Loading...

Loading...
کتب
۱۵۸ احادیث
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے عبداللہ بن مرہ نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ( کسی میت پر ) اپنے رخسار پیٹے ‘ گریبان پھاڑے اور عہد جاہلیت کی سی باتیں کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " ليس منا من ضرب الخدود، وشق الجيوب، ودعا بدعوى الجاهلية
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ حفص نے اور ان سے اعمش نے اور ان سے عبداللہ بن مرہ نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ( کسی کی موت پر ) اپنے رخسار پیٹے ‘ گریبان چاک کرے اور جاہلیت کی باتیں کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، عن عبد الله بن مرة، عن مسروق، عن عبد الله رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ليس منا من ضرب الخدود، وشق الجيوب، ودعا بدعوى الجاهلية
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے یحییٰ سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھے عمرہ نے خبر دی، کہا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا آپ نے کہا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زید بن حارثہ ‘ جعفر اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت ( غزوہ موتہ میں ) کی خبر ملی ‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اس طرح تشریف فرما تھے کہ غم کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ظاہر تھے۔ میں دروازے کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں ایک صاحب آئے اور جعفر رضی اللہ عنہ کے گھر کی عورتوں کے رونے کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں رونے سے منع کر دے۔ وہ گئے لیکن واپس آ کر کہا کہ وہ تو نہیں مانتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ انہیں منع کر دے۔ اب وہ تیسری مرتبہ واپس ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! قسم اللہ کی وہ تو ہم پر غالب آ گئی ہیں ( عمرہ نے کہا کہ ) عائشہ رضی اللہ عنہا کو یقین ہوا کہ ( ان کے اس کہنے پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے منہ میں مٹی جھونک دے۔ اس پر میں نے کہا کہ تیرا برا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب جس کام کا حکم دے رہے ہیں وہ تو کرو گے نہیں لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف میں ڈال دیا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب، قال سمعت يحيى، قال اخبرتني عمرة، قالت سمعت عايشة رضى الله عنها قالت لما جاء النبي صلى الله عليه وسلم قتل ابن حارثة وجعفر وابن رواحة جلس يعرف فيه الحزن، وانا انظر من صاير الباب شق الباب فاتاه رجل، فقال ان نساء جعفر، وذكر بكاءهن، فامره ان ينهاهن، فذهب ثم اتاه الثانية، لم يطعنه فقال انههن. فاتاه الثالثة قال والله غلبننا يا رسول الله فزعمت انه قال " فاحث في افواههن التراب ". فقلت ارغم الله انفك، لم تفعل ما امرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم تترك رسول الله صلى الله عليه وسلم من العناء
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے عاصم احول نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ جب قاریوں کی ایک جماعت شہید کر دی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ تک قنوت پڑھتے رہے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں سے زیادہ کبھی غمگین رہے ہوں۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا محمد بن فضيل، حدثنا عاصم الاحول، عن انس رضى الله عنه قال قنت رسول الله صلى الله عليه وسلم شهرا حين قتل القراء، فما رايت رسول الله صلى الله عليه وسلم حزن حزنا قط اشد منه
ہم سے بشر بن حکم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا ‘ کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے بتلایا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بچہ بیمار ہو گیا انہوں نے کہا کہ اس کا انتقال بھی ہو گیا۔ اس وقت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہ تھے۔ ان کی بیوی ( ام سلیم رضی اللہ عنہا ) نے جب دیکھا کہ بچے کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے کچھ کھانا تیار کیا اور بچے کو گھر کے ایک کونے میں لٹا دیا۔ جب ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے پوچھا کہ بچے کی طبیعت کیسی ہے؟ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اسے آرام مل گیا ہے اور میرا خیال ہے کہ اب وہ آرام ہی کر رہا ہو گا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ وہ صحیح کہہ رہی ہیں۔ ( اب بچہ اچھا ہے ) پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری اور جب صبح ہوئی تو غسل کیا لیکن جب باہر جانے کا ارادہ کیا تو بیوی ( ام سلیم رضی اللہ عنہا ) نے اطلاع دی کہ بچے کا انتقال ہو چکا ہے۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ سے ام سلیم رضی اللہ عنہا کا حال بیان کیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شاید اللہ تعالیٰ تم دونوں کو اس رات میں برکت عطا فرمائے گا۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ انصار کے ایک شخص نے بتایا کہ میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی انہیں بیوی سے نو بیٹے دیکھے جو سب کے سب قرآن کے عالم تھے۔
حدثنا بشر بن الحكم، حدثنا سفيان بن عيينة، اخبرنا اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، انه سمع انس بن مالك رضى الله عنه يقول اشتكى ابن لابي طلحة قال فمات وابو طلحة خارج، فلما رات امراته انه قد مات هيات شييا ونحته في جانب البيت، فلما جاء ابو طلحة قال كيف الغلام قالت قد هدات نفسه، وارجو ان يكون قد استراح. وظن ابو طلحة انها صادقة، قال فبات، فلما اصبح اغتسل، فلما اراد ان يخرج، اعلمته انه قد مات، فصلى مع النبي صلى الله عليه وسلم ثم اخبر النبي صلى الله عليه وسلم بما كان منهما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لعل الله ان يبارك لكما في ليلتكما ". قال سفيان فقال رجل من الانصار فرايت لهما تسعة اولاد كلهم قد قرا القران
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے ان سے ثابت نے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے نقل کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر تو وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ثابت، قال سمعت انسا رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الصبر عند الصدمة الاولى
ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حسان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے قریش نے جو حیان کے بیٹے ہیں، نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوسیف لوہار کے یہاں گئے۔ یہ ابراہیم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے رضی اللہ عنہ ) کو دودھ پلانے والی انا کے خاوند تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو گود میں لیا اور پیار کیا اور سونگھا۔ پھر اس کے بعد ہم ان کے یہاں پھر گئے۔ دیکھا کہ اس وقت ابراہیم رضی اللہ عنہ دم توڑ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں۔ تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ یا رسول اللہ! اور آپ بھی لوگوں کی طرح بے صبری کرنے لگے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ ابن عوف! یہ بے صبری نہیں یہ تو رحمت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ روئے اور فرمایا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر زبان سے ہم کہیں گے وہی جو ہمارے پروردگار کو پسند ہے اور اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں۔ اسی حدیث کو موسیٰ بن اسماعیل نے سلیمان بن مغیرہ سے ‘ ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثنا الحسن بن عبد العزيز، حدثنا يحيى بن حسان، حدثنا قريش هو ابن حيان عن ثابت، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال دخلنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم على ابي سيف القين وكان ظيرا لابراهيم عليه السلام فاخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم ابراهيم فقبله وشمه، ثم دخلنا عليه بعد ذلك، وابراهيم يجود بنفسه، فجعلت عينا رسول الله صلى الله عليه وسلم تذرفان. فقال له عبد الرحمن بن عوف رضى الله عنه وانت يا رسول الله فقال " يا ابن عوف انها رحمة ". ثم اتبعها باخرى فقال صلى الله عليه وسلم " ان العين تدمع، والقلب يحزن، ولا نقول الا ما يرضى ربنا، وانا بفراقك يا ابراهيم لمحزونون ". رواه موسى عن سليمان بن المغيرة عن ثابت عن انس رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن وہب نے کہا کہ مجھے خبر دی عمرو بن حارث نے ‘ انہیں سعید بن حارث انصاری نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کسی مرض میں مبتلا ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے عبدالرحمٰن بن عوف ‘ سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے تو تیمار داروں کے ہجوم میں انہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا وفات ہو گئی؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ان کے مرض کی شدت کو دیکھ کر ) رو پڑے۔ لوگوں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ سب بھی رونے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سنو! اللہ تعالیٰ آنکھوں سے آنسو نکلنے پر بھی عذاب نہیں کرے گا اور نہ دل کے غم پر۔ ہاں اس کا عذاب اس کی وجہ سے ہوتا ہے ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی طرف اشارہ کیا ( اور اگر اس زبان سے اچھی بات نکلے تو ) یہ اس کی رحمت کا بھی باعث بنتی ہے اور میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ و ماتم کی وجہ سے بھی عذاب ہوتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ میت پر ماتم کرنے پر ڈنڈے سے مارتے ‘ پتھر پھینکتے اور رونے والوں کے منہ میں مٹی جھونک دیتے۔
حدثنا اصبغ، عن ابن وهب، قال اخبرني عمرو، عن سعيد بن الحارث الانصاري، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال اشتكى سعد بن عبادة شكوى له فاتاه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده مع عبد الرحمن بن عوف وسعد بن ابي وقاص وعبد الله بن مسعود رضى الله عنهم فلما دخل عليه فوجده في غاشية اهله فقال " قد قضى ". قالوا لا يا رسول الله. فبكى النبي صلى الله عليه وسلم فلما راى القوم بكاء النبي صلى الله عليه وسلم بكوا فقال " الا تسمعون ان الله لا يعذب بدمع العين، ولا بحزن القلب، ولكن يعذب بهذا واشار الى لسانه او يرحم وان الميت يعذب ببكاء اهله عليه ". وكان عمر رضى الله عنه يضرب فيه بالعصا، ويرمي بالحجارة ويحثي بالتراب
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبوالوہاب ثقفی نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، کہا کہ مجھے عمرہ بنت عبدالرحمٰن انصاری نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ نے فرمایا کہ جب زید بن حارثہ ‘ جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے کہ غم کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نمایاں تھے میں دروازے کے ایک سوراخ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! جعفر کے گھر کی عورتیں نوحہ اور ماتم کر رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکنے کے لیے کہا۔ وہ صاحب گئے لیکن پھر واپس آ گئے اور کہا کہ وہ نہیں مانتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ روکنے کے لیے بھیجا۔ وہ گئے اور پھر واپس چلے آئے۔ کہا کہ بخدا وہ تو مجھ پر غالب آ گئی ہیں یا یہ کہا کہ ہم پر غالب آ گئی ہیں۔ شک محمد بن حوشب کو تھا۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ) میرا یقین یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے منہ میں مٹی جھونک دے۔ اس پر میری زبان سے نکلا کہ اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے تو نہ تو وہ کام کر سکا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا چھوڑتا ہے۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن حوشب، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا يحيى بن سعيد، قال اخبرتني عمرة، قالت سمعت عايشة رضى الله عنها تقول لما جاء قتل زيد بن حارثة وجعفر وعبد الله بن رواحة، جلس النبي صلى الله عليه وسلم يعرف فيه الحزن، وانا اطلع من شق الباب، فاتاه رجل فقال يا رسول الله ان نساء جعفر وذكر بكاءهن فامره بان ينهاهن، فذهب الرجل ثم اتى فقال قد نهيتهن، وذكر انهن لم يطعنه، فامره الثانية ان ينهاهن، فذهب، ثم اتى، فقال والله لقد غلبنني او غلبننا الشك من محمد بن حوشب فزعمت ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " فاحث في افواههن التراب ". فقلت ارغم الله انفك، فوالله ما انت بفاعل وما تركت رسول الله صلى الله عليه وسلم من العناء
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے محمد نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لیتے وقت ہم سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ ہم ( میت پر ) نوحہ نہیں کریں گی۔ لیکن اس اقرار کو پانچ عورتوں کے سوا اور کسی نے پورا نہیں کیا۔ یہ عورتیں ام سلیم ‘ ام علاء ‘ ابوسبرہ کی صاحبزادی جو معاذ کے گھر میں تھیں اور اس کے علاوہ دو عورتیں یا ( یہ کہا کہ ) ابوسبرہ کی صاحبزادی، معاذ کی بیوی اور ایک دوسری خاتون ( رضی اللہ عنہن ) ۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا حماد بن زيد، حدثنا ايوب، عن محمد، عن ام عطية رضى الله عنها قالت اخذ علينا النبي صلى الله عليه وسلم عند البيعة ان لا ننوح، فما وفت منا امراة غير خمس نسوة ام سليم وام العلاء وابنة ابي سبرة امراة معاذ وامراتين او ابنة ابي سبرة وامراة معاذ وامراة اخرى
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سالم نے ‘ ان سے ان کے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ‘ ان سے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور کھڑے رہو یہاں تک کہ جنازہ تم سے آگے نکل جائے۔ سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے سالم نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیں عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے خبر دی تھی۔ حمیدی نے یہ زیادتی کی ہے۔ ”یہاں تک کہ جنازہ آگے نکل جائے یا رکھ دیا جائے۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا الزهري، عن سالم، عن ابيه، عن عامر بن ربيعة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا رايتم الجنازة فقوموا حتى تخلفكم ". قال سفيان قال الزهري اخبرني سالم عن ابيه قال اخبرنا عامر بن ربيعة عن النبي صلى الله عليه وسلم. زاد الحميدي " حتى تخلفكم او توضع
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی جنازہ دیکھے تو اگر اس کے ساتھ نہیں چل رہا ہے تو کھڑا ہی ہو جائے تاآنکہ جنازہ آگے نکل جائے یا آگے جانے کی بجائے خود جنازہ رکھ دیا جائے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن عامر بن ربيعة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا راى احدكم جنازة فان لم يكن ماشيا معها فليقم حتى يخلفها، او تخلفه او توضع من قبل ان تخلفه
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ذئب نے ‘ ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ان کے والد نے کہ ہم ایک جنازہ میں شریک تھے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مروان کا ہاتھ پکڑا اور یہ دونوں صاحب جنازہ رکھے جانے سے پہلے بیٹھ گئے۔ اتنے میں ابوسعید رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور مروان کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اٹھو! اللہ کی قسم! یہ ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بولے کہ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، عن ابيه، قال كنا في جنازة فاخذ ابو هريرة رضى الله عنه بيد مروان فجلسا قبل ان توضع، فجاء ابو سعيد رضى الله عنه فاخذ بيد مروان فقال قم فوالله لقد علم هذا ان النبي صلى الله عليه وسلم نهانا عن ذلك. فقال ابو هريرة صدق
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے ابوسلمہ اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم لوگ جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ اور جو شخص جنازہ کے ساتھ چل رہا ہو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک جنازہ رکھ نہ دیا جائے۔
حدثنا مسلم يعني ابن ابراهيم حدثنا هشام، حدثنا يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا رايتم الجنازة فقوموا، فمن تبعها فلا يقعد حتى توضع
ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ہشام نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عبید اللہ بن مقسم نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ ہمارے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ پھر ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ تو یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم لوگ جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو۔
حدثنا معاذ بن فضالة، حدثنا هشام، عن يحيى، عن عبيد الله بن مقسم، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال مر بنا جنازة فقام لها النبي صلى الله عليه وسلم وقمنا به. فقلنا يا رسول الله، انها جنازة يهودي. قال " اذا رايتم الجنازة فقوموا
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا عمرو بن مرة، قال سمعت عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال كان سهل بن حنيف وقيس بن سعد قاعدين بالقادسية، فمروا عليهما بجنازة فقاما. فقيل لهما انها من اهل الارض، اى من اهل الذمة فقالا ان النبي صلى الله عليه وسلم مرت به جنازة فقام فقيل له انها جنازة يهودي. فقال " اليست نفسا ". وقال ابو حمزة عن الاعمش، عن عمرو، عن ابن ابي ليلى، قال كنت مع قيس وسهل رضى الله عنهما فقالا كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم. وقال زكرياء عن الشعبي عن ابن ابي ليلى كان ابو مسعود وقيس يقومان للجنازة
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا عمرو بن مرة، قال سمعت عبد الرحمن بن ابي ليلى، قال كان سهل بن حنيف وقيس بن سعد قاعدين بالقادسية، فمروا عليهما بجنازة فقاما. فقيل لهما انها من اهل الارض، اى من اهل الذمة فقالا ان النبي صلى الله عليه وسلم مرت به جنازة فقام فقيل له انها جنازة يهودي. فقال " اليست نفسا ". وقال ابو حمزة عن الاعمش، عن عمرو، عن ابن ابي ليلى، قال كنت مع قيس وسهل رضى الله عنهما فقالا كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم. وقال زكرياء عن الشعبي عن ابن ابي ليلى كان ابو مسعود وقيس يقومان للجنازة
ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ کیسان نے کہ انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور مرد اسے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتا ہے کہ مجھے آگے لے چلو۔ لیکن اگر نیک نہیں تو کہتا ہے ہائے بربادی! مجھے کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس آواز کو انسان کے سوا تمام اللہ کی مخلوق سنتی ہے۔ اگر انسان کہیں سن پائے تو بیہوش ہو جائے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، حدثنا الليث، عن سعيد المقبري، عن ابيه، انه سمع ابا سعيد الخدري رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا وضعت الجنازة واحتملها الرجال على اعناقهم، فان كانت صالحة قالت قدموني. وان كانت غير صالحة قالت يا ويلها اين يذهبون بها يسمع صوتها كل شىء الا الانسان، ولو سمعه صعق
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم نے زہری سے سن کر یہ حدیث یاد کی ‘ انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنازہ لے کر جلد چلا کرو کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو تم اس کو بھلائی کی طرف نزدیک کر رہے ہو اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتارتے ہو۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال حفظناه من الزهري عن سعيد بن المسيب، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اسرعوا بالجنازة، فان تك صالحة فخير تقدمونها {اليه}، وان يك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابكم
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے بیان کیا۔ ان سے ان کے والد (کیسان) نے اور انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ جب میت چارپائی پر رکھی جاتی ہے اور لوگ اسے کاندھوں پر اٹھاتے ہیں اس وقت اگر وہ مرنے والا نیک ہوتا ہے تو کہتا ہے کہ مجھے جلد آگے بڑھائے چلو۔ لیکن اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے کہ ہائے بربادی! مجھے کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس کی یہ آواز انسان کے سوا ہر اللہ کہ مخلوق سنتی ہے۔ کہیں اگر انسان سن پائے تو بیہوش ہو جائے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، حدثنا الليث، حدثنا سعيد، عن ابيه، انه سمع ابا سعيد الخدري رضى الله عنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اذا وضعت الجنازة فاحتملها الرجال على اعناقهم، فان كانت صالحة قالت قدموني. وان كانت غير صالحة قالت لاهلها يا ويلها اين يذهبون بها يسمع صوتها كل شىء الا الانسان، ولو سمع الانسان لصعق