Loading...

Loading...
کتب
۱۶۰ احادیث
ہم سے خالد بن یزید الکاہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، ان سے ابوحصین (عثمان بن عاصم) نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت «وجعلناكم شعوبا وقبائل» کے متعلق فرمایا کہ «شعوب» بڑے قبیلوں کے معنی میں ہے اور «قبائل» سے کسی بڑے قبیلے کی شاخیں مراد ہیں۔
حدثنا خالد بن يزيد الكاهلي، حدثنا ابو بكر، عن ابي حصين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، رضى الله عنهما. {وجعلناكم شعوبا وقبايل} قال الشعوب القبايل العظام، والقبايل البطون
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ پوچھا گیا: یا رسول اللہ! سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارا سوال اس کے بارے میں نہیں ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر ( نسب کی رو سے ) اللہ کے نبی یوسف علیہ السلام سب سے زیادہ شریف تھے۔“
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، قال حدثني سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قيل يا رسول الله من اكرم الناس قال " اتقاهم ". قالوا ليس عن هذا نسالك. قال " فيوسف نبي الله
ہم سے قیس بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے کلیب بن وائل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیر پرورش رہ چکی تھیں، کلیب نے بیان کیا کہ ہمیں نے زینب سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا؟ انہوں نے کہا پھر کس قبیلہ سے تھا؟ یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ مضر کی شاخ بنی نضر بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے۔
حدثنا قيس بن حفص، حدثنا عبد الواحد، حدثنا كليب بن وايل، قال حدثتني ربيبة النبي، صلى الله عليه وسلم زينب ابنة ابي سلمة قال قلت لها ارايت النبي صلى الله عليه وسلم اكان من مضر قالت فممن كان الا من مضر من بني النضر بن كنانة
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے، کہا ہم سے کلیب نے بیان کیا، اور ان سے ربیبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے، میرا خیال ہے کہ ان سے مراد زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء، حنتم، نقیر اور مزفت کے استعمال سے منع فرمایا تھا اور میں نے ان سے پوچھا تھا کہ آپ مجھے بتائیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق کس قبیلہ سے تھا؟ کیا واقعی آپ کا تعلق قبیلہ مضر سے تھا؟ انہوں نے کہا پھر اور کس سے ہو سکتا ہے یقیناً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق اسی قبیلہ سے تھا۔ آپ نضر بنی بن کنانہ کی اولاد میں سے تھے۔
حدثنا موسى، حدثنا عبد الواحد، حدثنا كليب، حدثتني ربيبة النبي، صلى الله عليه وسلم واظنها زينب قالت نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدباء والحنتم والمقير والمزفت. وقلت لها اخبريني النبي صلى الله عليه وسلم ممن كان من مضر كان قالت فممن كان الا من مضر، كان من ولد النضر بن كنانة
حدثني اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا جرير، عن عمارة، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تجدون الناس معادن، خيارهم في الجاهلية خيارهم في الاسلام اذا فقهوا، وتجدون خير الناس في هذا الشان اشدهم له كراهية ". " وتجدون شر الناس ذا الوجهين، الذي ياتي هولاء بوجه، وياتي هولاء بوجه
حدثني اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا جرير، عن عمارة، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تجدون الناس معادن، خيارهم في الجاهلية خيارهم في الاسلام اذا فقهوا، وتجدون خير الناس في هذا الشان اشدهم له كراهية ". " وتجدون شر الناس ذا الوجهين، الذي ياتي هولاء بوجه، وياتي هولاء بوجه
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا المغيرة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الناس تبع لقريش في هذا الشان، مسلمهم تبع لمسلمهم، وكافرهم تبع لكافرهم ". "والناس معادن، خيارهم في الجاهلية خيارهم في الاسلام اذا فقهوا، تجدون من خير الناس اشد الناس كراهية لهذا الشان حتى يقع فيه
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا المغيرة، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الناس تبع لقريش في هذا الشان، مسلمهم تبع لمسلمهم، وكافرهم تبع لكافرهم ". "والناس معادن، خيارهم في الجاهلية خيارهم في الاسلام اذا فقهوا، تجدون من خير الناس اشد الناس كراهية لهذا الشان حتى يقع فيه
ہم سے مسدد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے عبدالملک نے بیان کیا، ان سے طاؤس نے کہ ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا «إلا المودة في القربى» کے متعلق ( طاؤس نے ) بیان کیا کہ قریش کی کوئی شاخ ایسی نہیں تھی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت نہ رہی ہو اور اسی وجہ سے یہ آیت نازل ہوئی تھی کہ میرا مطالبہ صرف یہ ہے کہ تم لوگ میری اور اپنی قرابت داری کا لحاظ کرو۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثني عبد الملك، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما – {الا المودة في القربى} قال فقال سعيد بن جبير قربى محمد صلى الله عليه وسلم. فقال ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يكن بطن من قريش الا وله فيه قرابة، فنزلت عليه الا ان تصلوا قرابة بيني وبينكم
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اسی طرف سے فتنے اٹھیں گے یعنی مشرق سے اور بے وفائی اور سخت دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں اور گایوں کی دم کے پاس چلاتے رہتے ہیں یعنی ربیعہ اور مضر کے لوگوں میں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن اسماعيل، عن قيس، عن ابي مسعود، يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " من ها هنا جاءت الفتن نحو المشرق، والجفاء وغلظ القلوب في الفدادين اهل الوبر عند اصول اذناب الابل، والبقر في ربيعة ومضر
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ فخر اور تکبر ان چیخنے اور شور مچانے والے اونٹ والوں میں ہے اور بکری چرانے والوں میں نرم دلی اور ملائمت ہوتی ہے اور ایمان تو یمن میں ہے حکمت ( حدیث ) بھی یمنی ہے، ابوعبداللہ یعنی ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ یمن کا نام یمن اس لیے ہوا کہ یہ کعبہ کے دائیں جانب ہے اور شام کو شام اس لیے کہتے ہیں کہ یہ کعبہ کے بائیں جانب ہے۔ «المشأمة» بائیں جانب کو کہتے ہیں۔ بائیں ہاتھ کو «الشؤمى» کہتے ہیں اور بائیں جانب کو «الأشأم.» کہتے ہیں۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الفخر والخيلاء في الفدادين اهل الوبر، والسكينة في اهل الغنم، والايمان يمان، والحكمة يمانية ". سميت اليمن لانها عن يمين الكعبة، والشام عن يسار الكعبة، والمشامة الميسرة، واليد اليسرى الشومى، والجانب الايسر الاشام
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے تھے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ تک یہ بات پہنچی جب وہ قریش کی ایک جماعت میں تھے کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ عنقریب ( قرب قیامت میں ) بنی قحطان سے ایک حکمراں اٹھے گا۔ یہ سن کر معاویہ رضی اللہ عنہ غصہ ہو گئے، پھر آپ خطبہ دینے اٹھے اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق حمد و ثنا کے بعد فرمایا: لوگو! مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگ ایسی احادیث بیان کرتے ہیں جو نہ تو قرآن مجید میں موجود ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ دیکھو! تم میں سب سے جاہل یہی لوگ ہیں۔ ان سے اور ان کے خیالات سے بچتے رہو جن خیالات نے ان کو گمراہ کر دیا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے کہ یہ خلافت قریش میں رہے گی اور جو بھی ان سے دشمنی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو سرنگوں اور اوندھا کر دے گا جب تک وہ ( قریش ) دین کو قائم رکھیں گے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال كان محمد بن جبير بن مطعم يحدث انه بلغ معاوية وهو عنده في وفد من قريش ان عبد الله بن عمرو بن العاص يحدث انه سيكون ملك من قحطان، فغضب معاوية، فقام فاثنى على الله بما هو اهله، ثم قال اما بعد فانه بلغني ان رجالا منكم يتحدثون احاديث ليست في كتاب الله، ولا توثر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاوليك جهالكم، فاياكم والاماني التي تضل اهلها، فاني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان هذا الامر في قريش، لا يعاديهم احد الا كبه الله على وجهه، ما اقاموا الدين
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ خلافت اس وقت تک قریش کے ہاتھوں میں باقی رہے گی جب تک کہ ان میں دو آدمی بھی باقی رہیں۔“
حدثنا ابو الوليد، حدثنا عاصم بن محمد، قال سمعت ابي، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يزال هذا الامر في قريش، ما بقي منهم اثنان
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابن مسیب نے اور ان سے جبیر بن مطعم نے بیان کیا کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما دونوں مل کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بنو مطلب کو تو آپ نے عطا فرمایا اور ہمیں ( بنی امیہ کو ) نظر انداز کر دیا حالانکہ آپ کے لیے ہم اور وہ ایک ہی درجے کے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( یہ صحیح ہے ) مگر بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی ہیں۔“
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، عن جبير بن مطعم، قال مشيت انا وعثمان بن عفان،، فقال يا رسول الله اعطيت بني المطلب وتركتنا، وانما نحن وهم منك بمنزلة واحدة. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " انما بنو هاشم وبنو المطلب شىء واحد
اور لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوالاسود محمد نے بیان کیا اور ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بنی زہرہ کے چند لوگوں کے ساتھ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا بنی زہرہ کے ساتھ بہت اچھی طرح پیش آتی تھیں کیونکہ ان لوگوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت تھی۔
وقال الليث حدثني ابو الاسود، محمد عن عروة بن الزبير، قال ذهب عبد الله بن الزبير مع اناس من بني زهرة الى عايشة، وكانت ارق شىء لقرابتهم من رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا اور ان سے سعد بن ابراہیم نے (دوسری سند) یعقوب بن ابراہیم نے کہا کہ ہمارے والد نے ہم سے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ہرمزالاعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قریش، انصار، جہینہ، مزینہ، اسلم، اشجع اور غفار ان سب قبیلوں کے لوگ میرے خیرخواہ ہیں اور ان کا بھی اللہ اور اس کے رسول کے سوا کوئی حمایتی نہیں ہے۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن سعد، ح قال يعقوب بن ابراهيم حدثنا ابي، عن ابيه، قال حدثني عبد الرحمن بن هرمز الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " قريش والانصار وجهينة ومزينة واسلم واشجع وغفار موالي ليس لهم مولى، دون الله ورسوله
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے عائشہ رضی اللہ عنہا کو سب سے زیادہ محبت تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کی عادت تھی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو رزق بھی ان کو ملتا وہ اسے صدقہ کر دیا کرتی تھیں۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ( کسی سے ) کہا ام المؤمنین کو اس سے روکنا چاہیے ( جب عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کی بات پہنچی ) تو انہوں نے کہا: کیا اب میرے ہاتھوں کو روکا جائے گا، اب اگر میں نے عبداللہ سے بات کی تو مجھ پر نذر واجب ہے۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ( عائشہ رضی اللہ عنہا کو راضی کرنے کے لیے ) قریش کے چند لوگوں اور خاص طور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نانہالی رشتہ داروں ( بنو زہرہ ) کو ان کی خدمت میں معافی کی سفارش کے لیے بھیجا لیکن عائشہ رضی اللہ عنہا پھر بھی نہ مانیں۔ اس پر بنو زہرہ نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں ہوتے تھے اور ان میں عبدالرحمٰن بن اسود بن عبدیغوث اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ جب ہم ان کی اجازت سے وہاں جا بیٹھیں تو تم ایک دفعہ آن کر پردہ میں گھس جاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا ( جب عائشہ رضی اللہ عنہا خوش ہو گئیں تو ) انہوں نے ان کی خدمت میں دس غلام ( آزاد کرانے کے لیے بطور کفارہ قسم ) بھیجے اور ام المؤمنین نے انہیں آزاد کر دیا۔ پھر آپ برابر غلام آزاد کرتی رہیں۔ یہاں تک کہ چالیس غلام آزاد کر دیئے پھر انہوں نے کہا کاش میں نے جس وقت قسم کھائی تھی ( منت مانی تھی ) تو میں کوئی خاص چیز بیان کر دیتی جس کو کر کے میں فارغ ہو جاتی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني ابو الاسود، عن عروة بن الزبير، قال كان عبد الله بن الزبير احب البشر الى عايشة بعد النبي صلى الله عليه وسلم وابي بكر، وكان ابر الناس بها، وكانت لا تمسك شييا مما جاءها من رزق الله {الا} تصدقت. فقال ابن الزبير ينبغي ان يوخذ على يديها. فقالت ايوخذ على يدى على نذر ان كلمته. فاستشفع اليها برجال من قريش، وباخوال رسول الله صلى الله عليه وسلم خاصة فامتنعت، فقال له الزهريون اخوال النبي صلى الله عليه وسلم منهم عبد الرحمن بن الاسود بن عبد يغوث والمسور بن مخرمة اذا استاذنا فاقتحم الحجاب. ففعل، فارسل اليها بعشر رقاب، فاعتقتهم، ثم لم تزل تعتقهم حتى بلغت اربعين. فقالت وددت اني جعلت حين حلفت عملا اعمله فافرغ منه
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے زید بن ثابت، عبداللہ بن زبیر، سعید بن عاص اور عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو بلایا ( اور ان کو قرآن مجید کی کتابت پر مقرر فرمایا، چنانچہ ان حضرات نے ) قرآن مجید کو کئی مصحفوں میں نقل فرمایا اور عثمان رضی اللہ عنہ نے ( ان چاروں میں سے ) تین قریشی صحابہ سے فرمایا تھا کہ جب آپ لوگوں کا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے ( جو مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے ) قرآن کے کسی مقام پر ( اس کے کسی محاورے میں ) اختلاف ہو جائے تو اس کو قریش کے محاورے کے مطابق لکھنا، کیونکہ قرآن شریف قریش کے محاورہ میں نازل ہوا ہے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن انس، ان عثمان، دعا زيد بن ثابت وعبد الله بن الزبير وسعيد بن العاص وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام فنسخوها في المصاحف، وقال عثمان للرهط القرشيين الثلاثة اذا اختلفتم انتم وزيد بن ثابت في شىء من القران، فاكتبوه بلسان قريش، فانما نزل بلسانهم. ففعلوا ذلك
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ اسلم کے صحابہ کی طرف سے گزرے جو بازار میں تیر اندازی کر رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولاد اسماعیل! خوب تیر اندازی کرو کہ تمہارے باپ اسماعیل علیہ السلام بھی تیرانداز تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں فلاں جماعت کے ساتھ ہوں، یہ سن کر دوسری جماعت والوں نے ہاتھ روک لیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی؟ انہوں نے عرض کیا کہ جب آپ دوسرے فریق کے ساتھ ہو گئے تو پھر ہم کیسے تیر اندازی کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم تیر اندازی جاری رکھو۔ میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن يزيد بن ابي عبيد، حدثنا سلمة رضى الله عنه قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم على قوم من اسلم، يتناضلون بالسوق، فقال " ارموا بني اسماعيل، فان اباكم كان راميا، وانا مع بني فلان ". لاحد الفريقين، فامسكوا بايديهم فقال " ما لهم ". قالوا وكيف نرمي وانت مع بني فلان. قال " ارموا وانا معكم كلكم
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے حسین بن واقد نے، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے یحییٰ بن یعمر نے بیان کیا، ان سے ابوالاسود دیلی نے بیان کیا اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ”جس شخص نے بھی جان بوجھ کر اپنے باپ کے سوا کسی اور کو اپنا باپ بنایا تو اس نے کفر کیا اور جس شخص نے بھی اپنا نسب کسی ایسی قوم سے ملایا جس سے اس کا کوئی ( نسبی ) تعلق نہیں ہے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، عن الحسين، عن عبد الله بن بريدة، قال حدثني يحيى بن يعمر، ان ابا الاسود الديلي، حدثه عن ابي ذر رضى الله عنه انه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ليس من رجل ادعى لغير ابيه وهو يعلمه الا كفر، ومن ادعى قوما ليس له فيهم فليتبوا مقعده من النار