Loading...

Loading...
کتب
۶۵ احادیث
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن سوقہ نے ‘ ان سے منذر بن یعلیٰ نے اور ان سے محمد بن حنفیہ نے ‘ انہوں نے کہا کہ اگر علی رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ کو برا کہنے والے ہوتے تو اس دن ہوتے جب کچھ لوگ عثمان رضی اللہ عنہ کے عاملوں کی ( جو زکوٰۃ وصول کرتے تھے ) شکایت کرنے ان کے پاس آئے۔ انہوں نے مجھ سے کہا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا اور یہ زکوٰۃ کا پروانہ لے جا۔ ان سے کہنا کہ یہ پروانہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لکھوایا ہوا ہے۔ تم اپنے عاملوں کو حکم دو کہ وہ اسی کے مطابق عمل کریں۔ چنانچہ میں اسے لے کر عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں پیغام پہنچا دیا ‘ لیکن انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ( کیونکہ ہمارے پاس اس کی نقل موجود ہے ) میں نے جا کر علی رضی اللہ عنہ سے یہ واقعہ بیان کیا ‘ تو انہوں نے فرمایا کہ اچھا ‘ پھر اس پروانے کو جہاں سے اٹھایا ہے وہیں رکھ دو۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن محمد بن سوقة، عن منذر، عن ابن الحنفية، قال لو كان علي رضى الله عنه ذاكرا عثمان رضى الله عنه ذكره يوم جاءه ناس فشكوا سعاة عثمان، فقال لي علي اذهب الى عثمان فاخبره انها صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فمر سعاتك يعملون فيها. فاتيته بها فقال اغنها عنا. فاتيت بها عليا فاخبرته فقال ضعها حيث اخذتها
حمیدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے محمد بن سوقہ نے کہا کہ میں نے منذر ثوری سے سنا ‘ وہ محمد بن حنفیہ سے بیان کرتے تھے کہ میرے والد ( علی رضی اللہ عنہ ) نے مجھ کو کہا کہ یہ پروانہ عثمان رضی اللہ عنہ کو لے جا کر دے آؤ ‘ اس میں زکوٰۃ سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ احکامات درج ہیں۔
قال الحميدي حدثنا سفيان، حدثنا محمد بن سوقة، قال سمعت منذرا الثوري، عن ابن الحنفية، قال ارسلني ابي، خذ هذا الكتاب فاذهب به الى عثمان، فان فيه امر النبي صلى الله عليه وسلم في الصدقة
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے حکم نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے ابن ابی لیلیٰ سے سنا ‘ کہا مجھ سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی پیسنے کی بہت تکلیف ہوتی۔ پھر انہیں معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے ہیں۔ اس لیے وہ بھی ان میں سے ایک لونڈی یا غلام کی درخواست لے کر حاضر ہوئیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم موجود نہیں تھے۔ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس کے متعلق کہہ کر ( واپس ) چلی آئیں۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ان کی درخواست پیش کر دی۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اسے سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے یہاں ( رات ہی کو ) تشریف لائے۔ جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ چکے تھے ( جب ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ( تو ہم لوگ کھڑے ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس طرح ہو ویسے ہی لیٹے رہو۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیچ میں بیٹھ گئے اور اتنے قریب ہو گئے کہ ) میں نے آپ کے دونوں قدموں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر پائی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کچھ تم لوگوں نے ( لونڈی یا غلام ) مانگے ہیں ‘ میں تمہیں اس سے بہتر بات کیوں نہ بتاؤں ‘ جب تم دونوں اپنے بستر پر لیٹ جاؤ ( تو سونے سے پہلے ) اللہ اکبر 34 مرتبہ اور الحمداللہ 33 مرتبہ اور سبحان اللہ 33 مرتبہ پڑھ لیا کرو ‘ یہ عمل بہتر ہے اس سے جو تم دونوں نے مانگا ہے۔
حدثنا بدل بن المحبر، اخبرنا شعبة، قال اخبرني الحكم، قال سمعت ابن ابي ليلى، حدثنا علي، ان فاطمة عليها السلام اشتكت ما تلقى من الرحى مما تطحن، فبلغها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بسبى، فاتته تساله خادما فلم توافقه، فذكرت لعايشة، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك عايشة له، فاتانا وقد دخلنا مضاجعنا، فذهبنا لنقوم فقال " على مكانكما " حتى وجدت برد قدميه على صدري فقال " الا ادلكما على خير مما سالتماه، اذا اخذتما مضاجعكما فكبرا الله اربعا وثلاثين، واحمدا ثلاثا وثلاثين، وسبحا ثلاثا وثلاثين، فان ذلك خير لكما مما سالتماه
ہم سے ابوولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان ‘ منصور اور قتادہ نے ‘ انہوں نے سالم بن ابی الجعد سے سنا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہم انصاریوں کے قبیلہ میں ایک انصاری کے گھر بچہ پیدا ہو تو انہوں نے بچے کا نام محمد رکھنے کا ارادہ کیا اور شعبہ نے منصور سے روایت کر کے بیان کیا ہے کہ ان انصاری نے بیان کیا ( جن کے یہاں بچہ پیدا ہوا تھا ) کہ میں بچے کو اپنی گردن پر اٹھا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ ان کے یہاں بچہ پیدا ہوا ‘ تو انہوں نے اس کا نام محمد رکھنا چاہا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو ‘ لیکن میری کنیت ( ابوالقاسم ) پر کنیت نہ رکھنا ‘ کیونکہ مجھے تقسیم کرنے والا ( قاسم ) بنایا گیا ہے۔ میں تم میں تقسیم کرتا ہوں ‘ اور حصین نے ( اپنی روایت میں ) یوں بیان کیا ‘ کہ مجھے تقسیم کرنے والا ( قاسم ) بنا کر بھیجا گیا ہے ‘ میں تم میں تقسیم کرتا ہوں۔ عمرو بن مرزوق نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے سالم سے سنا انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہ ان انصاری صحابی نے اپنے بچے کا نام قاسم رکھنا چاہا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن کنیت نہ رکھو۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن سليمان، ومنصور، وقتادة، سمعوا سالم بن ابي الجعد، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال ولد لرجل منا من الانصار غلام، فاراد ان يسميه محمدا قال شعبة في حديث منصور ان الانصاري قال حملته على عنقي فاتيت به النبي صلى الله عليه وسلم. وفي حديث سليمان ولد له غلام، فاراد ان يسميه محمدا قال " سموا باسمي، ولا تكنوا بكنيتي، فاني انما جعلت قاسما اقسم بينكم ". وقال حصين " بعثت قاسما اقسم بينكم ". قال عمرو اخبرنا شعبة عن قتادة قال سمعت سالما عن جابر اراد ان يسميه القاسم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " سموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے ابوسالم نے ‘ ان سے ابوالجعد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہمارے قبیلہ میں ایک شخص کے یہاں بچہ پیدا ہوا ‘ تو انہوں نے اس کا نام قاسم رکھا ‘ انصار کہنے لگے کہ ہم تمہیں ابوالقاسم کہہ کر کبھی نہیں پکاریں گے اور ہم تمہاری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے یہ سن کر وہ انصاری آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی یا رسول اللہ! میرے گھر ایک بچہ پیدا ہوا ہے۔ میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے تو انصار کہتے ہیں ہم تیری کنیت ابوالقاسم نہیں پکاریں گے اور تیری آنکھ ٹھنڈی نہیں کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انصار نے ٹھیک کہا ہے میرے نام پر نام رکھو ‘ لیکن میری کنیت مت رکھو ‘ کیونکہ قاسم میں ہوں۔“
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن سالم بن ابي الجعد، عن جابر بن عبد الله الانصاري، قال ولد لرجل منا غلام فسماه القاسم فقالت الانصار لا نكنيك ابا القاسم ولا ننعمك عينا، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ولد لي غلام، فسميته القاسم فقالت الانصار لا نكنيك ابا القاسم ولا ننعمك عينا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " احسنت الانصار، سموا باسمي، ولا تكنوا بكنيتي، فانما انا قاسم
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے ‘ انہیں یونس نے، انہیں زہری نے ‘ انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے ‘ انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دے دیتا ہے۔ اور دینے والا تو اللہ ہی ہے میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور اپنے دشمنوں کے مقابلے میں یہ امت ( مسلمہ ) ہمیشہ غالب رہے گی۔ تاآنکہ اللہ کا حکم ( قیامت ) آ جائے اور اس وقت بھی وہ غالب ہی ہوں گے۔“
حدثنا حبان، اخبرنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، عن حميد بن عبد الرحمن، انه سمع معاوية، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين، والله المعطي وانا القاسم، ولا تزال هذه الامة ظاهرين على من خالفهم حتى ياتي امر الله وهم ظاهرون
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے فلیح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے بلال نے بیان کیا ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نہ میں تمہیں کوئی چیز دیتا ہوں ‘ نہ تم سے کسی چیز کو روکتا ہوں۔ میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں۔ جہاں جہاں کا مجھے حکم ہوتا ہے بس وہیں رکھ دیتا ہوں۔“
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا فليح، حدثنا هلال، عن عبد الرحمن بن ابي عمرة، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ما اعطيكم ولا امنعكم، انا قاسم اضع حيث امرت
ہم سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوالاسود نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی عیاش نے بیان کیا اور ان کا نام نعمان تھا ‘ ان سے خولہ بنت قیس انصاریہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے مال کو بے جا اڑاتے ہیں ‘ انہیں قیامت کے دن آگ ملے گی۔
حدثنا عبد الله بن يزيد، حدثنا سعيد بن ابي ايوب، قال حدثني ابو الاسود، عن ابن ابي عياش واسمه نعمان عن خولة الانصارية رضى الله عنها قالت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان رجالا يتخوضون في مال الله بغير حق، فلهم النار يوم القيامة
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حصین نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے اور ان سے عروہ بارقی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گھوڑوں کی پیشانیوں سے قیامت تک خیر و برکت ( آخرت میں ) اور غنیمت ( دنیا میں ) بندھی ہوئی ہے۔“
حدثنا مسدد، حدثنا خالد، حدثنا حصين، عن عامر، عن عروة البارقي رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الخيل معقود في نواصيها الخير الاجر والمغنم الى يوم القيامة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ‘ ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہ ہو گا۔ اور جب قیصر مر جائے گا تو اس کی بعد کوئی قیصر پیدا نہ ہو گا اور اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ‘ تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا هلك كسرى فلا كسرى بعده، واذا هلك قيصر فلا قيصر بعده، والذي نفسي بيده، لتنفقن كنوزهما في سبيل الله
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے جریر سے سنا ‘ انہوں نے عبدالملک سے اور ان سے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب کسریٰ مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ پیدا نہ ہو گا اور جب قیصر مر جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر پیدا نہ ہو گا اور اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے۔“
حدثنا اسحاق، سمع جريرا، عن عبد الملك، عن جابر بن سمرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا هلك كسرى فلا كسرى بعده، واذا هلك قيصر فلا قيصر بعده، والذي نفسي بيده، لتنفقن كنوزهما في سبيل الله
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سیار بن ابی سیار نے خبر دی ‘ کہا ہم سے یزید فقیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ”میرے لیے ( مراد امت ہے ) غنیمت کے مال حلال کئے گئے ہیں۔“
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا هشيم، اخبرنا سيار، حدثنا يزيد الفقير، حدثنا جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " احلت لي الغنايم
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالزناد نے ‘ ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے ‘ جہاد ہی کی نیت سے نکلے ‘ اللہ کے کلام ( اس کے وعدے ) کو سچ جان کر ‘ تو اللہ اس کا ضامن ہے۔ یا تو اللہ تعالیٰ اس کو شہید کر کے جنت میں لے جائے گا ‘ یا اس کو ثواب اور غنیمت کا مال دلا کر اس کے گھر لوٹا لائے گا۔“
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تكفل الله لمن جاهد في سبيله، لا يخرجه الا الجهاد في سبيله وتصديق كلماته، بان يدخله الجنة، او يرجعه الى مسكنه الذي خرج منه {مع ما نال} من اجر او غنيمة
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے معمر نے ‘ ان سے ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنی اسرائیل کے پیغمبروں میں سے ایک نبی ( یوشع علیہ السلام ) نے غزوہ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنی قوم سے کہا کہ میرے ساتھ کوئی ایسا شخص جس نے ابھی نئی شادی کی ہو اور بیوی کے ساتھ رات بھی نہ گزاری ہو اور وہ رات گزارنا چاہتا ہو اور وہ شخص جس نے گھر بنایا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ رکھی ہو اور وہ شخص جس نے حاملہ بکری یا حاملہ اونٹنیاں خریدی ہوں اور اسے ان کے بچے جننے کا انتظار ہو تو ( ایسے لوگوں میں سے کوئی بھی ) ہمارے ساتھ جہاد میں نہ چلے۔ پھر انہوں نے جہاد کیا ‘ اور جب اس آبادی ( اریحا ) سے قریب ہوئے تو عصر کا وقت ہو گیا یا اس کے قریب وقت ہوا۔ انہوں نے سورج سے فرمایا کہ تو بھی اللہ کا تابع فرمان ہے اور میں بھی اس کا تابع فرمان ہوں۔ اے اللہ! ہمارے لیے اسے اپنی جگہ پر روک دے۔ چنانچہ سورج رک گیا ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عنایت فرمائی۔ پھر انہوں نے اموال غنیمت کو جمع کیا اور آگ اسے جلانے کے لیے آئی لیکن جلا نہ سکی ‘ اس نبی نے فرمایا کہ تم میں سے کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہے۔ اس لیے ہر قبیلہ کا ایک آدمی آ کر میرے ہاتھ پر بیعت کرے ( جب بیعت کرنے لگے تو ) ایک قبیلہ کے شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا۔ انہوں نے فرمایا ‘ کہ چوری تمہارے قبیلہ ہی والوں نے کی ہے۔ اب تمہارے قبیلے کے سب لوگ آئیں اور بیعت کریں۔ چنانچہ اس قبیلے کے دو تین آدمیوں کا ہاتھ اس طرح ان کے ہاتھ سے چمٹ گیا ‘ تو آپ نے فرمایا کہ چوری تمہیں لوگوں نے کی ہے۔ ( آخر چوری مان لی گئی ) اور وہ لوگ گائے کے سر کی طرح سونے کا ایک سر لائے ( جو غنیمت میں سے چرا لیا گیا تھا ) اور اسے مال غنیمت میں رکھ دیا ‘ تب آگ آئی اور اسے جلا گئی ‘ پھر غنیمت اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے جائز قرار دے دی ‘ ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا۔ اس لیے ہمارے واسطے حلال قرار دے دی۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابن المبارك، عن معمر، عن همام بن منبه، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " غزا نبي من الانبياء فقال لقومه لا يتبعني رجل ملك بضع امراة وهو يريد ان يبني بها ولما يبن بها، ولا احد بنى بيوتا ولم يرفع سقوفها، ولا احد اشترى غنما او خلفات وهو ينتظر ولادها. فغزا فدنا من القرية صلاة العصر او قريبا من ذلك فقال للشمس انك مامورة وانا مامور، اللهم احبسها علينا. فحبست، حتى فتح الله عليه، فجمع الغنايم، فجاءت يعني النار لتاكلها، فلم تطعمها، فقال ان فيكم غلولا، فليبايعني من كل قبيلة رجل. فلزقت يد رجل بيده فقال فيكم الغلول. فلتبايعني قبيلتك، فلزقت يد رجلين او ثلاثة بيده فقال فيكم الغلول، فجاءوا براس مثل راس بقرة من الذهب فوضعوها، فجاءت النار فاكلتها، ثم احل الله لنا الغنايم، راى ضعفنا وعجزنا فاحلها لنا
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے خبر دی ‘ انہیں امام مالک نے ‘ انہیں زید بن اسلم نے ‘ انہیں ان کے والد نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”اگر مسلمانوں کی آنے والی نسلوں کا خیال نہ ہوتا تو جو شہر بھی فتح ہوتا میں اسے فاتحوں میں اسی طرح تقسیم کر دیا کرتا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی تقسیم کی تھی۔“
حدثنا صدقة، اخبرنا عبد الرحمن، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابيه، قال قال عمر رضى الله عنه لولا اخر المسلمين ما فتحت قرية الا قسمتها بين اهلها كما قسم النبي صلى الله عليه وسلم خيبر
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابووائل سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک اعرابی ( لاحق بن ضمیرہ باہلی ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ایک شخص ہے جو غنیمت حاصل کرنے کے لیے جہاد میں شریک ہوا ‘ ایک شخص ہے جو اس لیے شرکت کرتا ہے کہ اس کی بہادری کے چرچے زبانوں پر آ جائیں ‘ ایک شخص اس لیے لڑتا ہے کہ اس کی دھاک بیٹھ جائے ‘ تو ان میں سے اللہ کے راستے میں کون سا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص جنگ میں شرکت اس لیے کرے تاکہ اللہ کا کلمہ ( دین ) ہی بلند رہے۔ فقط وہی اللہ کے راستے میں ہے۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عمرو، قال سمعت ابا وايل، قال حدثنا ابو موسى الاشعري رضى الله عنه قال قال اعرابي للنبي صلى الله عليه وسلم الرجل يقاتل للمغنم، والرجل يقاتل ليذكر، ويقاتل ليرى مكانه، من في سبيل الله فقال " من قاتل لتكون كلمة الله هي العليا فهو في سبيل الله
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیبا کی کچھ قبائیں تحفہ کے طور پر آئی تھیں۔ جن میں سونے کی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں ‘ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چند اصحاب میں تقسیم فرما دیا اور ایک قباء مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے لیے رکھ لی۔ پھر مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ساتھ ان کے صاحبزادے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میرا نام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی تو قباء لے کر باہر تشریف لائے اور اس کی گھنڈیاں ان کے سامنے کر دیں۔ پھر فرمایا: ابومسور! یہ قباء میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھ لی تھی۔ مخرمہ رضی اللہ عنہ ذرا تیز طبیعت کے آدمی تھے۔ ابن علیہ نے ایوب کے واسطے سے یہ حدیث ( مرسلاً ہی ) روایت کی ہے۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے ان سے مسور رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں کچھ قبائیں آئیں تھیں ‘ اس روایت کی متابعت لیث نے ابن ابی ملیکہ سے کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن عبد الله بن ابي مليكة، ان النبي صلى الله عليه وسلم اهديت له اقبية من ديباج مزررة بالذهب، فقسمها في ناس من اصحابه، وعزل منها واحدا لمخرمة بن نوفل، فجاء ومعه ابنه المسور بن مخرمة، فقام على الباب فقال ادعه لي. فسمع النبي صلى الله عليه وسلم صوته فاخذ قباء فتلقاه به واستقبله بازراره فقال " يا ابا المسور، خبات هذا لك، يا ابا المسور، خبات هذا لك ". وكان في خلقه شدة. ورواه ابن علية عن ايوب. قال حاتم بن وردان حدثنا ايوب عن ابن ابي مليكة عن المسور قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم اقبية. تابعه الليث عن ابن ابي مليكة
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ سلیمان نے ‘ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ صحابہ ( انصار ) کچھ کھجور کے درخت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بطور تحفہ دے دیا کرتے تھے لیکن جب اللہ تعالیٰ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کے قبائل پر فتح دی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد اس طرح کے ہدایا واپس فرما دیا کرتے تھے۔
حدثنا عبد الله بن ابي الاسود، حدثنا معتمر، عن ابيه، قال سمعت انس بن مالك رضى الله عنه يقول كان الرجل يجعل للنبي صلى الله عليه وسلم النخلات حتى افتتح قريظة والنضير، فكان بعد ذلك يرد عليهم
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا ‘ کیا آپ لوگوں سے ہشام بن عروہ نے یہ حدیث اپنے والد سے بیان کی ہے کہ ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جمل کی جنگ کے موقع پر جب زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو مجھے بلایا میں ان کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا ‘ انہوں نے کہا بیٹے! آج کی لڑائی میں ظالم مارا جائے گا یا مظلوم میں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضوں کی ہے۔ کیا تمہیں بھی کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ سکے گا؟ پھر انہوں نے کہا بیٹے! ہمارا مال فروخت کر کے اس سے قرض ادا کر دینا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی میرے لیے اور اس تہائی کے تیسرے حصہ کی وصیت میرے بچوں کے لیے کی ‘ یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بچوں کے لیے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ اس تہائی کے تین حصے کر لینا اور اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے اموال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کا ایک تہائی تمہارے بچوں کے لیے ہو گا۔ ہشام راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بعض لڑکے زبیر رضی اللہ عنہ کے لڑکوں کے ہم عمر تھے۔ جیسے خبیب اور عباد۔ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے اس وقت نو لڑکے اور نو لڑکیاں تھیں۔ عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ پھر زبیر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے قرض کے سلسلے میں وصیت کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ بیٹا! اگر قرض ادا کرنے سے عاجز ہو جاؤ تو میرے مالک و مولا سے اس میں مدد چاہنا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی! میں ان کی بات نہ سمجھ سکا ‘ میں نے پوچھا کہ بابا آپ کے مولا کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ پاک! عبداللہ نے بیان کیا ‘ قسم اللہ کی! قرض ادا کرنے میں جو بھی دشواری سامنے آئی تو میں نے اسی طرح دعا کی ‘ کہ اے زبیر کے مولا! ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرا دے اور ادائیگی کی صورت پیدا ہو جاتی تھی۔ چنانچہ جب زبیر رضی اللہ عنہ ( اسی موقع پر ) شہید ہو گئے تو انہوں نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ ان کا ترکہ کچھ تو اراضی کی صورت میں تھا اور اسی میں غابہ کی زمین بھی شامل تھی۔ گیارہ مکانات مدینہ میں تھے ‘ دو مکان بصرہ میں تھے ‘ ایک مکان کوفہ میں تھا اور ایک مصر میں تھا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ان پر جو اتنا سارا قرض ہو گیا تھا اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال لے کر امانت رکھنے آتا تو آپ اسے کہتے کہ نہیں البتہ اس صورت میں رکھ سکتا ہوں کہ یہ میرے ذمے بطور قرض رہے۔ کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہو جانے کا بھی خوف ہے۔ زبیر رضی اللہ عنہ کسی علاقے کے امیر کبھی نہیں بنے تھے۔ نہ وہ خراج وصول کرنے پر کبھی مقرر ہوئے اور نہ کوئی دوسرا عہدہ انہوں نے قبول کیا ‘ البتہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سات
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، قال قلت لابي اسامة احدثكم هشام بن عروة عن ابيه عن عبد الله بن الزبير قال لما وقف الزبير يوم الجمل دعاني، فقمت الى جنبه فقال يا بنى، انه لا يقتل اليوم الا ظالم او مظلوم، واني لا اراني الا ساقتل اليوم مظلوما، وان من اكبر همي لديني، افترى يبقي ديننا من مالنا شييا فقال يا بنى بع مالنا فاقض ديني. واوصى بالثلث، وثلثه لبنيه، يعني عبد الله بن الزبير يقول ثلث الثلث، فان فضل من مالنا فضل بعد قضاء الدين شىء فثلثه لولدك. قال هشام وكان بعض ولد عبد الله قد وازى بعض بني الزبير خبيب وعباد، وله يوميذ تسعة بنين وتسع بنات. قال عبد الله فجعل يوصيني بدينه ويقول يا بنى، ان عجزت عنه في شىء فاستعن عليه مولاى. قال فوالله ما دريت ما اراد حتى قلت يا ابت من مولاك قال الله. قال فوالله ما وقعت في كربة من دينه الا قلت يا مولى الزبير، اقض عنه دينه. فيقضيه، فقتل الزبير رضى الله عنه ولم يدع دينارا ولا درهما، الا ارضين منها الغابة، واحدى عشرة دارا بالمدينة، ودارين بالبصرة، ودارا بالكوفة، ودارا بمصر. قال وانما كان دينه الذي عليه ان الرجل كان ياتيه بالمال فيستودعه اياه فيقول الزبير لا ولكنه سلف، فاني اخشى عليه الضيعة، وما ولي امارة قط ولا جباية خراج ولا شييا، الا ان يكون في غزوة مع النبي صلى الله عليه وسلم او مع ابي بكر وعمر وعثمان رضى الله عنهم قال عبد الله بن الزبير فحسبت ما عليه من الدين فوجدته الفى الف ومايتى الف قال فلقي حكيم بن حزام عبد الله بن الزبير فقال يا ابن اخي، كم على اخي من الدين فكتمه. فقال ماية الف. فقال حكيم والله ما ارى اموالكم تسع لهذه. فقال له عبد الله افرايتك ان كانت الفى الف ومايتى الف قال ما اراكم تطيقون هذا، فان عجزتم عن شىء منه فاستعينوا بي. قال وكان الزبير اشترى الغابة بسبعين وماية الف، فباعها عبد الله بالف الف وستماية الف ثم قام فقال من كان له على الزبير حق فليوافنا بالغابة، فاتاه عبد الله بن جعفر، وكان له على الزبير اربعماية الف فقال لعبد الله ان شيتم تركتها لكم. قال عبد الله لا. قال فان شيتم جعلتموها فيما توخرون ان اخرتم. فقال عبد الله لا. قال قال فاقطعوا لي قطعة. فقال عبد الله لك من ها هنا الى ها هنا. قال فباع منها فقضى دينه فاوفاه، وبقي منها اربعة اسهم ونصف، فقدم على معاوية وعنده عمرو بن عثمان والمنذر بن الزبير وابن زمعة فقال له معاوية كم قومت الغابة قال كل سهم ماية الف. قال كم بقي قال اربعة اسهم ونصف. قال المنذر بن الزبير قد اخذت سهما بماية الف. قال عمرو بن عثمان قد اخذت سهما بماية الف. وقال ابن زمعة قد اخذت سهما بماية الف. فقال معاوية كم بقي فقال سهم ونصف. قال اخذته بخمسين وماية الف. قال وباع عبد الله بن جعفر نصيبه من معاوية بستماية الف، فلما فرغ ابن الزبير من قضاء دينه قال بنو الزبير اقسم بيننا ميراثنا. قال لا، والله لا اقسم بينكم حتى انادي بالموسم اربع سنين الا من كان له على الزبير دين فلياتنا فلنقضه. قال فجعل كل سنة ينادي بالموسم، فلما مضى اربع سنين قسم بينهم قال فكان للزبير اربع نسوة، ورفع الثلث، فاصاب كل امراة الف الف ومايتا الف، فجميع ماله خمسون الف الف ومايتا الف
ہم سے موسیٰ بن اسمعٰیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن موہب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عثمان رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک نہ ہو سکے تھے۔ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی تھیں اور وہ بیمار تھیں۔ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا بدر میں شریک ہونے والے کسی شخص کو ‘ اور اتنا ہی حصہ بھی ملے گا۔
حدثنا موسى، حدثنا ابو عوانة، حدثنا عثمان بن موهب، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال انما تغيب عثمان عن بدر، فانه كانت تحته بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت مريضة. فقال له النبي صلى الله عليه وسلم " ان لك اجر رجل ممن شهد بدرا وسهمه