Loading...

Loading...
کتب
۱۶۰ احادیث
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابی بشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنے پاس بٹھاتے تھے۔ اس پر عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی کہ ان جیسے تو ہمارے لڑکے بھی ہیں۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ محض ان کے علم کی وجہ سے ہے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت «إذا جاء نصر الله والفتح» کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تھی جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دی عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو تم نے سمجھا ہے میں بھی وہی سمجھتا ہوں۔
حدثنا محمد بن عرعرة، حدثنا شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال كان عمر بن الخطاب رضى الله عنه يدني ابن عباس، فقال له عبد الرحمن بن عوف ان لنا ابناء مثله. فقال انه من حيث تعلم. فسال عمر ابن عباس عن هذه الاية {اذا جاء نصر الله والفتح}. فقال اجل رسول الله صلى الله عليه وسلم اعلمه اياه. قال ما اعلم منها الا ما تعلم
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سلیمان بن حنظلہ بن غسیل نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مرض الوفات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، آپ ایک چکنے کپڑے سے سر مبارک پر پٹی باندھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی میں منبر پر تشریف فرما ہوئے پھر جیسے ہونی چاہیے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: امابعد: ( آنے والے دور میں ) دوسرے لوگوں کی تعداد بہت بڑھ جائے گی لیکن انصار کم ہوتے جائیں گے اور ایک زمانہ آئے گا کہ دوسروں کے مقابلے میں ان کی تعداد اتنی کم ہو جائے گی جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے۔ پس اگر تم میں سے کوئی شخص کہیں کا حاکم بنے اور اپنی حکومت کی وجہ سے وہ کسی کو نقصان اور نفع بھی پہنچا سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ انصار کے نیکوں ( کی نیکیوں ) کو قبول کرے اور جو برے ہوں ان سے درگزر کر دیا کرے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری مجلس وعظ تھی۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد الرحمن بن سليمان بن حنظلة بن الغسيل، حدثنا عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه بملحفة قد عصب بعصابة دسماء، حتى جلس على المنبر فحمد الله واثنى عليه ثم قال " اما بعد فان الناس يكثرون ويقل الانصار، حتى يكونوا في الناس بمنزلة الملح في الطعام، فمن ولي منكم شييا يضر فيه قوما، وينفع فيه اخرين، فليقبل من محسنهم، ويتجاوز عن مسييهم ". فكان اخر مجلس جلس به النبي صلى الله عليه وسلم
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حسین جعفی نے بیان کیا، ان سے ابوموسیٰ نے، ان سے امام حسن بصری نے اور ان سے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسن رضی اللہ عنہ کو ایک دن ساتھ لے کر باہر تشریف لائے اور منبر پر ان کو لے کر چڑھ گئے پھر فرمایا ”میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں ملاپ کرا دے گا۔“
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا يحيى بن ادم، حدثنا حسين الجعفي، عن ابي موسى، عن الحسن، عن ابي بكرة رضى الله عنه اخرج النبي صلى الله عليه وسلم ذات يوم الحسن فصعد به على المنبر، فقال " ابني هذا سيد، ولعل الله ان يصلح به بين فيتين من المسلمين
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر بن ابی طالب اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کی شہادت کی خبر پہلے ہی صحابہ کو سنا دی تھی، اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن حميد بن هلال، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم نعى جعفرا وزيدا قبل ان يجيء خبرهم، وعيناه تذرفان
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( ان کی شادی کے موقع پر ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تمہارے پاس قالین ہیں؟ میں نے عرض کیا، ہمارے پاس قالین کہاں؟ ( ہم غریب لوگ ہیں ) اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یاد رکھو ایک وقت آئے گا کہ تمہارے پاس عمدہ عمدہ قالین ہوں گے۔“ اب جب میں اس سے ( اپنی بیوی سے ) کہتا ہوں کہ اپنے قالین ہٹا لے تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے نہیں فرمایا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب تمہارے پاس قالین ہوں گے۔ چنانچہ میں انہیں وہیں رہنے دیتا ہوں ( اور چپ ہو جاتا ہوں ) ۔
حدثني عمرو بن عباس، حدثنا ابن مهدي، حدثنا سفيان، عن محمد بن المنكدر، عن جابر رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " هل لكم من انماط ". قلت وانى يكون لنا الانماط قال " اما انه سيكون لكم الانماط ". فانا اقول لها يعني امراته اخري عني انماطك. فتقول الم يقل النبي صلى الله عليه وسلم " انها ستكون لكم الانماط ". فادعها
ہم سے احمد بن اسحٰق نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کی نیت سے ( مکہ ) آئے اور ابوصفوان امیہ بن خلف کے یہاں اترے۔ امیہ بھی شام جاتے ہوئے ( تجارت وغیرہ کے لیے ) جب مدینہ سے گزرتا تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا کرتا تھا۔ امیہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: ابھی ٹھہرو، جب دوپہر کا وقت ہو جائے اور لوگ غافل ہو جائیں ( تب طواف کرنا کیونکہ مکہ کے مشرک مسلمانوں کے دشمن تھے ) سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، چنانچہ میں نے جا کر طواف شروع کر دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ ابھی طواف کر ہی رہے تھے کہ ابوجہل آ گیا اور کہنے لگا، یہ کعبہ کا طواف کون کر رہا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ بولے کہ میں سعد ہوں۔ ابوجہل بولا: تم کعبہ کا طواف خوب امن سے کر رہے ہو حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں ٹھیک ہے۔ اس طرح دونوں میں بات بڑھ گئی۔ پھر امیہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: ابوالحکم ( ابوجہل ) کے سامنے اونچی آواز سے نہ بولو۔ وہ اس وادی ( مکہ ) کا سردار ہے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے بیت اللہ کے طواف سے روکا تو میں بھی تمہاری شام کی تجارت خاک میں ملا دوں گا ( کیونکہ شام جانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے جو مدینہ سے جاتا ہے ) بیان کیا کہ امیہ برابر سعد رضی اللہ عنہ سے یہی کہتا رہا کہ اپنی آواز بلند نہ کرو اور انہیں ( مقابلہ سے ) روکتا رہا۔ آخر سعد رضی اللہ عنہ کو اس پر غصہ آ گیا اور انہوں نے امیہ سے کہا۔ چل پرے ہٹ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تیرے متعلق سنا ہے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ تجھ کو ابوجہل ہی قتل کرائے گا۔ امیہ نے پوچھا: مجھے؟ سعد رضی اللہ عنہ کہا: ہاں تجھ کو۔ تب تو امیہ کہنے لگا۔ اللہ کی قسم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جب کوئی بات کہتے ہیں تو وہ غلط نہیں ہوتی پھر وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور اس نے اس سے کہا تمہیں معلوم نہیں، میرے یثربی بھائی نے مجھے کیا بات بتائی ہے؟ اس نے پوچھا: انہوں نے کیا کہا؟ امیہ نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ چکے ہیں کہ ابوجہل مجھ کو قتل کرائے گا۔ وہ کہنے لگی۔ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم غلط بات زبان سے نہیں نکالتے۔ پھر ایسا ہوا کہ اہل مکہ بدر کی لڑائی کے لیے روانہ ہونے لگے اور امیہ کو بھی بلانے والا آیا تو امیہ سے اس کی بیوی نے کہا، تمہیں یاد نہیں رہا تمہارا یثربی بھائی تمہیں کیا خبر دے گیا تھا۔ بیان کیا کہ اس یاددہانی پر امیہ نے چاہا کہ اس جنگ میں شرکت نہ کرے۔ لیکن ابوجہل نے کہا: تم وادی مکہ کے رئیس ہو۔ اس لیے کم از کم ایک یا دو دن کے لیے ہی تمہیں چلنا پڑے گا۔ اس طرح وہ ان کے ساتھ جنگ میں شرکت کے لیے نکلا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قتل کرا دیا۔
مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مغیرہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے ( خواب میں ) دیکھا کہ لوگ ایک میدان میں جمع ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور ایک کنویں سے انہوں نے ایک یا دو ڈول پانی بھر کر نکالا، پانی نکالنے میں ان میں کچھ کمزوری معلوم ہوتی تھی اور اللہ ان کو بخشے۔ پھر وہ ڈول عمر رضی اللہ عنہ نے سنبھالا۔ ان کے ہاتھ میں جاتے ہی وہ ایک بڑا ڈول ہو گیا میں نے لوگوں میں ان جیسا شہ زور پہلوان اور بہادر انسان ان کی طرح کام کرنے والا نہیں دیکھا ( انہوں نے اتنے ڈول کھینچے ) کہ لوگ اپنے اونٹوں کو بھی پلا پلا کر ان کے ٹھکانوں میں لے گئے۔ اور ہمام نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے بیان کر رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دو ڈول کھینچے۔
حدثني عبد الرحمن بن شيبة، حدثنا عبد الرحمن بن المغيرة، عن ابيه، عن موسى بن عقبة، عن سالم بن عبد الله، عن عبد الله رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " رايت الناس مجتمعين في صعيد، فقام ابو بكر فنزع ذنوبا او ذنوبين، وفي بعض نزعه ضعف، والله يغفر له، ثم اخذها عمر، فاستحالت بيده غربا، فلم ار عبقريا في الناس يفري فريه، حتى ضرب الناس بعطن ". وقال همام عن ابي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم " فنزع ابو بكر ذنوبين
ہم سے عباس بن ولید نرسی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ مجھے یہ بات معلوم کرائی گئی کہ جبرائیل علیہ السلام ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرتے رہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب جبرائیل علیہ السلام چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ سے فرمایا: معلوم ہے یہ کون صاحب تھے؟ یا ایسے ہی الفاظ ارشاد فرمائے۔ ابوعثمان نے بیان کیا کہ ام سلمہ نے جواب دیا کہ یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے۔ ام سلمہ نے بیان کیا اللہ کی قسم میں سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آخر جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ جبرائیل علیہ السلام ( کی آمد ) کی خبر دے رہے تھے تو میں سمجھی کہ وہ جبرائیل علیہ السلام ہی تھے۔ یا ایسے ہی الفاظ کہے۔ بیان کیا کہ میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی؟ تو انہوں نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنی ہے۔
حدثني عباس بن الوليد النرسي، حدثنا معتمر، قال سمعت ابي، حدثنا ابو عثمان، قال انبيت ان جبريل عليه السلام اتى النبي صلى الله عليه وسلم وعنده ام سلمة، فجعل يحدث ثم قام، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لام سلمة " من هذا ". او كما قال. قال قالت هذا دحية. قالت ام سلمة ايم الله ما حسبته الا اياه حتى سمعت خطبة نبي الله صلى الله عليه وسلم يخبر جبريل او كما قال. قال فقلت لابي عثمان ممن سمعت هذا قال من اسامة بن زيد
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ یہود، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایا کہ ان کے یہاں ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ رجم کے بارے میں تورات میں کیا حکم ہے؟ وہ بولے یہ کہ ہم انہیں رسوا کریں اور انہیں کوڑے لگائے جائیں۔ اس پر عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ جھوٹے ہو۔ تورات میں رجم کا حکم موجود ہے۔ تورات لاؤ۔ پھر یہودی تورات لائے اور اسے کھولا۔ لیکن رجم سے متعلق جو آیت تھی اسے ایک یہودی نے اپنے ہاتھ سے چھپا لیا اور اس سے پہلے اور اس کے بعد کی عبارت پڑھنے لگا۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ذرا اپنا ہاتھ تو اٹھاؤ جب اس نے ہاتھ اٹھایا تو وہاں آیت رجم موجود تھی۔ اب وہ سب کہنے لگے کہ اے محمد! عبداللہ بن سلام نے سچ کہا۔ بیشک تورات میں رجم کی آیت موجود ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ان دونوں کو رجم کیا گیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رجم کے وقت دیکھا۔ یہودی مرد اس عورت پر جھکا پڑتا تھا۔ اس کو پتھروں کی مار سے بچاتا تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك بن انس، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان اليهود، جاءوا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكروا له ان رجلا منهم وامراة زنيا فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما تجدون في التوراة في شان الرجم ". فقالوا نفضحهم ويجلدون. فقال عبد الله بن سلام كذبتم، ان فيها الرجم. فاتوا بالتوراة فنشروها، فوضع احدهم يده على اية الرجم، فقرا ما قبلها وما بعدها. فقال له عبد الله بن سلام ارفع يدك. فرفع يده فاذا فيها اية الرجم. فقالوا صدق يا محمد، فيها اية الرجم. فامر بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم فرجما. قال عبد الله فرايت الرجل يجنا على المراة يقيها الحجارة
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہیں ابن ابی نجیح نے، انہیں مجاہد نے، انہیں ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگو اس پر گواہ رہنا۔
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا ابن عيينة، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابي معمر، عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قال انشق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم شقتين فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اشهدوا
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن یزید نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مکہ والوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ انہیں کوئی معجزہ دکھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شق قمر کا معجزہ یعنی چاند کا پھٹ جانا ان کو دکھایا۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا يونس، حدثنا شيبان، عن قتادة، عن انس بن مالك،. وقال لي خليفة حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه انه حدثهم ان اهل مكة سالوا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يريهم اية، فاراهم انشقاق القمر
مجھ سے خلف بن خالد قرشی نے بیان کیا، کہا ہم سے بکر بن مضر نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عراق بن مالک نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔
حدثني خلف بن خالد القرشي، حدثنا بكر بن مضر، عن جعفر بن ربيعة، عن عراك بن مالك، عن عبيد الله بن عبد الله بن مسعود، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان القمر، انشق في زمان النبي صلى الله عليه وسلم
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو صحابی ( اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما ) اٹھ کر ( اپنے گھر ) واپس ہوئے۔ رات اندھیری تھی لیکن دو چراغ کی طرح کی کوئی چیز ان کے آگے روشنی کرتی جاتی تھیں۔ پھر جب یہ دونوں ( راستے میں، اپنے اپنے گھر کی طرف جانے کے لیے ) جدا ہوئے تو وہ چیز دونوں کے ساتھ الگ الگ ہو گئی اور اس طرح وہ اپنے گھر والوں کے پاس پہنچ گئے۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا معاذ، قال حدثني ابي، عن قتادة، حدثنا انس رضى الله عنه ان رجلين، من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم خرجا من عند النبي صلى الله عليه وسلم في ليلة مظلمة ومعهما مثل المصباحين، يضيان بين ايديهما، فلما افترقا صار مع كل واحد منهما واحد حتى اتى اهله
مجھ سے عبداللہ بن ابوالاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ان سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا کہ میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری امت کے کچھ لوگ ہمیشہ غالب رہیں گے، یہاں تک کہ قیامت یا موت آئے گی اس وقت بھی وہ غالب ہی ہوں گے۔“
حدثنا عبد الله بن ابي الاسود، حدثنا يحيى، عن اسماعيل، حدثنا قيس، سمعت المغيرة بن شعبة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يزال ناس من امتي ظاهرين حتى ياتيهم امر الله وهم ظاهرون
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یزید بن جابر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمیر بن ہانی نے بیان کیا اور انہوں نے معاویہ بن ابی سفیان سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت پر قائم رہے گا، انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے اور اسی طرح ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حالت پر ہیں گے۔ عمیر نے بیان کیا کہ اس پر مالک بن یخامر نے کہا کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ ہمارے زمانے میں یہ لوگ شام میں ہیں۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ دیکھو یہ مالک بن یخامر یہاں موجود ہیں، جو کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے معاذ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ یہ لوگ شام کے ملک میں ہیں۔
حدثنا الحميدي، حدثنا الوليد، قال حدثني ابن جابر، قال حدثني عمير بن هاني، انه سمع معاوية، يقول سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا يزال من امتي امة قايمة بامر الله، لا يضرهم من خذلهم ولا من خالفهم حتى ياتيهم امر الله وهم على ذلك ". قال عمير فقال مالك بن يخامر قال معاذ وهم بالشام. فقال معاوية هذا مالك يزعم انه سمع معاذا يقول وهم بالشام
حدثنا علي بن عبد الله، اخبرنا سفيان، حدثنا شبيب بن غرقدة، قال سمعت الحى، يحدثون عن عروة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اعطاه دينارا يشتري به شاة، فاشترى له به شاتين، فباع احداهما بدينار وجاءه بدينار وشاة، فدعا له بالبركة في بيعه، وكان لو اشترى التراب لربح فيه. قال سفيان كان الحسن بن عمارة جاءنا بهذا الحديث عنه، قال سمعه شبيب من عروة، فاتيته فقال شبيب اني لم اسمعه من عروة، قال سمعت الحى يخبرونه عنه. ولكن سمعته يقول سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الخير معقود بنواصي الخيل الى يوم القيامة ". قال وقد رايت في داره سبعين فرسا. قال سفيان يشتري له شاة كانها اضحية
حدثنا علي بن عبد الله، اخبرنا سفيان، حدثنا شبيب بن غرقدة، قال سمعت الحى، يحدثون عن عروة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اعطاه دينارا يشتري به شاة، فاشترى له به شاتين، فباع احداهما بدينار وجاءه بدينار وشاة، فدعا له بالبركة في بيعه، وكان لو اشترى التراب لربح فيه. قال سفيان كان الحسن بن عمارة جاءنا بهذا الحديث عنه، قال سمعه شبيب من عروة، فاتيته فقال شبيب اني لم اسمعه من عروة، قال سمعت الحى يخبرونه عنه. ولكن سمعته يقول سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الخير معقود بنواصي الخيل الى يوم القيامة ". قال وقد رايت في داره سبعين فرسا. قال سفيان يشتري له شاة كانها اضحية
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ نے بیان کیا، انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت قیامت تک کے لیے باندھ دی گئی ہے۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال اخبرني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الخيل في نواصيها الخير الى يوم القيامة
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے بیان کیا، اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ برکت باندھ دی گئی ہے۔
حدثنا قيس بن حفص، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا شعبة، عن ابي التياح، قال سمعت انسا، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الخيل معقود في نواصيها الخير
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑے تین آدمیوں کے لیے ہیں۔ ایک کے لیے تو وہ باعث ثواب ہیں اور ایک کے لیے وہ معاف یعنی مباح ہیں اور ایک کے لیے وہ وبال ہیں۔ جس کے لیے گھوڑا باعث ثواب ہے یہ وہ شخص ہے جو جہاد کے لیے اسے پالے اور چراگاہ یا باغ میں اس کی رسی کو ( جس سے وہ بندھا ہوتا ہے ) خوب دراز کر دے تو وہ اپنے اس طول و عرض میں جو کچھ بھی چرتا ہے وہ سب اس کے مالک کے لیے نیکیاں بن جاتی ہیں اور اگر کبھی وہ اپنی رسی تڑا کر دو چار قدم دوڑ لے تو اس کی لید بھی مالک کے لیے باعث ثواب بن جاتی ہے اور کبھی اگر وہ کسی نہر سے گزرتے ہوئے اس میں سے پانی پی لے اگرچہ مالک کے دل میں اسے پہلے سے پانی پلانے کا خیال بھی نہ تھا، پھر بھی گھوڑے کا پانی پینا اس کے لیے ثواب بن جاتا ہے۔ اور ایک وہ آدمی جو گھوڑے کو لوگوں کے سامنے اپنی حاجت، پردہ پوشی اور سوال سے بچے رہنے کی غرض سے پالے اور اللہ تعالیٰ کا جو حق اس کی گردن اور اس کی پیٹھ میں ہے اسے بھی وہ فراموش نہ کرے تو یہ گھوڑا اس کے لیے ایک طرح کا پردہ ہوتا ہے اور ایک شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر اور دکھاوے اور اہل اسلام کی دشمنی میں پالے تو وہ اس کے لیے وبال جان ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس جامع آیت کے سوا مجھ پر گدھوں کے بارے میں کچھ نازل نہیں ہوا «فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره» ”جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی نیکی کرے گا تو اس کا بھی وہ بدلہ پائے گا اور جو شخص ایک ذرہ کے برابر بھی برائی کرے گا تو وہ اس کا بھی بدلہ پائے گا۔“
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الخيل لثلاثة لرجل اجر، ولرجل ستر وعلى رجل وزر. فاما الذي له اجر، فرجل ربطها في سبيل الله، فاطال لها في مرج او روضة، وما اصابت في طيلها من المرج او الروضة كانت له حسنات، ولو انها قطعت طيلها، فاستنت شرفا او شرفين، كانت ارواثها حسنات له، ولو انها مرت بنهر فشربت، ولم يرد ان يسقيها، كان ذلك له حسنات، ورجل ربطها تغنيا وسترا وتعففا، لم ينس حق الله في رقابها وظهورها، فهي له كذلك ستر. ورجل ربطها فخرا ورياء، ونواء لاهل الاسلام فهى وزر. وسيل النبي صلى الله عليه وسلم عن الحمر فقال " ما انزل على فيها الا هذه الاية الجامعة الفاذة {فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره}
حدثني احمد بن اسحاق، حدثنا عبيد الله بن موسى، حدثنا اسراييل، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه قال انطلق سعد بن معاذ معتمرا قال فنزل على امية بن خلف ابي صفوان، وكان امية اذا انطلق الى الشام فمر بالمدينة نزل على سعد، فقال امية لسعد انتظر حتى اذا انتصف النهار، وغفل الناس انطلقت فطفت، فبينا سعد يطوف اذا ابو جهل فقال من هذا الذي يطوف بالكعبة فقال سعد انا سعد. فقال ابو جهل تطوف بالكعبة امنا، وقد اويتم محمدا واصحابه فقال نعم. فتلاحيا بينهما. فقال امية لسعد لا ترفع صوتك على ابي الحكم، فانه سيد اهل الوادي. ثم قال سعد والله لين منعتني ان اطوف بالبيت لاقطعن متجرك بالشام. قال فجعل امية يقول لسعد لا ترفع صوتك. وجعل يمسكه، فغضب سعد فقال دعنا عنك، فاني سمعت محمدا صلى الله عليه وسلم يزعم انه قاتلك. قال اياى قال نعم. قال والله ما يكذب محمد اذا حدث. فرجع الى امراته، فقال اما تعلمين ما قال لي اخي اليثربي قالت وما قال قال زعم انه سمع محمدا يزعم انه قاتلي. قالت فوالله ما يكذب محمد. قال فلما خرجوا الى بدر، وجاء الصريخ قالت له امراته اما ذكرت ما قال لك اخوك اليثربي قال فاراد ان لا يخرج، فقال له ابو جهل انك من اشراف الوادي، فسر يوما او يومين، فسار معهم فقتله الله