Loading...

Loading...
کتب
۳۰۹ احادیث
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آڑ ایک ہی ڈھال سے کر رہے تھے اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے اچھے تیرانداز تھے۔ جب وہ تیر مارتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر اٹھا کر دیکھتے کہ تیر کہاں جا کر گرا ہے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا الاوزاعي، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال كان ابو طلحة يتترس مع النبي صلى الله عليه وسلم بترس واحد، وكان ابو طلحة حسن الرمى، فكان اذا رمى تشرف النبي صلى الله عليه وسلم فينظر الى موضع نبله
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب احد کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر توڑا گیا اور چہرہ مبارک خون آلود ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دانت شہید ہو گئے تو علی رضی اللہ عنہ ڈھال میں بھربھر کر پانی باربار لا رہے تھے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا زخم کو دھو رہی تھیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ خون پانی سے اور زیادہ نکل رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں پر لگا دیا، جس سے خون آنا بند ہو گیا۔
حدثنا سعيد بن عفير، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن ابي حازم، عن سهل، قال لما كسرت بيضة النبي صلى الله عليه وسلم على راسه وادمي وجهه، وكسرت رباعيته، وكان علي يختلف بالماء في المجن، وكانت فاطمة تغسله، فلما رات الدم يزيد على الماء كثرة عمدت الى حصير، فاحرقتها والصقتها على جرحه، فرقا الدم
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے زہری نے، ان سے مالک بن اوس بن حدثان نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنونضیر کے باغات وغیرہ ان اموال میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بغیر لڑے دے دیا تھا۔ مسلمانوں نے ان کے حاصل کرنے کے لیے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تو یہ اموال خاص طور سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے تھے جن میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج مطہرات کو سالانہ نفقہ کے طور پر بھی دے دیتے تھے اور باقی ہتھیار اور گھوڑوں پر خرچ کرتے تھے تاکہ اللہ کے راستے میں ( جہاد کے لیے ) ہر وقت تیاری رہے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن الزهري، عن مالك بن اوس بن الحدثان، عن عمر رضى الله عنه قال كانت اموال بني النضير مما افاء الله على رسوله صلى الله عليه وسلم مما لم يوجف المسلمون عليه بخيل ولا ركاب، فكانت لرسول الله صلى الله عليه وسلم خاصة، وكان ينفق على اهله نفقة سنته، ثم يجعل ما بقي في السلاح والكراع، عدة في سبيل الله
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا مجھ سے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن شداد نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبداللہ بن شداد نے بیان کیا، کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے بعد میں نے کسی کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ آپ نے خود کو ان پر صدقے کیا ہو۔ میں نے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”تیر برساؤ ( سعد ) تم پر میرے ماں باپ قربان ہوں۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني سعد بن ابراهيم، عن عبد الله بن شداد، عن علي، حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن سعد بن ابراهيم، قال حدثني عبد الله بن شداد، قال سمعت عليا رضى الله عنه يقول ما رايت النبي صلى الله عليه وسلم يفدي رجلا بعد سعد، سمعته يقول " ارم فداك ابي وامي
حدثنا اسماعيل، قال حدثني ابن وهب، قال عمرو حدثني ابو الاسود، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندي جاريتان تغنيان بغناء بعاث، فاضطجع على الفراش وحول وجهه، فدخل ابو بكر فانتهرني وقال مزمارة الشيطان عند رسول الله صلى الله عليه وسلم. فاقبل عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " دعهما ". فلما غفل غمزتهما فخرجتا. قالت وكان يوم عيد يلعب السودان بالدرق والحراب، فاما سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم واما قال " تشتهين تنظرين ". فقالت نعم. فاقامني وراءه خدي على خده ويقول " دونكم بني ارفدة ". حتى اذا مللت قال " حسبك ". قلت نعم. قال " فاذهبي ". قال احمد عن ابن وهب، فلما غفل
حدثنا اسماعيل، قال حدثني ابن وهب، قال عمرو حدثني ابو الاسود، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندي جاريتان تغنيان بغناء بعاث، فاضطجع على الفراش وحول وجهه، فدخل ابو بكر فانتهرني وقال مزمارة الشيطان عند رسول الله صلى الله عليه وسلم. فاقبل عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " دعهما ". فلما غفل غمزتهما فخرجتا. قالت وكان يوم عيد يلعب السودان بالدرق والحراب، فاما سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم واما قال " تشتهين تنظرين ". فقالت نعم. فاقامني وراءه خدي على خده ويقول " دونكم بني ارفدة ". حتى اذا مللت قال " حسبك ". قلت نعم. قال " فاذهبي ". قال احمد عن ابن وهب، فلما غفل
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ خوبصورت اور سب سے زیادہ بہادر تھے۔ ایک رات مدینہ پر ( ایک آواز سن کر ) بڑا خوف چھا گیا تھا، سب لوگ اس آواز کی طرف بڑھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے آگے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی واقعہ کی تحقیق کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے پر سوار تھے جس کی پشت ننگی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن سے تلوار لٹک رہی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ ڈرو مت۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم نے تو گھوڑے کو سمندر کی طرح تیز پایا ہے یا یہ فرمایا کہ گھوڑا جیسے سمندر ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن انس رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم احسن الناس واشجع الناس، ولقد فزع اهل المدينة ليلة فخرجوا نحو الصوت فاستقبلهم النبي صلى الله عليه وسلم وقد استبرا الخبر، وهو على فرس لابي طلحة عرى وفي عنقه السيف وهو يقول " لم تراعوا لم تراعوا ". ثم قال " وجدناه بحرا ". او قال " انه لبحر
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو اوزاعی نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن حبیب سے سنا، کہا میں نے ابوامامہ باہلی سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ ایک قوم ( صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین ) نے بہت سی فتوحات کیں اور ان کی تلواروں کی آرائش سونے چاندی سے نہیں ہوئی تھی بلکہ اونٹ کی پشت کا چمڑہ، سیسہ اور لوہا ان کی تلواروں کے زیور تھے۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا الاوزاعي، قال سمعت سليمان بن حبيب، قال سمعت ابا امامة، يقول لقد فتح الفتوح قوم ما كانت حلية سيوفهم الذهب ولا الفضة، انما كانت حليتهم العلابي والانك والحديد
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ سے سنان بن ابی سنان الدولی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کے اطراف میں ایک غزوہ میں شریک تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد سے واپس ہوئے تو آپ کے ساتھ یہ بھی واپس ہوئے۔ راستے میں قیلولہ کا وقت ایک ایسی وادی میں ہوا جس میں ببول کے درخت بکثرت تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وادی میں پڑاؤ کیا اور صحابہ پوری وادی میں ( درخت کے سائے کے لیے ) پھیل گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک ببول کے نیچے قیام فرمایا اور اپنی تلوار درخت پر لٹکا دی۔ ہم سب سو گئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پکارنے کی آواز سنائی دی، دیکھا گیا تو ایک بدوی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس نے غفلت میں میری ہی تلوار مجھ پر کھینچ لی تھی اور میں سویا ہوا تھا، جب بیدار ہوا تو ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے کہا مجھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! تین مرتبہ ( میں نے اسی طرح کہا اور تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر گئی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعرابی کو کوئی سزا نہیں دی بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے ( پھر وہ خود متاثر ہو کر اسلام لایا ) ۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال حدثني سنان بن ابي سنان الدولي، وابو سلمة بن عبد الرحمن ان جابر بن عبد الله رضى الله عنهما اخبر انه، غزا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل نجد، فلما قفل رسول الله صلى الله عليه وسلم قفل معه، فادركتهم القايلة في واد كثير العضاه، فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم وتفرق الناس يستظلون بالشجر، فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم تحت سمرة وعلق بها سيفه ونمنا نومة، فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعونا واذا عنده اعرابي فقال " ان هذا اخترط على سيفي وانا نايم، فاستيقظت وهو في يده صلتا ". فقال من يمنعك مني فقلت " الله ". ثلاثا ولم يعاقبه وجلس
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے کہ ان سے احد کی لڑائی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخمی ہونے کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتلایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر زخم آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دانت ٹوٹ گئے تھے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر مبارک پر ٹوٹ گئی تھی۔ ( جس سے سر پر زخم آئے تھے ) فاطمہ رضی اللہ عنہا خون دھو رہی تھیں اور علی رضی اللہ عنہ پانی ڈال رہے تھے۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ خون برابر بڑھتا ہی جا رہا ہے تو انہوں نے ایک چٹائی جلائی اور اس کی راکھ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں پر لگا دیا جس سے خون بہنا بند ہو گیا۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز بن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل رضى الله عنه انه سيل عن جرح النبي، صلى الله عليه وسلم يوم احد. فقال جرح وجه النبي صلى الله عليه وسلم وكسرت رباعيته وهشمت البيضة على راسه، فكانت فاطمة عليها السلام تغسل الدم وعلي يمسك، فلما رات ان الدم لا يزيد الا كثرة اخذت حصيرا فاحرقته حتى صار رمادا ثم الزقته، فاستمسك الدم
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ابواسحاق نے اور ان سے عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وفات کے بعد ) اپنے ہتھیار ایک سفید خچر اور ایک قطعہ اراضی جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ہی صدقہ کر چکے تھے کے سوا اور کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی۔
حدثنا عمرو بن عباس، حدثنا عبد الرحمن، عن سفيان، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن الحارث، قال ما ترك النبي صلى الله عليه وسلم الا سلاحه وبغلة بيضاء وارضا جعلها صدقة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، ان سے سنان بن ابی سنان اور ابوسلمہ نے بیان کیا اور ان دونوں حضرات کو جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی۔ اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہیں ابراہیم بن سعد نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے خبر دی، انہیں سنان بن ابی سنان الدولی نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک لڑائی میں شریک تھے۔ ایک ایسے جنگل میں جہاں ببول کے درخت بکثرت تھے۔ قیلولہ کا وقت ہو گیا، تمام صحابہ سائے کی تلاش میں ( پوری وادی میں متفرق درختوں کے نیچے ) پھیل گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک درخت کے نیچے قیام فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلوار ( درخت کے تنے سے ) لٹکا دی تھی اور سو گئے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اجنبی موجود تھا۔ اس اجنبی نے کہا کہ اب تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آواز دی اور جب صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے میری ہی تلوار مجھ پر کھینچ لی تھی اور مجھ سے کہنے لگا تھا کہ اب تمہیں میرے ہاتھ سے کون بچا سکے گا؟ میں نے کہا اللہ ( اس پر وہ شخص خود ہی دہشت زدہ ہو گیا ) اور تلوار نیام میں کر لی، اب یہ بیٹھا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی سزا نہیں دی تھی۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، حدثنا سنان بن ابي سنان، وابو سلمة ان جابرا، اخبره. حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن سعد، اخبرنا ابن شهاب، عن سنان بن ابي سنان الدولي، ان جابر بن عبد الله رضى الله عنهما اخبره انه، غزا مع النبي صلى الله عليه وسلم فادركتهم القايلة في واد كثير العضاه، فتفرق الناس في العضاه يستظلون بالشجر، فنزل النبي صلى الله عليه وسلم تحت شجرة فعلق بها سيفه ثم نام، فاستيقظ وعنده رجل وهو لا يشعر به. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان هذا اخترط سيفي ". فقال من يمنعك قلت " الله ". فشام السيف، فها هو ذا جالس، ثم لم يعاقبه
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابوالنضر نے اور انہیں ابوقتادہ انصاری کے مولیٰ نافع نے اور انہیں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) مکہ کے راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے ہوئے تھے، لشکر سے پیچھے رہ گئے۔ خود قتادہ رضی اللہ عنہ نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا۔ پھر انہوں نے ایک گورخر دیکھا اور اپنے گھوڑے پر ( شکار کرنے کی نیت سے ) سوار ہو گئے، اس کے بعد انہوں نے اپنے ساتھیوں سے ( احرام باندھے ہوئے تھے ) کہا کہ کوڑا اٹھا دیں انہوں نے اس سے انکار کیا، پھر انہوں نے اپنا نیزہ مانگا اس کے دینے سے انہوں نے انکار کیا، آخر انہوں نے خود اسے اٹھایا اور گورخر پر جھپٹ پڑے اور اسے مار لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض نے تو اس گورخر کا گوشت کھایا اور بعض نے اس کے کھانے سے ( احرام کے عذر کی بنا پر ) انکار کیا۔ پھر جب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو اس کے متعلق مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو ایک کھانے کی چیز تھی جو اللہ نے تمہیں عطا کی۔ اور زید بن اسلم سے روایت ہے کہ ان سے عطاء بن یسار نے بیان کیا اور ان سے ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے گورخر کے ( شکار سے ) متعلق ابوالنضر ہی کی حدیث کی طرح ( البتہ اس روایت میں یہ زائد ہے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اس کا کچھ بچا ہوا گوشت ابھی تمہارے پاس موجود ہے؟
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله عن نافع، مولى ابي قتادة الانصاري عن ابي قتادة رضى الله عنه انه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى اذا كان ببعض طريق مكة تخلف مع اصحاب له محرمين وهو غير محرم، فراى حمارا وحشيا فاستوى على فرسه، فسال اصحابه ان يناولوه سوطه فابوا، فسالهم رمحه فابوا، فاخذه ثم شد على الحمار فقتله، فاكل منه بعض اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، وابى بعض، فلما ادركوا رسول الله صلى الله عليه وسلم سالوه عن ذلك قال " انما هي طعمة اطعمكموها الله ". وعن زيد بن اسلم عن عطاء بن يسار عن ابي قتادة في الحمار الوحشي مثل حديث ابي النضر قال " هل معكم من لحمه شىء
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( بدر کے دن ) دعا فرما رہے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خیمہ میں تشریف فرما تھے، کہ اے اللہ! میں تیرے عہد اور تیرے وعدے کا واسطہ دے کر فریاد کرتا ہوں۔ اے اللہ! اگر تو چاہے تو آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے گی۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا اور عرض کیا: بس کیجئے اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کے حضور میں دعا کی حد کر دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت زرہ پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو زبان مبارک پر یہ آیت تھی «سيهزم الجمع ويولون الدبر * بل الساعة موعدهم والساعة أدهى وأمر» ”جماعت ( مشرکین ) جلد ہی شکست کھا کر بھاگ جائے گی اور پیٹھ دکھانا اختیار کرے گی اور قیامت کے دن کا ان سے وعدہ ہے اور قیامت کا دن بڑا ہی بھیانک اور تلخ ہو گا۔“ اور وہیب نے بیان کیا، ان سے خالد نے بیان کیا کہ بدر کے دن کا ( یہ واقعہ ہے ) ۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال النبي صلى الله عليه وسلم وهو في قبة " اللهم اني انشدك عهدك ووعدك، اللهم ان شيت لم تعبد بعد اليوم ". فاخذ ابو بكر بيده فقال حسبك يا رسول الله، فقد الححت على ربك، وهو في الدرع، فخرج وهو يقول {سيهزم الجمع ويولون الدبر * بل الساعة موعدهم والساعة ادهى وامر }. وقال وهيب حدثنا خالد يوم بدر
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں اعمش نے، انہیں ابراہیم نے، انہیں اسود نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس تیس صاع جو کے بدلے میں رہن رکھی ہوئی تھی۔ اور یعلیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا کہ لوہے کی زرہ ( تھی ) اور معلیٰ نے بیان کیا، ان سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوہے کی ایک زرہ رہن رکھی تھی۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابراهيم، عن الاسود، عن عايشة رضى الله عنها قالت توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم ودرعه مرهونة عند يهودي بثلاثين صاعا من شعير. وقال يعلى حدثنا الاعمش درع من حديد. وقال معلى حدثنا عبد الواحد حدثنا الاعمش وقال رهنه درعا من حديد
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بخیل ( جو زکوٰۃ نہیں دیتا ) اور زکوٰۃ دینے والے ( سخی ) کی مثال دو آدمیوں جیسی ہے، دونوں لوہے کے کرتے ( زرہ ) پہنے ہوئے ہیں، دونوں کے ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہیں زکوٰۃ دینے والا ( سخی ) جب بھی زکوٰۃ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کرتہ اتنا کشادہ ہو جاتا ہے کہ زمین پر چلتے میں گھسٹتا جاتا ہے لیکن جب بخیل صدقہ کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی زرہ کا ایک ایک حلقہ اس کے بدن پر تنگ ہو جاتا ہے اور اس طرح سکڑ جاتا ہے کہ اس کے ہاتھ اس کی گردن سے جڑ جاتے ہیں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ”پھر بخیل اسے ڈھیلا کرنا چاہتا ہے لیکن وہ ڈھیلا نہیں ہوتا۔“
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، حدثنا ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " مثل البخيل والمتصدق مثل رجلين عليهما جبتان من حديد، قد اضطرت ايديهما الى تراقيهما، فكلما هم المتصدق بصدقته اتسعت عليه حتى تعفي اثره، وكلما هم البخيل بالصدقة انقبضت كل حلقة الى صاحبتها وتقلصت عليه وانضمت يداه الى تراقيه ". فسمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " فيجتهد ان يوسعها فلا تتسع
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ، مسلم نے، جو صبیح کے صاحبزاے ہیں، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو میں پانی لے کر خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرہ پاک کو دھویا۔ اس کے بعد ( ہاتھ دھونے کے لیے ) آستین چڑھانے کی کوشش کی لیکن آستین تنگ تھی اس لیے ہاتھوں کو نیچے سے نکالا پھر انہیں دھویا اور سر کا مسح کیا اور دونوں موزوں ہر دو کا بھی مسح کیا۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الاعمش، عن ابي الضحى، مسلم هو ابن صبيح عن مسروق، قال حدثني المغيرة بن شعبة، قال انطلق رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجته ثم اقبل، فلقيته بماء، وعليه جبة شامية، فمضمض واستنشق وغسل وجهه، فذهب يخرج يديه من كميه فكانا ضيقين، فاخرجهما من تحت، فغسلهما ومسح براسه وعلى خفيه
ہم سے احمد بن مقدام نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر رضی اللہ عنہما کو خارش کے مرض کی وجہ سے ریشمی کرتہ پہننے کی اجازت دے دی تھی، جو ان دونوں کو لاحق ہو گئی تھی جو اس مرض میں مفید ہے۔
حدثنا احمد بن المقدام، حدثنا خالد، حدثنا سعيد، عن قتادة، ان انسا، حدثهم ان النبي صلى الله عليه وسلم رخص لعبد الرحمن بن عوف والزبير في قميص من حرير، من حكة كانت بهما
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے، دوسری سند ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ان سے قتادۃ نے ان سے انس نے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جوؤں کی شکایت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ریشمی کپڑے کے استعمال کی اجازت دے دی، پھر میں نے جہاد میں انہیں ریشمی کپڑا پہنے ہوئے دیکھا۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس، حدثنا محمد بن سنان، حدثنا همام، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه ان عبد، الرحمن بن عوف والزبير شكوا الى النبي صلى الله عليه وسلم يعني القمل فارخص لهما في الحرير، فرايته عليهما في غزاة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، انہیں قتادہ نے خبر دی اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کو ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت دے دی تھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، اخبرني قتادة، ان انسا، حدثهم قال رخص النبي صلى الله عليه وسلم لعبد الرحمن بن عوف والزبير بن العوام في حرير