Loading...

Loading...
کتب
۳۰۹ احادیث
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا ‘ ان سے ہلال نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا میرے بعد تم پر دنیا کی جو برکتیں کھول دی جائیں گی ‘ میں تمہارے بارے میں ان سے ڈر رہا ہوں کہ ( کہیں تم ان میں مبتلا نہ ہو جاؤ ) اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کی رنگینیوں کا ذکر فرمایا۔ پہلے دنیا کی برکات کا ذکر کیا پھر اس کی رنگینیوں کو بیان فرمایا ‘ اتنے میں ایک صحابی کھڑے ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا بھلائی، برائی پیدا کر دے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گئے۔ ہم نے سمجھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے۔ سب لوگ خاموش ہو گئے جیسے ان کے سروں پر پرندے ہوں۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک سے پسینہ صاف کیا اور دریافت فرمایا سوال کرنے والا کہاں ہے؟ کیا یہ بھی ( مال اور دنیا کی برکات ) خیر ہے؟ تین مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی جملہ دہرایا پھر فرمایا دیکھو بہار کے موسم میں جب ہری گھاس پیدا ہوتی ہے ‘ وہ جانور کو مار ڈالتی ہے یا مرنے کے قریب کر دیتی ہے مگر وہ جانور بچ جاتا ہے جو ہری ہری دوب چرتا ہے ‘ کوکھیں بھرتے ہی سورج کے سامنے جا کھڑا ہوتا ہے۔ لید ‘ گوبر ‘ پیشاب کرتا ہے پھر اس کے ہضم ہو جانے کے بعد اور چرتا ہے ‘ اسی طرح یہ مال بھی ہرا بھرا اور شیریں ہے اور مسلمان کا وہ مال کتنا عمدہ ہے جسے اس نے حلال طریقوں سے جمع کیا ہو اور پھر اسے اللہ کے راستے میں ( جہاد کے لیے ) یتیموں کے لیے مسکینوں کے لیے وقف کر دیا ہو لیکن جو شخص ناجائز طریقوں سے جمع کرتا ہے تو وہ ایک ایسا کھانے والا ہے جو کبھی آسودہ نہیں ہوتا اور وہ مال قیامت کے دن اس کے خلاف گواہ بن کر آئے گا۔
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا فليح، حدثنا هلال، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على المنبر فقال " انما اخشى عليكم من بعدي ما يفتح عليكم من بركات الارض ". ثم ذكر زهرة الدنيا، فبدا باحداهما وثنى بالاخرى، فقام رجل فقال يا رسول الله اوياتي الخير بالشر فسكت عنه النبي صلى الله عليه وسلم قلنا يوحى اليه. وسكت الناس كان على رءوسهم الطير، ثم انه مسح عن وجهه الرحضاء، فقال " اين السايل انفا اوخير هو ثلاثا ان الخير لا ياتي الا بالخير، وانه كل ما ينبت الربيع ما يقتل حبطا او يلم كلما اكلت، حتى اذا امتلات خاصرتاها استقبلت الشمس، فثلطت وبالت ثم رتعت، وان هذا المال خضرة حلوة، ونعم صاحب المسلم لمن اخذه بحقه، فجعله في سبيل الله واليتامى والمساكين، ومن لم ياخذه بحقه فهو كالاكل الذي لا يشبع، ويكون عليه شهيدا يوم القيامة
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ہم سے حسین نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے بسر بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ کے راستے میں غزوہ کرنے والے کو ساز و سامان دیا تو وہ ( گویا ) خود غزوہ میں شریک ہوا اور جس نے خیر خواہانہ طریقہ پر غازی کے گھر بار کی نگرانی کی تو وہ ( گویا ) خود غزوہ میں شریک ہوا۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا الحسين، قال حدثني يحيى، قال حدثني ابو سلمة، قال حدثني بسر بن سعيد، قال حدثني زيد بن خالد رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من جهز غازيا في سبيل الله فقد غزا، ومن خلف غازيا في سبيل الله بخير فقد غزا
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں اپنی بیویوں کے سوا اور کسی کے گھر نہیں جایا کرتے تھے مگر ام سلیم کے پاس جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس پر رحم آتا ہے، اس کا بھائی ( حرام بن ملحان ) میرے کام میں شہید کر دیا گیا۔
حدثنا موسى، حدثنا همام، عن اسحاق بن عبد الله، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم لم يكن يدخل بيتا بالمدينة غير بيت ام سليم، الا على ازواجه فقيل له، فقال " اني ارحمها، قتل اخوها معي
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن عون نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن انس نے بیان کیا جنگ یمامہ کا وہ ذکر کر رہے تھے ‘ بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں گئے ‘ انہوں نے اپنی ران کھول رکھی تھی اور خوشبو لگا رہے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا چچا! اب تک آپ جنگ میں کیوں تشریف نہیں لائے؟ انہوں نے جواب دیا کہ بیٹے ابھی آتا ہوں اور وہ پھر خوشبو لگانے لگے پھر ( کفن پہن کر تشریف لائے اور بیٹھ گئے ) مراد صف میں شرکت سے ہے ) انس رضی اللہ عنہ نے گفتگو کرتے ہوئے مسلمانوں کی طرف سے کچھ کمزوری کے آثار کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے سامنے سے ہٹ جاؤ تاکہ ہم کافروں سے دست بدست لڑیں ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایسا کبھی نہیں کرتے تھے۔ ( یعنی پہلی صف کے لوگ ڈٹ کر لڑتے تھے کمزوری کا ہرگز مظاہرہ نہیں ہونے دیتے تھے ) تم نے اپنے دشمنوں کو بہت بری چیز کا عادی بنا دیا ہے ( تم جنگ کے موقع پر پیچھے ہٹ گئے ) وہ حملہ کرنے لگے۔ اس حدیث کو حماد نے ثابت سے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا خالد بن الحارث، حدثنا ابن عون، عن موسى بن انس، قال وذكر يوم اليمامة قال اتى انس ثابت بن قيس وقد حسر عن فخذيه وهو يتحنط فقال يا عم ما يحبسك ان لا تجيء قال الان يا ابن اخي. وجعل يتحنط، يعني من الحنوط، ثم جاء فجلس، فذكر في الحديث انكشافا من الناس، فقال هكذا عن وجوهنا حتى نضارب القوم، ما هكذا كنا نفعل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، بيس ما عودتم اقرانكم. رواه حماد عن ثابت عن انس
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن منکدر نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خندق کے دن فرمایا دشمن کے لشکر کی خبر میرے پاس کون لا سکتا ہے؟ ( دشمن سے مراد یہاں بنو قریظہ تھے ) زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ پھر پوچھا دشمن کے لشکر کی خبریں کون لا سکے گا؟ اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری ( سچے مددگار ) ہوتے ہیں اور میرے حواری ( زبیر ) ہیں۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن محمد بن المنكدر، عن جابر رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من ياتيني بخبر القوم يوم الاحزاب ". قال الزبير انا. ثم قال " من ياتيني بخبر القوم ". قال الزبير انا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان لكل نبي حواريا، وحواري الزبير
ہم سے صدقہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ابن منکدر نے بیان کیا ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ( بنی قریظہ کی طرف خبر لانے کے لیے ) دعوت دی۔ صدقہ ( امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد ) نے کہا کہ میرا خیال ہے یہ غزوہ خندق کا واقعہ ہے۔ تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اس پر لبیک کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور زبیر رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں۔
حدثنا صدقة، اخبرنا ابن عيينة، حدثنا ابن المنكدر، سمع جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال ندب النبي صلى الله عليه وسلم الناس قال صدقة اظنه يوم الخندق فانتدب الزبير، ثم ندب فانتدب الزبير، ثم ندب الناس فانتدب الزبير فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان لكل نبي حواريا، وان حواري الزبير بن العوام
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوشہاب نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں سے وطن کے لیے واپس لوٹے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ایک میں تھا اور دوسرے میرے ساتھی ‘ ( ہر نماز کے وقت ) اذان پکارنا اور اقامت کہنا اور تم دونوں میں جو بڑا ہو وہ نماز پڑھائے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو شهاب، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن مالك بن الحويرث، قال انصرفت من عند النبي صلى الله عليه وسلم، فقال لنا انا وصاحب لي " اذنا واقيما، وليومكما اكبركما
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت وابستہ رہے گی ( کیونکہ اس سے جہاد میں کام لیا جاتا رہے گا ) ۔“
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الخيل في نواصيها الخير الى يوم القيامة
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حصین اور ابن ابی السفر نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عروہ بن جعد رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ خیر و برکت بندھی رہے گی۔“ سلیمان نے شعبہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ ان سے عروہ بن ابی الجعد رضی اللہ عنہ نے اس روایت کی متابعت ( جس میں بجائے ابن الجعد کے ابن ابی الجعد ہے ) مسدد نے ہشیم سے کی، ان سے حصین نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عروہ ابن ابی الجعد نے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن حصين، وابن ابي السفر، عن الشعبي، عن عروة بن الجعد، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الخيل معقود في نواصيها الخير الى يوم القيامة ". قال سليمان عن شعبة عن عروة بن ابي الجعد
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”گھوڑے کی پیشانی میں برکت بندھی ہوئی ہے۔“
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن ابي التياح، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " البركة في نواصي الخيل
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا، کہا ہم سے عامر نے، کہا ہم سے عروہ بارقی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خیر و برکت قیامت تک گھوڑے کی پیشانی کے ساتھ بندھی رہے گی یعنی آخرت میں ثواب اور دنیا میں مال غنیمت ملتا رہے گا۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا زكرياء، عن عامر، حدثنا عروة البارقي، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " الخيل معقود في نواصيها الخير الى يوم القيامة الاجر والمغنم
ہم سے علی بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے امام عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا، کہا مجھ کو طلحہ بن ابی سعید نے خبر دی، کہا کہ میں نے سعید مقبری سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے اللہ تعالیٰ پر ایمان کے ساتھ اور اس کے وعدہ ثواب کو جانتے ہوئے اللہ کے راستے میں ( جہاد کے لیے ) گھوڑا پالا تو اس گھوڑے کا کھانا، پینا اور اس کا پیشاب و لید سب قیامت کے دن اس کی ترازو میں ہو گا اور سب پر اس کو ثواب ملے گا۔“
حدثنا علي بن حفص، حدثنا ابن المبارك، اخبرنا طلحة بن ابي سعيد، قال سمعت سعيدا المقبري، يحدث انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " من احتبس فرسا في سبيل الله ايمانا بالله وتصديقا بوعده، فان شبعه وريه وروثه وبوله في ميزانه يوم القيامة
ہم سے محمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے باپ نے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) نکلے۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ پیچھے رہ گئے تھے۔ ان کے دوسرے تمام ساتھی تو محرم تھے لیکن انہوں نے خود احرام نہیں باندھا تھا۔ ان کے ساتھیوں نے ایک گورخر دیکھا۔ ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے اس پر نظر پڑنے سے پہلے ان حضرات کی نظر اگرچہ اس پر پڑی تھی لیکن انہوں نے اسے چھوڑ دیا تھا لیکن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اسے دیکھتے ہی اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے، ان کے گھوڑے کا نام جرادہ تھا، اس کے بعد انہوں نے ساتھیوں سے کہا کہ کوئی ان کا کوڑا اٹھا کر انہیں دیدے ( جسے لیے بغیر وہ سوار ہو گئے تھے ) ان لوگوں نے اس سے انکار کیا ( محرم ہونے کی وجہ سے ) اس لیے انہوں نے خود ہی لے لیا اور گورخر پر حملہ کر کے اس کی کونچیں کاٹ دیں انہوں نے خود بھی اس کا گوشت کھایا اور دوسرے ساتھیوں نے بھی کھایا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا اس کا گوشت تمہارے پاس بچا ہوا باقی ہے؟ ابوقتادہ نے کہا کہ ہاں اس کی ایک ران ہمارے ساتھ باقی ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی وہ گوشت کھایا۔ گھوڑے کا نام جرادہ تھا، ( اس سے باب کا مطلب ثابت ہوا ) ۔
حدثنا محمد بن ابي بكر، حدثنا فضيل بن سليمان، عن ابي حازم، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، انه خرج مع النبي صلى الله عليه وسلم فتخلف ابو قتادة مع بعض اصحابه وهم محرمون وهو غير محرم، فراوا حمارا وحشيا قبل ان يراه، فلما راوه تركوه حتى راه ابو قتادة، فركب فرسا له يقال له الجرادة، فسالهم ان يناولوه سوطه فابوا، فتناوله فحمل فعقره، ثم اكل فاكلوا، فندموا فلما ادركوه قال " هل معكم منه شىء ". قال معنا رجله، فاخذها النبي صلى الله عليه وسلم فاكلها
ہم سے علی بن عبداللہ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابی بن عباس بن سہل نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے ان کے دادا (سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ) سے بیان کیا کہ ہمارے باغ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک گھوڑا رہتا تھا جس کا نام لحیف تھا۔
حدثنا علي بن عبد الله بن جعفر، حدثنا معن بن عيسى، حدثنا ابى بن عباس بن سهل، عن ابيه، عن جده، قال كان للنبي صلى الله عليه وسلم في حايطنا فرس يقال له اللحيف. قال ابو عبد الله وقال بعضهم اللخيف
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے یحییٰ بن آدم سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوالحوص نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے معاذ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس گدھے پر سوار تھے، میں اس پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا۔ اس گدھے کا نام عفیر تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اے معاذ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حق اپنے بندوں پر کیا ہے؟ اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر کیا ہے؟“ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ کا حق اپنے بندوں پر یہ ہے کہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور بندوں کا حق اللہ تعالیٰ پر یہ ہے کہ جو بندہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو اللہ اسے عذاب نہ دے۔“ میں نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں اس کی لوگوں کو بشارت نہ دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”لوگوں کو اس کی بشارت نہ دو ورنہ وہ خالی اعتماد کر بیٹھیں گے۔ ( اور نیک اعمال سے غافل ہو جائیں گے ) ۔“
حدثني اسحاق بن ابراهيم، سمع يحيى بن ادم، حدثنا ابو الاحوص، عن ابي اسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن معاذ رضى الله عنه قال كنت ردف النبي صلى الله عليه وسلم على حمار يقال له عفير، فقال " يا معاذ، هل تدري حق الله على عباده وما حق العباد على الله ". قلت الله ورسوله اعلم. قال " فان حق الله على العباد ان يعبدوه ولا يشركوا به شييا، وحق العباد على الله ان لا يعذب من لا يشرك به شييا ". فقلت يا رسول الله، افلا ابشر به الناس قال " لا تبشرهم فيتكلوا
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ میں نے قتادہ سے سنا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ( ایک رات ) مدینہ میں کچھ خطرہ سا محسوس ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارا ( ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا جو آپ کے عزیز تھے ) گھوڑا منگوایا، گھوڑے کا نام مندوب تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خطرہ تو ہم نے کوئی نہیں دیکھا البتہ اس گھوڑے کو ہم نے سمندر پایا ہے۔“
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، سمعت قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال كان فزع بالمدينة، فاستعار النبي صلى الله عليه وسلم فرسا لنا يقال له مندوب. فقال " ما راينا من فزع، وان وجدناه لبحرا
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”نحوست صرف تین چیزوں میں ہوتی ہے۔ گھوڑے میں، عورت میں اور گھر میں۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " انما الشوم في ثلاثة في الفرس والمراة والدار
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے امام مالک سے روایت کیا، انہوں نے ابوحازم بن دینار سے، انہوں نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”نحوست اگر ہوتی تو وہ گھوڑے، عورت اور مکان میں ہوتی۔“
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن ابي حازم بن دينار، عن سهل بن سعد الساعدي رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان كان في شىء ففي المراة والفرس والمسكن
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک رحمہ اللہ نے، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ابوصالح سمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑے کے مالک تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کے لیے وہ باعث اجر و ثواب ہیں، بعضوں کے لیے وہ صرف پردہ ہیں اور بعضوں کے لیے وبال جان ہیں۔ جس کے لیے گھوڑا اجر و ثواب کا باعث ہے یہ وہ شخص ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کی نیت سے اسے پالتا ہے پھر جہاں خوب چری ہوتی ہے یا ( یہ فرمایا کہ ) کسی شاداب جگہ اس کی رسی کو خوب لمبی کر کے باندھتا ہے ( تاکہ چاروں طرف چر سکے ) تو گھوڑا اس کی چری کی جگہ سے یا اس شاداب جگہ سے اپنی رسی میں بندھا ہوا جو کچھ بھی کھاتا پیتا ہے مالک کو اس کی وجہ سے نیکیاں ملتی ہیں اور اگر وہ گھوڑا اپنی رسی تڑا کر ایک زغن یا دو زغن لگائے تو اس کی لید اور اس کے قدموں کے نشانوں میں بھی مالک کے لیے نیکیاں ہیں اور اگر وہ گھوڑا نہر سے گزرے اور اس میں سے پانی پی لے تو اگرچہ مالک نے پانی پلانے کا ارادہ نہ کیا ہو پھر بھی اس سے اسے نیکیاں ملتی ہیں، دوسرا شخص وہ ہے جو گھوڑے کو فخر، دکھاوے اور اہل اسلام کی دشمنی میں باندھتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال جان ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر اس جامع اور منفرد آیت کے سوا ان کے متعلق اور کچھ نازل نہیں ہوا «فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره» ”جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا اور جو کوئی ذرہ برابر برائی کرے گا اس کا بدلہ پائے گا۔“
حدثنا عبد الله بن مسلمة، عن مالك، عن زيد بن اسلم، عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الخيل لثلاثة لرجل اجر، ولرجل ستر، وعلى رجل وزر، فاما الذي له اجر فرجل ربطها في سبيل الله، فاطال في مرج او روضة، فما اصابت في طيلها ذلك من المرج او الروضة كانت له حسنات، ولو انها قطعت طيلها فاستنت شرفا او شرفين كانت ارواثها واثارها حسنات له، ولو انها مرت بنهر فشربت منه ولم يرد ان يسقيها كان ذلك حسنات له، ورجل ربطها فخرا ورياء ونواء لاهل الاسلام فهى وزر على ذلك ". وسيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الحمر، فقال " ما انزل على فيها الا هذه الاية الجامعة الفاذة {فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره}
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوعقیل و بشر بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوالمتوکل ناجی (علی بن داود) نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنا ہے، ان میں سے مجھ سے بھی کوئی حدیث بیان کیجئے۔ انہوں نے بیان فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا۔ ابوعقیل راوی نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ( یہ سفر ) جہاد کے لیے تھا یا عمرہ کے لیے ( واپس ہوتے ہوئے ) جب ( مدینہ منورہ ) دکھائی دینے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے گھر جلدی جانا چاہے وہ جا سکتا ہے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم آگے بڑھے۔ میں اپنے ایک سیاہی مائل سرخ اونٹ بےداغ پر سوار تھا دوسرے لوگ میرے پیچھے رہ گئے، میں اسی طرح چل رہا تھا کہ اونٹ رک گیا ( تھک کر ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جابر! اپنا اونٹ تھام لے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کوڑے سے اونٹ کو مارا، اونٹ کود کر چل نکلا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ اونٹ بیچو گے؟ میں نے کہا ہاں! جب مدینہ پہنچے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد نبوی میں داخل ہوئے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور ”بلاط“ کے ایک کونے میں، میں نے اونٹ کو باندھ دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یہ آپ کا اونٹ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور اونٹ کو گھمانے لگے اور فرمایا کہ اونٹ تو ہمارا ہی ہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند اوقیہ سونا مجھے دلوایا اور دریافت فرمایا تم کو قیمت پوری مل گئی۔ میں نے عرض کیا جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب قیمت اور اونٹ ( دونوں ہی ) تمہارے ہیں۔
حدثنا مسلم، حدثنا ابو عقيل، حدثنا ابو المتوكل الناجي، قال اتيت جابر بن عبد الله الانصاري، فقلت له حدثني بما، سمعت من، رسول الله صلى الله عليه وسلم قال سافرت معه في بعض اسفاره قال ابو عقيل لا ادري غزوة او عمرة فلما ان اقبلنا قال النبي صلى الله عليه وسلم " من احب ان يتعجل الى اهله فليعجل ". قال جابر فاقبلنا وانا على جمل لي ارمك ليس فيه شية، والناس خلفي، فبينا انا كذلك اذ قام على، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم " يا جابر استمسك ". فضربه بسوطه ضربة، فوثب البعير مكانه. فقال " اتبيع الجمل ". قلت نعم. فلما قدمنا المدينة ودخل النبي صلى الله عليه وسلم المسجد في طوايف اصحابه، فدخلت اليه، وعقلت الجمل في ناحية البلاط. فقلت له هذا جملك. فخرج، فجعل يطيف بالجمل ويقول " الجمل جملنا ". فبعث النبي صلى الله عليه وسلم اواق من ذهب فقال " اعطوها جابرا ". ثم قال " استوفيت الثمن ". قلت نعم. قال " الثمن والجمل لك