Loading...

Loading...
کتب
۵۰۴ احادیث
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب بن عبدالمجید نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آنے کی اجازت چاہی۔ پھر راوی نے مذکورہ بالا حدیث کی طرح بیان کیا لیکن اس حدیث میں راوی نے لفظ «نسيا منسيا.» کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد، حدثنا ابن عون، عن القاسم، ان ابن عباس رضى الله عنه استاذن على عايشة نحوه. ولم يذكر نسيا منسيا
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کرنے کی حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی۔ میں نے عرض کیا کہ آپ انہیں بھی اجازت دیتی ہیں ( حالانکہ انہوں نے بھی آپ پر تہمت لگانے والوں کا ساتھ دیا تھا ) اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا۔ کیا انہیں اس کی ایک بڑی سزا نہیں ملی ہے۔ سفیان نے کہا کہ ان کا اشارہ ان کے نابینا ہو جانے کی طرف تھا۔ پھر حسان نے یہ شعر پڑھا۔ ”عفیفہ اور بڑی عقلمند ہیں کہ ان کے متعلق کسی کو کوئی شبہ بھی نہیں گزر سکتا۔ وہ غافل اور پاکدامن عورتوں کا گوشت کھانے سے اکمل پرہیز کرتی ہیں۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا، لیکن تو نے ایسا نہیں کیا۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت جاء حسان بن ثابت يستاذن عليها قلت اتاذنين لهذا قالت اوليس قد اصابه عذاب عظيم. قال سفيان تعني ذهاب بصره. فقال حصان رزان ما تزن بريبة وتصبح غرثى من لحوم الغوافل قالت لكن انت
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابوالضحیٰ نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا، کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور یہ شعر پڑھا۔ عفیفہ اور بڑی عقلمند ہیں، ان کے متعلق کسی کو شبہ بھی نہیں گزر سکتا۔ آپ غافل اور پاک دامن عورتوں کا گوشت کھانے سے کامل پرہیز کرتی ہیں۔“ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ لیکن اے حسان! تو ایسا نہیں ہے۔ بعد میں، میں نے عرض کیا آپ ایسے شخص کو اپنے پاس آنے دیتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ تو یہ آیت بھی نازل کر چکا ہے «والذي تولى كبره منهم» کہ ”اور جس نے ان میں سے سب سے بڑا حصہ لیا۔“ الخ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ نابینا ہو جانے سے بڑھ کر اور کیا عذاب ہو گا، پھر انہوں نے کہا کہ حسان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کفار کی ہجو کا جواب دیا کرتے تھے ( کیا یہ شرف ان کے لیے کم ہے ) ۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، انبانا شعبة، عن الاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، قال دخل حسان بن ثابت على عايشة فشبب وقال حصان رزان ما تزن بريبة وتصبح غرثى من لحوم الغوافل قالت لست كذاك. قلت تدعين مثل هذا يدخل عليك وقد انزل الله {والذي تولى كبره منهم} فقالت واى عذاب اشد من العمى وقالت وقد كان يرد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
اور ابواسامہ حماد بن اسامہ نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ مجھے میرے والد عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب میرے متعلق ایسی باتیں کہی گئیں جن کا مجھے گمان بھی نہیں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے معاملہ میں لوگوں کو خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کے بعد اللہ کی حمد و ثنا اس کی شان کے مطابق بیان کی، پھر فرمایا، امابعد! تم لوگ مجھے ایسے لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری بیوی کو بدنام کیا ہے اور اللہ کی قسم! کہ میں نے اپنی بیوی میں کوئی برائی نہیں دیکھی اور تہمت بھی ایسے شخص ( صفوان بن معطل ) کے ساتھ لگائی ہے کہ اللہ کی قسم! ان میں بھی میں نے کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی۔ وہ میرے گھر میں جب بھی داخل ہوا تو میری موجودگی ہی میں داخل ہوا اور اگر میں کبھی سفر کی وجہ سے مدینہ نہیں ہوتا تو وہ بھی نہیں ہوتا اور وہ میرے ساتھ ہی رہتے ہیں۔ اس کے بعد سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں حکم فرمایئے کہ ہم ایسے مردود لوگوں کی گردنیں اڑا دیں۔ اس کے بعد قبیلہ خزرج کے ایک صاحب ( سعد بن عبادہ ) کھڑے ہوئے، حسان بن ثابت کی والدہ اسی قبیلہ خزرج سے تھیں، انہوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ تم جھوٹے ہو، اگر وہ لوگ ( تہمت لگانے والے ) قبیلہ اوس کے ہوتے تو تم کبھی انہیں قتل کرنا پسند نہ کرتے۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مسجد ہی میں اوس و خزرج کے قبائل میں باہم فساد کا خطرہ ہو گیا، اس فساد کی مجھ کو کچھ خبر نہ تھی، اسی دن کی رات میں، میں قضائے حاجت کے لیے باہر نکلی، میرے ساتھ ام مسطح بھی تھیں۔ وہ ( راستے میں ) پھسل گئیں اور ان کی زبان سے نکلا کہ مسطح کو اللہ غارت کرے۔ میں نے کہا، آپ اپنے بیٹے کو کوستی ہیں، اس پر وہ خاموش ہو گئیں، پھر دوبارہ وہ پھسلیں اور ان کی زبان سے وہی الفاظ نکلے کہ مسطح کو اللہ غارت کرے۔ میں نے پھر کہا کہ اپنے بیٹے کو کوستی ہو، پھر وہ تیسری مرتبہ پھسلیں تو میں نے پھر انہیں ٹوکا۔ انہوں نے بتایا کہ اللہ کی قسم! میں تو تیری ہی وجہ سے اسے کوستی ہوں۔ میں نے کہا کہ میرے کس معاملہ میں انہیں آپ کوس رہی ہیں؟ بیان کیا۔ کہ اب انہوں نے طوفان کا سارا قصہ بیان کیا میں نے پوچھا، کیا واقعی یہ سب کچھ کہا گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، اللہ کی قسم! پھر میں اپنے گھر گئی۔ لیکن ( ان واقعات کو سن کر غم کا یہ حال تھا کہ ) مجھے کچھ خبر نہیں کہ کس کام کے لیے میں باہر گئی تھی اور کہاں سے آئی ہوں، ذرہ برابر بھی مجھے اس کا احساس نہیں رہا۔ اس کے بعد مجھے بخار چڑھ گیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ مجھے ذرا میرے والد کے گھر پہنچوا دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ایک بچہ کو کر دیا۔ میں گھر پہنچی تو میں نے دیکھا کہ ام رومان نیچے کے حصہ میں ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ بالاخانے میں قرآن پڑھ رہے ہیں۔ والدہ نے پوچھا بیٹی اس وقت کیسے آ گئیں۔ میں نے وجہ بتائی اور واقعہ کی تفصیلات سنائیں ان باتوں سے جتنا غم مجھ کو تھا ایسا معلوم ہوا کہ ان کو اتنا غم نہیں ہے۔ انہوں نے فرمایا، بیٹی اتنا فکر کیوں کرتی ہو کم ہی ایسی کوئی خوبصورت عورت کسی ایسے مرد کے نکاح میں ہو گی جو اس سے محبت رکھتا ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں اور وہ اس سے حسد نہ کریں اور اس میں سو عیب نہ نکالیں۔ اس تہمت سے وہ اس درجہ بالکل بھی متاثر نہیں معلوم ہوتی تھیں جتنا میں متاثر تھی۔ میں نے پوچھا والد کے علم میں بھی یہ باتیں آ گئیں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، میں نے پوچھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی علم میں سب کچھ ہے۔ میں یہ سن کر رونے لگی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی میری آواز سن لی، وہ گھر کے بالائی حصہ میں قرآن پڑھ رہے تھے، اتر کر نیچے آئے اور والدہ سے پوچھا کہ اسے کیا ہو گیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ وہ تمام باتیں اسے بھی معلوم ہو گئی ہیں جو اس کے متعلق کہی جا رہی ہیں۔ ان کی بھی آنکھیں بھر آئیں اور فرمایا: بیٹی! تمہیں قسم دیتا ہوں، اپنے گھر واپس چلی جاؤ چنانچہ میں واپس چلی آئی۔ ( جب میں اپنے والدین کے گھر آ گئی تھی تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے حجرہ میں تشریف لائے تھے اور میری خادمہ ( بریرہ ) سے میرے متعلق پوچھا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ نہیں، اللہ کی قسم! میں ان کے اندر کوئی عیب نہیں جانتی، البتہ ایسا ہو جایا کرتا تھا ( کم عمری کی غفلت کی وجہ سے ) کہ ( آٹا گوندھتے ہوئے ) سو جایا کرتیں اور بکری آ کر ان کا گندھا ہوا آٹا کھا جاتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے ڈانٹ کر ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بات صحیح صحیح کیوں نہیں بتا دیتی۔ پھر انہوں نے کھول کر صاف لفظوں میں ان سے واقعہ کی تصدیق چاہی۔ اس پر وہ بولیں کہ سبحان اللہ، میں تو عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس طرح جانتی ہوں جس طرح سنار کھرے سونے کو جانتا ہے۔ اس تہمت کی خبر جب ان صاحب کو معلوم ہوئی جن کے ساتھ تہمت لگائی گئی تھی تو انہوں نے کہا کہ سبحان اللہ، اللہ کی قسم! کہ میں نے آج تک کسی ( غیر ) عورت کا کپڑا نہیں کھولا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پھر انہوں نے اللہ کے راستے میں شہادت پائی۔ بیان کیا کہ صبح کے وقت میرے والدین میرے پاس آ گئے اور میرے پاس ہی رہے۔ آخر عصر کی نماز سے فارغ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے۔ میرے والدین مجھے دائیں اور بائیں طرف سے پکڑے ہوئے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: امابعد! اے عائشہ! اگر تم نے واقعی کوئی برا کام کیا ہے اور اپنے اوپر ظلم کیا ہے تو پھر اللہ سے توبہ کرو، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ایک انصاری خاتون بھی آ گئی تھیں اور دروازے پر بیٹھی ہوئی تھیں، میں نے عرض کی، آپ ان خاتون کا لحاظ نہیں فرماتے کہیں یہ ( اپنی سمجھ کے مطابق کوئی الٹی سیدھی ) بات باہر کہہ دیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نصیحت فرمائی، اس کے بعد میں اپنے والد کی طرف متوجہ ہوئی اور ان سے عرض کیا کہ آپ ہی جواب دیجئیے، انہوں نے بھی یہی کہا کہ میں کیا کہوں جب کسی نے میری طرف سے کچھ نہیں کہا تو میں نے شہادت کے بعد اللہ کی شان کے مطابق اس کی حمد و ثنا کی اور کہا: امابعد! اللہ کی قسم! اگر میں آپ لوگوں سے یہ کہوں کہ میں نے اس طرح کی کوئی بات نہیں کی اور اللہ عزوجل گواہ ہے کہ میں اپنے اس دعوے میں سچی ہوں، تو آپ لوگوں کے خیال کو بدلنے میں میری یہ بات مجھے کوئی نفع نہیں پہنچائے گی، کیونکہ یہ بات آپ لوگوں کے دل میں رچ بس گئی ہے اور اگر میں یہ کہہ دوں کہ میں نے واقعتاً یہ کام کیا ہے حالانکہ اللہ خوب جانتا ہے کہ میں نے ایسا نہیں کیا ہے، تو آپ لوگ کہیں گے کہ اس نے تو جرم کا اقرار کر لیا ہے۔ اللہ کی قسم! میری اور آپ لوگوں کی مثال یوسف علیہ السلام کے والد کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون» ”پس صبر ہی اچھا ہے اور تم لوگ جو کچھ بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی مدد کرے۔“ میں نے ذہن پر بہت زور دیا کہ یعقوب علیہ السلام کا نام یاد آ جائے لیکن نہیں یاد آیا۔ اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کا نزول شروع ہو گیا اور ہم سب خاموش ہو گئے۔ پھر آپ سے یہ کیفیت ختم ہوئی تو میں نے دیکھا کہ خوشی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے ظاہر ہو رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پسینہ سے ) اپنی پیشانی صاف کرتے ہوئے فرمایا کہ عائشہ! تمہیں بشارت ہو اللہ تعالیٰ نے تمہاری پاکی نازل کر دی ہے۔ بیان کیا کہ اس وقت مجھے بڑا غصہ آ رہا تھا۔ میرے والدین نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو جاؤ، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی نہیں ہوں گی نہ آپ کا شکریہ ادا کروں گی اور نہ آپ لوگوں کا شکریہ ادا کروں گی، میں تو صرف اللہ کا شکر ادا کروں گی جس نے میری برات نازل کی ہے۔ آپ لوگوں نے تو یہ افواہ سنی اور اس کا انکار بھی نہ کر سکے، اس کے ختم کرنے کی بھی کوشش نہیں کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ زینب بنت جحش کو اللہ تعالیٰ نے ان کی دینداری کی وجہ سے اس تہمت میں پڑنے سے بچا لیا۔ میری بابت انہوں نے خیر کے سوا اور کوئی بات نہیں کہی، البتہ ان کی بہن حمنہ ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوئیں۔ اس طوفان کو پھیلانے میں مسطح اور حسان اور منافق عبداللہ بن ابی نے حصہ لیا تھا۔ عبداللہ بن ابی منافق ہی تو کھود کھود کر اس کو پوچھتا اور اس پر حاشیہ چڑھاتا، وہی اس طوفان کا بانی مبانی تھا۔ «وهو الذي تولى كبره» سے وہ اور حمنہ مراد ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھائی کہ مسطح کو کوئی فائدہ آئندہ کبھی وہ نہیں پہنچائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ولا يأتل أولو الفضل منكم» ”اور جو لوگ تم میں بزرگی والے اور فراخ دست ہیں“ الخ، اس سے مراد ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ ”وہ قرابت والوں اور مسکینوں کو“ اس سے مراد مسطح ہیں۔ ( دینے سے قسم نہ کھا بیٹھیں ) اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ألا تحبون أن يغفر الله لكم والله غفور رحيم» ”کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہارے قصور معاف کرتا رہے، بیشک اللہ بڑی مغفرت کرنے والا بڑا ہی مہربان ہے“ تک۔ چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں، اللہ کی قسم! اے ہمارے رب! ہم تو اسی کے خواہشمند ہیں کہ تو ہماری مغفرت فرما۔ پھر وہ پہلے کی طرح مسطح کو جو دیا کرتے تھے وہ جاری کر دیا۔
اور احمد بن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد شبیب بن سعید نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ ان عورتوں پر رحم کرے جنہوں نے پہلی ہجرت کی تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے آیت «وليضربن بخمرهن على جيوبهن» ”اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں۔“ ( تاکہ سینہ اور گلا وغیرہ نہ نظر آئے ) نازل کی، تو انہوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ کر ان کے دوپٹے بنا لیے۔
وقال احمد بن شبيب حدثنا ابي، عن يونس، قال ابن شهاب عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت يرحم الله نساء المهاجرات الاول، لما انزل الله {وليضربن بخمرهن على جيوبهن} شققن مروطهن فاختمرن بها
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے بیان کیا، ان سے حسن بن مسلم نے، ان سے صفیہ بنت شیبہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی تھی کہ جب یہ آیت نازل ہوئی «وليضربن بخمرهن على جيوبهن» کہ ”اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رہا کریں“ تو ( انصار کی عورتوں نے ) اپنے تہبندوں کو دونوں کنارے سے پھاڑ کر ان کی اوڑھنیاں بنا لیں۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا ابراهيم بن نافع، عن الحسن بن مسلم، عن صفية بنت شيبة، ان عايشة رضى الله عنها كانت تقول لما نزلت هذه الاية {وليضربن بخمرهن على جيوبهن} اخذن ازرهن فشققنها من قبل الحواشي فاختمرن بها
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن محمد بغدادی نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے پوچھا، اے اللہ کے نبی! کافر کو قیامت کے دن اس کے چہرے کے بل کس طرح چلایا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس نے اسے اس دنیا میں دو پاؤں پر چلایا ہے اس پر قادر ہے کہ قیامت کے دن اس کو اس کے چہرے کے بل چلا دے۔ قتادہ نے کہا یقیناً ہمارے رب کی عزت کی قسم! یونہی ہو گا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا يونس بن محمد البغدادي، حدثنا شيبان، عن قتادة، حدثنا انس بن مالك رضى الله عنه . ان رجلا، قال يا نبي الله يحشر الكافر على وجهه يوم القيامة قال " اليس الذي امشاه على الرجلين في الدنيا قادرا على ان يمشيه على وجهه يوم القيامة ". قال قتادة بلى وعزة ربنا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ مجھ سے منصور اور سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابووائل نے، ان سے ابومیسرہ نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (سفیان ثوری نے کہا کہ) اور مجھ سے واصل نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا، یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا کہ اس کے بعد سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالو کہ وہ تمہاری روزی میں شریک ہو گی۔ میں نے پوچھا اس کے بعد کون سا؟ فرمایا کہ اس کے بعد یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو۔ راوی نے بیان کیا کہ یہ آیت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تصدیق کے لیے نازل ہوئی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» کہ ”اور جو اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جس ( انسان ) کی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق پر اور نہ وہ زنا کرتے ہیں۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني منصور، وسليمان، عن ابي وايل، عن ابي ميسرة، عن عبد الله،. قال وحدثني واصل، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه قال سالت او سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم اى الذنب عند الله اكبر قال " ان تجعل لله ندا وهو خلقك ". قلت ثم اى قال " ثم ان تقتل ولدك خشية ان يطعم معك". قلت ثم اى قال " ان تزاني بحليلة جارك ". قال ونزلت هذه الاية تصديقا لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم {والذين لا يدعون مع الله الها اخر ولا يقتلون النفس التي حرم الله الا بالحق ولا يزنون}
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے قاسم بن ابی بزہ نے خبر دی، انہوں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو کیا اس کی اس گناہ سے توبہ قبول ہو سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں۔ ( ابن ابی بزہ نے بیان کیا کہ ) میں نے اس پر یہ آیت پڑھی «ولا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» کہ ”اور جس جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہ کرتے، مگر ہاں حق کے ساتھ۔“ سعید بن جبیر نے کہا کہ میں نے بھی یہ آیت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے سامنے پڑھی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ مکی آیت اور مدنی آیت جو اس سلسلہ میں سورۃ نساء میں ہے اس سے اس کا حکم منسوخ ہو گیا ہے۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام بن يوسف، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني القاسم بن ابي بزة، انه سال سعيد بن جبير هل لمن قتل مومنا متعمدا من توبة فقرات عليه {ولا يقتلون النفس التي حرم الله الا بالحق}. فقال سعيد قراتها على ابن عباس كما قراتها على. فقال هذه مكية نسختها اية مدنية، التي في سورة النساء
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے مغیرہ بن نعمان نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ اہل کوفہ کا مومن کے قتل کے مسئلے میں اختلاف ہوا ( کہ اس کے قاتل کی توبہ قبول ہو سکتی ہے یا نہیں ) تو میں سفر کر کے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ( سورۃ نساء کی آیت جس میں یہ ذکر ہے کہ جس نے کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے۔ ) اس سلسلہ میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہے اور کسی دوسری سے منسوخ نہیں ہوئی۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن المغيرة بن النعمان، عن سعيد بن جبير، قال اختلف اهل الكوفة في قتل المومن، فرحلت فيه الى ابن عباس، فقال نزلت في اخر ما نزل ولم ينسخها شىء
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے «فجزاؤه جهنم» کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد «لا يدعون مع الله إلها آخر» کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے متعلق ہے جنہوں نے زمانہ جاہلیت میں قتل کیا ہو۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا منصور، عن سعيد بن جبير، قال سالت ابن عباس رضى الله عنهما عن قوله تعالى {فجزاوه جهنم} قال لا توبة له. وعن قوله جل ذكره {لا يدعون مع الله الها اخر} قال كانت هذه في الجاهلية
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ ان سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «ومن يقتل مؤمنا متعمدا فجزاؤه جهنم» ”اور جو کوئی کسی مومن کو جان کر قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے۔“ اور سورۃ الفرقان کی آیت «لا يقتلون النفس التي حرم الله إلا بالحق» ”اور جس انسان کی جان مارنے کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اسے قتل نہیں کرتے مگر ہاں حق کے ساتھ“ «إلا من تاب» تک، میں نے اس آیت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو اہل مکہ نے کہا کہ پھر تو ہم نے اللہ کے ساتھ شریک بھی ٹھہرایا ہے اور ناحق ایسے قتل بھی کئے ہیں جنہیں اللہ نے حرام قرار دیا تھا اور ہم نے بدکاریوں کا بھی ارتکاب کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «إلا من تاب وآمن وعمل عملا صالحا» کہ ”مگر ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرتا رہے، اللہ بہت بخشنے والا بڑا ہی مہربان ہے“ تک۔
حدثنا سعد بن حفص، حدثنا شيبان، عن منصور، عن سعيد بن جبير، قال قال ابن ابزى سل ابن عباس عن قوله تعالى {ومن يقتل مومنا متعمدا فجزاوه جهنم} وقوله {لا يقتلون النفس التي حرم الله الا بالحق} حتى بلغ {الا من تاب} فسالته فقال لما نزلت قال اهل مكة فقد عدلنا بالله وقتلنا النفس التي حرم الله الا بالحق واتينا الفواحش، فانزل الله {الا من تاب وامن وعمل عملا صالحا} الى قوله {غفورا رحيما}
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا مجھ کو میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں منصور نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ نے حکم دیا کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دو آیتوں کے بارے میں پوچھوں یعنی «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» ”اور جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا“ الخ۔ میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت کسی چیز سے بھی منسوخ نہیں ہوئی ہے۔ ( اور دوسری آیت جس کے ) بارے میں مجھے انہوں نے پوچھنے کا حکم دیا وہ یہ تھی «والذين لا يدعون مع الله إلها آخر» ”اور جو لوگ کسی معبود کو اللہ کے ساتھ نہیں پکارتے“ آپ نے اس کے متعلق فرمایا کہ یہ مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
حدثنا عبدان، اخبرنا ابي، عن شعبة، عن منصور، عن سعيد بن جبير، قال امرني عبد الرحمن بن ابزى ان اسال ابن عباس، عن هاتين الايتين، {ومن يقتل مومنا متعمدا}، فسالته فقال لم ينسخها شىء. وعن {والذين لا يدعون مع الله الها اخر} قال نزلت في اهل الشرك
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم نے بیان کیا، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا ( قیامت کی ) پانچ نشانیاں گزر چکی ہیں۔ دھواں ( اس کا ذکر آیت «يوم تأتي السماء بدخان مبين» میں ہے ) ۔ چاند کا پھٹنا ( اس کا ذکر آیت «اقتربت الساعة وانشق القمر» میں ہے ) ۔ روم کا مغلوب ہونا ( اس کا ذکر سورۃ «غلبت الروم» میں ہے ) ۔ «لبطشة» یعنی اللہ کی پکڑ جو بدر میں ہوئی ( اس کا ذکر «یوم نبطش البطشة الکبرى» میں ہے ) ۔ اور وبال جو قریش پر بدر کے دن آیا ( اس کا ذکر آیت «فسوف یکون لزاما» میں ہے۔)
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا مسلم، عن مسروق، قال قال عبد الله خمس قد مضين الدخان والقمر والروم والبطشة واللزام {فسوف يكون لزاما}
اور ہم سے ابراہیم بن طہمان نے کہا کہ ان سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید مقبری نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے والد ( آذر ) کو قیامت کے دن گرد آلود کالا کلوٹا دیکھیں گے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا «غبرة» اور «قترة.» ہم معنی ہیں۔
وقال ابراهيم بن طهمان عن ابن ابي ذيب، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان ابراهيم عليه الصلاة والسلام راى اباه يوم القيامة عليه الغبرة والقترة ". الغبرة هي القترة
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے بھائی (عبدالحمید) نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ذئب نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ الصلٰوۃ والسلام اپنے والد سے ( قیامت کے دن ) جب ملیں گے تو اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ اے رب! تو نے وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے اس دن رسوا نہیں کرے گا جب سب اٹھائے جائیں گے لیکن اللہ تعالیٰ جواب دے گا کہ میں نے جنت کو کافروں پر حرام قرار دے دیا ہے۔
حدثنا اسماعيل، حدثنا اخي، عن ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يلقى ابراهيم اباه فيقول يا رب انك وعدتني ان لا تخزني يوم يبعثون فيقول الله اني حرمت الجنة على الكافرين
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، کہا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اور آپ اپنے خاندانی قرابت داروں کو ڈراتے رہئیے“ نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور پکارنے لگے۔ اے بنی فہر! اور اے بنی عدی! اور قریش کے دوسرے خاندان والو! اس آواز پر سب جمع ہو گئے اگر کوئی کسی وجہ سے نہ آ سکا تو اس نے اپنا کوئی چودھری بھیج دیا، تاکہ معلوم ہو کہ کیا بات ہے۔ ابولہب قریش کے دوسرے لوگوں کے ساتھ مجمع میں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خطاب کر کے فرمایا کہ تمہارا کیا خیال ہے، اگر میں تم سے کہوں کہ وادی میں ( پہاڑی کے پیچھے ) ایک لشکر ہے اور وہ تم پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا تم میری بات سچ مانو گے؟ سب نے کہا کہ ہاں، ہم آپ کی تصدیق کریں گے ہم نے ہمیشہ آپ کو سچا ہی پایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سنو، میں تمہیں اس سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو بالکل سامنے ہے۔ اس پر ابولہب بولا، تجھ پر سارے دن تباہی نازل ہو، کیا تو نے ہمیں اسی لیے اکٹھا کیا تھا۔ اسی واقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی «تبت يدا أبي لهب وتب * ما أغنى عنه ماله وما كسب» ”ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ برباد ہو گیا، نہ اس کا مال اس کے کام آیا اور نہ اس کی کمائی ہی اس کے آڑے آئی۔“
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، قال حدثني عمرو بن مرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لما نزلت {وانذر عشيرتك الاقربين} صعد النبي صلى الله عليه وسلم على الصفا فجعل ينادي " يا بني فهر، يا بني عدي ". لبطون قريش حتى اجتمعوا، فجعل الرجل اذا لم يستطع ان يخرج ارسل رسولا لينظر ما هو، فجاء ابو لهب وقريش فقال " ارايتكم لو اخبرتكم ان خيلا بالوادي تريد ان تغير عليكم، اكنتم مصدقي ". قالوا نعم، ما جربنا عليك الا صدقا. قال " فاني نذير لكم بين يدى عذاب شديد ". فقال ابو لهب تبا لك ساير اليوم، الهذا جمعتنا فنزلت {تبت يدا ابي لهب وتب * ما اغنى عنه ماله وما كسب}
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، جب آیت «وأنذر عشيرتك الأقربين» ”اور اپنے خاندان کے قرابت داروں کو ڈرا“ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر ) آواز دی کہ اے جماعت قریش! یا اسی طرح کا اور کوئی کلمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی اطاعت کے ذریعہ اپنی جانوں کو اس کے عذاب سے بچاؤ ( اگر تم شرک و کفر سے باز نہ آئے تو ) اللہ کے ہاں میں تمہارے کسی کام نہیں آؤں گا۔ اے بنی عبد مناف! اللہ کے ہاں میں تمہارے لیے بالکل کچھ نہیں کر سکوں گا۔ اے عباس بن عبدالمطلب! اللہ کی بارگاہ میں میں تمہارے کچھ کام نہیں آ سکوں گا۔ اے صفیہ، رسول اللہ کی پھوپھی! میں اللہ کے یہاں تمہیں کچھ فائدہ نہ پہنچا سکوں گا۔ اے فاطمہ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بیٹی! میرے مال میں سے جو چاہو مجھ سے لے لو لیکن اللہ کی بارگاہ میں، میں تمہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا سکوں گا۔ اس روایت کی متابعت اصبغ نے ابن وہب سے، انہوں نے یونس سے اور انہوں نے ابن شہاب سے کی ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، وابو سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة، قال قام رسول الله صلى الله عليه وسلم حين انزل الله {وانذر عشيرتك الاقربين} قال " يا معشر قريش او كلمة نحوها اشتروا انفسكم، لا اغني عنكم من الله شييا، يا بني عبد مناف، لا اغني عنكم من الله شييا، يا عباس بن عبد المطلب، لا اغني عنك من الله شييا، ويا صفية عمة رسول الله، لا اغني عنك من الله شييا ويا فاطمة بنت محمد سليني ما شيت من مالي، لا اغني عنك من الله شييا ". تابعه اصبغ عن ابن وهب عن يونس عن ابن شهاب
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا۔ انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ان کے والد (مسیب بن حزن) نے بیان کیا کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ وہاں پہلے ہی سے موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چچا! آپ صرف کلمہ «لا إله إلا الله» پڑھ دیجئیے تاکہ اس کلمہ کے ذریعہ اللہ کی بارگاہ میں آپ کی شفاعت کروں۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بولے کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باربار ان سے یہی کہتے رہے ( کہ آپ صرف ایک کلمہ پڑھ لیں ) اور یہ دونوں بھی اپنی بات ان کے سامنے باربار دہراتے رہے ( کہ کیا تم عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جاؤ گے؟ ) آخر ابوطالب کی زبان سے جو آخری کلمہ نکلا وہ یہی تھا کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہی قائم ہیں۔ انہوں نے «لا إله إلا الله» پڑھنے سے انکار کر دیا۔ راوی نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی قسم! میں آپ کے لیے طلب مغفرت کرتا رہوں گا تاآنکہ مجھے اس سے روک نہ دیا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ما كان للنبي والذين آمنوا أن يستغفروا للمشركين» ”نبی اور ایمان والوں کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کریں۔“ اور خاص ابوطالب کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا «إنك لا تهدي من أحببت ولكن الله يهدي من يشاء» کہ ”جس کو تم چاہو ہدایت نہیں کر سکتے، البتہ اللہ ہدایت دیتا ہے اسے جس کے لیے وہ ہدایت چاہتا ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا «أولي القوة» سے یہ مراد ہے کہ کئی زور دار آدمی مل کر بھی اس کی کنجیاں نہیں اٹھا سکتے تھے۔ «لتنوء» کا مطلب ڈھوئی جاتی تھیں۔ «فارغا» کا معنی یہ ہے کہ موسیٰ کی ماں کے دل میں موسیٰ کے سوا اور کوئی خاص نہیں رہا تھا۔ «الفرحين» کا معنی خوشی سے اتراتے ہوئے۔ «قصيه» یعنی اس کے پیچھے پیچھے چلی جا۔ «قصص» کے معنی بیان کرنے کے ہوتے ہیں جیسے سورۃ یوسف میں فرمایا «نحن نقص عليك»، «عن جنب» یعنی دور سے «عن جنابة» کا بھی یہی معنی ہے اور «عن اجتناب» کا بھی یہی ہے۔ «يبطش» بہ کسرہ طاء اور «يبطش.» بہ ضمہ طاء دونوں قرآت ہیں۔ «يأتمرون» مشورہ کر رہے ہیں۔ «عدوان» اور «عدو» اور «تعدي» سب کا ایک ہی مفہوم ہے یعنی حد سے بڑھ جانا ظلم کرنا۔ «آنس» کا معنی دیکھنا۔ «جذوة» لکڑی کا موٹا ٹکڑا جس کے سر ے پر آگ لگی ہو مگر اس میں شعلہ نہ ہو اور «شهاب» جو آیت «اواتیکم بشهاب قبس» میں ہے اس سے مراد ایسی جلتی ہوئی لکڑی جس میں شعلہ ہو۔ «حيات» یعنی سانپوں کی مختلف قسمیں ( جیسے ) جان، افعی، اسود وغیرہ «ردءا» یعنی مددگار، پشت پناہ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہا نے «يصدقني» بہ ضمہ قاف پڑھا ہے۔ اوروں نے کہا «سنشد» کا معنی یہ ہے کہ ہم تیری مدد کریں گے عرب لوگ کا محاورہ ہے جب کسی کو قوت دیتے ہیں تو کہتے ہیں «جعلت له عضدا.» ۔ «مقبوحين» کا معنی ہلاک کئے گئے۔ «وصلنا» ہم نے اس کو بیان کیا اور پورا کیا۔ «يجبى» کچھے آتے ہیں۔ «بطرت» شرارت کی۔ «في أمها رسولا»، «أم القرى» مکہ اور اس کے اطراف کو کہتے ہیں۔ «تكن» کا معنی چھپاتی ہیں۔ عرب لوگ کہتے ہیں «أكننت» یعنی میں نے اس کو چھپا لیا۔ «كننته» کا بھی یہی معنی ہے۔ «ويكأن الله» کا معنی «ألم تر أن الله» کے یعنی کیا تو نے نہیں دیکھا۔ «يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر» یعنی اللہ جس کو چاہتا ہے فراغت سے روزی دیتا ہے جسے چاہتا ہے تنگی سے دیتا ہے۔
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو یعلیٰ بن عبید نے خبر دی، کہا ہم سے سفیان بن دینار عصفری نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے، اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ( آیت مذکورہ بالا میں ) «لرادك إلى معاد» سے مراد ہے کہ اللہ پھر آپ کو مکہ پہنچا کر رہے گا۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا يعلى، حدثنا سفيان العصفري، عن عكرمة، عن ابن عباس، {لرادك الى معاد} قال الى مكة
وقال ابو اسامة عن هشام بن عروة، قال اخبرني ابي، عن عايشة، قالت لما ذكر من شاني الذي ذكر وما علمت به قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في خطيبا، فتشهد فحمد الله واثنى عليه بما هو اهله، ثم قال " اما بعد اشيروا على في اناس ابنوا اهلي، وايم الله ما علمت على اهلي من سوء، وابنوهم بمن والله ما علمت عليه من سوء قط، ولا يدخل بيتي قط الا وانا حاضر، ولا غبت في سفر الا غاب معي ". فقام سعد بن معاذ فقال ايذن لي يا رسول الله ان نضرب اعناقهم، وقام رجل من بني الخزرج، وكانت ام حسان بن ثابت من رهط ذلك الرجل، فقال كذبت، اما والله، ان لو كانوا من الاوس ما احببت ان تضرب اعناقهم. حتى كاد ان يكون بين الاوس والخزرج شر في المسجد، وما علمت فلما كان مساء ذلك اليوم خرجت لبعض حاجتي ومعي ام مسطح. فعثرت وقالت تعس مسطح. فقلت اى ام تسبين ابنك وسكتت ثم عثرت الثانية فقالت تعس مسطح، فقلت لها تسبين ابنك ثم عثرت الثالثة فقالت تعس مسطح. فانتهرتها، فقالت والله ما اسبه الا فيك. فقلت في اى شاني قالت فبقرت لي الحديث فقلت وقد كان هذا قالت نعم والله، فرجعت الى بيتي كان الذي خرجت له لا اجد منه قليلا ولا كثيرا، ووعكت فقلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم ارسلني الى بيت ابي. فارسل معي الغلام، فدخلت الدار فوجدت ام رومان في السفل وابا بكر فوق البيت يقرا. فقالت امي ما جاء بك يا بنية فاخبرتها وذكرت لها الحديث، واذا هو لم يبلغ منها مثل ما بلغ مني، فقالت يا بنية خفضي عليك الشان، فانه والله، لقلما كانت امراة حسناء عند رجل يحبها، لها ضراير، الا حسدنها وقيل فيها. واذا هو لم يبلغ منها ما بلغ مني، قلت وقد علم به ابي قالت نعم. قلت ورسول الله صلى الله عليه وسلم قالت نعم ورسول الله صلى الله عليه وسلم واستعبرت وبكيت، فسمع ابو بكر صوتي وهو فوق البيت يقرا، فنزل فقال لامي ما شانها قالت بلغها الذي ذكر من شانها. ففاضت عيناه، قال اقسمت عليك اى بنية الا رجعت الى بيتك، فرجعت ولقد جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم بيتي، فسال عني خادمتي فقالت لا والله ما علمت عليها عيبا الا انها كانت ترقد حتى تدخل الشاة فتاكل خميرها او عجينها. وانتهرها بعض اصحابه فقال اصدقي رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اسقطوا لها به فقالت سبحان الله، والله ما علمت عليها الا ما يعلم الصايغ على تبر الذهب الاحمر. وبلغ الامر الى ذلك الرجل الذي قيل له، فقال سبحان الله والله ما كشفت كنف انثى قط. قالت عايشة فقتل شهيدا في سبيل الله. قالت واصبح ابواى عندي، فلم يزالا حتى دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد صلى العصر، ثم دخل وقد اكتنفني ابواى عن يميني وعن شمالي، فحمد الله واثنى عليه ثم قال " اما بعد يا عايشة، ان كنت قارفت سوءا او ظلمت، فتوبي الى الله، فان الله يقبل التوبة من عباده ". قالت وقد جاءت امراة من الانصار فهى جالسة بالباب فقلت الا تستحي من هذه المراة ان تذكر شييا. فوعظ رسول الله صلى الله عليه وسلم فالتفت الى ابي فقلت اجبه. قال فماذا اقول فالتفت الى امي فقلت اجيبيه. فقالت اقول ماذا فلما لم يجيباه تشهدت فحمدت الله واثنيت عليه بما هو اهله، ثم قلت اما بعد فوالله لين قلت لكم اني لم افعل. والله عز وجل يشهد اني لصادقة، ما ذاك بنافعي عندكم، لقد تكلمتم به واشربته قلوبكم، وان قلت اني فعلت. والله يعلم اني لم افعل، لتقولن قد باءت به على نفسها، واني والله ما اجد لي ولكم مثلا والتمست اسم يعقوب فلم اقدر عليه الا ابا يوسف حين قال {فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون} وانزل على رسول الله صلى الله عليه وسلم من ساعته فسكتنا، فرفع عنه واني لاتبين السرور في وجهه وهو يمسح جبينه ويقول " ابشري يا عايشة، فقد انزل الله براءتك ". قالت وكنت اشد ما كنت غضبا فقال لي ابواى قومي اليه. فقلت والله لا اقوم اليه، ولا احمده ولا احمدكما، ولكن احمد الله الذي انزل براءتي، لقد سمعتموه، فما انكرتموه ولا غيرتموه، وكانت عايشة تقول اما زينب ابنة جحش فعصمها الله بدينها، فلم تقل الا خيرا، واما اختها حمنة فهلكت فيمن هلك، وكان الذي يتكلم فيه مسطح وحسان بن ثابت والمنافق عبد الله بن ابى، وهو الذي كان يستوشيه ويجمعه، وهو الذي تولى كبره منهم هو وحمنة قالت فحلف ابو بكر ان لا ينفع مسطحا بنافعة ابدا، فانزل الله عز وجل {ولا ياتل اولو الفضل منكم} الى اخر الاية يعني ابا بكر vوالسعة ان يوتوا اولي القربى والمساكين} يعني مسطحا الى قوله {الا تحبون ان يغفر الله لكم والله غفور رحيم} حتى قال ابو بكر بلى والله يا ربنا انا لنحب ان تغفر لنا، وعاد له بما كان يصنع
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سعيد بن المسيب، عن ابيه، قال لما حضرت ابا طالب الوفاة جاءه رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجد عنده ابا جهل وعبد الله بن ابي امية بن المغيرة، فقال " اى عم قل لا اله الا الله، كلمة احاج لك بها عند الله ". فقال ابو جهل وعبد الله بن ابي امية اترغب عن ملة عبد المطلب فلم يزل رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرضها عليه، ويعيدانه بتلك المقالة حتى قال ابو طالب اخر ما كلمهم على ملة عبد المطلب، وابى ان يقول لا اله الا الله. قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " والله لاستغفرن لك ما لم انه عنك ". فانزل الله {ما كان للنبي والذين امنوا ان يستغفروا للمشركين} وانزل الله في ابي طالب، فقال لرسول الله صلى الله عليه وسلم {انك لا تهدي من احببت ولكن الله يهدي من يشاء}. قال ابن عباس {اولي القوة} لا يرفعها العصبة من الرجال. {لتنوء} لتثقل. {فارغا} الا من ذكر موسى. {الفرحين} المرحين. {قصيه} اتبعي اثره، وقد يكون ان يقص الكلام {نحن نقص عليك}. {عن جنب} عن بعد عن جنابة واحد، وعن اجتناب ايضا، يبطش ويبطش. {ياتمرون} يتشاورون. العدوان والعداء والتعدي واحد. {انس} ابصر. الجذوة قطعة غليظة من الخشب، ليس فيها لهب، والشهاب فيه لهب. والحيات اجناس الجان والافاعي والاساود. {ردءا} معينا. قال ابن عباس {يصدقني} وقال غيره {سنشد} سنعينك كلما عززت شييا فقد جعلت له عضدا. مقبوحين مهلكين. {وصلنا} بيناه واتممناه. {يجبى} يجلب .{بطرت} اشرت. {في امها رسولا} ام القرى مكة وما حولها. {تكن} تخفي. اكننت الشىء اخفيته، وكننته اخفيته واظهرته. {ويكان الله} مثل الم تر ان الله {يبسط الرزق لمن يشاء ويقدر} يوسع عليه ويضيق عليه