Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو وکیع نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے «فهل من مذكر» پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ «فهل من مدكر» ( یعنی دال مہملہ سے پڑھو ) ۔
حدثنا يحيى، حدثنا وكيع، عن اسراييل، عن ابي اسحاق، عن الاسود بن يزيد، عن عبد الله، قال قرات على النبي صلى الله عليه وسلم فهل من مذكر فقال النبي صلى الله عليه وسلم {فهل من مدكر}
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن یحییٰ ذہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان بن مسلم نے بیان کیا، ان سے وہیب نے کہا ہم سے خالد حذاء نے ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ آپ بدر کی لڑائی کے دن ایک خیمے میں تھے اور یہ دعا کر رہے تھے کہ اے اللہ! میں تجھے تیرا عہد اور وعدہ نصرت یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ! تیری مرضی ہے اگر تو چاہے ( ان تھوڑے سے مسلمانوں کو بھی ہلاک کر دے ) پھر آج کے بعد تیری عبادت باقی نہیں رہے گی۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا: بس یا رسول اللہ! آپ نے اپنے رب سے بہت ہی الحاح و زاری سے دعا کر لی ہے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم زرہ پہنے ہوئے چل پھر رہے تھے اور آپ خیمہ سے نکلے تو زبان مبارک پر یہ آیت تھی «سيهزم الجمع ويولون الدبر» ”سو عنقریب ( کافروں کی ) جماعت شکست کھائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔“
حدثنا محمد بن عبد الله بن حوشب، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس،. وحدثني محمد، حدثنا عفان بن مسلم، عن وهيب، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال وهو في قبة يوم بدر " اللهم اني انشدك عهدك ووعدك، اللهم ان تشا لا تعبد بعد اليوم ". فاخذ ابو بكر بيده فقال حسبك يا رسول الله، الححت على ربك. وهو يثب في الدرع، فخرج وهو يقول " {سيهزم الجمع ويولون الدبر}
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے یوسف بن ماہک نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ نے فرمایا کہ جس وقت آیت «بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر» ”لیکن ان کا اصل وعدہ تو قیامت کے دن کا ہے اور قیامت بڑی سخت اور تلخ چیز ہے“ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ میں نازل ہوئی تو میں بچی تھی اور کھیلا کرتی تھی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، حدثنا هشام بن يوسف، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني يوسف بن ماهك، قال اني عند عايشة ام المومنين قالت لقد انزل على محمد صلى الله عليه وسلم بمكة، واني لجارية العب {بل الساعة موعدهم والساعة ادهى وامر}
مجھ سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ طحان نے، کہا ان سے خالد بن مہران حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ آپ بدر کی لڑائی کے موقع پر میدان میں ایک خیمے میں یہ دعا کر رہے تھے کہ ”اے اللہ! میں تجھے تیرا عہد اور وعدہ نصرت یاد دلاتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تو چاہے کہ ( مسلمانوں کو فنا کر دے ) تو آج کے بعد پھر کبھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔“ اور اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر عرض کیا: بس یا رسول اللہ! آپ اپنے رب سے خوب الحاح و زاری کے ساتھ دعا کر چکے ہیں۔ نبی کریم اس وقت زرہ پہنے ہوئے تھے۔ آپ باہر تشریف لائے تو آپ کی زبان مبارک پر یہ آیت تھی «سيهزم الجمع ويولون الدبر * بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر» یعنی ”عنقریب کافروں کی یہ جماعت ہار جائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ لیکن ان کا اصل وعدہ تو قیامت کے دن کا ہے اور قیامت بڑی سخت اور بہت ہی کڑوی چیز ہے۔“
حدثني اسحاق، حدثنا خالد، عن خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال وهو في قبة له يوم بدر " انشدك عهدك ووعدك، اللهم ان شيت لم تعبد بعد اليوم ابدا ". فاخذ ابو بكر بيده وقال حسبك يا رسول الله فقد الححت على ربك. وهو في الدرع فخرج وهو يقول " {سيهزم الجمع ويولون الدبر * بل الساعة موعدهم والساعة ادهى وامر}
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبدالصمد العمی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعمران الجونی نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے اور ان سے ان کے والد (عبداللہ بن قیس ابوموسیٰ اشعری) نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( جنت میں ) دو باغ ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں چاندی کی ہوں گی اور دو دوسرے باغ ہوں گے جن کے برتن اور تمام دوسری چیزیں سونے کے ہوں گے اور جنت عدن سے جنتیوں کے اپنے رب کے دیدار میں کوئی چیز سوائے کبریائی کی چادر کے جو اس کے منہ پر ہو گی، حائل نہ ہو گی۔
حدثنا عبد الله بن ابي الاسود، حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العمي، حدثنا ابو عمران الجوني، عن ابي بكر بن عبد الله بن قيس، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " جنتان من فضة، انيتهما وما فيهما وجنتان من ذهب انيتهما وما فيهما، وما بين القوم وبين ان ينظروا الى ربهم الا رداء الكبر على وجهه في جنة عدن
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن عبدالصمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعمران جونی نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے اور ان سے ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں کھوکھلے موتی کا خیمہ ہو گا، اس کی چوڑائی ساٹھ میل ہو گی اور اس کے ہر کنارے پر مسلمان کی ایک بیوی ہو گی ایک کنارے والی دوسرے کنارے والی کو نہ دیکھ سکے گی۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثني عبد العزيز بن عبد الصمد، حدثنا ابو عمران الجوني، عن ابي بكر بن عبد الله بن قيس، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان في الجنة خيمة من لولوة مجوفة، عرضها ستون ميلا، في كل زاوية منها اهل، ما يرون الاخرين يطوف عليهم المومنون ". " وجنتان من فضة، انيتهما وما فيهما، وجنتان من كذا انيتهما، وما فيهما، وما بين القوم وبين ان ينظروا الى ربهم الا رداء الكبر على وجهه في جنة عدن
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن عبدالصمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعمران جونی نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس نے اور ان سے ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں کھوکھلے موتی کا خیمہ ہو گا، اس کی چوڑائی ساٹھ میل ہو گی اور اس کے ہر کنارے پر مسلمان کی ایک بیوی ہو گی ایک کنارے والی دوسرے کنارے والی کو نہ دیکھ سکے گی۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثني عبد العزيز بن عبد الصمد، حدثنا ابو عمران الجوني، عن ابي بكر بن عبد الله بن قيس، عن ابيه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان في الجنة خيمة من لولوة مجوفة، عرضها ستون ميلا، في كل زاوية منها اهل، ما يرون الاخرين يطوف عليهم المومنون ". " وجنتان من فضة، انيتهما وما فيهما، وجنتان من كذا انيتهما، وما فيهما، وما بين القوم وبين ان ينظروا الى ربهم الا رداء الكبر على وجهه في جنة عدن
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ کہتے تھے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں ایک درخت طویل ہو گا ( اتنا بڑا کہ ) سوار اس کے سایہ میں سو سال تک چلے گا اور پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو گا اگر تمہارا جی چاہے تو اس آیت «وظل ممدود» کی قرآت کر لو۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان في الجنة شجرة يسير الراكب في ظلها ماية عام لا يقطعها، واقرءوا ان شيتم {وظل ممدود}
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبشر جعفر نے خبر دی، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ التوبہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا یہ سورۃ التوبہ کی ہے یا فضیحت کرنے والی ہے اس سورت میں برابر یہی اترتا رہا بعض لوگ ایسے ہیں اور بعض لوگ ایسے ہیں یہاں تک کہ لوگوں کو گمان ہوا یہ سورت کسی کا کچھ بھی نہیں چھوڑے گی بلکہ سب کے بھید کھول دے گی۔ بیان کیا کہ میں نے سورۃ الانفال کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ یہ جنگ بدر کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ بیان کیا کہ میں نے سورۃ الحشر کے متعلق پوچھا تو فرمایا کہ قبیلہ بنو نضیر کے یہود کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا هشيم، اخبرنا ابو بشر، عن سعيد بن جبير، قال قلت لابن عباس سورة التوبة قال التوبة هي الفاضحة، ما زالت تنزل ومنهم ومنهم، حتى ظنوا انها لم تبق احدا منهم الا ذكر فيها. قال قلت سورة الانفال. قال نزلت في بدر. قال قلت سورة الحشر. قال نزلت في بني النضير
ہم سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہیں ابوبشر (جعفر بن ابی) نے اور ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سورۃ الحشر کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا بلکہ اسے سورۃ النضیر کہا۔
حدثنا الحسن بن مدرك، حدثنا يحيى بن حماد، اخبرنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد، قال قلت لابن عباس رضى الله عنهما سورة الحشر قال قل سورة النضير
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے کھجوروں کے درخت جلا دیئے تھے اور انہیں کاٹ ڈالا تھا۔ یہ درخت مقام بویرہ میں تھے پھر اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة على أصولها فبإذن الله وليخزي الفاسقين» کہ ”جو کھجوروں کے درخت تم نے کاٹے یا انہیں ان کی جڑوں پر قائم رہنے دیا سو یہ دونوں اللہ ہی کے حکم کے موافق ہیں اور تاکہ نافرمانوں کو ذلیل کرے۔“
حدثنا قتيبة، حدثنا ليث، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم حرق نخل بني النضير وقطع، وهى البويرة، فانزل الله تعالى {ما قطعتم من لينة او تركتموها قايمة على اصولها فباذن الله وليخزي الفاسقين}
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کئی مرتبہ عمرو بن دینار سے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے مالک بن اوس بن حدثان نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنی نضیر کے اموال کو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر لڑائی کے دیا تھا۔ مسلمانوں نے اس کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے۔ ان اموال کا خرچ کرنا خاص طور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے ازواج مطہرات کا سالانہ خرچ دیتے تھے اور جو باقی بچتا تھا اس سے سامان جنگ اور گھوڑوں کے لیے خرچ کرتے تھے تاکہ اللہ رب العزت کے راستہ میں جہاد کے موقع پر کام آئیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان غير مرة عن عمرو، عن الزهري، عن مالك بن اوس بن الحدثان، عن عمر رضى الله عنه قال كانت اموال بني النضير مما افاء الله على رسوله صلى الله عليه وسلم مما لم يوجف المسلمون عليه بخيل ولا ركاب، فكانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم خاصة، ينفق على اهله منها نفقة سنته، ثم يجعل ما بقي في السلاح والكراع، عدة في سبيل الله
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے گودوانے والیوں اور گودنے والیوں پر لعنت بھیجی ہے چہرے کے بال اکھاڑنے والیوں اور حسن کے لیے آگے کے دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر لعنت بھیجی ہے کہ یہ اللہ کی پیدا کی ہوئی صورت میں تبدیلی کرتی ہیں۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ کلام قبیلہ بنی اسد کی ایک عورت کو معلوم ہوا جو ام یعقوب کے نام سے معروف تھی وہ آئی اور کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اس طرح کی عورتوں پر لعنت بھیجی ہے؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا آخر کیوں نہ میں انہیں لعنت کروں جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ کے حکم کے مطابق ملعون ہے۔ اس عورت نے کہا کہ قرآن مجید تو میں نے بھی پڑھا ہے لیکن آپ جو کچھ کہتے ہیں میں نے تو اس میں کہیں یہ بات نہیں دیکھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر تم نے بغور پڑھا ہوتا تو تمہیں ضرور مل جاتا کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» کہ ”رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہیں جو کچھ دیں لے لیا کرو اور جس سے تمہیں روک دیں، رک جایا کرو۔“ اس نے کہا کہ پڑھی ہے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں سے روکا ہے۔ اس پر عورت نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ آپ کی بیوی بھی ایسا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھا جاؤ اور دیکھ لو۔ وہ عورت گئی اور اس نے دیکھا لیکن اس طرح کی ان کے یہاں کوئی معیوب چیز اسے نہیں ملی۔ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میری بیوی اسی طرح کرتی تو بھلا وہ میرے ساتھ رہ سکتی تھی؟ ہرگز نہیں۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن منصور، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله، قال لعن الله الواشمات والموتشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن المغيرات خلق الله. فبلغ ذلك امراة من بني اسد يقال لها ام يعقوب، فجاءت فقالت انه بلغني انك لعنت كيت وكيت. فقال وما لي لا العن من لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن هو في كتاب الله فقالت لقد قرات ما بين اللوحين فما وجدت فيه ما تقول. قال لين كنت قراتيه لقد وجدتيه، اما قرات {وما اتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا}. قالت بلى. قال فانه قد نهى عنه. قالت فاني ارى اهلك يفعلونه. قال فاذهبي فانظري. فذهبت فنظرت فلم تر من حاجتها شييا، فقال لو كانت كذلك ما جامعتها
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن عابس سے منصور بن معتمر کی حدیث کا ذکر کیا جو وہ ابراہیم سے بیان کرتے تھے کہ ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کے قدرتی بالوں کے ساتھ مصنوعی بال لگانے والیوں پر لعنت بھیجی تھی۔ عبدالرحمٰن بن عابس نے کہا کہ میں نے بھی ام یعقوب نامی ایک عورت سے سنا تھا وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ منصور کی حدیث کے مثل بیان کرتی تھی۔
حدثنا علي، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، قال ذكرت لعبد الرحمن بن عابس حديث منصور عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله رضى الله عنه قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الواصلة فقال سمعته من امراة يقال لها ام يعقوب عن عبد الله مثل حديث منصور
ہم سے احمد بن یونس بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ( زخمی ہونے کے بعد انتقال سے پہلے ) فرمایا تھا میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو مہاجرین اولین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کا حق پہچانے اور میں اپنے بعد ہونے والے خلیفہ کو انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں جو دارالسلام اور ایمان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے ہی سے قرار پکڑے ہوئے ہیں یہ کہ ان میں جو نیکوکار ہیں ان کی عزت کرے اور ان کے غلط کاروں سے درگزر کرے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو بكر، عن حصين، عن عمرو بن ميمون، قال قال عمر رضى الله عنه اوصي الخليفة بالمهاجرين الاولين ان يعرف لهم حقهم، واوصي الخليفة بالانصار الذين تبوءوا الدار والايمان من قبل ان يهاجر النبي صلى الله عليه وسلم ان يقبل من محسنهم ويعفو عن مسييهم
مجھ سے یعقوب بن ابراہیم بن کثیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن غزوان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم اشجعی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب خود ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں فاقہ سے ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ازواج مطہرات کے پاس بھیجا ( کہ وہ آپ کی دعوت کریں ) لیکن ان کے پاس کوئی چیز کھانے کی نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا کوئی شخص ایسا نہیں جو آج رات اس مہمان کی میزبانی کرے؟ اللہ اس پر رحم کرے گا۔ اس پر ایک انصاری صحابی ( ابوطلحہ ) کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ آج میرے مہمان ہیں پھر وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان ہیں، کوئی چیز ان سے بچا کے نہ رکھنا۔ بیوی نے کہا اللہ کی قسم میرے پاس اس وقت بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ انصاری صحابی نے کہا اگر بچے کھانا مانگیں تو انہیں سلا دو اور آؤ یہ چراغ بھی بجھا دو، آج رات ہم بھوکے ہی رہ لیں گے۔ بیوی نے ایسا ہی کیا۔ پھر وہ انصاری صحابی صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں ( انصاری صحابی ) اور ان کی بیوی ( کے عمل ) کو پسند فرمایا۔ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) اللہ تعالیٰ مسکرایا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة» یعنی اور اپنے سے مقدم رکھتے ہیں اگرچہ خود فاقہ میں ہی ہوں۔
حدثني يعقوب بن ابراهيم بن كثير، حدثنا ابو اسامة، حدثنا فضيل بن غزوان، حدثنا ابو حازم الاشجعي، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال اتى رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اصابني الجهد فارسل الى نسايه فلم يجد عندهن شييا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا رجل يضيف هذه الليلة يرحمه الله ". فقام رجل من الانصار فقال انا يا رسول الله. فذهب الى اهله فقال لامراته ضيف رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تدخريه شييا. قالت والله ما عندي الا قوت الصبية. قال فاذا اراد الصبية العشاء فنوميهم، وتعالى فاطفيي السراج ونطوي بطوننا الليلة. ففعلت ثم غدا الرجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لقد عجب الله عز وجل او ضحك من فلان وفلانة ". فانزل الله عز وجل {ويوثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصة}
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے حسن بن محمد بن علی نے بیان کیا، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کے کاتب عبیداللہ بن ابی رافع سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، زبیر اور مقداد رضی اللہ عنہما کو روانہ کیا اور فرمایا کہ چلے جاؤ اور جب مقام خاخ کے باغ پر پہنچ جاؤ گے ( جو مکہ اور مدینہ کے درمیان تھا ) تو وہاں تمہیں ہودج میں ایک عورت ملے گی، اس کے ساتھ ایک خط ہو گا، وہ خط تم اس سے لے لینا۔ چنانچہ ہم روانہ ہوئے ہمارے گھوڑے ہمیں تیز رفتاری کے ساتھ لے جا رہے تھے۔ آخر جب ہم اس باغ پر پہنچے تو واقعی وہاں ہم نے ہودج میں اس عورت کو پا لیا ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال۔ اس نے کہا میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ہم نے اس سے کہا کہ خط نکال دے ورنہ ہم تیرا سارا کپڑا اتار کر تلاشی لیں گے۔ آخر اس نے اپنی چوٹی سے خط نکالا ہم لوگ وہ خط لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اس خط میں لکھا ہوا تھا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین کے چند آدمیوں کی طرف جو مکہ میں تھے اس خط میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیاری کا ذکر لکھا تھا ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بڑی فوج لے کر آتے ہیں تم اپنا بچاؤ کر لو ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے معاملہ میں جلدی نہ فرمائیں میں قریش کے ساتھ بطور حلیف ( زمانہ قیام مکہ میں ) رہا کرتا تھا لیکن ان کے قبیلہ و خاندان سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اس کے برخلاف آپ کے ساتھ جو دوسرے مہاجرین ہیں ان کی قریش میں رشتہ داریاں ہیں اور ان کی رعایت سے قریش مکہ میں رہ جانے والے ان کے اہل و عیال اور مال کی حفاظت کرتے ہیں۔ میں نے چاہا کہ جبکہ ان سے میرا کوئی نسبی تعلق نہیں ہے تو اس موقع پر ان پر ایک احسان کر دوں اور اس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی مکہ میں حفاظت کریں۔ یا رسول اللہ! میں نے یہ عمل کفر یا اپنے دین سے پھر جانے کی وجہ سے نہیں کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یقیناً انہوں نے تم سے سچی بات کہہ دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ بولے کہ یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بدر کی جنگ میں ہمارے ساتھ موجود تھے۔ تمہیں کیا معلوم، اللہ تعالیٰ بدر والوں کے تمام حالات سے واقف تھا اور اس کے باوجود ان کے متعلق فرما دیا کہ جو جی چاہے کرو کہ میں نے تمہیں معاف کر دیا۔ عمرو بن دینار نے کہا کہ حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ ہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی «يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم» کہ الایۃ۔ ”اے ایمان والو! تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست نہ بنا لینا۔“ سفیان بن عیینہ نے کہا کہ مجھے اس کا علم نہیں کہ اس آیت کا ذکر حدیث میں داخل ہے یا نہیں یہ عمرو بن دینار کا قول ہے۔ ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ سے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا آیت «لا تتخذوا عدوي» انہیں کے بارے میں نازل ہوئی تھی؟ سفیان نے کہا کہ لوگوں کی روایت میں تو یونہی ہے لیکن میں نے عمرو سے حدیث یاد کی اس میں سے ایک حرف بھی میں نے نہیں چھوڑا اور میں نہیں سمجھتا کہ میرے سوا اور کسی نے اس حدیث کو عمرو سے خوب یاد رکھا ہو۔
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب کے بھتیجے نے اپنے چچا محمد بن مسلم سے، انہیں عروہ نے خبر دی اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ان مومن عورتوں کا امتحان لیا کرتے تھے جو ہجرت کر کے مدینہ آتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا تھا «يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك» کہ ”اے نبی! جب آپ سے مسلمان عورتیں بیعت کرنے کے لیے آئیں“ ارشاد «غفور رحيم» تک۔ عروہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا چنانچہ جو عورت اس شرط ( آیت میں مذکور یعنی ایمان وغیرہ ) کا اقرار کر لیتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زبانی طور پر فرماتے کہ میں نے تمہاری بیعت قبول کر لی اور ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کسی عورت کا ہاتھ بیعت لیتے وقت کبھی نہیں چھوا صرف آپ ان سے زبانی بیعت لیتے تھے کہ آیت میں مذکورہ باتوں پر قائم رہنا۔ اس روایت کی متابعت یونس، معمر اور عبدالرحمٰن بن اسحاق نے زہری سے کی اور اسحاق بن راشد نے زہری سے بیان کیا کہ ان سے عروہ اور عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے کہا۔
حدثنا اسحاق، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابن اخي ابن شهاب، عن عمه، اخبرني عروة، ان عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يمتحن من هاجر اليه من المومنات بهذه الاية، بقول الله {يا ايها النبي اذا جاءك المومنات يبايعنك} الى قوله {غفور رحيم}. قال عروة قالت عايشة فمن اقر بهذا الشرط من المومنات قال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم " قد بايعتك ". كلاما ولا والله ما مست يده يد امراة قط في المبايعة، ما يبايعهن الا بقوله " قد بايعتك على ذلك ". تابعه يونس ومعمر وعبد الرحمن بن اسحاق عن الزهري. وقال اسحاق بن راشد عن الزهري عن عروة وعمرة
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے، کہا ہم سے ایوب نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ نے ہمارے سامنے اس آیت کی تلاوت کی «أن لا يشركن بالله شيئا» کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گی اور ہمیں نوحہ ( یعنی میت پر زور زور سے رونا پیٹنا ) کرنے سے منع فرمایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ممانعت پر ایک عورت ( خود ام عطیہ رضی اللہ عنہا ) نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور عرض کیا کہ فلاں عورت نے نوحہ میں میری مدد کی تھی، میں چاہتی ہوں کہ اس کا بدلہ چکا آؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا چنانچہ وہ گئیں اور پھر دوبارہ آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية رضى الله عنها قالت بايعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقرا علينا {ان لا يشركن بالله شييا} ونهانا عن النياحة، فقبضت امراة يدها فقالت اسعدتني فلانة اريد ان اجزيها. فما قال لها النبي صلى الله عليه وسلم شييا فانطلقت ورجعت فبايعها
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے زبیر سے سنا، انہوں نے عکرمہ سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ولا يعصينك في معروف» یعنی ”اور بھلی باتوں ( اور اچھے کاموں میں ) آپ کی نافرمانی نہ کریں گی۔“ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ بھی ایک شرط تھی جسے اللہ تعالیٰ نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کے وقت ) عورتوں کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا وهب بن جرير، قال حدثنا ابي قال، سمعت الزبير، عن عكرمة، عن ابن عباس، في قوله تعالى {ولا يعصينك في معروف} قال انما هو شرط شرطه الله للنساء
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار، قال حدثني الحسن بن محمد بن علي، انه سمع عبيد الله بن ابي رافع، كاتب علي يقول سمعت عليا رضى الله عنه يقول بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم انا والزبير والمقداد فقال " انطلقوا حتى تاتوا روضة خاخ فان بها ظعينة معها كتاب فخذوه منها ". فذهبنا تعادى بنا خيلنا حتى اتينا الروضة فاذا نحن بالظعينة فقلنا اخرجي الكتاب فقالت ما معي من كتاب. فقلنا لتخرجن الكتاب او لنلقين الثياب. فاخرجته من عقاصها فاتينا به النبي صلى الله عليه وسلم فاذا فيه من حاطب بن ابي بلتعة الى اناس من المشركين ممن بمكة يخبرهم ببعض امر النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما هذا يا حاطب ". قال لا تعجل على يا رسول الله اني كنت امرا من قريش ولم اكن من انفسهم وكان من معك من المهاجرين لهم قرابات يحمون بها اهليهم واموالهم بمكة فاحببت اذ فاتني من النسب فيهم ان اصطنع اليهم يدا يحمون قرابتي وما فعلت ذلك كفرا ولا ارتدادا عن ديني. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انه قد صدقكم ". فقال عمر دعني يا رسول الله فاضرب عنقه. فقال " انه شهد بدرا وما يدريك لعل الله عز وجل اطلع على اهل بدر فقال اعملوا ما شيتم فقد غفرت لكم ". قال عمرو ونزلت فيه {يا ايها الذين امنوا لا تتخذوا عدوي وعدوكم} قال لا ادري الاية في الحديث او قول عمرو. حدثنا علي قيل لسفيان في هذا فنزلت {لا تتخذوا عدوي} قال سفيان هذا في حديث الناس حفظته من عمرو وما تركت منه حرفا وما ارى احدا حفظه غيري