Loading...

Loading...
کتب
۱۵۸ احادیث
ہم سے عبدالرحمٰن بن حماد نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابن عون نے خبر دی، انہیں محمد نے، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا۔ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا کہ تم اسے تین یا پانچ مرتبہ غسل دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ مرتبہ بھی غسل دے سکتی ہو۔ پھر فارغ ہو کر مجھے خبر دینا۔ چنانچہ جب ہم غسل دے چکیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ازار عنایت فرمایا اور فرمایا کہ اسے اس کے بدن سے لپیٹ دو۔
حدثنا عبد الرحمن بن حماد، اخبرنا ابن عون، عن محمد، عن ام عطية، قالت توفيت بنت النبي صلى الله عليه وسلم فقال لنا " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن، فاذا فرغتن فاذنني ". فلما فرغنا اذناه فنزع من حقوه ازاره وقال " اشعرنها اياه
حدثنا حامد بن عمر، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد، عن ام عطية، قالت توفيت احدى بنات النبي صلى الله عليه وسلم فخرج، فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن بماء وسدر، واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور، فاذا فرغتن فاذنني ". قالت فلما فرغنا اذناه، فالقى الينا حقوه فقال " اشعرنها اياه ". وعن ايوب، عن حفصة، عن ام عطية رضى الله عنهما بنحوه وقالت انه قال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او سبعا او اكثر من ذلك ان رايتن ". قالت حفصة قالت ام عطية رضى الله عنها وجعلنا راسها ثلاثة قرون
حدثنا حامد بن عمر، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد، عن ام عطية، قالت توفيت احدى بنات النبي صلى الله عليه وسلم فخرج، فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن بماء وسدر، واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور، فاذا فرغتن فاذنني ". قالت فلما فرغنا اذناه، فالقى الينا حقوه فقال " اشعرنها اياه ". وعن ايوب، عن حفصة، عن ام عطية رضى الله عنهما بنحوه وقالت انه قال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او سبعا او اكثر من ذلك ان رايتن ". قالت حفصة قالت ام عطية رضى الله عنها وجعلنا راسها ثلاثة قرون
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے ایوب نے بیان کیا کہ میں نے حفصہ بنت سیرین سے سنا، انہوں نے کہا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بالوں کو تین لٹوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ پہلے بال کھولے گئے پھر انہیں دھو کر ان کی تین چٹیاں کر دی گئیں۔
حدثنا احمد، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرنا ابن جريج، قال ايوب وسمعت حفصة بنت سيرين، قالت حدثتنا ام عطية رضى الله عنها انهن جعلن راس بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة قرون نقضنه ثم غسلنه ثم جعلنه ثلاثة قرون
ہم سے احمد نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، انہیں ایوب نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن سیرین سے سنا، انہوں نے کہا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے یہاں انصار کی ان خواتین میں سے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی، ایک عورت آئی، بصرہ میں انہیں اپنے ایک بیٹے کی تلاش تھی۔ لیکن وہ نہ ملا۔ پھر اس نے ہم سے یہ حدیث بیان کی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو اور اگر مناسب سمجھو تو اس سے بھی زیادہ دے سکتی ہو۔ غسل پانی اور بیری کے پتوں سے ہونا چاہیے اور آخر میں کافور بھی استعمال کر لینا۔ غسل سے فارغ ہو کر مجھے خبر کرا دینا۔ انہوں نے بیان کیا کہ جب ہم غسل دے چکیں ( تو اطلاع دی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ازار عنایت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اندر بدن سے لپیٹ دو۔ اس سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیٹی تھیں ( یہ ایوب نے کہا ) اور انہوں نے بتایا کہ «إشعار» کا مطلب یہ ہے کہ اس میں نعش لپیٹ دی جائے۔ ابن سیرین رحمہ اللہ بھی یہی فرمایا کرتے تھے کہ عورت کے بدن پر اسے لپیٹا جائے ازار کے طور پر نہ باندھا جائے۔
حدثنا احمد، حدثنا عبد الله بن وهب، اخبرنا ابن جريج، ان ايوب، اخبره قال سمعت ابن سيرين، يقول جاءت ام عطية رضى الله عنها امراة من الانصار من اللاتي بايعن، قدمت البصرة، تبادر ابنا لها فلم تدركه فحدثتنا قالت دخل علينا النبي صلى الله عليه وسلم ونحن نغسل ابنته فقال " اغسلنها ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن ذلك بماء وسدر، واجعلن في الاخرة كافورا، فاذا فرغتن فاذنني ". قالت فلما فرغنا القى الينا حقوه فقال " اشعرنها اياه ". ولم يزد على ذلك، ولا ادري اى بناته. وزعم ان الاشعار الففنها فيه، وكذلك كان ابن سيرين يامر بالمراة ان تشعر ولا توزر
ہم سے قبیصہ نے حدیث بیان کی، ان سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ام ہذیل نے اور ان سے ام عطیہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کے سر کے بال گوندھ کر ان کی تین چٹیاں کر دیں اور وکیع نے سفیان سے یوں روایت کیا، ایک پیشانی کی طرف کے بالوں کی چٹیا اور دو ادھر ادھر کے بالوں کی۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن هشام، عن ام الهذيل، عن ام عطية رضى الله عنها قالت ضفرنا شعر بنت النبي صلى الله عليه وسلم. تعني ثلاثة قرون. وقال وكيع قال سفيان ناصيتها وقرنيها
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حفصہ نے بیان کیا، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ ان کو پانی اور بیری کے پتوں سے تین یا پانچ مرتبہ غسل دے دو۔ اگر تم مناسب سمجھو تو اس سے زیادہ بھی دے سکتی ہو اور آخر میں کافور یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) تھوڑی سی کافور استعمال کرو پھر جب غسل دے چکو تو مجھے خبر دو۔ چنانچہ فارغ ہو کر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان کے کفن کے لیے ) اپنا ازار عنایت کیا۔ ہم نے اس کے سر کے بالوں کی تین چٹیاں کر کے انہیں پیچھے کی طرف ڈال دیا تھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن هشام بن حسان، قال حدثتنا حفصة، عن ام عطية رضى الله عنها قالت توفيت احدى بنات النبي صلى الله عليه وسلم فاتانا النبي صلى الله عليه وسلم فقال " اغسلنها بالسدر وترا ثلاثا او خمسا او اكثر من ذلك ان رايتن ذلك، واجعلن في الاخرة كافورا او شييا من كافور، فاذا فرغتن فاذنني ". فلما فرغنا اذناه، فالقى الينا حقوه، فضفرنا شعرها ثلاثة قرون والقيناها خلفها
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ ہمیں ہشام بن عروہ نے خبر دی، انہیں ان کے باپ عروہ بن زبیر نے اور انہیں (ان کی خالہ) ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یمن کے تین سفید سوتی دھلے ہوئے کپڑوں میں کفن دیا گیا ان میں نہ قمیص تھی نہ عمامہ۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كفن في ثلاثة اثواب يمانية بيض سحولية من كرسف، ليس فيهن قميص ولا عمامة
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد نے، ان سے ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص میدان عرفہ میں ( احرام باندھے ہوئے ) کھڑا ہوا تھا کہ اپنی سواری سے گر پڑا اور سواری نے انہیں کچل دیا۔ یا ( «وقصته» کے بجائے یہ لفظ ) «أوقصته» کہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے فرمایا کہ پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں میں انہیں کفن دو اور یہ بھی ہدایت فرمائی کہ انہیں خوشبو نہ لگاؤ اور نہ ان کا سر چھپاؤ۔ کیونکہ یہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھے گا۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهم قال بينما رجل واقف بعرفة اذ وقع عن راحلته فوقصته او قال فاوقصته قال النبي صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر، وكفنوه في ثوبين، ولا تحنطوه ولا تخمروا راسه، فانه يبعث يوم القيامة ملبيا
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفہ میں وقوف کئے ہوئے تھا کہ وہ اپنے اونٹ سے گر پڑا اور اونٹ نے انہیں کچل دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے کر دو کپڑوں کا کفن دو، خوشبو نہ لگاؤ اور نہ سر ڈھکو کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا حماد، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال بينما رجل واقف مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفة اذ وقع من راحلته فاقصعته او قال فاقعصته فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر، وكفنوه في ثوبين، ولا تحنطوه ولا تخمروا راسه، فان الله يبعثه يوم القيامة ملبيا
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہیں ابوبشر جعفر نے، انہیں سعید بن جبیر نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ احرام باندھے ہوئے تھے کہ ایک شخص کی گردن اس کے اونٹ نے توڑ ڈالی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دے دو اور کپڑوں کا کفن دو اور خوشبو نہ لگاؤ نہ ان کے سر کو ڈھکو۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اٹھائے گا۔ اس حالت میں کہ وہ لبیک پکارتا ہو گا۔
حدثنا ابو النعمان، اخبرنا ابو عوانة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهم ان رجلا، وقصه بعيره، ونحن مع النبي صلى الله عليه وسلم وهو محرم فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اغسلوه بماء وسدر، وكفنوه في ثوبين، ولا تمسوه طيبا، ولا تخمروا راسه، فان الله يبعثه يوم القيامة ملبدا
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے عمرو اور ایوب نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ میدان عرفات میں کھڑا ہوا تھا، اچانک وہ اپنی سواری سے گر پڑا۔ ایوب نے کہا اونٹنی نے اس کی گردن توڑ ڈالی۔ اور عمرو نے یوں کہا کہ اونٹنی نے اس کو گرتے ہی مار ڈالا اور اس کا انتقال ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور دو کپڑوں کا کفن دو اور خوشبو نہ لگاؤ نہ سر ڈھکو کیونکہ قیامت میں یہ اٹھایا جائے گا۔ ایوب نے کہا کہ ( یعنی ) تلبیہ کہتے ہوئے ( اٹھایا جائے گا ) اور عمرو نے ( اپنی روایت میں «ملبی» کے بجائے ) «ملبيا» کا لفظ نقل کیا۔ ( یعنی لبیک کہتا ہوا اٹھے گا ) ۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن عمرو، وايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهم قال كان رجل واقف مع النبي صلى الله عليه وسلم بعرفة فوقع عن راحلته قال ايوب فوقصته، وقال عمرو فاقصعته فمات فقال " اغسلوه بماء وسدر، وكفنوه في ثوبين، ولا تحنطوه ولا تخمروا راسه، فانه يبعث يوم القيامة قال ايوب يلبي، وقال عمرو ملبيا
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے کہا کہ مجھ سے نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن ابی ( منافق ) کی موت ہوئی تو اس کا بیٹا ( عبداللہ صحابی ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! والد کے کفن کے لیے آپ اپنی قمیص عنایت فرمائیے اور ان پر نماز پڑھئے اور مغفرت کی دعا کیجئے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص ( غایت مروت کی وجہ سے ) عنایت کی اور فرمایا کہ مجھے بتانا میں نماز جنازہ پڑھوں گا۔ عبداللہ نے اطلاع بھجوائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھے تو عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیچھے سے پکڑ لیا اور عرض کیا کہ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین کی نماز جنازہ پڑھنے سے منع نہیں کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اختیار دیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے ”تو ان کے لیے استغفار کر یا نہ کر اور اگر تو ستر مرتبہ بھی استغفار کرے تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا“ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ اس کے بعد یہ آیت اتری ”کسی بھی منافق کی موت پر اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھانا“۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى بن سعيد، عن عبيد الله، قال حدثني نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما ان عبد، الله بن ابى لما توفي جاء ابنه الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله اعطني قميصك اكفنه فيه، وصل عليه واستغفر له، فاعطاه النبي صلى الله عليه وسلم قميصه فقال " اذني اصلي عليه ". فاذنه، فلما اراد ان يصلي عليه جذبه عمر رضى الله عنه فقال اليس الله نهاك ان تصلي على المنافقين فقال " انا بين خيرتين قال {استغفر لهم او لا تستغفر لهم ان تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم} ". فصلى عليه فنزلت {ولا تصل على احد منهم مات ابدا}
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو عبداللہ بن ابی کو دفن کیا جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبر سے نکلوایا اور اپنا لعاب دہن اس کے منہ میں ڈالا اور اپنی قمیص پہنائی۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا ابن عيينة، عن عمرو، سمع جابرا رضى الله عنه قال اتى النبي صلى الله عليه وسلم عبد الله بن ابى بعد ما دفن فاخرجه، فنفث فيه من ريقه والبسه قميصه
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے عروہ بن زبیر نے ‘ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تین سوتی دھلے ہوئے کپڑوں کا کفن دیا گیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کفن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن هشام، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت كفن النبي صلى الله عليه وسلم في ثلاثة اثواب سحول كرسف، ليس فيها قميص ولا عمامة
ہم سے مسدد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے ان سے ہشام نے ان سے ان کے باپ عروہ بن زبیر نے ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ تھا۔ امام ابوعبداللہ بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابونعیم نے لفظ «ثلاثة» نہیں کہا اور عبداللہ بن ولید نے سفیان سے لفظ «ثلاثة» نقل کیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن هشام، حدثني ابي، عن عايشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كفن في ثلاثة اثواب، ليس فيها قميص ولا عمامة
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے باپ عروہ بن زبیر نے ‘ ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سحول کے تین سفید کپڑوں کا کفن دیا گیا تھا نہ ان میں قمیص تھی اور نہ عمامہ تھا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كفن في ثلاثة اثواب بيض سحولية، ليس فيها قميص ولا عمامة
ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے ‘ ان سے ان کے باپ سعد نے اور ان سے ان کے والد ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک دن کھانا رکھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ( غزوہ احد میں ) شہید ہوئے ‘ وہ مجھ سے افضل تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز مہیا نہ ہو سکی۔ اسی طرح جب حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے یا کسی دوسرے صحابی کا نام لیا ‘ وہ بھی مجھ سے افضل تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے بھی صرف ایک ہی چادر مل سکی۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے چین اور آرام کے سامان ہم کو جلدی سے دنیا ہی میں دے دئیے گئے ہوں پھر وہ رونے لگے۔
حدثنا احمد بن محمد المكي، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن سعد، عن ابيه، قال اتي عبد الرحمن بن عوف رضى الله عنه يوما بطعامه فقال قتل مصعب بن عمير وكان خيرا مني فلم يوجد له ما يكفن فيه الا بردة، وقتل حمزة او رجل اخر خير مني فلم يوجد له ما يكفن فيه الا بردة، لقد خشيت ان يكون قد عجلت لنا طيباتنا في حياتنا الدنيا، ثم جعل يبكي
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں سعد بن ابراہیم نے ‘ انہیں ان کے باپ ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے کھانا حاضر کیا گیا۔ وہ روزہ سے تھے اس وقت انہوں نے فرمایا کہ ہائے! مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ شہید کئے گئے ‘ وہ مجھ سے بہتر تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر میسر آ سکی کہ اگر اس سے ان کا سر ڈھانکا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانکے جاتے تو سر کھل جاتا اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے یہ بھی فرمایا اور حمزہ رضی اللہ عنہ بھی ( اسی طرح ) شہید ہوئے وہ بھی مجھ سے اچھے تھے۔ پھر ان کے بعد دنیا کی کشادگی ہمارے لیے خوب ہوئی یا یہ فرمایا کہ دنیا ہمیں بہت دی گئی اور ہمیں تو اس کا ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہماری نیکیوں کا بدلہ اسی دنیا میں ہم کو مل گیا ہو پھر آپ اس طرح رونے لگے کہ کھانا بھی چھوڑ دیا۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن ابيه، ابراهيم ان عبد الرحمن بن عوف رضى الله عنه اتي بطعام وكان صايما فقال قتل مصعب بن عمير وهو خير مني، كفن في بردة، ان غطي راسه بدت رجلاه، وان غطي رجلاه بدا راسه واراه قال وقتل حمزة وهو خير مني، ثم بسط لنا من الدنيا ما بسط او قال اعطينا من الدنيا ما اعطينا وقد خشينا ان تكون حسناتنا عجلت لنا، ثم جعل يبكي حتى ترك الطعام
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے میرے والد نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شقیق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف اللہ کے لیے ہجرت کی۔ اب ہمیں اللہ تعالیٰ سے اجر ملنا ہی تھا۔ ہمارے بعض ساتھی تو انتقال کر گئے اور ( اس دنیا میں ) انہوں نے اپنے کئے کا کوئی پھل نہیں دیکھا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھے اور ہمارے بعض ساتھیوں کا میوہ پک گیا اور وہ چن چن کر کھاتا ہے۔ ( مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ) احد کی لڑائی میں شہید ہوئے ہم کو ان کے کفن میں ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز نہ ملی اور وہ بھی ایسی کہ اگر اس سے سر چھپاتے ہیں تو پاؤں کھل جاتا ہے اور اگر پاؤں ڈھکتے تو سر کھل جاتا۔ آخر یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سر کو چھپا دیں اور پاؤں پر سبز گھاس اذخر نامی ڈال دیں۔
حدثنا عمر بن حفص بن غياث، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثنا شقيق، حدثنا خباب رضى الله عنه قال هاجرنا مع النبي صلى الله عليه وسلم نلتمس وجه الله، فوقع اجرنا على الله، فمنا من مات لم ياكل من اجره شييا منهم مصعب بن عمير، ومنا من اينعت له ثمرته فهو يهدبها. قتل يوم احد، فلم نجد ما نكفنه الا بردة اذا غطينا بها راسه خرجت رجلاه، واذا غطينا رجليه خرج راسه، فامرنا النبي صلى الله عليه وسلم ان نغطي راسه، وان نجعل على رجليه من الاذخر