Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، کہا میں نے عبید بن حنین سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ایک بات پوچھنے کا ارادہ کیا اور عرض کیا امیرالمؤمنین! وہ کون دو عورتیں تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ستانے کے لیے منصوبہ بنایا تھا؟ ابھی میں نے اپنی بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ انہوں نے کہا وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، حدثنا يحيى بن سعيد، قال سمعت عبيد بن حنين، قال سمعت ابن عباس رضى الله عنهما يقول اردت ان اسال عمر فقلت يا امير المومنين من المراتان اللتان تظاهرتا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فما اتممت كلامي حتى قال عايشة وحفصة
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن انصاری نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبید بن حنین سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے ان عورتوں کے متعلق سوال کرنا چاہا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر زور کیا تھا۔ ایک سال اسی فکر میں رہا اور مجھے کوئی موقع نہیں ملتا تھا آخر ان کے ساتھ حج کے لیے نکلا ( واپسی میں ) جب ہم مقام ظہران میں تھے تو عمر رضی اللہ عنہ رفع حاجت کے لیے گئے۔ پھر کہا کہ میرے لیے وضو کا پانی لاؤ، میں ایک برتن میں پانی لایا اور ان کو وضو کرانے لگا اس وقت مجھ کو موقع ملا۔ میں نے عرض کیا امیرالمؤمنین! وہ عورتیں کون تھیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابل ایسا کیا تھا؟ ابھی میں نے اپنی بات پوری نہ کی تھی انہوں نے کہا کہ وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما تھیں۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا يحيى بن سعيد، قال سمعت عبيد بن حنين، يقول سمعت ابن عباس، يقول اردت ان اسال، عمر عن المراتين اللتين، تظاهرتا على رسول الله صلى الله عليه وسلم فمكثت سنة فلم اجد له موضعا، حتى خرجت معه حاجا، فلما كنا بظهران ذهب عمر لحاجته فقال ادركني بالوضوء فادركته بالاداوة، فجعلت اسكب عليه ورايت موضعا فقلت يا امير المومنين من المراتان اللتان تظاهرتا قال ابن عباس فما اتممت كلامي حتى قال عايشة وحفصة
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیرت دلانے کے لیے جمع ہو گئیں تو میں نے ان سے کہا اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار تمہارے بدلے میں انہیں تم سے بہتر بیویاں دیدے گا۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی «عسى ربه إن طلقكن» آخر تک۔
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا هشيم، عن حميد، عن انس، قال قال عمر رضى الله عنه اجتمع نساء النبي صلى الله عليه وسلم في الغيرة عليه فقلت لهن عسى ربه ان طلقكن ان يبدله ازواجا خيرا منكن. فنزلت هذه الاية
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابوحصین نے، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «عتل بعد ذلك زنيم» یعنی ”وہ ظالم سخت مزاج ہے اس کے علاوہ حرامی بھی ہے۔“ کے متعلق فرمایا کہ یہ آیت قریش کے ایک شخص کے بارے میں ہوئی تھی اس کی گردن میں نشانی تھی جیسے بکری میں نشانی ہوتی ہے کہ بعض ان میں کا کوئی عضو بڑھا ہوا ہوتا ہے۔
حدثنا محمود، حدثنا عبيد الله، عن اسراييل، عن ابي حصين، عن مجاهد، عن ابن عباس رضى الله عنهما {عتل بعد ذلك زنيم} قال رجل من قريش له زنمة مثل زنمة الشاة
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے عبد بن خالد سے بیان کیا، کہا کہ میں نے حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میں تمہیں بہشتی آدمی کے متعلق نہ بتا دوں۔ وہ دیکھنے میں کمزور ناتواں ہوتا ہے ( لیکن اللہ کے یہاں اس کا مرتبہ یہ ہے کہ ) اگر کسی بات پر اللہ کی قسم کھا لے تو اللہ اسے ضرور پوری کر دیتا ہے اور کیا میں تمہیں دوزخ والوں کے متعلق نہ بتا دوں ہر بدخو، بھاری جسم والا اور تکبر کرنے والا۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن معبد بن خالد، قال سمعت حارثة بن وهب الخزاعي، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الا اخبركم باهل الجنة كل ضعيف متضعف لو اقسم على الله لابره، الا اخبركم باهل النار كل عتل جواظ مستكبر
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے خالد بن یزید نے، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے عطا بن یسار اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ہمارا رب قیامت کے دن اپنی پنڈلی کھولے گا اس وقت ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت اس کے لیے سجدہ میں گر پڑیں گے۔ صرف وہ باقی رہ جائیں گے جو دنیا میں دکھاوے اور ناموری کے لیے سجدہ کرتے تھے۔ جب وہ سجدہ کرنا چاہیں گے تو ان کی پیٹھ تختہ ہو جائے گی اور وہ سجدہ کے لیے نہ مڑ سکیں گے۔
حدثنا ادم، حدثنا الليث، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن ابي هلال، عن زيد بن اسلم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " يكشف ربنا عن ساقه فيسجد له كل مومن ومومنة، ويبقى من كان يسجد في الدنيا رياء وسمعة، فيذهب ليسجد فيعود ظهره طبقا واحدا
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے اور عطاء نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جو بت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں پوجے جاتے تھے بعد میں وہی عرب میں پوجے جانے لگے۔ ود دومۃ الجندل میں بنی کلب کا بت تھا۔ سواع بنی ہذیل کا۔ یغوث بنی مراد کا اور مراد کی شاخ بنی غطیف کا جو وادی اجوف میں قوم سبا کے پاس رہتے تھے یعوق بنی ہمدان کا بت تھا۔ نسر حمیر کا بت تھا جو ذوالکلاع کی آل میں سے تھے۔ یہ پانچوں نوح علیہ السلام کی قوم کے نیک لوگوں کے نام تھے جب ان کی موت ہو گئی تو شیطان نے ان کے دل میں ڈالا کہ اپنی مجلسوں میں جہاں وہ بیٹھے تھے ان کے بت قائم کر لیں اور ان بتوں کے نام اپنے نیک لوگوں کے نام پر رکھ لیں چنانچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اس وقت ان بتوں کی پوجا نہیں ہوتی تھی لیکن جب وہ لوگ بھی مر گئے جنہوں نے بت قائم کئے تھے اور علم لوگوں میں نہ رہا تو ان کی پوجا ہونے لگی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن ابن جريج، وقال، عطاء عن ابن عباس رضى الله عنهما صارت الاوثان التي كانت في قوم نوح في العرب بعد، اما ود كانت لكلب بدومة الجندل، واما سواع كانت لهذيل، واما يغوث فكانت لمراد ثم لبني غطيف بالجرف عند سبا، واما يعوق فكانت لهمدان، واما نسر فكانت لحمير، لال ذي الكلاع. اسماء رجال صالحين من قوم نوح، فلما هلكوا اوحى الشيطان الى قومهم ان انصبوا الى مجالسهم التي كانوا يجلسون انصابا، وسموها باسمايهم ففعلوا فلم تعبد حتى اذا هلك اوليك وتنسخ العلم عبدت
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ سوق عکاظ ( مکہ اور طائف کے درمیان ایک میدان جہاں عربوں کا مشہور میلہ لگتا تھا ) کا قصد کیا اس زمانہ میں شیاطین تک آسمان کی خبروں کے چرا لینے میں رکاوٹ پیدا کر دی گئی تھی اور ان پر آسمان سے آگ کے انگارے چھوڑے جاتے تھے جب وہ جِن اپنی قوم کے پاس لوٹ کر آئے تو ان کی قوم نے ان سے پوچھا کہ کیا بات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ آسمان کی خبروں میں اور ہمارے درمیان رکاوٹ کر دی گئی ہے اور ہم پر آسمان سے آگ کے انگارے برسائے گئے ہیں، انہوں نے کہا کہ آسمان کی خبروں اور تمہارے درمیان رکاوٹ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ کوئی خاص بات پیش آئی ہے۔ اس لیے ساری زمین پر مشرق و مغرب میں پھیل جاؤ اور تلاش کرو کہ کون سی بات پیش آ گئی ہے۔ چنانچہ شیاطین مشرق و مغرب میں پھیل گئے تاکہ اس بات کا پتہ لگائیں کہ آسمان کی خبروں کی ان تک پہنچنے میں رکاوٹ پیدا کی گئی ہے وہ کس بڑے واقعہ کی وجہ سے ہے۔ بیان کیا کہ جو شیاطین اس کھوج میں نکلے تھے ان کا ایک گروہ وادی تہامہ کی طرف بھی آ نکلا ( یہ جگہ مکہ معظمہ سے ایک دن کے سفر کی راہ پر ہے ) جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منڈی عکاظ کی طرف جاتے ہوئے کھجور کے ایک باغ کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت صحابہ کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ جب شیاطین نے قرآن مجید سنا تو یہ اس کو سننے لگ گئے پھر انہوں نے کہا کہ یہی چیز ہے وہ جس کی وجہ سے تمہارے اور آسمان کی خبروں کے درمیان رکاوٹ پیدا ہوئی ہے۔ اس کے بعد وہ اپنی قوم کی طرف لوٹ آئے اور ان سے کہا کہ «إنا سمعنا قرآنا عجبا» الایۃ ہم نے ایک عجیب قرآن سنا ہے جو نیکی کی راہ دکھلاتا ہے سو ہم تو اس پر ایمان لے آئے اور ہم اب اپنے پروردگار کو کسی کا ساجھی نہ بنائیں گے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی «قل أوحي إلى أنه استمع نفر من الجن» الایۃ۔ آپ کہئے کہ میرے پاس وحی آئی ہے اس بات کی کہ جِنوں کی ایک جماعت نے قرآن مجید سنا یہی جِنوں کا قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال انطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم في طايفة من اصحابه عامدين الى سوق عكاظ، وقد حيل بين الشياطين وبين خبر السماء، وارسلت عليهم الشهب فرجعت الشياطين فقالوا ما لكم فقالوا حيل بيننا وبين خبر السماء وارسلت علينا الشهب. قال ما حال بينكم وبين خبر السماء الا ما حدث، فاضربوا مشارق الارض ومغاربها فانظروا ما هذا الامر الذي حدث. فانطلقوا فضربوا مشارق الارض ومغاربها ينظرون ما هذا الامر الذي حال بينهم وبين خبر السماء. قال فانطلق الذين توجهوا نحو تهامة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم بنخلة، وهو عامد الى سوق عكاظ، وهو يصلي باصحابه صلاة الفجر، فلما سمعوا القران تسمعوا له فقالوا هذا الذي حال بينكم وبين خبر السماء. فهنالك رجعوا الى قومهم فقالوا يا قومنا انا سمعنا قرانا عجبا يهدي الى الرشد فامنا به، ولن نشرك بربنا احدا. وانزل الله عز وجل على نبيه صلى الله عليه وسلم {قل اوحي الى انه استمع نفر من الجن} وانما اوحي اليه قول الجن
ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے علی بن مبارک نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے پوچھا کہ قرآن مجید کی کون سی آیت سب سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ «يا أيها المدثر» میں نے عرض کیا کہ لوگ تو کہتے ہیں کہ «اقرأ باسم ربك الذي خلق» سب سے پہلے نازل ہوئی۔ ابوسلمہ نے اس پر کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا اور جو بات ابھی تم نے مجھ سے کہی وہی میں نے بھی ان سے کہی تھی لیکن جابر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ میں تم سے وہی حدیث بیان کرتا ہوں جو ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں غار حرا میں ایک مدت کے لیے خلوت نشیں تھا۔ جب میں وہ دن پورے کر کے پہاڑ سے اترا تو مجھے آواز دی گئی، میں نے اس آواز پر اپنے دائیں طرف دیکھا لیکن کوئی چیز نہیں دکھائی دی۔ پھر بائیں طرف دیکھا ادھر بھی کوئی چیز دکھائی نہیں دی، سامنے دیکھا ادھر بھی کوئی چیز نہیں دکھائی دی۔ پیچھے کی طرف دیکھا اور ادھر بھی کوئی چیز نہیں دکھائی دی۔ اب میں نے اپنا سر اوپر کی طرف اٹھایا تو مجھے ایک چیز دکھائی دی۔ پھر میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو اور مجھ پر ٹھنڈا پانی ڈالو۔ فرمایا کہ پھر انہوں نے مجھے کپڑا اوڑھا دیا اور ٹھنڈا پانی مجھ پر بہایا۔ فرمایا کہ پھر یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها المدثر * قم فأنذر * وربك فكبر» یعنی ”اے کپڑے میں لپٹنے والے! اٹھئیے پھر لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرایئے اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کیجئے۔“
حدثنا يحيى، حدثنا وكيع، عن علي بن المبارك، عن يحيى بن ابي كثير، سالت ابا سلمة بن عبد الرحمن عن اول، ما نزل من القران. قال {يا ايها المدثر} قلت يقولون {اقرا باسم ربك الذي خلق} فقال ابو سلمة سالت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما عن ذلك وقلت له مثل الذي قلت فقال جابر لا احدثك الا ما حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " جاورت بحراء، فلما قضيت جواري هبطت فنوديت فنظرت عن يميني فلم ار شييا، ونظرت عن شمالي فلم ار شييا، ونظرت امامي فلم ار شييا، ونظرت خلفي فلم ار شييا، فرفعت راسي فرايت شييا، فاتيت خديجة فقلت دثروني وصبوا على ماء باردا قال فدثروني وصبوا على ماء باردا قال فنزلت {يا ايها المدثر * قم فانذر * وربك فكبر}
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے اور ان کے غیر (ابوداؤد طیالسی) نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حرب بن شداد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے جابر عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں غار حرا میں تنہائی اختیار کئے ہوئے تھا۔ یہ روایت بھی عثمان بن عمر کی حدیث کی طرح ہے جو انہوں نے علی بن مبارک سے بیان کی ہے۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن بن مهدي، وغيره، قالا حدثنا حرب بن شداد، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابي سلمة، عن جابر بن عبد الله، رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " جاورت بحراء ". مثل حديث عثمان بن عمر عن علي بن المبارك
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، کہا ہم سے حرب نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے پوچھا کہ قرآن مجید کی کون سی آیت سب سے پہلے نازل ہوئی تھی؟ فرمایا کہ «يا أيها المدثر» میں نے کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ «اقرأ باسم ربك الذي خلق» سب سے پہلے نازل ہوئی تھی۔ ابوسلمہ نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا کہ قرآن کی کون سی آیت سب سے پہلے نازل ہوئی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ «يا أيها المدثر» ”اے کپڑے میں لپٹنے والے!“ میں نے ان سے یہی کہا تھا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ «اقرأ باسم ربك» سب سے پہلے نازل ہوئی تھی تو انہوں نے کہا کہ میں تمہیں وہی خبر دے رہا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے غار حرا میں تنہائی اختیار کی جب میں وہ مدت پوری کر چکا اور نیچے اتر کر وادی کے بیچ میں پہنچا تو مجھے پکارا گیا۔ میں نے اپنے آگے پیچھے دائیں بائیں دیکھا اور مجھے دکھائی دیا کہ فرشتہ آسمان اور زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہے۔ پھر میں خدیجہ ( رضی اللہ عنہا ) کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو اور میرے اوپر ٹھنڈا پانی ڈالو اور مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها المدثر * قم فأنذر * وربك فكبر» ”اے کپڑے میں لپٹنے والے! اٹھئیے پھر لوگوں کو عذاب آخرت سے ڈرایئے اور اپنے پروردگار کی بڑائی کیجئے۔“
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا عبد الصمد، حدثنا حرب، حدثنا يحيى، قال سالت ابا سلمة اى القران انزل اول فقال {يا ايها المدثر} فقلت انبيت انه {اقرا باسم ربك الذي خلق} فقال ابو سلمة سالت جابر بن عبد الله اى القران انزل اول فقال {يا ايها المدثر} فقلت انبيت انه {اقرا باسم ربك} فقال لا اخبرك الا بما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " جاورت في حراء فلما قضيت جواري، هبطت فاستبطنت الوادي فنوديت، فنظرت امامي وخلفي وعن يميني وعن شمالي فاذا هو جالس على عرش بين السماء والارض، فاتيت خديجة فقلت دثروني وصبوا على ماء باردا، وانزل على {يا ايها المدثر * قم فانذر * وربك فكبر}
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے (دوسری سند) اور مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے خبر دی، کہا مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درمیان میں وحی کا سلسلہ رک جانے کا حال بیان فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں رو رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے آواز سنی۔ میں نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو وہی فرشتہ نظر آیا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا۔ وہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ میں اس کے ڈر سے گھبرا گیا پھر میں گھر واپس آیا اور خدیجہ سے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ انہوں نے مجھے کپڑا اوڑھا دیا پھر اللہ تعالیٰ نے آیت «يا أيها المدثر» سے «والرجز فاهجر» تک نازل کی۔ یہ سورت نماز فرض کئے جانے سے پہلے نازل ہوئی تھی «الرجز» سے مراد بت ہے۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب،. وحدثني عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، فاخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يحدث عن فترة الوحى فقال في حديثه " فبينا انا امشي اذ سمعت صوتا من السماء فرفعت راسي فاذا الملك الذي جاءني بحراء جالس على كرسي بين السماء والارض، فجيثت منه رعبا فرجعت فقلت زملوني زملوني. فدثروني فانزل الله تعالى {يا ايها المدثر} الى {والرجز فاهجر} قبل ان تفرض الصلاة وهى الاوثان
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم درمیان میں وحی کے سلسلے کے رک جانے سے متعلق بیان فرما رہے تھے کہ میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے آواز سنی۔ اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھا کر دیکھا تو وہی فرشتہ نظر آیا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا۔ وہ کرسی پر آسمان اور زمین کے درمیان میں بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اسے دیکھ کر اتنا ڈرا کہ زمین پر گر پڑا۔ پھر میں اپنی بیوی کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے کپڑا اوڑھا دو، مجھے کپڑا اوڑھا دو! مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها المدثر» سے «والرجز فاهجر» تک ابوسلمہ نے بیان کیا کہ «الرجز» بت کے معنی میں ہے۔ پھر وحی گرم ہو گئی اور سلسلہ نہیں ٹوٹا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، عن عقيل، قال ابن شهاب سمعت ابا سلمة، قال اخبرني جابر بن عبد الله، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يحدث عن فترة الوحى " فبينا انا امشي سمعت صوتا من السماء فرفعت بصري قبل السماء، فاذا الملك الذي جاءني بحراء قاعد على كرسي بين السماء والارض، فجيثت منه حتى هويت الى الارض، فجيت اهلي فقلت زملوني زملوني. فزملوني فانزل الله تعالى {يا ايها المدثر} الى قوله {فاهجر} " قال ابو سلمة والرجز الاوثان " ثم حمي الوحى وتتابع
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے بیان کیا اور موسیٰ ثقہ تھے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اپنی زبان ہلایا کرتے تھے۔ سفیان نے کہا کہ اس ہلانے سے آپ کا مقصد وحی کو یاد کرنا ہوتا تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «لا تحرك به لسانك لتعجل به» ”آپ جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا کریں، اس کا جمع کر دینا اور اس کا پڑھوا دینا، یہ ہر دو کام تو ہمارے ذمہ ہیں۔“
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا موسى بن ابي عايشة وكان ثقة عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا نزل عليه الوحى حرك به لسانه ووصف سفيان يريد ان يحفظه فانزل الله {لا تحرك به لسانك لتعجل به}
ہم سے عبداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے کہ انہوں نے سعید بن جبیر سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «لا تحرك به لسانك» الایۃ یعنی ”آپ قرآن کو لینے کے لیے زبان نہ ہلایا کریں“ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہونٹ ہلایا کرتے تھے اس لیے آپ سے کہا گیا «لا تحرك به لسانك» الخ یعنی وحی پر اپنی زبان نہ ہلایا کریں، اس کا تمہارے دل میں جما دینا اور اس کا پڑھا دینا ہمارا کام ہے۔ جب ہم اس کو پڑھ چکیں یعنی جبرائیل تجھ کو سنا چکیں تو جیسا جبرائیل نے پڑھ کر سنایا تو بھی اس طرح پڑھ۔ پھر یہ بھی ہمارا ہی کام ہے کہ ہم تیری زبان سے اس کو پڑھوا دیں گے۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن اسراييل، عن موسى بن ابي عايشة، انه سال سعيد بن جبير عن قوله تعالى {لا تحرك به لسانك} قال وقال ابن عباس كان يحرك شفتيه اذا انزل عليه، فقيل له {لا تحرك به لسانك} يخشى ان ينفلت منه {ان علينا جمعه وقرانه} ان نجمعه في صدرك، وقرانه ان تقراه {فاذا قراناه} يقول انزل عليه {فاتبع قرانه * ثم ان علينا بيانه} ان نبينه على لسانك
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن ابی عائشہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «لا تحرك به لسانك لتعجل به» الایۃ یعنی ”آپ اس کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا کریں“ کے متعلق بتلایا کہ جب جبرائیل آپ پر وحی نازل کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور ہونٹ ہلایا کرتے تھے اور آپ پر یہ بہت سخت گزرتا، یہ آپ کے چہرے سے بھی ظاہر ہوتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل کی جو سورۃ «لا أقسم بيوم القيامة» میں ہے یعنی «لا تحرك به لسانك» الایۃ یعنی ”آپ اس کو جلدی جلدی لینے کے لیے اس پر زبان نہ ہلایا کریں۔ یہ تو ہمارے ذمہ ہے اس کا جمع کر دینا اور اس کا پڑھوانا، پھر جب ہم اسے پڑھنے لگیں تو آپ اس کے پیچھے یاد کرتے جایا کریں۔ یعنی جب ہم وحی نازل کریں تو آپ غور سے سنیں۔ پھر اس کا بیان کرا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے۔“ یعنی یہ بھی ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اسے آپ کی زبانی لوگوں کے سامنے بیان کرا دیں۔ بیان کیا کہ چنانچہ اس کے بعد جب جبرائیل علیہ السلام وحی لے کر آتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو جاتے اور جب چلے جاتے تو پڑھتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ سے وعدہ کیا تھا۔ آیت «أولى لك فأولى» میں «تهديد» یعنی ڈرانا دھمکانا مراد ہے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن موسى بن ابي عايشة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، في قوله {لا تحرك به لسانك لتعجل به} قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا نزل جبريل بالوحى، وكان مما يحرك به لسانه وشفتيه فيشتد عليه وكان يعرف منه، فانزل الله الاية التي في {لا اقسم بيوم القيامة} {لا تحرك به لسانك لتعجل به * ان علينا جمعه وقرانه} قال علينا ان نجمعه في صدرك، وقرانه {فاذا قراناه فاتبع قرانه} فاذا انزلناه فاستمع {ثم ان علينا بيانه} علينا ان نبينه بلسانك قال فكان اذا اتاه جبريل اطرق، فاذا ذهب قراه كما وعده الله. {اولى لك فاولى} توعد
ہم سے محمود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ پر سورۃ والمرسلات نازل ہوئی تھی اور ہم اس کو آپ کے منہ سے سیکھ رہے تھے کہ اتنے میں ایک سانپ نکل آیا۔ ہم لوگ اس کے مارنے کو بڑھے لیکن وہ بچ نکلا اور اپنے سوراخ میں گھس گیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ تمہارے شر سے بچ گیا اور تم اس کے شر سے بچ گئے۔
حدثني محمود، حدثنا عبيد الله، عن اسراييل، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله رضى الله عنه قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وانزلت عليه والمرسلات، وانا لنتلقاها من فيه فخرجت حية، فابتدرناها فسبقتنا فدخلت جحرها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " وقيت شركم، كما وقيتم شرها
ہم سے عبدہ بن عبداللہ خزاعی نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ بن آدم نے خبر دی، انہیں اسرائیل نے، انہیں منصور نے یہی حدیث اور اسرائیل نے اس حدیث کو اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت کیا ہے اور یحییٰ بن آدم کے ساتھ اس حدیث کو اسود بن عامر نے اسرائیل سے روایت کی اور حفص بن غیاث اور ابومعاویہ اور سلیمان بن قرم نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے روایت کیا اور یحییٰ بن حماد ( شیخ بخاری ) نے کہا ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہوں نے مغیرہ بن مقسم سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے اور محمد بن اسحاق نے اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن اسود سے روایت کیا، انہوں نے اپنے والد اسود سے، انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے بیان کیا۔
حدثنا عبدة بن عبد الله، اخبرنا يحيى بن ادم، عن اسراييل، عن منصور، بهذا. وعن اسراييل، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، مثله. وتابعه اسود بن عامر عن اسراييل،. وقال حفص وابو معاوية وسليمان بن قرم عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود،. قال يحيى بن حماد اخبرنا ابو عوانة، عن مغيرة، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله،. وقال ابن اسحاق عن عبد الرحمن بن الاسود، عن ابيه، عن عبد الله
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، قال قال عبد الله بينا نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غار اذ نزلت عليه والمرسلات فتلقيناها من فيه وان فاه لرطب بها اذ خرجت حية فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عليكم اقتلوها ". قال فابتدرناها فسبقتنا قال فقال " وقيت شركم، كما وقيتم شرها
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا کہا میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إنها ترمي بشرر كالقصر» یعنی ”وہ انگارے برسائے گی جیسے بڑے محل“ کے متعلق پوچھا اور انہوں نے کہا کہ ہم تین تین ہاتھ کی لکڑیاں اٹھا کر رکھتے تھے۔ ایسا ہم جاڑوں کے لیے کرتے تھے ( تاکہ وہ جلانے کے کام آئیں ) اور ان کا نام «قصر.» رکھتے تھے۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، حدثنا عبد الرحمن بن عابس، قال سمعت ابن عباس، انها ترمي بشرر كالقصر قال كنا نرفع الخشب بقصر ثلاثة اذرع او اقل، فنرفعه للشتاء فنسميه القصر