Loading...

Loading...
کتب
۱۵۸ احادیث
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ عبیداللہ بن زیاد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا تھا کہ میں اور میری والدہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مکہ میں ) کمزور مسلمانوں میں سے تھے۔ میں بچوں میں اور میری والدہ عورتوں میں۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال قال عبيد الله سمعت ابن عباس رضى الله عنهما يقول كنت انا وامي، من المستضعفين انا من الولدان، وامي، من النساء
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ابن شہاب ہر اس بچے کی جو وفات پا گیا ہو نماز جنازہ پڑھتے تھے۔ اگرچہ وہ حرام ہی کا بچہ کیوں نہ ہو کیونکہ اس کی پیدائش اسلام کی فطرت پر ہوئی۔ یعنی اس صورت میں جب کہ اس کے والدین مسلمان ہونے کے دعویدار ہوں۔ اگر صرف باپ مسلمان ہو اور ماں کا مذہب اسلام کے سوا کوئی اور ہو جب بھی بچہ کے رونے کی پیدائش کے وقت اگر آواز سنائی دیتی تو اس پر نماز پڑھی جاتی۔ لیکن اگر پیدائش کے وقت کوئی آواز نہ آتی تو اس کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ بلکہ ایسے بچے کو کچا حمل گر جانے کے درجہ میں سمجھا جاتا تھا۔ کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح تم دیکھتے ہو کہ جانور صحیح سالم بچہ جنتا ہے۔ کیا تم نے کوئی کان کٹا ہوا بچہ بھی دیکھا ہے؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو تلاوت کیا۔ «فطرة الله التي فطر الناس عليها» الآية ”یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔“
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، قال ابن شهاب يصلى على كل مولود متوفى وان كان لغية، من اجل انه ولد على فطرة الاسلام، يدعي ابواه الاسلام او ابوه خاصة، وان كانت امه على غير الاسلام، اذا استهل صارخا صلي عليه، ولا يصلى على من لا يستهل من اجل انه سقط، فان ابا هريرة رضى الله عنه كان يحدث قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما من مولود الا يولد على الفطرة، فابواه يهودانه او ينصرانه او يمجسانه، كما تنتج البهيمة بهيمة جمعاء هل تحسون فيها من جدعاء ". ثم يقول ابو هريرة رضى الله عنه – {فطرة الله التي فطر الناس عليها} الاية
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک جانور ایک صحیح سالم جانور جنتا ہے۔ کیا تم اس کا کوئی عضو ( پیدائشی طور پر ) کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ‘ یہی «دين القيم» ہے۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من مولود الا يولد على الفطرة، فابواه يهودانه او ينصرانه او يمجسانه، كما تنتج البهيمة بهيمة جمعاء، هل تحسون فيها من جدعاء ". ثم يقول ابو هريرة رضى الله عنه {فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم}
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے میرے باپ (ابراہیم بن سعد) نے صالح بن کیسان سے خبر دی ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے سعید بن مسیب نے اپنے باپ (مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ) سے خبر دی ‘ ان کے باپ نے انہیں یہ خبر دی کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے۔ دیکھا تو ان کے پاس اس وقت ابوجہل بن ہشام اور عبداللہ بن ابی امیہ بن مغیرہ موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ چچا! آپ ایک کلمہ «لا إله إلا الله» ( اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں کوئی معبود نہیں ) کہہ دیجئیے تاکہ میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کلمہ کی وجہ سے آپ کے حق میں گواہی دے سکوں۔ اس پر ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ مغیرہ نے کہا ابوطالب! کیا تم اپنے باپ عبدالمطلب کے دین سے پھر جاؤ گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر کلمہ اسلام ان پر پیش کرتے رہے۔ ابوجہل اور ابن ابی امیہ بھی اپنی بات دہراتے رہے۔ آخر ابوطالب کی آخری بات یہ تھی کہ وہ عبدالمطلب کے دین پر ہیں۔ انہوں نے «لا إله إلا الله» کہنے سے انکار کر دیا پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں آپ کے لیے استغفار کرتا رہوں گا۔ تاآنکہ مجھے منع نہ کر دیا جائے اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ما كان للنبي» الآية نازل فرمائی۔ ( التوبہ:)
حدثنا اسحاق، اخبرنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثني ابي، عن صالح، عن ابن شهاب، قال اخبرني سعيد بن المسيب، عن ابيه، انه اخبره انه، لما حضرت ابا طالب الوفاة جاءه رسول الله صلى الله عليه وسلم فوجد عنده ابا جهل بن هشام، وعبد الله بن ابي امية بن المغيرة، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لابي طالب " يا عم، قل لا اله الا الله، كلمة اشهد لك بها عند الله ". فقال ابو جهل وعبد الله بن ابي امية يا ابا طالب، اترغب عن ملة عبد المطلب فلم يزل رسول الله صلى الله عليه وسلم يعرضها عليه، ويعودان بتلك المقالة، حتى قال ابو طالب اخر ما كلمهم هو على ملة عبد المطلب، وابى ان يقول لا اله الا الله. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اما والله لاستغفرن لك، ما لم انه عنك ". فانزل الله تعالى فيه {ما كان للنبي} الاية
ہم سے یحییٰ بن جعفر بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مجاہد نے، ان سے طاؤس نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایسی دو قبروں پر ہوا جن میں عذاب ہو رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو عذاب کسی بہت بڑی بات پر نہیں ہو رہا ہے صرف یہ کہ ان میں ایک شخص پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا شخص چغل خوری کیا کرتا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک ہری ڈالی لی اور اس کے دو ٹکڑے کر کے دونوں قبر پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا۔ لوگوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شاید اس وقت تک کے لیے ان پر عذاب کچھ ہلکا ہو جائے جب تک یہ خشک نہ ہوں۔
حدثنا يحيى، حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن مجاهد، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم انه مر بقبرين يعذبان فقال " انهما ليعذبان وما يعذبان في كبير اما احدهما فكان لا يستتر من البول، واما الاخر فكان يمشي بالنميمة ". ثم اخذ جريدة رطبة فشقها بنصفين، ثم غرز في كل قبر واحدة. فقالوا يا رسول الله، لم صنعت هذا فقال " لعله ان يخفف عنهما ما لم ييبسا
ہم سے عثمان ابن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے منصور بن معتمر نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن عبیدہ نے ‘ ان سے ابوعبدالرحمٰن عبداللہ بن حبیب نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم بقیع غرقد میں ایک جنازہ کے ساتھ تھے۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چھڑی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زمین کریدنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسا نہیں یا کوئی جان ایسی نہیں جس کا ٹھکانا جنت اور دوزخ دونوں جگہ نہ لکھا گیا ہو اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہو گی یا بدبخت۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر کیوں نہ ہم اپنی تقدیر پر بھروسہ کر لیں اور عمل چھوڑ دیں کیونکہ جس کا نام نیک دفتر میں لکھا ہے وہ ضرور نیک کام کی طرف رجوع ہو گا اور جس کا نام بدبختوں میں لکھا ہے وہ ضرور بدی کی طرف جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ جن کا نام نیک بختوں میں ہے ان کو اچھے کام کرنے میں ہی آسانی معلوم ہوتی ہے اور بدبختوں کو برے کاموں میں آسانی نظر آتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «فأما من أعطى واتقى» الآية۔
حدثنا عثمان، قال حدثني جرير، عن منصور، عن سعد بن عبيدة، عن ابي عبد الرحمن، عن علي رضى الله عنه قال كنا في جنازة في بقيع الغرقد، فاتانا النبي صلى الله عليه وسلم فقعد وقعدنا حوله، ومعه مخصرة فنكس، فجعل ينكت بمخصرته ثم قال " ما منكم من احد، ما من نفس منفوسة الا كتب مكانها من الجنة والنار، والا قد كتب شقية او سعيدة ". فقال رجل يا رسول الله، افلا نتكل على كتابنا وندع العمل، فمن كان منا من اهل السعادة فسيصير الى عمل اهل السعادة، واما من كان منا من اهل الشقاوة فسيصير الى عمل اهل الشقاوة قال " اما اهل السعادة فييسرون لعمل السعادة، واما اهل الشقاوة فييسرون لعمل الشقاوة "، ثم قرا {فاما من اعطى واتقى} الاية
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد، عن ابي قلابة، عن ثابت بن الضحاك رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حلف بملة غير الاسلام كاذبا متعمدا فهو كما قال، ومن قتل نفسه بحديدة عذب به في نار جهنم ". وقال حجاج بن منهال حدثنا جرير بن حازم، عن الحسن، حدثنا جندب رضى الله عنه في هذا المسجد فما نسينا، وما نخاف ان يكذب جندب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كان برجل جراح فقتل نفسه فقال الله بدرني عبدي بنفسه حرمت عليه الجنة
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد، عن ابي قلابة، عن ثابت بن الضحاك رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حلف بملة غير الاسلام كاذبا متعمدا فهو كما قال، ومن قتل نفسه بحديدة عذب به في نار جهنم ". وقال حجاج بن منهال حدثنا جرير بن حازم، عن الحسن، حدثنا جندب رضى الله عنه في هذا المسجد فما نسينا، وما نخاف ان يكذب جندب عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " كان برجل جراح فقتل نفسه فقال الله بدرني عبدي بنفسه حرمت عليه الجنة
ہم سے ابولیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم کو ابوالزناد نے خبر دی ‘ ان سے اعرج نے ‘ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص خود اپنا گلا گھونٹ کر جان دے ڈالتا ہے وہ جہنم میں بھی اپنا گلا گھونٹتا رہے گا اور جو برچھے یا تیر سے اپنے تئیں ( آپ کو ) مارے وہ دوزخ میں بھی اس طرح اپنے ( آپ کو ) تئیں مارتا رہے گا۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، حدثنا ابو الزناد، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " الذي يخنق نفسه يخنقها في النار، والذي يطعنها يطعنها في النار
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے، ان سے ابن عباس نے اور ان سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول مرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس پر نماز جنازہ کے لیے کہا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس ارادے سے کھڑے ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھ کر عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ابن ابی کی نماز جنازہ پڑھاتے ہیں حالانکہ اس نے فلاں دن فلاں بات کہی تھی اور فلاں دن فلاں بات۔ میں اس کی کفر کی باتیں گننے لگا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر مسکرا دئیے اور فرمایا عمر! اس وقت پیچھے ہٹ جاؤ۔ لیکن جب میں بار بار اپنی بات دہراتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ مجھے اللہ کی طرف سے اختیار دے دیا گیا ہے ‘ میں نے نماز پڑھانی پسند کی اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ ستر مرتبہ سے زیادہ مرتبہ اس کے لیے مغفرت مانگنے پر اسے مغفرت مل جائے گی تو اس کے لیے اتنی ہی زیادہ مغفرت مانگوں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی اور واپس ہونے کے تھوڑی دیر بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سورۃ براۃ کی دو آیتیں نازل ہوئیں۔ ”کسی بھی منافق کی موت پر اس کی نماز جنازہ آپ ہرگز نہ پڑھائیے۔“ آیت «وهم فاسقون» تک اور اس کی قبر پر بھی مت کھڑے ہوں ‘ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کو نہیں مانا اور مرے بھی تو نافرمان رہ کر۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور اپنی اسی دن کی دلیری پر تعجب ہوتا ہے۔ حالانکہ اللہ اور اس کے رسول ( ہر مصلحت کو ) زیادہ جانتے ہیں۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثني الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، عن عمر بن الخطاب رضى الله عنهم انه قال لما مات عبد الله بن ابى ابن سلول دعي له رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصلي عليه، فلما قام رسول الله صلى الله عليه وسلم وثبت اليه فقلت يا رسول الله، اتصلي على ابن ابى وقد قال يوم كذا وكذا كذا وكذا اعدد عليه قوله فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم وقال " اخر عني يا عمر ". فلما اكثرت عليه قال " اني خيرت فاخترت، لو اعلم اني ان زدت على السبعين فغفر له لزدت عليها ". قال فصلى عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم انصرف، فلم يمكث الا يسيرا حتى نزلت الايتان من {براءة} {ولا تصل على احد منهم مات ابدا} الى {وهم فاسقون} قال فعجبت بعد من جراتي على رسول الله صلى الله عليه وسلم يوميذ، والله ورسوله اعلم
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے فرمایا کہ صحابہ کا گزر ایک جنازہ پر ہوا ‘ لوگ اس کی تعریف کرنے لگے ( کہ کیا اچھا آدمی تھا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ واجب ہو گئی۔ پھر دوسرے جنازے کا گزر ہوا تو لوگ اس کی برائی کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ واجب ہو گئی۔ اس پر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا چیز واجب ہو گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس میت کی تم لوگوں نے تعریف کی ہے اس کے لیے تو جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے برائی کی ہے اس کے لیے دوزخ واجب ہو گئی۔ تم لوگ زمین میں اللہ تعالیٰ کے گواہ ہو۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، قال سمعت انس بن مالك رضى الله عنه يقول مروا بجنازة فاثنوا عليها خيرا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " وجبت ". ثم مروا باخرى فاثنوا عليها شرا فقال " وجبت ". فقال عمر بن الخطاب رضى الله عنه ما وجبت قال " هذا اثنيتم عليه خيرا فوجبت له الجنة، وهذا اثنيتم عليه شرا فوجبت له النار، انتم شهداء الله في الارض
ہم سے عفان بن مسلم صفار نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے داؤد بن ابی الفرات نے ‘ ان سے عبداللہ بن بریدہ نے ‘ ان سے ابوالاسود دئلی نے کہ میں مدینہ حاضر ہوا۔ ان دنوں وہاں ایک بیماری پھیل رہی تھی۔ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں تھا کہ ایک جنازہ سامنے سے گزرا۔ لوگ اس میت کی تعریف کرنے لگے تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ واجب ہو گئی پھر ایک اور جنازہ گزرا، لوگ اس کی بھی تعریف کرنے لگے۔ اس مرتبہ بھی آپ نے ایسا ہی فرمایا کہ واجب ہو گئی۔ پھر تیسرا جنازہ نکلا ‘ لوگ اس کی برائی کرنے لگے ‘ اور اس مرتبہ بھی آپ نے یہی فرمایا کہ واجب ہو گئی۔ ابوالاسود دئلی نے بیان کیا کہ میں نے پوچھا کہ امیرالمؤمنین کیا چیز واجب ہو گئی؟ آپ نے فرمایا کہ میں نے اس وقت وہی کہا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس مسلمان کی اچھائی پر چار شخص گواہی دے دیں اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ ہم نے کہا اور اگر تین گواہی دیں؟ آپ نے فرمایا کہ تین پر بھی، پھر ہم نے پوچھا اور اگر دو مسلمان گواہی دیں؟ آپ نے فرمایا کہ دو پر بھی۔ پھر ہم نے یہ نہیں پوچھا کہ اگر ایک مسلمان گواہی دے تو کیا؟
حدثنا عفان بن مسلم، حدثنا داود بن ابي الفرات، عن عبد الله بن بريدة، عن ابي الاسود، قال قدمت المدينة وقد وقع بها مرض، فجلست الى عمر بن الخطاب رضى الله عنه فمرت بهم جنازة فاثني على صاحبها خيرا فقال عمر رضى الله عنه وجبت. ثم مر باخرى فاثني على صاحبها خيرا، فقال عمر رضى الله عنه وجبت. ثم مر بالثالثة، فاثني على صاحبها شرا فقال وجبت. فقال ابو الاسود فقلت وما وجبت يا امير المومنين قال قلت كما قال النبي صلى الله عليه وسلم " ايما مسلم شهد له اربعة بخير ادخله الله الجنة ". فقلنا وثلاثة قال " وثلاثة ". فقلنا واثنان قال " واثنان ". ثم لم نساله عن الواحد
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے علقمہ بن مرثد نے ‘ ان سے سعد بن عبیدہ نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن جب اپنی قبر میں بٹھایا جاتا ہے تو اس کے پاس فرشتے آتے ہیں۔ وہ شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ تو یہ اللہ کے اس فرمان کی تعبیر ہے جو سورۃ ابراہیم میں ہے کہ اللہ ایمان والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت میں ٹھیک بات یعنی توحید پر مضبوط رکھتا ہے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن علقمة بن مرثد، عن سعد بن عبيدة، عن البراء بن عازب رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا اقعد المومن في قبره اتي، ثم شهد ان لا اله الا الله، وان محمدا رسول الله، فذلك قوله {يثبت الله الذين امنوا بالقول الثابت} ". حدثنا محمد بن بشار حدثنا غندر حدثنا شعبة بهذا وزاد {يثبت الله الذين امنوا} نزلت في عذاب القبر
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے ‘ ان سے ان کے والد نے ‘ ان سے صالح نے ‘ ان سے نافع نے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں والوں ( جس میں بدر کے مشرک مقتولین کو ڈال دیا گیا تھا ) کے قریب آئے اور فرمایا تمہارے مالک نے جو تم سے سچا وعدہ کیا تھا اسے تم لوگوں نے پا لیا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مردوں کو خطاب کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم کچھ ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو البتہ وہ جواب نہیں دے سکتے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثني ابي، عن صالح، حدثني نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما اخبره قال اطلع النبي صلى الله عليه وسلم على اهل القليب فقال " وجدتم ما وعد ربكم حقا ". فقيل له تدعو امواتا فقال " ما انتم باسمع منهم ولكن لا يجيبون
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کافروں کو یہ فرمایا تھا کہ میں جو ان سے کہا کرتا تھا اب ان کو معلوم ہوا ہو گا کہ وہ سچ ہے۔ اور اللہ نے سورۃ الروم میں فرمایا «إنك لا تسمع الموتى» اے پیغمبر! تو مردوں کو نہیں سنا سکتا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت انما قال النبي صلى الله عليه وسلم " انهم ليعلمون الان ان ما كنت اقول حق وقد قال الله تعالى {انك لا تسمع الموتى}
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو میرے باپ (عثمان) نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہوں نے اشعث سے سنا ‘ انہوں نے اپنے والد ابوالشعثاء سے ‘ انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی۔ اس نے عذاب قبر کا ذکر چھیڑ دیا اور کہا کہ اللہ تجھ کو عذاب قبر سے محفوظ رکھے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عذاب قبر کے بارے میں دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یہ دیا کہ ہاں عذاب قبر حق ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر میں نے کبھی ایسا نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی نماز پڑھی ہو اور اس میں عذاب قبر سے اللہ کی پناہ نہ مانگی ہو۔ غندر نے «عذاب القبر حق» کے الفاظ زیادہ کئے۔
حدثنا عبدان، اخبرني ابي، عن شعبة، سمعت الاشعث، عن ابيه، عن مسروق، عن عايشة رضى الله عنها ان يهودية، دخلت عليها، فذكرت عذاب القبر، فقالت لها اعاذك الله من عذاب القبر. فسالت عايشة رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عذاب القبر فقال " نعم عذاب القبر ". قالت عايشة رضى الله عنها فما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد صلى صلاة الا تعوذ من عذاب القبر. زاد غندر " عذاب القبر حق
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا، ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی، انہوں نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کے امتحان کا ذکر کیا جہاں انسان جانچا جاتا ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کا ذکر کر رہے تھے تو مسلمانوں کی ہچکیاں بندھ گئیں۔
حدثنا يحيى بن سليمان، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، اخبرني عروة بن الزبير، انه سمع اسماء بنت ابي بكر رضى الله عنهما تقول قام رسول الله صلى الله عليه وسلم خطيبا فذكر فتنة القبر التي يفتتن فيها المرء، فلما ذكر ذلك ضج المسلمون ضجة
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور جنازہ میں شریک ہونے والے لوگ اس سے رخصت ہوتے ہیں تو ابھی وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہوتا ہے کہ دو فرشتے ( منکر نکیر ) اس کے پاس آتے ہیں ‘ وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں کہ اس شخص یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تو کیا اعتقاد رکھتا تھا؟ مومن تو یہ کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس جواب پر اس سے کہا جائے گا کہ تو یہ دیکھ اپنا جہنم کا ٹھکانا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلہ میں تمہارے لیے جنت میں ٹھکانا دے دیا۔ اس وقت اسے جہنم اور جنت دونوں ٹھکانے دکھائے جائیں گے۔ قتادہ نے بیان کیا کہ اس کی قبر خوب کشادہ کر دی جائے گی۔ ( جس سے آرام و راحت ملے ) پھر قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کرنی شروع کی ‘ فرمایا اور منافق و کافر سے جب کہا جائے گا کہ اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا تھا تو وہ جواب دے گا کہ مجھے کچھ معلوم نہیں ‘ میں بھی وہی کہتا تھا جو دوسرے لوگ کہتے تھے۔ پھر اس سے کہا جائے گا نہ تو نے جاننے کی کوشش کی اور نہ سمجھنے والوں کی رائے پر چلا۔ پھر اسے لوہے کے گرزوں سے بڑی زور سے مارا جائے گا کہ وہ چیخ پڑے گا اور اس کی چیخ کو جن اور انسانوں کے سوا اس کے آس پاس کی تمام مخلوق سنے گی۔
حدثنا عياش بن الوليد، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه انه حدثهم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان العبد اذا وضع في قبره، وتولى عنه اصحابه، وانه ليسمع قرع نعالهم، اتاه ملكان فيقعدانه فيقولان ما كنت تقول في الرجل لمحمد صلى الله عليه وسلم. فاما المومن فيقول اشهد انه عبد الله ورسوله. فيقال له انظر الى مقعدك من النار، قد ابدلك الله به مقعدا من الجنة، فيراهما جميعا ". قال قتادة وذكر لنا انه يفسح في قبره. ثم رجع الى حديث انس قال " واما المنافق والكافر فيقال له ما كنت تقول في هذا الرجل فيقول لا ادري، كنت اقول ما يقول الناس. فيقال لا دريت ولا تليت. ويضرب بمطارق من حديد ضربة، فيصيح صيحة يسمعها من يليه، غير الثقلين
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، کہا ہم سے شعبہ نے، کہا کہ مجھ سے عون بن ابی حجیفہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد ابوحجیفہ نے، ان سے براء بن عازب نے اور ان سے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے باہر تشریف لے گئے، سورج غروب ہو چکا تھا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک آواز سنائی دی۔ ( یہودیوں پر عذاب قبر کی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہودی پر اس کی قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ اور نضر بن شمیل نے بیان کیا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی، ان سے عون نے بیان کیا، انہوں نے اپنے باپ ابوحجیفہ سے سنا، انہوں نے براء سے سنا، انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، حدثنا شعبة، قال حدثني عون بن ابي جحيفة، عن ابيه، عن البراء بن عازب، عن ابي ايوب رضى الله عنهم قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم وقد وجبت الشمس، فسمع صوتا فقال " يهود تعذب في قبورها ". وقال النضر اخبرنا شعبة، حدثنا عون، سمعت ابي، سمعت البراء، عن ابي ايوب رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے معلیٰ بن اسد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ‘ ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا۔ کہا کہ مجھ سے خالد بن سعید بن عاص کی صاحبزادی (ام خالد) نے بیان کیا ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے سنا۔
حدثنا معلى، حدثنا وهيب، عن موسى بن عقبة، قال حدثتني ابنة خالد بن سعيد بن العاص، انها سمعت النبي صلى الله عليه وسلم وهو يتعوذ من عذاب القبر