Loading...

Loading...
کتب
۳۰۹ احادیث
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالمالک بن عمیر نے بیان کیا ‘ انہوں نے عمرو بن میمون اودی سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے بچوں کو یہ کلمات دعائیہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے معلم بچوں کو لکھنا سکھاتا ہے اور فرماتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من الجبن، وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر، وأعوذ بك من فتنة الدنيا، وأعوذ بك من عذاب القبر» ”اے اللہ! بزدلی سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں ‘ اس سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ عمر کے سب سے ذلیل حصے ( بڑھاپے ) میں پہنچا دیا جاؤں اور تیری پناہ مانگتا ہوں میں دنیا کے فتنوں سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔“ پھر میں نے یہ حدیث جب مصعب بن سعد سے بیان کی تو انہوں نے بھی اس کی تصدیق کی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، حدثنا عبد الملك بن عمير، سمعت عمرو بن ميمون الاودي، قال كان سعد يعلم بنيه هولاء الكلمات كما يعلم المعلم الغلمان الكتابة، ويقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يتعوذ منهن دبر الصلاة " اللهم اني اعوذ بك من الجبن، واعوذ بك ان ارد الى ارذل العمر، واعوذ بك من فتنة الدنيا، واعوذ بك من عذاب القبر ". فحدثت به مصعبا فصدقه
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی اور سستی سے ‘ بزدلی اور بڑھاپے کی ذلیل حدود میں پہنچ جانے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔“
حدثنا مسدد، حدثنا معتمر، قال سمعت ابي قال، سمعت انس بن مالك رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اللهم اني اعوذ بك من العجز والكسل والجبن والهرم، واعوذ بك من فتنة المحيا والممات، واعوذ بك من عذاب القبر
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حاتم نے بیان کیا محمد بن یوسف سے ‘ ان سے سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں طلحہ بن عبیداللہ ‘ سعد بن ابی وقاص ‘ مقداد بن اسود اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم کی صحبت میں بیٹھا ہوں لیکن میں نے کسی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کرتے نہیں سنا۔ البتہ طلحہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ احد کی جنگ کے متعلق بیان کیا کرتے تھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا حاتم، عن محمد بن يوسف، عن السايب بن يزيد، قال صحبت طلحة بن عبيد الله وسعدا والمقداد بن الاسود وعبد الرحمن بن عوف رضى الله عنهم فما سمعت احدا، منهم يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، الا اني سمعت طلحة يحدث عن يوم احد
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ‘ ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے منصور نے بیان کیا مجاہد سے ‘ انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا تھا مکہ فتح ہونے کے بعد ( اب مکہ سے مدینہ کے لیے ) ہجرت باقی نہیں ہے ‘ لیکن خلوص نیت کے ساتھ جہاد اب بھی باقی ہے اس لیے تمہیں جہاد کے لیے بلایا جائے تو نکل کھڑے ہو۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا يحيى، حدثنا سفيان، قال حدثني منصور، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قال يوم الفتح " لا هجرة بعد الفتح ولكن جهاد ونية، واذا استنفرتم فانفروا
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ابوالزناد سے ‘ انہوں نے اعرج سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( قیامت کے دن ) اللہ تعالیٰ ایسے دو آدمیوں پر ہنس دے گا کہ ان میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کیا تھا اور پھر بھی دونوں جنت میں داخل ہو گئے۔ پہلا وہ جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا وہ شہید ہو گیا ‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قاتل کو توبہ کی توفیق دی اور وہ بھی اللہ کی راہ میں شہید ہوا۔ اس طرح دونوں قاتل و مقتول بالآخر جنت میں داخل ہو گئے۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابي الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " يضحك الله الى رجلين يقتل احدهما الاخر يدخلان الجنة، يقاتل هذا في سبيل الله فيقتل، ثم يتوب الله على القاتل فيستشهد
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عنبسہ بن سعید نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر میں ٹھہرے ہوئے تھے اور خیبر فتح ہو چکا تھا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرا بھی ( مال غنیمت میں ) حصہ لگائیے۔ سعید بن العاص کے ایک لڑکے ( ابان بن سعید رضی اللہ عنہ ) نے کہا یا رسول اللہ! ان کا حصہ نہ لگائیے۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے کہ یہ شخص تو ابن قوتل ( نعمان بن مالک رضی اللہ عنہ ) کا قاتل ہے۔ ابان بن سعید رضی اللہ عنہ نے کہا کتنی عجیب بات ہے کہ یہ جانور ( یعنی ابوہریرہ ابھی تو پہاڑ کی چوٹی سے بکریاں چراتے چراتے یہاں آ گیا ہے اور ایک مسلمان کے قتل کا مجھ پر الزام لگاتا ہے۔ اس کو یہ خبر نہیں کہ جسے اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھوں سے ( شہادت ) عزت دی اور مجھے اس کے ہاتھوں سے ذلیل ہونے سے بچا لیا ( اگر اس وقت میں مارا جاتا ) تو دوزخی ہوتا ‘ عنبسہ نے بیان کیا کہ اب مجھے یہ نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھی حصہ لگایا یا نہیں۔ سفیان نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے سعیدی نے اپنے دادا کے واسطے سے بیان کیا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے کہا کہ سعیدی سے مراد عمرو بن یحییٰ بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص ہیں۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، قال اخبرني عنبسة بن سعيد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بخيبر بعد ما افتتحوها، فقلت يا رسول الله اسهم لي. فقال بعض بني سعيد بن العاص لا تسهم له يا رسول الله. فقال ابو هريرة هذا قاتل ابن قوقل. فقال ابن سعيد بن العاص واعجبا لوبر تدلى علينا من قدوم ضان، ينعى على قتل رجل مسلم اكرمه الله على يدى ولم يهني على يديه. قال فلا ادري اسهم له ام لم يسهم له. قال سفيان وحدثنيه السعيدي عن جده عن ابي هريرة. قال ابو عبد الله السعيدي عمرو بن يحيى بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ثابت بنانی نے ‘ کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ابوطلحہ زید بن سہیل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جہاد میں شرکت کے خیال سے ( نفلی روزے نہیں رکھتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پھر میں نے انہیں عیدالفطر اور عید الاضحی کے سوا روزے کے بغیر نہیں دیکھا۔)
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا ثابت البناني، قال سمعت انس بن مالك رضى الله عنه قال كان ابو طلحة لا يصوم على عهد النبي صلى الله عليه وسلم من اجل الغزو، فلما قبض النبي صلى الله عليه وسلم لم اره مفطرا، الا يوم فطر او اضحى
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں سمی نے ‘ انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”شہید پانچ قسم کے ہوتے ہیں۔ طاعون میں ہلاک ہونے والا ‘ پیٹ کی بیماری میں ہلاک ہونے والا ‘ ڈوب کر مرنے والا ‘ دب کر مر جانے والا اور اللہ کے راستے میں شہادت پانے والا۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن سمى، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الشهداء خمسة المطعون، والمبطون، والغرق وصاحب الهدم، والشهيد في سبيل الله
ہم سے بشر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو عاصم نے خبر دی حفصہ بنت سیرین سے اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”طاعون کی موت ہر مسلمان کے لیے شہادت کا درجہ رکھتی ہے۔“
حدثنا بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا عاصم، عن حفصة بنت سيرين، عن انس بن مالك رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الطاعون شهادة لكل مسلم
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ابواسحاق سے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ کہتے تھے کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ( جو کاتب وحی تھے ) کو بلایا ‘ آپ ایک چوڑی ہڈی ساتھ لے کر حاضر ہوئے اور اس آیت کو لکھا اور ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے جب اپنے نابینا ہونے کی شکایت کی تو آیت یوں نازل ہوئی «لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر» ۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت البراء رضى الله عنه يقول لما نزلت {لا يستوي القاعدون من المومنين} دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم زيدا، فجاء بكتف فكتبها، وشكا ابن ام مكتوم ضرارته فنزلت {لا يستوي القاعدون من المومنين غير اولي الضرر}
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ابن شہاب سے ‘ انہوں نے سہل بن سعد زہری رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ میں مروان بن حکم ( خلیفہ اور اس وقت کے امیر مدینہ ) کو مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو ان کے قریب گیا اور پہلو میں بیٹھ گیا اور پھر انہوں نے ہمیں خبر دی کہ زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے آیت لکھوائی «لا يستوي القاعدون من المؤمنين والمجاهدون في سبيل الله» انہوں نے بیان کیا پھر عبداللہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مجھ سے آیت مذکورہ لکھوا رہے تھے، انہوں نے کہا یا رسول اللہ! اگر مجھ میں جہاد کی طاقت ہوتی تو میں جہاد میں شریک ہوتا۔ وہ نابینا تھے ‘ اس پر اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران میری ران پر تھی میں نے آپ پر وحی کی شدت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران کا اتنا بوجھ محسوس کیا کہ مجھے ڈر ہو گیا کہ کہیں میری ران پھٹ نہ جائے۔ اس کے بعد وہ کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ختم ہو گئی اور اللہ عزوجل نے فقط «غير أولي الضرر» نازل فرمایا۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا ابراهيم بن سعد الزهري، قال حدثني صالح بن كيسان، عن ابن شهاب، عن سهل بن سعد الساعدي، انه قال رايت مروان بن الحكم جالسا في المسجد، فاقبلت حتى جلست الى جنبه، فاخبرنا ان زيد بن ثابت اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم املى عليه لا يستوي القاعدون من المومنين والمجاهدون في سبيل الله قال فجاءه ابن ام مكتوم وهو يملها على، فقال يا رسول الله، لو استطيع الجهاد لجاهدت. وكان رجلا اعمى، فانزل الله تبارك وتعالى على رسوله صلى الله عليه وسلم وفخذه على فخذي، فثقلت على حتى خفت ان ترض فخذي، ثم سري عنه، فانزل الله عز وجل {غير اولي الضرر}
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسحاق موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سالم بن ابی النضر نے کہ عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے ( عمر بن عبیداللہ کو ) لکھا تو میں نے وہ تحریر پڑھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جب تمہاری کفار سے مڈبھیڑ ہو تو صبر سے کام لو۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا ابو اسحاق، عن موسى بن عقبة، عن سالم ابي النضر، ان عبد الله بن ابي اوفى، كتب فقراته ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا لقيتموهم فاصبروا
سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسحاق نے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے بیان کیا میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدان خندق کی طرف تشریف لے گئے ( غزوہ خندق کے شروع ہونے سے کچھ پہلے جب خندق کی کھدائی ہو رہی تھی ) ‘ آپ نے دیکھا کہ مہاجرین اور انصار رضوان اللہ علیہم اجمعین سردی کی سختی کے باوجود صبح ہی صبح خندق کھودنے میں مصروف ہیں ‘ ان کے پاس غلام بھی نہیں تھے جو ان کی اس کھدائی میں مدد کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تھکن اور بھوک کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ”اے اللہ! زندگی تو پس آخرت ہی کی زندگی ہے پس انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔“ یعنی درحقیقت جو مزہ ہے آخرت کا ہے مزہ۔۔۔ بخش دے انصار اور پردیسیوں کو اے اللہ۔۔۔ صحابہ نے اس کے جواب میں کہا ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اس وقت تک جہاد کرنے کا عہد کیا ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔“ اپنے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بیعت ہم نے کی جب تلک ہے زندگی۔۔۔ لڑتے رہیں گے ہم سدا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا ابو اسحاق، عن حميد، قال سمعت انسا رضى الله عنه يقول خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم الى الخندق فاذا المهاجرون والانصار يحفرون في غداة باردة، فلم يكن لهم عبيد يعملون ذلك لهم، فلما راى ما بهم من النصب والجوع قال اللهم ان العيش عيش الاخره فاغفر للانصار والمهاجره. فقالوا مجيبين له نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما بقينا ابدا
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( جب تمام عرب کے مدینہ منورہ پر حملہ کا خطرہ ہوا تو ) مدینہ کے اردگرد مہاجرین و انصار خندق کھودنے میں مشغول ہو گئے ‘ مٹی اپنی پشت پر لاد لاد کر اٹھاتے اور ( یہ رجز ) پڑھتے جاتے ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اس وقت تک جہاد کے لیے بیعت کی ہے جب تک ہماری جان میں جان ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس رجز کے جواب میں یہ دعا فرماتے ”اے اللہ! آخرت کی خیر کے سوا اور کوئی خیر نہیں ‘ پس تو انصار اور مہاجرین کو برکت عطا فرما۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا عبد العزيز، عن انس رضى الله عنه قال جعل المهاجرون والانصار يحفرون الخندق حول المدينة، وينقلون التراب على متونهم ويقولون نحن الذين بايعوا محمدا على الاسلام ما بقينا ابدا والنبي صلى الله عليه وسلم يجيبهم ويقول اللهم انه لا خير الا خير الاخره فبارك في الانصار والمهاجره
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( خندق کھودتے ہوئے مٹی ) اٹھا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ ” ( اے اللہ! ) اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں ہدایت نصیب نہ ہوتی۔“ یعنی تو ہدایت گر نہ ہوتا تو نہ ملتی ہم کو راہ۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، سمعت البراء رضى الله عنه كان النبي صلى الله عليه وسلم ينقل ويقول " لولا انت ما اهتدينا
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوہ احزاب ( خندق ) کے موقع پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی ( خندق کھودنے کی وجہ سے جو نکلتی تھی ) خود ڈھو رہے تھے۔ مٹی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کی سفیدی چھپ گئی تھی اور یہ شعر کہہ رہے تھے «لولا أنت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا. فأنزل السكينة علينا وثبت الأقدام إن لاقينا. إن الألى قد بغوا علينا إذا أرادوا فتنة أبينا.» ”اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور ہم نہ صدقہ دیتے، اور نہ نماز پڑھتے، پس تو ہم پر سکینت نازل فرما، اور جب ہم دشمن سے مقابلہ کریں، تو ہمیں ثابت قدم رکھ، بے شک ان لوگوں نے ہم پر ظلم کیا ہے، جب یہ کوئی فساد کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کی بات میں نہیں آتے۔“
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، عن البراء رضى الله عنه قال رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الاحزاب ينقل التراب وقد وارى التراب بياض بطنه، وهو يقول لولا انت ما اهتدينا ولا تصدقنا ولا صلينا. فانزل السكينة علينا وثبت الاقدام ان لاقينا. ان الالى قد بغوا علينا اذا ارادوا فتنة ابينا
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ساتھ غزوہ تبوک سے واپس ہوئے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا حميد، ان انسا، حدثهم قال رجعنا من غزوة تبوك مع النبي صلى الله عليه وسلم
امام بخاری رحمہ اللہ حدیث کی دوسری سند بیان کرتے ہیں کہ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ یہ زید کے بیٹے ہیں ‘ ان سے حمید نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ ( تبوک ) پر تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ لوگ مدینہ میں ہمارے پیچھے رہ گئے ہیں لیکن ہم کسی بھی گھاٹی یا وادی میں ( جہاد کے لیے ) چلیں وہ ثواب میں ہمارے ساتھ ہیں کہ وہ صرف عذر کی وجہ سے ہمارے ساتھ نہیں آ سکے۔ اور موسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے حماد نے بیان کیا ‘ ان سے حمید نے ‘ ان سے موسیٰ بن انس نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) فرماتے ہیں کہ پہلی سند زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد هو ابن زيد عن حميد، عن انس رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان في غزاة فقال " ان اقواما بالمدينة خلفنا، ما سلكنا شعبا ولا واديا الا وهم معنا فيه، حبسهم العذر ". وقال موسى حدثنا حماد، عن حميد، عن موسى بن انس، عن ابيه، قال النبي صلى الله عليه وسلم. قال ابو عبد الله الاول اصح
ہم سے اسحاق بن نضر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے یحییٰ بن سعید اور سہیل بن ابی صالح نے خبر دی ‘ ان دونوں حضرات نے نعمان بن ابی عیاش سے سنا ‘ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ‘ آپ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ فرماتے تھے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ( جہاد کرتے ہوئے ) ایک دن بھی روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی مسافت کی دوری تک دور کر دے گا۔
حدثنا اسحاق بن نصر، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني يحيى بن سعيد، وسهيل بن ابي صالح، انهما سمعا النعمان بن ابي عياش، عن ابي سعيد رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من صام يوما في سبيل الله بعد الله وجهه عن النار سبعين خريفا
ہم سے سعد بن حفص نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا یحییٰ سے ‘ وہ ابوسلمہ سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے اللہ کے راستے میں ایک جوڑا ( کسی چیز کا ) خرچ کیا تو اسے جنت کے داروغہ بلائیں گے۔ جنت کے ہر دروازے کا داروغہ ( اپنی طرف ) بلائے گا کہ اے فلاں! اس دروازے سے آ، اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے۔ یا رسول اللہ! پھر اس شخص کو کوئی خوف نہیں رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ تم بھی انہیں میں سے ہو گے۔
حدثنا سعد بن حفص، حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من انفق زوجين في سبيل الله دعاه خزنة الجنة، كل خزنة باب اى فل هلم ". قال ابو بكر يا رسول الله، ذاك الذي لا توى عليه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اني لارجو ان تكون منهم