Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے اصحاب نے زہری کے واسطہ سے بیان کیا، ان سے محمد بن جبیر بن مطعم نے اور ان سے ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سورۃ والطور پڑھ رہے تھے۔ جب آپ سورۃ والطور اس آیت پر پہنچے «أم خلقوا من غير شىء أم هم الخالقون * أم خلقوا السموات والأرض بل لا يوقنون * أم عندهم خزائن ربك أم هم المسيطرون» ”کیا یہ لوگ بغیر کسی کے پیدا کئے پیدا ہو گئے یا یہ خود ( اپنے ) خالق ہیں؟ یا انہوں نے آسمان اور زمین کو پیدا کر لیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ ان میں یقین ہی نہیں۔ کیا ان لوگوں کے پاس آپ کے پروردگار کے خزانے ہیں یا یہ لوگ حاکم ہیں۔“ تو میرا دل اڑنے لگا۔ سفیان نے بیان کیا لیکن میں نے زہری سے سنا ہے وہ محمد بن جبیر بن مطعم سے روایت کرتے تھے، ان سے ان کے والد ( جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں سورۃ والطور پڑھتے سنا ( سفیان نے کہا کہ ) میرے ساتھیوں نے اس کے بعد جو اضافہ کیا ہے وہ میں نے زہری سے نہیں سنا۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، قال حدثوني عن الزهري، عن محمد بن جبير بن مطعم، عن ابيه رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في المغرب بالطور فلما بلغ هذه الاية {ام خلقوا من غير شىء ام هم الخالقون * ام خلقوا السموات والارض بل لا يوقنون * ام عندهم خزاين ربك ام هم المسيطرون} كاد قلبي ان يطير. قال سفيان فاما انا فانما سمعت الزهري يحدث عن محمد بن جبير بن مطعم عن ابيه سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقرا في المغرب بالطور. لم اسمعه زاد الذي قالوا لي
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے وکیع نے، ان سے اسمٰعیل بن ابی خالد نے، ان سے عامر نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اے ایمان والوں کی ماں! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات میں اپنے رب کو دیکھا تھا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تم نے ایسی بات کہی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے کیا تم ان تین باتوں سے بھی ناواقف ہو؟ جو شخص بھی تم میں سے یہ تین باتیں بیان کرے وہ جھوٹا ہے جو شخص یہ کہتا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج میں اپنے رب کو دیکھا تھا وہ جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے آیت «لا تدركه الأبصار وهو يدرك الأبصار وهو اللطيف الخبير» سے لے کر «من وراء حجاب» تک کی تلاوت کی اور کہا کہ کسی انسان کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ سے بات کرے سوا اس کے کہ وحی کے ذریعہ ہو یا پھر پردے کے پیچھے سے ہو اور جو شخص تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آنے والے کل کی بات جانتے تھے وہ بھی جھوٹا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے آیت «وما تدري نفس ماذا تكسب غدا» یعنی ”اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل کیا کرے گا۔“ کی تلاوت فرمائی۔ اور جو شخص تم میں سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تبلیغ دین میں کوئی بات چھپائی تھی وہ بھی جھوٹا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی «يا أيها الرسول بلغ ما أنزل إليك من ربك» یعنی اے رسول! پہنچا دیجئیے وہ سب کچھ جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے۔ ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دو مرتبہ دیکھا تھا۔
حدثنا يحيى، حدثنا وكيع، عن اسماعيل بن ابي خالد، عن عامر، عن مسروق، قال قلت لعايشة رضى الله عنها يا امتاه هل راى محمد صلى الله عليه وسلم ربه فقالت لقد قف شعري مما قلت، اين انت من ثلاث من حدثكهن فقد كذب، من حدثك ان محمدا صلى الله عليه وسلم راى ربه فقد كذب. ثم قرات {لا تدركه الابصار وهو يدرك الابصار وهو اللطيف الخبير} {وما كان لبشر ان يكلمه الله الا وحيا او من وراء حجاب} ومن حدثك انه يعلم ما في غد فقد كذب ثم قرات {وما تدري نفس ماذا تكسب غدا} ومن حدثك انه كتم فقد كذب ثم قرات {يا ايها الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك} الاية، ولكنه راى جبريل عليه السلام في صورته مرتين
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے عبدالوحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے زر بن حبیش سے سنا اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیت «فكان قاب قوسين أو أدنى * فأوحى إلى عبده ما أوحى» یعنی ”صرف دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا تھا بلکہ اور بھی کم۔ پھر اللہ نے اپنے بندہ پر وحی نازل کی جو کچھ بھی نازل کیا“ کے متعلق بیان کیا کہ ہم سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا تھا ان کے چھ سو پر تھے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الشيباني، قال سمعت زرا، عن عبد الله، {فكان قاب قوسين او ادنى * فاوحى الى عبده ما اوحى} قال حدثنا ابن مسعود انه راى جبريل له ستماية جناح
ہم سے طلق بن غنام نے بیان کیا، ان سے زائدہ بن قدامہ کوفی نے بیان کیا، ان سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا کہ میں نے زر بن حبیش سے اس آیت کے بارے میں پوچھا «فكان قاب قوسين أو أدنى * فأوحى إلى عبده ما أوحى» الخ یعنی سو دو کمانوں کا فاصلہ رہ گیا بلکہ اور بھی کم۔ پھر اللہ نے اپنے بندے پر وحی کی جو کچھ بھی نازل کیا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہمیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا تھا جن کے چھ سو پر تھے۔
حدثنا طلق بن غنام، حدثنا زايدة، عن الشيباني، قال سالت زرا عن قوله تعالى {فكان قاب قوسين او ادنى * فاوحى الى عبده ما اوحى} قال اخبرنا عبد الله ان محمدا صلى الله عليه وسلم راى جبريل له ستماية جناح
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت «لقد رأى من آيات ربه الكبرى» یعنی ”آپ نے اپنے رب کی عظیم نشانیاں دیکھیں“ کے متعلق بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «رفرف» ( سبز فرش ) کو دیکھا جس نے آسمان کے کناروں کو ڈھانپ لیا تھا۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله رضى الله عنه – {لقد راى من ايات ربه الكبرى} قال راى رفرفا اخضر قد سد الافق
ہم سے مسلم بن ابراہیم فراہیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاشھب جعفر بن حیان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالجوزاء نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لات اور عزیٰ کے حال میں کہا کہ لات ایک شخص کو کہتے تھے وہ حاجیوں کے لیے ستو گھولتا تھا۔
حدثنا مسلم، حدثنا ابو الاشهب، حدثنا ابو الجوزاء، عن ابن عباس، رضى الله عنهما في قوله {اللات والعزى} كان اللات رجلا يلت سويق الحاج
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہوں نے کہا ہمیں زہری نے، انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص قسم کھائے اور کہے کہ قسم ہے لات اور عزیٰ کی تو اسے تجدید ایمان کے لیے کہنا چاہئے «لا إله إلا الله» اور جو شخص اپنے ساتھی سے یہ کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اسے صدقہ دینا چاہئے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، اخبرنا هشام بن يوسف، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف فقال في حلفه واللات والعزى. فليقل لا اله الا الله. ومن قال لصاحبه تعال اقامرك. فليتصدق
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ میں نے عروہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ منات بت کے نام پر احرام باندھتے جو مقام مشلل میں تھا، وہ صفا اور مروہ کے درمیان ( حج و عمرہ میں ) سعی نہیں کرتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی «إن الصفا والمروة من شعائر الله» ”بیشک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں“ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان طواف کیا اور مسلمانوں نے بھی طواف کیا۔ سفیان نے کہا کہ ”مناۃ“ مقام قدید پر مشلل میں تھا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا کہ ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ اسلام سے پہلے انصار اور غسان کے لوگ منات کے نام پر احرام باندھتے تھے، پہلی حدیث کی طرح۔ اور معمر نے زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ قبیلہ انصار کے کچھ لوگ منات کے نام کا احرام باندھتے تھے۔ منات ایک بت تھا جو مکہ اور مدینہ کے درمیان رکھا ہوا تھا ( اسلام لانے کے بعد ) ان لوگوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم منات کی تعظیم کے لیے صفا اور مروہ کے درمیان سعی نہیں کیا کرتے تھے۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، سمعت عروة، قلت لعايشة رضى الله عنها فقالت انما كان من اهل بمناة الطاغية التي بالمشلل لا يطوفون بين الصفا والمروة، فانزل الله تعالى {ان الصفا والمروة من شعاير الله} فطاف رسول الله صلى الله عليه وسلم والمسلمون. قال سفيان مناة بالمشلل من قديد. وقال عبد الرحمن بن خالد عن ابن شهاب قال عروة قالت عايشة نزلت في الانصار كانوا هم وغسان قبل ان يسلموا يهلون لمناة. مثله. وقال معمر عن الزهري عن عروة عن عايشة كان رجال من الانصار ممن كان يهل لمناة ومناة صنم بين مكة والمدينة قالوا يا نبي الله كنا لا نطوف بين الصفا والمروة تعظيما لمناة. نحوه
ہم سے ابومعمر عبداللہ بن عمرو نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النجم میں سجدہ کیا اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے اور تمام مشرکوں اور جنات و انسانوں نے بھی سجدہ کیا۔ عبدالوارث کے ساتھ اس حدیث کو ابراہیم بن طہمان نے بھی ایوب سے روایت کیا اور اسمٰعیل بن علیہ نے اپنی روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال سجد النبي صلى الله عليه وسلم بالنجم وسجد معه المسلمون والمشركون والجن والانس. تابعه ابن طهمان عن ايوب. ولم يذكر ابن علية ابن عباس
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا ہم کو ابواحمد زبیری نے خبر دی، کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سب سے پہلے نازل ہونے والی سجدہ والی سورت سورۃ النجم ہے۔ بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس کی تلاوت کے بعد ) سجدہ کیا اور جتنے لوگ آپ کے پیچھے تھے سب ہی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا، سوا ایک شخص کے، میں نے دیکھا کہ اس نے اپنی ہتھیلی میں مٹی اٹھائی اور اسی پر سجدہ کر لیا۔ بعد میں ( بدر کی لڑائی میں ) میں نے اسے دیکھا کہ کفر کی حالت میں وہ قتل کیا ہوا پڑا ہے۔ وہ شخص امیہ بن خلف تھا۔
حدثنا نصر بن علي، اخبرني ابو احمد، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن الاسود بن يزيد، عن عبد الله رضى الله عنه قال اول سورة انزلت فيها سجدة {والنجم}. قال فسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم وسجد من خلفه، الا رجلا رايته اخذ كفا من تراب فسجد عليه، فرايته بعد ذلك قتل كافرا، وهو امية بن خلف
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ اور سفیان نے اور ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند دو ٹکڑے ہو گیا تھا ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر اور دوسرا اس کے پیچھے چلا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی موقع پر ہم سے فرمایا تھا کہ گواہ رہنا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، وسفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن ابي معمر، عن ابن مسعود، قال انشق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فرقتين، فرقة فوق الجبل وفرقة دونه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اشهدوا
ہم سے علی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن ابی نجیح نے خبر دی، انہیں مجاہد نے، انہیں ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ چاند پھٹ گیا تھا اور اس وقت ہم بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ چنانچہ اس کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا کہ لوگو گواہ رہنا، گواہ رہنا۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، اخبرنا ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابي معمر، عن عبد الله، قال انشق القمر ونحن مع النبي صلى الله عليه وسلم فصار فرقتين، فقال لنا " اشهدوا، اشهدوا
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے بکر نے بیان کیا، ان سے جعفر نے، ان سے عراک بن مالک نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا تھا۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثني بكر، عن جعفر، عن عراك بن مالك، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال انشق القمر في زمان النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مکہ والوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ دکھانے کو کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں چاند کے پھٹ جانے کا معجزہ دکھایا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا يونس بن محمد، حدثنا شيبان، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه قال سال اهل مكة ان يريهم اية فاراهم انشقاق القمر
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا تھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن قتادة، عن انس، قال انشق القمر فرقتين
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عبد الله، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقرا {فهل من مدكر}
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم «فهل من مدكر» ( سو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟ ) پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا مسدد، عن يحيى، عن شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عبد الله رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم. انه كان يقرا {فهل من مدكر}
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے انہوں نے ایک شخص کو اسود سے پوچھتے سنا کہ سورۃ القمر میں آیت «فهل من مدكر» ہے یا «فهل من مذكر» ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ «فهل من مدكر» پڑھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی «فهل من مدكر» پڑھتے سنا ہے ( دال مہملہ سے ) ۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا زهير، عن ابي اسحاق، انه سمع رجلا، سال الاسود فهل من مدكر او مذكر فقال سمعت عبد الله يقروها {فهل من مدكر} قال وسمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقروها {فهل من مدكر} دالا
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ہمارے والد عثمان نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں ابی اسحاق نے، انہیں اسود نے اور انہیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «فهل من مدكر» الآیۃ ( دال مہملہ سے ) ۔
حدثنا عبدان، اخبرنا ابي، عن شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عبد الله رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قرا {فهل من مدكر} الاية
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے اسود نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «فهل من مدكر» ( دال مہملہ سے ) پڑھا تھا۔
حدثنا محمد، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن الاسود، عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم قرا {فهل من مدكر، ولقد اهلكنا اشياعكم فهل من مدكر}