Loading...

Loading...
کتب
۱۵۸ احادیث
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح دعا کرتے تھے «اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر، ومن عذاب النار، ومن فتنة المحيا والممات، ومن فتنة المسيح الدجال» ”اے اللہ! میں قبر کے عذاب سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور دوزخ کے عذاب سے اور زندگی اور موت کی آزمائشوں سے اور کانے دجال کی بلا سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، حدثنا يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو " اللهم اني اعوذ بك من عذاب القبر، ومن عذاب النار، ومن فتنة المحيا والممات، ومن فتنة المسيح الدجال
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے طاؤس نے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر دو قبروں پر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان دونوں کے مردوں پر عذاب ہو رہا ہے اور یہ بھی نہیں کہ کسی بڑی اہم بات پر ہو رہا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں! ان میں ایک شخص تو چغل خوری کیا کرتا تھا اور دوسرا پیشاب سے بچنے کے لیے احتیاط نہیں کرتا تھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہری ٹہنی لی اور اس کے دو ٹکڑے کر کے دونوں کی قبروں پر گاڑ دیا اور فرمایا کہ شاید جب تک یہ خشک نہ ہوں ان کا عذاب کم ہو جائے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن الاعمش، عن مجاهد، عن طاوس، قال ابن عباس رضى الله عنهما مر النبي صلى الله عليه وسلم على قبرين فقال " انهما ليعذبان، وما يعذبان من كبير ثم قال بلى اما احدهما فكان يسعى بالنميمة، واما احدهما فكان لا يستتر من بوله ". قال ثم اخذ عودا رطبا فكسره باثنتين ثم غرز كل واحد منهما على قبر، ثم قال " لعله يخفف عنهما ما لم ييبسا
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور جو دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان احدكم اذا مات عرض عليه مقعده بالغداة والعشي، ان كان من اهل الجنة فمن اهل الجنة، وان كان من اهل النار فمن اهل النار، فيقال هذا مقعدك حتى يبعثك الله يوم القيامة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن ابی سعید نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے باپ نے بیان کیا ‘ ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب جنازہ تیار ہو جاتا ہے پھر مرد اس کو اپنی گردنوں پر اٹھا لیتے ہیں تو اگر وہ مردہ نیک ہو تو کہتا ہے کہ ہاں آگے لیے چلو مجھے بڑھائے چلو اور اگر نیک نہیں ہوتا تو کہتا ہے۔ ہائے رے خرابی! میرا جنازہ کہاں لیے جا رہے ہو۔ اس آواز کو انسان کے سوا تمام اللہ کی مخلوق سنتی ہے۔ اگر کہیں انسان سن پائیں تو بیہوش ہو جائیں۔
حدثنا قتيبة، حدثنا الليث، عن سعيد بن ابي سعيد، عن ابيه، انه سمع ابا سعيد الخدري رضى الله عنه يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا وضعت الجنازة فاحتملها الرجال على اعناقهم، فان كانت صالحة قالت قدموني قدموني. وان كانت غير صالحة قالت يا ويلها اين يذهبون بها. يسمع صوتها كل شىء الا الانسان، ولو سمعها الانسان لصعق
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مر جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و رحمت سے جو ان بچوں پر کرے گا ‘ ان کو بہشت میں لے جائے گا۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، حدثنا ابن علية، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ما من الناس مسلم يموت له ثلاثة من الولد لم يبلغوا الحنث الا ادخله الله الجنة بفضل رحمته اياهم
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے فرمایا کہ جب ابراہیم ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ) کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہشت میں ان کے لیے ایک دودھ پلانے والی ہے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، انه سمع البراء رضى الله عنه قال لما توفي ابراهيم عليه السلام قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان له مرضعا في الجنة
ہم سے حبان بن موسیٰ مروزی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں ابوبشر جعفر نے ‘ انہیں سعید بن جبیر نے ‘ ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے نابالغ بچوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جب انہیں پیدا کیا تھا اسی وقت وہ خوب جانتا تھا کہ یہ کیا عمل کریں گے۔
حدثنا حبان، اخبرنا عبد الله، اخبرنا شعبة، عن ابي بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهم قال سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اولاد المشركين فقال " الله اذ خلقهم اعلم بما كانوا عاملين
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ مجھے عطاء بن یزید لیثی نے خبر دی ‘ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکوں کے نابالغ بچوں کے بارے میں پوچھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے جو بھی وہ عمل کرنے والے ہوئے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني عطاء بن يزيد الليثي، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه يقول سيل النبي صلى الله عليه وسلم عن ذراري المشركين فقال " الله اعلم بما كانوا عاملين
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ذئب نے ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر بچہ کی پیدائش فطرت پر ہوتی ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں بالکل اس طرح جیسے جانور کے بچے صحیح سالم ہوتے ہیں۔ کیا تم نے ( پیدائشی طور پر ) کوئی ان کے جسم کا حصہ کٹا ہوا دیکھا ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " كل مولود يولد على الفطرة، فابواه يهودانه او ينصرانه او يمجسانه، كمثل البهيمة تنتج البهيمة، هل ترى فيها جدعاء
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے ابورجاء عمران بن تمیم نے بیان کیا اور ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ( فجر ) پڑھنے کے بعد ( عموماً ) ہماری طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے اور پوچھتے کہ آج رات کسی نے کوئی خواب دیکھا ہو تو بیان کرو۔ راوی نے کہا کہ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو اسے وہ بیان کر دیتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی تعبیر اللہ کو جو منظور ہوتی بیان فرماتے۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معمول کے مطابق ہم سے دریافت فرمایا کیا آج رات کسی نے تم میں کوئی خواب دیکھا ہے؟ ہم نے عرض کی کہ کسی نے نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے کہ دو آدمی میرے پاس آئے۔ انہوں نے میرے ہاتھ تھام لیے اور وہ مجھے ارض مقدس کی طرف لے گئے۔ ( اور وہاں سے عالم بالا کی مجھ کو سیر کرائی ) وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص تو بیٹھا ہوا ہے اور ایک شخص کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں ( امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ) ہمارے بعض اصحاب نے ( غالباً عباس بن فضیل اسقاطی نے موسیٰ بن اسماعیل سے یوں روایت کیا ہے ) لوہے کا آنکس تھا جسے وہ بیٹھنے والے کے جبڑے میں ڈال کر اس کے سر کے پیچھے تک چیر دیتا پھر دوسرے جبڑے کے ساتھ بھی اسی طرح کرتا تھا۔ اس دوران میں اس کا پہلا جبڑا صحیح اور اپنی اصلی حالت پر آ جاتا اور پھر پہلے کی طرح وہ اسے دوبارہ چیرتا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ میرے ساتھ کے دونوں آدمیوں نے کہا کہ آگے چلیں۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے تو ایک ایسے شخص کے پاس آئے جو سر کے بل لیٹا ہوا تھا اور دوسرا شخص ایک بڑا سا پتھر لیے اس کے سر پر کھڑا تھا۔ اس پتھر سے وہ لیٹے ہوئے شخص کے سر کو کچل دیتا تھا۔ جب وہ اس کے سر پر پتھر مارتا تو سر پر لگ کر وہ پتھر دور چلا جاتا اور وہ اسے جا کر اٹھا لاتا۔ ابھی پتھر لے کر واپس بھی نہیں آتا تھا کہ سر دوبارہ درست ہو جاتا۔ بالکل ویسا ہی جیسا پہلے تھا۔ واپس آ کر وہ پھر اسے مارتا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ ان دونوں نے جواب دیا کہ ابھی اور آگے چلیں۔ چنانچہ ہم آگے بڑھے تو ایک تنور جیسے گڑھے کی طرف چلے۔ جس کے اوپر کا حصہ تو تنگ تھا لیکن نیچے سے خوب فراخ۔ نیچے آگ بھڑک رہی تھی۔ جب آگ کے شعلے بھڑک کر اوپر کو اٹھتے تو اس میں جلنے والے لوگ بھی اوپر اٹھ آتے اور ایسا معلوم ہوتا کہ اب وہ باہر نکل جائیں گے لیکن جب شعلے دب جاتے تو وہ لوگ بھی نیچے چلے جاتے۔ اس تنور میں ننگے مرد اور عورتیں تھیں۔ میں نے اس موقع پر بھی پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ لیکن اس مرتبہ بھی جواب یہی ملا کہا کہ ابھی اور آگے چلیں ‘ ہم آگے چلے۔ اب ہم خون کی ایک نہر کے اوپر تھے نہر کے اندر ایک شخص کھڑا تھا اور اس کے بیچ میں ( یزید بن ہارون اور وہب بن جریر نے جریر بن حازم کے واسطہ سے «وسطه النهر» کے بجائے «شط النهر» نہر کے کنارے کے الفاظ نقل کئے ہیں ) ایک شخص تھا۔ جس کے سامنے پتھر رکھا ہوا تھا۔ نہر کا آدمی جب باہر نکلنا چاہتا تو پتھر والا شخص اس کے منہ پر اتنی زور سے پتھر مارتا کہ وہ اپنی پہلی جگہ پر چلا جاتا اور اسی طرح جب بھی وہ نکلنے کی کوشش کرتا وہ شخص اس کے منہ پر پتھر اتنی ہی زور سے پھر مارتا کہ وہ اپنی اصلی جگہ پر نہر میں چلا جاتا۔ میں نے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ابھی اور آگے چلیں۔ چنانچہ ہم اور آگے بڑھے اور ایک ہرے بھرے باغ میں آئے۔ جس میں ایک بہت بڑا درخت تھا اس درخت کی جڑ میں ایک بڑی عمر والے بزرگ بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے ساتھ کچھ بچے بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ درخت سے قریب ہی ایک شخص اپنے آگے آگ سلگا رہا تھا۔ وہ میرے دونوں ساتھی مجھے لے کر اس درخت پر چڑھے۔ اس طرح وہ مجھے ایک ایسے گھر میں لے گئے کہ اس سے زیادہ حسین و خوبصورت اور بابرکت گھر میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس گھر میں بوڑھے، جوان ‘ عورتیں اور بچے ( سب ہی قسم کے لوگ ) تھے۔ میرے ساتھی مجھے اس گھر سے نکال کر پھر ایک اور درخت پر چڑھا کر مجھے ایک اور دوسرے گھر میں لے گئے جو نہایت خوبصورت اور بہتر تھا۔ اس میں بھی بہت سے بوڑھے اور جوان تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا تم لوگوں نے مجھے رات بھر خوب سیر کرائی۔ کیا جو کچھ میں نے دیکھا اس کی تفصیل بھی کچھ بتلاؤ گے؟ انہوں نے کہا ہاں وہ جو آپ نے دیکھا تھا اس آدمی کا جبڑا لوہے کے آنکس سے پھاڑا جا رہا تھا تو وہ جھوٹا آدمی تھا جو جھوٹی باتیں بیان کیا کرتا تھا۔ اس سے وہ جھوٹی باتیں دوسرے لوگ سنتے۔ اس طرح ایک جھوٹی بات دور دور تک پھیل جایا کرتی تھی۔ اسے قیامت تک یہی عذاب ہوتا رہے گا۔ جس شخص کو آپ نے دیکھا کہ اس کا سر کچلا جا رہا تھا تو وہ ایک ایسا انسان تھا جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ رات کو پڑا سوتا رہتا اور دن میں اس پر عمل نہیں کرتا تھا۔ اسے بھی یہ عذاب قیامت تک ہوتا رہے گا اور جنہیں آپ نے تنور میں دیکھا تو وہ زنا کار تھے۔ اور جس کو آپ نے نہر میں دیکھا وہ سود خوار تھا اور وہ بزرگ جو درخت کی جڑ میں بیٹھے ہوئے تھے وہ ابراہیم علیہ السلام تھے اور ان کے اردگرد والے بچے ‘ لوگوں کی نابالغ اولاد تھی اور جو شخص آگ جلا رہا تھا وہ دوزخ کا داروغہ تھا اور وہ گھر جس میں آپ پہلے داخل ہوئے جنت میں عام مومنوں کا گھر تھا اور یہ گھر جس میں آپ اب کھڑے ہیں ‘ یہ شہداء کا گھر ہے اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میرے ساتھ میکائیکل ہیں۔ اچھا اب اپنا سر اٹھاؤ میں نے جو سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے اوپر بادل کی طرح کوئی چیز ہے۔ میرے ساتھیوں نے کہا کہ یہ آپ کا مکان ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ پھر مجھے اپنے مکان میں جانے دو۔ انہوں نے کہا کہ ابھی آپ کی عمر باقی ہے جو آپ نے پوری نہیں کی اگر آپ وہ پوری کر لیتے تو اپنے مکان میں آ جاتے۔
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ میں ( والد ماجد ) ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ( ان کی مرض الموت میں ) حاضر ہوئی تو آپ نے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تم لوگوں نے کتنے کپڑوں کا کفن دیا تھا؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تین سفید دھلے ہوئے کپڑوں کا۔ آپ کو کفن میں قمیض اور عمامہ نہیں دیا گیا تھا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ بھی پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کس دن ہوئی تھی۔ انہوں نے جواب دیا کہ پیر کے دن۔ پھر پوچھا کہ آج کون سا دن ہے؟ انہوں نے کہا آج پیر کا دن ہے۔ آپ نے فرمایا کہ پھر مجھے بھی امید ہے کہ اب سے رات تک میں بھی رخصت ہو جاؤں گا۔ اس کے بعد آپ نے اپنا کپڑا دیکھا جسے مرض کے دوران میں آپ پہن رہے تھے۔ اس کپڑے پر زعفران کا دھبہ لگا ہوا تھا۔ آپ نے فرمایا میرے اس کپڑے کو دھو لینا اور اس کے ساتھ دو اور ملا لینا پھر مجھے کفن انہیں کا دینا۔ میں نے کہا کہ یہ تو پرانا ہے۔ فرمایا کہ زندہ آدمی نئے ( کپڑے ) کا مردے سے زیادہ مستحق ہے ‘ یہ تو پیپ اور خون کی نذر ہو جائے گا۔ پھر منگل کی رات کا کچھ حصہ گزرنے پر آپ کا انتقال ہوا اور صبح ہونے سے پہلے آپ کو دفن کیا گیا۔
حدثنا معلى بن اسد، حدثنا وهيب، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت دخلت على ابي بكر رضى الله عنه فقال في كم كفنتم النبي صلى الله عليه وسلم قالت في ثلاثة اثواب بيض سحولية، ليس فيها قميص ولا عمامة. وقال لها في اى يوم توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم قالت يوم الاثنين. قال فاى يوم هذا قالت يوم الاثنين. قال ارجو فيما بيني وبين الليل. فنظر الى ثوب عليه كان يمرض فيه، به ردع من زعفران فقال اغسلوا ثوبي هذا، وزيدوا عليه ثوبين فكفنوني فيها. قلت ان هذا خلق. قال ان الحى احق بالجديد من الميت، انما هو للمهلة. فلم يتوف حتى امسى من ليلة الثلاثاء ودفن قبل ان يصبح
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا مجھے ہشام بن عروہ نے خبر دی ‘ انہیں ان کے باپ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور میرا خیال ہے کہ اگر انہیں بات کرنے کا موقع ملتا تو وہ کچھ نہ کچھ خیرات کرتیں۔ اگر میں ان کی طرف سے کچھ خیرات کر دوں تو کیا انہیں اس کا ثواب ملے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں ملے گا۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، حدثنا محمد بن جعفر، قال اخبرني هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها . ان رجلا، قال للنبي صلى الله عليه وسلم ان امي افتلتت نفسها، واظنها لو تكلمت تصدقت، فهل لها اجر ان تصدقت عنها قال " نعم
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا اور ان سے ہشام بن عروہ نے (دوسری سند۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا) اور مجھ سے محمد بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابومروان یحییٰ بن ابی زکریا نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں گویا اجازت لینا چاہتے تھے ( دریافت فرماتے ) آج میری باری کن کے یہاں ہے۔ کل کن کے یہاں ہو گی؟ عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن کے متعلق خیال فرماتے تھے کہ بہت دن بعد آئے گی۔ چنانچہ جب میری باری آئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی روح اس حال میں قبض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے سینے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے اور میرے ہی گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دفن کئے گئے۔
حدثنا اسماعيل، حدثني سليمان، عن هشام، وحدثني محمد بن حرب، حدثنا ابو مروان، يحيى بن ابي زكرياء عن هشام، عن عروة، عن عايشة، قالت ان كان رسول الله صلى الله عليه وسلم ليتعذر في مرضه " اين انا اليوم اين انا غدا " استبطاء ليوم عايشة، فلما كان يومي قبضه الله بين سحري ونحري، ودفن في بيتي
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہلال بن حمید نے ‘ ان سے عروہ نے اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس مرض کے موقع پر فرمایا تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانبر نہ ہو سکے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی یہود و نصاریٰ پر لعنت ہو۔ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا۔ اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر بھی کھلی رہنے دی جاتی۔ لیکن ڈر اس کا ہے کہ کہیں اسے بھی لوگ سجدہ گاہ نہ بنا لیں۔ اور ہلال سے روایت ہے کہ عروہ بن زبیر نے میری کنیت ( ابوعوانہ یعنی عوانہ کے والد ) رکھ دی تھی ورنہ میرے کوئی اولاد نہ تھی۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابو عوانة، عن هلال، عن عروة، عن عايشة رضى الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي لم يقم منه " لعن الله اليهود والنصارى، اتخذوا قبور انبيايهم مساجد ". لولا ذلك ابرز قبره، غير انه خشي او خشي ان يتخذ مسجدا. وعن هلال قال كناني عروة بن الزبير ولم يولد لي
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا ابو بكر بن عياش، عن سفيان التمار، انه حدثه انه، راى قبر النبي صلى الله عليه وسلم مسنما
حدثنا فروة، حدثنا علي، عن هشام بن عروة، عن ابيه، لما سقط عليهم الحايط في زمان الوليد بن عبد الملك اخذوا في بنايه، فبدت لهم قدم ففزعوا، وظنوا انها قدم النبي صلى الله عليه وسلم فما وجدوا احدا يعلم ذلك حتى قال لهم عروة لا والله ما هي قدم النبي صلى الله عليه وسلم ما هي الا قدم عمر رضى الله عنه
ہشام اپنے والد سے اور وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو وصیت کی تھی کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے ساتھ دفن نہ کرنا۔ بلکہ میری دوسری سوکنوں کے ساتھ بقیع غرقد میں مجھے دفن کرنا۔ میں یہ نہیں چاہتی کہ ان کے ساتھ میری بھی تعریف ہوا کرے۔
وعن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها انها اوصت عبد الله بن الزبير رضى الله عنهما لا تدفني معهم وادفني مع صواحبي بالبقيع، لا ازكى به ابدا
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا کہ میری موجودگی میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ اے عبداللہ! ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا اور کہہ کہ عمر بن خطاب نے آپ کو سلام کہا ہے اور پھر ان سے معلوم کرنا کہ کیا مجھے میرے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی آپ کی طرف سے اجازت مل سکتی ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے اس جگہ کو اپنے لیے پسند کر رکھا تھا لیکن آج میں اپنے پر عمر رضی اللہ عنہ کو ترجیح دیتی ہوں۔ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کیا پیغام لائے ہو؟ کہا کہ امیرالمؤمنین انہوں نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر بولے کہ اس جگہ دفن ہونے سے زیادہ مجھے اور کوئی چیز عزیز نہیں تھی۔ لیکن جب میری روح قبض ہو جائے تو مجھے اٹھا کر لے جانا اور پھر دوبارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو میرا سلام پہنچا کر ان سے کہنا کہ عمر نے آپ سے اجازت چاہی ہے۔ اگر اس وقت بھی وہ اجازت دے دیں تو مجھے وہیں دفن کر دینا ‘ ورنہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔ میں اس امر خلافت کا ان چند صحابہ سے زیادہ اور کسی کو مستحق نہیں سمجھتا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت تک خوش اور راضی رہے۔ وہ حضرات میرے بعد جسے بھی خلیفہ بنائیں ‘ خلیفہ وہی ہو گا اور تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اپنے خلیفہ کی باتیں توجہ سے سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ آپ نے اس موقع پر عثمان ‘ علی ‘ طلحہ ‘ زبیر ‘ عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے نام لیے۔ اتنے میں ایک انصاری نوجوان داخل ہوا اور کہا کہ اے امیرالمؤمنین آپ کو بشارت ہو ‘ اللہ عزوجل کی طرف سے ‘ آپ کا اسلام میں پہلے داخل ہونے کی وجہ سے جو مرتبہ تھا وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے انصاف کیا۔ پھر آپ نے شہادت پائی۔ عمر رضی اللہ عنہ بولے میرے بھائی کے بیٹے! کاش ان کی وجہ سے میں برابر چھوٹ جاؤں۔ نہ مجھے کوئی عذاب ہو اور نہ کوئی ثواب۔ ہاں میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ مہاجرین اولین کے ساتھ اچھا برتاو رکھے ‘ ان کے حقوق پہچانے اور ان کی عزت کی حفاظت کرے اور میں اسے انصار کے بارے میں بھی اچھا برتاو رکھنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان والوں کو اپنے گھروں میں جگہ دی۔ ( میری وصیت ہے کہ ) ان کے اچھے لوگوں کے ساتھ بھلائی کی جائے اور ان میں جو برے ہوں ان سے درگذر کیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی جو اللہ اور رسول کی ذمہ داری ہے ( یعنی غیر مسلموں کی جو اسلامی حکومت کے تحت زندگی گذارتے ہیں ) کہ ان سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔ انہیں بچا کر لڑا جائے اور طاقت سے زیادہ ان پر کوئی بار نہ ڈالا جائے۔
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے مجاہد نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ مردوں کو برا نہ کہو کیونکہ انہوں نے جیسا عمل کیا اس کا بدلہ پا لیا۔ اس روایت کی متابعت علی بن جعد ‘ محمد بن عرعرہ اور ابن ابی عدی نے شعبہ سے کی ہے۔ اور اس کی روایت عبداللہ بن عبدالقدوس نے اعمش سے اور محمد بن انس نے بھی اعمش سے کی ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن الاعمش، عن مجاهد، عن عايشة رضى الله عنها قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تسبوا الاموات فانهم قد افضوا الى ما قدموا ". ورواه عبد الله بن عبد القدوس عن الاعمش، ومحمد بن انس عن الاعمش. تابعه علي بن الجعد وابن عرعرة وابن ابي عدي عن شعبة
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا اعمش سے ‘ انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن مرہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیاکہ ابولہب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ سارے دن تجھ پر بربادی ہو۔ اس پر یہ آیت اتری «تبت يدا أبي لهب وتب» یعنی ٹوٹ گئے ہاتھ ابولہب کے اور وہ خود ہی برباد ہو گیا۔
حدثنا عمر بن حفص، حدثنا ابي، حدثنا الاعمش، حدثني عمرو بن مرة، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال قال ابو لهب عليه لعنة الله للنبي صلى الله عليه وسلم تبا لك ساير اليوم. فنزلت {تبت يدا ابي لهب وتب}
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا جرير بن حازم، حدثنا ابو رجاء، عن سمرة بن جندب، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا صلى صلاة اقبل علينا بوجهه فقال " من راى منكم الليلة رويا ". قال فان راى احد قصها، فيقول ما شاء الله، فسالنا يوما، فقال " هل راى احد منكم رويا ". قلنا لا. قال " لكني رايت الليلة رجلين اتياني فاخذا بيدي، فاخرجاني الى الارض المقدسة، فاذا رجل جالس، ورجل قايم بيده كلوب من حديد قال بعض اصحابنا عن موسى انه يدخل ذلك الكلوب في شدقه، حتى يبلغ قفاه، ثم يفعل بشدقه الاخر مثل ذلك، ويلتيم شدقه هذا، فيعود فيصنع مثله. قلت ما هذا قالا انطلق. فانطلقنا حتى اتينا على رجل مضطجع على قفاه، ورجل قايم على راسه بفهر او صخرة، فيشدخ به راسه، فاذا ضربه تدهده الحجر، فانطلق اليه لياخذه، فلا يرجع الى هذا حتى يلتيم راسه، وعاد راسه كما هو، فعاد اليه فضربه، قلت من هذا قالا انطلق. فانطلقنا الى ثقب مثل التنور، اعلاه ضيق واسفله واسع، يتوقد تحته نارا، فاذا اقترب ارتفعوا حتى كاد ان يخرجوا، فاذا خمدت رجعوا فيها، وفيها رجال ونساء عراة. فقلت من هذا قالا انطلق. فانطلقنا حتى اتينا على نهر من دم، فيه رجل قايم على وسط النهر رجل بين يديه حجارة، فاقبل الرجل الذي في النهر، فاذا اراد ان يخرج رمى الرجل بحجر في فيه، فرده حيث كان، فجعل كلما جاء ليخرج رمى في فيه بحجر، فيرجع كما كان. فقلت ما هذا قالا انطلق. فانطلقنا حتى انتهينا الى روضة خضراء، فيها شجرة عظيمة، وفي اصلها شيخ وصبيان، واذا رجل قريب من الشجرة بين يديه نار يوقدها، فصعدا بي في الشجرة، وادخلاني دارا لم ار قط احسن منها، فيها رجال شيوخ وشباب، ونساء وصبيان، ثم اخرجاني منها فصعدا بي الشجرة فادخلاني دارا هي احسن وافضل، فيها شيوخ وشباب. قلت طوفتماني الليلة، فاخبراني عما رايت. قالا نعم، اما الذي رايته يشق شدقه فكذاب يحدث بالكذبة، فتحمل عنه حتى تبلغ الافاق، فيصنع به الى يوم القيامة. والذي رايته يشدخ راسه فرجل علمه الله القران، فنام عنه بالليل، ولم يعمل فيه بالنهار، يفعل به الى يوم القيامة. والذي رايته في الثقب فهم الزناة. والذي رايته في النهر اكلو الربا. والشيخ في اصل الشجرة ابراهيم عليه السلام والصبيان حوله فاولاد الناس، والذي يوقد النار مالك خازن النار. والدار الاولى التي دخلت دار عامة المومنين، واما هذه الدار فدار الشهداء، وانا جبريل، وهذا ميكاييل، فارفع راسك، فرفعت راسي فاذا فوقي مثل السحاب. قالا ذاك منزلك. قلت دعاني ادخل منزلي. قالا انه بقي لك عمر لم تستكمله، فلو استكملت اتيت منزلك
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير بن عبد الحميد، حدثنا حصين بن عبد الرحمن، عن عمرو بن ميمون الاودي، قال رايت عمر بن الخطاب رضى الله عنه قال يا عبد الله بن عمر، اذهب الى ام المومنين عايشة رضى الله عنها فقل يقرا عمر بن الخطاب عليك السلام، ثم سلها ان ادفن مع صاحبى. قالت كنت اريده لنفسي، فلاوثرنه اليوم على نفسي. فلما اقبل قال له ما لديك قال اذنت لك يا امير المومنين. قال ما كان شىء اهم الى من ذلك المضجع، فاذا قبضت فاحملوني ثم سلموا ثم قل يستاذن عمر بن الخطاب. فان اذنت لي فادفنوني، والا فردوني الى مقابر المسلمين، اني لا اعلم احدا احق بهذا الامر من هولاء النفر الذين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض، فمن استخلفوا بعدي فهو الخليفة، فاسمعوا له واطيعوا. فسمى عثمان وعليا وطلحة والزبير وعبد الرحمن بن عوف وسعد بن ابي وقاص، وولج عليه شاب من الانصار فقال ابشر يا امير المومنين ببشرى الله، كان لك من القدم في الاسلام ما قد علمت، ثم استخلفت فعدلت، ثم الشهادة بعد هذا كله. فقال ليتني يا ابن اخي وذلك كفافا لا على ولا لي اوصي الخليفة من بعدي بالمهاجرين الاولين خيرا، ان يعرف لهم حقهم، وان يحفظ لهم حرمتهم، واوصيه بالانصار خيرا الذين تبوءوا الدار والايمان ان يقبل من محسنهم، ويعفى عن مسييهم، واوصيه بذمة الله وذمة رسوله صلى الله عليه وسلم ان يوفى لهم بعهدهم، وان يقاتل من ورايهم، وان لا يكلفوا فوق طاقتهم