Loading...

Loading...
کتب
۱۶۰ احادیث
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک نہیں قائم ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم کے ساتھ جنگ نہ کر لو جن کے جوتے بال کے ہوں اور جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کر لو، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، چہرے سرخ ہوں گے، ناک چھوٹی اور چپٹی ہو گی، چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر، وحتى تقاتلوا الترك، صغار الاعين، حمر الوجوه، ذلف الانوف كان وجوههم المجان المطرقة ". "«وتجدون من خير الناس اشدهم كراهية لهذا الامر، حتى يقع فيه، والناس معادن، خيارهم في الجاهلية خيارهم في الاسلام." "ولياتين على احدكم زمان لان يراني احب اليه من ان يكون له مثل اهله وماله
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک نہیں قائم ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم کے ساتھ جنگ نہ کر لو جن کے جوتے بال کے ہوں اور جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کر لو، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، چہرے سرخ ہوں گے، ناک چھوٹی اور چپٹی ہو گی، چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر، وحتى تقاتلوا الترك، صغار الاعين، حمر الوجوه، ذلف الانوف كان وجوههم المجان المطرقة ". "«وتجدون من خير الناس اشدهم كراهية لهذا الامر، حتى يقع فيه، والناس معادن، خيارهم في الجاهلية خيارهم في الاسلام." "ولياتين على احدكم زمان لان يراني احب اليه من ان يكون له مثل اهله وماله
مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے اور ان سے ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ تم ایرانیوں کے شہر خوز اور کرمان والوں سے جنگ نہ کر لو گے۔ چہرے ان کے سرخ ہوں گے۔ ناک چپٹی ہو گی۔ آنکھیں چھوٹی ہوں گی اور چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بہ تہ ڈھال ہوتی ہے اور ان کے جوتے بالوں والے ہوں گے۔ یحییٰ کے علاوہ اس حدیث کو اوروں نے بھی عبدالرزاق سے روایت کیا ہے۔
حدثني يحيى، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا خوزا وكرمان من الاعاجم، حمر الوجوه، فطس الانوف، صغار الاعين، وجوههم المجان المطرقة، نعالهم الشعر ". تابعه غيره عن عبد الرزاق
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ اسماعیل نے بیان کیا کہ مجھ کو قیس نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں تین سال رہا ہوں، اپنی پوری عمر میں مجھے حدیث یاد کرنے کا اتنا شوق کبھی نہیں ہوا جتنا ان تین سالوں میں تھا۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا، آپ نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کر کے فرمایا کہ قیامت کے قریب تم لوگ ( مسلمان ) ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے ( مراد یہی ایرانی ہیں ) سفیان نے ایک مرتبہ «وهو هذا البارز» کے بجائے الفاظ «وهم أهل البازر.» نقل کئے ( یعنی ایرانی، یا کُردی، یا دیلم والے لوگ مراد ہیں ) ۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال قال اسماعيل اخبرني قيس، قال اتينا ابا هريرة رضى الله عنه فقال صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث سنين لم اكن في سني احرص على ان اعي الحديث مني فيهن سمعته يقول وقال هكذا بيده " بين يدى الساعة تقاتلون قوما نعالهم الشعر، وهو هذا البارز ". وقال سفيان مرة وهم اهل البازر
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، کہا میں نے حسن سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت کے قریب تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کا جوتا پہنتی ہو گی اور ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے منہ تہ بہ تہ ڈھالوں کی طرح ہوں گے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا جرير بن حازم، سمعت الحسن، يقول حدثنا عمرو بن تغلب، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " بين يدى الساعة تقاتلون قوما ينتعلون الشعر، وتقاتلون قوما كان وجوههم المجان المطرقة
ہم سے حکم بن نافع نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ تم یہودیوں سے ایک جنگ کرو گے اور اس میں ان پر غالب آ جاؤ گے۔ اس وقت یہ کیفیت ہو گی کہ ( اگر کوئی یہودی جان بچانے کے لیے کسی پہاڑ میں بھی چھپ جائے گا تو ) پتھر بولے گا کہ اے مسلمان! یہ یہودی میری آڑ میں چھپا ہوا ہے، اسے قتل کر دے۔
حدثنا الحكم بن نافع، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " تقاتلكم اليهود فتسلطون عليهم ثم يقول الحجر يا مسلم، هذا يهودي ورايي فاقتله
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جہاد کے لیے فوج جمع ہو گی، پوچھا جائے گا کہ فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہو؟ ان سے کہا جائے گا کہ ہاں ہیں تو ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گی۔ پھر ایک جہاد ہو گا اور پوچھا جائے گا: کیا فوج میں کوئی ایسے شخص ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی کی صحبت اٹھائی ہو؟ ان سے کہا جائے گا کہ ہاں ہیں تو ان کے ذریعہ فتح کی دعا مانگی جائے گا۔ پھر ان کی دعا کی برکت سے فتح ہو گی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن جابر، عن ابي سعيد رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ياتي على الناس زمان يغزون، فيقال فيكم من صحب الرسول صلى الله عليه وسلم فيقولون نعم. فيفتح عليهم، ثم يغزون فيقال لهم هل فيكم من صحب من صحب الرسول صلى الله عليه وسلم فيقولون نعم. فيفتح لهم
مجھ سے محمد بن حکم نے بیان کیا، کہا ہم کو نضر نے خبر دی، کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی، کہا ہم کو سعد طائی نے خبر دی، انہیں محل بن خلیفہ نے خبر دی، ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ایک صاحب آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فقر و فاقہ کی شکایت کی، پھر دوسرے صاحب آئے اور راستوں کی بدامنی کی شکایت کی، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عدی! تم نے مقام حیرہ دیکھا ہے؟ ( جو کوفہ کے پاس ایک بستی ہے ) میں نے عرض کیا کہ میں نے دیکھا تو نہیں، البتہ اس کا نام میں نے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری زندگی کچھ اور لمبی ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ہودج میں ایک عورت اکیلی حیرہ سے سفر کرے گی اور ( مکہ پہنچ کر ) کعبہ کا طواف کرے گی اور اللہ کے سوا اسے کسی کا بھی خوف نہ ہو گا۔ میں نے ( حیرت سے ) اپنے دل میں کہا، پھر قبیلہ طے کے ان ڈاکوؤں کا کیا ہو گا جنہوں نے شہروں کو تباہ کر دیا ہے اور فساد کی آگ سلگا رکھی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم کچھ اور دنوں تک زندہ رہے تو کسریٰ کے خزانے ( تم پر ) کھولے جائیں گے۔ میں ( حیرت میں ) بول پڑا کسریٰ بن ہرمز ( ایران کا بادشاہ ) کسریٰ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں کسریٰ بن ہرمز! اور اگر تم کچھ دنوں تک اور زندہ رہے تو یہ بھی دیکھو گے کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں سونا چاندی بھر کر نکلے گا، اسے کسی ایسے آدمی کی تلاش ہو گی ( جو اس کی زکوٰۃ ) قبول کر لے لیکن اسے کوئی ایسا آدمی نہیں ملے گا جو اسے قبول کر لے۔ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا جو دن مقرر ہے اس وقت تم میں سے ہر کوئی اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ درمیان میں کوئی ترجمان نہ ہو گا ( بلکہ پروردگار اس سے بلاواسطہ باتیں کرے گا ) اللہ تعالیٰ اس سے دریافت کرے گا۔ کیا میں نے تمہارے پاس رسول نہیں بھیجے تھے جنہوں نے تم تک میرا پیغام پہنچا دیا ہو؟ وہ عرض کرے گا بیشک تو نے بھیجا تھا۔ اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا کیا میں نے مال اور اولاد تمہیں نہیں دی تھی؟ کیا میں نے ان کے ذریعہ تمہیں فضیلت نہیں دی تھی؟ وہ جواب دے گا بیشک تو نے دیا تھا۔ پھر وہ اپنی داہنی طرف دیکھے گا تو سوا جہنم کے اسے اور کچھ نظر نہ آئے گا پھر وہ بائیں طرف دیکھے گا تو ادھر بھی جہنم کے سوا اور کچھ نظر نہیں آئے گا۔ عدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے کہ جہنم سے ڈرو، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعہ ہو۔ اگر کسی کو کھجور کا ایک ٹکڑا بھی میسر نہ آ سکے تو ( کسی سے ) ایک اچھا کلمہ ہی کہہ دے۔ عدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ہودج میں بیٹھی ہوئی ایک اکیلی عورت کو تو خود دیکھ لیا کہ حیرہ سے سفر کے لیے نکلی اور ( مکہ پہنچ کر ) اس نے کعبہ کا طواف کیا اور اسے اللہ کے سوا اور کسی سے ( ڈاکو وغیرہ ) کا ( راستے میں ) خوف نہیں تھا اور مجاہدین کی اس جماعت میں تو میں خود شریک تھا جس نے کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کئے۔ اور اگر تم لوگ کچھ دنوں اور زندہ رہے تو وہ بھی دیکھ لو گے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک شخص اپنے ہاتھ میں ( زکوٰۃ کا سونا چاندی ) بھر کر نکلے گا ( لیکن اسے لینے والا کوئی نہیں ملے گا ) مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم کو سعدان بن بشر نے خبر دی، ان سے ابومجاہد نے بیان کیا، ان سے محل بن خلیفہ نے بیان کیا، اور انہوں نے عدی رضی اللہ سنے سنا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا، پھر یہی حدیث نقل کی جو اوپر مذکور ہوئی۔
حدثني عبد الله، حدثنا ابو عاصم، اخبرنا سعدان بن بشر، حدثنا ابو مجاهد، حدثنا محل بن خليفة، سمعت عديا، كنت عند النبي صلى الله عليه وسلم
مجھ سے سعید بن شرحبیل نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یزید بن حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے، ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مدینہ سے باہر نکلے اور شہداء احد پر نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھتے ہیں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں ( حوض کوثر پر ) تم سے پہلے پہنچوں گا اور قیامت کے دن تمہارے لیے میر سامان بنوں گا۔ میں تم پر گواہی دوں گا اور اللہ کی قسم میں اپنے حوض کوثر کو اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں، مجھے روئے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف نہیں کہ تم شرک کرنے لگو گے۔ میں تو اس سے ڈرتا ہوں کہ کہیں دنیا داری میں پڑ کر ایک دوسرے سے رشک و حسد نہ کرنے لگو۔
حدثني سعيد بن شرحبيل، حدثنا ليث، عن يزيد، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوما فصلى على اهل احد صلاته على الميت، ثم انصرف الى المنبر، فقال " اني فرطكم، وانا شهيد عليكم، اني والله لانظر الى حوضي الان، واني قد اعطيت خزاين مفاتيح الارض، واني والله ما اخاف بعدي ان تشركوا، ولكن اخاف ان تنافسوا فيها
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ مدینہ کے ایک بلند ٹیلہ پر چڑھے اور فرمایا ”جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں کیا تمہیں بھی نظر آ رہا ہے؟ میں فتنوں کو دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے گھروں میں وہ اس طرح گر رہے ہیں جیسے بارش کی بوندیں گرا کرتیں ہیں۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا ابن عيينة، عن الزهري، عن عروة، عن اسامة رضى الله عنه قال اشرف النبي صلى الله عليه وسلم على اطم من الاطام، فقال " هل ترون ما ارى اني ارى الفتن تقع خلال بيوتكم مواقع القطر
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، ان سے زینب بنت ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم کو زینب بنت ابی جحش رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت پریشان نظر آ رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، عرب کے لیے تباہی اس شر سے آئے گی جس کے واقع ہونے کا زمانہ قریب آ گیا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اتنا شگاف پیدا ہو گیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیوں سے حلقہ بنا کر اس کی وضاحت کی۔ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں نیک لوگ ہوں گے پھر بھی ہم ہلاک کر دیئے جائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جب خباثتیں بڑھ جائیں گی ( تو ایسا ہو گا ) ۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني عروة بن الزبير، ان زينب ابنة ابي سلمة، حدثته ان ام حبيبة بنت ابي سفيان حدثتها عن زينب بنت جحش، ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها فزعا يقول " لا اله الا الله، ويل للعرب من شر قد اقترب، فتح اليوم من ردم ياجوج وماجوج مثل هذا ". وحلق باصبعه وبالتي تليها، فقالت زينب فقلت يا رسول الله انهلك وفينا الصالحون قال " نعم، اذا كثر الخبث
اور زہری سے روایت ہے، ان سے ہند بنت الحارث نے بیان کیا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو فرمایا ”سبحان اللہ! کیسے کیسے خزانے اترے ہیں ( جو مسلمانوں کو ملیں گے ) اور کیا کیا فتنے و فساد اترے ہیں۔“
وعن الزهري، حدثتني هند بنت الحارث، ان ام سلمة، قالت استيقظ النبي صلى الله عليه وسلم فقال " سبحان الله، ماذا انزل من الخزاين وماذا انزل من الفتن
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ بن ماجشون نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، ان سے ان کے والد نے کہا، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں بکریوں سے بہت محبت ہے اور تم انہیں پالتے ہو تو تم ان کی نگہداشت اچھی کیا کرو اور ان کی ناک کی صفائی کا بھی خیال رکھا کرو۔ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ مسلمان کا سب سے عمدہ مال اس کی بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑ کی چوٹیوں پر چڑھ جائے گا یا ( آپ نے «سعف الجبال» کے لفظ فرمائے ) وہ بارش گرنے کی جگہ میں چلا جائے گا۔ اس طرح وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگتا پھرے گا۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة بن الماجشون، عن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه قال قال لي اني اراك تحب الغنم، وتتخذها، فاصلحها واصلح رعامها، فاني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ياتي على الناس زمان تكون الغنم فيه خير مال المسلم، يتبع بها شعف الجبال او سعف الجبال في مواقع القطر، يفر بدينه من الفتن
حدثنا عبد العزيز الاويسي، حدثنا ابراهيم، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ستكون فتن، القاعد فيها خير من القايم، والقايم فيها خير من الماشي، والماشي فيها خير من الساعي، ومن يشرف لها تستشرفه، ومن وجد ملجا او معاذا فليعذ به ". وعن ابن شهاب، حدثني ابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث، عن عبد الرحمن بن مطيع بن الاسود، عن نوفل بن معاوية،، مثل حديث ابي هريرة هذا، الا ان ابا بكر، يزيد " من الصلاة صلاة من فاتته فكانما وتر اهله وماله
حدثنا عبد العزيز الاويسي، حدثنا ابراهيم، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، وابي، سلمة بن عبد الرحمن ان ابا هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ستكون فتن، القاعد فيها خير من القايم، والقايم فيها خير من الماشي، والماشي فيها خير من الساعي، ومن يشرف لها تستشرفه، ومن وجد ملجا او معاذا فليعذ به ". وعن ابن شهاب، حدثني ابو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث، عن عبد الرحمن بن مطيع بن الاسود، عن نوفل بن معاوية،، مثل حديث ابي هريرة هذا، الا ان ابا بكر، يزيد " من الصلاة صلاة من فاتته فكانما وتر اهله وماله
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں زید بن وہب نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میرے بعد تم پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں تم پر دوسروں کو مقدم کیا جائے گا اور ایسی باتیں سامنے آئیں گی جن کو تم برا سمجھو گے۔“ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اس وقت ہمیں آپ کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو حقوق تم پر دوسروں کے واجب ہوں انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق اللہ ہی سے مانگنا۔ ( یعنی صبر کرنا اور اپنا حق لینے کے لیے خلیفہ اور حاکم وقت سے بغاوت نہ کرنا ) ۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن زيد بن وهب، عن ابن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ستكون اثرة وامور تنكرونها ". قالوا يا رسول الله فما تامرنا قال " تودون الحق الذي عليكم، وتسالون الله الذي لكم
مجھ سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعمر اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے، ان سے ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس قبیلہ قریش کے بعض آدمی لوگوں کو ہلاک و برباد کر دیں گے۔“ صحابہ نے عرض کیا: ایسے وقت کے لیے آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کاش لوگ ان سے بس الگ ہی رہتے۔“ محمود بن غیلان نے بیان کیا کہ ہم سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں ابوالتیاح نے، انہوں نے ابوزرعہ سے سنا۔
حدثني محمد بن عبد الرحيم، حدثنا ابو معمر، اسماعيل بن ابراهيم حدثنا ابو اسامة، حدثنا شعبة، عن ابي التياح، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يهلك الناس هذا الحى من قريش ". قالوا فما تامرنا قال " لو ان الناس اعتزلوهم ". قال محمود حدثنا ابو داود اخبرنا شعبة عن ابي التياح سمعت ابا زرعة
مجھ سے احمد محمد مکی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ بن سعید اموی نے بیان کیا، ان سے ان کے دادا نے بیان کیا کہ میں مروان بن حکم اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ اس وقت میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے سچوں کے سچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میری امت کی بربادی قریش کے چند لڑکوں کے ہاتھوں پر ہو گی۔ مروان نے پوچھا: نوجوان لڑکوں کے ہاتھ پر؟ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں ان کے نام بھی لے دوں کہ وہ بنی فلاں اور بنی فلاں ہوں گے۔
حدثنا احمد بن محمد المكي، حدثنا عمرو بن يحيى بن سعيد الاموي، عن جده، قال كنت مع مروان وابي هريرة فسمعت ابا هريرة، يقول سمعت الصادق المصدوق، يقول " هلاك امتي على يدى غلمة من قريش ". فقال مروان غلمة. قال ابو هريرة ان شيت ان اسميهم بني فلان وبني فلان
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن جابر نے، کہا کہ مجھ سے بسر بن عبیداللہ حضرمی نے، کہا کہ مجھ سے ابوادریس خولانی نے بیان کیا، انہوں نے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ دوسرے صحابہ کرام تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے متعلق سوال کیا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا اس خوف سے کہ کہیں میں ان میں نہ پھنس جاؤں۔ تو میں نے ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: یا رسول اللہ! ہم جاہلیت اور شر کے زمانے میں تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خیر و برکت ( اسلام کی ) عطا فرمائی، اب کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، میں نے سوال کیا، اور اس شر کے بعد پھر خیر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، لیکن اس خیر پر کچھ دھواں ہو گا۔ میں نے عرض کیا وہ دھواں کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو میری سنت اور طریقے کے علاوہ دوسرے طریقے اختیار کریں گے۔ ان میں کوئی بات اچھی ہو گی کوئی بری۔ میں نے سوال کیا: کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا کوئی زمانہ آئے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، جہنم کے دروازوں کی طرف بلانے والے پیدا ہوں گے، جو ان کی بات قبول کرے گا اسے وہ جہنم میں جھونک دیں گے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان کے اوصاف بھی بیان فرما دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ لوگ ہماری ہی قوم و مذہب کے ہوں گے۔ ہماری ہی زبان بولیں گے۔ میں نے عرض کیا، پھر اگر میں ان لوگوں کا زمانہ پاؤں تو میرے لیے آپ کا حکم کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑنا، میں نے عرض کیا اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان تمام فرقوں سے اپنے کو الگ رکھنا۔ اگرچہ تجھے اس کے لیے کسی درخت کی جڑ چبانی پڑے، یہاں تک کہ تیری موت آ جائے اور تو اسی حالت پر ہو ( تو یہ تیرے حق میں ان کی صحبت میں رہنے سے بہتر ہو گا ) ۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا الوليد، قال حدثني ابن جابر، قال حدثني بسر بن عبيد الله الحضرمي، قال حدثني ابو ادريس الخولاني، انه سمع حذيفة بن اليمان، يقول كان الناس يسالون رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الخير، وكنت اساله عن الشر مخافة ان يدركني. فقلت يا رسول الله انا كنا في جاهلية وشر، فجاءنا الله بهذا الخير، فهل بعد هذا الخير من شر قال " نعم ". قلت وهل بعد ذلك الشر من خير قال " نعم، وفيه دخن ". قلت وما دخنه قال " قوم يهدون بغير هديي تعرف منهم وتنكر ". قلت فهل بعد ذلك الخير من شر قال " نعم دعاة الى ابواب جهنم، من اجابهم اليها قذفوه فيها ". قلت يا رسول الله صفهم لنا فقال " هم من جلدتنا، ويتكلمون بالسنتنا " قلت فما تامرني ان ادركني ذلك قال " تلزم جماعة المسلمين وامامهم ". قلت فان لم يكن لهم جماعة ولا امام قال " فاعتزل تلك الفرق كلها، ولو ان تعض باصل شجرة حتى يدركك الموت وانت على ذلك
حدثني محمد بن الحكم، اخبرنا النضر، اخبرنا اسراييل، اخبرنا سعد الطايي، اخبرنا محل بن خليفة، عن عدي بن حاتم، قال بينا انا عند النبي، صلى الله عليه وسلم اذ اتاه رجل فشكا اليه الفاقة، ثم اتاه اخر، فشكا قطع السبيل. فقال " يا عدي هل رايت الحيرة ". قلت لم ارها وقد انبيت عنها. قال " فان طالت بك حياة لترين الظعينة ترتحل من الحيرة، حتى تطوف بالكعبة، لا تخاف احدا الا الله " قلت فيما بيني وبين نفسي فاين دعار طيي الذين قد سعروا البلاد " ولين طالت بك حياة لتفتحن كنوز كسرى ". قلت كسرى بن هرمز قال " كسرى بن هرمز، ولين طالت بك حياة، لترين الرجل يخرج ملء كفه من ذهب او فضة، يطلب من يقبله منه، فلا يجد احدا يقبله منه، وليلقين الله احدكم يوم يلقاه، وليس بينه وبينه ترجمان يترجم له. فيقولن الم ابعث اليك رسولا فيبلغك فيقول بلى. فيقول الم اعطك مالا وافضل عليك فيقول بلى. فينظر عن يمينه فلا يرى الا جهنم، وينظر عن يساره فلا يرى الا جهنم ". قال عدي سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اتقوا النار ولو بشقة تمرة، فمن لم يجد شقة تمرة فبكلمة طيبة ". قال عدي فرايت الظعينة ترتحل من الحيرة حتى تطوف بالكعبة، لا تخاف الا الله، وكنت فيمن افتتح كنوز كسرى بن هرمز، ولين طالت بكم حياة لترون ما قال النبي ابو القاسم صلى الله عليه وسلم " يخرج ملء كفه