Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن بکر سہمی نے خبر دی، کہا ہم سے حمید طویل نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح پر دعوت ولیمہ کی اور گوشت اور روٹی لوگوں کو کھلائی۔ پھر امہات المؤمنین کے حجروں کی طرف گئے، جیسا کہ آپ کا معمول تھا کہ نکاح کی صبح کو آپ جایا کرتے تھے، آپ انہیں سلام کرتے اور ان کے حق میں دعا کرتے اور امہات المؤمنین بھی آپ کو سلام کرتیں اور آپ کے لیے دعا کرتیں۔ امہات المؤمنین کے حجروں سے جب آپ اپنے حجرہ میں واپس تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ دو آدمی آپس میں گفتگو کر رہے ہیں۔ جب آپ نے انہیں بیٹھے ہوئے دیکھا تو پھر آپ حجرہ سے نکل گئے۔ ان دونوں نے جب دیکھا کہ اللہ کے نبی اپنے حجرہ سے واپس چلے گئے ہیں تو بڑی جلدی جلدی وہ اٹھ کر باہر نکل گئے۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے چلے جانے کی اطلاع دی یا کسی اور نے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس آئے اور گھر میں آتے ہی دروازہ کا پردہ گرا لیا اور آیت حجاب نازل ہوئی۔ اور سعید ابن ابی مریم نے بیان کیا کہ ہم کو یحی ٰبن کثیر نے خبر دی، کہا مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الله بن بكر السهمي، حدثنا حميد، عن انس رضى الله عنه قال اولم رسول الله صلى الله عليه وسلم حين بنى بزينب ابنة جحش فاشبع الناس خبزا ولحما ثم خرج الى حجر امهات المومنين كما كان يصنع صبيحة بنايه فيسلم عليهن ويدعو لهن ويسلمن عليه ويدعون له فلما رجع الى بيته راى رجلين جرى بهما الحديث، فلما راهما رجع عن بيته، فلما راى الرجلان نبي الله صلى الله عليه وسلم رجع عن بيته وثبا مسرعين، فما ادري انا اخبرته بخروجهما ام اخبر فرجع حتى دخل البيت، وارخى الستر بيني وبينه وانزلت اية الحجاب. وقال ابن ابي مريم اخبرنا يحيى حدثني حميد سمع انسا عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ام المؤمنین سودہ رضی اللہ عنہا پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد قضائے حاجت کے لیے نکلیں وہ بہت بھاری بھر کم تھیں جو انہیں جانتا تھا اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں۔ راستے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا اور کہا کہ اے سودہ! ہاں اللہ کی قسم! آپ ہم سے اپنے آپ کو نہیں چھپا سکتیں دیکھئیے تو آپ کس طرح باہر نکلی ہیں۔ بیان کیا کہ سودہ رضی اللہ عنہا الٹے پاؤں وہاں سے واپس آ گئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت میرے حجرہ میں تشریف رکھتے تھے اور رات کا کھانا کھا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں اس وقت گوشت کی ایک ہڈی تھی۔ سودہ رضی اللہ عنہا نے داخل ہوتے ہی کہا: یا رسول اللہ! میں قضائے حاجت کے لیے نکلی تھی تو عمر ( رضی اللہ عنہ ) نے مجھ سے باتیں کیں، بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہو گیا اور تھوڑی دیر بعد یہ کیفیت ختم ہوئی، ہڈی اب بھی آپ کے ہاتھ میں تھی۔ آپ نے اسے رکھا نہیں تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں ( اللہ کی طرف سے ) قضائے حاجت کے لیے باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
حدثني زكرياء بن يحيى، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت خرجت سودة بعد ما ضرب الحجاب لحاجتها، وكانت امراة جسيمة لا تخفى على من يعرفها، فراها عمر بن الخطاب فقال يا سودة اما والله ما تخفين علينا، فانظري كيف تخرجين، قالت فانكفات راجعة، ورسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتي، وانه ليتعشى. وفي يده عرق فدخلت فقالت يا رسول الله اني خرجت لبعض حاجتي فقال لي عمر كذا وكذا. قالت فاوحى الله اليه ثم رفع عنه وان العرق في يده ما وضعه فقال " انه قد اذن لكن ان تخرجن لحاجتكن
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد ابوالقعیس کے بھائی افلح رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ملنے کی اجازت چاہی، لیکن میں نے کہلوا دیا کہ جب تک اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت حاصل نہ لے لوں، ان سے نہیں مل سکتی۔ میں نے سوچا کہ ان کے بھائی ابوالقعیس نے مجھے تھوڑا ہی دودھ پلایا تھا، دودھ پلانے والی تو ابوالقعیس کی بیوی تھی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ابوالقعیس کے بھائی افلح رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ملنے کی اجازت چاہی، لیکن میں نے یہ کہلوا دیا کہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہ لے لوں ان سے ملاقات نہیں کر سکتی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے چچا سے ملنے سے تم نے کیوں انکار کر دیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ابوالقعیس نے مجھے تھوڑا ہی دودھ پلایا تھا، دودھ پلانے والی تو ان کی بیوی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو وہ تمہارے چچا ہیں۔ عروہ نے بیان کیا کہ اسی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ رضاعت سے بھی وہ چیز یں ( مثلاً نکاح وغیرہ ) حرام ہو جاتی ہیں جو نسب کی وجہ سے حرام ہوتی ہیں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، حدثني عروة بن الزبير، ان عايشة رضى الله عنها قالت استاذن على افلح اخو ابي القعيس بعد ما انزل الحجاب، فقلت لا اذن له حتى استاذن فيه النبي صلى الله عليه وسلم فان اخاه ابا القعيس ليس هو ارضعني، ولكن ارضعتني امراة ابي القعيس، فدخل على النبي صلى الله عليه وسلم فقلت له يا رسول الله، ان افلح اخا ابي القعيس استاذن، فابيت ان اذن حتى استاذنك فقال النبي صلى الله عليه وسلم " وما منعك ان تاذني عمك ". قلت يا رسول الله ان الرجل ليس هو ارضعني، ولكن ارضعتني امراة ابي القعيس. فقال " ايذني له فانه عمك، تربت يمينك ". قال عروة فلذلك كانت عايشة تقول حرموا من الرضاعة ما تحرمون من النسب
مجھ سے سعید بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ پر سلام کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے، لیکن آپ پر «صلاة» کا کیا طریقہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں پڑھا کرو «اللهم صل على محمد وعلى آل محمد، كما صليت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد، اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد، كما باركت على آل إبراهيم، إنك حميد مجيد .» ۔
حدثني سعيد بن يحيى، حدثنا ابي، حدثنا مسعر، عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، عن كعب بن عجرة رضى الله عنه قيل يا رسول الله، اما السلام عليك فقد عرفناه فكيف الصلاة قال " قولوا اللهم صل على محمد وعلى ال محمد، كما صليت على ال ابراهيم، انك حميد مجيد، اللهم بارك على محمد وعلى ال محمد، كما باركت على ال ابراهيم، انك حميد مجيد
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن الہاد نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن خباب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ پر سلام بھیجنے کا طریقہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے۔ لیکن «صلاة» ( درود ) بھیجنے کا کیا طریقہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یوں کہا کرو «اللهم صل على محمد عبدك ورسولك، كما صليت على آل إبراهيم، وبارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم» ۔ ابوصالح نے بیان کیا کہ اور ان سے لیث بن سعد نے ( ان الفاظ کے ساتھ ) «على محمد وعلى آل محمد، كما باركت على آل إبراهيم» کے الفاظ روایت کئے ہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني ابن الهاد، عن عبد الله بن خباب، عن ابي سعيد الخدري، قال قلنا يا رسول الله هذا التسليم فكيف نصلي عليك قال " قولوا اللهم صل على محمد عبدك ورسولك، كما صليت على ال ابراهيم، وبارك على محمد وعلى ال محمد كما باركت على ابراهيم ". قال ابو صالح عن الليث " على محمد وعلى ال محمد، كما باركت على ال ابراهيم ". حدثنا ابراهيم بن حمزة، حدثنا ابن ابي حازم، والدراوردي، عن يزيد، وقال، " كما صليت على ابراهيم، وبارك على محمد وال محمد كما باركت على ابراهيم وال ابراهيم
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، ان سے حسن بصری اور محمد بن سیرین اور خلاس نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بڑے باحیاء تھے، انہیں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے «يا أيها الذين آمنوا لا تكونوا كالذين آذوا موسى فبرأه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها» کہ ”اے ایمان والو! ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ایذا پہنچائی تھی، سو اللہ نے انہیں بَری ثابت کر دیا اور اللہ کے نزدیک وہ بڑے عزت والے تھے۔“
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا روح بن عبادة، حدثنا عوف، عن الحسن، ومحمد، وخلاس، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان موسى كان رجلا حييا، وذلك قوله تعالى {يا ايها الذين امنوا لا تكونوا كالذين اذوا موسى فبراه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها}
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، کہا کہ میں نے عکرمہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو سن کر جھکتے ہوئے عاجزی کرتے ہوئے اپنے بازو پھڑپھڑاتے ہیں۔ اللہ کا فرمان انہیں اس طرح سنائی دیتا ہے جیسے صاف چکنے پتھر پر زنجیر چلانے سے آواز پیدا ہوتی ہے۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور ہو جاتی ہے تو وہ آپس میں پوچھتے ہیں کہ تمہارے رب نے کیا فرمایا؟ وہ کہتے ہیں کہ حق بات کا حکم فرمایا اور وہ بہت اونچا، سب سے بڑا ہے پھر ان کی یہی گفتگو چوری چھپے سننے والے شیطان سن بھاگتے ہیں، شیطان آسمان کے نیچے یوں نیچے اوپر ہوتے ہیں، سفیان نے اس موقع پر ہتھیلی کو موڑ کر انگلیاں الگ الگ کر کے شیاطین کے جمع ہونے کی کیفیت بتائی کہ اس طرح شیطان ایک کے اوپر ایک رہتے ہیں۔ پھر وہ شیاطین کوئی ایک کلمہ سن لیتے ہیں اور اپنے نیچے والے کو بتاتے ہیں۔ اس طرح وہ کلمہ ساحر یا کاہن تک پہنچتا ہے۔ کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ اس سے پہلے کہ وہ یہ کلمہ اپنے سے نیچے والے کو بتائیں آگ کا گولا انہیں آ ڈبوچتا ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ جب وہ بتا لیتے ہیں تو آگ کا انگارا ان پر پڑتا ہے، اس کے بعد کاہن اس میں سو جھوٹ ملا کر لوگوں سے بیان کرتا ہے ( ایک بات جب اس کاہن کی صحیح ہو جاتی ہے تو ان کے ماننے والوں کی طرف سے ) کہا جاتا ہے کہ کیا اسی طرح ہم سے فلاں دن کاہن نہیں کہا تھا، اسی ایک کلمہ کی وجہ سے جو آسمان پر شیاطین نے سنا تھا کاہنوں اور ساحروں کی بات کو لوگ سچا جاننے لگتے ہیں۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو، قال سمعت عكرمة، يقول سمعت ابا هريرة، يقول ان نبي الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا قضى الله الامر في السماء ضربت الملايكة باجنحتها خضعانا لقوله كانه سلسلة على صفوان فاذا فزع عن قلوبهم قالوا ماذا قال ربكم، قالوا للذي قال الحق وهو العلي الكبير فيسمعها مسترق السمع، ومسترق السمع هكذا بعضه فوق بعض ووصف سفيان بكفه فحرفها وبدد بين اصابعه فيسمع الكلمة، فيلقيها الى من تحته ثم يلقيها الاخر الى من تحته، حتى يلقيها على لسان الساحر او الكاهن، فربما ادرك الشهاب قبل ان يلقيها، وربما القاها قبل ان يدركه، فيكذب معها ماية كذبة، فيقال اليس قد قال لنا يوم كذا وكذا كذا وكذا فيصدق بتلك الكلمة التي سمع من السماء
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن حازم نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھے اور پکارا: یا صباحاہ! ( لوگو دوڑو ) اس آواز پر قریش جمع ہو گئے اور پوچھا کیا بات ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری کیا رائے ہے اگر میں تمہیں بتاؤں کہ دشمن صبح کے وقت یا شام کے وقت تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم میری بات کی تصدیق نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ ہم آپ کی تصدیق کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں تم کو سخت ترین عذاب ( دوزخ ) سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔ ابولہب ( مردود ) بولا تو ہلاک ہو جا، کیا تو نے اسی لیے ہمیں بلایا تھا۔ اس پر اللہ پاک نے آیت «تبت يدا أبي لهب» نازل فرمائی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا محمد بن خازم، حدثنا الاعمش، عن عمرو بن مرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال صعد النبي صلى الله عليه وسلم الصفا ذات يوم فقال " يا صباحاه " فاجتمعت اليه قريش قالوا ما لك قال " ارايتم لو اخبرتكم ان العدو يصبحكم او يمسيكم اما كنتم تصدقوني ". قالوا بلى. قال " فاني نذير لكم بين يدى عذاب شديد ". فقال ابو لهب تبا لك الهذا جمعتنا فانزل الله {تبت يدا ابي لهب}
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آفتاب غروب ہونے کے وقت میں مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوذر! تمہیں معلوم ہے یہ آفتاب کہاں غروب ہوتا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے «والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم» کہ ”اور آفتاب اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے، یہ زبردست علم والے کا ٹھہرایا ہوا اندازہ ہے۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي ذر رضى الله عنه قال كنت مع النبي صلى الله عليه وسلم في المسجد عند غروب الشمس فقال " يا ابا ذر اتدري اين تغرب الشمس ". قلت الله ورسوله اعلم. قال " فانها تذهب حتى تسجد تحت العرش، فذلك قوله تعالى {والشمس تجري لمستقر لها ذلك تقدير العزيز العليم}
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ کے فرمان «والشمس تجري لمستقر لها» ”اور سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلتا رہتا ہے۔“ کے متعلق سوال کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا ٹھکانا عرش کے نیچے ہے۔
حدثنا الحميدي، حدثنا وكيع، حدثنا الاعمش، عن ابراهيم التيمي، عن ابيه، عن ابي ذر، قال سالت النبي صلى الله عليه وسلم عن قوله تعالى {والشمس تجري لمستقر لها} قال " مستقرها تحت العرش
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہونے کا دعویٰ کرے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن عبد الله، رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما ينبغي لاحد ان يكون خيرا من ابن متى
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن فلیح نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے بنی عامر بن لوی کے ہلال بن علی نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ میں یونس بن متی علیہ السلام سے بہتر ہوں وہ جھوٹا ہے۔
حدثني ابراهيم بن المنذر، حدثنا محمد بن فليح، قال حدثني ابي، عن هلال بن علي، من بني عامر بن لوى عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة، رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من قال انا خير من يونس بن متى فقد كذب
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عوام بن حوشب نے کہ میں نے مجاہد سے سورۃ ص میں سجدہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ سوال ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی کیا گیا تھا تو انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی «أولئك الذين هدى الله فبهداهم اقتده» ”یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے ہدایت دی تھی پس آپ بھی انہی کی ہدایت کی اتباع کریں۔“ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما اس میں سجدہ کیا کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن العوام، قال سالت مجاهدا عن السجدة، في ص قال سيل ابن عباس فقال {اوليك الذين هدى الله فبهداهم اقتده}. وكان ابن عباس يسجد فيها
مجھ سے محمد بن عبداللہ ذہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبید طنافسی نے، ان سے عوام بن حوشب نے بیان کیا کہ میں نے مجاہد سے سورۃ ص میں سجدہ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا کہ اس سورت میں آیت سجدہ کے لیے دلیل کیا ہے؟ انہوں نے کہا کیا تم ( سورت انعام ) میں یہ نہیں پڑھتے «ومن ذريته داود وسليمان» کہ ”اور ان کی نسل سے داؤد اور سلیمان ہیں، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے یہ ہدایت دی تھی، سو آپ بھی ان کی ہدایت کی اتباع کریں۔“ داؤد علیہ السلام بھی ان میں سے تھے جن کی اتباع کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم تھا ( چونکہ داؤد علیہ السلام کے سجدہ کا اس میں ذکر ہے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس موقع پر سجدہ کیا ) ۔ «عجاب» کا معنی عجیب۔ «القط» کہتے ہیں کاغذ کے ٹکڑے ( پرچے ) کو یہاں نیکیوں کا پرچہ مراد ہے ( یا حساب کا پرچہ ) ۔ اور مجاہد رحمہ اللہ نے کہا «في عزة» کا معنی یہ ہے کہ وہ شرارت و سرکشی کرنے والے ہیں۔ «الملة الآخرة» سے مراد قریش کا دین ہے۔ «اختلاق» سے مراد جھوٹ۔ «الأسباب» آسمان کے راستے، دروازے مراد ہیں۔ «جند ما هنالك مهزوم» الایۃ سے قریش کے لوگ مراد ہیں۔ «أولئك الأحزاب» سے اگلی امتیں مراد ہیں۔ جن پر اللہ کا عذاب اترا۔ «فواق» کا معنی پھرنا، لوٹنا۔ «عجل لنا قطنا» میں «قط» سے عذاب مراد ہے۔ «اتخذناهم سخريا» ہم نے ان کو ٹھٹھے میں گھیر لیا تھا۔ «أتراب» جوڑ والے۔ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «أيد» کا معنی عبادت کی قوت۔ «الأبصار» اللہ کے کاموں کو غور سے دیکھنے والے۔ «حب الخير عن ذكر ربي» میں «عن من» کے معنی میں ہے۔ «طفق مسحا» گھوڑوں کے پاؤں اور ایال پر محبت سے ہاتھ پھیرنا شروع کیا۔ یا بقول بعض تلوار سے ان کو کاٹنے لگے۔ «الأصفاد» کے معنی زنجیریں۔
حدثني محمد بن عبد الله، حدثنا محمد بن عبيد الطنافسي، عن العوام، قال سالت مجاهدا عن سجدة، ص فقال سالت ابن عباس من اين سجدت فقال اوما تقرا {ومن ذريته داود وسليمان} {اوليك الذين هدى الله فبهداهم اقتده} فكان داود ممن امر نبيكم صلى الله عليه وسلم ان يقتدي به، فسجدها رسول الله صلى الله عليه وسلم. {عجاب} عجيب. القط الصحيفة هو ها هنا صحيفة الحسنات. وقال مجاهد {في عزة} معازين. {الملة الاخرة} ملة قريش. الاختلاق الكذب. الاسباب طرق السماء في ابوابها {جند ما هنالك مهزوم} يعني قريشا {اوليك الاحزاب} القرون الماضية. {فواق} رجوع. {قطنا} عذابنا {اتخذناهم سخريا} احطنا بهم اتراب امثال. وقال ابن عباس الايد القوة في العبادة الابصار البصر في امر الله، {حب الخير عن ذكر ربي} من ذكر. {طفق مسحا} يمسح اعراف الخيل وعراقيبها. {الاصفاد} الوثاق
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے روح بن عبادہ اور محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گزشتہ رات ایک سرکش جِن اچانک میرے پاس آیا، یا اسی طرح کا کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تاکہ میری نماز خراب کرے لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر قدرت دے دی اور میں نے سوچا کہ اسے مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ صبح کے وقت تم سب لوگ بھی اسے دیکھ سکو۔ پھر مجھ کو اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آ گئی «رب هب لي ملكا لا ينبغي لأحد من بعدي» کہ ”اے میرے رب! مجھے ایسی سلطنت دے کہ میرے بعد کسی کو میسر نہ ہو۔“ روح نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جِن کو ذلت کے ساتھ بھگا دیا۔
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، حدثنا روح، ومحمد بن جعفر، عن شعبة، عن محمد بن زياد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان عفريتا من الجن تفلت على البارحة او كلمة نحوها ليقطع على الصلاة، فامكنني الله منه واردت ان اربطه الى سارية من سواري المسجد حتى تصبحوا وتنظروا اليه كلكم، فذكرت قول اخي سليمان رب هب لي ملكا لا ينبغي لاحد من بعدي ". قال روح فرده خاسيا
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے کہ ہم عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے کہا: اے لوگو! جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو تو وہ اسے بیان کرے اگر علم نہ ہو تو کہے کہ اللہ ہی کو زیادہ علم ہے کیونکہ یہ بھی علم ہی ہے کہ جو چیز نہ جانتا ہو اس کے متعلق کہہ دے کہ اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کہہ دیا تھا «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين» کہ ”آپ کہہ دیجئیے کہ میں تم سے اس قرآن یا تبلیغ وحی پر کوئی اجرت نہیں چاہتا ہوں اور نہ میں بناوٹ کرنے والا ہوں۔“ اور میں «دخان» ( دھوئیں ) کے بارے میں بتاؤں گا ( جس کا ذکر قرآن میں آیا ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو اسلام کی دعوت دی تو انہوں نے تاخیر کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں بددعا کی «اللهم أعني عليهم بسبع كسبع يوسف» ”اے اللہ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ کی سی قحط سالی کے ذریعہ میری مدد کر۔“ چنانچہ قحط پڑا اور اتنا زبردست کہ ہر چیز ختم ہو گئی اور لوگ مردار اور چمڑے کھانے پر مجبور ہو گئے۔ بھوک کی شدت کی وجہ سے یہ حال تھا کہ آسمان کی طرف دھواں ہی دھواں نظر آتا۔ اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب أليم» کہ ”پس انتظار کرو اس دن کا جب آسمان کھلا ہوا دھواں لائے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا یہ درد ناک عذاب ہے۔“ بیان کیا کہ پھر قریش دعا کرنے لگے «ربنا اكشف عنا العذاب إنا مؤمنون * أنى لهم الذكرى وقد جاءهم رسول مبين * ثم تولوا عنه وقالوا معلم مجنون * إنا كاشفو العذاب قليلا إنكم عائدون» کہ ”اے ہمارے رب! اس عذاب کو ہم سے ہٹا لے تو ہم ایمان لائیں گے لیکن وہ نصیحت سننے والے کہاں ہیں ان کے پاس تو رسول صاف معجزات و دلائل کے ساتھ آ چکا اور وہ اس سے منہ موڑ چکے ہیں اور کہہ چکے ہیں کہ اسے تو سکھایا جا رہا ہے، یہ مجنون ہے، بیشک ہم تھوڑے دنوں کے لیے ان سے عذاب ہٹا لیں گے یقیناً تم پھر کفر ہی کی طرف لوٹ جاؤ گے کیا قیامت میں بھی عذاب ہٹایا جائے گا۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر یہ عذاب تو ان سے دور کر دیا گیا لیکن جب وہ دوبارہ کفر میں مبتلا ہو گئے تو جنگ بدر میں اللہ نے انہیں پکڑا۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں اسی طرف اشارہ ہے «يوم نبطش البطشة الكبرى إنا منتقمون» کہ ”جس دن ہم سخت پکڑ کریں گے، بلاشبہ ہم بدلہ لینے والے ہیں۔“
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، قال دخلنا على عبد الله بن مسعود، قال يا ايها الناس من علم شييا فليقل به، ومن لم يعلم فليقل الله اعلم، فان من العلم ان يقول لما لا يعلم الله اعلم، قال الله عز وجل لنبيه صلى الله عليه وسلم {قل ما اسالكم عليه من اجر وما انا من المتكلفين} وساحدثكم عن الدخان ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا قريشا الى الاسلام فابطيوا عليه فقال " اللهم اعني عليهم بسبع كسبع يوسف "، فاخذتهم سنة فحصت كل شىء حتى اكلوا الميتة والجلود حتى جعل الرجل يرى بينه وبين السماء دخانا من الجوع، قال الله عز وجل {فارتقب يوم تاتي السماء بدخان مبين * يغشى الناس هذا عذاب اليم} قال فدعوا {ربنا اكشف عنا العذاب انا مومنون * انى لهم الذكرى وقد جاءهم رسول مبين * ثم تولوا عنه وقالوا معلم مجنون * انا كاشفو العذاب قليلا انكم عايدون} افيكشف العذاب يوم القيامة قال فكشف ثم عادوا في كفرهم، فاخذهم الله يوم بدر قال الله تعالى {يوم نبطش البطشة الكبرى انا منتقمون}
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے یعلیٰ بن مسلم نے بیان کیا، انہیں سعید بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ مشرکین میں بعض نے قتل کا گناہ کیا تھا اور کثرت سے کیا تھا۔ اسی طرح زناکاری بھی کثرت سے کرتے رہے تھے۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ آپ جو کچھ کہتے ہیں اور جس کی طرف دعوت دیتے ہیں ( یعنی اسلام ) یقیناً اچھی چیز ہے، لیکن ہمیں یہ بتائیے کہ اب تک ہم نے جو گناہ کئے ہیں وہ اسلام لانے سے معاف ہوں گے یا نہیں؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق ولا يزنون» ”اور وہ لوگ جو اللہ کے سوا اور کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور کسی بھی جان کو قتل نہیں کرتے جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا ہے، ہاں مگر حق کے ساتھ“ اور یہ آیت نازل ہوئی «قل يا عبادي الذين أسرفوا على أنفسهم لا تقنطوا من رحمة الله» ”آپ کہہ دیں کہ اے میرے بندو! جو اپنے نفسوں پر زیادتیاں کر چکے ہو، اللہ کی رحمت سے ناامید مت ہو، بیشک اللہ سارے گناہوں کو معاف کر دے گا۔ بیشک اللہ وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔“
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام بن يوسف، ان ابن جريج، اخبرهم قال يعلى ان سعيد بن جبير اخبره عن ابن عباس رضى الله عنهما ان ناسا، من اهل الشرك كانوا قد قتلوا واكثروا وزنوا واكثروا، فاتوا محمدا صلى الله عليه وسلم فقالوا ان الذي تقول وتدعو اليه لحسن لو تخبرنا ان لما عملنا كفارة. فنزل {والذين لا يدعون مع الله الها اخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله الا بالحق ولا يزنون} ونزل {قل يا عبادي الذين اسرفوا على انفسهم لا تقنطوا من رحمة الله}
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے عبیدہ سلمانی نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ علماء یہود میں سے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! ہم تورات میں پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اس طرح زمین کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر، پھر فرمائے گا کہ میں ہی بادشاہ ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہنس دیئے اور آپ کے سامنے کے دانت دکھائی دینے لگے۔ آپ کا یہ ہنسنا اس یہودی عالم کی تصدیق میں تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «وما قدروا الله حق قدره والأرض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه سبحانه وتعالى عما يشركون» ”اور ان لوگوں نے اللہ کی عظمت نہ کی جیسی عظمت کرنا چاہئے تھی اور حال یہ کہ ساری زمین اسی کی مٹھی میں ہو گی قیامت کے دن اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے، وہ ان لوگوں کے شرک سے بالکل پاک اور بلند تر ہے۔“
حدثنا ادم، حدثنا شيبان، عن منصور، عن ابراهيم، عن عبيدة، عن عبد الله رضى الله عنه قال جاء حبر من الاحبار الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا محمد، انا نجد ان الله يجعل السموات على اصبع والارضين على اصبع، والشجر على اصبع، والماء والثرى على اصبع، وساير الخلايق على اصبع، فيقول انا الملك. فضحك النبي صلى الله عليه وسلم حتى بدت نواجذه تصديقا لقول الحبر ثم قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم {وما قدروا الله حق قدره والارض جميعا قبضته يوم القيامة والسموات مطويات بيمينه سبحانه وتعالى عما يشركون}
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد بن مسافر نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے ابوسلمہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ قیامت کے دن اللہ ساری زمین کو اپنی مٹھی میں لے گا اور آسمان کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا۔ پھر فرمائے گا «أنا الملك، أين ملوك الأرض» ”آج حکومت صرف میری ہے، دنیا کے بادشاہ آج کہاں ہیں؟“
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مسافر، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، ان ابا هريرة، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " يقبض الله الارض، ويطوي السموات بيمينه، ثم يقول انا الملك، اين ملوك الارض
مجھ سے حسن نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرحیم نے خبر دی، انہیں زکریا بن ابی زائدہ نے، انہیں عامر نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آخری مرتبہ صور پھونکے جانے کے بعد سب سے پہلے اپنا سر اٹھانے والا میں ہوں گا لیکن اس وقت میں موسیٰ علیہ السلام کو دیکھوں گا کہ عرش کے ساتھ لپٹے ہوئے ہیں، اب مجھے نہیں معلوم کہ وہ پہلے ہی سے اسی طرح تھے یا دوسرے صور کے بعد ( مجھ سے پہلے ) اٹھ کر عرش الٰہی کو تھام لیں گے۔
حدثني الحسن، حدثنا اسماعيل بن خليل، اخبرنا عبد الرحيم، عن زكرياء بن ابي زايدة، عن عامر، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اني اول من يرفع راسه بعد النفخة الاخرة، فاذا انا بموسى متعلق بالعرش فلا ادري اكذلك كان ام بعد النفخة