Loading...

Loading...
کتب
۱۶۰ احادیث
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا مجھ سے قیس نے بیان کیا، ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھیوں نے ( یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم نے ) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھلائی کے حالات سیکھے اور میں نے برائی کے حالات دریافت کئے۔
حدثني محمد بن المثنى، قال حدثني يحيى بن سعيد، عن اسماعيل، حدثني قيس، عن حذيفة رضى الله عنه قال تعلم اصحابي الخير وتعلمت الشر
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھے ابوسلمہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک دو جماعتیں ( مسلمانوں کی ) آپس میں جنگ نہ کر لیں اور دونوں کا دعویٰ ایک ہو گا ( کہ وہ حق پر ہیں ) ۔“
حدثنا الحكم بن نافع، حدثنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى يقتتل فيتان دعواهما واحدة
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک دو جماعتیں آپس میں جنگ نہ کر لیں۔ دونوں میں بڑی بھاری جنگ ہو گی۔ حالانکہ دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہو گا اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تقریباً تیس جھوٹے دجال پیدا نہ ہو لیں۔ ان میں ہر ایک کا یہی گمان ہو گا کہ وہ اللہ کا نبی ہے۔“
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى يقتتل فيتان، فيكون بينهما مقتلة عظيمة، دعواهما واحدة، ولا تقوم الساعة حتى يبعث دجالون كذابون قريبا من ثلاثين، كلهم يزعم انه رسول الله
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( جنگ حنین کا مال غنیمت ) تقسیم فرما رہے تھے اتنے میں بنی تمیم کا ایک شخص ذوالخویصرہ نامی آیا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! انصاف سے کام لیجئے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”افسوس! اگر میں ہی انصاف نہ کروں تو دنیا میں پھر کون انصاف کرے گا۔ اگر میں ظالم ہو جاؤں تب تو میری بھی تباہی اور بربادی ہو جائے۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اس کے بارے میں مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن مار دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو۔ اس کے جوڑ کے کچھ لوگ پیدا ہوں گے کہ تم اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابل ناچیز سمجھو گے۔ وہ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن وہ ان کے حلق کے نیچے نہیں اترے گا۔ یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے زور دار تیر جانور سے پار ہو جاتا ہے۔ اس تیر کے پھل کو اگر دیکھا جائے تو اس میں کوئی چیز ( خون وغیرہ ) نظر نہ آئے گی پھر اس کے پٹھے کو اگر دیکھا جائے تو چھڑ میں اس کے پھل کے داخل ہونے کی جگہ سے اوپر جو لگایا جاتا ہے تو وہاں بھی کچھ نہ ملے گا۔ اس کے نفی ( نفی تیر میں لگائی جانے والی لکڑی کو کہتے ہیں ) کو دیکھا جائے تو وہاں بھی کچھ نشان نہیں ملے گا۔ اسی طرح اگر اس کے پر کو دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا۔ حالانکہ گندگی اور خون سے وہ تیر گزرا ہے۔ ان کی علامت ایک کالا شخص ہو گا۔ اس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح ( اٹھا ہوا ) ہو گا یا گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہو گا اور حرکت کر رہا ہو گا۔ یہ لوگ مسلمانوں کے بہترین گروہ سے بغاوت کریں گے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کی تھی ( یعنی خوارج سے ) اس وقت میں بھی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اور انہوں نے اس شخص کو تلاش کرایا ( جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گروہ کی علامت کے طور پر بتلایا تھا ) آخر وہ لایا گیا۔ میں نے اسے دیکھا تو اس کا پورا حلیہ بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کئے ہوئے اوصاف کے مطابق تھا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا سعيد الخدري رضى الله عنه قال بينما نحن عند رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يقسم قسما اتاه ذو الخويصرة وهو رجل من بني تميم فقال يا رسول الله اعدل. فقال " ويلك، ومن يعدل اذا لم اعدل قد خبت وخسرت ان لم اكن اعدل ". فقال عمر يا رسول الله ايذن لي فيه، فاضرب عنقه. فقال " دعه فان له اصحابا، يحقر احدكم صلاته مع صلاتهم وصيامه مع صيامهم، يقرءون القران لا يجاوز تراقيهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية، ينظر الى نصله فلا يوجد فيه شىء، ثم ينظر الى رصافه فما يوجد فيه شىء، ثم ينظر الى نضيه وهو قدحه فلا يوجد فيه شىء، ثم ينظر الى قذذه فلا يوجد فيه شىء، قد سبق الفرث والدم، ايتهم رجل اسود احدى عضديه مثل ثدى المراة، او مثل البضعة تدردر ويخرجون على حين فرقة من الناس ". قال ابو سعيد فاشهد اني سمعت هذا الحديث من رسول الله صلى الله عليه وسلم، واشهد ان علي بن ابي طالب قاتلهم وانا معه، فامر بذلك الرجل، فالتمس فاتي به حتى نظرت اليه على نعت النبي صلى الله عليه وسلم الذي نعته
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی انہیں اعمش نے، انہیں خیثمہ نے، ان سے سوید بن غفلہ نے بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا، جب تم سے کوئی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے میں بیان کروں تو یہ سمجھو کہ میرے لیے آسمان سے گر جانا اس سے بہتر ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی جھوٹ باندھوں البتہ جب میں اپنی طرف سے کوئی بات تم سے کہوں تو لڑائی تو تدبیر اور فریب ہی کا نام ہے ( اس میں کوئی بات بنا کر کہوں تو ممکن ہے ) ۔ دیکھو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ آخر زمانہ میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جو چھوٹے چھوٹے دانتوں والے، کم عقل اور بیوقوف ہوں گے۔ باتیں وہ کہیں گے جو دنیا کی بہترین بات ہو گی۔ لیکن اسلام سے اس طرح صاف نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے۔ ان کا ایمان ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، تم انہیں جہاں بھی پاؤ قتل کر دو، کیونکہ ان کے قتل سے قاتل کو قیامت کے دن ثواب ملے گا۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن خيثمة، عن سويد بن غفلة، قال قال علي رضى الله عنه اذا حدثتكم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلان اخر من السماء احب الى من ان اكذب عليه، واذا حدثتكم فيما بيني وبينكم، فان الحرب خدعة، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ياتي في اخر الزمان قوم حدثاء الاسنان، سفهاء الاحلام، يقولون من خير قول البرية، يمرقون من الاسلام كما يمرق السهم من الرمية، لا يجاوز ايمانهم حناجرهم، فاينما لقيتموهم فاقتلوهم، فان قتلهم اجر لمن قتلهم يوم القيامة
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، کہا ہم سے قیس نے بیان کیا، ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی۔ آپ اس وقت اپنی ایک چادر پر ٹیک دیئے کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ ہمارے لیے مدد کیوں نہیں طلب فرماتے۔ ہمارے لیے اللہ سے دعا کیوں نہیں مانگتے ( ہم کافروں کی ایذا دہی سے تنگ آ چکے ہیں ) ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( ایمان لانے کی سزا میں ) تم سے پہلی امتوں کے لوگوں کے لیے گڑھا کھودا جاتا اور انہیں اس میں ڈال دیا جاتا۔ پھر ان کے سر پر آرا رکھ کر ان کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے پھر بھی وہ اپنے دین سے نہ پھرتے۔ لوہے کے کنگھے ان کے گوشت میں دھنسا کر ان کی ہڈیوں اور پٹھوں پر پھیرے جاتے پھر بھی وہ اپنا ایمان نہ چھوڑتے۔ اللہ کی قسم یہ امر ( اسلام ) بھی کمال کو پہنچے گا اور ایک زمانہ آئے گا کہ ایک سوار مقام صنعاء سے حضر موت تک سفر کرے گا ( لیکن راستوں کے پرامن ہونے کی وجہ سے اسے اللہ کے سوا اور کسی کا ڈر نہیں ہو گا۔ یا صرف بھیڑئیے کا خوف ہو گا کہ کہیں اس کی بکریوں کو نہ کھا جائے لیکن تم لوگ جلدی کرتے ہو۔)
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن اسماعيل، حدثنا قيس، عن خباب بن الارت، قال شكونا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو متوسد بردة له في ظل الكعبة، قلنا له الا تستنصر لنا الا تدعو الله لنا قال " كان الرجل فيمن قبلكم يحفر له في الارض فيجعل فيه، فيجاء بالمنشار، فيوضع على راسه فيشق باثنتين، وما يصده ذلك عن دينه، ويمشط بامشاط الحديد، ما دون لحمه من عظم او عصب، وما يصده ذلك عن دينه، والله ليتمن هذا الامر حتى يسير الراكب من صنعاء الى حضرموت، لا يخاف الا الله او الذيب على غنمه، ولكنكم تستعجلون
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، انہیں موسیٰ بن انس نے خبر دی اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دن ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نہیں ملے تو ایک صحابی نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ کے لیے ان کی خبر لاتا ہوں۔ چنانچہ وہ ان کے یہاں آئے تو دیکھا کہ اپنے گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں، انہوں نے پوچھا کہ کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا کہ برا حال ہے۔ ان کی عادت تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اونچی آواز میں بولا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا اسی لیے میرا عمل غارت ہو گیا اور میں دوزخیوں میں ہو گیا ہوں۔ وہ صحابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ ثابت رضی اللہ عنہ یوں کہہ رہے ہیں۔ موسیٰ بن انس نے بیان کیا، لیکن دوسری مرتبہ وہی صحابی ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس ایک بڑی خوشخبری لے کر واپس ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا کہ ثابت کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ اہل جہنم میں سے نہیں ہیں بلکہ وہ اہل جنت میں سے ہیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا ازهر بن سعد، حدثنا ابن عون، قال انباني موسى بن انس، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم افتقد ثابت بن قيس، فقال رجل يا رسول الله، انا اعلم لك علمه. فاتاه فوجده جالسا في بيته منكسا راسه، فقال ما شانك فقال شر، كان يرفع صوته فوق صوت النبي صلى الله عليه وسلم فقد حبط عمله، وهو من اهل النار. فاتى الرجل فاخبره انه قال كذا وكذا. فقال موسى بن انس فرجع المرة الاخرة ببشارة عظيمة، فقال " اذهب اليه فقل له انك لست من اهل النار، ولكن من اهل الجنة
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے ان سے ابواسحٰق نے اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک صحابی ( اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ ) نے ( نماز میں ) سورۃ الکہف کی تلاوت کی۔ اسی گھر میں گھوڑا بندھا ہوا تھا، گھوڑے نے اچھلنا کودنا شروع کر دیا۔ ( اسید نے ادھر خیال نہ کیا اس کو اللہ کے سپرد کیا ) اس کے بعد جب انہوں نے سلام پھیرا تو دیکھا کہ بادل کے ایک ٹکڑے نے ان کے سارے گھر پر سایہ کر رکھا ہے۔ اس واقعہ کا ذکر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قرآن پڑھتا ہی رہ کیونکہ یہ «سكينة» ہے جو قرآن کی وجہ سے نازل ہوئی یا ( اس کے بجائے راوی نے ) «تنزلت للقرآن» کے الفاظ کہے۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، سمعت البراء بن عازب رضى الله عنهما قرا رجل الكهف وفي الدار الدابة فجعلت تنفر فسلم، فاذا ضبابة او سحابة غشيته، فذكره للنبي صلى الله عليه وسلم فقال " اقرا فلان، فانها السكينة نزلت للقران، او تنزلت للقران
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے احمد بن یزید بن ابراہیم ابوالحسن حرانی نے، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے ابواسحٰق نے بیان کیا اور انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے والد کے پاس ان کے گھر آئے اور ان سے ایک پالان خریدا۔ پھر انہوں نے میرے والد سے کہا کہ اپنے بیٹے کے ذریعہ اسے میرے ساتھ بھیج دو۔ براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا چنانچہ میں اس کجاوے کو اٹھا کر آپ کے ساتھ چلا اور میرے والد اس کی قیمت کے روپے پرکھوانے لگے۔ میرے والد نے ان سے پوچھا اے ابوبکر! مجھے وہ واقعہ سنائیے جب آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غار ثور سے ہجرت کی تھی تو آپ دونوں نے وہ وقت کیسے گزارا تھا؟ اس پر انہوں نے بیان کیا کہ جی ہاں، رات بھر تو ہم چلتے رہے اور دوسرے دن صبح کو بھی لیکن جب دوپہر کا وقت ہوا اور راستہ بالکل سنسان پڑ گیا کہ کوئی بھی آدمی گزرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا تھا تو ہمیں ایک لمبی چٹان دکھائی دی، اس کے سائے میں دھوپ نہیں تھی۔ ہم وہاں اتر گئے اور میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک جگہ اپنے ہاتھ سے ٹھیک کر دی اور ایک چادر وہاں بچھا دی۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ یہاں آرام فرمائیں میں نگرانی کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور میں چاروں طرف حالات دیکھنے کے لیے نکلا۔ اتفاق سے مجھے ایک چرواہا ملا۔ وہ بھی اپنی بکریوں کے ریوڑ کو اسی چٹان کے سائے میں لانا چاہتا تھا جس کے تلے میں نے وہاں پڑاؤ ڈالا تھا۔ وہی اس کا بھی ارادہ تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ تو کس قبیلے سے ہے؟ اس نے بتایا کہ مدینہ یا ( راوی نے کہا کہ ) مکہ کے فلاں شخص سے، میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تیری بکریوں سے دودھ مل سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ میں نے پوچھا کیا ہمارے لیے تو دودھ نکال سکتا ہے؟ اس نے کہا کہ ہاں۔ چنانچہ وہ ایک بکری پکڑ کے لایا۔ میں نے اس سے کہا کہ پہلے تھن کو مٹی، بال اور دوسری گندگیوں سے صاف کر لے۔ ابواسحٰق راوی نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے پر مار کر تھن کو جھاڑنے کی صورت بیان کی۔ اس نے لکڑی کے ایک پیالے میں دودھ نکالا۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔ آپ اس سے پانی پیا کرتے تھے اور وضو بھی کر لیتے تھے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ( آپ سو رہے تھے ) میں آپ کو جگانا پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن بعد میں جب میں آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے۔ میں نے پہلے دودھ کے برتن پر پانی بہایا جب اس کے نیچے کا حصہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! دودھ پی لیجئے، انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ نوش فرمایا جس سے مجھے خوشی حاصل ہوئی۔ پھر آپ نے فرمایا کیا ابھی کوچ کرنے کا وقت نہیں آیا؟ میں نے عرض کیا کہ آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا: جب سورج ڈھل گیا تو ہم نے کوچ کیا۔ بعد میں سراقہ بن مالک ہمارا پیچھا کرتا ہوا یہیں پہنچا۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! اب تو یہ ہمارے قریب ہی پہنچ گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غم نہ کرو۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ آپ نے پھر اس کے لیے بددعا کی اور اس کا گھوڑا اسے لیے ہوئے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ میرا خیال ہے کہ زمین بڑی سخت تھی۔ یہ شک ( راوی حدیث ) زہیر کو تھا۔ سراقہ نے کہا: میں سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں نے میرے لیے بددعا کی ہے۔ اگر اب آپ لوگ میرے لیے ( اس مصیبت سے نجات کی ) دعا کر دیں تو اللہ کی قسم میں آپ لوگوں کی تلاش میں آنے والے تمام لوگوں کو واپس لوٹا دوں گا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر دعا کی تو وہ نجات پا گیا۔ پھر تو جو بھی اسے راستے میں ملتا اس سے وہ کہتا تھا کہ میں بہت تلاش کر چکا ہوں۔ قطعی طور پر وہ ادھر نہیں ہیں۔ اس طرح جو بھی ملتا اسے وہ واپس اپنے ساتھ لے جاتا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس نے ہمارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا اسے پورا کیا۔
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی مریض کی عیادت کے لیے تشریف لے جاتے تو فرماتے کوئی حرج نہیں، ان شاءاللہ یہ بخار گناہوں کو دھو دے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے بھی یہی فرمایا کہ کوئی حرج نہیں ان شاءاللہ ( یہ بخار ) گناہوں کو دھو دے گا۔ اس نے اس پر کہا: آپ کہتے ہیں گناہوں کو دھونے والا ہے۔ ہرگز نہیں۔ یہ تو نہایت شدید قسم کا بخار ہے یا ( راوی نے ) «تثور» کہا ( دونوں کا مفہوم ایک ہی ہے ) کہ بخار ایک بوڑھے کھوسٹ پر جوش مار رہا ہے جو قبر کی زیارت کرائے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تو پھر یوں ہی ہو گا۔
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا عبد العزيز بن مختار، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل على اعرابي يعوده قال وكان النبي صلى الله عليه وسلم اذا دخل على مريض يعوده قال لا باس طهور ان شاء الله. فقال له " لا باس طهور ان شاء الله ". قال قلت طهور كلا بل هي حمى تفور او تثور على شيخ كبير، تزيره القبور. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " فنعم اذا
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک شخص پہلے عیسائی تھا۔ پھر وہ اسلام میں داخل ہو گیا تھا۔ اس نے سورۃ البقرہ اور آل عمران پڑھ لی تھی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منشی بن گیا لیکن پھر وہ شخص مرتد ہو کر عیسائی ہو گیا اور کہنے لگا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لیے جو کچھ میں نے لکھ دیا ہے اس کے سوا انہیں اور کچھ بھی معلوم نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی موت واقع ہو گئی اور اس کے آدمیوں نے اسے دفن کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ اس کی لاش قبر سے نکل کر زمین کے اوپر پڑی ہے۔ عیسائی لوگوں نے کہا کہ یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور اس کے ساتھیوں کا کام ہے۔ چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے انہوں نے اس کی قبر کھودی ہے اور لاش کو باہر نکال کر پھینک دیا ہے۔ چنانچہ دوسری قبر انہوں نے کھودی جو بہت زیادہ گہری تھی۔ لیکن جب صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے یہی کہا کہ یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے ساتھیوں کا کام ہے چونکہ ان کا دین اس نے چھوڑ دیا تھا اس لیے اس کی قبر کھود کر انہوں نے لاش باہر پھینک دی ہے۔ پھر انہوں نے قبر کھودی اور جتنی گہری ان کے بس میں تھی کر کے اسے اس کے اندر ڈال دیا لیکن صبح ہوئی تو پھر لاش باہر تھی۔ اب انہیں یقین آیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے ( بلکہ یہ میت اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہے ) چنانچہ انہوں نے اسے یونہی ( زمین پر ) ڈال دیا۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا عبد العزيز، عن انس رضى الله عنه قال كان رجل نصرانيا فاسلم وقرا البقرة وال عمران، فكان يكتب للنبي صلى الله عليه وسلم، فعاد نصرانيا فكان يقول ما يدري محمد الا ما كتبت له، فاماته الله فدفنوه، فاصبح وقد لفظته الارض فقالوا هذا فعل محمد واصحابه، لما هرب منهم نبشوا عن صاحبنا. فالقوه فحفروا له فاعمقوا، فاصبح وقد لفظته الارض، فقالوا هذا فعل محمد واصحابه نبشوا عن صاحبنا لما هرب منهم. فالقوه فحفروا له، واعمقوا له في الارض ما استطاعوا، فاصبح قد لفظته الارض، فعلموا انه ليس من الناس فالقوه
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کسریٰ ( شاہ ایران ) ہلاک ہو جائے گا تو پھر کوئی کسریٰ پیدا نہیں ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں ضرور خرچ کرو گے۔“
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، قال واخبرني ابن المسيب، عن ابي هريرة، انه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا هلك كسرى فلا كسرى بعده، واذا هلك قيصر فلا قيصر بعده، والذي نفس محمد بيده لتنفقن كنوزهما في سبيل الله
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن عمیر نے اور ان سے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کسریٰ ہلاک ہوا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہیں ہو گا اور جب قیصر ہلاک ہوا تو کوئی قیصر پھر پیدا نہیں ہو گا“ اور راوی نے ( پہلی حدیث کی طرح اس حدیث کو بھی بیان کیا اور ) کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔“
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن جابر بن سمرة، رفعه قال " اذا هلك كسرى فلا كسرى بعده وذكر وقال لتنفقن كنوزهما في سبيل الله
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن عبد الله بن ابي حسين، حدثنا نافع بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قدم مسيلمة الكذاب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل يقول ان جعل لي محمد الامر من بعده تبعته. وقدمها في بشر كثير من قومه، فاقبل اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه ثابت بن قيس بن شماس، وفي يد رسول الله صلى الله عليه وسلم قطعة جريد، حتى وقف على مسيلمة في اصحابه فقال " لو سالتني هذه القطعة ما اعطيتكها، ولن تعدو امر الله فيك، ولين ادبرت ليعقرنك الله، واني لاراك الذي اريت فيك ما رايت ". فاخبرني ابو هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينما انا نايم رايت في يدى سوارين من ذهب، فاهمني شانهما، فاوحي الى في المنام ان انفخهما، فنفختهما فطارا فاولتهما كذابين يخرجان بعدي ". فكان احدهما العنسي والاخر مسيلمة الكذاب صاحب اليمامة
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن عبد الله بن ابي حسين، حدثنا نافع بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قدم مسيلمة الكذاب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فجعل يقول ان جعل لي محمد الامر من بعده تبعته. وقدمها في بشر كثير من قومه، فاقبل اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه ثابت بن قيس بن شماس، وفي يد رسول الله صلى الله عليه وسلم قطعة جريد، حتى وقف على مسيلمة في اصحابه فقال " لو سالتني هذه القطعة ما اعطيتكها، ولن تعدو امر الله فيك، ولين ادبرت ليعقرنك الله، واني لاراك الذي اريت فيك ما رايت ". فاخبرني ابو هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بينما انا نايم رايت في يدى سوارين من ذهب، فاهمني شانهما، فاوحي الى في المنام ان انفخهما، فنفختهما فطارا فاولتهما كذابين يخرجان بعدي ". فكان احدهما العنسي والاخر مسيلمة الكذاب صاحب اليمامة
مجھ سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن اسامہ نے بیان کیا، ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے، میں سمجھتا ہوں (یہ امام بخاری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ) محمد بن علاء نے یوں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ میں مکہ سے ایک ایسی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں جہاں کھجور کے باغات ہیں۔ اس پر میرا ذہن ادھر گیا کہ یہ مقام یمامہ یا ہجر ہو گا۔ لیکن وہ یثرب مدینہ منورہ ہے اور اسی خواب میں میں نے دیکھا کہ میں نے تلوار ہلائی تو وہ بیچ میں سے ٹوٹ گئی۔ یہ اس مصیبت کی طرف اشارہ تھا جو احد کی لڑائی میں مسلمانوں کو اٹھانی پڑی تھی۔ پھر میں نے دوسری مرتبہ اسے ہلایا تو وہ پہلے سے بھی اچھی صورت میں ہو گئی۔ یہ اس واقعہ کی طرف اشارہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کی فتح دی اور مسلمان سب اکٹھے ہو گئے۔ میں نے اسی خواب میں گائیں دیکھیں اور اللہ تعالیٰ کا جو کام ہے وہ بہتر ہے۔ ان گایوں سے ان مسلمانوں کی طرف اشارہ تھا جو احد کی لڑائی میں شہید کئے گئے اور خیر و بھلائی وہ تھی جو ہمیں اللہ تعالیٰ نے خیر و سچائی کا بدلہ بدر کی لڑائی کے بعد عطا فرمایا تھا۔“
حدثني محمد بن العلاء، حدثنا حماد بن اسامة، عن بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى اراه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " رايت في المنام اني اهاجر من مكة الى ارض بها نخل، فذهب وهلي الى انها اليمامة او هجر، فاذا هي المدينة يثرب، ورايت في روياى هذه اني هززت سيفا فانقطع صدره، فاذا هو ما اصيب من المومنين يوم احد، ثم هززته باخرى فعاد احسن ما كان، فاذا هو ما جاء الله به من الفتح واجتماع المومنين، ورايت فيها بقرا والله خير فاذا هم المومنون يوم احد، واذا الخير ما جاء الله من الخير، وثواب الصدق الذي اتانا الله بعد يوم بدر
حدثنا ابو نعيم، حدثنا زكرياء، عن فراس، عن عامر، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت اقبلت فاطمة تمشي، كان مشيتها مشى النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " مرحبا بابنتي ". ثم اجلسها عن يمينه او عن شماله، ثم اسر اليها حديثا، فبكت فقلت لها لم تبكين ثم اسر اليها حديثا فضحكت فقلت ما رايت كاليوم فرحا اقرب من حزن، فسالتها عما قال. فقالت ما كنت لافشي سر رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى قبض النبي صلى الله عليه وسلم فسالتها فقالت اسر الى " ان جبريل كان يعارضني القران كل سنة مرة، وانه عارضني العام مرتين، ولا اراه الا حضر اجلي، وانك اول اهل بيتي لحاقا بي ". فبكيت فقال " اما ترضين ان تكوني سيدة نساء اهل الجنة او نساء المومنين ". فضحكت لذلك
حدثنا ابو نعيم، حدثنا زكرياء، عن فراس، عن عامر، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها قالت اقبلت فاطمة تمشي، كان مشيتها مشى النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " مرحبا بابنتي ". ثم اجلسها عن يمينه او عن شماله، ثم اسر اليها حديثا، فبكت فقلت لها لم تبكين ثم اسر اليها حديثا فضحكت فقلت ما رايت كاليوم فرحا اقرب من حزن، فسالتها عما قال. فقالت ما كنت لافشي سر رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى قبض النبي صلى الله عليه وسلم فسالتها فقالت اسر الى " ان جبريل كان يعارضني القران كل سنة مرة، وانه عارضني العام مرتين، ولا اراه الا حضر اجلي، وانك اول اهل بيتي لحاقا بي ". فبكيت فقال " اما ترضين ان تكوني سيدة نساء اهل الجنة او نساء المومنين ". فضحكت لذلك
حدثني يحيى بن قزعة، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت دعا النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة ابنته في شكواه الذي قبض فيه، فسارها بشىء فبكت، ثم دعاها، فسارها فضحكت، قالت فسالتها عن ذلك. فقالت سارني النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرني انه يقبض في وجعه الذي توفي فيه فبكيت، ثم سارني فاخبرني اني اول اهل بيته اتبعه فضحكت
حدثني يحيى بن قزعة، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابيه، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت دعا النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة ابنته في شكواه الذي قبض فيه، فسارها بشىء فبكت، ثم دعاها، فسارها فضحكت، قالت فسالتها عن ذلك. فقالت سارني النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرني انه يقبض في وجعه الذي توفي فيه فبكيت، ثم سارني فاخبرني اني اول اهل بيته اتبعه فضحكت
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا احمد بن يزيد بن ابراهيم ابو الحسن الحراني، حدثنا زهير بن معاوية، حدثنا ابو اسحاق، سمعت البراء بن عازب، يقول جاء ابو بكر رضى الله عنه الى ابي في منزله، فاشترى منه رحلا فقال لعازب ابعث ابنك يحمله معي. قال فحملته معه، وخرج ابي ينتقد ثمنه، فقال له ابي يا ابا بكر حدثني كيف صنعتما حين سريت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال نعم اسرينا ليلتنا، ومن الغد حتى قام قايم الظهيرة، وخلا الطريق لا يمر فيه احد، فرفعت لنا صخرة طويلة، لها ظل لم تات عليه الشمس فنزلنا عنده، وسويت للنبي صلى الله عليه وسلم مكانا بيدي ينام عليه، وبسطت فيه فروة، وقلت نم يا رسول الله، وانا انفض لك ما حولك. فنام وخرجت انفض ما حوله، فاذا انا براع مقبل بغنمه الى الصخرة يريد منها مثل الذي اردنا فقلت لمن انت يا غلام فقال لرجل من اهل المدينة او مكة. قلت افي غنمك لبن قال نعم. قلت افتحلب قال نعم. فاخذ شاة. فقلت انفض الضرع من التراب والشعر والقذى. قال فرايت البراء يضرب احدى يديه على الاخرى ينفض، فحلب في قعب كثبة من لبن، ومعي اداوة حملتها للنبي صلى الله عليه وسلم يرتوي منها، يشرب ويتوضا، فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فكرهت ان اوقظه، فوافقته حين استيقظ، فصببت من الماء على اللبن حتى برد اسفله، فقلت اشرب يا رسول الله قال فشرب، حتى رضيت ثم قال " الم يان للرحيل ". قلت بلى قال فارتحلنا بعد ما مالت الشمش، واتبعنا سراقة بن مالك، فقلت اتينا يا رسول الله. فقال " لا تحزن، ان الله معنا ". فدعا عليه النبي صلى الله عليه وسلم فارتطمت به فرسه الى بطنها ارى في جلد من الارض، شك زهير فقال اني اراكما قد دعوتما على فادعوا لي، فالله لكما ان ارد عنكما الطلب. فدعا له النبي صلى الله عليه وسلم فنجا فجعل لا يلقى احدا الا قال كفيتكم ما هنا. فلا يلقى احدا الا رده. قال ووفى لنا