Loading...

Loading...
کتب
۱۵۸ احادیث
ہم سے محمد بن فضل نے کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے بیان کیا ‘ ان سے ابورافع نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ کالے رنگ کا ایک مرد یا ایک کالی عورت مسجد کی خدمت کیا کرتی تھیں ‘ ان کی وفات ہو گئی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی وفات کی خبر کسی نے نہیں دی۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یاد فرمایا کہ وہ شخص دکھائی نہیں دیتا۔ صحابہ نے کہا کہ یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! ان کا تو انتقال ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم نے مجھے خبر کیوں نہیں دی؟ صحابہ نے عرض کی کہ یہ وجوہ تھیں ( اس لیے آپ کو تکلیف نہیں دی گئی ) گویا لوگوں نے ان کو حقیر جان کر قابل توجہ نہیں سمجھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چلو مجھے ان کی قبر بتا دو۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز جنازہ پڑھی۔
حدثنا محمد بن الفضل، حدثنا حماد بن زيد، عن ثابت، عن ابي رافع، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان اسود رجلا او امراة كان يقم المسجد فمات، ولم يعلم النبي صلى الله عليه وسلم بموته فذكره ذات يوم فقال " ما فعل ذلك الانسان ". قالوا مات يا رسول الله. قال " افلا اذنتموني ". فقالوا انه كان كذا وكذا قصته. قال فحقروا شانه. قال " فدلوني على قبره ". فاتى قبره فصلى عليه
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالاعلیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا۔ (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن زریع نے ‘ ان سے سعید بن ابی عروبہ نے ‘ ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور دفن کر کے اس کے لوگ پیٹھ موڑ کر رخصت ہوتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے۔ پھر دو فرشتے آتے ہیں اسے بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس شخص ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے متعلق تمہارا کیا اعتقاد ہے؟ وہ جواب دیتا ہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ اس جواب پر اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ دیکھ جہنم کا اپنا ایک ٹھکانا لیکن اللہ تعالیٰ نے جنت میں تیرے لیے ایک مکان اس کے بدلے میں بنا دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس بندہ مومن کو جنت اور جہنم دونوں دکھائی جاتی ہیں اور رہا کافر یا منافق تو اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ مجھے معلوم نہیں ‘ میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تھا وہی میں بھی کہتا رہا۔ پھر اس سے کہا جاتا ہے کہ نہ تو نے کچھ سمجھا اور نہ ( اچھے لوگوں کی ) پیروی کی۔ اس کے بعد اسے ایک لوہے کے ہتھوڑے سے بڑے زور سے مارا جاتا ہے اور وہ اتنے بھیانک طریقہ سے چیختا ہے کہ انسان اور جن کے سوا اردگرد کی تمام مخلوق سنتی ہے۔
حدثنا عياش، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، قال وقال لي خليفة حدثنا ابن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " العبد اذا وضع في قبره، وتولي وذهب اصحابه حتى انه ليسمع قرع نعالهم، اتاه ملكان فاقعداه فيقولان له ما كنت تقول في هذا الرجل محمد صلى الله عليه وسلم فيقول اشهد انه عبد الله ورسوله. فيقال انظر الى مقعدك من النار، ابدلك الله به مقعدا من الجنة قال النبي صلى الله عليه وسلم فيراهما جميعا واما الكافر او المنافق فيقول لا ادري، كنت اقول ما يقول الناس. فيقال لا دريت ولا تليت. ثم يضرب بمطرقة من حديد ضربة بين اذنيه، فيصيح صيحة يسمعها من يليه الا الثقلين
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن طاؤس نے ‘ انہیں ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ملک الموت ( آدمی کی شکل میں ) موسیٰ علیہ السلام کے پاس بھیجے گئے۔ وہ جب آئے تو موسیٰ علیہ السلام نے ( نہ پہچان کر ) انہیں ایک زور کا طمانچہ مارا اور ان کی آنکھ پھوڑ ڈالی۔ وہ واپس اپنے رب کے حضور میں پہنچے اور عرض کیا کہ یا اللہ! تو نے مجھے ایسے بندے کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھ پہلے کی طرح کر دی اور فرمایا کہ دوبارہ جا اور ان سے کہہ کہ آپ اپنا ہاتھ ایک بیل کی پیٹھ پر رکھئے اور پیٹھ کے جتنے بال آپ کے ہاتھ تلے آ جائیں ان کے ہر بال کے بدلے ایک سال کی زندگی دی جاتی ہے۔ ( موسیٰ علیہ السلام تک جب اللہ تعالیٰ کا یہ پیغام پہنچا تو ) آپ نے کہا کہ اے اللہ! پھر کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پھر بھی موت آنی ہے۔ موسیٰ علیہ السلام بولے تو ابھی کیوں نہ آ جائے۔ پھر انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ انہیں ایک پتھر کی مار پر ارض مقدس سے قریب کر دیا جائے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں وہاں ہوتا تو تمہیں ان کی قبر دکھاتا کہ لال ٹیلے کے پاس راستے کے قریب ہے۔
حدثنا محمود، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال " ارسل ملك الموت الى موسى عليهما السلام فلما جاءه صكه فرجع الى ربه فقال ارسلتني الى عبد لا يريد الموت. فرد الله عليه عينه وقال ارجع فقل له يضع يده على متن ثور، فله بكل ما غطت به يده بكل شعرة سنة. قال اى رب، ثم ماذا قال ثم الموت. قال فالان. فسال الله ان يدنيه من الارض المقدسة رمية بحجر ". قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " فلو كنت ثم لاريتكم قبره الى جانب الطريق عند الكثيب الاحمر
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے شیبانی نے ‘ ان سے شعبی نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھی جن کا انتقال رات کے وقت ہوا ( اور اسے رات ہی میں دفن کر دیا گیا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق پوچھا تھا کہ یہ کن کی قبر ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ فلاں کی ہے جسے کل رات ہی دفن کیا گیا ہے۔ پھر سب نے ( دوسرے روز ) نماز جنازہ پڑھی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن الشيباني، عن الشعبي، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم على رجل بعد ما دفن بليلة قام هو واصحابه، وكان سال عنه فقال " من هذا ". فقالوا فلان، دفن البارحة. فصلوا عليه
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض بیویوں ( ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ) نے ایک گرجے کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تھا جس کا نام ماریہ تھا۔ ام سلمہ اور ام حبیبہ رضی اللہ عنہا دونوں حبش کے ملک میں گئی تھیں۔ انہوں نے اس کی خوبصورتی اور اس میں رکھی ہوئی تصاویر کا بھی ذکر کیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اٹھا کر فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی صالح شخص مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد تعمیر کر دیتے۔ پھر اس کی مورت اس میں رکھتے۔ اللہ کے نزدیک یہ لوگ ساری مخلوق میں برے ہیں۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت لما اشتكى النبي صلى الله عليه وسلم ذكرت بعض نسايه كنيسة راينها بارض الحبشة، يقال لها مارية، وكانت ام سلمة وام حبيبة رضى الله عنهما اتتا ارض الحبشة، فذكرتا من حسنها وتصاوير فيها، فرفع راسه فقال " اوليك اذا مات منهم الرجل الصالح بنوا على قبره مسجدا، ثم صوروا فيه تلك الصورة، اوليك شرار الخلق عند الله
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے جنازہ میں حاضر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا ایسا آدمی بھی کوئی یہاں ہے جو آج رات کو عورت کے پاس نہ گیا ہو۔ اس پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بولے کہ میں حاضر ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم قبر میں اتر جاؤ۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ اتر گئے اور میت کو دفن کیا۔ عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا کہ فلیح نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ «لم يقارف» کا معنی یہ ہے کہ جس نے گناہ نہ کیا ہو۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ سورۃ الانعام میں جو «ليقترفوا» آیا ہے اس کا معنی یہی ہے تاکہ گناہ کریں۔
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا فليح بن سليمان، حدثنا هلال بن علي، عن انس رضى الله عنه قال شهدنا بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس على القبر، فرايت عينيه تدمعان فقال " هل فيكم من احد لم يقارف الليلة ". فقال ابو طلحة انا. قال " فانزل في قبرها ". فنزل في قبرها فقبرها. قال ابن المبارك قال فليح اراه يعني الذنب. قال ابو عبد الله {ليقترفوا} اى ليكتسبوا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے ‘ ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دو دو شہیدوں کو ملا کر ایک ہی کپڑے کا کفن دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے کہ ان میں قرآن کسے زیادہ یاد ہے۔ کسی ایک کی طرف اشارہ سے بتایا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بغلی قبر میں اسی کو آگے کرتے اور فرماتے کہ میں قیامت میں ان کے حق میں شہادت دوں گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو ان کے خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا۔ نہ انہیں غسل دیا گیا اور نہ ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، قال حدثني ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يجمع بين الرجلين من قتلى احد في ثوب واحد ثم يقول " ايهم اكثر اخذا للقران ". فاذا اشير له الى احدهما قدمه في اللحد وقال " انا شهيد على هولاء يوم القيامة ". وامر بدفنهم في دمايهم، ولم يغسلوا ولم يصل عليهم
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا ‘ ان سے ابوالخیر یزید بن عبداللہ نے ‘ ان سے عقبہ بن عامر نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور احد کے شہیدوں پر اس طرح نماز پڑھی جیسے میت پر پڑھی جاتی ہے۔ پھر منبر پر تشریف لائے اور فرمایا۔ دیکھو میں تم سے پہلے جا کر تمہارے لیے میر ساماں بنوں گا اور میں تم پر گواہ رہوں گا۔ اور قسم اللہ کی میں اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں یا ( یہ فرمایا کہ ) مجھے زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں اور قسم اللہ کی مجھے اس کا ڈر نہیں کہ میرے بعد تم شرک کرو گے بلکہ اس کا ڈر ہے کہ تم لوگ دنیا حاصل کرنے میں رغبت کرو گے ( نتیجہ یہ کہ آخرت سے غافل ہو جاؤ گے ) ۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثني يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة بن عامر، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوما فصلى على اهل احد صلاته على الميت، ثم انصرف الى المنبر فقال " اني فرط لكم، وانا شهيد عليكم، واني والله لانظر الى حوضي الان، واني اعطيت مفاتيح خزاين الارض او مفاتيح الارض واني والله ما اخاف عليكم ان تشركوا بعدي، ولكن اخاف عليكم ان تنافسوا فيها
ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن بن کعب نے کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دو دو شہیدوں کو دفن کرنے میں ایک ساتھ جمع فرمایا تھا۔
حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا الليث، حدثنا ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب، ان جابر بن عبد الله رضى الله عنهما اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين الرجلين من قتلى احد
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن کعب نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خون سمیت دفن کر دو یعنی احد کی لڑائی کے موقع پر اور انہیں غسل نہیں دیا تھا۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا ليث، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب، عن جابر، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ادفنوهم في دمايهم ". يعني يوم احد ولم يغسلهم
حدثنا ابن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا ليث بن سعد، حدثني ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين الرجلين من قتلى احد في ثوب واحد ثم يقول " ايهم اكثر اخذا للقران ". فاذا اشير له الى احدهما قدمه في اللحد وقال " انا شهيد على هولاء ". وامر بدفنهم بدمايهم، ولم يصل عليهم ولم يغسلهم. واخبرنا الاوزاعي، عن الزهري، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لقتلى احد " اى هولاء اكثر اخذا للقران ". فاذا اشير له الى رجل قدمه في اللحد قبل صاحبه. وقال جابر فكفن ابي وعمي في نمرة واحدة. وقال سليمان بن كثير حدثني الزهري، حدثنا من، سمع جابرا رضى الله عنه
حدثنا ابن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا ليث بن سعد، حدثني ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين الرجلين من قتلى احد في ثوب واحد ثم يقول " ايهم اكثر اخذا للقران ". فاذا اشير له الى احدهما قدمه في اللحد وقال " انا شهيد على هولاء ". وامر بدفنهم بدمايهم، ولم يصل عليهم ولم يغسلهم. واخبرنا الاوزاعي، عن الزهري، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لقتلى احد " اى هولاء اكثر اخذا للقران ". فاذا اشير له الى رجل قدمه في اللحد قبل صاحبه. وقال جابر فكفن ابي وعمي في نمرة واحدة. وقال سليمان بن كثير حدثني الزهري، حدثنا من، سمع جابرا رضى الله عنه
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا۔ کہا ہم سے خالد حذاء نے ‘ ان سے عکرمہ نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم کیا ہے۔ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے ( یہاں قتل و خون ) حلال تھا اور نہ میرے بعد ہو گا اور میرے لیے بھی تھوڑی دیر کے لیے ( فتح مکہ کے دن ) حلال ہوا تھا۔ پس نہ اس کی گھاس اکھاڑی جائے نہ اس کے درخت قلم کئے جائیں۔ نہ یہاں کے جانوروں کو ( شکار کے لیے ) بھگایا جائے اور سوا اس شخص کے جو اعلان کرنا چاہتا ہو ( کہ یہ گری ہوئی چیز کس کی ہے ) کسی کے لیے وہاں سے کوئی گری ہوئی چیز اٹھانی جائز نہیں۔ اس پر عباس رضی اللہ عنہ نے کہا ”لیکن اس سے اذخر کا استثناء کر دیجئیے کہ یہ ہمارے سناروں کے اور ہماری قبروں میں کام آتی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مگر اذخر کی اجازت ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت میں ہے۔ ”ہماری قبروں اور گھروں کے لیے۔“ اور ابان بن صالح نے بیان کیا ‘ ان سے حسن بن مسلم نے ‘ ان سے صفیہ بنت شیبہ نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح سنا تھا۔ اور مجاہد نے طاؤس کے واسطہ سے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ الفاظ بیان کئے۔ ہمارے قین ( لوہاروں ) اور گھروں کے لیے ( اذخر اکھاڑنا حرم سے ) جائز کر دیجئیے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن حوشب، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " حرم الله مكة، فلم تحل لاحد قبلي ولا لاحد بعدي، احلت لي ساعة من نهار، لا يختلى خلاها، ولا يعضد شجرها، ولا ينفر صيدها، ولا تلتقط لقطتها الا لمعرف ". فقال العباس رضى الله عنه الا الاذخر لصاغتنا وقبورنا. فقال " الا الاذخر ". وقال ابو هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم " لقبورنا وبيوتنا ". وقال ابان بن صالح عن الحسن بن مسلم، عن صفية بنت شيبة، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم مثله. وقال مجاهد عن طاوس عن ابن عباس رضى الله عنهما لقينهم وبيوتهم
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ عمرو نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عبداللہ بن ابی ( منافق ) کو اس کی قبر میں ڈالا جا چکا تھا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر اسے قبر سے نکال لیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے گھٹنوں پر رکھ کر لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اپنا کرتہ اسے پہنایا۔ اب اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ( غالباً مرنے کے بعد ایک منافق کے ساتھ اس احسان کی وجہ یہ تھی کہ ) انہوں نے عباس رضی اللہ عنہ کو ایک قمیص پہنائی تھی ( غزوہ بدر میں جب عباس رضی اللہ عنہ مسلمانوں کے قیدی بن کر آئے تھے ) سفیان نے بیان کیا کہ ابوہارون موسیٰ بن ابی عیسیٰ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استعمال میں دو کرتے تھے۔ عبداللہ کے لڑکے ( جو مومن مخلص تھے رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ یا رسول اللہ! میرے والد کو آپ وہ قمیص پہنا دیجئیے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اطہر کے قریب رہتی ہے۔ سفیان نے کہا لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا کرتہ اس کے کرتے کے بدل پہنا دیا جو اس نے عباس رضی اللہ عنہ کو پہنایا تھا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال عمرو سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم عبد الله بن ابى بعد ما ادخل حفرته فامر به فاخرج، فوضعه على ركبتيه، ونفث عليه من ريقه، والبسه قميصه، فالله اعلم، وكان كسا عباسا قميصا. قال سفيان وقال ابو هارون وكان على رسول الله صلى الله عليه وسلم قميصان، فقال له ابن عبد الله يا رسول الله، البس ابي قميصك الذي يلي جلدك. قال سفيان فيرون ان النبي صلى الله عليه وسلم البس عبد الله قميصه مكافاة لما صنع
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو بشر بن مفضل نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم سے حسین معلم نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح نے ‘ ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب جنگ احد کا وقت قریب آ گیا تو مجھے میرے باپ عبداللہ نے رات کو بلا کر کہا کہ مجھے ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سب سے پہلا مقتول میں ہی ہوں گا اور دیکھو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا دوسرا کوئی مجھے ( اپنے عزیزوں اور وارثوں میں ) تم سے زیادہ عزیز نہیں ہے ‘ میں مقروض ہوں اس لیے تم میرا قرض ادا کر دینا اور اپنی ( نو ) بہنوں سے اچھا سلوک کرنا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی تو سب سے پہلے میرے والد ہی شہید ہوئے۔ قبر میں آپ کے ساتھ میں نے ایک دوسرے شخص کو بھی دفن کیا تھا۔ پر میرا دل نہیں مانا کہ انہیں دوسرے صاحب کے ساتھ یوں ہی قبر میں رہنے دوں۔ چنانچہ چھ مہینے کے بعد میں نے ان کی لاش کو قبر سے نکالا دیکھا تو صرف کان تھوڑا سا گلنے کے سوا باقی سارا جسم اسی طرح تھا جیسے دفن کیا گیا تھا۔
حدثنا مسدد، اخبرنا بشر بن المفضل، حدثنا حسين المعلم، عن عطاء، عن جابر رضى الله عنه قال لما حضر احد دعاني ابي من الليل فقال ما اراني الا مقتولا في اول من يقتل من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، واني لا اترك بعدي اعز على منك، غير نفس رسول الله صلى الله عليه وسلم، فان على دينا فاقض، واستوص باخواتك خيرا. فاصبحنا فكان اول قتيل، ودفن معه اخر في قبر، ثم لم تطب نفسي ان اتركه مع الاخر فاستخرجته بعد ستة اشهر، فاذا هو كيوم وضعته هنية غير اذنه
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن عامر نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے ابن ابی نجیح نے ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے باپ کے ساتھ ایک ہی قبر میں ایک اور صحابی ( جابر رضی اللہ عنہ کے چچا ) دفن تھے۔ لیکن میرا دل اس پر راضی نہیں ہو رہا تھا۔ اس لیے میں نے ان کی لاش نکال کر دوسری قبر میں دفن کر دی۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سعيد بن عامر، عن شعبة، عن ابن ابي نجيح، عن عطاء، عن جابر رضى الله عنه قال دفن مع ابي رجل فلم تطب نفسي حتى اخرجته فجعلته في قبر على حدة
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہمیں لیث بن سعد نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا۔ ان سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے ‘ اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ احد کے شہداء کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کفن میں دو دو کو ایک ساتھ کر کے پوچھتے تھے کہ قرآن کس کو زیادہ یاد تھا۔ پھر جب کسی ایک کی طرف اشارہ کر دیا جاتا تو بغلی قبر میں اسے آگے کر دیا جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ میں قیامت کو ان ( کے ایمان ) پر گواہ بنوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بغیر غسل دئیے خون سمیت دفن کرنے کا حکم دیا تھا۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا الليث بن سعد، قال حدثني ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يجمع بين رجلين من قتلى احد ثم يقول " ايهم اكثر اخذا للقران ". فاذا اشير له الى احدهما قدمه في اللحد فقال " انا شهيد على هولاء يوم القيامة ". فامر بدفنهم بدمايهم ولم يغسلهم
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں یونس نے ‘ انہیں زہری نے ‘ کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ دوسرے اصحاب کی معیت میں ابن صیاد کے پاس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بنو مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا ملا۔ ان دنوں ابن صیاد جوانی کے قریب تھا۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی کوئی خبر ہی نہیں ہوئی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا تو اسے معلوم ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن صیاد! کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابن صیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر بولا ہاں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں کے رسول ہیں۔ پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ کیا آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ میں بھی اللہ کا رسول ہوں؟ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا میں اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ ابن صیاد بولا کہ میرے پاس سچی اور جھوٹی دونوں خبریں آتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو تیرا سب کام گڈمڈ ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اچھا میں نے ایک بات دل میں رکھی ہے وہ بتلا۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الدخان کی آیت کا تصور کیا «فارتقب يوم تاتی السماء بدخان مبين» ) ابن صیاد نے کہا وہ «دخ» ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چل دور ہو تو اپنی بساط سے آگے کبھی نہ بڑھ سکے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! مجھ کو چھوڑ دیجئیے میں اس کی گردن مار دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اگر یہ دجال ہے تو، تو اس پر غالب نہ ہو گا اور اگر دجال نہیں ہے تو اس کا مار ڈالنا تیرے لیے بہتر نہ ہو گا۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، ان ابن عمر رضى الله عنهما اخبره ان عمر انطلق مع النبي صلى الله عليه وسلم في رهط قبل ابن صياد، حتى وجدوه يلعب مع الصبيان عند اطم بني مغالة، وقد قارب ابن صياد الحلم فلم يشعر حتى ضرب النبي صلى الله عليه وسلم بيده ثم قال لابن صياد " تشهد اني رسول الله ". فنظر اليه ابن صياد فقال اشهد انك رسول الاميين. فقال ابن صياد للنبي صلى الله عليه وسلم اتشهد اني رسول الله فرفضه وقال امنت بالله وبرسله. فقال له " ماذا ترى ". قال ابن صياد ياتيني صادق وكاذب. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " خلط عليك الامر " ثم قال له النبي صلى الله عليه وسلم " اني قد خبات لك خبييا ". فقال ابن صياد هو الدخ. فقال " اخسا، فلن تعدو قدرك ". فقال عمر رضى الله عنه دعني يا رسول الله اضرب عنقه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان يكنه فلن تسلط عليه، وان لم يكنه فلا خير لك في قتله ". وقال سالم سمعت ابن عمر رضى الله عنهما يقول انطلق بعد ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم وابى بن كعب الى النخل التي فيها ابن صياد وهو يختل ان يسمع من ابن صياد شييا قبل ان يراه ابن صياد فراه النبي صلى الله عليه وسلم وهو مضطجع، يعني في قطيفة له فيها رمزة او زمرة، فرات ام ابن صياد رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يتقي بجذوع النخل فقالت لابن صياد يا صاف وهو اسم ابن صياد هذا محمد صلى الله عليه وسلم. فثار ابن صياد فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو تركته بين ". وقال شعيب في حديثه فرفصه رمرمة، او زمزمة. وقال اسحاق الكلبي وعقيل رمرمة. وقال معمر رمزة
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں یونس نے ‘ انہیں زہری نے ‘ کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ دوسرے اصحاب کی معیت میں ابن صیاد کے پاس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بنو مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا ملا۔ ان دنوں ابن صیاد جوانی کے قریب تھا۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی کوئی خبر ہی نہیں ہوئی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا تو اسے معلوم ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن صیاد! کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابن صیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر بولا ہاں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں کے رسول ہیں۔ پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ کیا آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ میں بھی اللہ کا رسول ہوں؟ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا میں اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ ابن صیاد بولا کہ میرے پاس سچی اور جھوٹی دونوں خبریں آتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو تیرا سب کام گڈمڈ ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اچھا میں نے ایک بات دل میں رکھی ہے وہ بتلا۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الدخان کی آیت کا تصور کیا «فارتقب يوم تاتی السماء بدخان مبين» ) ابن صیاد نے کہا وہ «دخ» ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چل دور ہو تو اپنی بساط سے آگے کبھی نہ بڑھ سکے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! مجھ کو چھوڑ دیجئیے میں اس کی گردن مار دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اگر یہ دجال ہے تو، تو اس پر غالب نہ ہو گا اور اگر دجال نہیں ہے تو اس کا مار ڈالنا تیرے لیے بہتر نہ ہو گا۔
حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، ان ابن عمر رضى الله عنهما اخبره ان عمر انطلق مع النبي صلى الله عليه وسلم في رهط قبل ابن صياد، حتى وجدوه يلعب مع الصبيان عند اطم بني مغالة، وقد قارب ابن صياد الحلم فلم يشعر حتى ضرب النبي صلى الله عليه وسلم بيده ثم قال لابن صياد " تشهد اني رسول الله ". فنظر اليه ابن صياد فقال اشهد انك رسول الاميين. فقال ابن صياد للنبي صلى الله عليه وسلم اتشهد اني رسول الله فرفضه وقال امنت بالله وبرسله. فقال له " ماذا ترى ". قال ابن صياد ياتيني صادق وكاذب. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " خلط عليك الامر " ثم قال له النبي صلى الله عليه وسلم " اني قد خبات لك خبييا ". فقال ابن صياد هو الدخ. فقال " اخسا، فلن تعدو قدرك ". فقال عمر رضى الله عنه دعني يا رسول الله اضرب عنقه. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان يكنه فلن تسلط عليه، وان لم يكنه فلا خير لك في قتله ". وقال سالم سمعت ابن عمر رضى الله عنهما يقول انطلق بعد ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم وابى بن كعب الى النخل التي فيها ابن صياد وهو يختل ان يسمع من ابن صياد شييا قبل ان يراه ابن صياد فراه النبي صلى الله عليه وسلم وهو مضطجع، يعني في قطيفة له فيها رمزة او زمرة، فرات ام ابن صياد رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يتقي بجذوع النخل فقالت لابن صياد يا صاف وهو اسم ابن صياد هذا محمد صلى الله عليه وسلم. فثار ابن صياد فقال النبي صلى الله عليه وسلم " لو تركته بين ". وقال شعيب في حديثه فرفصه رمرمة، او زمزمة. وقال اسحاق الكلبي وعقيل رمرمة. وقال معمر رمزة
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی لڑکا ( عبدالقدوس ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک دن وہ بیمار ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مزاج معلوم کرنے کے لیے تشریف لائے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ مسلمان ہو جا۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، باپ وہیں موجود تھا۔ اس نے کہا کہ ( کیا مضائقہ ہے ) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں مان لے۔ چنانچہ وہ بچہ اسلام لے آیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شکر ہے اللہ پاک کا جس نے اس بچے کو جہنم سے بچا لیا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد وهو ابن زيد عن ثابت، عن انس رضى الله عنه قال كان غلام يهودي يخدم النبي صلى الله عليه وسلم فمرض، فاتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده، فقعد عند راسه فقال له " اسلم ". فنظر الى ابيه وهو عنده فقال له اطع ابا القاسم صلى الله عليه وسلم. فاسلم، فخرج النبي صلى الله عليه وسلم وهو يقول " الحمد لله الذي انقذه من النار