Loading...

Loading...
کتب
۱۶۰ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں صبح سویرے ہی پہنچ گئے۔ خیبر کے یہودی اس وقت اپنے پھاوڑے لے کر ( کھیتوں میں کام کرنے کے لیے ) جا رہے تھے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور یہ کہتے ہوئے کہ محمد لشکر لے کر آ گئے، وہ قلعہ کی طرف بھاگے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھا کر فرمایا ”اللہ اکبر خیبر تو برباد ہوا کہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں ( جنگ کے لیے ) اتر جاتے ہیں تو پھر ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا ايوب، عن محمد، سمعت انس بن مالك رضى الله عنه يقول صبح رسول الله صلى الله عليه وسلم خيبر بكرة وقد خرجوا بالمساحي، فلما راوه قالوا محمد والخميس. واحالوا الى الحصن يسعون، فرفع النبي صلى الله عليه وسلم يديه وقال " الله اكبر، خربت خيبر، انا اذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين
مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا مجھ سے محمد بن اسماعیل ابن ابی الفدیک نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن ابن ابی ذئب نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے آپ سے بہت سی احادیث اب تک سنی ہیں لیکن میں انہیں بھول جاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلاؤ، میں نے چادر پھیلا دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس میں ایک لپ بھر کر ڈال دی اور فرمایا کہ اسے اپنے بدن سے لگا لو۔ چنانچہ میں نے لگا لیا اور اس کے بعد کبھی کوئی حدیث نہیں بھولا۔
حدثني ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابن ابي الفديك، عن ابن ابي ذيب، عن المقبري، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قلت يا رسول الله اني سمعت منك كثيرا فانساه. قال " ابسط رداءك ". فبسطت فغرف بيده فيه، ثم قال " ضمه " فضممته، فما نسيت حديثا بعد