Loading...

Loading...
کتب
۶۵ احادیث
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں یونس نے ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں زین العابدین علی بن حسین نے خبر دی اور انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ جنگ بدر کے مال غنیمت سے میرے حصے میں ایک جوان اونٹنی آئی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک جوان اونٹنی خمس کے مال میں سے دی تھی ‘ جب میرا ارادہ ہوا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کروں ‘ تو بنی قینقاع ( قبیلہ یہود ) کے ایک صاحب سے جو سنار تھے ‘ میں نے یہ طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں اذخر گھاس ( جنگل سے ) لائیں۔ میرا ارادہ یہ تھا کہ میں وہ گھاس سناروں کو بیچ دوں گا اور اس کی قیمت سے اپنے نکاح کا ولیمہ کروں گا۔ ابھی میں ان دونوں اونٹنیوں کا سامان ‘ پالان اور تھیلے اور رسیاں جمع کر رہا تھا۔ اور یہ دونوں اونٹنیاں ایک انصاری صحابی کے گھر کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں کہ جب سارا سامان فراہم کر کے واپس آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میری دونوں اونٹنیوں کے کوہان کسی نے کاٹ دیئے ہیں۔ اور ان کے پیٹ چیر کر اندر سے کلیجی نکال لی گئی ہیں۔ جب میں نے یہ حال دیکھا تو میں بے اختیار رو دیا۔ میں نے پوچھا کہ یہ سب کچھ کس نے کیا ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اور وہ اسی گھر میں کچھ انصار کے ساتھ شراب پی رہے ہیں۔ میں وہاں سے واپس آ گیا اور سیدھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ کی خدمت میں اس وقت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے دیکھتے ہی سمجھ گئے کہ میں کسی بڑے صدمے میں ہوں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”علی! کیا ہوا؟“ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے آج کے دن جیسا صدمہ کبھی نہیں دیکھا۔ حمزہ ( رضی اللہ عنہ ) نے میری دونوں اونٹنیوں پر ظلم کر دیا۔ دونوں کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کے پیٹ چیر ڈالے۔ ابھی وہ اسی گھر میں کئی یاروں کے ساتھ شراب کی مجلس جمائے ہوئے موجود ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر اپنی چادر مانگی اور اسے اوڑھ کر پیدل چلنے لگے۔ میں اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پیچھے پیچھے ہوئے۔ آخر جب وہ گھر آ گیا جس میں حمزہ رضی اللہ عنہ موجود تھے تو آپ نے اندر آنے کی اجازت چاہی اور اندر موجود لوگوں نے آپ کو اجازت دے دی۔ وہ لوگ شراب پی رہے تھے۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ ملامت کرنا شروع کی۔ حمزہ رضی اللہ عنہ کی آنکھیں شراب کے نشے میں مخمور اور سرخ ہو رہی تھیں۔ انہوں نے نظر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ پھر نظر ذرا اور اوپر اٹھائی ‘ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر نظر لے گئے اس کے بعد نگاہ اور اٹھا کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناف کے قریب دیکھنے لگے۔ پھر چہرے پر جما دی۔ پھر کہنے لگے کہ تم سب میرے باپ کے غلام ہو، یہ حال دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب محسوس کیا کہ حمزہ بالکل نشے میں ہیں، تو آپ وہیں سے الٹے پاؤں واپس آ گئے اور ہم بھی آپ کے ساتھ نکل آئے۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، قال اخبرني علي بن الحسين، ان حسين بن علي، عليهما السلام اخبره ان عليا قال كانت لي شارف من نصيبي من المغنم يوم بدر، وكان النبي صلى الله عليه وسلم اعطاني شارفا من الخمس، فلما اردت ان ابتني بفاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم واعدت رجلا صواغا من بني قينقاع، ان يرتحل معي فناتي باذخر اردت ان ابيعه الصواغين، واستعين به في وليمة عرسي، فبينا انا اجمع لشارفى متاعا من الاقتاب والغراير والحبال، وشارفاى مناخان الى جنب حجرة رجل من الانصار، رجعت حين جمعت ما جمعت، فاذا شارفاى قد اجتب اسنمتهما وبقرت خواصرهما، واخذ من اكبادهما، فلم املك عينى حين رايت ذلك المنظر منهما، فقلت من فعل هذا فقالوا فعل حمزة بن عبد المطلب، وهو في هذا البيت في شرب من الانصار. فانطلقت حتى ادخل على النبي صلى الله عليه وسلم وعنده زيد بن حارثة، فعرف النبي صلى الله عليه وسلم في وجهي الذي لقيت، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ما لك " فقلت يا رسول الله، ما رايت كاليوم قط، عدا حمزة على ناقتى، فاجب اسنمتهما وبقر خواصرهما، وها هو ذا في بيت معه شرب. فدعا النبي صلى الله عليه وسلم بردايه فارتدى ثم انطلق يمشي، واتبعته انا وزيد بن حارثة حتى جاء البيت الذي فيه حمزة، فاستاذن فاذنوا لهم فاذا هم شرب، فطفق رسول الله صلى الله عليه وسلم يلوم حمزة فيما فعل، فاذا حمزة قد ثمل محمرة عيناه، فنظر حمزة الى رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم صعد النظر فنظر الى ركبته، ثم صعد النظر فنظر الى سرته، ثم صعد النظر فنظر الى وجهه ثم قال حمزة هل انتم الا عبيد لابي فعرف رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قد ثمل، فنكص رسول الله صلى الله عليه وسلم على عقبيه القهقرى وخرجنا معه
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة ام المومنين رضى الله عنها اخبرته ان فاطمة عليها السلام ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم سالت ابا بكر الصديق بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقسم لها ميراثها، ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم مما افاء الله عليه. فقال لها ابو بكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نورث ما تركنا صدقة ". فغضبت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فهجرت ابا بكر، فلم تزل مهاجرته حتى توفيت وعاشت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ستة اشهر. قالت وكانت فاطمة تسال ابا بكر نصيبها مما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم من خيبر وفدك وصدقته بالمدينة، فابى ابو بكر عليها ذلك، وقال لست تاركا شييا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعمل به الا عملت به، فاني اخشى ان تركت شييا من امره ان ازيغ. فاما صدقته بالمدينة فدفعها عمر الى علي وعباس، فاما خيبر وفدك فامسكها عمر وقال هما صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم كانتا لحقوقه التي تعروه ونوايبه، وامرهما الى من ولي الامر. قال فهما على ذلك الى اليوم. قال ابو عبد الله اعتراك افتعلت من عروته فاصبته ومنه يعروه واعتراني
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة ام المومنين رضى الله عنها اخبرته ان فاطمة عليها السلام ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم سالت ابا بكر الصديق بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يقسم لها ميراثها، ما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم مما افاء الله عليه. فقال لها ابو بكر ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نورث ما تركنا صدقة ". فغضبت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فهجرت ابا بكر، فلم تزل مهاجرته حتى توفيت وعاشت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ستة اشهر. قالت وكانت فاطمة تسال ابا بكر نصيبها مما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم من خيبر وفدك وصدقته بالمدينة، فابى ابو بكر عليها ذلك، وقال لست تاركا شييا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعمل به الا عملت به، فاني اخشى ان تركت شييا من امره ان ازيغ. فاما صدقته بالمدينة فدفعها عمر الى علي وعباس، فاما خيبر وفدك فامسكها عمر وقال هما صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم كانتا لحقوقه التي تعروه ونوايبه، وامرهما الى من ولي الامر. قال فهما على ذلك الى اليوم. قال ابو عبد الله اعتراك افتعلت من عروته فاصبته ومنه يعروه واعتراني
ہم سے اسحاق بن محمد فروی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے مالک بن انس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے مالک بن اوس بن حدثان نے ( زہری نے بیان کیا کہ ) محمد بن جبیر نے مجھ سے ( اسی آنے والی ) حدیث کا ذکر کیا تھا۔ اس لیے میں نے مالک بن اوس کی خدمت میں خود حاضر ہو کر ان سے اس حدیث کے متعلق ( بطور تصدیق ) پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ دن چڑھ آیا تھا اور میں اپنے گھر والوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ‘ اتنے میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایک بلانے والا میرے پاس آیا اور کہا کہ امیرالمؤمنین آپ کو بلا رہے ہیں۔ میں اس قاصد کے ساتھ ہی چلا گیا اور عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ایک تخت پر بوریا بچھائے ‘ بورئیے پر کوئی بچھونا نہ تھا ‘ صرف ایک چمڑے کے تکئے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ میں سلام کر کے بیٹھ گیا۔ پھر انہوں نے فرمایا ‘ مالک! تمہاری قوم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے تھے ‘ میں نے ان کے لیے کچھ حقیر سی امداد کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تم اسے اپنی نگرانی میں ان میں تقسیم کرا دو ‘ میں نے عرض کیا ‘ یا امیرالمؤمنین! اگر آپ اس کام پر کسی اور کو مقرر فرما دیتے تو بہتر ہوتا۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے یہی اصرار کیا کہ نہیں ‘ اپنی ہی تحویل میں بانٹ دو۔ ابھی میں وہیں حاضر تھا کہ امیرالمؤمنین کے دربان یرفا آئے اور کہا کہ عثمان بن عفان ‘ عبدالرحمٰن بن عوف ‘ زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہاں انہیں اندر بلا لو۔ آپ کی اجازت پر یہ حضرات داخل ہوئے اور سلام کر کے بیٹھ گئے۔ یرفا بھی تھوڑی دیر بیٹھے رہے اور پھر اندر آ کر عرض کیا علی اور عباس رضی اللہ عنہما کو بھی اندر آنے کی اجازت ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں انہیں بھی اندر بلا لو۔ آپ کی اجازت پر یہ حضرات بھی اندر تشریف لے آئے۔ اور سلام کر کے بیٹھ گئے۔ عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ یا امیرالمؤمنین! میرا اور ان کا فیصلہ کر دیجئیے۔ ان حضرات کا جھگڑا اس جائیداد کے بارے میں تھا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی نضیر کے اموال میں سے ( خمس کے طور پر ) عنایت فرمائی تھی۔ اس پر عثمان اور ان کے ساتھ جو دیگر صحابہ تھے کہنے لگے ‘ ہاں ‘ امیرالمؤمنین! ان حضرات میں فیصلہ فرما دیجئیے اور ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے بےفکر کر دیجئیے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ اچھا ‘ تو پھر ذرا ٹھہرئیے اور دم لے لیجئے میں آپ لوگوں سے اس اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں جس کے حکم سے آسمان اور زمین قائم ہیں۔ کیا آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ”ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں ہوتا ‘ جو کچھ ہم ( انبیاء ) چھوڑ کر جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔“ جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد خود اپنی ذات گرامی بھی تھی۔ ان حضرات نے تصدیق کی ‘ کہ جی ہاں ‘ بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا۔ اب عمر رضی اللہ عنہ، علی اور عباس رضی اللہ عنہما کی طرف مخاطب ہوئے ‘ ان سے پوچھا۔ میں آپ حضرات کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ‘ کیا آپ حضرات کو بھی معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے یا نہیں؟ انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیشک ایسا فرمایا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اب میں آپ لوگوں سے اس معاملہ کی شرح بیان کرتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس غنیمت کا ایک مخصوص حصہ مقرر کر دیا تھا۔ جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کسی دوسرے کو نہیں دیا تھا۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی «وما أفاء الله على رسوله منهم» سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «قدير» تک اور وہ حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص رہا۔ مگر قسم اللہ کی یہ جائیداد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو چھوڑ کر اپنے لیے جوڑ نہ رکھی ‘ نہ خاص اپنے خرچ میں لائے ‘ بلکہ تم ہی لوگوں کو دیں اور تمہارے ہی کاموں میں خرچ کیں۔ یہ جو جائیداد بچ رہی ہے اس میں سے آپ اپنی بیویوں کا سال بھر کا خرچ لیا کرتے اس کے بعد جو باقی بچتا وہ اللہ کے مال میں شریک کر دیتے ( جہاد کے سامان فراہم کرنے میں ) خیر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی زندگی میں ایسا ہی کرتے رہے۔ حاضرین تم کو اللہ کی قسم! کیا تم یہ نہیں جانتے؟ انہوں نے کہا بیشک جانتے ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے علی اور عباس رضی اللہ عنہما سے کہا میں آپ حضرات سے بھی قسم دے کر پوچھتا ہوں ‘ کیا آپ لوگ یہ نہیں جانتے ہیں؟ ( دونوں حضرات نے جواب دیا ہاں! ) پھر عمر رضی اللہ عنہ نے یوں فرمایا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا سے اٹھا لیا تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیفہ ہوں ‘ اور اس لیے انہوں نے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس مخلص ) جائیداد پر قبضہ کیا اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں مصارف کیا کرتے تھے ‘ وہ کرتے رہے۔ اللہ خوب جانتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے اس طرز عمل میں سچے مخلص ‘ نیکوکار اور حق کی پیروی کرنے والے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے پاس بلا لیا اور اب میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نائب مقرر ہوا۔ میری خلافت کو دو سال ہو گئے ہیں۔ اور میں نے بھی اس جائیداد کو اپنی تحویل میں رکھا ہے۔ جو مصارف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ اس میں کیا کرتے تھے ویسا ہی میں بھی کرتا رہا اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں اپنے اس طرز عمل میں سچا ‘ مخلص اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں۔ پھر آپ دونوں میرے پاس مجھ سے گفتگو کرنے آئے اور بالاتفاق گفتگو کرنے لگے کہ دونوں کا مقصد ایک تھا۔ جناب عباس! آپ تو اس لیے تشریف لائے کہ آپ کو اپنے بھتیجے ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی میراث کا دعویٰ میرے سامنے پیش کرنا تھا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ آپ اس لیے تشریف لائے کہ آپ کو اپنی بیوی ( فاطمہ رضی اللہ عنہا ) کا دعویٰ پیش کرنا تھا کہ ان کے والد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی میراث انہیں ملنی چاہئے ‘ میں نے آپ دونوں حضرات سے عرض کر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود فرما گئے کہ ہم پیغمبروں کا کوئی میراث تقسیم نہیں ہوتی ‘ ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ پھر مجھ کو یہ مناسب معلوم ہوا کہ میں ان جائیدادوں کو تمہارے قبضے میں دے دوں ‘ تو میں نے تم سے کہا ‘ دیکھو اگر تم چاہو تو میں یہ جائیداد تمہارے سپرد کر دیتا ہوں ‘ لیکن اس عہد اور اس اقرار پر کہ تم اس کی آمدنی سے وہ سب کام کرتے رہو گے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنی خلافت میں کرتے رہے اور جو کام میں اپنی حکومت کے شروع سے کرتا رہا۔ تم نے اس شرط کو قبول کر کے درخواست کی کہ جائیدادیں ہم کو دے دو۔ میں نے اسی شرط پر دے دی ‘ حاضرین کہو میں نے یہ جائیدادیں اسی شرط پر ان کے حوالے کی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے کہا ‘ بیشک اسی شرط پر آپ نے دی ہیں۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ اور عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا ‘ میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں ‘ میں نے اسی شرط پر یہ جائیدادیں آپ حضرات کے حوالے کی ہیں یا نہیں؟ انہوں نے کہا بیشک۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ پھر مجھ سے کس بات کا فیصلہ چاہتے ہو؟ ( کیا جائیداد کو تقسیم کرانا چاہتے ہو ) قسم اللہ کی! جس کے حکم سے زمین اور آسمان قائم ہیں میں تو اس کے سوا اور کوئی فیصلہ کرنے والا نہیں۔ ہاں! یہ اور بات ہے کہ اگر تم سے اس کا انتظام نہیں ہو سکتا تو پھر جائیداد میرے سپرد کر دو۔ میں اس کا بھی کام دیکھ لوں گا۔
ہم سے ابونعمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحمزہ ضبعی نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد ( دربار رسالت میں ) حاضر ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ! ہمارا تعلق قبیلہ ربیعہ سے ہے اور قبیلہ مضر کے کفار ہمارے اور آپ کے بیچ میں بستے ہیں۔ ( اس لیے ان کے خطرے کی وجہ سے ہم لوگ ) آپ کی خدمت میں صرف ادب والے مہینوں میں حاضر ہو سکتے ہیں۔ آپ ہمیں کوئی ایسا واضح حکم فرما دیں جس پر ہم خود بھی مضبوطی سے قائم رہیں اور جو لوگ ہمارے ساتھ نہیں آ سکے ہیں انہیں بھی بتا دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہوں ( میں تمہیں حکم دیتا ہوں ) اللہ پر ایمان لانے کا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کو گرہ لگائی ‘ نماز قائم کرنے کا ‘ زکوٰۃ دینے کا ‘ رمضان کے روزے رکھنے کا ‘ اور اس بات کا کہ جو کچھ بھی تمہیں غنیمت کا مال ملے۔ اس میں پانچواں حصہ ( خمس ) اللہ کے لیے نکال دو اور تمہیں میں دبا ‘ نقیر ‘ حنتم اور مزفت کے استعمال سے روکتا ہوں۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد، عن ابي حمزة الضبعي، قال سمعت ابن عباس رضى الله عنهما يقول قدم وفد عبد القيس فقالوا يا رسول الله، انا هذا الحى من ربيعة، بيننا وبينك كفار مضر، فلسنا نصل اليك الا في الشهر الحرام، فمرنا بامر ناخذ منه وندعو اليه من وراءنا. قال " امركم باربع، وانهاكم عن اربع، الايمان بالله شهادة ان لا اله الا الله وعقد بيده واقام الصلاة وايتاء الزكاة وصيام رمضان، وان تودوا لله خمس ما غنمتم، وانهاكم عن الدباء والنقير والحنتم والمزفت
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک بن انس نے بیان کیا ‘ انہیں ابوالزناد نے بیان کیا ‘ انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک بن انس نے بیان کیا ‘ انہیں ابوالزناد نے بیان کیا ‘ انہیں اعرج نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا يقتسم ورثتي دينارا، ما تركت بعد نفقة نسايي وميونة عاملي فهو صدقة
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے ‘ کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میرے گھر میں آدھے وسق جو کے سوا جو ایک طاق میں رکھے ہوئے تھے اور کوئی چیز ایسی نہیں تھی جو کسی جگر والے ( جاندار ) کی خوراک بن سکتی۔ میں اسی میں سے کھاتی رہی اور بہت دن گزر گئے۔ پھر میں نے اس میں سے ناپ کر نکالنا شروع کیا تو وہ جلدی ختم ہو گئے۔
حدثنا عبد الله بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، حدثنا هشام، عن ابيه، عن عايشة، قالت توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وما في بيتي من شىء ياكله ذو كبد، الا شطر شعير في رف لي، فاكلت منه حتى طال على، فكلته ففني
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان ثوری نے ‘ کہا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے عمرو بن حارث سے سنا ‘ وہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی وفات کے بعد ) اپنے ہتھیار ‘ ایک سفید خچر ‘ اور ایک زمین جسے آپ خود صدقہ کر گئے تھے ‘ کے سوا اور کوئی ترکہ نہیں چھوڑا تھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني ابو اسحاق، قال سمعت عمرو بن الحارث، قال ما ترك النبي صلى الله عليه وسلم الا سلاحه وبغلته البيضاء، وارضا تركها صدقة
ہم سے حبان بن موسیٰ اور محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا ہم کو معمر اور یونس نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ( مرض الوفات میں ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مرض بہت بڑھ گیا ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب بیویوں سے اس کی اجازت چاہی کہ مرض کے دن آپ میرے گھر میں گزاریں۔ لہٰذا اس کی اجازت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مل گئی تھی۔
حدثنا حبان بن موسى، ومحمد، قالا اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، ويونس، عن الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ان عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت لما ثقل رسول الله صلى الله عليه وسلم استاذن ازواجه ان يمرض في بيتي فاذن له
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے نافع نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا۔ انہوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر ‘ میری باری کے دن ‘ میرے حلق اور سینے کے درمیان ٹیک لگائے ہوئے وفات پائی ‘ اللہ تعالیٰ نے ( وفات کے وقت ) میرے تھوک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تھوک کو ایک ساتھ جمع کر دیا تھا ‘ بیان کیا ( وہ اس طرح کہ ) عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ) مسواک لیے ہوئے اندر آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے چبا نہ سکے۔ اس لیے میں نے اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور میں نے اسے چبانے کے بعد وہ مسواک آپ کے دانتوں پر ملی۔
حدثنا ابن ابي مريم، حدثنا نافع، سمعت ابن ابي مليكة، قال قالت عايشة رضى الله عنها توفي النبي صلى الله عليه وسلم في بيتي، وفي نوبتي، وبين سحري ونحري، وجمع الله بين ريقي وريقه. قالت دخل عبد الرحمن بسواك، فضعف النبي صلى الله عليه وسلم عنه، فاخذته فمضغته ثم سننته به
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے علی بن حسین زین العابدین نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صفیہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ملنے کے لیے حاضر ہوئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ کا مسجد میں اعتکاف کئے ہوئے تھے۔ پھر وہ واپس ہونے کے لیے اٹھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ اٹھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازہ کے قریب پہنچے جو مسجد نبوی کے دروازے سے ملا ہوا تھا تو دو انصاری صحابی ( اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ ) وہاں سے گزرے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہوں نے سلام کیا اور آگے بڑھنے لگے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ‘ ذرا ٹھہر جاؤ ( میرے ساتھ میری بیوی صفیہ رضی اللہ عنہا ہیں یعنی کوئی دوسرا نہیں ) ان دونوں نے عرض کیا۔ سبحان اللہ ‘ یا رسول اللہ! ان حضرات پر آپ کا یہ فرمانا بڑا شاق گزرا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر اس طرح دوڑتا رہتا ہے جیسے جسم میں خون دوڑتا ہے۔ مجھے یہی خطرہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی وسوسہ پیدا نہ ہو جائے۔
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عبد الرحمن بن خالد، عن ابن شهاب، عن علي بن حسين، ان صفية، زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته انها جاءت رسول الله صلى الله عليه وسلم تزوره، وهو معتكف في المسجد في العشر الاواخر من رمضان ثم قامت تنقلب فقام معها رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا بلغ قريبا من باب المسجد عند باب ام سلمة زوج النبي صلى الله عليه وسلم مر بهما رجلان من الانصار، فسلما على رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم نفذا فقال لهما رسول الله صلى الله عليه وسلم " على رسلكما ". قالا سبحان الله يا رسول الله. وكبر عليهما ذلك. فقال " ان الشيطان يبلغ من الانسان مبلغ الدم، واني خشيت ان يقذف في قلوبكما شييا
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ عمری نے ‘ ان سے محمد بن یحییٰ بن حبان نے ‘ ان سے واسع بن حبان نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں ( ام المؤمنین ) حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے اوپر چڑھا ‘ تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ قبلہ کی طرف تھی اور چہرہ مبارک شام کی طرف تھا۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا انس بن عياض، عن عبيد الله، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن واسع بن حبان، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال ارتقيت فوق بيت حفصة، فرايت النبي صلى الله عليه وسلم يقضي حاجته، مستدبر القبلة، مستقبل الشام
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے بیان کیا ‘ اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عصر کی نماز پڑھتے تو دھوپ ابھی ان کے حجرے میں باقی رہتی تھی۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا انس بن عياض، عن هشام، عن ابيه، ان عايشة رضى الله عنها قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي العصر والشمس لم تخرج من حجرتها
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اسی طرف سے ( یعنی مشرق کی طرف سے ) فتنے برپا ہوں گے ‘ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا کہ یہیں سے شیطان کا سر نمودار ہو گا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، عن عبد الله رضى الله عنه قال قام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبا فاشار نحو مسكن عايشة فقال " هنا الفتنة ثلاثا من حيث يطلع قرن الشيطان
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک بن انس نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں موجود تھے۔ اچانک انہوں نے سنا کہ کوئی صاحب حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ دیکھتے نہیں، یہ شخص گھر میں جانے کی اجازت مانگ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ میرا خیال ہے یہ فلاں صاحب ہیں، حفصہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا! رضاعت بھی ان تمام چیزوں کو حرام کر دیتی ہے جنہیں ولادت حرام کرتی ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، عن عمرة ابنة عبد الرحمن، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرتها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان عندها، وانها سمعت صوت انسان يستاذن في بيت حفصة فقلت يا رسول الله، هذا رجل يستاذن في بيتك. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اراه فلانا، لعم حفصة من الرضاعة، الرضاعة تحرم ما تحرم الولادة
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے ثمامہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ جب ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے ان کو ( یعنی انس رضی اللہ عنہ کو ) بحرین ( عامل بنا کر ) بھیجا اور ایک پروانہ لکھ کر ان کو دیا اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی مہر لگائی، مہر مبارک پر تین سطریں کندہ تھیں ‘ ایک سطر میں ”محمد“ دوسری میں ”رسول“ تیسری میں ”اللہ“ کندہ تھا۔
حدثنا محمد بن عبد الله الانصاري، قال حدثني ابي، عن ثمامة، عن انس، ان ابا بكر رضى الله عنه لما استخلف بعثه الى البحرين، وكتب له هذا الكتاب وختمه، وكان نقش الخاتم ثلاثة اسطر محمد سطر، ورسول سطر، والله سطر
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن عبداللہ اسدی نے بیان کیا ‘ ان سے عیسیٰ بن طہمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہمیں دو پرانے جوتے نکال کر دکھائے جن میں دو تسمے لگے ہوئے تھے ‘ اس کے بعد پھر ثابت بنانی نے مجھ سے انس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ وہ دونوں جوتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي، حدثنا عيسى بن طهمان، قال اخرج الينا انس نعلين جرداوين لهما قبالان، فحدثني ثابت البناني بعد عن انس انهما نعلا النبي صلى الله عليه وسلم
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ نے بیان کیا کہا عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں ایک پیوند لگی ہوئی چادر نکال کر دکھائی اور بتلایا کہ اسی کپڑے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی روح قبض ہوئی تھی۔ اور سلیمان بن مغیرہ نے حمید سے بیان کیا ‘ انہوں نے ابوبردہ سے اتنا زیادہ بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یمن کی بنی ہوئی ایک موٹی ازار ( تہمد ) اور ایک کمبل انہیں کمبلوں میں سے جن کو تم ملبہ ( اور موٹا پیوند دار کہتے ہو ) ہمیں نکال کر دکھائی۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن حميد بن هلال، عن ابي بردة، قال اخرجت الينا عايشة رضى الله عنها كساء ملبدا وقالت في هذا نزع روح النبي صلى الله عليه وسلم. وزاد سليمان عن حميد عن ابي بردة قال اخرجت الينا عايشة ازارا غليظا مما يصنع باليمن، وكساء من هذه التي يدعونها الملبدة
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ ان سے ابوحمزہ نے ‘ ان سے عاصم نے ‘ ان سے ابن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پانی پینے کا پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹوٹی ہوئی جگہوں کو چاندی کی زنجیروں سے جٖڑوا لیا۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے وہ پیالہ دیکھا ہے۔ اور اس میں میں نے پانی بھی پیا ہے۔
حدثنا عبدان، عن ابي حمزة، عن عاصم، عن ابن سيرين، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان قدح، النبي صلى الله عليه وسلم انكسر، فاتخذ مكان الشعب سلسلة من فضة. قال عاصم رايت القدح وشربت فيه
ہم سے سعید بن محمد جرمی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے ولید بن کثیر نے ‘ ان سے محمد بن عمرو بن حلحلہ ڈولی نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے علی بن حسین (زین العابدین رحمہ اللہ) نے بیان کیا کہ جب ہم سب حضرات حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کے بعد یزید بن معاویہ کے یہاں سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے ملاقات کی ‘ اور کہا اگر آپ کو کوئی ضرورت ہو تو مجھے حکم فرما دیجئیے۔ ( زین العابدین نے بیان کیا کہ ) میں نے کہا ‘ مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر مسور رضی اللہ عنہ نے کہا تو کیا آپ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار عنایت فرمائیں گے؟ کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کچھ لوگ ( بنو امیہ ) اسے آپ سے نہ چھین لیں اور اللہ کی قسم! اگر وہ تلوار آپ مجھے عنایت فرما دیں تو کوئی شخص بھی جب تک میری جان باقی ہے اسے چھین نہیں سکے گا۔ پھر مسور رضی اللہ عنہ نے ایک قصہ بیان کیا کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں ابوجہل کی ایک بیٹی ( جمیلہ نامی رضی اللہ عنہا ) کو پیغام نکاح دے دیا تھا۔ میں نے خود سنا کہ اسی مسئلہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اسی منبر پر کھڑے ہو کر صحابہ کو خطاب فرمایا۔ میں اس وقت بالغ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ میں فرمایا کہ فاطمہ مجھ سے ہے۔ اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ ( اس رشتہ کی وجہ سے ) کسی گناہ میں نہ پڑ جائے کہ اپنے دین میں وہ کسی فتنہ میں مبتلا ہو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاندان بنی عبد شمس کے ایک اپنے داماد ( عاص بن ربیع ) کا ذکر کیا اور دامادی سے متعلق آپ نے ان کی تعریف کی ‘ آپ نے فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے جو بات کہی سچ کہی ‘ جو وعدہ کیا ‘ اسے پورا کیا۔ میں کسی حلال ( یعنی نکاح ثانی ) کو حرام نہیں کر سکتا اور نہ کسی حرام کو حلال بناتا ہوں۔ لیکن اللہ کی قسم! رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ساتھ جمع نہیں ہوں گی۔
حدثنا سعيد بن محمد الجرمي، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابي ان الوليد بن كثير، حدثه عن محمد بن عمرو بن حلحلة الدولي، حدثه ان ابن شهاب حدثه ان علي بن حسين حدثه انهم، حين قدموا المدينة من عند يزيد بن معاوية مقتل حسين بن علي رحمة الله عليه لقيه المسور بن مخرمة فقال له هل لك الى من حاجة تامرني بها فقلت له لا. فقال له فهل انت معطي سيف رسول الله صلى الله عليه وسلم فاني اخاف ان يغلبك القوم عليه، وايم الله، لين اعطيتنيه لا يخلص اليهم ابدا حتى تبلغ نفسي، ان علي بن ابي طالب خطب ابنة ابي جهل على فاطمة عليها السلام فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب الناس في ذلك على منبره هذا وانا يوميذ محتلم فقال " ان فاطمة مني، وانا اتخوف ان تفتن في دينها ". ثم ذكر صهرا له من بني عبد شمس، فاثنى عليه في مصاهرته اياه قال " حدثني فصدقني، ووعدني فوفى لي، واني لست احرم حلالا ولا احل حراما، ولكن والله لا تجتمع بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وبنت عدو الله ابدا
حدثنا اسحاق بن محمد الفروي، حدثنا مالك بن انس، عن ابن شهاب، عن مالك بن اوس بن الحدثان،، وكان، محمد بن جبير ذكر لي ذكرا من حديثه ذلك، فانطلقت حتى ادخل على مالك بن اوس، فسالته عن ذلك الحديث فقال مالك بينا انا جالس في اهلي حين متع النهار، اذا رسول عمر بن الخطاب ياتيني فقال اجب امير المومنين. فانطلقت معه حتى ادخل على عمر، فاذا هو جالس على رمال سرير، ليس بينه وبينه فراش متكي على وسادة من ادم، فسلمت عليه ثم جلست فقال يا مال، انه قدم علينا من قومك اهل ابيات، وقد امرت فيهم برضخ فاقبضه فاقسمه بينهم. فقلت يا امير المومنين، لو امرت به غيري. قال اقبضه ايها المرء. فبينا انا جالس عنده اتاه حاجبه يرفا فقال هل لك في عثمان وعبد الرحمن بن عوف والزبير وسعد بن ابي وقاص يستاذنون قال نعم. فاذن لهم فدخلوا فسلموا وجلسوا، ثم جلس يرفا يسيرا ثم قال هل لك في علي وعباس قال نعم. فاذن لهما، فدخلا فسلما فجلسا، فقال عباس يا امير المومنين، اقض بيني وبين هذا. وهما يختصمان فيما افاء الله على رسوله صلى الله عليه وسلم من بني النضير. فقال الرهط عثمان واصحابه يا امير المومنين، اقض بينهما وارح احدهما من الاخر. قال عمر تيدكم، انشدكم بالله الذي باذنه تقوم السماء والارض، هل تعلمون ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نورث ما تركنا صدقة ". يريد رسول الله صلى الله عليه وسلم نفسه. قال الرهط قد قال ذلك. فاقبل عمر على علي وعباس فقال انشدكما الله، اتعلمان ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد قال ذلك قالا قد قال ذلك. قال عمر فاني احدثكم عن هذا الامر، ان الله قد خص رسوله صلى الله عليه وسلم في هذا الفىء بشىء لم يعطه احدا غيره ثم قرا {وما افاء الله على رسوله منهم} الى قوله {قدير} فكانت هذه خالصة لرسول الله صلى الله عليه وسلم. والله ما احتازها دونكم، ولا استاثر بها عليكم قد اعطاكموه، وبثها فيكم حتى بقي منها هذا المال، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم ينفق على اهله نفقة سنتهم من هذا المال، ثم ياخذ ما بقي فيجعله مجعل مال الله، فعمل رسول الله صلى الله عليه وسلم بذلك حياته، انشدكم بالله هل تعلمون ذلك قالوا نعم. ثم قال لعلي وعباس انشدكما بالله هل تعلمان ذلك قال عمر ثم توفى الله نبيه صلى الله عليه وسلم فقال ابو بكر انا ولي رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقبضها ابو بكر، فعمل فيها بما عمل رسول الله صلى الله عليه وسلم، والله يعلم انه فيها لصادق بار راشد تابع للحق، ثم توفى الله ابا بكر، فكنت انا ولي ابي بكر، فقبضتها سنتين من امارتي، اعمل فيها بما عمل رسول الله صلى الله عليه وسلم وما عمل فيها ابو بكر، والله يعلم اني فيها لصادق بار راشد تابع للحق، ثم جيتماني تكلماني وكلمتكما واحدة، وامركما واحد، جيتني يا عباس تسالني نصيبك من ابن اخيك، وجاءني هذا يريد عليا يريد نصيب امراته من ابيها، فقلت لكما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا نورث ما تركنا صدقة ". فلما بدا لي ان ادفعه اليكما قلت ان شيتما دفعتها اليكما على ان عليكما عهد الله وميثاقه لتعملان فيها بما عمل فيها رسول الله صلى الله عليه وسلم، وبما عمل فيها ابو بكر، وبما عملت فيها منذ وليتها، فقلتما ادفعها الينا. فبذلك دفعتها اليكما، فانشدكم بالله، هل دفعتها اليهما بذلك قال الرهط نعم. ثم اقبل على علي وعباس فقال انشدكما بالله هل دفعتها اليكما بذلك قالا نعم. قال فتلتمسان مني قضاء غير ذلك فوالله الذي باذنه تقوم السماء والارض، لا اقضي فيها قضاء غير ذلك، فان عجزتما عنها فادفعاها الى، فاني اكفيكماها