Loading...

Loading...
کتب
۳۰۹ احادیث
ہم سے بشر بن مرحوم نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب لوگوں کے پاس زاد راہ ختم ہونے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ اپنے اونٹ ذبح کرنے کی اجازت لینے حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس اجازت کی اطلاع انہیں بھی ان لوگوں نے دی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے سن کر کہا، ان اونٹوں کے بعد پھر تمہارے پاس باقی کیا رہ جائے گا ( کیونکہ انہیں پر سوار ہو کر اتنی دور دراز کی مسافت بھی تو طے کرنی تھی ) اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! لوگ اگر اپنے اونٹ بھی ذبح کر دیں گے۔ تو پھر اس کے بعد ان کے پاس باقی کیا رہ جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر لوگوں میں اعلان کر دو کہ ( اونٹوں کو ذبح کرنے کے بجائے ) اپنا بچا کچھا توشہ لے کر یہاں آ جائیں۔ ( سب لوگوں نے جو کچھ بھی ان کے پاس کھانے کی چیز باقی بچ گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کر رکھ دی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اور اس میں برکت ہوئی۔ پھر سب کو ان کے برتنوں کے ساتھ آپ نے بلایا۔ سب نے بھربھر کر اس میں سے لیا۔ اور جب سب لوگ فارغ ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔
حدثنا بشر بن مرحوم، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة رضى الله عنه قال خفت ازواد الناس واملقوا، فاتوا النبي صلى الله عليه وسلم في نحر ابلهم، فاذن لهم، فلقيهم عمر فاخبروه فقال ما بقاوكم بعد ابلكم فدخل عمر على النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ما بقاوهم بعد ابلهم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ناد في الناس ياتون بفضل ازوادهم ". فدعا وبرك عليه، ثم دعاهم باوعيتهم، فاحتثى الناس حتى فرغوا، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اشهد ان لا اله الا الله، واني رسول الله
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے، انہیں وہب بن کیسان نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم ( ایک غزوہ پر ) نکلے۔ ہماری تعداد تین سو تھی، ہم اپنا راشن اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے۔ آخر ہمارا توشہ جب ( تقریباً ) ختم ہو گیا، تو ایک شخص کو روزانہ صرف ایک کھجور کھانے کو ملنے لگی۔ ایک شاگرد نے پوچھا، اے ابوعبداللہ! ( جابر رضی اللہ عنہ ) ایک کھجور سے بھلا ایک آدمی کا کیا بنتا ہو گا؟ انہوں نے فرمایا کہ اس کی قدر ہمیں اس وقت معلوم ہوئی جب ایک کھجور بھی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ اس کے بعد ہم دریا پر آئے تو ایک ایسی مچھلی ملی جسے دریا نے باہر پھینک دیا تھا۔ اور ہم اٹھارہ دن تک خوب جی بھر کر اسی کو کھاتے رہے۔
حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا عبدة، عن هشام، عن وهب بن كيسان، عن جابر رضى الله عنه قال خرجنا ونحن ثلاثماية نحمل زادنا على رقابنا، ففني زادنا، حتى كان الرجل منا ياكل في كل يوم تمرة. قال رجل يا ابا عبد الله، واين كانت التمرة تقع من الرجل قال لقد وجدنا فقدها حين فقدناها، حتى اتينا البحر فاذا حوت قد قذفه البحر، فاكلنا منها ثمانية عشر يوما ما احببنا
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن اسود نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! آپ کے اصحاب حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس جا رہے ہیں اور میں صرف حج کر پائی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جاؤ ( عمرہ کر آؤ ) عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ) تمہیں اپنی سواری کے پیچھے بٹھا لیں گے۔ چنانچہ آپ نے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ تنعیم سے ( احرام باندھ کر ) عائشہ رضی اللہ عنہا کو عمرہ کرا لائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عرصہ میں مکہ کے بالائی علاقہ پر ان کا انتظار کیا۔ یہاں تک کہ وہ آ گئیں۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا ابو عاصم، حدثنا عثمان بن الاسود، حدثنا ابن ابي مليكة، عن عايشة رضى الله عنها انها قالت يا رسول الله، يرجع اصحابك باجر حج وعمرة، ولم ازد على الحج. فقال لها " اذهبي وليردفك عبد الرحمن ". فامر عبد الرحمن ان يعمرها من التنعيم، فانتظرها رسول الله صلى الله عليه وسلم باعلى مكة حتى جاءت
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عمرو بن اوس نے اور ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا کہ اپنی سواری پر اپنے پیچھے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بٹھا کر لے جاؤں اور تنعیم سے ( احرام باندھ کر ) انہیں عمرہ کرا لاؤں۔
حدثني عبد الله، حدثنا ابن عيينة، عن عمرو بن دينار، عن عمرو بن اوس، عن عبد الرحمن بن ابي بكر الصديق رضى الله عنهما قال امرني النبي صلى الله عليه وسلم ان اردف عايشة واعمرها من التنعيم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی سواری پر ان کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ تمام صحابہ حج اور عمرہ دونوں ہی کے لیے ایک ساتھ لبیک کہہ رہے تھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن ابي قلابة، عن انس رضى الله عنه قال كنت رديف ابي طلحة، وانهم ليصرخون بهما جميعا الحج والعمرة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصفوان نے بیان کیا، ان سے یونس بن یزید نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر اس کی پالان رکھ کر سوار ہوئے۔ جس پر ایک چادر بچھی ہوئی تھی اور اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ نے اپنے پیچھے بٹھا رکھا تھا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو صفوان، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن عروة، عن اسامة بن زيد رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم ركب على حمار، على اكاف عليه قطيفة، واردف اسامة وراءه
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، انہیں نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے بالائی علاقے سے اپنی سواری پر تشریف لائے۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری پر پیچھے بٹھا دیا تھا اور آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ بھی جو کعبہ کے کلید بردار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد الحرام میں اپنی سواری بٹھا دی اور عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا کہ بیت اللہ الحرام کی کنجی لائیں۔ انہوں نے کعبہ کا دروازہ کھول دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسامہ، بلال اور عثمان رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر تک اندر ٹھہرے رہے۔ اور جب باہر تشریف لائے تو صحابہ نے ( اندر جانے کے لیے ) ایک دوسرے سے آگے ہونے کی کوشش کی سب سے پہلے اندر داخل ہونے والے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے۔ انہوں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دروازے کے پیچھے کھڑا پایا اور ان سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کہاں پڑھی ہے؟ انہوں نے اس جگہ کی طرف اشارہ کیا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ مجھے یہ پوچھنا یاد نہیں رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، قال يونس اخبرني نافع، عن عبد الله رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اقبل يوم الفتح من اعلى مكة على راحلته، مردفا اسامة بن زيد ومعه بلال ومعه عثمان بن طلحة من الحجبة، حتى اناخ في المسجد، فامره ان ياتي بمفتاح البيت، ففتح ودخل رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه اسامة وبلال وعثمان، فمكث فيها نهارا طويلا ثم خرج، فاستبق الناس، وكان عبد الله بن عمر اول من دخل، فوجد بلالا وراء الباب قايما، فساله اين صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشار له الى المكان الذي صلى فيه، قال عبد الله فنسيت ان اساله كم صلى من سجدة
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہوتا ہے۔ ہر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر اگر وہ انسانوں کے درمیان انصاف کرے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور کسی کو سواری کے معاملے میں اگر مدد پہنچائے، اس طرح پر کہ اسے اس پر سوار کرائے یا اس کا سامان اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی ایک صدقہ ہے اور اچھی بات منہ سے نکالنا بھی ایک صدقہ ہے اور ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور اگر کوئی راستے سے کسی تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دے تو وہ بھی ایک صدقہ ہے۔“
حدثني اسحاق، اخبرنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل سلامى من الناس عليه صدقة كل يوم تطلع فيه الشمس، يعدل بين الاثنين صدقة، ويعين الرجل على دابته، فيحمل عليها، او يرفع عليها متاعه صدقة، والكلمة الطيبة صدقة، وكل خطوة يخطوها الى الصلاة صدقة، ويميط الاذى عن الطريق صدقة
سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانے سے منع فرمایا تھا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى ان يسافر بالقران الى ارض العدو
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں داخل تھے۔ اتنے میں وہاں کے رہنے والے ( یہودی ) پھاوڑے اپنی گردنوں پر لیے ہوئے نکلے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( مع آپ کے لشکر کے ) دیکھا تو چلا اٹھے کہ یہ محمد لشکر کے ساتھ ( آ گئے ) محمد لشکر کے ساتھ، محمد لشکر کے ساتھ! ( صلی اللہ علیہ وسلم ) چنانچہ وہ سب بھاگ کر قلعہ میں پناہ گزیں ہو گئے۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور نعرہ تکبیر بلند فرمایا، ساتھ ہی ارشاد ہوا کہ خیبر تو تباہ ہو چکا۔ کہ جب کسی قوم کے آنگن میں ہم اتر آتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔ اور انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم کو گدھے مل گئے، اور ہم نے انہیں ذبح کر کے پکانا شروع کر دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ پکارا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھے کے گوشت سے منع کرتے ہیں۔ چنانچہ ہانڈیوں میں جو کچھ تھا سب الٹ دیا گیا۔ اس روایت کی متابعت علی نے سفیان سے کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے تھے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن ايوب، عن محمد، عن انس رضى الله عنه قال صبح النبي صلى الله عليه وسلم خيبر وقد خرجوا بالمساحي على اعناقهم، فلما راوه قالوا هذا محمد والخميس، محمد والخميس. فلجيوا الى الحصن، فرفع النبي صلى الله عليه وسلم يديه وقال " الله اكبر، خربت خيبر، انا اذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين ". واصبنا حمرا فطبخناها، فنادى منادي النبي صلى الله عليه وسلم ان الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر، فاكفيت القدور بما فيها. تابعه علي عن سفيان رفع النبي صلى الله عليه وسلم يديه
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عاصم نے، ان سے ابوعثمان نے، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جب ہم کسی وادی میں اترتے تو «لا إله إلا الله» اور «الله اكبر» کہتے اور ہماری آواز بلند ہو جاتی اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنی جانوں پر رحم کھاؤ، کیونکہ تم کسی بہرے یا غائب اللہ کو نہیں پکار رہے ہو۔ وہ تو تمہارے ساتھ ہی ہے۔ بیشک وہ سننے والا اور تم سے بہت قریب ہے۔ برکتوں والا ہے۔ اس کا نام اور اس کی عظمت بہت ہی بڑی ہے۔“
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن عاصم، عن ابي عثمان، عن ابي موسى الاشعري رضى الله عنه قال كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فكنا اذا اشرفنا على واد هللنا وكبرنا ارتفعت اصواتنا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " يا ايها الناس، اربعوا على انفسكم، فانكم لا تدعون اصم ولا غايبا، انه معكم، انه سميع قريب، تبارك اسمه وتعالى جده
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب ہم ( کسی بلندی پر ) چڑھتے، تو «الله اكبر» کہتے اور جب ( کسی نشیب میں ) اترتے تو «سبحان الله» کہتے تھے۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن حصين بن عبد الرحمن، عن سالم بن ابي الجعد، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال كنا اذا صعدنا كبرنا، واذا نزلنا سبحنا
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حصین نے، ان سے سالم نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم بلندی پر چڑھتے تو «الله اكبر» کہتے اور نشیب میں اترتے تو «سبحان الله» کہتے تھے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن شعبة، عن حصين، عن سالم، عن جابر رضى الله عنه قال كنا اذا صعدنا كبرنا، واذا تصوبنا سبحنا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حج یا عمرہ سے واپس ہوتے جہاں تک میں سمجھتا ہوں یوں کہا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد سے لوٹتے، تو جب بھی آپ کسی بلندی پر چڑھتے یا ( نشیب سے ) کنکریلے میدان میں آتے تو تین مرتبہ «الله اكبر» کہتے۔ پھر فرماتے «لا إله إلا الله، وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون، صدق الله وعده، ونصر عبده، وهزم الأحزاب وحده .» ”اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ ملک اس کا ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں اور وہ ہر کام پر قدرت رکھتا ہے۔ ہم واپس ہو رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے، عبادت کرتے ہوئے۔ اپنے رب کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوتے اور اس کی حمد پڑھتے ہوئے، اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا ( کفار کی ) تمام جماعتوں کو شکست دے دی۔“ صالح نے کہا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے پوچھا کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے لفظ «آيبون» کے بعد «إن شاء الله» نہیں کہا تھا تو انہوں نے بتایا کہ نہیں۔
حدثنا عبد الله، قال حدثني عبد العزيز بن ابي سلمة، عن صالح بن كيسان، عن سالم بن عبد الله، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا قفل من الحج او العمرة ولا اعلمه الا قال الغزو يقول كلما اوفى على ثنية او فدفد كبر ثلاثا ثم قال " لا اله الا الله، وحده لا شريك له، له الملك، وله الحمد، وهو على كل شىء قدير، ايبون تايبون عابدون ساجدون لربنا حامدون، صدق الله وعده، ونصر عبده، وهزم الاحزاب وحده ". قال صالح فقلت له الم يقل عبد الله ان شاء الله قال لا
ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عوام بن حوشب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم ابواسماعیل سکسکی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے سنا، وہ اور یزید بن ابی کبشہ ایک سفر میں ساتھ تھے اور یزید سفر کی حالت میں بھی روزہ رکھا کرتے تھے۔ ابوبردہ نے کہا کہ میں نے ( اپنے والد ) ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بارہا سنا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لیے ان تمام عبادات کا ثواب لکھا جاتا ہے جنہیں اقامت یا صحت کے وقت یہ کیا کرتا تھا۔
حدثنا مطر بن الفضل، حدثنا يزيد بن هارون، حدثنا العوام، حدثنا ابراهيم ابو اسماعيل السكسكي، قال سمعت ابا بردة، واصطحب، هو ويزيد بن ابي كبشة في سفر، فكان يزيد يصوم في السفر فقال له ابو بردة سمعت ابا موسى مرارا يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا مرض العبد او سافر، كتب له مثل ما كان يعمل مقيما صحيحا
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا کہ ہم سے محمد بن منکدر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک کام کے لیے ) غزوہ خندق کے موقع پر صحابہ کو پکارا، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے کہا کہ میں حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو پکارا، اور اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے کو پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پکارا اور پھر زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے آپ کو پیش کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آخر فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں۔ سفیان نے کہا کہ حواری کے معنی معاون، مددگار کے ہیں ( یا وفادار محرم راز کو حواری کہا گیا ہے ) ۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا محمد بن المنكدر، قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما يقول ندب النبي صلى الله عليه وسلم الناس يوم الخندق، فانتدب الزبير، ثم ندبهم فانتدب الزبير، ثم ندبهم فانتدب الزبير، قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان لكل نبي حواريا، وحواري الزبير ". قال سفيان الحواري الناصر
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ (دوسری سند) ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جتنا میں جانتا ہوں، اگر لوگوں کو بھی اکیلے سفر ( کی برائیوں ) کے متعلق اتنا علم ہوتا تو کوئی سوار رات میں اکیلا سفر نہ کرتا۔“
حدثنا ابو الوليد، حدثنا عاصم بن محمد، قال حدثني ابي، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم. حدثنا ابو نعيم، حدثنا عاصم بن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر، عن ابيه، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو يعلم الناس ما في الوحدة ما اعلم ما سار راكب بليل وحده
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، انہیں ان کے والد نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجۃ الوداع کے سفر کی رفتار کے متعلق پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس کس چال پر چلتے، یحییٰ نے کہا عروہ نے یہ بھی کہا تھا ( کہ میں سن رہا تھا ) لیکن میں اس کا کہنا بھول گیا۔ غرض اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذرا تیز چلتے جب فراخ جگہ پاتے تو سواری کو دوڑا دیتے۔ «نص» اونٹ کی چال جو «عنق.» سے تیز ہوتی ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، عن هشام، قال اخبرني ابي قال، سيل اسامة بن زيد رضى الله عنهما كان يحيى يقول وانا اسمع فسقط عني عن مسير النبي صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع، قال فكان يسير العنق، فاذا وجد فجوة نص. والنص فوق العنق
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکہ کے راستے میں تھا، اتنے میں ان کو صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا ( ان کی بیوی ) کے متعلق سخت بیماری کی خبر ملی۔ چنانچہ آپ نے تیز چلنا شروع کر دیا اور جب ( سورج غروب ہونے کے بعد ) شفق ڈوب گئی تو آپ سواری سے اترے اور مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر پڑھی، پھر کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ سفر کرنا چاہتے تو مغرب میں تاخیر کر کے دونوں نمازیں ( مغرب اور عشاء ) ایک ساتھ ادا فرماتے۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، اخبرنا محمد بن جعفر، قال اخبرني زيد هو ابن اسلم عن ابيه، قال كنت مع عبد الله بن عمر رضى الله عنهما بطريق مكة، فبلغه عن صفية بنت ابي عبيد شدة وجع، فاسرع السير حتى اذا كان بعد غروب الشفق، ثم نزل فصلى المغرب والعتمة، يجمع بينهما، وقال اني رايت النبي صلى الله عليه وسلم اذا جد به السير اخر المغرب وجمع بينهما
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوبکر کے مولیٰ سمی نے، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سفر کیا ہے گویا عذاب کا ایک ٹکڑا ہے، آدمی کی نیند، کھانے پینے سب میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔ اس لیے جب مسافر اپنا کام پورا کر لے تو اسے جلدی گھر واپس آ جانا چاہئے۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن سمى، مولى ابي بكر عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " السفر قطعة من العذاب، يمنع احدكم نومه وطعامه وشرابه، فاذا قضى احدكم نهمته فليعجل الى اهله