احادیث
#3129
صحیح بخاری - One-fifth of Booty to the Cause of Allah
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا ‘ کیا آپ لوگوں سے ہشام بن عروہ نے یہ حدیث اپنے والد سے بیان کی ہے کہ ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جمل کی جنگ کے موقع پر جب زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو مجھے بلایا میں ان کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا ‘ انہوں نے کہا بیٹے! آج کی لڑائی میں ظالم مارا جائے گا یا مظلوم میں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضوں کی ہے۔ کیا تمہیں بھی کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ سکے گا؟ پھر انہوں نے کہا بیٹے! ہمارا مال فروخت کر کے اس سے قرض ادا کر دینا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی میرے لیے اور اس تہائی کے تیسرے حصہ کی وصیت میرے بچوں کے لیے کی ‘ یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بچوں کے لیے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ اس تہائی کے تین حصے کر لینا اور اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے اموال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کا ایک تہائی تمہارے بچوں کے لیے ہو گا۔ ہشام راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بعض لڑکے زبیر رضی اللہ عنہ کے لڑکوں کے ہم عمر تھے۔ جیسے خبیب اور عباد۔ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے اس وقت نو لڑکے اور نو لڑکیاں تھیں۔ عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ پھر زبیر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے قرض کے سلسلے میں وصیت کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ بیٹا! اگر قرض ادا کرنے سے عاجز ہو جاؤ تو میرے مالک و مولا سے اس میں مدد چاہنا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی! میں ان کی بات نہ سمجھ سکا ‘ میں نے پوچھا کہ بابا آپ کے مولا کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ پاک! عبداللہ نے بیان کیا ‘ قسم اللہ کی! قرض ادا کرنے میں جو بھی دشواری سامنے آئی تو میں نے اسی طرح دعا کی ‘ کہ اے زبیر کے مولا! ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرا دے اور ادائیگی کی صورت پیدا ہو جاتی تھی۔ چنانچہ جب زبیر رضی اللہ عنہ ( اسی موقع پر ) شہید ہو گئے تو انہوں نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ ان کا ترکہ کچھ تو اراضی کی صورت میں تھا اور اسی میں غابہ کی زمین بھی شامل تھی۔ گیارہ مکانات مدینہ میں تھے ‘ دو مکان بصرہ میں تھے ‘ ایک مکان کوفہ میں تھا اور ایک مصر میں تھا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ان پر جو اتنا سارا قرض ہو گیا تھا اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال لے کر امانت رکھنے آتا تو آپ اسے کہتے کہ نہیں البتہ اس صورت میں رکھ سکتا ہوں کہ یہ میرے ذمے بطور قرض رہے۔ کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہو جانے کا بھی خوف ہے۔ زبیر رضی اللہ عنہ کسی علاقے کے امیر کبھی نہیں بنے تھے۔ نہ وہ خراج وصول کرنے پر کبھی مقرر ہوئے اور نہ کوئی دوسرا عہدہ انہوں نے قبول کیا ‘ البتہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سات
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، قال قلت لابي اسامة احدثكم هشام بن عروة عن ابيه عن عبد الله بن الزبير قال لما وقف الزبير يوم الجمل دعاني، فقمت الى جنبه فقال يا بنى، انه لا يقتل اليوم الا ظالم او مظلوم، واني لا اراني الا ساقتل اليوم مظلوما، وان من اكبر همي لديني، افترى يبقي ديننا من مالنا شييا فقال يا بنى بع مالنا فاقض ديني. واوصى بالثلث، وثلثه لبنيه، يعني عبد الله بن الزبير يقول ثلث الثلث، فان فضل من مالنا فضل بعد قضاء الدين شىء فثلثه لولدك. قال هشام وكان بعض ولد عبد الله قد وازى بعض بني الزبير خبيب وعباد، وله يوميذ تسعة بنين وتسع بنات. قال عبد الله فجعل يوصيني بدينه ويقول يا بنى، ان عجزت عنه في شىء فاستعن عليه مولاى. قال فوالله ما دريت ما اراد حتى قلت يا ابت من مولاك قال الله. قال فوالله ما وقعت في كربة من دينه الا قلت يا مولى الزبير، اقض عنه دينه. فيقضيه، فقتل الزبير رضى الله عنه ولم يدع دينارا ولا درهما، الا ارضين منها الغابة، واحدى عشرة دارا بالمدينة، ودارين بالبصرة، ودارا بالكوفة، ودارا بمصر. قال وانما كان دينه الذي عليه ان الرجل كان ياتيه بالمال فيستودعه اياه فيقول الزبير لا ولكنه سلف، فاني اخشى عليه الضيعة، وما ولي امارة قط ولا جباية خراج ولا شييا، الا ان يكون في غزوة مع النبي صلى الله عليه وسلم او مع ابي بكر وعمر وعثمان رضى الله عنهم قال عبد الله بن الزبير فحسبت ما عليه من الدين فوجدته الفى الف ومايتى الف قال فلقي حكيم بن حزام عبد الله بن الزبير فقال يا ابن اخي، كم على اخي من الدين فكتمه. فقال ماية الف. فقال حكيم والله ما ارى اموالكم تسع لهذه. فقال له عبد الله افرايتك ان كانت الفى الف ومايتى الف قال ما اراكم تطيقون هذا، فان عجزتم عن شىء منه فاستعينوا بي. قال وكان الزبير اشترى الغابة بسبعين وماية الف، فباعها عبد الله بالف الف وستماية الف ثم قام فقال من كان له على الزبير حق فليوافنا بالغابة، فاتاه عبد الله بن جعفر، وكان له على الزبير اربعماية الف فقال لعبد الله ان شيتم تركتها لكم. قال عبد الله لا. قال فان شيتم جعلتموها فيما توخرون ان اخرتم. فقال عبد الله لا. قال قال فاقطعوا لي قطعة. فقال عبد الله لك من ها هنا الى ها هنا. قال فباع منها فقضى دينه فاوفاه، وبقي منها اربعة اسهم ونصف، فقدم على معاوية وعنده عمرو بن عثمان والمنذر بن الزبير وابن زمعة فقال له معاوية كم قومت الغابة قال كل سهم ماية الف. قال كم بقي قال اربعة اسهم ونصف. قال المنذر بن الزبير قد اخذت سهما بماية الف. قال عمرو بن عثمان قد اخذت سهما بماية الف. وقال ابن زمعة قد اخذت سهما بماية الف. فقال معاوية كم بقي فقال سهم ونصف. قال اخذته بخمسين وماية الف. قال وباع عبد الله بن جعفر نصيبه من معاوية بستماية الف، فلما فرغ ابن الزبير من قضاء دينه قال بنو الزبير اقسم بيننا ميراثنا. قال لا، والله لا اقسم بينكم حتى انادي بالموسم اربع سنين الا من كان له على الزبير دين فلياتنا فلنقضه. قال فجعل كل سنة ينادي بالموسم، فلما مضى اربع سنين قسم بينهم قال فكان للزبير اربع نسوة، ورفع الثلث، فاصاب كل امراة الف الف ومايتا الف، فجميع ماله خمسون الف الف ومايتا الف
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- One-fifth of Booty to the Cause of Allah
- Hadith Index
- #3129
- Book Index
- 38
Grades
- -
