Loading...

Loading...
کتب
۱۵۸ احادیث
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مہدی بن میمون نے، کہا کہ ہم سے واصل بن حیان احدب (کبڑے) نے، ان سے معرور بن سوید نے بیان کیا اور ان سے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ خواب میں ) میرے پاس میرے رب کا ایک آنے والا ( فرشتہ ) آیا۔ اس نے مجھے خبر دی، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ اس نے مجھے خوشخبری دی کہ میری امت میں سے جو کوئی اس حال میں مرے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں جائے گا۔ اس پر میں نے پوچھا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو، اگرچہ اس نے چوری کی ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں اگرچہ زنا کیا ہو اگرچہ چوری کی ہو۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا مهدي بن ميمون، حدثنا واصل الاحدب، عن المعرور بن سويد، عن ابي ذر رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اتاني ات من ربي فاخبرني او قال بشرني انه من مات من امتي لا يشرك بالله شييا دخل الجنة ". قلت وان زنى وان سرق قال " وان زنى وان سرق
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے میرے باپ حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شقیق بن سلمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس حالت میں مرے کہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتا تھا تو وہ جہنم میں جائے گا اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو اس حال میں مرا کہ اللہ کا کوئی شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں جائے گا۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا شقيق، عن عبد الله رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من مات يشرك بالله شييا دخل النار ". وقلت انا من مات لا يشرك بالله شييا دخل الجنة
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اشعث بن ابی الثعثاء نے، انہوں نے کہا کہ میں نے معاویہ بن سوید مقرن سے سنا، وہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے تھے کہ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات کاموں کا حکم دیا اور سات کاموں سے روکا۔ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا جنازہ کے ساتھ چلنے، مریض کی مزاج پرسی، دعوت قبول کرنے، مظلوم کی مدد کرنے کا، قسم پوری کرنے کا، سلام کا جواب دینے کا، چھینک پر «يرحمک الله» کہنے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع کیا تھا چاندی کے برتن ( استعمال میں لانے ) سے، سونے کی انگوٹھی پہننے سے، ریشم اور دیباج ( کے کپڑوں کے پہننے ) سے، قسی سے، استبرق سے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن الاشعث، قال سمعت معاوية بن سويد بن مقرن، عن البراء رضى الله عنه قال امرنا النبي صلى الله عليه وسلم بسبع، ونهانا عن سبع امرنا باتباع الجنايز، وعيادة المريض، واجابة الداعي، ونصر المظلوم، وابرار القسم، ورد السلام، وتشميت العاطس. ونهانا عن انية الفضة، وخاتم الذهب، والحرير، والديباج، والقسي، والاستبرق
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عمرو بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے امام اوزاعی نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن شہاب نے خبر دی، کہا کہ مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسلمان کے مسلمان پر پانچ حق ہیں سلام کا جواب دینا، مریض کا مزاج معلوم کرنا، جنازے کے ساتھ چلنا، دعوت قبول کرنا، اور چھینک پر ( اس کے «الحمدلله» کے جواب میں ) «يرحمک الله» کہنا۔ اس روایت کی متابعت عبدالرزاق نے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معمر نے خبر دی تھی۔ اور اس کی روایت سلامہ نے بھی عقیل سے کی ہے۔
حدثنا محمد، حدثنا عمرو بن ابي سلمة، عن الاوزاعي، قال اخبرني ابن شهاب، قال اخبرني سعيد بن المسيب، ان ابا هريرة رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " حق المسلم على المسلم خمس رد السلام، وعيادة المريض، واتباع الجنايز، واجابة الدعوة، وتشميت العاطس ". تابعه عبد الرزاق قال اخبرنا معمر. ورواه سلامة عن عقيل
حدثنا بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، قال اخبرني معمر، ويونس، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة، ان عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته قالت اقبل ابو بكر رضى الله عنه على فرسه من مسكنه بالسنح حتى نزل، فدخل المسجد، فلم يكلم الناس، حتى نزل فدخل على عايشة رضى الله عنها فتيمم النبي صلى الله عليه وسلم وهو مسجى ببرد حبرة، فكشف عن وجهه، ثم اكب عليه فقبله ثم بكى فقال بابي انت يا نبي الله، لا يجمع الله عليك موتتين، اما الموتة التي كتبت عليك فقد متها. قال ابو سلمة فاخبرني ابن عباس رضى الله عنهما ان ابا بكر رضى الله عنه خرج وعمر رضى الله عنه يكلم الناس. فقال اجلس. فابى. فقال اجلس. فابى، فتشهد ابو بكر رضى الله عنه فمال اليه الناس، وتركوا عمر فقال اما بعد، فمن كان منكم يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم فان محمدا صلى الله عليه وسلم قد مات، ومن كان يعبد الله فان الله حى لا يموت، قال الله تعالى {وما محمد الا رسول} الى {الشاكرين} والله لكان الناس لم يكونوا يعلمون ان الله انزل الاية حتى تلاها ابو بكر رضى الله عنه فتلقاها منه الناس، فما يسمع بشر الا يتلوها
حدثنا بشر بن محمد، اخبرنا عبد الله، قال اخبرني معمر، ويونس، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة، ان عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته قالت اقبل ابو بكر رضى الله عنه على فرسه من مسكنه بالسنح حتى نزل، فدخل المسجد، فلم يكلم الناس، حتى نزل فدخل على عايشة رضى الله عنها فتيمم النبي صلى الله عليه وسلم وهو مسجى ببرد حبرة، فكشف عن وجهه، ثم اكب عليه فقبله ثم بكى فقال بابي انت يا نبي الله، لا يجمع الله عليك موتتين، اما الموتة التي كتبت عليك فقد متها. قال ابو سلمة فاخبرني ابن عباس رضى الله عنهما ان ابا بكر رضى الله عنه خرج وعمر رضى الله عنه يكلم الناس. فقال اجلس. فابى. فقال اجلس. فابى، فتشهد ابو بكر رضى الله عنه فمال اليه الناس، وتركوا عمر فقال اما بعد، فمن كان منكم يعبد محمدا صلى الله عليه وسلم فان محمدا صلى الله عليه وسلم قد مات، ومن كان يعبد الله فان الله حى لا يموت، قال الله تعالى {وما محمد الا رسول} الى {الشاكرين} والله لكان الناس لم يكونوا يعلمون ان الله انزل الاية حتى تلاها ابو بكر رضى الله عنه فتلقاها منه الناس، فما يسمع بشر الا يتلوها
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے کہا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے فرمایا کہ مجھے خارجہ بن زید بن ثابت نے خبر دی کہ ام العلاء رضی اللہ عنہا انصار کی ایک عورت نے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، نے انہیں خبر دی کہ مہاجرین قرعہ ڈال کر انصار میں بانٹ دیئے گئے تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ہمارے حصہ میں آئے۔ چنانچہ ہم نے انہیں اپنے گھر میں رکھا۔ آخر وہ بیمار ہوئے اور اسی میں وفات پا گئے۔ وفات کے بعد غسل دیا گیا اور کفن میں لپیٹ دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ میں نے کہا ابوسائب آپ پر اللہ کی رحمتیں ہوں میری آپ کے متعلق شہادت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی عزت فرمائی ہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عزت فرمائی ہے؟ میں نے کہا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر کس کی اللہ تعالیٰ عزت افزائی کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس میں شبہ نہیں کہ ان کی موت آ چکی، قسم اللہ کی کہ میں بھی ان کے لیے خیر ہی کی امید رکھتا ہوں لیکن واللہ! مجھے خود اپنے متعلق بھی معلوم نہیں کہ میرے ساتھ کیا معاملہ ہو گا۔ حالانکہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ام العلاء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کی قسم! اب میں کبھی کسی کے متعلق ( اس طرح کی ) گواہی نہیں دوں گی۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال اخبرني خارجة بن زيد بن ثابت، ان ام العلاء امراة من الانصار بايعت النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته انه اقتسم المهاجرون قرعة فطار لنا عثمان بن مظعون، فانزلناه في ابياتنا، فوجع وجعه الذي توفي فيه، فلما توفي وغسل وكفن في اثوابه، دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت رحمة الله عليك ابا السايب، فشهادتي عليك لقد اكرمك الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " وما يدريك ان الله قد اكرمه ". فقلت بابي انت يا رسول الله فمن يكرمه الله فقال " اما هو فقد جاءه اليقين، والله اني لارجو له الخير، والله ما ادري وانا رسول الله ما يفعل بي ". قالت فوالله لا ازكي احدا بعده ابدا. حدثنا سعيد بن عفير، حدثنا الليث، مثله. وقال نافع بن يزيد عن عقيل، ما يفعل به وتابعه شعيب وعمرو بن دينار ومعمر
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے محمد بن منکدر سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب میرے والد شہید کر دیئے گئے تو میں ان کے چہرے پر پڑا ہو کپڑا کھولتا اور روتا تھا۔ دوسرے لوگ تو مجھے اس سے روکتے تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نہیں کہہ رہے تھے۔ آخر میری چچی فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی رونے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ روؤ یا چپ رہو۔ جب تک تم لوگ میت کو اٹھاتے نہیں ملائکہ تو برابر اس پر اپنے پروں کا سایہ کئے ہوئے ہیں۔ اس روایت کی متابعت شعبہ کے ساتھ ابن جریج نے کی، انہیں ابن منکدر نے خبر دی اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، قال سمعت محمد بن المنكدر، قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال لما قتل ابي جعلت اكشف الثوب عن وجهه ابكي، وينهوني عنه والنبي صلى الله عليه وسلم لا ينهاني، فجعلت عمتي فاطمة تبكي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " تبكين او لا تبكين، ما زالت الملايكة تظله باجنحتها حتى رفعتموه ". تابعه ابن جريج اخبرني ابن المنكدر سمع جابرا رضى الله عنه
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے سعید بن مسیب نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کی خبر اسی دن دی جس دن اس کی وفات ہوئی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے کی جگہ گئے۔ اور لوگوں کے ساتھ صف باندھ کر ( جنازہ کی نماز میں ) چار تکبیریں کہیں۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نعى النجاشي في اليوم الذي مات فيه، خرج الى المصلى، فصف بهم وكبر اربعا
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے حمید بن بلال نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زید نے جھنڈا سنبھالا لیکن وہ شہید ہو گئے۔ پھر جعفر نے سنبھالا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ پھر عبداللہ بن رواحہ نے سنبھالا اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو بہ رہے تھے۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) اور پھر خالد بن ولید نے خود اپنے طور پر جھنڈا اٹھا لیا اور ان کو فتح حاصل ہوئی۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا ايوب، عن حميد بن هلال، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " اخذ الراية زيد فاصيب، ثم اخذها جعفر فاصيب، ثم اخذها عبد الله بن رواحة فاصيب وان عينى رسول الله صلى الله عليه وسلم لتذرفان ثم اخذها خالد بن الوليد من غير امرة ففتح له
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، انہیں ابومعاویہ نے خبر دی، انہیں ابواسحاق شیبانی نے، انہیں شعبی نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ایک شخص کی وفات ہو گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کو جایا کرتے تھے۔ چونکہ ان کا انتقال رات میں ہوا تھا اس لیے رات ہی میں لوگوں نے انہیں دفن کر دیا اور جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( کہ جنازہ تیار ہوتے وقت ) مجھے بتانے میں ( کیا ) رکاوٹ تھی؟ لوگوں نے کہا کہ رات تھی اور اندھیرا بھی تھا۔ اس لیے ہم نے مناسب نہیں سمجھا کہ کہیں آپ کو تکلیف ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے اور نماز پڑھی۔
حدثنا محمد، اخبرنا ابو معاوية، عن ابي اسحاق الشيباني، عن الشعبي، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال مات انسان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعوده فمات بالليل فدفنوه ليلا، فلما اصبح اخبروه فقال " ما منعكم ان تعلموني ". قالوا كان الليل فكرهنا وكانت ظلمة ان نشق عليك. فاتى قبره فصلى عليه
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے، ان سے عبدالعزیز نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی مسلمان کے اگر تین بچے مر جائیں جو بلوغت کو نہ پہنچے ہوں تو اللہ تعالیٰ اس رحمت کے نتیجے میں جو ان بچوں سے وہ رکھتا ہے مسلمان ( بچے کے باپ اور ماں ) کو بھی جنت میں داخل کرے گا۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا عبد العزيز، عن انس رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ما من الناس من مسلم يتوفى له ثلاث لم يبلغوا الحنث، الا ادخله الله الجنة بفضل رحمته اياهم
حدثنا مسلم، حدثنا شعبة، حدثنا عبد الرحمن بن الاصبهاني، عن ذكوان، عن ابي سعيد، رضى الله عنه ان النساء، قلن للنبي صلى الله عليه وسلم اجعل لنا يوما. فوعظهن، وقال " ايما امراة مات لها ثلاثة من الولد كانوا حجابا من النار ". قالت امراة واثنان. قال " واثنان ". وقال شريك عن ابن الاصبهاني، حدثني ابو صالح، عن ابي سعيد، وابي، هريرة رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ابو هريرة " لم يبلغوا الحنث
حدثنا مسلم، حدثنا شعبة، حدثنا عبد الرحمن بن الاصبهاني، عن ذكوان، عن ابي سعيد، رضى الله عنه ان النساء، قلن للنبي صلى الله عليه وسلم اجعل لنا يوما. فوعظهن، وقال " ايما امراة مات لها ثلاثة من الولد كانوا حجابا من النار ". قالت امراة واثنان. قال " واثنان ". وقال شريك عن ابن الاصبهاني، حدثني ابو صالح، عن ابي سعيد، وابي، هريرة رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال ابو هريرة " لم يبلغوا الحنث
ہم سے علی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے سنا، انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کے اگر تین بچے مر جائیں تو وہ دوزخ میں نہیں جائے گا اور اگر جائے گا بھی تو صرف قسم پوری کرنے کے لیے۔ ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ ( قرآن کی آیت یہ ہے ) تم میں سے ہر ایک کو دوزخ کے اوپر سے گزرنا ہو گا۔
حدثنا علي، حدثنا سفيان، قال سمعت الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يموت لمسلم ثلاثة من الولد، فيلج النار الا تحلة القسم ". قال ابو عبد الله {وان منكم الا واردها}
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر پر بیٹھی ہوئی رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا ثابت، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال مر النبي صلى الله عليه وسلم بامراة عند قبر وهي تبكي فقال " اتقي الله واصبري
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے محمد بن سیرین نے، ان سے ام عطیہ انصاری رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی ( زینب یا ام کلثوم رضی اللہ عنہما ) کی وفات ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو۔ غسل کے پانی میں بیری کے پتے ملا لو اور آخر میں کافور یا ( یہ کہا کہ ) کچھ کافور کا استعمال کر لینا اور غسل سے فارغ ہونے پر مجھے خبر دے دینا۔ چنانچہ ہم نے جب غسل دے لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دیدی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنا ازار دیا اور فرمایا کہ اسے ان کی قمیص بنا دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد اپنے ازار سے تھی۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني مالك، عن ايوب السختياني، عن محمد بن سيرين، عن ام عطية الانصارية رضى الله عنها قالت دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم حين توفيت ابنته فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن ذلك بماء وسدر، واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور، فاذا فرغتن فاذنني ". فلما فرغنا اذناه فاعطانا حقوه فقال " اشعرنها اياه ". تعني ازاره
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دو یا اس سے بھی زیادہ، پانی اور بیری کے پتوں سے اور آخر میں کافور بھی استعمال کرنا۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دے دینا۔ جب ہم فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ازار عنایت فرمایا اور فرمایا کہ یہ اندر اس کے بدن پر لپیٹ دو۔
حدثنا محمد، حدثنا عبد الوهاب الثقفي، عن ايوب، عن محمد، عن ام عطية رضى الله عنها قالت دخل علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نغسل ابنته فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك بماء وسدر، واجعلن في الاخرة كافورا، فاذا فرغتن فاذنني ". فلما فرغنا اذناه، فالقى الينا حقوه فقال " اشعرنها اياه ". فقال ايوب وحدثتني حفصة بمثل حديث محمد وكان في حديث حفصة " اغسلنها وترا ". وكان فيه : " ثلاثا او خمسا او سبعا ". وكان فيه انه قال " ابدان بميامنها ومواضع الوضوء منها ". وكان فيه ان ام عطية قالت ومشطناها ثلاثة قرون
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کے غسل کے وقت فرمایا تھا کہ دائیں طرف سے اور اعضاء وضو سے غسل شروع کرنا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا اسماعيل بن ابراهيم، حدثنا خالد، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في غسل ابنته " ابدان بميامنها ومواضع الوضوء منها
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے خالد حذاء نے، ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو ہم غسل دے رہی تھیں۔ جب ہم نے غسل شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غسل دائیں طرف سے اور اعضاء وضو سے شروع کرو۔
حدثنا يحيى بن موسى، حدثنا وكيع، عن سفيان، عن خالد الحذاء، عن حفصة بنت سيرين، عن ام عطية رضى الله عنها قالت لما غسلنا بنت النبي صلى الله عليه وسلم قال لنا ونحن نغسلها " ابدان بميامنها ومواضع الوضوء