Loading...

Loading...
کتب
۳۰۹ احادیث
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا تھا کہ اسلامی جھنڈا میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا۔ اب سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھئیے جھنڈا کسے ملتا ہے، جب صبح ہوئی تو سب سرکردہ لوگ اسی امید میں رہے کہ کاش! انہیں کو مل جائے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: علی کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا کہ وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے انہیں بلایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لعاب دہن مبارک ان کی آنکھوں میں لگا دیا اور فوراً ہی وہ اچھے ہو گئے۔ جیسے پہلے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا ہم ان ( یہودیوں سے ) اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک یہ ہمارے جیسے ( مسلمان ) نہ ہو جائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی ٹھہرو پہلے ان کے میدان میں اتر کر انہیں تم اسلام کی دعوت دے لو اور ان کے لیے جو چیز ضروری ہیں ان کی خبر کر دو ( پھر وہ نہ مانیں تو لڑنا ) اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة القعنبي، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل بن سعد رضى الله عنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول يوم خيبر " لاعطين الراية رجلا يفتح الله على يديه ". فقاموا يرجون لذلك ايهم يعطى، فغدوا وكلهم يرجو ان يعطى فقال " اين علي ". فقيل يشتكي عينيه، فامر فدعي له، فبصق في عينيه، فبرا مكانه حتى كانه لم يكن به شىء فقال نقاتلهم حتى يكونوا مثلنا. فقال " على رسلك حتى تنزل بساحتهم، ثم ادعهم الى الاسلام، واخبرهم بما يجب عليهم، فوالله لان يهدى بك رجل واحد خير لك من حمر النعم
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے حمید نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی قوم پر چڑھائی کرتے تو اس وقت تک کوئی اقدام نہ فرماتے جب تک صبح نہ ہو جاتی، جب صبح ہو جاتی اور اذان کی آواز سن لیتے تو رک جاتے اور اگر اذان کی آواز سنائی نہ دیتی تو صبح ہونے کے بعد حملہ کرتے۔ چنانچہ خیبر میں بھی ہم رات میں پہنچے تھے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا ابو اسحاق، عن حميد، قال سمعت انسا رضى الله عنه يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا غزا قوما لم يغر حتى يصبح، فان سمع اذانا امسك، وان لم يسمع اذانا اغار بعد ما يصبح، فنزلنا خيبر ليلا
سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمارے ساتھ مل کر غزوہ کرتے تھے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا اسماعيل بن جعفر، عن حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان اذا غزا بنا
(دوسری سند) ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں خیبر تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب کسی قوم تک رات کے وقت پہنچتے تو صبح سے پہلے ان پر حملہ نہیں کرتے تھے۔ جب صبح ہوئی تو یہودی اپنے پھاوڑے اور ٹوکرے لے کر باہر ( کھیتوں میں کام کرنے کے لیے ) نکلے۔ جب انہوں نے اسلامی لشکر کو دیکھا تو چیخ پڑے محمد واللہ محمد لشکر سمیت آ گئے۔ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ کی ذات سب سے بڑی ہے۔ اب خیبر تو خراب ہو گیا کہ جب ہم کسی قوم کے میدان میں مجاہدانہ اتر آتے ہیں تو ( کفر سے ) ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح منحوس ہو جاتی ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن حميد، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج الى خيبر فجاءها ليلا، وكان اذا جاء قوما بليل لا يغير عليهم حتى يصبح، فلما اصبح، خرجت يهود بمساحيهم ومكاتلهم، فلما راوه قالوا محمد والله، محمد والخميس. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الله اكبر، خربت خيبر، انا اذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا ہم سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ اس کا اقرار کر لیں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں، پس جس نے اقرار کر لیا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں تو اس کی جان اور مال ہم سے محفوظ ہے سوا اس حق کے جس کی بناء پر قانوناً اس کی جان و مال زد میں آئے اور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ اس کی روایت عمر اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، حدثنا سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " امرت ان اقاتل الناس حتى يقولوا لا اله الا الله. فمن قال لا اله الا الله، فقد عصم مني نفسه وماله، الا بحقه، وحسابه على الله ". رواه عمر وابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ نے، کعب رضی اللہ عنہ ( جب نابینا ہو گئے تھے ) کے ساتھ ان کے دوسرے صاحبزادوں میں یہی عبداللہ انہیں لے کر راستے میں ان کے آگے آگے چلتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اصول یہ تھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ کا ارادہ کرتے تو ( مصلحت کے لیے ) دوسرا مقام بیان کرتے ( تاکہ دشمن کو خبر نہ ہو ) ۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، ان عبد الله بن كعب رضى الله عنه وكان قايد كعب من بنيه قال سمعت كعب بن مالك حين تخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. ولم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يريد غزوة الا ورى بغيرها
اور مجھ سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا آپ بیان کرتے تھے کہ ایسا کم اتفاق ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی جہاد کا قصد کریں اور وہی مقام بیان فرما کر اس کو نہ چھپائیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کو جانے لگے تو چونکہ یہ غزوہ بڑی سخت گرمی میں ہونا تھا، لمبا سفر تھا اور جنگلوں کو طے کرنا تھا اور مقابلہ بھی بہت بڑی فوج سے تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے صاف صاف فرما دیا تھا تاکہ دشمن کے مقابلہ کے لیے پوری تیاری کر لیں چنانچہ ( غزوہ کے لیے ) جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جانا تھا ( یعنی تبوک ) اس کا آپ نے صاف اعلان کر دیا تھا۔
وحدثني احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، قال اخبرني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك، قال سمعت كعب بن مالك رضى الله عنه يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم قلما يريد غزوة يغزوها الا ورى بغيرها، حتى كانت غزوة تبوك، فغزاها رسول الله صلى الله عليه وسلم في حر شديد، واستقبل سفرا بعيدا ومفازا، واستقبل غزو عدو كثير، فجلى للمسلمين امرهم، ليتاهبوا اهبة عدوهم، واخبرهم بوجهه الذي يريد
یونس سے روایت ہے، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے خبر دی کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ کم ایسا ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں جمعرات کے سوا اور کسی دن نکلیں۔
وعن يونس، عن الزهري، قال اخبرني عبد الرحمن بن كعب بن مالك، ان كعب بن مالك رضى الله عنه كان يقول لقلما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج اذا خرج في سفر الا يوم الخميس
مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے اور انہیں ان کے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے لیے جمعرات کے دن نکلے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعرات کے دن سفر کرنا پسند فرماتے تھے۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا هشام، اخبرنا معمر، عن الزهري، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن ابيه رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوم الخميس في غزوة تبوك، وكان يحب ان يخرج يوم الخميس
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ظہر چار رکعت پڑھی پھر عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں دو رکعت پڑھی اور میں نے سنا کہ صحابہ حج اور عمرہ دونوں کا لبیک ایک ساتھ پکار رہے تھے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابي قلابة، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى بالمدينة الظهر اربعا، والعصر بذي الحليفة ركعتين، وسمعتهم يصرخون بهما جميعا
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا امام مالک سے، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ سے ( حجۃ الوداع کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم اس وقت نکلے جب ذی قعدہ کے پانچ دن باقی تھے۔ ہفتہ کے دن ہمارا مقصد حج کے سوا اور کچھ بھی نہ تھا۔ جب ہم مکہ سے قریب ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہو جب وہ بیت اللہ کے طواف اور صفا اور مروہ کی سعی سے فارغ ہو جائے تو احرام کھول دے۔ ( پھر حج کے لیے بعد میں احرام باندھے ) عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ دسویں ذی الحجہ کو ہمارے یہاں گائے کا گوشت آیا، میں نے پوچھا کہ گوشت کیسا ہے؟ تو بتایا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے جو گائے قربانی کی ہے یہ اسی کا گوشت ہے۔ یحییٰ نے بیان کیا کہ میں نے اس کے بعد اس حدیث کا ذکر قاسم بن محمد سے کیا تو انہوں نے بتایا کہ قسم اللہ کی! عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے تم سے یہ حدیث ٹھیک ٹھیک بیان کی ہے۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة بنت عبد الرحمن، انها سمعت عايشة رضى الله عنها تقول خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم لخمس ليال بقين من ذي القعدة، ولا نرى الا الحج، فلما دنونا من مكة امر رسول الله صلى الله عليه وسلم من لم يكن معه هدى اذا طاف بالبيت وسعى بين الصفا والمروة ان يحل. قالت عايشة فدخل علينا يوم النحر بلحم بقر فقلت ما هذا فقال نحر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ازواجه. قال يحيى فذكرت هذا الحديث للقاسم بن محمد فقال اتتك والله بالحديث على وجهه
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا مجھ سے زہری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( فتح مکہ کے لیے مدینہ سے ) رمضان میں نکلے اور روزے سے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام کدید پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا۔ سفیان نے کہا کہ زہری نے بیان کیا، انہیں عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے پھر یہی حدیث بیان کی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال حدثني الزهري، عن عبيد الله، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم في رمضان، فصام حتى بلغ الكديد افطر. قال سفيان قال الزهري اخبرني عبيد الله عن ابن عباس. وساق الحديث
اور عبداللہ بن وہب نے کہا کہ مجھ کو عمرو بن حارث نے خبر دی، انہیں بکیر نے، انہیں سلیمان بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک فوج میں بھیجا اور ہدایت فرمائی کہ اگر فلاں فلاں دو قریشی ( ہبا بن اسود اور نافع بن عبد عمر ) جن کا آپ نے نام لیا تم کو مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رخصت ہونے کی اجازت کے لیے حاضر ہوئے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہیں پہلے ہدایت کی تھی کہ فلاں فلاں قریشی اگر تمہیں مل جائیں تو انہیں آگ میں جلا دینا۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ آگ کی سزا دینا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے لیے سزاوار نہیں ہے۔ اس لیے اگر وہ تمہیں مل جائیں تو انہیں قتل کر دینا ( آگ میں نہ جلانا ) ۔
وقال ابن وهب اخبرني عمرو، عن بكير، عن سليمان بن يسار، عن ابي هريرة رضى الله عنه انه قال بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعث، وقال لنا " ان لقيتم فلانا وفلانا ". لرجلين من قريش سماهما فحرقوهما بالنار. قال ثم اتيناه نودعه حين اردنا الخروج فقال " اني كنت امرتكم ان تحرقوا فلانا وفلانا بالنار، وان النار لا يعذب بها الا الله، فان اخذتموهما فاقتلوهما
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے۔ (دوسری سند) اور مجھ سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( خلیفہ وقت کے احکام ) سننا اور انہیں بجا لانا ( ہر مسلمان کے لیے ) واجب ہے، جب تک کہ گناہ کا حکم نہ دیا جائے۔ اگر گناہ کا حکم دیا جائے تو پھر نہ اسے سننا چاہئے اور نہ اس پر عمل کرنا چاہئے۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم. وحدثني محمد بن صباح، حدثنا اسماعيل بن زكرياء، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " السمع والطاعة حق، ما لم يومر بالمعصية، فاذا امر بمعصية فلا سمع ولا طاعة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ہم لوگ گو دنیا میں سب سے پیچھے آئے لیکن ( آخرت میں ) جنت میں سب سے آگے ہوں گے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، ان الاعرج، حدثه انه، سمع ابا هريرة رضى الله عنه انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نحن الاخرون السابقون ". وبهذا الاسناد " من اطاعني فقد اطاع الله، ومن عصاني فقد عصى الله، ومن يطع الامير فقد اطاعني، ومن يعص الامير فقد عصاني، وانما الامام جنة يقاتل من ورايه ويتقى به، فان امر بتقوى الله وعدل، فان له بذلك اجرا، وان قال بغيره، فان عليه منه
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ ہم لوگ گو دنیا میں سب سے پیچھے آئے لیکن ( آخرت میں ) جنت میں سب سے آگے ہوں گے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، ان الاعرج، حدثه انه، سمع ابا هريرة رضى الله عنه انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " نحن الاخرون السابقون ". وبهذا الاسناد " من اطاعني فقد اطاع الله، ومن عصاني فقد عصى الله، ومن يطع الامير فقد اطاعني، ومن يعص الامير فقد عصاني، وانما الامام جنة يقاتل من ورايه ويتقى به، فان امر بتقوى الله وعدل، فان له بذلك اجرا، وان قال بغيره، فان عليه منه
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ ( صلح حدیبیہ کے بعد ) جب ہم دوسرے سال پھر آئے، تو ہم میں سے ( جنہوں نے صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی ) دو شخص بھی اس درخت کی نشان دہی پر متفق نہیں ہو سکے۔ جس کے نیچے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی اور یہ صرف اللہ کی رحمت تھی۔ جویریہ نے کہا، میں نے نافع سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کس بات پر بیعت کی تھی، کیا موت پر لی تھی؟ فرمایا کہ نہیں، بلکہ صبر و استقامت پر بیعت لی تھی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جويرية، عن نافع، قال قال ابن عمر رضى الله عنهما رجعنا من العام المقبل فما اجتمع منا اثنان على الشجرة التي بايعنا تحتها، كانت رحمة من الله. فسالت نافعا على اى شىء بايعهم على الموت قال لا، بايعهم على الصبر
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ نے، ان سے عباد بن تمیم نے اور ان سے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حرہ کی لڑائی کے زمانہ میں ایک صاحب ان کے پاس آئے اور کہا کہ عبداللہ بن حنظلہ لوگوں سے ( یزید کے خلاف ) موت پر بیعت لے رہے ہیں۔ تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب میں موت پر کسی سے بیعت نہیں کروں گا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا عمرو بن يحيى، عن عباد بن تميم، عن عبد الله بن زيد رضى الله عنه قال لما كان زمن الحرة اتاه ات فقال له ان ابن حنظلة يبايع الناس على الموت. فقال لا ابايع على هذا احدا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، اور ان سے سلمہ بن الاکوع نے بیان کیا ( حدیبیہ کے موقع پر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ پھر ایک درخت کے سائے میں آ کر کھڑا ہو گیا۔ جب لوگوں کا ہجوم کم ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا، ابن الاکوع کیا بیعت نہیں کرو گے؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میں تو بیعت کر چکا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، دوبارہ اور بھی! چنانچہ میں نے دوبارہ بیعت کی ( یزید بن ابی عبیداللہ کہتے ہیں کہ ) میں نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا، ابومسلم اس دن آپ حضرات نے کس بات پر بیعت کی تھی؟ کہا کہ موت پر۔
حدثنا المكي بن ابراهيم، حدثنا يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة رضى الله عنه قال بايعت النبي صلى الله عليه وسلم ثم عدلت الى ظل الشجرة، فلما خف الناس قال " يا ابن الاكوع، الا تبايع ". قال قلت قد بايعت يا رسول الله. قال " وايضا ". فبايعته الثانية،. فقلت له يا ابا مسلم، على اى شىء كنتم تبايعون يوميذ قال على الموت
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا۔ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ بیان کرتے تھے کہ انصار خندق کھودتے ہوئے ( غزوہ خندق کے موقع پر ) کہتے تھے «نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا أبدا» ”ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد پر بیعت کی ہے ہمیشہ کے لیے، جب تک ہمارے جسم میں جان ہے۔“
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن حميد، قال سمعت انسا رضى الله عنه يقول كانت الانصار يوم الخندق تقول نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا ابدا فاجابهم النبي صلى الله عليه وسلم فقال اللهم لا عيش الا عيش الاخره فاكرم الانصار والمهاجره