Loading...

Loading...
کتب
۳۰۹ احادیث
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، انہیں قتادہ نے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ مدینہ میں ( ایک رات ) کچھ خوف اور گھبراہٹ ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک گھوڑا مانگ لیا۔ اس گھوڑے کا نام ”مندوب“ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اور واپس آ کر فرمایا کہ خوف کی تو کوئی بات ہم نے نہیں دیکھی البتہ یہ گھوڑا کیا ہے دریا ہے!۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا شعبة، عن قتادة، سمعت انس بن مالك رضى الله عنه قال كان بالمدينة فزع، فاستعار النبي صلى الله عليه وسلم فرسا لابي طلحة، يقال له مندوب فركبه، وقال " ما راينا من فزع، وان وجدناه لبحرا
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ابواسامہ سے، انہوں نے عبیداللہ عمری سے، انہوں نے نافع سے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت سے ) گھوڑے کے دو حصے لگائے تھے اور اس کے مالک کا ایک حصہ۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، عن ابي اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جعل للفرس سهمين ولصاحبه سهما. وقال مالك يسهم للخيل والبراذين منها لقوله {والخيل والبغال والحمير لتركبوها} ولا يسهم لاكثر من فرس
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سہل بن یوسف نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق نے کہ ایک شخص نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا حنین کی لڑائی میں آپ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے گئے تھے؟ براء رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے۔ ہوازن کے لوگ ( جن سے اس لڑائی میں مقابلہ تھا ) بڑے تیرانداز تھے، جب ہمارا ان سے سامنا ہوا تو شروع میں ہم نے حملہ کر کے انہیں شکست دے دی، پھر مسلمان مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور دشمن نے تیروں کی ہم پر بارش شروع کر دی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے نہیں ہٹے۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے، ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اس کی لگام تھامے ہوئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ شعر فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب» ”میں نبی ہوں اس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔“
حدثنا قتيبة، حدثنا سهل بن يوسف، عن شعبة، عن ابي اسحاق،. قال رجل للبراء بن عازب رضى الله عنهما افررتم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم حنين قال لكن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يفر، ان هوازن كانوا قوما رماة، وانا لما لقيناهم حملنا عليهم فانهزموا، فاقبل المسلمون على الغنايم واستقبلونا بالسهام، فاما رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يفر، فلقد رايته وانه لعلى بغلته البيضاء وان ابا سفيان اخذ بلجامها، والنبي صلى الله عليه وسلم يقول " انا النبي لا كذب انا ابن عبد المطلب
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنا پائے مبارک «غرز» ( رکاب ) میں ڈالا اور اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر سیدھی اٹھ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد ذوالحلیفہ کے پاس لبیک کہا ( احرام باندھا ) ۔
حدثني عبيد بن اسماعيل، عن ابي اسامة، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم. انه كان اذا ادخل رجله في الغرز واستوت به ناقته قايمة، اهل من عند مسجد ذي الحليفة
ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھوڑے کی ننگی پیٹھ پر جس پر زین نہیں تھی، سوار ہو کر صحابہ سے آگے نکل گئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں تلوار لٹک رہی تھی۔
حدثنا عمرو بن عون، حدثنا حماد، عن ثابت، عن انس رضى الله عنه استقبلهم النبي صلى الله عليه وسلم على فرس عرى، ما عليه سرج، في عنقه سيف
ہم سے عبدالاعلیٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ایک مرتبہ ( رات میں ) اہل مدینہ کو دشمن کا خطرہ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ایک گھوڑے ( مندوب ) پر سوار ہوئے، گھوڑا سست رفتار تھا یا ( راوی نے یوں کہا کہ ) اس کی رفتار میں سستی تھی، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو فرمایا کہ ہم نے تو تمہارے اس گھوڑے کو دریا پایا ( یہ بڑا ہی تیز رفتار ہے ) چنانچہ اس کے بعد کوئی گھوڑا اس سے آگے نہیں نکل سکتا تھا۔
حدثنا عبد الاعلى بن حماد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان اهل، المدينة فزعوا مرة، فركب النبي صلى الله عليه وسلم فرسا لابي طلحة كان يقطف او كان فيه قطاف فلما رجع قال " وجدنا فرسكم هذا بحرا ". فكان بعد ذلك لا يجارى
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کئے ہوئے گھوڑوں کی دوڑ مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک کرائی تھی اور جو گھوڑے تیار نہیں کئے گئے تھے ان کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے مسجد زریق تک کرائی تھی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ گھوڑ دوڑ میں شریک ہونے والوں میں میں بھی تھا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک پانچ میل کا فاصلہ ہے اور ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق صرف ایک میل کے فاصلے پر ہے۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال اجرى النبي صلى الله عليه وسلم ما ضمر من الخيل من الحفياء الى ثنية الوداع، واجرى ما لم يضمر من الثنية الى مسجد بني زريق. قال ابن عمر وكنت فيمن اجرى. قال عبد الله حدثنا سفيان قال حدثني عبيد الله. قال سفيان بين الحفياء الى ثنية الوداع خمسة اميال او ستة، وبين ثنية الى مسجد بني زريق ميل
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی تھی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا اور دوڑ کی حد ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق رکھی تھی اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی اس میں شرکت کی تھی۔ ابوعبداللہ نے کہا کہ «أمدا» ( حدیث میں ) حد اور انتہا کے معنی میں ہے۔ ( قرآن مجید میں ہے ) «فطال علیہم الامد» یعنی ”پھر ان پر لمبی مدت گزر گئی“ جو اسی معنی میں ہے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا الليث، عن نافع، عن عبد الله رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم سابق بين الخيل التي لم تضمر، وكان امدها من الثنية الى مسجد بني زريق. وان عبد الله بن عمر كان سابق بها. قال ابو عبد الله امدا غاية فطال عليهم الامد
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی دوڑ کرائی جنہیں تیار کیا گیا تھا۔ یہ دوڑ مقام حفیاء سے شروع کرائی اور ثنیۃ الوداع اس کی آخری حد تھی ( ابواسحاق راوی نے بیان کیا کہ ) میں نے ابوموسیٰ سے پوچھا اس کا فاصلہ کتنا تھا؟ تو انہوں نے بتایا کہ چھ یا سات میل اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان گھوڑوں کی بھی دوڑ کرائی جنہیں تیار نہیں کیا گیا تھا۔ ایسے گھوڑوں کی دوڑ ثنیۃ الوداع سے شروع ہوئی اور حد مسجد بنی زریق تھی۔ میں نے پوچھا اس میں کتنا فاصلہ تھا؟ انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک میل۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی دوڑ میں شرکت کرنے والوں میں تھے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية، حدثنا ابو اسحاق، عن موسى بن عقبة، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال سابق رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الخيل التي قد اضمرت فارسلها من الحفياء، وكان امدها ثنية الوداع. فقلت لموسى فكم كان بين ذلك قال ستة اميال او سبعة. وسابق بين الخيل التي لم تضمر، فارسلها من ثنية الوداع، وكان امدها مسجد بني زريق، قلت فكم بين ذلك قال ميل او نحوه. وكان ابن عمر ممن سابق فيها
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق ابراہیم نے بیان کیا، ان سے حمید نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام عضباء تھا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية، حدثنا ابو اسحاق، عن حميد، قال سمعت انسا رضى الله عنه يقول كانت ناقة النبي صلى الله عليه وسلم يقال لها العضباء
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اونٹنی تھی جس کا نام عضباء تھا۔ کوئی اونٹنی اس سے آگے نہیں بڑھتی تھی یا حمید نے یوں کہا وہ پیچھے رہ جانے کے قریب نہ ہوتی پھر ایک دیہاتی ایک نوجوان ایک قوی اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی سے ان کا اونٹ آگے نکل گیا۔ مسلمانوں پر یہ بڑا شاق گزرا لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ برحق ہے کہ دنیا میں جو چیز بھی بلند ہوتی ہے ( کبھی کبھی ) اسے وہ گراتا بھی ہے۔ موسیٰ نے حماد سے اس کی روایت طول کے ساتھ کی ہے، حماد نے ثابت سے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا زهير، عن حميد، عن انس رضى الله عنه قال كان للنبي صلى الله عليه وسلم ناقة تسمى العضباء لا تسبق قال حميد او لا تكاد تسبق فجاء اعرابي على قعود فسبقها، فشق ذلك على المسلمين، حتى عرفه فقال " حق على الله ان لا يرتفع شىء من الدنيا الا وضعه ". طوله موسى عن حماد عن ثابت عن انس عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عمرو بن حارث رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( وفات کے بعد ) سوا اپنے سفید خچر کے، اپنے ہتھیار اور اس زمین کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیرات کر دی تھی اور کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا يحيى، حدثنا سفيان، قال حدثني ابو اسحاق، قال سمعت عمرو بن الحارث، قال ما ترك النبي صلى الله عليه وسلم الا بغلته البيضاء وسلاحه وارضا تركها صدقة
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے کہ ان سے ایک شخص نے پوچھا اے ابوعمارہ! کیا آپ لوگوں نے ( مسلمانوں کے لشکر نے ) حنین کی لڑائی میں پیٹھ پھیر لی تھی؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں اللہ گواہ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی البتہ جلد باز لوگ ( میدان سے ) بھاگ پڑے تھے ( اور وہ لوٹ میں لگ گئے تھے ) قبیلہ ہوازن نے ان پر تیر برسانے شروع کر دئیے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفید خچر پر سوار تھے اور ابوسفیان بن حارث اس کی لگام تھامے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے «أنا النبي لا كذب أنا ابن عبد المطلب » میں نبی ہوں جس میں جھوٹ کا کوئی دخل نہیں۔ میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، قال حدثني ابو اسحاق، عن البراء رضى الله عنه قال له رجل يا ابا عمارة وليتم يوم حنين قال لا، والله ما ولى النبي صلى الله عليه وسلم ولكن ولى سرعان الناس، فلقيهم هوازن بالنبل والنبي صلى الله عليه وسلم على بغلته البيضاء، وابو سفيان بن الحارث اخذ بلجامها، والنبي صلى الله عليه وسلم يقول " انا النبي لا كذب انا ابن عبد المطلب
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی، انہیں معاویہ ابن اسحاق نے، انہیں عائشہ بنت طلحہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جہاد کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا جہاد حج ہے۔ اور عبداللہ بن ولید نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اور ان سے معاویہ نے یہی حدیث نقل کی۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن معاوية بن اسحاق، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة ام المومنين رضى الله عنها قالت استاذنت النبي صلى الله عليه وسلم في الجهاد. فقال " جهادكن الحج ". وقال عبد الله بن الوليد حدثنا سفيان عن معاوية بهذا
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا اور ان سے معاویہ نے یہی حدیث اور ابوسفیان نے حبیب بن ابی عمرہ سے یہی روایت کی جو عائشہ بنت طلحہ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے واسطہ سے ہے ( اس میں ہے کہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ کی ازواج مطہرات نے جہاد کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حج بہت ہی عمدہ جہاد ہے۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن معاوية، بهذا. وعن حبيب بن ابي عمرة، عن عايشة بنت طلحة، عن عايشة ام المومنين، عن النبي صلى الله عليه وسلم ساله نساوه عن الجهاد فقال " نعم الجهاد الحج
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا ابو اسحاق، عن عبد الله بن عبد الرحمن الانصاري، قال سمعت انسا رضى الله عنه يقول دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابنة ملحان فاتكا عندها، ثم ضحك فقالت لم تضحك يا رسول الله فقال " ناس من امتي يركبون البحر الاخضر في سبيل الله، مثلهم مثل الملوك على الاسرة ". فقالت يا رسول الله، ادع الله ان يجعلني منهم. قال " اللهم اجعلها منهم ". ثم عاد فضحك، فقالت له مثل او مم ذلك فقال لها مثل ذلك، فقالت ادع الله ان يجعلني منهم. قال " انت من الاولين، ولست من الاخرين ". قال قال انس فتزوجت عبادة بن الصامت، فركبت البحر مع بنت قرظة، فلما قفلت ركبت دابتها فوقصت بها، فسقطت عنها فماتت
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا ابو اسحاق، عن عبد الله بن عبد الرحمن الانصاري، قال سمعت انسا رضى الله عنه يقول دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابنة ملحان فاتكا عندها، ثم ضحك فقالت لم تضحك يا رسول الله فقال " ناس من امتي يركبون البحر الاخضر في سبيل الله، مثلهم مثل الملوك على الاسرة ". فقالت يا رسول الله، ادع الله ان يجعلني منهم. قال " اللهم اجعلها منهم ". ثم عاد فضحك، فقالت له مثل او مم ذلك فقال لها مثل ذلك، فقالت ادع الله ان يجعلني منهم. قال " انت من الاولين، ولست من الاخرين ". قال قال انس فتزوجت عبادة بن الصامت، فركبت البحر مع بنت قرظة، فلما قفلت ركبت دابتها فوقصت بها، فسقطت عنها فماتت
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن عمر نمیری نے، انہوں نے کہا ہم سے یونس بن یزید ایلی نے بیان کیا، کہا میں نے ابن شہاب زہری سے سنا، کہا کہ میں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سنی، ان چاروں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ حدیث مجھ سے تھوڑی تھوڑی بیان کی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے جانا چاہتے ( جہاد کے لیے ) تو اپنی ازواج میں قرعہ ڈالتے اور جس کا نام نکل آتا انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ ایک غزوہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے درمیان قرعہ اندازی کی تو اس مرتبہ میرا نام آیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گئی، یہ پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد کا واقعہ ہے۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا عبد الله بن عمر النميري، حدثنا يونس، قال سمعت الزهري، قال سمعت عروة بن الزبير، وسعيد بن المسيب، وعلقمة بن وقاص، وعبيد الله بن عبد الله، عن حديث، عايشة، كل حدثني طايفة، من الحديث قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان يخرج اقرع بين نسايه، فايتهن يخرج سهمها خرج بها النبي صلى الله عليه وسلم، فاقرع بيننا في غزوة غزاها، فخرج فيها سهمي، فخرجت مع النبي صلى الله عليه وسلم بعد ما انزل الحجاب
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقع پر مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جدا ہو گئے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ بنت ابی بکر اور ام سلیم رضی اللہ عنہا ( انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ) کو دیکھا کہ یہ اپنے ازار سمیٹے ہوئے تھیں اور ( تیز چلنے کی وجہ سے ) پانی کے مشکیزے چھلکاتی ہوئی لیے جا رہی تھیں اور ابومعمر کے علاوہ جعفر بن مہران نے بیان کیا کہ مشکیزے کو اپنی پشت پر ادھر سے ادھر جلدی جلدی لیے پھرتی تھیں اور قوم کو اس میں سے پانی پلاتی تھیں، پھر واپس آتی تھیں اور مشکیزوں کو بھر کر لے جاتی تھیں اور قوم کو پانی پلاتی تھیں، میں ان کے پاؤں کی پازیبیں دیکھ رہا تھا۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا عبد العزيز، عن انس رضى الله عنه قال لما كان يوم احد انهزم الناس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ولقد رايت عايشة بنت ابي بكر وام سليم وانهما لمشمرتان ارى خدم سوقهما، تنقزان القرب وقال غيره تنقلان القرب على متونهما، ثم تفرغانه في افواه القوم، ثم ترجعان فتملانها، ثم تجييان فتفرغانها في افواه القوم
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، ان سے ثعلبہ بن ابی مالک نے کہا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی خواتین میں کچھ چادریں تقسیم کیں۔ ایک نئی چادر بچ گئی تو بعض حضرات نے جو آپ کے پاس ہی تھے کہا یا امیرالمؤمنین! یہ چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی کو دے دیجئیے، جو آپ کے گھر میں ہیں۔ ان کی مراد ( آپ کی بیوی ) ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ سے تھی لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ام سلیط اس کی زیادہ مستحق ہیں۔ یہ ام سلیط رضی اللہ عنہا ان انصاری خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ احد کی لڑائی کے موقع پر ہمارے لیے مشکیزے ( پانی کے ) اٹھا کر لاتی تھیں۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا ( حدیث میں ) لفظ «تزفر» کا معنی یہ ہے کہ سیتی تھی۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن ابن شهاب، قال ثعلبة بن ابي مالك ان عمر بن الخطاب رضى الله عنه قسم مروطا بين نساء من نساء المدينة، فبقي مرط جيد فقال له بعض من عنده يا امير المومنين اعط هذا ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم التي عندك. يريدون ام كلثوم بنت علي. فقال عمر ام سليط احق. وام سليط من نساء الانصار، ممن بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال عمر فانها كانت تزفر لنا القرب يوم احد. قال ابو عبد الله تزفر تخيط