Loading...

Loading...
کتب
۱۵۸ احادیث
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک بنی ہوئی حاشیہ دار چادر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تحفہ لائی۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ( حاضرین سے ) پوچھا کہ تم جانتے ہو چادر کیا؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں! شملہ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا ہاں شملہ ( تم نے ٹھیک بتایا ) خیر اس عورت نے کہا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اسے بنا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنانے کے لیے لائی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کپڑا قبول کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اس وقت ضرورت بھی تھی پھر اسے ازار کے طور پر باندھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ایک صاحب ( عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ یہ تو بڑی اچھی چادر ہے ‘ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے پہنا دیجئیے۔ لوگوں نے کہا کہ آپ نے ( مانگ کر ) کچھ اچھا نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی ضرورت کی وجہ سے پہنا تھا اور تم نے یہ مانگ لیا حالانکہ تم کو معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کا سوال رد نہیں کرتے۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ اللہ کی قسم! میں نے اپنے پہننے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ چادر نہیں مانگی تھی۔ بلکہ میں اسے اپنا کفن بناؤں گا۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ وہی چادر ان کا کفن بنی۔
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا ابن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل رضى الله عنه ان امراة، جاءت النبي صلى الله عليه وسلم ببردة منسوجة فيها حاشيتها اتدرون ما البردة قالوا الشملة. قال نعم. قالت نسجتها بيدي، فجيت لاكسوكها. فاخذها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجا اليها، فخرج الينا وانها ازاره، فحسنها فلان فقال اكسنيها، ما احسنها. قال القوم ما احسنت، لبسها النبي صلى الله عليه وسلم محتاجا اليها، ثم سالته وعلمت انه لا يرد. قال اني والله ما سالته لالبسها انما سالته لتكون كفني. قال سهل فكانت كفنه
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے خالد حذاء نے ‘ ان سے ام ہذیل حفصہ بنت سیرین نے ‘ ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہمیں ( عورتوں کو ) جنازے کے ساتھ چلنے سے منع کیا گیا مگر تاکید سے منع نہیں ہوا۔
حدثنا قبيصة بن عقبة، حدثنا سفيان، عن خالد الحذاء، عن ام الهذيل، عن ام عطية رضى الله عنها قالت نهينا عن اتباع الجنايز، ولم يعزم علينا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے بشر بن مفضل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سلمہ بن علقمہ نے اور ان سے محمد بن سیرین نے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے تیسرے دن انہوں نے ”صفرہ خلوق“ ( ایک قسم کی زرد خوشبو ) منگوائی اور اسے اپنے بدن پر لگایا اور فرمایا کہ خاوند کے سوا کسی دوسرے پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنے سے ہمیں منع کیا گیا ہے۔
حدثنا مسدد، حدثنا بشر بن المفضل، حدثنا سلمة بن علقمة، عن محمد بن سيرين، قال توفي ابن لام عطية رضى الله عنها فلما كان اليوم الثالث دعت بصفرة، فتمسحت به وقالت نهينا ان نحد اكثر من ثلاث الا بزوج
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے حمید بن نافع نے زینب بنت ابی سلمہ سے خبر دی کہ ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر جب شام سے آئی تو ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ( ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی اور ام المؤمنین ) نے تیسرے دن ”صفرہ“ ( خوشبو ) منگوا کر اپنے دونوں رخساروں اور بازوؤں پر ملا اور فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ کوئی بھی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ شوہر کے سوا کسی کا سوگ تین دن سے زیادہ منائے اور شوہر کا سوگ چار مہینے دس دن کرے۔ تو مجھے اس وقت اس خوشبو کے استعمال کی ضرورت نہیں تھی۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا ايوب بن موسى، قال اخبرني حميد بن نافع، عن زينب ابنة ابي سلمة، قالت لما جاء نعى ابي سفيان من الشام دعت ام حبيبة رضى الله عنها بصفرة في اليوم الثالث، فمسحت عارضيها وذراعيها وقالت اني كنت عن هذا لغنية، لولا اني سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر ان تحد على ميت فوق ثلاث، الا على زوج، فانها تحد عليه اربعة اشهر وعشرا
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن حميد بن نافع، عن زينب بنت ابي سلمة، اخبرته قالت، دخلت على ام حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم فقالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر تحد على ميت فوق ثلاث، الا على زوج اربعة اشهر وعشرا ". ثم دخلت على زينب بنت جحش حين توفي اخوها، فدعت بطيب فمست ثم قالت ما لي بالطيب من حاجة، غير اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر يقول " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر تحد على ميت فوق ثلاث، الا على زوج اربعة اشهر وعشرا
حدثنا اسماعيل، حدثني مالك، عن عبد الله بن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، عن حميد بن نافع، عن زينب بنت ابي سلمة، اخبرته قالت، دخلت على ام حبيبة زوج النبي صلى الله عليه وسلم فقالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر تحد على ميت فوق ثلاث، الا على زوج اربعة اشهر وعشرا ". ثم دخلت على زينب بنت جحش حين توفي اخوها، فدعت بطيب فمست ثم قالت ما لي بالطيب من حاجة، غير اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر يقول " لا يحل لامراة تومن بالله واليوم الاخر تحد على ميت فوق ثلاث، الا على زوج اربعة اشهر وعشرا
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک عورت پر ہوا جو قبر پر بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ وہ بولی جاؤ جی پرے ہٹو۔ یہ مصیبت تم پر پڑی ہوتی تو پتہ چلتا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان نہ سکی تھی۔ پھر جب لوگوں نے اسے بتایا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے، تو اب وہ ( گھبرا کر ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر پہنچی۔ وہاں اسے کوئی دربان نہ ملا۔ پھر اس نے کہا کہ میں آپ کو پہچان نہ سکی تھی۔ ( معاف فرمائیے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبر تو جب صدمہ شروع ہو اس وقت کرنا چاہیے ( اب کیا ہوتا ہے ) ۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا ثابت، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال مر النبي صلى الله عليه وسلم بامراة تبكي عند قبر فقال " اتقي الله واصبري ". قالت اليك عني، فانك لم تصب بمصيبتي، ولم تعرفه. فقيل لها انه النبي صلى الله عليه وسلم. فاتت باب النبي صلى الله عليه وسلم فلم تجد عنده بوابين فقالت لم اعرفك. فقال " انما الصبر عند الصدمة الاولى
ہم سے عبد ان اور محمد بن مقاتل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں امام عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہم کو عاصم بن سلیمان نے خبر دی ‘ انہیں ابوعثمان عبدالرحمٰن نہدی نے ‘ کہا کہ مجھ سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی ( زینب رضی اللہ عنہا ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرائی کہ میرا ایک لڑکا مرنے کے قریب ہے ‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور کہلوایا کہ اللہ تعالیٰ ہی کا سارا مال ہے ‘ جو لے لیا وہ اسی کا تھا اور جو اس نے دیا وہ بھی اسی کا تھا اور ہر چیز اس کی بارگاہ سے وقت مقررہ پر ہی واقع ہوتی ہے۔ اس لیے صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو۔ پھر زینب رضی اللہ عنہا نے قسم دے کر اپنے یہاں بلوا بھیجا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانے کے لیے اٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد بن عبادہ ‘ معاذ بن جبل ‘ ابی بن کعب ‘ زید بن ثابت اور بہت سے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا۔ جس کی جانکنی کا عالم تھا۔ ابوعثمان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جیسے پرانا مشکیزہ ہوتا ہے ( اور پانی کے ٹکرانے کی اندر سے آواز ہوتی ہے۔ اسی طرح جانکنی کے وقت بچہ کے حلق سے آواز آ رہی تھی ) یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔ سعد رضی اللہ عنہ بول اٹھے کہ یا رسول اللہ! یہ رونا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ( نیک ) بندوں کے دلوں میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے ان رحم دل بندوں پر رحم فرماتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔
حدثنا عبدان، ومحمد، قالا اخبرنا عبد الله، اخبرنا عاصم بن سليمان، عن ابي عثمان، قال حدثني اسامة بن زيد رضى الله عنهما قال ارسلت ابنة النبي صلى الله عليه وسلم اليه ان ابنا لي قبض فايتنا. فارسل يقري السلام ويقول " ان لله ما اخذ وله ما اعطى وكل عنده باجل مسمى، فلتصبر ولتحتسب ". فارسلت اليه تقسم عليه لياتينها، فقام ومعه سعد بن عبادة ومعاذ بن جبل وابى بن كعب وزيد بن ثابت ورجال، فرفع الى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصبي ونفسه تتقعقع قال حسبته انه قال كانها شن. ففاضت عيناه. فقال سعد يا رسول الله ما هذا فقال " هذه رحمة جعلها الله في قلوب عباده، وانما يرحم الله من عباده الرحماء
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے ہلال بن علی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی ( ام کلثوم رضی اللہ عنہا ) کے جنازہ میں حاضر تھے۔ ( وہ عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ جن کا 5 ھ میں انتقال ہوا ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ کیا تم میں کوئی ایسا شخص بھی ہے کہ جو آج کی رات عورت کے پاس نہ گیا ہو۔ اس پر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر قبر میں تم اترو۔ چنانچہ وہ ان کی قبر میں اترے۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابو عامر، حدثنا فليح بن سليمان، عن هلال بن علي، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال شهدنا بنتا لرسول الله صلى الله عليه وسلم قال ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس على القبر قال فرايت عينيه تدمعان قال فقال " هل منكم رجل لم يقارف الليلة ". فقال ابو طلحة انا. قال " فانزل ". قال فنزل في قبرها
حدثنا عبدان، حدثنا عبد الله، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة، قال توفيت ابنة لعثمان رضى الله عنه بمكة وجينا لنشهدها، وحضرها ابن عمر وابن عباس رضى الله عنهم واني لجالس بينهما او قال جلست الى احدهما. ثم جاء الاخر، فجلس الى جنبي فقال عبد الله بن عمر رضى الله عنهما لعمرو بن عثمان الا تنهى عن البكاء، فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الميت ليعذب ببكاء اهله عليه ". فقال ابن عباس رضى الله عنهما قد كان عمر رضى الله عنه يقول بعض ذلك، ثم حدث قال صدرت مع عمر رضى الله عنه من مكة حتى اذا كنا بالبيداء، اذا هو بركب تحت ظل سمرة فقال اذهب، فانظر من هولاء الركب قال فنظرت فاذا صهيب، فاخبرته فقال ادعه لي. فرجعت الى صهيب فقلت ارتحل فالحق امير المومنين. فلما اصيب عمر دخل صهيب يبكي يقول وااخاه، واصاحباه. فقال عمر رضى الله عنه يا صهيب اتبكي على وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الميت يعذب ببعض بكاء اهله عليه ". قال ابن عباس رضى الله عنهما فلما مات عمر رضى الله عنه ذكرت ذلك لعايشة رضى الله عنها فقالت رحم الله عمر، والله ما حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله ليعذب المومن ببكاء اهله عليه. ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله ليزيد الكافر عذابا ببكاء اهله عليه ". وقالت حسبكم القران {ولا تزر وازرة وزر اخرى}. قال ابن عباس رضى الله عنهما عند ذلك والله هو اضحك وابكى. قال ابن ابي مليكة والله ما قال ابن عمر رضى الله عنهما شييا
حدثنا عبدان، حدثنا عبد الله، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة، قال توفيت ابنة لعثمان رضى الله عنه بمكة وجينا لنشهدها، وحضرها ابن عمر وابن عباس رضى الله عنهم واني لجالس بينهما او قال جلست الى احدهما. ثم جاء الاخر، فجلس الى جنبي فقال عبد الله بن عمر رضى الله عنهما لعمرو بن عثمان الا تنهى عن البكاء، فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الميت ليعذب ببكاء اهله عليه ". فقال ابن عباس رضى الله عنهما قد كان عمر رضى الله عنه يقول بعض ذلك، ثم حدث قال صدرت مع عمر رضى الله عنه من مكة حتى اذا كنا بالبيداء، اذا هو بركب تحت ظل سمرة فقال اذهب، فانظر من هولاء الركب قال فنظرت فاذا صهيب، فاخبرته فقال ادعه لي. فرجعت الى صهيب فقلت ارتحل فالحق امير المومنين. فلما اصيب عمر دخل صهيب يبكي يقول وااخاه، واصاحباه. فقال عمر رضى الله عنه يا صهيب اتبكي على وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الميت يعذب ببعض بكاء اهله عليه ". قال ابن عباس رضى الله عنهما فلما مات عمر رضى الله عنه ذكرت ذلك لعايشة رضى الله عنها فقالت رحم الله عمر، والله ما حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله ليعذب المومن ببكاء اهله عليه. ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله ليزيد الكافر عذابا ببكاء اهله عليه ". وقالت حسبكم القران {ولا تزر وازرة وزر اخرى}. قال ابن عباس رضى الله عنهما عند ذلك والله هو اضحك وابكى. قال ابن ابي مليكة والله ما قال ابن عمر رضى الله عنهما شييا
حدثنا عبدان، حدثنا عبد الله، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني عبد الله بن عبيد الله بن ابي مليكة، قال توفيت ابنة لعثمان رضى الله عنه بمكة وجينا لنشهدها، وحضرها ابن عمر وابن عباس رضى الله عنهم واني لجالس بينهما او قال جلست الى احدهما. ثم جاء الاخر، فجلس الى جنبي فقال عبد الله بن عمر رضى الله عنهما لعمرو بن عثمان الا تنهى عن البكاء، فان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الميت ليعذب ببكاء اهله عليه ". فقال ابن عباس رضى الله عنهما قد كان عمر رضى الله عنه يقول بعض ذلك، ثم حدث قال صدرت مع عمر رضى الله عنه من مكة حتى اذا كنا بالبيداء، اذا هو بركب تحت ظل سمرة فقال اذهب، فانظر من هولاء الركب قال فنظرت فاذا صهيب، فاخبرته فقال ادعه لي. فرجعت الى صهيب فقلت ارتحل فالحق امير المومنين. فلما اصيب عمر دخل صهيب يبكي يقول وااخاه، واصاحباه. فقال عمر رضى الله عنه يا صهيب اتبكي على وقد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان الميت يعذب ببعض بكاء اهله عليه ". قال ابن عباس رضى الله عنهما فلما مات عمر رضى الله عنه ذكرت ذلك لعايشة رضى الله عنها فقالت رحم الله عمر، والله ما حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الله ليعذب المومن ببكاء اهله عليه. ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان الله ليزيد الكافر عذابا ببكاء اهله عليه ". وقالت حسبكم القران {ولا تزر وازرة وزر اخرى}. قال ابن عباس رضى الله عنهما عند ذلك والله هو اضحك وابكى. قال ابن ابي مليكة والله ما قال ابن عمر رضى الله عنهما شييا
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہیں امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں ان کے باپ نے اور انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ آپ نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہیں امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں عبداللہ بن ابی بکر نے ‘ انہیں ان کے باپ نے اور انہیں عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا۔ آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک یہودی عورت پر ہوا جس کے مرنے پر اس کے گھر والے رو رہے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ لوگ رو رہے ہیں حالانکہ اس کو قبر میں عذاب کیا جا رہا ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عبد الله بن ابي بكر، عن ابيه، عن عمرة بنت عبد الرحمن، انها اخبرته انها، سمعت عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت انما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم على يهودية يبكي عليها اهلها فقال " انهم ليبكون عليها، وانها لتعذب في قبرها
ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا ‘ ان سے علی بن مسہر نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق شیبانی نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ان کے والد ابوموسیٰ اشعری نے کہ جب عمر رضی اللہ کو زخمی کیا گیا تو صہیب رضی اللہ عنہ یہ کہتے ہوئے آئے ‘ ہائے میرے بھائی! اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کیا تجھ کو معلوم نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مردے کو اس کے گھر والوں کے رونے سے عذاب کیا جاتا ہے۔
حدثنا اسماعيل بن خليل، حدثنا علي بن مسهر، حدثنا ابو اسحاق وهو الشيباني عن ابي بردة، عن ابيه، قال لما اصيب عمر رضى الله عنه جعل صهيب يقول وااخاه. فقال عمر اما علمت ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " ان الميت ليعذب ببكاء الحى
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سعید بن عبید نے ‘ ان سے علی بن ربیعہ نے اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ میرے متعلق کوئی جھوٹی بات کہنا عام لوگوں سے متعلق جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے جو شخص بھی جان بوجھ کر میرے اوپر جھوٹ بولے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی سنا کہ کسی میت پر اگر نوحہ و ماتم کیا جائے تو اس نوحہ کی وجہ سے بھی اس پر عذاب ہوتا ہے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سعيد بن عبيد، عن علي بن ربيعة، عن المغيرة رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ان كذبا على ليس ككذب على احد، من كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار ". سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من نيح عليه يعذب بما نيح عليه
ہم سے عبد ان عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے میرے باپ نے خبر دی ‘ انہیں شعبہ نے ‘ انہیں قتادہ نے ‘ انہیں سعید بن مسیب نے ‘ انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے باپ عمر رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میت کو اس پر نوحہ کئے جانے کی وجہ سے بھی قبر میں عذاب ہوتا ہے۔ عبدان کے ساتھ اس حدیث کو عبدالاعلیٰ نے بھی یزید بن زریع سے روایت کیا۔ انہوں نے کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے قتادہ نے۔ اور آدم بن ابی ایاس نے شعبہ سے یوں روایت کیا کہ میت پر زندے کے رونے سے عذاب ہوتا ہے۔
حدثنا عبدان، قال اخبرني ابي، عن شعبة، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، عن ابن عمر، عن ابيه رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الميت يعذب في قبره بما نيح عليه ". تابعه عبد الاعلى حدثنا يزيد بن زريع حدثنا سعيد حدثنا قتادة. وقال ادم عن شعبة " الميت يعذب ببكاء الحى عليه
ہم سے علی بن عبداللہ بن مدینی نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے محمد بن منکدر نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے فرمایا کہ میرے والد کی لاش احد کے میدان سے لائی گئی۔ ( مشرکوں نے ) آپ کی صورت تک بگاڑ دی تھی۔ نعش رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھی گئی۔ اوپر سے ایک کپڑا ڈھکا ہوا تھا ‘ میں نے چاہا کہ کپڑے کو ہٹاؤں۔ لیکن میری قوم نے مجھے روکا۔ پھر دوبارہ کپڑا ہٹانے کی کوشش کی۔ اس مرتبہ بھی میری قوم نے مجھ کو روک دیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے جنازہ اٹھایا گیا۔ اس وقت کسی زور زور سے رونے والے کی آواز سنائی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہ عمرو کی بیٹی یا ( یہ کہا کہ ) عمرو کی بہن ہیں۔ ( نام میں سفیان کو شک ہوا تھا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روتی کیوں ہیں؟ یا یہ فرمایا کہ روؤ نہیں کہ ملائکہ برابر اپنے پروں کا سایہ کئے رہے ہیں جب تک اس کا جنازہ اٹھایا گیا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا ابن المنكدر، قال سمعت جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال جيء بابي يوم احد، قد مثل به حتى وضع بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد سجي ثوبا فذهبت اريد ان اكشف عنه فنهاني قومي، ثم ذهبت اكشف عنه فنهاني قومي، فامر رسول الله صلى الله عليه وسلم فرفع فسمع صوت صايحة فقال " من هذه ". فقالوا ابنة عمرو او اخت عمرو. قال " فلم تبكي او لا تبكي فما زالت الملايكة تظله باجنحتها حتى رفع
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہ ہم سے سفیان ثوری نے ‘ ان سے زبید یامی نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم نخعی نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عورتیں ( کسی کی موت پر ) اپنے چہروں کو پیٹتی اور گریبان چاک کر لیتی ہیں اور جاہلیت کی باتیں بکتی ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہیں۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، حدثنا زبيد اليامي، عن ابراهيم، عن مسروق، عن عبد الله رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ليس منا من لطم الخدود، وشق الجيوب، ودعا بدعوى الجاهلية
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہیں امام مالک نے خبر دی۔ انہیں ابن شہاب نے ‘ انہیں عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اور انہیں ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع کے سال ( 10 ھ میں ) میری عیادت کے لیے تشریف لائے۔ میں سخت بیمار تھا۔ میں نے کہا کہ میرا مرض شدت اختیار کر چکا ہے میرے پاس مال و اسباب بہت ہے اور میری صرف ایک لڑکی ہے جو وارث ہو گی تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کو خیرات کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے کہا آدھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک تہائی کر دو اور یہ بھی بڑی خیرات ہے یا بہت خیرات ہے اگر تو اپنے وارثوں کو اپنے پیچھے مالدار چھوڑ جائے تو یہ اس سے بہتر ہو گا کہ محتاجی میں انہیں اس طرح چھوڑ کر جائے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ یہ یاد رکھو کہ جو خرچ بھی تم اللہ کی رضا کی نیت سے کرو گے تو اس پر بھی تمہیں ثواب ملے گا۔ حتیٰ کہ اس لقمہ پر بھی جو تم اپنی بیوی کے منہ میں رکھو۔ پھر میں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! میرے ساتھی تو مجھے چھوڑ کر ( حجتہ الوداع کر کے ) مکہ سے جا رہے ہیں اور میں ان سے پیچھے رہ رہا ہوں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہاں رہ کر بھی اگر تم کوئی نیک عمل کرو گے تو اس سے تمہارے درجے بلند ہوں گے اور شاید ابھی تم زندہ رہو گے اور بہت سے لوگوں کو ( مسلمانوں کو ) تم سے فائدہ پہنچے گا اور بہتوں کو ( کفار و مرتدین کو ) نقصان۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ) اے اللہ! میرے ساتھیوں کو ہجرت پر استقلال عطا فرما اور ان کے قدم پیچھے کی طرف نہ لوٹا۔ لیکن مصیبت زدہ سعد بن خولہ تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مکہ میں وفات پا جانے کی وجہ سے اظہار غم کیا تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني عام حجة الوداع من وجع اشتد بي فقلت اني قد بلغ بي من الوجع وانا ذو مال، ولا يرثني الا ابنة، افاتصدق بثلثى مالي قال " لا ". فقلت بالشطر فقال " لا " ثم قال " الثلث والثلث كبير او كثير انك ان تذر ورثتك اغنياء خير من ان تذرهم عالة يتكففون الناس، وانك لن تنفق نفقة تبتغي بها وجه الله الا اجرت بها، حتى ما تجعل في في امراتك ". فقلت يا رسول الله، اخلف بعد اصحابي قال " انك لن تخلف فتعمل عملا صالحا الا ازددت به درجة ورفعة، ثم لعلك ان تخلف حتى ينتفع بك اقوام ويضر بك اخرون، اللهم امض لاصحابي هجرتهم، ولا تردهم على اعقابهم، لكن البايس سعد ابن خولة، يرثي له رسول الله صلى الله عليه وسلم ان مات بمكة
اور حکم بن موسیٰ نے بیان کیا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن جابر نے کہ قاسم بن مخیمرہ نے ان سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار پڑے ‘ ایسے کہ ان پر غشی طاری تھی اور ان کا سر ان کی ایک بیوی ام عبداللہ بنت ابی رومہ کی گود میں تھا ( وہ ایک زور کی چیخ مار کر رونے لگی ) ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ اس وقت کچھ بول نہ سکے لیکن جب ان کو ہوش ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی اس کام سے بیزار ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیزاری کا اظہار فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کسی غم کے وقت ) چلا کر رونے والی ‘ سر منڈوانے والی اور گریبان چاک کرنے والی عورتوں سے اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا تھا۔
وقال الحكم بن موسى حدثنا يحيى بن حمزة، عن عبد الرحمن بن جابر، ان القاسم بن مخيمرة، حدثه قال حدثني ابو بردة بن ابي موسى رضى الله عنه قال وجع ابو موسى وجعا فغشي عليه، وراسه في حجر امراة من اهله، فلم يستطع ان يرد عليها شييا، فلما افاق قال انا بريء ممن بري منه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم بري من الصالقة والحالقة والشاقة