Loading...

Loading...
کتب
۶۵ احادیث
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو جو زمین عنایت فرمائی تھی، میں اس میں سے گٹھلیاں ( سوکھی کھجوریں ) اپنے سر پر لایا کرتی تھی۔ وہ جگہ میرے گھر سے دو میل فرسخ کی دو تہائی پر تھی۔ ابوضمرہ نے ہشام سے بیان کیا اور انہوں نے اپنے باپ سے ( مرسلاً ) بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو بنی نضیر کی اراضی میں سے ایک زمین قطعہ کے طور پر دی تھی۔
حدثنا محمود بن غيلان، حدثنا ابو اسامة، حدثنا هشام، قال اخبرني ابي، عن اسماء ابنة ابي بكر رضى الله عنهما قالت كنت انقل النوى من ارض الزبير التي اقطعه رسول الله صلى الله عليه وسلم على راسي، وهى مني على ثلثى فرسخ. وقال ابو ضمرة عن هشام عن ابيه ان النبي صلى الله عليه وسلم اقطع الزبير ارضا من اموال بني النضير
مجھ سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے فضل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر نے یہود و نصاریٰ کو سر زمین حجاز سے نکال کر دوسری جگہ بسا دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب خیبر فتح کیا تو آپ کا بھی ارادہ ہوا تھا کہ یہودیوں کو یہاں سے نکال دیا جائے۔ جب آپ نے فتح پائی تو اس وقت وہاں کی کچھ زمین یہودیوں کے قبضے میں ہی تھی۔ اور اکثر زمین پیغمبر علیہ السلام اور مسلمانوں کے قبضے میں تھی۔ لیکن پھر یہودیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی، آپ زمین انہیں کے پاس رہنے دیں۔ وہ ( کھیتوں اور باغوں میں ) کام کیا کریں گے۔ اور آدھی پیداوار لیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا جب تک ہم چاہیں گے اس وقت تک کے لیے تمہیں اس شرط پر یہاں رہنے دیں گے۔ چنانچہ یہ لوگ وہیں رہے اور پھر عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے دور خلافت میں ( مسلمانوں کے خلاف ان کے فتنوں اور سازشوں کی وجہ سے یہود خیبر کو ) تیماء یا اریحا کی طرف نکال دیا تھا۔“
حدثني احمد بن المقدام، حدثنا الفضيل بن سليمان، حدثنا موسى بن عقبة، قال اخبرني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان عمر بن الخطاب، اجلى اليهود والنصارى من ارض الحجاز، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم لما ظهر على اهل خيبر اراد ان يخرج اليهود منها، وكانت الارض لما ظهر عليها لليهود وللرسول وللمسلمين، فسال اليهود رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يتركهم على ان يكفوا العمل، ولهم نصف الثمر فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نقركم على ذلك ما شينا ". فاقروا حتى اجلاهم عمر في امارته الى تيماء واريحا
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم خیبر کے محل کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ کسی شخص نے ایک کپی پھینکی جس میں چربی بھری ہوئی تھی۔ میں اسے لینے کے لیے لپکا، لیکن مڑ کر جو دیکھا تو پاس ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موجود تھے۔ میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن مغفل رضى الله عنه قال كنا محاصرين قصر خيبر، فرمى انسان بجراب فيه شحم، فنزوت لاخذه، فالتفت فاذا النبي صلى الله عليه وسلم فاستحييت منه
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ) غزووں میں ہمیں شہد اور انگور ملتا تھا۔ ہم اسے اسی وقت کھا لیتے ( تقسیم کے لیے اٹھا نہ رکھتے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال كنا نصيب في مغازينا العسل والعنب فناكله ولا نرفعه
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے شیبانی نے بیان کیا، کہا میں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ جنگ خیبر کے موقع پر فاقوں پر فاقے ہونے لگے۔ آخر جس دن خیبر فتح ہوا تو ( مال غنیمت میں ) گھریلو گدھے بھی ہمیں ملے۔ چنانچہ انہیں ذبح کر کے ( پکانا شروع کر دیا گیا ) جب ہانڈیوں میں جوش آنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو اور گھریلو گدھے کے گوشت میں سے کچھ نہ کھاؤ۔ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بعض لوگوں نے اس پر کہا کہ غالباً پ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے روک دیا ہے کہ ابھی تک اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا تھا۔ لیکن بعض دوسرے صحابہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت قطعی طور پر حرام قرار دیا ہے۔ ( شیبانی نے بیان کیا کہ ) میں نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قطعی طور پر حرام کر دیا تھا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الشيباني، قال سمعت ابن ابي اوفى رضى الله عنهما يقول اصابتنا مجاعة ليالي خيبر، فلما كان يوم خيبر وقعنا في الحمر الاهلية، فانتحرناها فلما غلت القدور، نادى منادي رسول الله صلى الله عليه وسلم اكفيوا القدور، فلا تطعموا من لحوم الحمر شييا. قال عبد الله فقلنا انما نهى النبي صلى الله عليه وسلم لانها لم تخمس. قال وقال اخرون حرمها البتة. وسالت سعيد بن جبير فقال حرمها البتة