Loading...

Loading...
کتب
۶۵ احادیث
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال وزعم عروة ان مروان بن الحكم، ومسور بن مخرمة، اخبراه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حين جاءه وفد هوازن مسلمين، فسالوه ان يرد اليهم اموالهم وسبيهم فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " احب الحديث الى اصدقه، فاختاروا احدى الطايفتين اما السبى واما المال، وقد كنت استانيت بهم ". وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم انتظر اخرهم بضع عشرة ليلة، حين قفل من الطايف، فلما تبين لهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غير راد اليهم الا احدى الطايفتين. قالوا فانا نختار سبينا، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسلمين فاثنى على الله بما هو اهله ثم قال " اما بعد، فان اخوانكم هولاء قد جاءونا تايبين، واني قد رايت ان ارد اليهم سبيهم، من احب ان يطيب فليفعل، ومن احب منكم ان يكون على حظه حتى نعطيه اياه من اول ما يفيء الله علينا فليفعل ". فقال الناس قد طيبنا ذلك يا رسول الله لهم. فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا لا ندري من اذن منكم في ذلك ممن لم ياذن، فارجعوا حتى يرفع الينا عرفاوكم امركم " فرجع الناس، فكلمهم عرفاوهم، ثم رجعوا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبروه انهم قد طيبوا فاذنوا. فهذا الذي بلغنا عن سبى هوازن
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال وزعم عروة ان مروان بن الحكم، ومسور بن مخرمة، اخبراه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حين جاءه وفد هوازن مسلمين، فسالوه ان يرد اليهم اموالهم وسبيهم فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " احب الحديث الى اصدقه، فاختاروا احدى الطايفتين اما السبى واما المال، وقد كنت استانيت بهم ". وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم انتظر اخرهم بضع عشرة ليلة، حين قفل من الطايف، فلما تبين لهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم غير راد اليهم الا احدى الطايفتين. قالوا فانا نختار سبينا، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسلمين فاثنى على الله بما هو اهله ثم قال " اما بعد، فان اخوانكم هولاء قد جاءونا تايبين، واني قد رايت ان ارد اليهم سبيهم، من احب ان يطيب فليفعل، ومن احب منكم ان يكون على حظه حتى نعطيه اياه من اول ما يفيء الله علينا فليفعل ". فقال الناس قد طيبنا ذلك يا رسول الله لهم. فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " انا لا ندري من اذن منكم في ذلك ممن لم ياذن، فارجعوا حتى يرفع الينا عرفاوكم امركم " فرجع الناس، فكلمهم عرفاوهم، ثم رجعوا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبروه انهم قد طيبوا فاذنوا. فهذا الذي بلغنا عن سبى هوازن
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے کہا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابوقلابہ نے بیان کیا اور (ایوب نے ایک دوسری سند کے ساتھ اس طرح روایت کی ہے کہ) مجھ سے قاسم بن عاصم کلیبی نے بیان کیا اور کہا کہ قاسم کی حدیث (ابوقلابہ کی حدیث کی بہ نسبت) مجھے زیادہ اچھی طرح یاد ہے ‘ زہدم سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مجلس میں حاضر تھے ( کھانا لایا گیا اور ) وہاں مرغی کا ذکر ہونے لگا۔ بنی تمیم اللہ کے ایک آدمی سرخ رنگ والے وہاں موجود تھے۔ غالباً موالی میں سے تھے۔ انہیں بھی ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کھانے پر بلایا ‘ وہ کہنے لگے کہ میں نے مرغی کو گندی چیزیں کھاتے ایک مرتبہ دیکھا تھا تو مجھے بڑی نفرت ہوئی اور میں نے قسم کھا لی کہ اب کبھی مرغی کا گوشت نہ کھاؤں گا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ قریب آ جاؤ ( تمہاری قسم پر ) میں تم سے ایک حدیث اسی سلسلے کی بیان کرتا ہوں ‘ قبیلہ اشعر کے چند لوگوں کو ساتھ لے کر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( غزوہ تبوک کے لیے ) حاضر ہوا اور سواری کی درخواست کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کی قسم! میں تمہارے لیے سواری کا انتظام نہیں کر سکتا ‘ کیونکہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو تمہاری سواری کے کام آ سکے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں غنیمت کے کچھ اونٹ آئے ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے متعلق دریافت فرمایا ‘ اور فرمایا کہ قبیلہ اشعر کے لوگ کہاں ہیں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ اونٹ ہمیں دیئے جانے کا حکم صادر فرمایا ‘ خوب موٹے تازے اور فربہ۔ جب ہم چلنے لگے تو ہم نے آپس میں کہا کہ جو نامناسب طریقہ ہم نے اختیار کیا اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عطیہ میں ہمارے لیے کوئی برکت نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ہم پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم نے پہلے جب آپ سے درخواست کی تھی تو آپ نے قسم کھا کر فرمایا تھا کہ میں تمہاری سواری کا انتظام نہیں کر سکوں گا۔ شاید آپ کو وہ قسم یاد نہ رہی ہو ‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا انتظام واقعی نہیں کیا ‘ وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے تمہیں یہ سواریاں دے دی ہیں۔ اللہ کی قسم! تم اس پر یقین رکھو کہ ان شاءاللہ جب بھی میں کوئی قسم کھاؤں ‘ پھر مجھ پر یہ بات ظاہر ہو جائے کہ بہتر اور مناسب طرز عمل اس کے سوا میں ہے تو میں وہی کروں گا جس میں اچھائی ہو گی اور قسم کا کفارہ دے دوں گا۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا حماد، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، قال وحدثني القاسم بن عاصم الكليبي وانا لحديث القاسم، احفظ عن زهدم، قال كنا عند ابي موسى، فاتي ذكر دجاجة وعنده رجل من بني تيم الله احمر كانه من الموالي، فدعاه للطعام فقال اني رايته ياكل شييا، فقذرته، فحلفت لا اكل. فقال هلم فلاحدثكم عن ذاك، اني اتيت النبي صلى الله عليه وسلم في نفر من الاشعريين نستحمله فقال " والله لا احملكم، وما عندي ما احملكم ". واتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بنهب ابل، فسال عنا فقال " اين النفر الاشعريون ". فامر لنا بخمس ذود غر الذرى، فلما انطلقنا قلنا ما صنعنا لا يبارك لنا، فرجعنا اليه فقلنا انا سالناك ان تحملنا، فحلفت ان لا تحملنا افنسيت قال " لست انا حملتكم، ولكن الله حملكم، واني والله ان شاء الله لا احلف على يمين فارى غيرها خيرا منها الا اتيت الذي هو خير وتحللتها
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں نافع نے اور انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی لشکر کے ساتھ تھے۔ غنیمت کے طور پر اونٹوں کی ایک بڑی تعداد اس لشکر کو ملی۔ اس لیے اس کے ہر سپاہی کو حصہ میں بھی بارہ بارہ گیارہ گیارہ اونٹ ملے تھے اور ایک ایک اونٹ اور انعام میں ملا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث سرية فيها عبد الله قبل نجد، فغنموا ابلا كثيرا، فكانت سهامهم اثنى عشر بعيرا او احد عشر بعيرا، ونفلوا بعيرا بعيرا
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو لیث نے خبر دی ‘ انہیں عقیل نے ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں سالم نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض مہموں کے موقع پر اس میں شریک ہونے والوں کو غنیمت کے عام حصوں کے علاوہ ( خمس وغیرہ میں سے ) اپنے طور پر بھی دیا کرتے تھے۔
حدثنا يحيى بن بكير، اخبرنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سالم، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ينفل بعض من يبعث من السرايا لانفسهم خاصة سوى قسم عامة الجيش
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کی خبر ہمیں ملی ‘ تو ہم یمن میں تھے۔ اس لیے ہم بھی آپ کی خدمت میں مہاجر کی حیثیت سے حاضر ہونے کے لیے روانہ ہوئے۔ میں تھا ‘ میرے بھائی تھے۔ ( میری عمران دونوں سے کم تھی ‘ دونوں بھائیوں میں ) ایک ابوبردہ رضی اللہ عنہ تھے اور دوسرے ابورہم۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ اپنی قوم کے چند افراد کے ساتھ یا یہ کہا تریپن یا باون آدمیوں کے ساتھ ( یہ لوگ روانہ ہوئے تھے ) ہم کشتی میں سوار ہوئے تو ہماری کشتی نجاشی کے ملک حبشہ پہنچ گئی اور وہاں ہمیں جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ ملے۔ جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہاں بھیجا تھا اور حکم دیا تھا کہ ہم یہیں رہیں۔ چنانچہ ہم بھی وہیں ٹھہر گئے۔ اور پھر سب ایک ساتھ ( مدینہ ) حاضر ہوئے ‘ جب ہم خدمت نبوی میں پہنچے ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر فتح کر چکے تھے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دوسرے مجاہدوں کے ساتھ ) ہمارا بھی حصہ مال غنیمت میں لگایا۔ یا انہوں نے یہ کہا کہ آپ نے غنیمت میں سے ہمیں بھی عطا فرمایا ‘ حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسے شخص کا غنیمت میں حصہ نہیں لگایا جو لڑائی میں شریک نہ رہا ہو۔ صرف انہی لوگوں کو حصہ ملا تھا ‘ جو لڑائی میں شریک تھے۔ البتہ ہمارے کشتی کے ساتھیوں اور جعفر اور ان کے ساتھیوں کو بھی آپ نے غنیمت میں شریک کیا تھا ( حالانکہ ہم لوگ لڑائی میں شریک نہیں ہوئے تھے ) ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، حدثنا بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال بلغنا مخرج النبي صلى الله عليه وسلم ونحن باليمن فخرجنا مهاجرين اليه، انا واخوان لي، انا اصغرهم، احدهما ابو بردة والاخر ابو رهم، اما قال في بضع، واما قال في ثلاثة وخمسين او اثنين وخمسين رجلا من قومي فركبنا سفينة، فالقتنا سفينتنا الى النجاشي بالحبشة، ووافقنا جعفر بن ابي طالب واصحابه عنده فقال جعفر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثنا ها هنا، وامرنا بالاقامة فاقيموا معنا. فاقمنا معه، حتى قدمنا جميعا، فوافقنا النبي صلى الله عليه وسلم حين افتتح خيبر، فاسهم لنا. او قال فاعطانا منها. وما قسم لاحد غاب عن فتح خيبر منها شييا، الا لمن شهد معه، الا اصحاب سفينتنا مع جعفر واصحابه، قسم لهم معهم
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ کہا ہم سے محمد بن منکدر نے ‘ اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب بحرین سے وصول ہو کر میرے پاس مال آئے گا تو میں تمہیں اس طرح اس طرح ‘ اس طرح ( تین لپ ) دوں گا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور بحرین کا مال اس وقت تک نہ آیا۔ پھر جب وہاں سے مال آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حکم سے منادی نے اعلان کیا کہ جس کا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی قرض ہو یا آپ کا کوئی وعدہ ہو تو ہمارے پاس آئے۔ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور عرض کیا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ چنانچہ انہوں نے تین لپ بھر کر مجھے دیا۔ سفیان بن عیینہ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کر کے ( لپ بھرنے کی ) کیفیت بتائی پھر ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ ابن منکدر نے بھی ہم سے اسی طرح بیان کیا تھا۔ اور ایک مرتبہ سفیان نے ( سابقہ سند کے ساتھ ) بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے کچھ نہیں دیا۔ پھر میں حاضر ہوا ‘ اور اس مرتبہ بھی مجھے انہوں نے کچھ نہیں دیا۔ پھر میں تیسری مرتبہ حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے ایک مرتبہ آپ سے مانگا اور آپ نے عنایت نہیں فرمایا۔ دوبارہ مانگا ‘ پھر بھی آپ نے عنایت نہیں فرمایا اور پھر مانگا لیکن آپ نے عنایت نہیں فرمایا۔ اب یا آپ مجھے دیجئیے یا پھر میرے بارے میں بخل سے کام لیجئے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم کہتے ہو کہ میرے معاملے میں بخل سے کام لیتا ہے۔ حالانکہ تمہیں دینے سے جب بھی میں نے منہ پھیرا تو میرے دل میں یہ بات ہوتی تھی کہ تمہیں کبھی نہ کبھی دینا ضرور ہے۔، سفیان نے بیان کیا کہ ہم سے عمرو نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن علی نے اور ان سے جابر نے ‘ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ایک لپ بھر کر دیا اور فرمایا کہ اسے شمار کر میں نے شمار کیا تو پانچ سو کی تعداد تھی ‘ اس کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اتنا ہی دو مرتبہ اور لے لے۔ اور ابن المنکدر نے بیان کیا ( کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ) بخل سے زیادہ بدترین اور کیا بیماری ہو سکتی ہے۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، حدثنا محمد بن المنكدر، سمع جابرا رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لو قد جاءني مال البحرين لقد اعطيتك هكذا وهكذا وهكذا ". فلم يجي حتى قبض النبي صلى الله عليه وسلم، فلما جاء مال البحرين امر ابو بكر مناديا فنادى من كان له عند رسول الله صلى الله عليه وسلم دين او عدة فلياتنا. فاتيته فقلت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لي كذا وكذا. فحثا لي ثلاثا وجعل سفيان يحثو بكفيه جميعا، ثم قال لنا هكذا قال لنا ابن المنكدر وقال مرة فاتيت ابا بكر فسالت فلم يعطني، ثم اتيته فلم يعطني، ثم اتيته الثالثة فقلت سالتك فلم تعطني، ثم سالتك فلم تعطني، ثم سالتك فلم تعطني، فاما ان تعطيني، واما ان تبخل عني. قال قلت تبخل على ما منعتك من مرة الا وانا اريد ان اعطيك. قال سفيان وحدثنا عمرو عن محمد بن علي عن جابر فحثا لي حثية وقال عدها. فوجدتها خمسماية قال فخذ مثلها مرتين. وقال يعني ابن المنكدر واى داء ادوا من البخل
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے قرۃ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مقام جعرانہ میں غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ ایک شخص ذوالخویصرہ نے آپ سے کہا، انصاف سے کام لیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میں بھی انصاف سے کام نہ لوں تو بدبخت ہوا۔“
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا قرة، حدثنا عمرو بن دينار، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم غنيمة بالجعرانة اذ قال له رجل اعدل. فقال له " شقيت ان لم اعدل
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں محمد بن جبیر نے اور انہیں ان کے والد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ اگر مطعم بن عدی ( جو کفر کی حالت میں مر گئے تھے ) زندہ ہوتے اور ان نجس، ناپاک لوگوں کی سفارش کرتے تو میں ان کی سفارش سے انہیں ( فدیہ لیے بغیر ) چھوڑ دیتا۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن محمد بن جبير، عن ابيه رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال في اسارى بدر " لو كان المطعم بن عدي حيا، ثم كلمني في هولاء النتنى، لتركتهم له
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابن مسیب نے بیان کیا اور ان سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ نے بنو مطلب کو تو عنایت فرمایا لیکن ہم کو چھوڑ دیا، حالانکہ ہم کو آپ سے وہی رشتہ ہے جو بنو مطلب کو آپ سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو مطلب اور بنو ہاشم ایک ہی ہے۔ لیث نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا اور ( اس روایت میں ) یہ زیادتی کی کہ جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عبدشمس اور بنو نوفل کو نہیں دیا تھا، اور ابن اسحاق ( صاحب مغازی ) نے کہا ہے کہ عبدشمس، ہاشم اور مطلب ایک ماں سے تھے اور ان کی ماں کا نام عاتکہ بن مرہ تھا اور نوفل باپ کی طرف سے ان کے بھائی تھے ( ان کی ماں دوسری تھیں ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن ابن المسيب، عن جبير بن مطعم، قال مشيت انا وعثمان بن عفان، الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلنا يا رسول الله، اعطيت بني المطلب وتركتنا، ونحن وهم منك بمنزلة واحدة. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما بنو المطلب وبنو هاشم شىء واحد ". قال الليث حدثني يونس وزاد قال جبير ولم يقسم النبي صلى الله عليه وسلم لبني عبد شمس ولا لبني نوفل. وقال ابن اسحاق عبد شمس وهاشم والمطلب اخوة لام، وامهم عاتكة بنت مرة، وكان نوفل اخاهم لابيهم
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یوسف بن ماجشون نے، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے صالح کے دادا (عبدالرحمٰن بن عوفص) نے بیان کے کہ بدر کی لڑائی میں، میں صف کے ساتھ کھڑا ہوا تھا۔ میں نے جو دائیں بائیں جانب دیکھا، تو میرے دونوں طرف قبیلہ انصار کے دو نوعمر لڑکے تھے۔ میں نے آرزو کی کاش! میں ان سے زبردست زیادہ عمر والوں کے بیچ میں ہوتا۔ ایک نے میری طرف اشارہ کیا، اور پوچھا چچا! آپ ابوجہل کو بھی پہچانتے ہیں؟ میں نے کہا کہ ہاں! لیکن بیٹے تم لوگوں کو اس سے کیا کام ہے؟ لڑکے نے جواب دیا مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر مجھے وہ مل گیا تو اس وقت تک میں اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک ہم میں سے کوئی جس کی قسمت میں پہلے مرنا ہو گا، مر نہ جائے، مجھے اس پر بڑی حیرت ہوئی۔ پھر دوسرے نے اشارہ کیا اور وہی باتیں اس نے بھی کہیں۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ مجھے ابوجہل دکھائی دیا جو لوگوں میں ( کفار کے لشکر میں ) گھومتا پھر رہا تھا۔ میں نے ان لڑکوں سے کہا کہ جس کے متعلق تم لوگ مجھ سے پوچھ رہے تھے، وہ سامنے ( پھرتا ہوا نظر آ رہا ) ہے۔ دونوں نے اپنی تلواریں سنبھالیں اور اس پر جھپٹ پڑے اور حملہ کر کے اسے قتل کر ڈالا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو خبر دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم دونوں میں سے کس نے اسے مارا ہے؟ دونوں نوجوانوں نے کہا کہ میں نے قتل کیا ہے۔ اس لیے آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا اپنی تلواریں تم نے صاف کر لی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں تلواروں کو دیکھا اور فرمایا کہ تم دونوں ہی نے اسے مارا ہے۔ اور اس کا سامان معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا۔ وہ دونوں نوجوان معاذ بن عفراء اور معاذ بن عمرو بن جموع تھے۔ محمد نے کہا یوسف نے صالح سے سنا اور ابراہیم نے اپنے باپ سے سنا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يوسف بن الماجشون، عن صالح بن ابراهيم بن عبد الرحمن بن عوف، عن ابيه، عن جده، قال بينا انا واقف، في الصف يوم بدر فنظرت عن يميني، وشمالي، فاذا انا بغلامين، من الانصار حديثة اسنانهما، تمنيت ان اكون بين اضلع منهما، فغمزني احدهما فقال يا عم، هل تعرف ابا جهل قلت نعم، ما حاجتك اليه يا ابن اخي قال اخبرت انه يسب رسول الله صلى الله عليه وسلم، والذي نفسي بيده لين رايته لا يفارق سوادي سواده حتى يموت الاعجل منا. فتعجبت لذلك، فغمزني الاخر فقال لي مثلها، فلم انشب ان نظرت الى ابي جهل يجول في الناس، قلت الا ان هذا صاحبكما الذي سالتماني. فابتدراه بسيفيهما فضرباه حتى قتلاه، ثم انصرفا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاخبراه فقال " ايكما قتله ". قال كل واحد منهما انا قتلته. فقال " هل مسحتما سيفيكما ". قالا لا. فنظر في السيفين فقال " كلاكما قتله ". سلبه لمعاذ بن عمرو بن الجموح. وكانا معاذ ابن عفراء ومعاذ بن عمرو بن الجموح. قال محمد سمع يوسف صالحا وابراهيم اباه (عبد الرحمن بن عوف)
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے ابن افلح نے، ان سے ابوقتادہ کے غلام ابومحمد نے اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حنین کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے۔ پھر جب ہمارا دشمن سے سامنا ہوا تو ( ابتداء میں ) اسلامی لشکر ہارنے لگا۔ اتنے میں میں نے دیکھا کہ مشرکین کے لشکر کا ایک شخص ایک مسلمان کے اوپر چڑھا ہوا ہے۔ اس لیے میں فوراً ہی گھوم پڑا اور اس کے پیچھے سے آ کر تلوار اس کی گردن پر ماری۔ اب وہ شخص مجھ پر ٹوٹ پڑا، اور مجھے اتنی زور سے اس نے بھینچا کہ میری روح جیسے قبض ہونے کو تھی۔ آخر جب اس کو موت نے آ ڈبوچا، تب کہیں جا کر اس نے مجھے چھوڑا۔ اس کے بعد مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ملے، تو میں نے ان سے پوچھا کہ مسلمان اب کس حالت میں ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جو اللہ کا حکم تھا وہی ہوا۔ لیکن مسلمان ہارنے کے بعد پھر مقابلہ پر سنبھل گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جس نے بھی کسی کافر کو قتل کیا ہو اور اس پر وہ گواہ بھی پیش کر دے تو مقتول کا سارا ساز و سامان اسے ہی ملے گا ( ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ) میں بھی کھڑا ہوا۔ اور میں نے کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا؟ لیکن ( جب میری طرف سے کوئی نہ اٹھا تو ) میں بیٹھ گیا۔ پھر دوبارہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( آج ) جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس پر اس کی طرف سے کوئی گواہ بھی ہو تو مقتول کا سارا سامان اسے ملے گا۔ اس مرتبہ پھر میں نے کھڑے ہو کر کہا کہ میری طرف سے کون گواہی دے گا؟ اور پھر مجھے بیٹھنا پڑا۔ تیسری مرتبہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی ارشاد دہرایا اور اس مرتبہ جب میں کھڑا ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی دریافت فرمایا، کس چیز کے متعلق کہہ رہے ہو ابوقتادہ! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سارا واقعہ بیان کر دیا، تو ایک صاحب ( اسود بن خزاعی اسلمی ) نے بتایا کہ ابوقتادہ سچ کہتے ہیں، یا رسول اللہ! اور اس مقتول کا سامان میرے پاس محفوظ ہے۔ اور میرے حق میں انہیں راضی کر دیجئیے ( کہ وہ مقتول کا سامان مجھ سے نہ لیں ) لیکن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نہیں اللہ کی قسم! اللہ کے ایک شیر کے ساتھ، جو اللہ اور اس کے رسول کے لیے لڑے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہیں کریں گے کہ ان کا سامان تمہیں دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر نے سچ کہا ہے۔ پھر آپ نے سامان ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ ابوقتادہ نے کہا کہ پھر اس کی زرہ بیچ کر میں نے بنی سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور یہ پہلا مال تھا جو اسلام لانے کے بعد میں نے حاصل کیا تھا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن ابن افلح، عن ابي محمد، مولى ابي قتادة عن ابي قتادة رضى الله عنه قال خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم عام حنين، فلما التقينا كانت للمسلمين جولة، فرايت رجلا من المشركين علا رجلا من المسلمين، فاستدرت حتى اتيته من ورايه حتى ضربته بالسيف على حبل عاتقه، فاقبل على فضمني ضمة وجدت منها ريح الموت، ثم ادركه الموت فارسلني، فلحقت عمر بن الخطاب فقلت ما بال الناس قال امر الله، ثم ان الناس رجعوا، وجلس النبي صلى الله عليه وسلم فقال " من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه ". فقمت فقلت من يشهد لي ثم جلست ثم قال " من قتل قتيلا له عليه بينة فله سلبه " فقمت فقلت من يشهد لي ثم جلست، ثم قال الثالثة مثله فقال رجل صدق يا رسول الله، وسلبه عندي فارضه عني. فقال ابو بكر الصديق رضى الله عنه لاها الله اذا يعمد الى اسد من اسد الله يقاتل عن الله ورسوله صلى الله عليه وسلم يعطيك سلبه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " صدق ". فاعطاه فبعت الدرع، فابتعت به مخرفا في بني سلمة، فانه لاول مال تاثلته في الاسلام
ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ روپیہ مانگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرمایا، پھر دوبارہ میں نے مانگا اور اس مرتبہ بھی آپ نے عطا فرمایا، پھر ارشاد فرمایا، حکیم! یہ مال دیکھنے میں سرسبز بہت میٹھا اور مزیدار ہے لیکن جو شخص اسے دل کی بے طمعی کے ساتھ لے اس کے مال میں تو برکت ہوتی ہے اور جو شخص اسے لالچ اور حرص کے ساتھ لے تو اس کے مال میں برکت نہیں ہوتی، بلکہ اس کی مثال اس شخص جیسی ہے جو کھائے جاتا ہے لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرتا اور اوپر کا ہاتھ ( دینے والا ) نیچے کے ہاتھ ( لینے والے ) سے بہتر ہوتا ہے۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے بعد اب میں کسی سے کچھ بھی نہیں مانگوں گا، یہاں تک کہ اس دنیا میں سے چلا جاؤں گا۔ چنانچہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ) ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں دینے کے لیے بلاتے، لیکن وہ اس میں سے ایک پیسہ بھی لینے سے انکار کر دیتے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ ( اپنے زمانہ خلافت میں ) انہیں دینے کے لیے بلاتے اور ان سے بھی لینے سے انہوں نے انکار کر دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ مسلمانو! میں انہیں ان کا حق دیتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے فئے کے مال سے ان کا حصہ مقرر کیا ہے۔ لیکن یہ اسے بھی قبول نہیں کرتے۔ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کی وفات ہو گئی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد انہوں نے کسی سے کوئی چیز نہیں لی۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا الاوزاعي، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، وعروة بن الزبير، ان حكيم بن حزام رضى الله عنه قال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعطاني، ثم سالته فاعطاني، ثم قال لي " يا حكيم، ان هذا المال خضر حلو، فمن اخذه بسخاوة نفس بورك له فيه، ومن اخذه باشراف نفس لم يبارك له فيه، وكان كالذي ياكل ولا يشبع، واليد العليا خير من اليد السفلى ". قال حكيم فقلت يا رسول الله، والذي بعثك بالحق لا ارزا احدا بعدك شييا حتى افارق الدنيا. فكان ابو بكر يدعو حكيما ليعطيه العطاء، فيابى ان يقبل منه شييا، ثم ان عمر دعاه ليعطيه فابى ان يقبل فقال يا معشر المسلمين، اني اعرض عليه حقه الذي قسم الله له من هذا الفىء، فيابى ان ياخذه. فلم يرزا حكيم احدا من الناس بعد النبي صلى الله عليه وسلم حتى توفي
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! زمانہ جاہلیت ( کفر ) میں میں نے ایک دن کے اعتکاف کی منت مانی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پورا کرنے کا حکم فرمایا۔ نافع نے بیان کیا کہ حنین کے قیدیوں میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو دو باندیاں ملی تھیں۔ تو آپ نے انہیں مکہ کے کسی گھر میں رکھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے قیدیوں پر احسان کیا ( اور سب کو مفت آزاد کر دیا ) تو گلیوں میں وہ دوڑنے لگے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، عبداللہ! دیکھو تو یہ کیا معاملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر احسان کیا ہے ( اور حنین کے تمام قیدی مفت آزاد کر دئیے گئے ہیں ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر جا ان دونوں لڑکیوں کو بھی آزاد کر دے۔ نافع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام جعرانہ سے عمرہ کا احرام نہیں باندھا تھا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے عمرہ کا احرام باندھتے تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ ضرور معلوم ہوتا اور جریر بن حازم نے جو ایوب سے روایت کی، انہوں نے نافع سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، اس میں یوں ہے کہ ( وہ دونوں باندیاں جو عمر رضی اللہ عنہ کو ملی تھیں ) خمس میں سے تھیں۔ ( اعتکاف سے متعلق یہ روایت ) معمر نے ایوب سے نقل کی ہے، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نذر کا قصہ جو روایت کیا ہے اس میں ایک دن کا لفظ نہیں ہے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، ان عمر بن الخطاب رضى الله عنه قال يا رسول الله انه كان على اعتكاف يوم في الجاهلية، فامره ان يفي به. قال واصاب عمر جاريتين من سبى حنين، فوضعهما في بعض بيوت مكة قال فمن رسول الله صلى الله عليه وسلم على سبى حنين، فجعلوا يسعون في السكك فقال عمر يا عبد الله، انظر ما هذا فقال من رسول الله صلى الله عليه وسلم على السبى. قال اذهب فارسل الجاريتين. قال نافع ولم يعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم من الجعرانة ولو اعتمر لم يخف على عبد الله. وزاد جرير بن حازم عن ايوب عن نافع عن ابن عمر قال من الخمس. ورواه معمر عن ايوب عن نافع عن ابن عمر في النذر ولم يقل يوم
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بصریٰ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور کچھ لوگوں کو نہیں دیا۔ غالباً جن لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا تھا، ان کو ناگوار ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں کچھ ایسے لوگوں کو دیتا ہوں کہ مجھے جن کے بگڑ جانے ( اسلام سے پھر جانے ) اور بے صبری کا ڈر ہے۔ اور کچھ لوگ ایسے ہیں جن پر میں بھروسہ کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں بھلائی اور بے نیازی رکھی ہے ( ان کو میں نہیں دیتا ) عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں شامل ہیں۔ عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری نسبت یہ جو کلمہ فرمایا اگر اس کے بدلے سرخ اونٹ ملتے تو بھی میں اتنا خوش نہ ہوتا۔ ابوعاصم نے جریر سے بیان کیا کہ میں نے حسن بصریٰ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ہم سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال یا قیدی آئے تھے اور انہیں کو آپ نے تقسیم فرمایا تھا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جرير بن حازم، حدثنا الحسن، قال حدثني عمرو بن تغلب رضى الله عنه قال اعطى رسول الله صلى الله عليه وسلم قوما ومنع اخرين، فكانهم عتبوا عليه فقال " اني اعطي قوما اخاف ظلعهم وجزعهم، واكل اقواما الى ما جعل الله في قلوبهم من الخير والغنى، منهم عمرو بن تغلب ". فقال عمرو بن تغلب ما احب ان لي بكلمة رسول الله صلى الله عليه وسلم حمر النعم. وزاد ابو عاصم عن جرير قال سمعت الحسن يقول حدثنا عمرو بن تغلب ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بمال او بسبى فقسمه. بهذا
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قریش کو میں ان کا دل ملانے کے لیے دیتا ہوں، کیونکہ ان کی جاہلیت ( کفر ) کا زمانہ ابھی تازہ گزرا ہے ( ان کی دلجوئی کرنا ضروری ہے ) ۔“
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اني اعطي قريشا اتالفهم، لانهم حديث عهد بجاهلية
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو قبیلہ ہوازن کے اموال میں سے غنیمت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے بعض آدمیوں کو ( تالیف قلب کی غرض سے ) سو سو اونٹ دینے لگے تو بعض انصاری لوگوں نے کہا اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے۔ آپ قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیا۔ حالانکہ ان کا خون ابھی تک ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے۔ ( قریش کے لوگوں کو حال ہی میں ہم نے مارا، ان کے شہر کو ہم ہی نے فتح کیا ) انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بلایا اور انہیں چمڑے کے ایک ڈیرے میں جمع کیا، ان کے سوا کسی دوسرے صحابی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں بلایا۔ جب سب انصاری لوگ جمع ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ آپ لوگوں کے بارے میں جو بات مجھے معلوم ہوئی وہ کہاں تک صحیح ہے؟ انصار کے سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں جو عقل والے ہیں، وہ تو کوئی ایسی بات زبان پر نہیں لائے ہیں، ہاں چند نوعمر لڑکے ہیں، انہوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کو تو دے رہے ہیں اور ہم کو نہیں دیتے حالانکہ ہماری تلواروں سے ابھی تک ان کے خون ٹپک رہے ہیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں بعض ایسے لوگوں کو دیتا ہوں جن کا کفر کا زمانہ ابھی گزرا ہے۔ ( اور ان کو دے کر ان کا دل ملاتا ہوں ) کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ جب دوسرے لوگ مال و دولت لے کر واپس جا رہے ہوں گے، تو تم لوگ اپنے گھروں کو رسول اللہ کو لے کر واپس جا رہے ہو گے۔ اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ جو کچھ واپس جا رہا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو دوسرے لوگ اپنے ساتھ واپس لے جائیں گے۔ سب انصاریوں نے کہا: بیشک یا رسول اللہ! ہم اس پر راضی اور خوش ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”میرے بعد تم یہ دیکھو گے کہ تم پر دوسرے لوگوں کو مقدم کیا جائے گا، اس وقت تم صبر کرنا، ( دنگا فساد نہ کرنا ) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملو اور اس کے رسول سے حوض کوثر پر۔“ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، پھر ہم سے صبر نہ ہو سکا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا الزهري، قال اخبرني انس بن مالك، ان ناسا، من الانصار قالوا لرسول الله صلى الله عليه وسلم حين افاء الله على رسوله صلى الله عليه وسلم من اموال هوازن ما افاء، فطفق يعطي رجالا من قريش الماية من الابل فقالوا يغفر الله لرسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي قريشا ويدعنا، وسيوفنا تقطر من دمايهم قال انس فحدث رسول الله بمقالتهم، فارسل الى الانصار، فجمعهم في قبة من ادم، ولم يدع معهم احدا غيرهم، فلما اجتمعوا جاءهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ما كان حديث بلغني عنكم ". قال له فقهاوهم اما ذوو اراينا يا رسول الله فلم يقولوا شييا، واما اناس منا حديثة اسنانهم فقالوا يغفر الله لرسول الله صلى الله عليه وسلم يعطي قريشا ويترك الانصار، وسيوفنا تقطر من دمايهم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني اعطي رجالا حديث عهدهم بكفر، اما ترضون ان يذهب الناس بالاموال وترجعون الى رحالكم برسول الله صلى الله عليه وسلم، فوالله ما تنقلبون به خير مما ينقلبون به ". قالوا بلى يا رسول الله قد رضينا. فقال لهم " انكم سترون بعدي اثرة شديدة، فاصبروا حتى تلقوا الله ورسوله صلى الله عليه وسلم على الحوض ". قال انس فلم نصبر
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عمر بن محمد بن جبیر بن مطعم نے خبر دی کہ میرے باپ محمد بن جبیر نے کہا اور انہیں جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ آپ کے ساتھ اور بھی صحابہ تھے۔ حنین کے جہاد سے واپسی ہو رہی تھی۔ راستے میں کچھ بدو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گئے ( لوٹ کا مال ) آپ سے مانگتے تھے۔ وہ آپ سے ایسا لپٹے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ببول کے درخت کی طرف دھکیل لے گئے۔ آپ کی چادر اس میں اٹک کر رہ گئی۔ اس وقت آپ ٹھہر گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( بھائیو ) میری چادر تو دے دو۔ اگر میرے پاس ان کانٹے دار درختوں کی تعداد میں اونٹ ہوتے تو وہ بھی تم میں تقسیم کر دیتا۔ تم مجھے بخیل، جھوٹا اور بزدل ہرگز نہیں پاؤ گے۔“
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله الاويسي، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني عمر بن محمد بن جبير بن مطعم، ان محمد بن جبير، قال اخبرني جبير بن مطعم، انه بينا هو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه الناس مقبلا من حنين علقت رسول الله صلى الله عليه وسلم الاعراب يسالونه حتى اضطروه الى سمرة، فخطفت رداءه، فوقف رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " اعطوني ردايي، فلو كان عدد هذه العضاه نعما لقسمته بينكم، ثم لا تجدوني بخيلا ولا كذوبا ولا جبانا
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نجران کی بنی ہوئی چوڑے حاشیہ کی ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک دیہاتی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیا اور زور سے آپ کو کھینچا، میں نے آپ کے شانے کو دیکھا، اس پر چادر کے کونے کا نشان پڑ گیا، ایسا کھینچا۔ پھر کہنے لگا۔ اللہ کا مال جو آپ کے پاس ہے اس میں سے کچھ مجھ کو دلائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف دیکھا اور ہنس دئیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دینے کا حکم فرمایا ( آخری جملہ میں سے ترجمۃ الباب نکلتا ہے ) ۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا مالك، عن اسحاق بن عبد الله، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال كنت امشي مع النبي صلى الله عليه وسلم وعليه برد نجراني غليظ الحاشية، فادركه اعرابي فجذبه جذبة شديدة، حتى نظرت الى صفحة عاتق النبي صلى الله عليه وسلم قد اثرت به حاشية الرداء من شدة جذبته، ثم قال مر لي من مال الله الذي عندك. فالتفت اليه، فضحك ثم امر له بعطاء
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حنین کی لڑائی کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( غنیمت کی ) تقسیم میں بعض لوگوں کو زیادہ دیا۔ جیسے اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دئیے، اتنے ہی اونٹ عیینہ بن حصین رضی اللہ عنہ کو دئیے اور کئی عرب کے اشراف لوگوں کو اسی طرح تقسیم میں زیادہ دیا۔ اس پر ایک شخص ( معتب بن قشیر منافق ) نے کہا، کہ اللہ کی قسم! اس تقسیم میں نہ تو عدل کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور نہ اللہ کی خوشنودی کا خیال ہوا۔ میں نے کہا کہ واللہ! اس کی خبر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور دوں گا۔ چنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ کو اس کی خبر دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سن کر فرمایا ”اگر اللہ اور اس کا رسول بھی عدل نہ کرے تو پھر کون عدل کرے گا۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ ان کو لوگوں کے ہاتھ اس سے بھی زیادہ تکلیف پہنچی لیکن انہوں نے صبر کیا۔“
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه قال لما كان يوم حنين اثر النبي صلى الله عليه وسلم اناسا في القسمة، فاعطى الاقرع بن حابس ماية من الابل، واعطى عيينة مثل ذلك، واعطى اناسا من اشراف العرب، فاثرهم يوميذ في القسمة. قال رجل والله ان هذه القسمة ما عدل فيها، وما اريد بها وجه الله. فقلت والله لاخبرن النبي صلى الله عليه وسلم. فاتيته فاخبرته فقال " فمن يعدل اذا لم يعدل الله ورسوله رحم الله موسى قد اوذي باكثر من هذا فصبر