Loading...

Loading...
کتب
۳۰۹ احادیث
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، سمع محمد بن فضيل، عن عاصم، عن ابي عثمان، عن مجاشع رضى الله عنه قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم انا واخي فقلت بايعنا على الهجرة. فقال " مضت الهجرة لاهلها ". فقلت علام تبايعنا قال " على الاسلام والجهاد
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، سمع محمد بن فضيل، عن عاصم، عن ابي عثمان، عن مجاشع رضى الله عنه قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم انا واخي فقلت بايعنا على الهجرة. فقال " مضت الهجرة لاهلها ". فقلت علام تبايعنا قال " على الاسلام والجهاد
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے پاس ایک شخص آیا، اور ایسی بات پوچھی کہ میری کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ اس کا جواب کیا دوں۔ اس نے پوچھا، مجھے یہ مسئلہ بتائیے کہ ایک شخص بہت ہی خوش اور ہتھیار بند ہو کر ہمارے امیروں کے ساتھ جہاد کے لیے جاتا ہے۔ پھر وہ امیر ہمیں ایسی چیزوں کا مکلف قرار دیتے ہیں کہ ہم ان کی طاقت نہیں رکھتے۔ میں نے کہا، اللہ کی قسم! میری کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ تمہاری بات کا جواب کیا دوں، البتہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں ) تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی معاملہ میں صرف ایک مرتبہ حکم کی ضرورت پیش آتی تھی اور ہم فوراً ہی اسے بجا لاتے تھے، یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ تم لوگوں میں اس وقت تک خیر رہے گی جب تک تم اللہ سے ڈرتے رہو گے، اور اگر تمہارے دل میں کسی معاملہ میں شبہ پیدا ہو جائے ( کہ کیا چاہئے یا نہیں ) تو کسی عالم سے اس کے متعلق پوچھ لو تاکہ تشفی ہو جائے، وہ دور بھی آنے والا ہے کہ کوئی ایسا آدمی بھی ( جو صحیح صحیح مسئلے بتا دے ) تمہیں نہیں ملے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں! جتنی دنیا باقی رہ گئی ہے وہ وادی کے اس پانی کی طرح ہے جس کا صاف اور اچھا حصہ تو پیا جا چکا ہے اور گدلا حصہ باقی رہ گیا ہے۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، قال قال عبد الله رضى الله عنه لقد اتاني اليوم رجل فسالني عن امر ما دريت ما ارد عليه، فقال ارايت رجلا موديا نشيطا، يخرج مع امراينا في المغازي، فيعزم علينا في اشياء لا نحصيها. فقلت له والله ما ادري ما اقول لك الا انا كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فعسى ان لا يعزم علينا في امر الا مرة حتى نفعله، وان احدكم لن يزال بخير ما اتقى الله، واذا شك في نفسه شىء سال رجلا فشفاه منه، واوشك ان لا تجدوه، والذي لا اله الا هو ما اذكر ما غبر من الدنيا الا كالثغب شرب صفوه وبقي كدره
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا ابو اسحاق، عن موسى بن عقبة، عن سالم ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله وكان كاتبا له قال كتب اليه عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنهما فقراته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض ايامه التي لقي فيها انتظر حتى مالت الشمس. ثم قام في الناس قال " ايها الناس، لا تتمنوا لقاء العدو، وسلوا الله العافية، فاذا لقيتموهم فاصبروا، واعلموا ان الجنة تحت ظلال السيوف، ثم قال اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الاحزاب، اهزمهم وانصرنا عليهم
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا ابو اسحاق، عن موسى بن عقبة، عن سالم ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله وكان كاتبا له قال كتب اليه عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنهما فقراته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض ايامه التي لقي فيها انتظر حتى مالت الشمس. ثم قام في الناس قال " ايها الناس، لا تتمنوا لقاء العدو، وسلوا الله العافية، فاذا لقيتموهم فاصبروا، واعلموا ان الجنة تحت ظلال السيوف، ثم قال اللهم منزل الكتاب ومجري السحاب وهازم الاحزاب، اهزمهم وانصرنا عليهم
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم کو جریر نے خبر دی، انہیں مغیرہ نے، انہیں شعبی نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( جنگ تبوک ) میں شریک تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے سے آ کر میرے پاس تشریف لائے۔ میں اپنے پانی لادنے والے ایک اونٹ پر سوار تھا۔ چونکہ وہ تھک چکا تھا، اس لیے آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ جابر! تمہارے اونٹ کو کیا ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ تھک گیا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے گئے اور اسے ڈانٹا اور اس کے لیے دعا کی۔ پھر تو وہ برابر دوسرے اونٹوں کے آگے آگے چلتا رہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا، اپنے اونٹ کے متعلق کیا خیال ہے؟ میں نے کہا کہ اب اچھا ہے۔ آپ کی برکت سے ایسا ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا اسے بیچو گے؟ انہوں نے بیان کیا کہ میں شرمندہ ہو گیا، کیونکہ ہمارے پاس پانی لانے کو اس کے سوا اور کوئی اونٹ نہیں رہا تھا۔ مگر میں نے عرض کیا، جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر بیچ دے۔ چنانچہ میں نے وہ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچ دیا اور یہ طے پایا کہ مدینہ تک میں اسی پر سوار ہو کر جاؤں گا۔ بیان کیا کہ میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میری شادی ابھی نئی ہوئی ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( آگے بڑھ کر اپنے گھر جانے کی ) اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت عنایت فرما دی۔ اس لیے میں سب سے پہلے مدینہ پہنچ آیا۔ جب ماموں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ سے اونٹ کے متعلق پوچھا۔ جو معاملہ میں کر چکا تھا اس کی انہیں اطلاع دی۔ تو انہوں نے مجھے برا بھلا کہا۔ ( ایک اونٹ تھا تیرے پاس وہ بھی بیچ ڈالا اب پانی کس پر لائے گا ) جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا تھا کہ کنواری سے شادی کی ہے یا بیوہ سے؟ میں نے عرض کیا تھا بیوہ سے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ باکرہ سے کیوں نہ کی، وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی اور تم بھی اس کے ساتھ کھیلتے۔ ( کیونکہ جابر رضی اللہ عنہ بھی ابھی کنوارے تھے ) میں نے کہا یا رسول اللہ! میرے باپ کی وفات ہو گئی ہے یا ( یہ کہا کہ ) وہ ( احد ) میں شہید ہو چکے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں۔ اس لیے مجھے اچھا نہیں معلوم ہوا کہ انہیں جیسی کسی لڑکی کو بیاہ کے لاؤں، جو نہ انہیں ادب سکھا سکے نہ ان کی نگرانی کر سکے۔ اس لیے میں نے بیوہ سے شادی کی تاکہ وہ ان کی نگرانی کرے اور انہیں ادب سکھائے۔ انہوں نے بیان کیا، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو صبح کے وقت میں اسی اونٹ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس اونٹ کی قیمت عطا فرمائی اور پھر وہ اونٹ بھی واپس کر دیا۔ مغیرہ راوی رحمہ اللہ نے کہا کہ ہمارے نزدیک بیع میں یہ شرط لگانا اچھا ہے کچھ برا نہیں۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مدینہ میں ایک دفعہ کچھ دہشت پھیل گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر سوار ہو کر ( حالات معلوم کرنے کے لیے سب سے آگے تھے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تو کوئی بات نہیں دیکھی۔ البتہ اس گھوڑے کو ہم نے دوڑنے میں دریا کی روانی جیسا تیز پایا ہے ( باب اور حدیث میں مطابقت ظاہر ہے ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، حدثني قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال كان بالمدينة فزع، فركب رسول الله صلى الله عليه وسلم فرسا لابي طلحة، فقال " ما راينا من شىء، وان وجدناه لبحرا
ہم سے فضل بن سہل نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے محمد نے ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( مدینہ میں ) لوگوں میں دہشت پھیل گئی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر جو بہت سست تھا، سوا ر ہوئے اور تنہا ایڑ لگاتے ہوئے آگے بڑھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے پیچھے سوار ہو کر نکلے۔ اس کے بعد واپسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خوفزدہ ہونے کی کوئی بات نہیں ہے، البتہ یہ گھوڑا دریا ہے۔ اس دن کے بعد پھر وہ گھوڑا ( دوڑ وغیرہ کے موقع پر ) کبھی پیچھے نہیں رہا۔
حدثنا الفضل بن سهل، حدثنا حسين بن محمد، حدثنا جرير بن حازم، عن محمد، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال فزع الناس فركب رسول الله صلى الله عليه وسلم فرسا لابي طلحة بطييا، ثم خرج يركض وحده، فركب الناس يركضون خلفه، فقال " لم تراعوا، انه لبحر ". فما سبق بعد ذلك اليوم
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے مالک بن انس سے سنا، انہوں نے زید بن اسلم سے پوچھا تھا اور زید نے کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا تھا، وہ بیان کرتے تھے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے اللہ کے راستے میں ( جہاد کے لیے ) اپنا ایک گھوڑا ایک شخص کو سواری کے لیے دے دیا تھا۔ پھر میں نے دیکھا کہ ( بازار میں ) وہی گھوڑا بک ( فروخت ہو ) رہا ہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں اسے خرید سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس گھوڑے کو تم نہ خریدو اور اپنا صدقہ ( خواہ خرید کر ہی ہو ) واپس نہ لو۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، قال سمعت مالك بن انس، سال زيد بن اسلم، فقال زيد سمعت ابي يقول، قال عمر بن الخطاب رضى الله عنه حملت على فرس في سبيل الله، فرايته يباع، فسالت النبي صلى الله عليه وسلم اشتريه فقال " لا تشتره، ولا تعد في صدقتك
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں اپنا ایک گھوڑا سواری کے لیے دے دیا تھا۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ وہی گھوڑا بک ( فروخت ہو ) رہا ہے۔ اپنے گھوڑے کو انہوں نے خریدنا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسے نہ خریدو۔ اور اس طرح اپنے صدقہ کو واپس نہ لو۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان عمر بن الخطاب، حمل على فرس في سبيل الله، فوجده يباع، فاراد ان يبتاعه، فسال رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " لا تبتعه، ولا تعد في صدقتك
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابوصالح نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر میری امت پر یہ امر مشکل نہ گزرتا تو میں کسی سریہ ( یعنی مجاہدین کا ایک چھوٹا سا دستہ جس کی تعداد زیادہ سے زیادہ چالیس ہو ) کی شرکت بھی نہ چھوڑتا۔ لیکن میرے پاس سواری کے اتنے اونٹ نہیں ہیں کہ میں ان کو سوار کر کے ساتھ لے چلوں اور یہ مجھ پر بہت مشکل ہے کہ میرے ساتھی مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔ میری تو یہ خوشی ہے کہ اللہ کے راستے میں میں جہاد کروں، اور شہید کیا جاؤں۔ پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید کیا جاؤں اور پھر زندہ کیا جاؤں۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن يحيى بن سعيد الانصاري، قال حدثني ابو صالح، قال سمعت ابا هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لولا ان اشق على امتي ما تخلفت عن سرية، ولكن لا اجد حمولة، ولا اجد ما احملهم عليه، ويشق على ان يتخلفوا عني، ولوددت اني قاتلت في سبيل الله فقتلت، ثم احييت ثم قتلت، ثم احييت
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء نے، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد (یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک تھا اور ایک جوان اونٹ میں نے سواری کے لیے دیا تھا، میرے خیال میں میرا یہ عمل، تمام دوسرے اعمال کے مقابلے میں سب سے زیادہ قابل بھروسہ تھا۔ ( کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو گا ) میں نے ایک مزدور بھی اپنے ساتھ لے لیا تھا۔ پھر وہ مزدور ایک شخص ( خود یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ ) سے لڑ پڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے کے ہاتھ میں دانت سے کاٹ لیا۔ دوسرے نے جھٹ جو اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کے آگے کا دانت ٹوٹ گیا۔ وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فریادی ہوا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کھینچنے والے پر کوئی تاوان نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ کیا تمہارے منہ میں وہ اپنا ہاتھ یوں ہی رہنے دیتا تاکہ تم اسے چبا جاؤ جیسے اونٹ چباتا ہے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، حدثنا ابن جريج، عن عطاء، عن صفوان بن يعلى، عن ابيه رضى الله عنه قال غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم غزوة تبوك، فحملت على بكر، فهو اوثق اعمالي في نفسي، فاستاجرت اجيرا، فقاتل رجلا، فعض احدهما الاخر فانتزع يده من فيه، ونزع ثنيته، فاتى النبي صلى الله عليه وسلم فاهدرها فقال " ايدفع يده اليك فتقضمها كما يقضم الفحل
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عقیل نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں ثعلبہ بن ابی مالک قرظی نے خبر دی کہ قیس بن سعد انصاری رضی اللہ عنہ نے، جو جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علمبردار تھے، جب حج کا ارادہ کیا تو ( احرام باندھنے سے پہلے ) کنگھی کی۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، قال حدثني الليث، قال اخبرني عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني ثعلبة بن ابي مالك القرظي، ان قيس بن سعد الانصاري رضى الله عنه وكان صاحب لواء رسول الله صلى الله عليه وسلم اراد الحج فرجل
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ خیبر کے موقع پر علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی۔ پھر انہوں نے کہا کہ کیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک نہ ہوں گا؟ چنانچہ وہ نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملے۔ اس رات کی شام کو جس کی صبح کو خیبر فتح ہوا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اسلامی پرچم اس شخص کو دوں گا یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) کل اسلامی پرچم اس شخص کے ہاتھ میں ہو گا جسے اللہ اور اس کے رسول اپنا محبوب رکھتے ہیں۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔ اور اللہ اس شخص کے ہاتھ پر فتح فرمائے گا۔ پھر علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے۔ حالانکہ ان کے آنے کی ہمیں کوئی امید نہ تھی۔ ( کیونکہ وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے ) لوگوں نے کہا کہ یہ علی رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھنڈا انہیں کو دیا۔ اور اللہ نے انہیں کے ہاتھ پر فتح فرمائی۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع رضى الله عنه قال كان علي رضى الله عنه تخلف عن النبي صلى الله عليه وسلم في خيبر، وكان به رمد، فقال انا اتخلف عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج علي فلحق بالنبي صلى الله عليه وسلم، فلما كان مساء الليلة التي فتحها في صباحها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لاعطين الراية او قال لياخذن غدا رجل يحبه الله ورسوله او قال يحب الله ورسوله يفتح الله عليه ". فاذا نحن بعلي، وما نرجوه، فقالوا هذا علي، فاعطاه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ففتح الله عليه
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے نافع بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے سنا کہ عباس رضی اللہ عنہ، زبیر رضی اللہ عنہ سے کہہ رہے تھے کہ کیا یہاں پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو پرچم نصب کرنے کا حکم فرمایا تھا؟
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن نافع بن جبير، قال سمعت العباس، يقول للزبير رضى الله عنهما ها هنا امرك النبي صلى الله عليه وسلم ان تركز الراية
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ مجھے جامع کلام ( جس کی عبارت مختصر اور فصیح و بلیغ ہو اور معنی بہت وسیع ہوں ) دے کر بھیجا گیا ہے اور رعب کے ذریعہ میری مدد کی گئی ہے۔ میں سویا ہوا تھا کہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں میرے پاس لائی گئیں اور میرے ہاتھ پر رکھ دی گئیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ( اپنے رب کے پاس ) جا چکے۔ اور ( جن خزانوں کی وہ کنجیاں تھیں ) انہیں اب تم نکال رہے ہو۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " بعثت بجوامع الكلم، ونصرت بالرعب، فبينا انا نايم اتيت بمفاتيح خزاين الارض، فوضعت في يدي ". قال ابو هريرة وقد ذهب رسول الله صلى الله عليه وسلم وانتم تنتثلونها
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہیں ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک جب شاہ روم ہرقل کو ملا تو ) اس نے اپنا آدمی انہیں تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ یہ لوگ اس وقت ایلیاء میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آخر ( طویل گفتگو کے بعد ) اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک منگوایا۔ جب وہ پڑھا جا چکا تو اس کے دربار میں ہنگامہ برپا ہو گیا ( چاروں طرف سے ) آواز بلند ہونے لگی۔ اور ہمیں باہر نکال دیا گیا۔ جب ہم باہر کر دئیے گئے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ابن ابی کبشہ ( مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے ) کا معاملہ تو اب بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ یہ ملک بنی اصفر ( قیصر روم ) بھی ان سے ڈرنے لگا ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله، ان ابن عباس رضى الله عنهما اخبره ان ابا سفيان اخبره ان هرقل ارسل اليه وهم بايلياء، ثم دعا بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما فرغ من قراءة الكتاب كثر عنده الصخب، فارتفعت الاصوات، واخرجنا، فقلت لاصحابي حين اخرجنا لقد امر امر ابن ابي كبشة، انه يخافه ملك بني الاصفر
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، نیز مجھ سے فاطمہ نے بھی بیان کیا، اور ان سے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ہجرت کا ارادہ کیا تو میں نے ( والد ماجد سیدنا ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آپ کے لیے سفر کا ناشتہ تیار کیا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب آپ کے ناشتے اور پانی کو باندھنے کے لیے کوئی چیز نہیں ملی، تو میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بجز میرے کمر بند کے اور کوئی چیز اسے باندھنے کے لیے نہیں ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ پھر اسی کے دو ٹکڑے کر لو۔ ایک سے ناشتہ باندھ دینا اور دوسرے سے پانی، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا، اور اسی وجہ سے میرا نام ”ذات النطاقین“ ( دو کمر بندوں والی ) پڑ گیا۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، قال اخبرني ابي و، حدثتني ايضا، فاطمة عن اسماء رضى الله عنها قالت صنعت سفرة رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيت ابي بكر حين اراد ان يهاجر الى المدينة، قالت فلم نجد لسفرته ولا لسقايه ما نربطهما به، فقلت لابي بكر والله ما اجد شييا اربط به الا نطاقي. قال فشقيه باثنين، فاربطيه بواحد السقاء وبالاخر السفرة. ففعلت، فلذلك سميت ذات النطاقين
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو سفیان نے خبر دی، ان سے عمرو نے بیان کیا، کہا مجھ کو عطاء نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا آپ نے بیان کیا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کا گوشت بطور توشہ مدینہ لے جایا کرتے تھے ( یہ لے جانا بطور توشہ ہوا کرتا تھا، اس سے آپ کا مطلب ثابت ہوا ) ۔
حدثنا علي بن عبد الله، اخبرنا سفيان، عن عمرو، قال اخبرني عطاء، سمع جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال كنا نتزود لحوم الاضاحي على عهد النبي صلى الله عليه وسلم الى المدينة
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے بشیر بن یسار نے خبر دی اور انہیں سوید بن نعمان نے خبر دی کہ خیبر کی جنگ کے موقع پر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئے تھے۔ جب لشکر مقام صہباء پر پہنچا جو خیبر کا نشیبی علاقہ ہے تو لوگوں نے عصر کی نماز پڑھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا منگوایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ستو کے سوا اور کوئی چیز نہیں لائی گئی اور ہم نے وہی ستو کھایا اور پیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی۔ ہم نے بھی کلی کی اور نماز پڑھی۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، قال سمعت يحيى، قال اخبرني بشير بن يسار، ان سويد بن النعمان رضى الله عنه اخبره انه، خرج مع النبي صلى الله عليه وسلم عام خيبر، حتى اذا كانوا بالصهباء وهى من خيبر وهى ادنى خيبر فصلوا العصر، فدعا النبي صلى الله عليه وسلم بالاطعمة، فلم يوت النبي صلى الله عليه وسلم الا بسويق، فلكنا فاكلنا وشربنا، ثم قام النبي صلى الله عليه وسلم فمضمض ومضمضنا، وصلينا
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا جرير، عن المغيرة، عن الشعبي، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال غزوت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قال فتلاحق بي النبي صلى الله عليه وسلم وانا على ناضح لنا قد اعيا فلا يكاد يسير فقال لي " ما لبعيرك ". قال قلت عيي. قال فتخلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فزجره ودعا له، فما زال بين يدى الابل قدامها يسير. فقال لي " كيف ترى بعيرك ". قال قلت بخير قد اصابته بركتك. قال " افتبيعنيه ". قال فاستحييت، ولم يكن لنا ناضح غيره، قال فقلت نعم. قال " فبعنيه ". فبعته اياه على ان لي فقار ظهره حتى ابلغ المدينة. قال فقلت يا رسول الله اني عروس، فاستاذنته فاذن لي، فتقدمت الناس الى المدينة حتى اتيت المدينة، فلقيني خالي فسالني عن البعير، فاخبرته بما صنعت فيه فلامني، قال وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لي حين استاذنته " هل تزوجت بكرا ام ثيبا ". فقلت تزوجت ثيبا. فقال " هلا تزوجت بكرا تلاعبها وتلاعبك ". قلت يا رسول الله توفي والدي او استشهد ولي اخوات صغار، فكرهت ان اتزوج مثلهن، فلا تودبهن، ولا تقوم عليهن، فتزوجت ثيبا لتقوم عليهن وتودبهن. قال فلما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة غدوت عليه بالبعير، فاعطاني ثمنه، ورده على. قال المغيرة هذا في قضاينا حسن لا نرى به باسا