Loading...

Loading...
کتب
۳۰۹ احادیث
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ) رخصت دی تھی یا ( یہ بیان کیا کہ ) رخصت دی گئی تھی، ان دونوں حضرات کو خارش کی وجہ سے جو ان کو لاحق ہو گئی تھی۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، سمعت قتادة، عن انس، رخص او رخص لحكة بهما
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے جعفر بن عمرو بن امیہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شانے کا گوشت ( چھری سے ) کاٹ کر کھا رہے تھے، پھر نماز کے لیے اذان ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔ ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی اور انہیں زہری نے ( اس روایت میں ) یہ زیادتی بھی موجود ہے کہ ( جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے بلائے گئے تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھری ڈال دی۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن جعفر بن عمرو بن امية، عن ابيه، قال رايت النبي صلى الله عليه وسلم ياكل من كتف يحتز منها، ثم دعي الى الصلاة فصلى ولم يتوضا. حدثنا ابو اليمان اخبرنا شعيب عن الزهري وزاد فالقى السكين
ہم سے اسحاق بن یزید دمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ثور بن یزید نے بیان کیا، ان سے خالد بن معدان نے اور ان سے عمیر بن اسود عنسی نے بیان کیا کہ وہ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ کا قیام ساحل حمص پر اپنے ہی ایک مکان میں تھا اور آپ کے ساتھ ( آپ کی بیوی ) ام حرام رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ عمیر نے بیان کیا کہ ہم سے ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میری امت کا سب سے پہلا لشکر جو دریائی سفر کر کے جہاد کے لیے جائے گا، اس نے ( اپنے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت ) واجب کر لی۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے کہا تھا یا رسول اللہ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، تم بھی ان کے ساتھ ہو گی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب سے پہلا لشکر میری امت کا جو قیصر ( رومیوں کے بادشاہ ) کے شہر ( قسطنطنیہ ) پر چڑھائی کرے گا ان کی مغفرت ہو گی۔ میں نے کہا میں بھی ان کے ساتھ ہوں گی یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔
حدثني اسحاق بن يزيد الدمشقي، حدثنا يحيى بن حمزة، قال حدثني ثور بن يزيد، عن خالد بن معدان، ان عمير بن الاسود العنسي، حدثه انه، اتى عبادة بن الصامت وهو نازل في ساحل حمص، وهو في بناء له ومعه ام حرام، قال عمير فحدثتنا ام حرام انها سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اول جيش من امتي يغزون البحر قد اوجبوا ". قالت ام حرام قلت يا رسول الله انا فيهم. قال " انت فيهم ". ثم قال النبي صلى الله عليه وسلم " اول جيش من امتي يغزون مدينة قيصر مغفور لهم ". فقلت انا فيهم يا رسول الله. قال " لا
ہم سے اسحاق بن محمد فروی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( ایک دور آئے گا جب ) تم یہودیوں سے جنگ کرو گے۔ ( اور وہ شکست کھا کر بھاگتے پھریں گے ) کوئی یہودی اگر پتھر کے پیچھے چھپ جائے گا تو وہ پتھر بھی بول اٹھے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا بیٹھا ہے اسے قتل کر ڈال۔“
حدثنا اسحاق بن محمد الفروي، حدثنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " تقاتلون اليهود حتى يختبي احدهم وراء الحجر فيقول يا عبد الله هذا يهودي ورايي فاقتله
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو جریر نے خبر دی عمارہ بن قعقاع سے، انہیں ابوزرعہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک یہودی سے تمہاری جنگ نہ ہو لے گی اور وہ پتھر بھی اس وقت ( اللہ تعالیٰ کے حکم سے ) بول اٹھیں گے جس کے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہو گا کہ اے مسلمان! یہ یہودی میری آڑ لے کر چھپا ہوا ہے اسے قتل کر ڈالو۔“
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، اخبرنا جرير، عن عمارة بن القعقاع، عن ابي زرعة، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا اليهود حتى يقول الحجر وراءه اليهودي يا مسلم، هذا يهودي ورايي فاقتله
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ان سے جریر بن حازم نے بیان کیا، کہا میں نے حسن سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن تغلب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جو بالوں کی جوتیاں پہنے ہوں گے ( یا ان کے بال بہت لمبے ہوں گے ) اور قیامت کی ایک نشانی یہ ہے کہ ان لوگوں سے لڑو گے جن کے منہ چوڑے چوڑے ہوں گے گویا ڈھالیں ہیں چمڑا جمی ہوئی ( یعنی بہت موٹے منہ والے ہوں گے ) ۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا جرير بن حازم، قال سمعت الحسن، يقول حدثنا عمرو بن تغلب، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان من اشراط الساعة ان تقاتلوا قوما ينتعلون نعال الشعر، وان من اشراط الساعة ان تقاتلوا قوما عراض الوجوه، كان وجوههم المجان المطرقة
ہم سے سعید بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کر لو گے، جن کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، چہرے سرخ ہوں گے، ناک موٹی پھیلی ہوئی ہو گی، ان کے چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بند چمڑا لگی ہوئی ہوتی ہے اور قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کر لو گے جن کے جوتے بال کے بنے ہوئے ہوں گے۔“
حدثنا سعيد بن محمد، حدثنا يعقوب، حدثنا ابي، عن صالح، عن الاعرج، قال قال ابو هريرة رضى الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا الترك صغار الاعين، حمر الوجوه، ذلف الانوف، كان وجوههم المجان المطرقة، ولا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے لڑائی نہ کر لو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تم ایک ایسی قوم سے جنگ نہ کر لو گے جن کے چہرے تہ شدہ ڈھالوں جیسے ہوں گے۔“ سفیان نے بیان کیا کہ اس میں ابوالزناد نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ زیادہ نقل کیا کہ ان کی آنکھیں چھوٹی ہوں گی، ناک موٹی، چہرے ایسے ہوں گے جیسے تہ بتہ چمڑہ لگی ڈھال ہوتی ہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال الزهري عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما نعالهم الشعر، ولا تقوم الساعة حتى تقاتلوا قوما كان وجوههم المجان المطرقة ". قال سفيان وزاد فيه ابو الزناد عن الاعرج عن ابي هريرة، رواية " صغار الاعين، ذلف الانوف، كان وجوههم المجان المطرقة
ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے ایک صاحب نے پوچھا تھا کہ ابوعمارہ! کیا آپ لوگوں نے حنین کی لڑائی میں فرار اختیار کیا تھا؟ براء رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں اللہ کی قسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پشت ہرگز نہیں پھیری تھی۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں جو نوجوان تھے بے سروسامان جن کے پاس نہ زرہ تھی، نہ خود اور کوئی ہتھیار بھی نہیں لے گئے تھے، انہوں نے ضرور میدان چھوڑ دیا تھا کیونکہ مقابلہ میں ہوازن اور بنو نصر کے بہترین تیرانداز تھے کہ کم ہی ان کا کوئی تیر خطا جاتا۔ چنانچہ انہوں نے خوب تیر برسائے اور شاید ہی کوئی نشانہ ان کا خطا ہوا ہو ( اس دوران میں مسلمان ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر جمع ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچیرے بھائی ابوسفیان بن حارث ابن عبدالمطلب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سواری سے اتر کر اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا مانگی۔ پھر فرمایا: «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب» ”میں نبی ہوں اس میں غلط بیانی کا کوئی شائبہ نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی ( نئے طریقے پر ) صف بندی کی۔
حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا زهير، حدثنا ابو اسحاق، قال سمعت البراء، وساله، رجل اكنتم فررتم يا ابا عمارة يوم حنين قال لا، والله ما ولى رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولكنه خرج شبان اصحابه واخفاوهم حسرا ليس بسلاح، فاتوا قوما رماة، جمع هوازن وبني نصر، ما يكاد يسقط لهم سهم، فرشقوهم رشقا ما يكادون يخطيون، فاقبلوا هنالك الى النبي صلى الله عليه وسلم وهو على بغلته البيضاء، وابن عمه ابو سفيان بن الحارث بن عبد المطلب يقود به، فنزل واستنصر ثم قال انا النبي لا كذب انا ابن عبد المطلب ثم صف اصحابه
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو عیسیٰ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام نے بیان کیا، ان سے محمد نے، ان سے عبیدہ نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ احزاب ( خندق ) کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مشرکین کو ) یہ بددعا دی کہ اے اللہ! ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ انہوں نے ہم کو صلوٰۃ وسطیٰ ( عصر کی نماز ) نہیں پڑھنے دی ( یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا ) جب سورج غروب ہو چکا تھا اور عصر کی نماز قضاء ہو گئی تھی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا عيسى، حدثنا هشام، عن محمد، عن عبيدة، عن علي رضى الله عنه قال لما كان يوم الاحزاب قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ملا الله بيوتهم وقبورهم نارا، شغلونا عن الصلاة الوسطى حين غابت الشمس
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ابن ذکوان نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( صبح کی ) دعائے قنوت میں ( دوسری رکعت کے رکوع کے بعد ) یہ دعا پڑھتے تھے «اللهم أنج سلمة بن هشام، اللهم أنج الوليد بن الوليد، اللهم أنج عياش بن أبي ربيعة، اللهم أنج المستضعفين من المؤمنين، اللهم اشدد وطأتك على مضر، اللهم سنين كسني يوسف» ”اے اللہ سلمہ بن ہشام کو نجات دے، ولید بن ولید کو نجات دے، اے اللہ! عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! تمام کمزور مسلمانوں کو نجات دے۔ ( جو مکہ میں مشرکین کی سختیاں جھیل رہے ہیں ) اے اللہ! مضر پر اپنا سخت عذاب نازل کر۔ اے اللہ ایسا قحط نازل کر جیسا یوسف علیہ السلام کے زمانہ میں پڑا تھا۔“
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن ابن ذكوان، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يدعو في القنوت " اللهم انج سلمة بن هشام، اللهم انج الوليد بن الوليد، اللهم انج عياش بن ابي ربيعة، اللهم انج المستضعفين من المومنين، اللهم اشدد وطاتك على مضر، اللهم سنين كسني يوسف
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی اور انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی تھی «اللهم منزل الكتاب سريع الحساب، اللهم اهزم الأحزاب، اللهم اهزمهم وزلزلهم» ”اے اللہ! کتاب کے نازل کرنے والے ( قیامت کے دن ) حساب بڑی سرعت سے لینے والے، اے اللہ! مشرکوں اور کفار کی جماعتوں کو ( جو مسلمانوں کا استیصال کرنے آئی ہیں ) شکست دے۔ اے اللہ! انہیں شکست دے اور انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دے۔“
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا اسماعيل بن ابي خالد، انه سمع عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنهما يقول دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الاحزاب على المشركين فقال " اللهم منزل الكتاب سريع الحساب، اللهم اهزم الاحزاب، اللهم اهزمهم وزلزلهم
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، ہم سے سفیان ثوری نے، ان سے ابواسحاق نے، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے میں نماز پڑھ رہے تھے، ابوجہل اور قریش کے بعض دوسرے لوگوں نے کہا کہ اونٹ کی اوجھڑی لا کر کون ان پر ڈالے گا؟ مکہ کے کنارے ایک اونٹ ذبح ہوا تھا ( اور اسی کی اوجھڑی لانے کے واسطے ) ان سب نے اپنے آدمی بھیجے اور وہ اس اونٹ کی اوجھڑی اٹھا لائے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر ( نماز پڑھتے ہوئے ) ڈال دیا۔ اس کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر سے اس گندگی کو ہٹایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ بددعا کی «اللهم عليك بقريش، اللهم عليك بقريش، اللهم عليك بقريش . لأبي جهل بن هشام، وعتبة بن ربيعة، وشيبة بن ربيعة، والوليد بن عتبة، وأبى بن خلف، وعقبة بن أبي معيط.» ”اے اللہ! قریش کو پکڑ، اے اللہ! قریش کو پکڑ، ابوجہل بن ہشام، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، ابی بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط سب کو پکڑ لے۔“ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا چنانچہ میں نے ان سب کو جنگ بدر میں بدر کے کنوئیں میں دیکھا کہ سب کو قتل کر کے اس میں ڈال دیا گیا تھا۔ ابواسحاق نے کہا کہ میں ساتویں شخص کا ( جس کے حق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا کی تھی نام ) بھول گیا اور یوسف بن ابی اسحاق نے کہا کہ ان سے ابواسحاق نے ( سفیان کی روایت میں ابی بن خلف کی بجائے ) امیہ بن خلف بیان کیا اور شعبہ نے کہا کہ امیہ یا ابی ( شک کے ساتھ ہے ) لیکن صحیح امیہ ہے۔
حدثنا عبد الله بن ابي شيبة، حدثنا جعفر بن عون، حدثنا سفيان، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في ظل الكعبة، فقال ابو جهل وناس من قريش، ونحرت جزور بناحية مكة، فارسلوا فجاءوا من سلاها، وطرحوه عليه، فجاءت فاطمة فالقته عنه، فقال " اللهم عليك بقريش، اللهم عليك بقريش، اللهم عليك بقريش ". لابي جهل بن هشام، وعتبة بن ربيعة، وشيبة بن ربيعة، والوليد بن عتبة، وابى بن خلف، وعقبة بن ابي معيط. قال عبد الله فلقد رايتهم في قليب بدر قتلى. قال ابو اسحاق ونسيت السابع. وقال يوسف بن اسحاق عن ابي اسحاق امية بن خلف. وقال شعبة امية او ابى. والصحيح امية
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ بعض یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا «السام عليك.» ( تم پر موت آئے ) میں نے ان پر لعنت بھیجی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہوئی؟“ میں نے کہا کیا انہوں نے ابھی جو کہا تھا آپ نے نہیں سنا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا اور تم نے نہیں سنا کہ میں نے اس کا کیا جواب دیا «وعليكم» یعنی تم پر بھی وہی آئے ( یعنی میں نے کوئی برا لفظ زبان سے نہیں نکالا صرف ان کی بات ان ہی پر لوٹا دی ) ۔“
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ايوب، عن ابن ابي مليكة، عن عايشة رضى الله عنها ان اليهود، دخلوا على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا السام عليك. فلعنتهم. فقال " ما لك ". قلت اولم تسمع ما قالوا قال " فلم تسمعي ما قلت وعليكم
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی، کہا مجھے میرے بھتیجے ابن شہاب نے خبر دی، ان سے ان کے چچا نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( روم کے بادشاہ ) قیصر کو ( خط ) لکھا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی لکھا تھا کہ اگر تم نے ( اسلام کی دعوت سے ) منہ موڑا تو ( اپنے گناہ کے ساتھ ) ان کاشتکاروں کا بھی گناہ تم پر پڑے گا ( جن پر تم حکمرانی کر رہے ہو ) ۔
حدثنا اسحاق، اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابن اخي ابن شهاب، عن عمه، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، ان عبد الله بن عباس رضى الله عنهما اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب الى قيصر، وقال " فان توليت فان عليك اثم الاريسيين
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! قبیلہ دوس کے لوگ سرکشی پر اتر آئے ہیں اور اللہ کا کلام سننے سے انکار کرتے ہیں۔ آپ ان پر بددعا کیجئے! بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ اب دوس کے لوگ برباد ہو جائیں گے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم اهد دوسا وائت بهم» ”اے اللہ! دوس کے لوگوں کو ہدایت دے اور انہیں ( دائرہ اسلام میں ) کھینچ لا۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، ان عبد الرحمن، قال قال ابو هريرة رضى الله عنه قدم طفيل بن عمرو الدوسي واصحابه على النبي صلى الله عليه وسلم فقالوا يا رسول الله، ان دوسا عصت وابت، فادع الله عليها. فقيل هلكت دوس. قال " اللهم اهد دوسا وايت بهم
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی قتادہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ بیان کرتے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ روم کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ وہ لوگ کوئی خط اس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک وہ سربمہر نہ ہو، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ گویا دست مبارک پر اس کی سفیدی میری نظروں کے سامنے ہے۔ اس انگوٹھی پر ”محمد رسول اللہ“ کھدا ہوا تھا۔
حدثنا علي بن الجعد، اخبرنا شعبة، عن قتادة، قال سمعت انسا رضى الله عنه يقول لما اراد النبي صلى الله عليه وسلم ان يكتب الى الروم، قيل له انهم لا يقرءون كتابا الا ان يكون مختوما. فاتخذ خاتما من فضة، فكاني انظر الى بياضه في يده، ونقش فيه محمد رسول الله
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خط کسریٰ کے پاس بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایلچی سے ) یہ فرمایا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کو بحرین کے گورنر کو دے دیں، بحرین کا گورنر اسے کسریٰ کے دربار میں پہنچا دے گا۔ جب کسریٰ نے مکتوب مبارک پڑھا تو اسے اس نے پھاڑ ڈالا۔ مجھے یاد ہے کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا تھا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بددعا کی تھی کہ وہ بھی پارہ پارہ ہو جائے ( چنانچہ ایسا ہی ہوا ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، ان عبد الله بن عباس، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بعث بكتابه الى كسرى، فامره ان يدفعه الى عظيم البحرين، يدفعه عظيم البحرين الى كسرى، فلما قراه كسرى خرقه، فحسبت ان سعيد بن المسيب قال فدعا عليهم النبي صلى الله عليه وسلم ان يمزقوا كل ممزق
حدثنا ابراهيم بن حمزة، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عبد الله بن عباس رضى الله عنهما انه اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب الى قيصر يدعوه الى الاسلام، وبعث بكتابه اليه مع دحية الكلبي، وامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يدفعه الى عظيم بصرى ليدفعه الى قيصر، وكان قيصر لما كشف الله عنه جنود فارس مشى من حمص الى ايلياء، شكرا لما ابلاه الله، فلما جاء قيصر كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حين قراه التمسوا لي ها هنا احدا من قومه لاسالهم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال ابن عباس فاخبرني ابو سفيان، انه كان بالشام في رجال من قريش، قدموا تجارا في المدة التي كانت بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين كفار قريش، قال ابو سفيان فوجدنا رسول قيصر ببعض الشام فانطلق بي وباصحابي حتى قدمنا ايلياء، فادخلنا عليه، فاذا هو جالس في مجلس ملكه وعليه التاج، واذا حوله عظماء الروم فقال لترجمانه سلهم ايهم اقرب نسبا الى هذا الرجل الذي يزعم انه نبي قال ابو سفيان فقلت انا اقربهم نسبا. قال ما قرابة ما بينك وبينه فقلت هو ابن عمي، وليس في الركب يوميذ احد من بني عبد مناف غيري. فقال قيصر ادنوه. وامر باصحابي فجعلوا خلف ظهري عند كتفي، ثم قال لترجمانه قل لاصحابه اني سايل هذا الرجل عن الذي يزعم انه نبي، فان كذب فكذبوه. قال ابو سفيان والله لولا الحياء يوميذ من ان ياثر اصحابي عني الكذب لكذبته حين سالني عنه، ولكني استحييت ان ياثروا الكذب عني فصدقته، ثم قال لترجمانه قل له كيف نسب هذا الرجل فيكم قلت هو فينا ذو نسب. قال فهل قال هذا القول احد منكم قبله قلت لا. فقال كنتم تتهمونه على الكذب قبل ان يقول ما قال قلت لا. قال فهل كان من ابايه من ملك قلت لا. قال فاشراف الناس يتبعونه ام ضعفاوهم قلت بل ضعفاوهم. قال فيزيدون او ينقصون قلت بل يزيدون. قال فهل يرتد احد سخطة لدينه بعد ان يدخل فيه قلت لا. قال فهل يغدر قلت لا، ونحن الان منه في مدة، نحن نخاف ان يغدر. قال ابو سفيان ولم يمكني كلمة ادخل فيها شييا انتقصه به لا اخاف ان توثر عني غيرها. قال فهل قاتلتموه او قاتلكم قلت نعم. قال فكيف كانت حربه وحربكم قلت كانت دولا وسجالا، يدال علينا المرة وندال عليه الاخرى. قال فماذا يامركم قال يامرنا ان نعبد الله وحده لا نشرك به شييا، وينهانا عما كان يعبد اباونا، ويامرنا بالصلاة والصدقة والعفاف والوفاء بالعهد واداء الامانة. فقال لترجمانه حين قلت ذلك له قل له اني سالتك عن نسبه فيكم، فزعمت انه ذو نسب، وكذلك الرسل تبعث في نسب قومها، وسالتك هل قال احد منكم هذا القول قبله فزعمت ان لا، فقلت لو كان احد منكم قال هذا القول قبله قلت رجل ياتم بقول قد قيل قبله. وسالتك هل كنتم تتهمونه بالكذب قبل ان يقول ما قال فزعمت ان لا، فعرفت انه لم يكن ليدع الكذب على الناس ويكذب على الله، وسالتك هل كان من ابايه من ملك فزعمت ان لا، فقلت لو كان من ابايه ملك قلت يطلب ملك ابايه. وسالتك اشراف الناس يتبعونه ام ضعفاوهم فزعمت ان ضعفاءهم اتبعوه، وهم اتباع الرسل، وسالتك هل يزيدون او ينقصون فزعمت انهم يزيدون، وكذلك الايمان حتى يتم، وسالتك هل يرتد احد سخطة لدينه بعد ان يدخل فيه فزعمت ان لا، فكذلك الايمان حين تخلط بشاشته القلوب لا يسخطه احد، وسالتك هل يغدر فزعمت ان لا، وكذلك الرسل لا يغدرون. وسالتك هل قاتلتموه وقاتلكم فزعمت ان قد فعل، وان حربكم وحربه تكون دولا، ويدال عليكم المرة وتدالون عليه الاخرى، وكذلك الرسل تبتلى، وتكون لها العاقبة، وسالتك بماذا يامركم فزعمت انه يامركم ان تعبدوا الله ولا تشركوا به شييا، وينهاكم عما كان يعبد اباوكم، ويامركم بالصلاة والصدق والعفاف والوفاء بالعهد، واداء الامانة، قال وهذه صفة النبي، قد كنت اعلم انه خارج، ولكن لم اظن انه منكم، وان يك ما قلت حقا، فيوشك ان يملك موضع قدمى هاتين، ولو ارجو ان اخلص اليه لتجشمت لقيه، ولو كنت عنده لغسلت قدميه. قال ابو سفيان ثم دعا بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقري فاذا فيه " بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبد الله ورسوله، الى هرقل عظيم الروم، سلام على من اتبع الهدى، اما بعد فاني ادعوك بدعاية الاسلام، اسلم تسلم، واسلم يوتك الله اجرك مرتين، فان توليت فعليك اثم الاريسيين و{يا اهل الكتاب تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم ان لا نعبد الا الله ولا نشرك به شييا ولا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون الله فان تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون}". قال ابو سفيان فلما ان قضى مقالته، علت اصوات الذين حوله من عظماء الروم، وكثر لغطهم، فلا ادري ماذا قالوا، وامر بنا فاخرجنا، فلما ان خرجت مع اصحابي وخلوت بهم قلت لهم لقد امر امر ابن ابي كبشة، هذا ملك بني الاصفر يخافه، قال ابو سفيان والله ما زلت ذليلا مستيقنا بان امره سيظهر، حتى ادخل الله قلبي الاسلام وانا كاره
حدثنا ابراهيم بن حمزة، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عبد الله بن عباس رضى الله عنهما انه اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب الى قيصر يدعوه الى الاسلام، وبعث بكتابه اليه مع دحية الكلبي، وامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يدفعه الى عظيم بصرى ليدفعه الى قيصر، وكان قيصر لما كشف الله عنه جنود فارس مشى من حمص الى ايلياء، شكرا لما ابلاه الله، فلما جاء قيصر كتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قال حين قراه التمسوا لي ها هنا احدا من قومه لاسالهم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال ابن عباس فاخبرني ابو سفيان، انه كان بالشام في رجال من قريش، قدموا تجارا في المدة التي كانت بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين كفار قريش، قال ابو سفيان فوجدنا رسول قيصر ببعض الشام فانطلق بي وباصحابي حتى قدمنا ايلياء، فادخلنا عليه، فاذا هو جالس في مجلس ملكه وعليه التاج، واذا حوله عظماء الروم فقال لترجمانه سلهم ايهم اقرب نسبا الى هذا الرجل الذي يزعم انه نبي قال ابو سفيان فقلت انا اقربهم نسبا. قال ما قرابة ما بينك وبينه فقلت هو ابن عمي، وليس في الركب يوميذ احد من بني عبد مناف غيري. فقال قيصر ادنوه. وامر باصحابي فجعلوا خلف ظهري عند كتفي، ثم قال لترجمانه قل لاصحابه اني سايل هذا الرجل عن الذي يزعم انه نبي، فان كذب فكذبوه. قال ابو سفيان والله لولا الحياء يوميذ من ان ياثر اصحابي عني الكذب لكذبته حين سالني عنه، ولكني استحييت ان ياثروا الكذب عني فصدقته، ثم قال لترجمانه قل له كيف نسب هذا الرجل فيكم قلت هو فينا ذو نسب. قال فهل قال هذا القول احد منكم قبله قلت لا. فقال كنتم تتهمونه على الكذب قبل ان يقول ما قال قلت لا. قال فهل كان من ابايه من ملك قلت لا. قال فاشراف الناس يتبعونه ام ضعفاوهم قلت بل ضعفاوهم. قال فيزيدون او ينقصون قلت بل يزيدون. قال فهل يرتد احد سخطة لدينه بعد ان يدخل فيه قلت لا. قال فهل يغدر قلت لا، ونحن الان منه في مدة، نحن نخاف ان يغدر. قال ابو سفيان ولم يمكني كلمة ادخل فيها شييا انتقصه به لا اخاف ان توثر عني غيرها. قال فهل قاتلتموه او قاتلكم قلت نعم. قال فكيف كانت حربه وحربكم قلت كانت دولا وسجالا، يدال علينا المرة وندال عليه الاخرى. قال فماذا يامركم قال يامرنا ان نعبد الله وحده لا نشرك به شييا، وينهانا عما كان يعبد اباونا، ويامرنا بالصلاة والصدقة والعفاف والوفاء بالعهد واداء الامانة. فقال لترجمانه حين قلت ذلك له قل له اني سالتك عن نسبه فيكم، فزعمت انه ذو نسب، وكذلك الرسل تبعث في نسب قومها، وسالتك هل قال احد منكم هذا القول قبله فزعمت ان لا، فقلت لو كان احد منكم قال هذا القول قبله قلت رجل ياتم بقول قد قيل قبله. وسالتك هل كنتم تتهمونه بالكذب قبل ان يقول ما قال فزعمت ان لا، فعرفت انه لم يكن ليدع الكذب على الناس ويكذب على الله، وسالتك هل كان من ابايه من ملك فزعمت ان لا، فقلت لو كان من ابايه ملك قلت يطلب ملك ابايه. وسالتك اشراف الناس يتبعونه ام ضعفاوهم فزعمت ان ضعفاءهم اتبعوه، وهم اتباع الرسل، وسالتك هل يزيدون او ينقصون فزعمت انهم يزيدون، وكذلك الايمان حتى يتم، وسالتك هل يرتد احد سخطة لدينه بعد ان يدخل فيه فزعمت ان لا، فكذلك الايمان حين تخلط بشاشته القلوب لا يسخطه احد، وسالتك هل يغدر فزعمت ان لا، وكذلك الرسل لا يغدرون. وسالتك هل قاتلتموه وقاتلكم فزعمت ان قد فعل، وان حربكم وحربه تكون دولا، ويدال عليكم المرة وتدالون عليه الاخرى، وكذلك الرسل تبتلى، وتكون لها العاقبة، وسالتك بماذا يامركم فزعمت انه يامركم ان تعبدوا الله ولا تشركوا به شييا، وينهاكم عما كان يعبد اباوكم، ويامركم بالصلاة والصدق والعفاف والوفاء بالعهد، واداء الامانة، قال وهذه صفة النبي، قد كنت اعلم انه خارج، ولكن لم اظن انه منكم، وان يك ما قلت حقا، فيوشك ان يملك موضع قدمى هاتين، ولو ارجو ان اخلص اليه لتجشمت لقيه، ولو كنت عنده لغسلت قدميه. قال ابو سفيان ثم دعا بكتاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فقري فاذا فيه " بسم الله الرحمن الرحيم من محمد عبد الله ورسوله، الى هرقل عظيم الروم، سلام على من اتبع الهدى، اما بعد فاني ادعوك بدعاية الاسلام، اسلم تسلم، واسلم يوتك الله اجرك مرتين، فان توليت فعليك اثم الاريسيين و{يا اهل الكتاب تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم ان لا نعبد الا الله ولا نشرك به شييا ولا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون الله فان تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون}". قال ابو سفيان فلما ان قضى مقالته، علت اصوات الذين حوله من عظماء الروم، وكثر لغطهم، فلا ادري ماذا قالوا، وامر بنا فاخرجنا، فلما ان خرجت مع اصحابي وخلوت بهم قلت لهم لقد امر امر ابن ابي كبشة، هذا ملك بني الاصفر يخافه، قال ابو سفيان والله ما زلت ذليلا مستيقنا بان امره سيظهر، حتى ادخل الله قلبي الاسلام وانا كاره