Loading...

Loading...
کتب
۳۰۹ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن ذکوان نے بیان کیا، ان سے ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( غزوہ میں ) شریک ہوتے تھے، مسلمان فوجیوں کو پانی پلاتیں تھیں زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور جو لوگ شہید ہو جاتے انہیں مدینہ اٹھا کر لاتیں تھیں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا خالد بن ذكوان، عن الربيع بنت معوذ، قالت كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم نسقي، ونداوي الجرحى، ونرد القتلى الى المدينة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا، ان سے خالد بن ذکوان نے اور ان سے ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شریک ہوتیں تھیں مجاہد مسلمانوں کو پانی پلاتیں، ان کی خدمت کرتیں اور زخمیوں اور شہیدوں کو اٹھا کر مدینہ لے جاتیں تھیں۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، عن خالد بن ذكوان، عن الربيع بنت معوذ، قالت كنا نغزو مع النبي صلى الله عليه وسلم فنسقي القوم ونخدمهم، ونرد الجرحى والقتلى الى المدينة
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوعامر رضی اللہ عنہ کے گھٹنے میں تیر لگا تو میں ان کے پاس پہنچا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس تیر کو کھینچ کر نکال لو میں نے کھینچ لیا تو اس سے خون بہنے لگا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حادثہ کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کے لیے ) دعا فرمائی «اللهم اغفر لعبيد أبي عامر» اے اللہ! عبید ابوعامر کی مغفرت فرما۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال رمي ابو عامر في ركبته، فانتهيت اليه قال انزع هذا السهم. فنزعته، فنزا منه الماء، فدخلت على النبي صلى الله عليه وسلم فاخبرته، فقال " اللهم اغفر لعبيد ابي عامر
ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم کو علی بن مسہر نے خبر دی، کہا ہم کو یحییٰ بن سعید نے خبر دی، کہا ہم کو عبداللہ بن ربیعہ بن عامر نے خبر دی، کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ بیان کرتی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ایک رات ) بیداری میں گزاری، مدینہ پہنچنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کاش! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک مرد ایسا ہوتا جو رات بھر ہمارا پہرہ دیتا!“ ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ ہم نے ہتھیار کی جھنکار سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”یہ کون صاحب ہیں؟“ ( آنے والے نے ) کہا میں ہوں سعد بن ابی وقاص، آپ کا پہرہ دینے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہوئے۔ ان کے لیے دعا فرمائی اور آپ سو گئے۔
حدثنا اسماعيل بن خليل، اخبرنا علي بن مسهر، اخبرنا يحيى بن سعيد، اخبرنا عبد الله بن عامر بن ربيعة، قال سمعت عايشة رضى الله عنها تقول كان النبي صلى الله عليه وسلم سهر فلما قدم المدينة قال " ليت رجلا من اصحابي صالحا يحرسني الليلة ". اذ سمعنا صوت سلاح فقال " من هذا ". فقال انا سعد بن ابي وقاص، جيت لاحرسك. ونام النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے یحییٰ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوبکر نے خبر دی، انہیں ابوحصین نے، انہیں ابوصالح اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اشرفی کا بندہ، روپے کا بندہ، چادر کا بندہ، کمبل کا بندہ ہلاک ہوا کہ اگر اسے کچھ دے دیا جائے تب تو خوش ہو جاتا ہے اور اگر نہیں دیا جائے تو ناراض ہو جاتا ہے۔“ اس حدیث کو اسرائیل اور محمد بن جہادہ نے ابوحصین سے مرفوع نہیں کیا۔
حدثنا يحيى بن يوسف، اخبرنا ابو بكر، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تعس عبد الدينار والدرهم والقطيفة والخميصة، ان اعطي رضي، وان لم يعط لم يرض ". لم يرفعه اسراييل عن ابي حصين
اور عمرو ابن مرزوق نے ہم سے بڑھا کر بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے خبر دی، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے ابوصالح سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اشرفی کا بندہ اور روپے کا بندہ اور کمبل کا بندہ تباہ ہوا، اگر اس کو کچھ دیا جائے تب تو خوش جب نہ دیا جائے تو غصہ ہو جائے، ایسا شخص تباہ سرنگوں ہوا۔ اس کو کانٹا لگے تو اللہ کرے پھر نہ نکلے۔ مبارک کا مستحق ہے وہ بندہ جو اللہ کے راستے میں ( غزوہ کے موقع پر ) اپنے گھوڑے کی لگام تھامے ہوئے ہے، اس کے سر کے بال پراگندہ ہیں اور اس کے قدم گرد و غبار سے اٹے ہوئے ہیں، اگر اسے چوکی پہرے پر لگا دیا جائے تو وہ اپنے اس کام میں پوری تندہی سے لگا رہے اور اگر لشکر کے پیچھے ( دیکھ بھال کے لیے ) لگا دیا جائے تو اس میں بھی پوری تندہی اور فرض شناسی سے لگا رہے۔ ( اگرچہ زندگی میں غربت کی وجہ سے اس کی کوئی اہمیت بھی نہ ہو کہ ) اگر وہ کسی سے ملاقات کی اجازت چاہے تو اسے اجازت بھی نہ ملے اور اگر کسی کی سفارش کرے تو اس کی سفارش بھی قبول نہ کی جائے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ اسرائیل اور محمد بن جحادہ نے ابوحصین سے یہ روایت مرفوعاً نہیں بیان کی ہے اور کہا کہ قرآن مجید میں جو لفظ «تعسا» آیا ہے گویا یوں کہنا چاہئے کہ «فأتعسهم الله.» ( اللہ انہیں گرائے ہلاک کرے ) «طوبى فعلى» کے وزن پر ہے ہر اچھی اور طیب چیز کے لیے۔ واو اصل میں یا تھا ( طیبیٰ ) پھر یا کو واو سے بدل دیا گیا اور یہ طیب سے نکلا ہے۔
وزادنا عمرو قال اخبرنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن ابيه، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تعس عبد الدينار وعبد الدرهم وعبد الخميصة، ان اعطي رضي، وان لم يعط سخط، تعس وانتكس، واذا شيك فلا انتقش، طوبى لعبد اخذ بعنان فرسه في سبيل الله، اشعث راسه مغبرة قدماه، ان كان في الحراسة كان في الحراسة، وان كان في الساقة كان في الساقة، ان استاذن لم يوذن له، وان شفع لم يشفع ". قال ابو عبد الله لم يرفعه اسراييل ومحمد بن جحادة عن ابي حصين وقال تعسا. كانه يقول فاتعسهم الله. طوبى فعلى من كل شىء طيب، وهى ياء حولت الى الواو وهى من يطيب
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے یونس بن عبید نے، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو وہ میری خدمت کرتے تھے حالانکہ عمر میں وہ مجھ سے بڑے تھے، جریر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ہر وقت انصار کو ایک ایسا کام کرتے دیکھا ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ) کہ جب ان میں سے کوئی مجھے ملتا ہے تو میں اس کی تعظیم و اکرام کرتا ہوں۔
حدثنا محمد بن عرعرة، حدثنا شعبة، عن يونس بن عبيد، عن ثابت البناني، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال صحبت جرير بن عبد الله، فكان يخدمني. وهو اكبر من انس قال جرير اني رايت الانصار يصنعون شييا لا اجد احدا منهم الا اكرمته
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کا، ان سے مطلب بن حنطب کے مولیٰ عمرو بن ابی عمرو نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ بیان کرتے تھے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر ( غزوہ کے موقع پر ) گیا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے اور احد پہاڑ دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جس سے ہم محبت کرتے ہیں اور وہ ہم سے محبت کرتا ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا۔ اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں، جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا، اے اللہ! ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطا فرما۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا محمد بن جعفر، عن عمرو بن ابي عمرو، مولى المطلب بن حنطب، انه سمع انس بن مالك رضى الله عنه يقول خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم الى خيبر اخدمه، فلما قدم النبي صلى الله عليه وسلم راجعا، وبدا له احد قال " هذا جبل يحبنا ونحبه ". ثم اشار بيده الى المدينة قال اللهم اني احرم ما بين لابتيها كتحريم ابراهيم مكة " اللهم بارك لنا في صاعنا ومدنا
ہم سے سلیمان بن داود ابوالربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے، ان سے عاصم بن سلیمان نے، ان سے مورق عجلی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( ایک سفر میں ) تھے۔ کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روزے سے تھے اور کچھ نے روزہ نہیں رکھا تھا۔ موسم گرمی کا تھا، ہم میں زیادہ بہتر سایہ جو کوئی کرتا، اپنا کمبل تان لیتا۔ خیر جو لوگ روزے سے تھے وہ کوئی کام نہ کر سکے تھے اور جن حضرات نے روزہ نہیں رکھا تھا تو انہوں نے ہی اونٹوں کو اٹھایا ( پانی پلایا ) اور روزہ داروں کی خوب خوب خدمت بھی کی۔ اور ( دوسرے تمام ) کام کئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”آج اجر و ثواب کو روزہ نہ رکھنے والے لوٹ کر لے گئے۔“
حدثنا سليمان بن داود ابو الربيع، عن اسماعيل بن زكرياء، حدثنا عاصم، عن مورق العجلي، عن انس رضى الله عنه قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم اكثرنا ظلا الذي يستظل بكسايه، واما الذين صاموا فلم يعملوا شييا، واما الذين افطروا فبعثوا الركاب وامتهنوا وعالجوا فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ذهب المفطرون اليوم بالاجر
ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”روزانہ انسان کے ہر ایک جوڑ پر صدقہ لازم ہے اور اگر کوئی شخص کسی کی سواری میں مدد کرے کہ اس کو سہارا دے کر اس کی سواری پر سوار کرا دے یا اس کا سامان اس پر اٹھا کر رکھ دے تو یہ بھی صدقہ ہے۔ اچھا اور پاک لفظ بھی ( زبان سے نکالنا ) صدقہ ہے۔ ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے وہ بھی صدقہ ہے اور ( کسی مسافر کو ) راستہ بتا دینا بھی صدقہ ہے۔“
حدثني اسحاق بن نصر، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كل سلامى عليه صدقة كل يوم، يعين الرجل في دابته يحامله عليها او يرفع عليها متاعه صدقة، والكلمة الطيبة، وكل خطوة يمشيها الى الصلاة صدقة، ودل الطريق صدقة
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، انہوں نے ابوالنضر ہاشم بن قاسم سے سنا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوحازم (سلمہ بن دینار) نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کے راستے میں دشمن سے ملی ہوئی سرحد پر ایک دن کا پہرہ «دنيا وما عليها» سے بڑھ کر ہے جنت میں کسی کے لیے ایک کوڑے جتنی جگہ «دنيا وما عليها» سے بڑھ کر ہے اور جو شخص اللہ کے راستے میں شام کو چلے یا صبح کو تو وہ «دنيا وما عليها» سے بہتر ہے۔“
حدثنا عبد الله بن منير، سمع ابا النضر، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دينار، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد الساعدي رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " رباط يوم في سبيل الله خير من الدنيا وما عليها، وموضع سوط احدكم من الجنة خير من الدنيا وما عليها، والروحة يروحها العبد في سبيل الله او الغدوة خير من الدنيا وما عليها
ہم سے قتیبہ بن سعید نے کہا، ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عمرو بن عمرو نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اپنے بچوں میں سے کوئی بچہ میرے ساتھ کر دو جو خیبر کے غزوے میں میرے کام کر دیا کرے، جب کہ میں خیبر کا سفر کروں۔ ابوطلحہ اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھا کر مجھے ( انس رضی اللہ عنہ کو ) لے گئے، میں اس وقت ابھی لڑکا تھا۔ بالغ ہونے کے قریب۔ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں قیام فرماتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا۔ اکثر میں سنتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کرتے۔ «اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن وضلع الدين وغلبة الرجال» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم، عاجزی، سستی، بخل، بزدلی، قرض داری کے بوجھ اور ظالم کے اپنے اوپر غلبہ سے، آخر ہم خیبر پہنچے اور جب اللہ تعالیٰ نے خیبر کے قلعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صفیہ بنت حی بن اخطب رضی اللہ عنہا کے جمال ( ظاہری و باطنی ) کا ذکر کیا گیا ان کا شوہر ( یہودی ) لڑائی میں کام آ گیا تھا اور وہ ابھی دلہن ہی تھیں ( اور چونکہ قبیلہ کے سردار کی لڑکی تھیں ) اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کا اکرام کرنے کے لیے کہا ) انہیں اپنے لیے پسند فرما لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں ساتھ لے کر وہاں سے چلے۔ جب ہم سدا الصبہاء پر پہنچے تو وہ حیض سے پاک ہوئیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خلوت کی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیس ( کھجور، پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا ایک کھانا ) تیار کرا کر ایک چھوٹے سے دستر خوان پر رکھوایا اور مجھ سے فرمایا کہ اپنے آس پاس کے لوگوں کو دعوت دے دو اور یہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کا ولیمہ تھا۔ آخر ہم مدینہ کی طرف چلے، انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ رضی اللہ عنہا کی وجہ سے اپنے پیچھے ( اونٹ کے کوہان کے اردگرد ) اپنی عباء سے پردہ کئے ہوئے تھے ( سواری پر جب صفیہ رضی اللہ عنہا سوار ہوتیں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹ کے پاس بیٹھ جاتے اور اپنا گھٹنا کھڑا رکھتے اور صفیہ رضی اللہ عنہا اپنا پاؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے پر رکھ کر سوار ہو جاتیں۔ اس طرح ہم چلتے رہے اور جب مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کو دیکھا اور فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف نگاہ اٹھائی اور فرمایا: اے اللہ! میں اس کے دونوں پتھریلے میدانوں کے درمیان کے خطے کو حرمت والا قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ معظمہ کو حرمت والا قرار دیا تھا اے اللہ! مدینہ کے لوگوں کو ان کی مد اور صاع میں برکت دیجئیے
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن يحيى، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال حدثتني ام حرام، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال يوما في بيتها، فاستيقظ وهو يضحك، قالت يا رسول الله، ما يضحكك قال " عجبت من قوم من امتي يركبون البحر، كالملوك على الاسرة ". فقلت يا رسول الله، ادع الله ان يجعلني منهم. فقال " انت معهم ". ثم نام، فاستيقظ وهو يضحك فقال مثل ذلك مرتين او ثلاثا. قلت يا رسول الله، ادع الله ان يجعلني منهم. فيقول " انت من الاولين " فتزوج بها عبادة بن الصامت، فخرج بها الى الغزو، فلما رجعت قربت دابة لتركبها، فوقعت فاندقت عنقها
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن يحيى، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال حدثتني ام حرام، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال يوما في بيتها، فاستيقظ وهو يضحك، قالت يا رسول الله، ما يضحكك قال " عجبت من قوم من امتي يركبون البحر، كالملوك على الاسرة ". فقلت يا رسول الله، ادع الله ان يجعلني منهم. فقال " انت معهم ". ثم نام، فاستيقظ وهو يضحك فقال مثل ذلك مرتين او ثلاثا. قلت يا رسول الله، ادع الله ان يجعلني منهم. فيقول " انت من الاولين " فتزوج بها عبادة بن الصامت، فخرج بها الى الغزو، فلما رجعت قربت دابة لتركبها، فوقعت فاندقت عنقها
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے مصعب ابن سعد نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا خیال تھا کہ انہیں دوسرے بہت سے صحابہ پر ( اپنی مالداری اور بہادری کی وجہ سے ) فضیلت حاصل ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ صرف اپنے کمزور معذور لوگوں کی دعاؤں کے نتیجہ میں اللہ کی طرف سے مدد پہنچائے جاتے ہو اور ان ہی کی دعاؤں سے رزق دئیے جاتے ہیں۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا محمد بن طلحة، عن طلحة، عن مصعب بن سعد، قال راى سعد رضى الله عنه ان له فضلا على من دونه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " هل تنصرون وترزقون الا بضعفايكم
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ مسلمانوں کی فوج کی فوج جہاں پر ہوں گی جن میں پوچھا جائے گا کہ کیا فوج میں کوئی ایسے بزرگ بھی ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی ہو، کہا جائے گا کہ ہاں تو ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔ پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا اس وقت اس کی تلاش ہو گی کہ کوئی ایسے بزرگ مل جائیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی صحبت اٹھائی ہو، ( یعنی تابعی ) ایسے بھی بزرگ مل جائیں گے اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی اس کے بعد ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسے بزرگ ہیں جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے شاگردوں کی صحبت اٹھائی ہو کہا جائے گا کہ ہاں اور ان سے فتح کی دعا کرائی جائے گی۔“
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن عمرو، سمع جابرا، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنهم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ياتي زمان يغزو فيام من الناس، فيقال فيكم من صحب النبي صلى الله عليه وسلم فيقال نعم. فيفتح عليه، ثم ياتي زمان فيقال فيكم من صحب اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فيقال نعم. فيفتح، ثم ياتي زمان فيقال فيكم من صحب صاحب اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فيقال نعم. فيفتح
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ( اپنے اصحاب کے ہمراہ احد یا خیبر کی لڑائی میں ) مشرکین سے مڈبھیڑ ہوئی اور جنگ چھڑ گئی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اس دن لڑائی سے فارغ ہو کر ) اپنے پڑاؤ کی طرف واپس ہوئے اور مشرکین اپنے پڑاؤ کی طرف تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوج کے ساتھ ایک شخص تھا، لڑائی لڑنے میں ان کا یہ حال تھا کہ مشرکین کا کوئی آدمی بھی اگر کسی طرف نظر آ جاتا تو اس کا پیچھا کر کے وہ شخص اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیتا۔ سہل رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق کہا کہ آج جتنی سرگرمی کے ساتھ فلاں شخص لڑا ہے، ہم میں سے کوئی بھی شخص اس طرح نہ لڑ سکا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ لیکن وہ شخص دوزخی ہے۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے ( اپنے دل میں کہا اچھا میں اس کا پیچھا کروں گا ( دیکھوں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیوں دوزخی فرمایا ہے ) بیان کیا کہ وہ اس کے ساتھ ساتھ دوسرے دن لڑائی میں موجود رہا، جب کبھی وہ کھڑا ہو جاتا تو یہ بھی کھڑا ہو جاتا اور جب وہ تیز چلتا تو یہ بھی اس کے ساتھ تیز چلتا۔ بیان کیا کہ آخر وہ شخص زخمی ہو گیا زخم بڑا گہرا تھا۔ اس لیے اس نے چاہا کہ موت جلدی آ جائے اور اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو سینے کے مقابلہ میں کر لیا اور تلوار پر گر کر اپنی جان دے دی۔ اب وہ صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی؟ انہوں نے بیان کیا کہ وہی شخص جس کے متعلق آپ نے فرمایا تھا کہ وہ دوزخی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر یہ آپ کا فرمان بڑا شاق گزرا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ تم سب لوگوں کی طرف سے میں اس کے متعلق تحقیق کرتا ہوں۔ چنانچہ میں اس کے پیچھے ہو لیا۔ اس کے بعد وہ شخص سخت زخمی ہوا اور چاہا کہ جلدی موت آ جائے۔ اس لیے اس نے اپنی تلوار کا پھل زمین پر رکھ کر اس کی دھار کو اپنے سینے کے مقابل کر لیا اور اس پر گر کر خود جان دے دی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک آدمی زندگی بھر بظاہر اہل جنت کے سے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل دوزخ میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی بظاہر اہل دوزخ کے کام کرتا ہے حالانکہ وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد الساعدي رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم التقى هو والمشركون فاقتتلوا، فلما مال رسول الله صلى الله عليه وسلم الى عسكره، ومال الاخرون الى عسكرهم، وفي اصحاب رسول الله�� صلى الله عليه وسلم رجل لا يدع لهم شاذة ولا فاذة الا اتبعها يضربها بسيفه، فقال ما اجزا منا اليوم احد كما اجزا فلان. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما انه من اهل النار ". فقال رجل من القوم انا صاحبه. قال فخرج معه كلما وقف وقف معه، واذا اسرع اسرع معه قال فجرح الرجل جرحا شديدا، فاستعجل الموت، فوضع نصل سيفه بالارض وذبابه بين ثدييه، ثم تحامل على سيفه، فقتل نفسه، فخرج الرجل الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اشهد انك رسول الله. قال " وما ذاك ". قال الرجل الذي ذكرت انفا انه من اهل النار، فاعظم الناس ذلك. فقلت انا لكم به. فخرجت في طلبه، ثم جرح جرحا شديدا، فاستعجل الموت، فوضع نصل سيفه في الارض وذبابه بين ثدييه، ثم تحامل عليه، فقتل نفسه. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك " ان الرجل ليعمل عمل اهل الجنة فيما يبدو للناس، وهو من اهل النار، وان الرجل ليعمل عمل اهل النار فيما يبدو للناس، وهو من اهل الجنة
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا، انہوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قبیلہ بنو اسلم کے چند لوگوں پر گزر ہوا جو تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسماعیل علیہ السلام کے بیٹو! تیر اندازی کرو کہ تمہارے بزرگ دادا اسماعیل علیہ السلام بھی تیرانداز تھے۔ ہاں! تیر اندازی کرو، میں بنی فلاں ( ابن الاورع رضی اللہ عنہ ) کی طرف ہوں۔ بیان کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فریق کے ساتھ ہو گئے تو ( مقابلے میں حصہ لینے والے ) دوسرے ایک فریق نے ہاتھ روک لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات پیش آئی، تم لوگوں نے تیر اندازی بند کیوں کر دی؟ دوسرے فریق نے عرض کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک فریق کے ساتھ ہو گئے تو بھلا ہم کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تیر اندازی جاری رکھو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا حاتم بن اسماعيل، عن يزيد بن ابي عبيد، قال سمعت سلمة بن الاكوع رضى الله عنه قال مر النبي صلى الله عليه وسلم على نفر من اسلم ينتضلون فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ارموا بني اسماعيل، فان اباكم كان راميا ارموا وانا مع بني فلان ". قال فامسك احد الفريقين بايديهم. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما لكم لا ترمون ". قالوا كيف نرمي وانت معهم. قال النبي صلى الله عليه وسلم " ارموا فانا معكم كلكم
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے، ان سے حمزہ بن ابی اسید نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کی لڑائی کے موقع پر جب ہم قریش کے مقابلہ میں صف باندھے ہوئے کھڑے ہو گئے تھے اور وہ ہمارے مقابلہ میں تیار تھے، فرمایا کہ اگر ( حملہ کرتے ہوئے ) قریش تمہارے قریب آ جائیں تو تم لوگ تیر اندازی شروع کر دینا تاکہ وہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوں۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد الرحمن بن الغسيل، عن حمزة بن ابي اسيد، عن ابيه، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم يوم بدر حين صففنا لقريش وصفوا لنا " اذا اكثبوكم فعليكم بالنبل
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں ابن المسیب نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حبشہ کے کچھ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حراب ( چھوٹے نیزے ) کا کھیل دکھلا رہے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ آ گئے اور کنکریاں اٹھا کر انہیں ان سے مارا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”عمر انہیں کھیل دکھانے دو۔“ علی بن مدینی نے یہ بیان زیادہ کیا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی کہ مسجد میں ( یہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کھیل کا مظاہرہ کر رہے تھے ) ۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن معمر، عن الزهري، عن ابن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال بينا الحبشة يلعبون عند النبي صلى الله عليه وسلم بحرابهم دخل عمر، فاهوى الى الحصى فحصبهم بها. فقال " دعهم يا عمر ". وزاد علي حدثنا عبد الرزاق اخبرنا معمر في المسجد
حدثنا قتيبة، حدثنا يعقوب، عن عمرو، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال لابي طلحة " التمس غلاما من غلمانكم يخدمني حتى اخرج الى خيبر ". فخرج بي ابو طلحة مردفي، وانا غلام راهقت الحلم، فكنت اخدم رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا نزل، فكنت اسمعه كثيرا يقول " اللهم اني اعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والبخل والجبن وضلع الدين وغلبة الرجال ". ثم قدمنا خيبر، فلما فتح الله عليه الحصن ذكر له جمال صفية بنت حيى بن اخطب، وقد قتل زوجها وكانت عروسا، فاصطفاها رسول الله صلى الله عليه وسلم لنفسه، فخرج بها حتى بلغنا سد الصهباء حلت، فبنى بها، ثم صنع حيسا في نطع صغير، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذن من حولك ". فكانت تلك وليمة رسول الله صلى الله عليه وسلم على صفية. ثم خرجنا الى المدينة قال فرايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يحوي لها وراءه بعباءة، ثم يجلس عند بعيره فيضع ركبته، فتضع صفية رجلها على ركبته حتى تركب، فسرنا حتى اذا اشرفنا على المدينة نظر الى احد فقال " هذا جبل يحبنا ونحبه ". ثم نظر الى المدينة فقال " اللهم اني احرم ما بين لابتيها بمثل ما حرم ابراهيم مكة، اللهم بارك لهم في مدهم وصاعهم