعد نازل ہوئی ہے اور کہا «وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن» الایۃ اور حمل والیوں کی عدت ان کے حمل کا پیدا ہو جانا ہے۔
وقال سليمان بن حرب وابو النعمان حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد، قال كنت في حلقة فيها عبد الرحمن بن ابي ليلى وكان اصحابه يعظمونه، فذكر اخر الاجلين فحدثت بحديث سبيعة بنت الحارث عن عبد الله بن عتبة قال فضمز لي بعض اصحابه. قال محمد ففطنت له فقلت اني اذا لجريء ان كذبت على عبد الله بن عتبة وهو في ناحية الكوفة. فاستحيا وقال لكن عمه لم يقل ذاك. فلقيت ابا عطية مالك بن عامر فسالته فذهب يحدثني حديث سبيعة فقلت هل سمعت عن عبد الله فيها شييا فقال كنا عند عبد الله فقال اتجعلون عليها التغليظ ولا تجعلون عليها الرخصة. لنزلت سورة النساء القصرى بعد الطولى {واولات الاحمال اجلهن ان يضعن حملهن}
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے، ان سے ابن حکیم نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس نے کہا کہ اگر کسی نے اپنے اوپر کوئی حلال چیز حرام کر لی تو اس کا کفارہ دینا ہو گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «لقد كان لكم في رسول الله إسوة حسنة» یعنی ”بیشک تمہارے لیے تمہارے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔“
حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا هشام، عن يحيى، عن ابن حكيم، عن سعيد بن جبير، ان ابن عباس رضى الله عنهما قال في الحرام يكفر. وقال ابن عباس {لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة}
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے، انہیں عطاء نے، انہیں عبید بن عمیر اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے گھر میں شہد پیتے اور وہاں ٹھہرتے تھے پھر میں نے اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایسے کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( زینب کے یہاں سے شہد پی کر آنے کے بعد ) داخل ہوں تو وہ کہے کہ کیا آپ نے پیاز کھائی ہے۔ آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آتی ہے۔ چنانچہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو منصوبہ بندی کے تحت یہی کہا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدبو کو بہت ناپسند فرماتے تھے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے مغافیر نہیں کھائی ہے البتہ زینب بنت جحش کے یہاں سے شہد پیا تھا لیکن اب اسے بھی ہرگز نہیں پیوں گا۔ میں نے اس کی قسم کھا لی ہے لیکن تم کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام بن يوسف، عن ابن جريج، عن عطاء، عن عبيد بن عمير، عن عايشة رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يشرب عسلا عند زينب ابنة جحش ويمكث عندها فواطيت انا وحفصة عن ايتنا دخل عليها فلتقل له اكلت مغافير اني اجد منك ريح مغافير. قال " لا ولكني كنت اشرب عسلا عند زينب ابنة جحش فلن اعود له وقد حلفت لا تخبري بذلك احدا
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبید بن حنین نے کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے کہا ایک آیت کے متعلق عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے پوچھنے کے لیے ایک سال تک میں تردد میں رہا، ان کا اتنا ڈر غالب تھا کہ میں ان سے نہ پوچھ سکا۔ آخر وہ حج کے لیے گئے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا، واپسی میں جب ہم راستہ میں تھے تو رفع حاجت کے لیے وہ پیلو کے درخت میں گئے۔ بیان کیا کہ میں ان کے انتظار میں کھڑا رہا جب وہ فارغ ہو کر آئے تو پھر میں ان کے ساتھ چلا اس وقت میں نے عرض کیا۔ امیرالمؤمنین! امہات المؤمنین میں وہ کون دو عورتیں تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے متفقہ منصوبہ بنایا تھا؟ انہوں نے بتلایا کہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما تھیں۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا اللہ کی قسم میں یہ سوال آپ سے کرنے کے لیے ایک سال سے ارادہ کر رہا تھا لیکن آپ کے رعب کی وجہ سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ایسا نہ کیا کرو جس مسئلہ کے متعلق تمہارا خیال ہو کہ میرے پاس اس سلسلے میں کوئی علم ہے تو اسے پوچھ لیا کرو، اگر میرے پاس اس کا کوئی علم ہو گا تو تمہیں بتا دیا کروں گا۔ بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جاہلیت میں ہماری نظر میں عورتوں کی کوئی عزت نہ تھی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں وہ احکام نازل کئے جو نازل کرنے تھے اور ان کے حقوق مقرر کئے جو مقرر کرنے تھے۔ بتلایا کہ ایک دن میں سوچ رہا تھا کہ میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ بہتر ہے اگر تم اس معاملہ کا فلاں فلاں طرح کرو، میں نے کہا تمہارا اس میں کیا کام۔ معاملہ مجھ سے متعلق ہے تم اس میں دخل دینے والی کون ہوتی ہو؟ میری بیوی نے اس پر کہا: خطاب کے بیٹے! تمہارے اس طرز عمل پر حیرت ہے تم اپنی باتوں کا جواب برداشت نہیں کر سکتے تمہاری لڑکی ( حفصہ ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی جواب دے دیتی ہیں ایک دن تو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ بھی کر دیا تھا۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر اوڑھ کر حفصہ کے گھر پہنچے اور فرمایا بیٹی! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کا جواب دے دیتی ہو یہاں تک کہ ایک دن تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دن بھر ناراض بھی رکھا ہے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: جی ہاں، اللہ کی قسم! ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی جواب دے دیتے ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے کہا جان لو میں تمہیں اللہ کی سزا اور اس کے رسول کی سزا ( ناراضگی ) سے ڈراتا ہوں۔ بیٹی! اس عورت کی وجہ سے دھوکا میں نہ آ جانا جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت حاصل کر لی ہے۔ ان کا اشارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف تھا کہا کہ پھر میں وہاں سے نکل کر ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا کیونکہ وہ بھی میری رشتہ دار تھیں۔ میں نے ان سے بھی گفتگو کی انہوں نے کہا ابن خطاب! تعجب ہے کہ آپ ہر معاملہ میں دخل اندازی کرتے ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج کے معاملات میں بھی دخل دیں۔ اللہ کی قسم! انہوں نے میری ایسی گرفت کی کہ میرے غصہ کو ٹھنڈا کر کے رکھ دیا، میں ان کے گھر سے باہر نکل آیا۔ میرے ایک انصاری دوست تھے، جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں حاضر نہ ہوتا تو وہ مجلس کی تمام باتیں مجھ سے آ کر بتایا کرتے اور جب وہ حاضر نہ ہوتے تو میں انہیں آ کر بتایا کرتا تھا۔ اس زمانہ میں ہمیں غسان کے بادشاہ کی طرف سے ڈر تھا اطلاع ملی تھی کہ وہ مدینہ پر چڑھائی کرنے کا ارادہ کر رہا ہے، اس زمانہ میں کئی عیسائی اور ایرانی بادشاہ ایسا غلط گھمنڈ رکھتے تھے کہ یہ مسلمان کیا ہیں ہم جب چاہیں گے ان کا صفایا کر دیں گے مگر یہ سارے خیالات غلط ثابت ہوئے اللہ نے اسلام کو غالب کیا۔ چنانچہ ہم کو ہر وقت یہی خطرہ رہتا تھا، ایک دن اچانک میرے انصاری دوست نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا کھولو! کھولو! کھولو! میں نے کہا معلوم ہوتا ہے غسانی آ گئے۔ انہوں نے کہا بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم معاملہ پیش آ گیا ہے، وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ میں نے کہا حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما کی ناک غبار آلود ہو۔ چنانچہ میں نے اپنا کپڑا پہنا اور باہر نکل آیا۔ میں جب پہنچا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالاخانہ میں تشریف رکھتے تھے جس پر سیڑھی سے چڑھا جاتا تھا۔ نبی کریم کا ایک حبشی غلام ( رباح ) سیڑھی کے سرے پر موجود تھا، میں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ عمر بن خطاب آیا ہے اور اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ کر اپنا سارا واقعہ سنایا۔ جب میں ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی گفتگو پر پہنچا تو آپ کو ہنسی آ گئی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی ایک چٹائی پر تشریف رکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک اور اس چٹائی کے درمیان کوئی اور چیز نہیں تھی آپ کے سر کے نیچے ایک چمڑے کا تکیہ تھا۔ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ پاؤں کی طرف کیکر کے پتوں کا ڈھیر تھا اور سر کی طرف مشکیزہ لٹک رہا تھا۔ میں نے چٹائی کے نشانات آپ کے پہلو پر دیکھے تو رو پڑا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کس بات پر رونے لگے ہو میں نے عرض کی یا رسول اللہ! قیصر و کسریٰ کو دنیا کا ہر طرح کا آرام مل رہا ہے آپ اللہ کے رسول ہیں ( آپ پھر ایسی تنگ زندگی گزارتے ہیں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ ان کے حصہ میں دنیا ہے اور ہمارے حصہ میں آخرت ہے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا سليمان بن بلال، عن يحيى، عن عبيد بن حنين، انه سمع ابن عباس رضى الله عنهما يحدث انه قال مكثت سنة اريد ان اسال عمر بن الخطاب عن اية، فما استطيع ان اساله هيبة له، حتى خرج حاجا فخرجت معه فلما رجعت وكنا ببعض الطريق عدل الى الاراك لحاجة له قال فوقفت له حتى فرغ سرت معه فقلت يا امير المومنين من اللتان تظاهرت�� على النبي صلى الله عليه وسلم من ازواجه فقال تلك حفصة وعايشة. قال فقلت والله ان كنت لاريد ان اسالك عن هذا منذ سنة، فما استطيع هيبة لك. قال فلا تفعل ما ظننت ان عندي من علم فاسالني، فان كان لي علم خبرتك به قال ثم قال عمر والله ان كنا في الجاهلية ما نعد للنساء امرا، حتى انزل الله فيهن ما انزل وقسم لهن ما قسم قال فبينا انا في امر اتامره اذ قالت امراتي لو صنعت كذا وكذا قال فقلت لها مالك ولما ها هنا فيما تكلفك في امر اريده. فقالت لي عجبا لك يا ابن الخطاب ما تريد ان تراجع انت، وان ابنتك لتراجع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يظل يومه غضبان. فقام عمر فاخذ رداءه مكانه حتى دخل على حفصة فقال لها يا بنية انك لتراجعين رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى يظل يومه غضبان. فقالت حفصة والله انا لنراجعه. فقلت. تعلمين اني احذرك عقوبة الله وغضب رسوله صلى الله عليه وسلم يا بنية لا يغرنك هذه التي اعجبها حسنها حب رسول الله صلى الله عليه وسلم اياها يريد عايشة قال ثم خرجت حتى دخلت على ام سلمة لقرابتي منها فكلمتها. فقالت ام سلمة عجبا لك يا ابن الخطاب دخلت في كل شىء، حتى تبتغي ان تدخل بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وازواجه. فاخذتني والله اخذا كسرتني عن بعض ما كنت اجد، فخرجت من عندها، وكان لي صاحب من الانصار اذا غبت اتاني بالخبر، واذا غاب كنت انا اتيه بالخبر، ونحن نتخوف ملكا من ملوك غسان، ذكر لنا انه يريد ان يسير الينا، فقد امتلات صدورنا منه، فاذا صاحبي الانصاري يدق الباب فقال افتح افتح. فقلت جاء الغساني فقال بل اشد من ذلك. اعتزل رسول الله صلى الله عليه وسلم ازواجه. فقلت رغم انف حفصة وعايشة. فاخذت ثوبي فاخرج حتى جيت فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم في مشربة له يرقى عليها بعجلة، وغلام لرسول الله صلى الله عليه وسلم اسود على راس الدرجة فقلت له قل هذا عمر بن الخطاب. فاذن لي قال عمر فقصصت على رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا الحديث، فلما بلغت حديث ام سلمة تبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وانه لعلى حصير ما بينه وبينه شىء، وتحت راسه وسادة من ادم حشوها ليف، وان عند رجليه قرظا مصبوبا، وعند راسه اهب معلقة فرايت اثر الحصير في جنبه فبكيت فقال " ما يبكيك ". فقلت يا رسول الله ان كسرى وقيصر فيما هما فيه وانت رسول الله. فقال " اما ترضى ان تكون لهم الدنيا ولنا الاخرة