Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ایک شخص نے قبیلہ کندہ میں وعظ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جس سے منافقوں کے آنکھ کان بالکل بیکار ہو جائیں گے لیکن مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہو گا۔ ہم اس کی بات سے بہت گھبرا گئے۔ پھر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ( اور انہیں ان صاحب کی یہ بات سنائی ) وہ اس وقت ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اسے سن کر بہت غصہ ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو کسی بات کا واقعی علم ہے تو پھر اسے بیان کرنا چاہئے لیکن اگر علم نہیں ہے تو کہہ دینا چاہئے کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بھی علم ہی ہے کہ آدمی اپنی لاعلمی کا اقرار کر لے اور صاف کہہ دے کہ میں نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين» ”آپ کہہ دیجئیے کہ میں اپنی تبلیغ و دعوت پر تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا اور نہ میں بناوٹ کرتا ہوں۔“ اصل میں واقعہ یہ ہے کہ قریش کسی طرح اسلام نہیں لاتے تھے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسا قحط بھیج کر میری مدد کر پھر ایسا قحط پڑا کہ لوگ تباہ ہو گئے اور مردار اور ہڈیاں کھانے لگے کوئی اگر فضا میں دیکھتا ( تو فاقہ کی وجہ سے ) اسے دھویں جیسا نظر آتا۔ پھر ابوسفیان آئے اور کہا کہ اے محمد! آپ ہمیں صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں لیکن آپ کی قوم تباہ ہو رہی ہے، اللہ سے دعا کیجئے ( کہ ان کی یہ مصیبت دور ہو ) ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين» سے «عائدون» تک۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قحط کا یہ عذاب تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے نتیجہ میں ختم ہو گیا تھا لیکن کیا آخرت کا عذاب بھی ان سے ٹل جائے گا؟ چنانچہ قحط ختم ہونے کے بعد پھر وہ کفر سے باز نہ آئے، اس کی طرف اشارہ «يوم نبطش البطشة الكبرى» میں ہے، یہ بطش کفار پر غزوہ بدر کے موقع پر نازل ہوئی تھی ( کہ ان کے بڑے بڑے سردار قتل کر دیئے گئے ) اور «لزاما» ( قید ) سے اشارہ بھی معرکہ بدر ہی کی طرف ہے «الم * غلبت الروم» سے «سيغلبون» تک کا واقعہ گزر چکا ہے کہ ( کہ روم والوں نے فارس والوں پر فتح پالی تھی ) ۔
حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، حدثنا منصور، والاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، قال بينما رجل يحدث في كندة فقال يجيء دخان يوم القيامة فياخذ باسماع المنافقين وابصارهم، ياخذ المومن كهيية الزكام. ففزعنا، فاتيت ابن مسعود، وكان متكيا، فغضب فجلس فقال من علم فليقل، ومن لم يعلم فليقل الله اعلم. فان من العلم ان يقول لما لا يعلم لا اعلم. فان الله قال لنبيه صلى الله عليه وسلم {قل ما اسالكم عليه من اجر وما انا من المتكلفين} وان قريشا ابطيوا عن الاسلام فدعا عليهم النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اللهم اعني عليهم بسبع كسبع يوسف، فاخذتهم سنة حتى هلكوا فيها، واكلوا الميتة والعظام ويرى الرجل ما بين السماء والارض كهيية الدخان "، فجاءه ابو سفيان فقال يا محمد جيت تامرنا بصلة الرحم، وان قومك قد هلكوا فادع الله، فقرا {فارتقب يوم تاتي السماء بدخان مبين} الى قوله {عايدون} افيكشف عنهم عذاب الاخرة اذا جاء ثم عادوا الى كفرهم فذلك قوله تعالى {يوم نبطش البطشة الكبرى} يوم بدر ولزاما يوم بدر {الم * غلبت الروم} الى {سيغلبون} والروم قد مضى
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر پیدا ہونے والا بچہ دین فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسی جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے کیا تم نے انہیں ناک کان کٹا ہوا کوئی بچہ دیکھا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم» ”اللہ کی اس فطرت کی اتباع کرو جس پر اس نے انسان کو پیدا کیا ہے، اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں، یہی سیدھا دین ہے۔“
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مولود الا يولد على الفطرة، فابواه يهودانه او ينصرانه او يمجسانه، كما تنتج البهيمة بهيمة جمعاء، هل تحسون فيها من جدعاء " ثم يقول {فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم}
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب آیت «الذين آمنوا ولم يلبسوا إيمانهم بظلم» کہ ”جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی آمیزش نہیں کی۔“ نازل ہوئی تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبرائے اور کہنے لگے کہ ہم میں کون ایسا ہو گا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم کی ملاوٹ نہیں کی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آیت میں ظلم سے یہ مراد نہیں ہے۔ تم نے لقمان علیہ السلام کی وہ نصیحت نہیں سنی جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی «إن الشرك لظلم عظيم» کہ ”بیشک شرک کرنا بڑا بھاری ظلم ہے۔“
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن علقمة، عن عبد الله رضى الله عنه قال لما نزلت هذه الاية {الذين امنوا ولم يلبسوا ايمانهم بظلم} شق ذلك على اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وقالوا اينا لم يلبس ايمانه بظلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انه ليس بذاك، الا تسمع الى قول لقمان لابنه {ان الشرك لظلم عظيم}
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، ان سے جریر نے، ان سے ابوحیان نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن لوگوں کے ساتھ تشریف رکھتے تھے کہ ایک نیا آدمی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا: یا رسول اللہ! ایمان کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے فرشتوں، رسولوں اور اس کی ملاقات پر ایمان لاؤ اور قیامت کے دن پر ایمان لاؤ۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! اسلام کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام یہ ہے کہ تنہا اللہ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو اور فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! احسان کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی اس طرح عبادت کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو ورنہ یہ عقیدہ لازماً رکھو کہ اگر تم اسے نہیں دیکھتے تو وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! قیامت کب قائم ہو گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے پوچھا جا رہا ہے خود وہ سائل سے زیادہ اس کے واقع ہونے کے متعلق نہیں جانتا۔ البتہ میں تمہیں اس کی چند نشانیاں بتاتا ہوں۔ جب عورت ایسی اولاد جنے جو اس کے آقا بن جائیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے، جب ننگے پاؤں، ننگے جسم والے لوگ لوگوں پر حاکم ہو جائیں تو یہ قیامت کی نشانی ہے۔ قیامت بھی ان پانچ چیزوں میں سے ہے جسے اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا، بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے۔ وہی مینہ برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ماں کے رحم میں کیا ہے ( لڑکا یا لڑکی ) پھر وہ صاحب اٹھ کر چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں میرے پاس واپس بلا لاؤ۔ لوگوں نے انہیں تلاش کیا تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبارہ لائیں لیکن ان کا کہیں پتہ نہیں تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صاحب جبرائیل تھے ( انسانی صورت میں ) لوگوں کو دین کی باتیں سکھانے آئے تھے۔
حدثني اسحاق، عن جرير، عن ابي حيان، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوما بارزا للناس اذ اتاه رجل يمشي فقال يا رسول الله ما الايمان قال " الايمان ان تومن بالله وملايكته ورسله ولقايه وتومن بالبعث الاخر ". قال يا رسول الله ما الاسلام قال " الاسلام ان تعبد الله ولا تشرك به شييا، وتقيم الصلاة، وتوتي الزكاة المفروضة، وتصوم رمضان ". قال يا رسول الله، ما الاحسان قال " الاحسان ان تعبد الله كانك تراه، فان لم تكن تراه فانه يراك ". قال يا رسول الله متى الساعة قال " ما المسيول عنها باعلم من السايل، ولكن ساحدثك عن اشراطها اذا ولدت المراة ربتها، فذاك من اشراطها، واذا كان الحفاة العراة رءوس الناس فذاك من اشراطها في خمس لا يعلمهن الا الله {ان الله عنده علم الساعة وينزل الغيث ويعلم ما في الارحام} ". ثم انصرف الرجل فقال " ردوا على ". فاخذوا ليردوا فلم يروا شييا. فقال " هذا جبريل جاء ليعلم الناس دينهم
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمر بن محمد بن عبداللہ بن عمر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «إن الله عنده علم الساعة» ”بیشک اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی بارش نازل کرتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ مادہ کے رحم میں نر ہے یا مادہ اور کوئی نفس نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کہاں مرے گا۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال حدثني عمر بن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر، ان اباه، حدثه ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " مفاتيح الغيب خمس " ثم قرا {ان الله عنده علم الساعة}
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ”میں نے اپنے صالح اور نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے گمان و خیال میں وہ آئی ہیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر چاہو تو اس آیت کو پڑھ لو «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين» کہ ”سو کسی کو نہیں معلوم جو جو سامان آنکھوں کی ٹھنڈک کا ان کے لیے جنت میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔“ علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، پہلی حدیث کی طرح۔ سفیان سے پوچھا گیا کہ یہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث روایت کر رہے ہیں یا اپنے اجتہاد سے فرما رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ( اگر یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث نہیں ہے ) تو پھر اور کیا ہے؟ ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے اور ان سے صالح نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ( آیت مذکورہ میں ) قرآت ( صیغہ جمع کے ساتھ ) پڑھا ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " قال الله تبارك وتعالى اعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رات، ولا اذن سمعت، ولا خطر على قلب بشر ". قال ابو هريرة اقرءوا ان شيتم {فلا تعلم نفس ما اخفي لهم من قرة اعين}. وحدثنا سفيان حدثنا ابو الزناد عن الاعرج عن ابي هريرة قال قال الله مثله. قيل لسفيان رواية. قال فاى شىء قال ابو معاوية عن الاعمش عن ابي صالح قرا ابو هريرة قرات اعين
مجھ سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، کہا ہم سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیکوکار بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار رکھی ہیں جنہیں کسی آنکھ نے نہ دیکھا اور کسی کان نے نہ سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی گمان و خیال پیدا ہوا۔ اللہ کی ان نعمتوں سے واقفیت اور آگاہی تو الگ رہی ( ان کا کسی کو گمان و خیال بھی پیدا نہیں ہوا ) ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون» کہ ”سو کسی نفس مومن کو معلوم نہیں جو جو سامان آنکھوں کی ٹھنڈک کا ( جنت میں ) ان کے لیے چھپا کر رکھا گیا ہے، یہ بدلہ ہے ان کے نیک عملوں کا جو دنیا میں کرتے رہے۔“
حدثني اسحاق بن نصر، حدثنا ابو اسامة، عن الاعمش، حدثنا ابو صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم " يقول الله تعالى اعددت لعبادي الصالحين ما لا عين رات، ولا اذن سمعت، ولا خطر على قلب بشر، ذخرا، بله ما اطلعتم عليه ". ثم قرا {فلا تعلم نفس ما اخفي لهم من قرة اعين جزاء بما كانوا يعملون}
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فلیح نے، کہا مجھ سے میرے والد نے، ان سے ہلال بن علی نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مومن ایسا نہیں کہ میں خود اس کے نفس سے بھی زیادہ اس سے اور آخرت میں تعلق نہ رکھتا ہوں، اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو «النبي أولى بالمؤمنين من أنفسهم» کہ ”نبی مؤمنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہے۔“ پس جو مومن بھی ( مرنے کے بعد ) ترکہ مال و اسباب چھوڑے اور کوئی ان کا ولی وارث نہیں ہے اس کے عزیز و اقارب جو بھی ہوں، اس کے مال کے وارث ہوں گے، لیکن اگر کسی مومن نے کوئی قرض چھوڑا ہے یا اولاد چھوڑی ہے تو وہ میرے پاس آ جائیں ان کا ذمہ دار میں ہوں۔
حدثني ابراهيم بن المنذر، حدثنا محمد بن فليح، حدثنا ابي، عن هلال بن علي، عن عبد الرحمن بن ابي عمرة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ما من مومن الا وانا اولى الناس به في الدنيا والاخرة، اقرءوا ان شيتم {النبي اولى بالمومنين من انفسهم} فايما مومن ترك مالا فليرثه عصبته من كانوا، فان ترك دينا او ضياعا فلياتني وانا مولاه
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سالم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کئے ہوئے غلام زید بن حارثہ کو ہم ہمیشہ زید بن محمد کہہ کر پکارا کرتے تھے، یہاں تک کہ قرآن کریم میں آیت نازل ہوئی «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» کہ ”انہیں ان کے باپوں کی طرف منسوب کرو کہ یہی اللہ کے نزدیک سچی اور ٹھیک بات ہے۔“
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا موسى بن عقبة، قال حدثني سالم، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان زيد بن حارثة، مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم ما كنا ندعوه الا زيد ابن محمد حتى نزل القران {ادعوهم لابايهم هو اقسط عند الله}
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہمارے خیال میں یہ آیت انس بن نضر کے بارے میں نازل ہوئی تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» کہ ”اہل ایمان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس میں وہ سچے اترے۔“
حدثني محمد بن بشار، حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، قال حدثني ابي، عن ثمامة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال نرى هذه الاية نزلت في انس بن النضر {من المومنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه}
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو خارجہ بن زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور ان سے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم قرآن مجید کو مصحف کی صورت میں جمع کر رہے تھے تو مجھے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت ( کہیں لکھی ہوئی ) نہیں مل رہی تھی۔ میں وہ آیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا تھا۔ آخر وہ مجھے خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی جن کی شہادت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مومن مردوں کی شہادت کے برابر قرار دیا تھا۔ وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» ”اہل ایمان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کیا تھا اس میں وہ سچے اترے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني خارجة بن زيد بن ثابت، ان زيد بن ثابت، قال لما نسخنا الصحف في المصاحف فقدت اية من سورة الاحزاب، كنت اسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقروها، لم اجدها مع احد الا مع خزيمة الانصاري، الذي جعل رسول الله صلى الله عليه وسلم شهادته شهادة رجلين {من المومنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه}
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ نبی کریم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اپنی ازواج کو ( آپ کے سامنے رہنے یا آپ سے علیحدگی کا ) اختیار دیں تو آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھی تشریف لے گئے اور فرمایا کہ میں تم سے ایک معاملہ کے متعلق کہنے آیا ہوں ضروری نہیں کہ تم اس میں جلد بازی سے کام لو، اپنے والدین سے بھی مشورہ کر سکتی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو جانتے ہی تھے کہ میرے والد کبھی آپ سے جدائی کا مشورہ نہیں دے سکتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك» کہ ”اے نبی! اپنی بیویوں سے فرما دیجئیے“ آخر آیت تک۔ میں نے عرض کیا، لیکن کس چیز کے لیے مجھے اپنے والدین سے مشورہ کی ضرورت ہے، کھلی ہوئی بات ہے کہ میں اللہ، اس کے رسول اور عالم آخرت کو چاہتی ہوں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان عايشة، رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءها حين امر الله ان يخير ازواجه، فبدا بي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اني ذاكر لك امرا فلا عليك ان تستعجلي حتى تستامري ابويك "، وقد علم ان ابوى لم يكونا يامراني بفراقه، قالت ثم قال " ان الله قال {يا ايها النبي قل لازواجك} ". الى تمام الايتين فقلت له ففي اى هذا استامر ابوى فاني اريد الله ورسوله والدار الاخرة
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہوا کہ اپنی ازواج کو اختیار دیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تم سے ایک معاملہ کے متعلق کہنے آیا ہوں، ضروری نہیں کہ تم جلدی کرو، اپنے والدین سے بھی مشورہ لے سکتی ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تو معلوم ہی تھا کہ میرے والدین آپ سے جدائی کا کبھی مشورہ نہیں دے سکتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وہ آیت جس میں یہ حکم تھا ) پڑھی کہ اللہ پاک کا ارشاد ہے «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» ”اے نبی! اپنی بیویوں سے فرما دیجئیے کہ اگر تم دنیوی زندگی اور اس کی زینت کو چاہتی ہو سے «أجرا عظيما» تک۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا لیکن اپنے والدین سے مشورہ کی کس بات کے لیے ضرورت ہے، ظاہر ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول اور عالم آخرت کو چاہتی ہوں۔ بیان کیا کہ پھر دوسری ازواج مطہرات نے بھی وہی کہا جو میں کہہ چکی تھی۔ اس کی متابعت موسیٰ بن اعین نے معمر سے کی ہے کہ ان سے زہری نے بیان کیا کہ انہیں ابوسلمہ نے خبر دی اور عبدالرزاق اور ابوسفیان معمری نے معمر سے بیان کیا، ان سے زہری نے، اور ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے۔
وقال الليث حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت لما امر رسول الله صلى الله عليه وسلم بتخيير ازواجه بدا بي فقال " اني ذاكر لك امرا فلا عليك ان لا تعجلي حتى تستامري ابويك ". قالت وقد علم ان ابوى لم يكونا يامراني بفراقه، قالت ثم قال " ان الله جل ثناوه قال {يا ايها النبي قل لازواجك ان كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها} الى {اجرا عظيما} ". قالت فقلت ففي اى هذا استامر ابوى فاني اريد الله ورسوله والدار الاخرة، قالت ثم فعل ازواج النبي صلى الله عليه وسلم مثل ما فعلت. تابعه موسى بن اعين عن معمر عن الزهري قال اخبرني ابو سلمة. وقال عبد الرزاق وابو سفيان المعمري عن معمر عن الزهري عن عروة عن عايشة
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے معلی بن منصور نے بیان کیا، اسے حماد بن زید نے کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آیت «وتخفي في نفسك ما الله مبديه» ”اور آپ اپنے دل میں وہ چھپاتے رہے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔“ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کے معاملہ میں نازل ہوئی تھی۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا معلى بن منصور، عن حماد بن زيد، حدثنا ثابت، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان هذه، الاية {وتخفي في نفسك ما الله مبديه} نزلت في شان زينب ابنة جحش وزيد بن حارثة
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے اپنے والد سے سن کر بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جو عورتیں اپنے نفس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کرنے آتی تھیں مجھے ان پر بڑی غیرت آتی تھی۔ میں کہتی کہ کیا عورت خود ہی اپنے کو کسی مرد کے لیے پیش کر سکتی ہے؟ پھر جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ترجئ من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت فلا جناح عليك» کہ ”ان میں سے جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جس کو چاہیں اپنے نزدیک رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا تھا اس میں سے کسی کو پھر طلب کر لیں جب بھی، آپ پر کوئی گناہ نہیں ہے۔“ تو میں نے کہا کہ میں تو سمجھتی ہوں کہ آپ کا رب آپ کی مراد بلا تاخیر پوری کر دینا چاہتا ہے۔
حدثنا زكرياء بن يحيى، حدثنا ابو اسامة، قال هشام حدثنا عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت كنت اغار على اللاتي وهبن انفسهن لرسول الله صلى الله عليه وسلم واقول اتهب المراة نفسها فلما انزل الله تعالى {ترجي من تشاء منهن وتووي اليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت فلا جناح عليك} قلت ما ارى ربك الا يسارع في هواك
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو عاصم احول نے خبر دی، انہیں معاذہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی «ترجئ من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت فلا جناح عليك» کہ ”ان میں سے آپ جس کو چاہیں اپنے سے دور رکھیں اور جن کو آپ نے الگ کر رکھا تھا ان میں سے کسی کو طلب کر لیں جب بھی آپ پر کوئی گناہ نہیں۔“ اگر ( ازواج مطہرات ) میں سے کسی کی باری میں کسی دوسری بیوی کے پاس جانا چاہتے تو جن کی باری ہوتی ان سے اجازت لیتے تھے ( معاذہ نے بیان کیا کہ ) میں نے اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ ایسی صورت میں آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہتی تھیں؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تو یہ عرض کر دیتی تھی کہ یا رسول اللہ! اگر یہ اجازت آپ مجھ سے لے رہے ہیں تو میں تو اپنی باری کا کسی دوسرے پر ایثار نہیں کر سکتی۔ اس روایت کی متابعت عباد بن عباد نے کی، انہوں نے عاصم سے سنا۔
حدثنا حبان بن موسى، اخبرنا عبد الله، اخبرنا عاصم الاحول، عن معاذة، عن عايشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يستاذن في يوم المراة منا بعد ان انزلت هذه الاية {ترجي من تشاء منهن وتووي اليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت فلا جناح عليك}. فقلت لها ما كنت تقولين قالت كنت اقول له ان كان ذاك الى فاني لا اريد يا رسول الله ان اوثر عليك احدا. تابعه عباد بن عباد سمع عاصما
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے پاس اچھے برے ہر طرح کے لوگ آتے ہیں، کاش آپ ازواج مطہرات کو پردہ کا حکم دے دیں۔ اس کے بعد اللہ نے پردہ کا حکم اتارا۔
حدثنا مسدد، عن يحيى، عن حميد، عن انس، قال قال عمر رضى الله عنه قلت يا رسول الله، يدخل عليك البر والفاجر، فلو امرت امهات المومنين بالحجاب، فانزل الله اية الحجاب
ہم سے محمد بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا ہم سے ابومجلز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو قوم کو آپ نے دعوت ولیمہ دی، کھانا کھانے کے بعد لوگ ( گھر کے اندر ہی ) بیٹھے ( دیر تک ) باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیا گویا آپ اٹھنا چاہتے ہیں ( تاکہ لوگ سمجھ جائیں اور اٹھ جائیں ) لیکن کوئی بھی نہیں اٹھا، جب آپ نے دیکھا کہ کوئی نہیں اٹھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو گئے، لیکن تین آدمی اب بھی بیٹھے رہ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر سے اندر جانے کے لیے آئے تو دیکھا کہ کچھ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد وہ لوگ بھی اٹھ گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر خبر دی کہ وہ لوگ بھی چلے گئے ہیں تو آپ اندر تشریف لائے۔ میں نے بھی چاہا کہ اندر جاؤں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور میرے بیچ میں دروازہ کا پردہ گرا لیا، اس کے بعد آیت ( مذکورہ بالا ) نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي» کہ ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔“ آخر آیت تک۔
حدثنا محمد بن عبد الله الرقاشي، حدثنا معتمر بن سليمان، قال سمعت ابي يقول، حدثنا ابو مجلز، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال لما تزوج رسول الله صلى الله عليه وسلم زينب ابنة جحش دعا القوم، فطعموا ثم جلسوا يتحدثون واذا هو كانه يتهيا للقيام فلم يقوموا، فلما راى ذلك قام، فلما قام قام من قام، وقعد ثلاثة نفر فجاء النبي صلى الله عليه وسلم ليدخل فاذا القوم جلوس ثم انهم قاموا، فانطلقت فجيت فاخبرت النبي صلى الله عليه وسلم انهم قد انطلقوا، فجاء حتى دخل، فذهبت ادخل فالقى الحجاب بيني وبينه فانزل الله {يا ايها الذين امنوا لا تدخلوا بيوت النبي} الاية
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس آیت یعنی آیت پردہ ( کے شان نزول ) کے متعلق میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، جب زینب رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور وہ آپ کے ساتھ آپ کے گھر ہی میں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تیار کروایا اور قوم کو بلایا ( کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ) لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جاتے اور پھر اندر آتے ( تاکہ لوگ اٹھ جائیں ) لیکن لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه» کہ ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ سوائے اس وقت کے جب تمہیں ( کھانے کے لیے ) آنے کی اجازت دی جائے۔ ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو۔“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «من وراء حجاب» تک اس کے بعد پردہ ڈال دیا گیا اور لوگ کھڑے ہو گئے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، قال انس بن مالك انا اعلم الناس، بهذه الاية اية الحجاب، لما اهديت زينب الى رسول الله صلى الله عليه وسلم كانت معه في البيت، صنع طعاما، ودعا القوم، فقعدوا يتحدثون، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يخرج، ثم يرجع، وهم قعود يتحدثون، فانزل الله تعالى {يا ايها الذين امنوا لا تدخلوا بيوت النبي الا ان يوذن لكم الى طعام غير ناظرين اناه} الى قوله {من وراء حجاب} فضرب الحجاب، وقام القوم
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ( بطور ولیمہ ) گوشت اور روٹی تیار کروائی اور مجھے کھانے پر لوگوں کو بلانے کے لیے بھیجا، پھر کچھ لوگ آئے اور کھا کر واپس چلے گئے۔ پھر دوسرے لوگ آئے اور کھا کر واپس چلے، میں بلاتا رہا۔ آخر جب کوئی باقی نہیں رہا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اب تو کوئی باقی نہیں رہا جس کو میں دعوت دوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب دستر خوان اٹھا لو لیکن تین اشخاص گھر میں باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکل آئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے سامنے جا کر فرمایا السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ۔ انہوں نے کہا وعلیک السلام ورحمۃ اللہ، اپنی اہل کو آپ نے کیسا پایا؟ اللہ برکت عطا فرمائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح تمام ازواج مطہرات کے حجروں کے سامنے گئے اور جس طرح عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا اس طرح سب سے فرمایا اور انہوں نے بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح جواب دیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو وہ تین آدمی اب بھی گھر میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ حیاء دار تھے، آپ ( یہ دیکھ کر کہ لوگ اب بھی بیٹھے ہوئے ہیں ) عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی طرف پھر چلے گئے، مجھے یاد نہیں کہ اس کے بعد میں نے یا کسی اور نے آپ کو جا کر خبر کی کہ اب وہ تینوں آدمی روانہ ہو چکے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اب واپس تشریف لائے اور پاؤں چوکھٹ پر رکھا۔ ابھی آپ کا ایک پاؤں اندر تھا اور ایک پاؤں باہر کہ آپ نے پردہ گرا لیا اور پردہ کی آیت نازل ہوئی۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن انس رضى الله عنه قال بني على النبي صلى الله عليه وسلم بزينب ابنة جحش بخبز ولحم فارسلت على الطعام داعيا فيجيء قوم فياكلون ويخرجون، ثم يجيء قوم فياكلون ويخرجون، فدعوت حتى ما اجد احدا ادعو فقلت يا نبي الله ما اجد احدا ادعوه قال ارفعوا طعامكم، وبقي ثلاثة رهط يتحدثون في البيت، فخرج النبي صلى الله عليه وسلم فانطلق الى حجرة عايشة فقال " السلام عليكم اهل البيت ورحمة الله ". فقالت وعليك السلام ورحمة الله، كيف وجدت اهلك بارك الله لك فتقرى حجر نسايه كلهن، يقول لهن كما يقول لعايشة، ويقلن له كما قالت عايشة، ثم رجع النبي صلى الله عليه وسلم فاذا ثلاثة رهط في البيت يتحدثون، وكان النبي صلى الله عليه وسلم شديد الحياء، فخرج منطلقا نحو حجرة عايشة فما ادري اخبرته او اخبر ان القوم خرجوا، فرجع حتى اذا وضع رجله في اسكفة الباب داخلة واخرى خارجة ارخى الستر بيني وبينه، وانزلت اية الحجاب