Loading...

Loading...
کتب
۱۵۸ احادیث
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ وضاح یشکری نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو میں دوسری یا تیسری صف میں تھا۔
حدثنا مسدد، عن ابي عوانة، عن قتادة، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى على النجاشي، فكنت في الصف الثاني او الثالث
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے معمر نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو نجاشی کی وفات کی خبر سنائی ‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے اور لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں ‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مرتبہ تکبیر کہی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا معمر، عن الزهري، عن سعيد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال نعى النبي صلى الله عليه وسلم الى اصحابه النجاشي، ثم تقدم فصفوا خلفه فكبر اربعا
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شیبانی نے ‘ ان سے شعبی نے بیان کیا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر پر آئے جو اور قبروں سے الگ تھلگ تھی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے صف بندی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار تکبیریں کہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ حدیث آپ سے کس نے بیان کی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔
حدثنا مسلم، حدثنا شعبة، حدثنا الشيباني، عن الشعبي، قال اخبرني من، شهد النبي صلى الله عليه وسلم انه اتى على قبر منبوذ فصفهم وكبر اربعا. قلت من حدثك قال ابن عباس رضى الله عنهما
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی کہ انہیں ابن جریج نے خبر دی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج حبش کے ایک مرد صالح ( نجاشی حبش کے بادشاہ ) کا انتقال ہو گیا ہے۔ آؤ ان کی نماز جنازہ پڑھو۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر ہم نے صف بندی کر لی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ہم صف باندھے کھڑے تھے۔ ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے نقل کیا کہ میں دوسری صف میں تھا۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام بن يوسف، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني عطاء، انه سمع جابر بن عبد الله رضى الله عنهما يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " قد توفي اليوم رجل صالح من الحبش فهلم فصلوا عليه ". قال فصففنا فصلى النبي صلى الله عليه وسلم عليه ونحن صفوف. قال ابو الزبير عن جابر كنت في الصف الثاني
ہم سے موسیٰ ابن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شیبانی نے بیان کیا ‘ ان سے عامر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک قبر پر ہوا۔ میت کو ابھی رات ہی دفنایا گیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ دفن کب کیا گیا ہے؟ لوگوں نے کہا کہ گذشتہ رات۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کیوں نہیں اطلاع کرائی؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اندھیری رات میں دفن کیا گیا ‘ اس لیے ہم نے آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں بھی انہیں میں تھا ( نابالغ تھا لیکن ) نماز جنازہ میں شرکت کی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد، حدثنا الشيباني، عن عامر، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بقبر قد دفن ليلا فقال " متى دفن هذا ". قالوا البارحة. قال " افلا اذنتموني ". قالوا دفناه في ظلمة الليل فكرهنا ان نوقظك. فقام فصففنا خلفه. قال ابن عباس وانا فيهم فصلى عليه
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے ‘ ان سے شیبانی نے اور ان سے شعبی نے بیان کیا کہ مجھے اس صحابی نے خبر دی تھی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر پر سے گزرا۔ وہ کہتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری امامت کی اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صفیں بنا لیں۔ ہم نے پوچھا کہ ابوعمرو ( یہ شعبی کی کنیت ہے ) یہ آپ سے بیان کرنے والے کون صحابی ہیں؟ فرمایا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن الشيباني، عن الشعبي، قال اخبرني من، مر مع نبيكم صلى الله عليه وسلم على قبر منبوذ فامنا فصففنا خلفه. فقلنا يا ابا عمرو من حدثك قال ابن عباس رضى الله عنهما
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ‘ ان سے جریر بن حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے نافع سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جو دفن تک جنازہ کے ساتھ رہے اسے ایک قیراط کا ثواب ملے گا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ابوہریرہ احادیث بہت زیادہ بیان کرتے ہیں۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا جرير بن حازم، قال سمعت نافعا، يقول حدث ابن عمر، ان ابا هريرة رضى الله عنهم يقول من تبع جنازة فله قيراط. فقال اكثر ابو هريرة علينا. فصدقت يعني عايشة ابا هريرة وقالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله. فقال ابن عمر رضى الله عنهما لقد فرطنا في قراريط كثيرة. {فرطت} ضيعت من امر الله
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ‘ ان سے جریر بن حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے نافع سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جو دفن تک جنازہ کے ساتھ رہے اسے ایک قیراط کا ثواب ملے گا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ابوہریرہ احادیث بہت زیادہ بیان کرتے ہیں۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا جرير بن حازم، قال سمعت نافعا، يقول حدث ابن عمر، ان ابا هريرة رضى الله عنهم يقول من تبع جنازة فله قيراط. فقال اكثر ابو هريرة علينا. فصدقت يعني عايشة ابا هريرة وقالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقوله. فقال ابن عمر رضى الله عنهما لقد فرطنا في قراريط كثيرة. {فرطت} ضيعت من امر الله
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابن ابی ذئب کے سامنے یہ حدیث پڑھی ‘ ان سے ابوسعید مقبری نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا۔ ( دوسری سند ) ہم سے احمد بن شبیب نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے بیان کیا کہ ابن شہاب نے کہا کہ ( مجھ سے فلاں نے یہ بھی حدیث بیان کی ) اور مجھ سے عبدالرحمٰن اعرج نے بھی کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جنازہ میں شرکت کی پھر نماز جنازہ پڑھی تو اسے ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے اور جو دفن تک ساتھ رہا تو اسے دو قیراط کا ثواب ملتا ہے۔ پوچھا گیا کہ دو قیراط کتنے ہوں گے؟ فرمایا کہ دو عظیم پہاڑوں کے برابر۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، قال قرات على ابن ابي ذيب عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابيه، انه سال ابا هريرة رضى الله عنه فقال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم. حدثنا احمد بن شبيب بن سعيد، قال حدثني ابي، حدثنا يونس، قال ابن شهاب وحدثني عبد الرحمن الاعرج، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من شهد الجنازة حتى يصلي عليها فله قيراط، ومن شهد حتى تدفن كان له قيراطان ". قيل وما القيراطان قال " مثل الجبلين العظيمين
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی بکیر نے ‘ انہوں نے کہا ہم سے زائدہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق شیبانی نے ‘ ان سے عامر نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبر پر تشریف لائے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اس میت کو گزشتہ رات دفن کیا گیا ہے۔ ( صاحب قبر مرد تھا یا عورت تھی ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بندی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا يحيى بن ابي بكير، حدثنا زايدة، حدثنا ابو اسحاق الشيباني، عن عامر، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم قبرا، فقالوا هذا دفن، او دفنت البارحة. قال ابن عباس رضى الله عنهما فصفنا خلفه ثم صلى عليها
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة انهما حدثاه عن ابي هريرة رضى الله عنه قال نعى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم النجاشي صاحب الحبشة، يوم الذي مات فيه فقال " استغفروا لاخيكم ". وعن ابن شهاب، قال حدثني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال ان النبي صلى الله عليه وسلم صف بهم بالمصلى فكبر عليه اربعا
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، وابي، سلمة انهما حدثاه عن ابي هريرة رضى الله عنه قال نعى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم النجاشي صاحب الحبشة، يوم الذي مات فيه فقال " استغفروا لاخيكم ". وعن ابن شهاب، قال حدثني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال ان النبي صلى الله عليه وسلم صف بهم بالمصلى فكبر عليه اربعا
ہم سے ابراہیم بن منذر نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ یہود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور میں اپنے ہم مذہب ایک مرد اور عورت کا، جنہوں نے زنا کیا تھا، مقدمہ لے کر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مسجد کے نزدیک نماز جنازہ پڑھنے کی جگہ کے پاس انہیں سنگسار کر دیا گیا۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، حدثنا ابو ضمرة، حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان اليهود، جاءوا الى النبي صلى الله عليه وسلم برجل منهم وامراة زنيا، فامر بهما فرجما قريبا من موضع الجنايز عند المسجد
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے شیبان نے ‘ ان سے ہلال وزان نے ‘ ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض وفات میں فرمایا کہ یہود اور نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اگر ایسا ڈر نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کھلی رہتی ( اور حجرہ میں نہ ہوتی ) کیونکہ مجھے ڈر اس کا ہے کہ کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی مسجد نہ بنا لی جائے۔
حدثنا عبيد الله بن موسى، عن شيبان، عن هلال هو الوزان عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها عن النبي صلى الله عليه وسلم قال في مرضه الذي مات فيه " لعن الله اليهود والنصارى، اتخذوا قبور انبيايهم مسجدا ". قالت ولولا ذلك لابرزوا قبره غير اني اخشى ان يتخذ مسجدا
ہم سے مسدد نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے یزید ین زریع نے ‘ ان سے حسین معلم نے ‘ ان سے عبداللہ بن بریدہ نے ‘ ان سے سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ایک عورت ( ام کعب ) کی نماز جنازہ پڑھی تھی جس کا نفاس میں انتقال ہو گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کمر کے مقابل کھڑے ہوئے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا حسين، حدثنا عبد الله بن بريدة، عن سمرة رضى الله عنه قال صليت وراء النبي صلى الله عليه وسلم على امراة ماتت في نفاسها، فقام عليها وسطها
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ‘ ان سے حسین نے بیان کیا اور ان سے ابن بریدہ نے کہ ہم سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی تھی جس کا زچگی کی حالت میں انتقال ہو گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بیچ میں کھڑے ہوئے۔
حدثنا عمران بن ميسرة، حدثنا عبد الوارث، حدثنا حسين، عن ابن بريدة، حدثنا سمرة بن جندب رضى الله عنه قال صليت وراء النبي صلى الله عليه وسلم على امراة ماتت في نفاسها فقام عليها وسطها
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ‘ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں سعید بن مسیب نے ‘ انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نجاشی کا جس دن انتقال ہوا اسی دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وفات کی خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ عیدگاہ گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صف بندی کرائی اور چار تکبیریں کہیں۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نعى النجاشي في اليوم الذي مات فيه، وخرج بهم الى المصلى فصف بهم، وكبر عليه اربع تكبيرات
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن میناء نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحمہ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھائی تو چار تکبیریں کہیں۔ یزید بن ہارون واسطی اور عبدالصمد نے سلیم سے اصحمہ نام نقل کیا ہے اور عبدالصمد نے اس کی متابعت کی ہے۔
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا سليم بن حيان، حدثنا سعيد بن ميناء، عن جابر رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى على اصحمة النجاشي فكبر اربعا. وقال يزيد بن هارون وعبد الصمد عن سليم اصحمة. وتابعه عبد الصمد
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا۔ کہا کہ ہم سے غندر (محمد بن جعفر) نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے اور ان سے طلحہ نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اقتداء میں نماز ( جنازہ ) پڑھی ( دوسری سند ) ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں سفیان ثوری نے خبر دی ‘ انہیں سعد بن ابراہیم نے ‘ انہیں طلحہ بن عبداللہ بن عوف نے ‘ انہوں نے بتلایا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی تو آپ نے سورۃ فاتحہ ( ذرا پکار کر ) پڑھی۔ پھر فرمایا کہ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہی طریقہ نبوی ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن سعد، عن طلحة، قال صليت خلف ابن عباس رضى الله عنهما . حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن سعد بن ابراهيم، عن طلحة بن عبد الله بن عوف، قال صليت خلف ابن عباس رضى الله عنهما على جنازة فقرا بفاتحة الكتاب قال ليعلموا انها سنة
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے سلیمان شیبانی نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے شعبی سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے اس صحابی نے خبر دی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک الگ تھلگ قبر سے گزرے تھے۔ قبر پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم امام بنے اور صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی۔ شیبانی نے کہا کہ میں نے شعبی سے پوچھا کہ ابوعمرو! یہ آپ سے کس صحابی نے بیان کیا تھا تو انہوں نے بتلایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔
حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا شعبة، قال حدثني سليمان الشيباني، قال سمعت الشعبي، قال اخبرني من، مر مع النبي صلى الله عليه وسلم على قبر منبوذ فامهم وصلوا خلفه. قلت من حدثك هذا يا ابا عمرو قال ابن عباس رضى الله عنهما