Loading...

Loading...
کتب
۴۲ احادیث
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں شعیب نے زہری سے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ ایک موٹے ریشمی کپڑے کا چغہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جو بازار میں بک رہا تھا کہنے لگے: یا رسول اللہ! آپ اسے خرید لیجئے اور عید اور وفود کی پذیرائی کے لیے اسے پہن کر زینت فرمایا کیجئے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو وہ پہنے گا جس کا ( آخرت میں ) کوئی حصہ نہیں۔ اس کے بعد جب تک اللہ نے چاہا عمر رہی پھر ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ان کے پاس ایک ریشمی چغہ تحفہ میں بھیجا۔ عمر رضی اللہ عنہ اسے لیے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! آپ نے تو یہ فرمایا کہ اس کو وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں پھر آپ نے یہ میرے پاس کیوں بھیجا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تیرے پہننے کو نہیں بھیجا بلکہ اس لیے کہ تم اسے بیچ کر اس کی قیمت اپنے کام میں لاؤ۔
حدثنا ابو اليمان، قال اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني سالم بن عبد الله، ان عبد الله بن عمر، قال اخذ عمر جبة من استبرق تباع في السوق، فاخذها فاتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله ابتع هذه تجمل بها للعيد والوفود. فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " انما هذه لباس من لا خلاق له ". فلبث عمر ما شاء الله ان يلبث، ثم ارسل اليه رسول الله صلى الله عليه وسلم بجبة ديباج، فاقبل بها عمر، فاتى بها رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله انك قلت " انما هذه لباس من لا خلاق له ". وارسلت الى بهذه الجبة فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " تبيعها او تصيب بها حاجتك
حدثنا احمد، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرنا عمرو، ان محمد بن عبد الرحمن الاسدي، حدثه عن عروة، عن عايشة، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندي جاريتان تغنيان بغناء بعاث، فاضطجع على الفراش وحول وجهه، ودخل ابو بكر فانتهرني وقال مزمارة الشيطان عند النبي صلى الله عليه وسلم فاقبل عليه رسول الله عليه السلام فقال " دعهما " فلما غفل غمزتهما فخرجتا. وكان يوم عيد يلعب السودان بالدرق والحراب، فاما سالت النبي صلى الله عليه وسلم واما قال " تشتهين تنظرين ". فقلت نعم. فاقامني وراءه خدي على خده، وهو يقول " دونكم يا بني ارفدة ". حتى اذا مللت قال " حسبك ". قلت نعم. قال " فاذهبي
حدثنا احمد، قال حدثنا ابن وهب، قال اخبرنا عمرو، ان محمد بن عبد الرحمن الاسدي، حدثه عن عروة، عن عايشة، قالت دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وعندي جاريتان تغنيان بغناء بعاث، فاضطجع على الفراش وحول وجهه، ودخل ابو بكر فانتهرني وقال مزمارة الشيطان عند النبي صلى الله عليه وسلم فاقبل عليه رسول الله عليه السلام فقال " دعهما " فلما غفل غمزتهما فخرجتا. وكان يوم عيد يلعب السودان بالدرق والحراب، فاما سالت النبي صلى الله عليه وسلم واما قال " تشتهين تنظرين ". فقلت نعم. فاقامني وراءه خدي على خده، وهو يقول " دونكم يا بني ارفدة ". حتى اذا مللت قال " حسبك ". قلت نعم. قال " فاذهبي
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہیں زبید بن حارث نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلا کام جو ہم آج کے دن ( عید الاضحیٰ ) میں کرتے ہیں، یہ ہے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں پھر واپس آ کر قربانی کریں۔ جس نے اس طرح کیا وہ ہمارے طریق پر چلا۔
حدثنا حجاج، قال حدثنا شعبة، قال اخبرني زبيد، قال سمعت الشعبي، عن البراء، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يخطب فقال " ان اول ما نبدا من يومنا هذا ان نصلي، ثم نرجع فننحر، فمن فعل فقد اصاب سنتنا
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ (عروہ بن زبیر) نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے، آپ نے بتلایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں وہ اشعار گا رہی تھیں جو انصار نے بعاث کی جنگ کے موقع پر کہے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ گانے والیاں نہیں تھیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں یہ شیطانی باجے اور یہ عید کا دن تھا آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے ابوبکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور آج یہ ہماری عید ہے۔
حدثنا عبيد بن اسماعيل، قال حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت دخل ابو بكر وعندي جاريتان من جواري الانصار تغنيان بما تقاولت الانصار يوم بعاث قالت وليستا بمغنيتين فقال ابو بكر امزامير الشيطان في بيت رسول الله صلى الله عليه وسلم وذلك في يوم عيد. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا ابا بكر ان لكل قوم عيدا، وهذا عيدنا
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا کہ ہم کو سعید بن سلیمان نے خبر دی کہ ہمیں ہشیم بن بشیر نے خبر دی، کہا کہ ہمیں عبداللہ بن ابی بکر بن انس نے خبر دی اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے، آپ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نہ نکلتے جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند کھجوریں نہ کھا لیتے اور مرجی بن رجاء نے کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر یہی حدیث بیان کی کہ آپ طاق عدد کھجوریں کھاتے تھے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا سعيد بن سليمان، قال حدثنا هشيم، قال اخبرنا عبيد الله بن ابي بكر بن انس، عن انس، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يغدو يوم الفطر حتى ياكل تمرات. وقال مرجى بن رجاء حدثني عبيد الله قال حدثني انس عن النبي صلى الله عليه وسلم وياكلهن وترا
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے ایوب سختیانی سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص نماز سے پہلے قربانی کر دے اسے دوبارہ کرنی چاہیے۔ اس پر ایک شخص ( ابوبردہ ) نے کھڑے ہو کر کہا کہ یہ ایسا دن ہے جس میں گوشت کی خواہش زیادہ ہوتی ہے اور اس نے اپنے پڑوسیوں کی تنگی کا حال بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سچا سمجھا اس شخص نے کہا کہ میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے جو گوشت کی دو بکریوں سے بھی مجھے زیادہ پیاری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اسے اجازت دے دی کہ وہی قربانی کرے۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ یہ اجازت دوسروں کے لیے بھی ہے یا نہیں۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا اسماعيل، عن ايوب، عن محمد، عن انس، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من ذبح قبل الصلاة فليعد ". فقام رجل فقال هذا يوم يشتهى فيه اللحم. وذكر من جيرانه فكان النبي صلى الله عليه وسلم صدقه، قال وعندي جذعة احب الى من شاتى لحم، فرخص له النبي صلى الله عليه وسلم فلا ادري ابلغت الرخصة من سواه ام لا
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے منصور نے، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہما نے، آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کی نماز کے بعد خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی اس کی قربانی صحیح ہوئی لیکن جو شخص نماز سے پہلے قربانی کرے وہ نماز سے پہلے ہی گوشت کھاتا ہے مگر وہ قربانی نہیں۔ براء کے ماموں ابو بردہ بن نیار یہ سن کر بولے کہ یا رسول اللہ! میں نے اپنی بکری کی قربانی نماز سے پہلے کر دی میں نے سوچا کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے میری بکری اگر گھر کا پہلا ذبیحہ بنے تو بہت اچھا ہو۔ اس خیال سے میں نے بکری ذبح کر دی اور نماز سے پہلے ہی اس کا گوشت بھی کھا لیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی۔ ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے اور وہ مجھے گوشت کی دو بکریوں سے بھی عزیز ہے، کیا اس سے میری قربانی ہو جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں لیکن تمہارے بعد کسی کی قربانی اس عمر کے بچے سے کافی نہ ہو گی۔
حدثنا عثمان، قال حدثنا جرير، عن منصور، عن الشعبي، عن البراء بن عازب رضى الله عنهما قال خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم يوم الاضحى بعد الصلاة فقال " من صلى صلاتنا ونسك نسكنا فقد اصاب النسك، ومن نسك قبل الصلاة فانه قبل الصلاة، ولا نسك له ". فقال ابو بردة بن نيار خال البراء يا رسول الله، فاني نسكت شاتي قبل الصلاة، وعرفت ان اليوم يوم اكل وشرب، واحببت ان تكون شاتي اول ما يذبح في بيتي، فذبحت شاتي وتغديت قبل ان اتي الصلاة. قال " شاتك شاة لحم ". قال يا رسول الله، فان عندنا عناقا لنا جذعة هي احب الى من شاتين، افتجزي عني قال " نعم، ولن تجزي عن احد بعدك
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے زید بن اسلم نے خبر دی، انہیں عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح نے، انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے، آپ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر اور عید الاضحی کے دن ( مدینہ کے باہر ) عیدگاہ تشریف لے جاتے تو سب سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھاتے، نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے۔ تمام لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے رہتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وعظ و نصیحت فرماتے، اچھی باتوں کا حکم دیتے۔ اگر جہاد کے لیے کہیں لشکر بھیجنے کا ارادہ ہوتا تو اس کو الگ کرتے۔ کسی اور بات کا حکم دینا ہوتا تو وہ حکم دیتے۔ اس کے بعد شہر کو واپس تشریف لاتے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگ برابر اسی سنت پر قائم رہے لیکن معاویہ کے زمانہ میں مروان جو مدینہ کا حاکم تھا پھر میں اس کے ساتھ عیدالفطر یا عید الاضحی کی نماز کے لیے نکلا ہم جب عیدگاہ پہنچے تو وہاں میں نے کثیر بن صلت کا بنا ہوا ایک منبر دیکھا۔ جاتے ہی مروان نے چاہا کہ اس پر نماز سے پہلے ( خطبہ دینے کے لیے ) چڑھے اس لیے میں نے ان کا دامن پکڑ کر کھینچا اور لیکن وہ جھٹک کر اوپر چڑھ گیا اور نماز سے پہلے خطبہ دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ واللہ تم نے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ) بدل دیا۔ مروان نے کہا کہ اے ابوسعید! اب وہ زمانہ گزر گیا جس کو تم جانتے ہو۔ ابوسعید نے کہا کہ بخدا میں جس زمانہ کو جانتا ہوں اس زمانہ سے بہتر ہے جو میں نہیں جانتا۔ مروان نے کہا کہ ہمارے دور میں لوگ نماز کے بعد نہیں بیٹھتے، اس لیے میں نے نماز سے پہلے خطبہ کو کر دیا۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، قال حدثنا محمد بن جعفر، قال اخبرني زيد، عن عياض بن عبد الله بن ابي سرح، عن ابي سعيد الخدري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج يوم الفطر والاضحى الى المصلى، فاول شىء يبدا به الصلاة ثم ينصرف، فيقوم مقابل الناس، والناس جلوس على صفوفهم، فيعظهم ويوصيهم ويامرهم، فان كان يريد ان يقطع بعثا قطعه، او يامر بشىء امر به، ثم ينصرف. قال ابو سعيد فلم يزل الناس على ذلك حتى خرجت مع مروان وهو امير المدينة في اضحى او فطر، فلما اتينا المصلى اذا منبر بناه كثير بن الصلت، فاذا مروان يريد ان يرتقيه قبل ان يصلي، فجبذت بثوبه فجبذني فارتفع، فخطب قبل الصلاة، فقلت له غيرتم والله. فقال ابا سعيد، قد ذهب ما تعلم. فقلت ما اعلم والله خير مما لا اعلم. فقال ان الناس لم يكونوا يجلسون لنا بعد الصلاة فجعلتها قبل الصلاة
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، انہوں نے عبیداللہ بن عمر سے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عیدالفطر کی نماز پہلے پڑھتے پھر نماز کے بعد خطبہ دیتے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، قال حدثنا انس، عن عبيد الله، عن نافع، عن عبد الله بن عمر،. ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي في الاضحى والفطر، ثم يخطب بعد الصلاة
حدثنا ابراهيم بن موسى، قال اخبرنا هشام، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال سمعته يقول ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوم الفطر، فبدا بالصلاة قبل الخطبة. قال واخبرني عطاء، ان ابن عباس، ارسل الى ابن الزبير في اول ما بويع له انه لم يكن يوذن بالصلاة يوم الفطر، انما الخطبة بعد الصلاة. واخبرني عطاء، عن ابن عباس، وعن جابر بن عبد الله، قالا لم يكن يوذن يوم الفطر ولا يوم الاضحى. وعن جابر بن عبد الله، قال سمعته يقول ان النبي صلى الله عليه وسلم قام فبدا بالصلاة، ثم خطب الناس بعد، فلما فرغ نبي الله صلى الله عليه وسلم نزل فاتى النساء، فذكرهن وهو يتوكا على يد بلال، وبلال باسط ثوبه، يلقي فيه النساء صدقة. قلت لعطاء اترى حقا على الامام الان ان ياتي النساء فيذكرهن حين يفرغ قال ان ذلك لحق عليهم، وما لهم ان لا يفعلوا
حدثنا ابراهيم بن موسى، قال اخبرنا هشام، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال سمعته يقول ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوم الفطر، فبدا بالصلاة قبل الخطبة. قال واخبرني عطاء، ان ابن عباس، ارسل الى ابن الزبير في اول ما بويع له انه لم يكن يوذن بالصلاة يوم الفطر، انما الخطبة بعد الصلاة. واخبرني عطاء، عن ابن عباس، وعن جابر بن عبد الله، قالا لم يكن يوذن يوم الفطر ولا يوم الاضحى. وعن جابر بن عبد الله، قال سمعته يقول ان النبي صلى الله عليه وسلم قام فبدا بالصلاة، ثم خطب الناس بعد، فلما فرغ نبي الله صلى الله عليه وسلم نزل فاتى النساء، فذكرهن وهو يتوكا على يد بلال، وبلال باسط ثوبه، يلقي فيه النساء صدقة. قلت لعطاء اترى حقا على الامام الان ان ياتي النساء فيذكرهن حين يفرغ قال ان ذلك لحق عليهم، وما لهم ان لا يفعلوا
حدثنا ابراهيم بن موسى، قال اخبرنا هشام، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال سمعته يقول ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوم الفطر، فبدا بالصلاة قبل الخطبة. قال واخبرني عطاء، ان ابن عباس، ارسل الى ابن الزبير في اول ما بويع له انه لم يكن يوذن بالصلاة يوم الفطر، انما الخطبة بعد الصلاة. واخبرني عطاء، عن ابن عباس، وعن جابر بن عبد الله، قالا لم يكن يوذن يوم الفطر ولا يوم الاضحى. وعن جابر بن عبد الله، قال سمعته يقول ان النبي صلى الله عليه وسلم قام فبدا بالصلاة، ثم خطب الناس بعد، فلما فرغ نبي الله صلى الله عليه وسلم نزل فاتى النساء، فذكرهن وهو يتوكا على يد بلال، وبلال باسط ثوبه، يلقي فيه النساء صدقة. قلت لعطاء اترى حقا على الامام الان ان ياتي النساء فيذكرهن حين يفرغ قال ان ذلك لحق عليهم، وما لهم ان لا يفعلوا
حدثنا ابراهيم بن موسى، قال اخبرنا هشام، ان ابن جريج، اخبرهم قال اخبرني عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال سمعته يقول ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوم الفطر، فبدا بالصلاة قبل الخطبة. قال واخبرني عطاء، ان ابن عباس، ارسل الى ابن الزبير في اول ما بويع له انه لم يكن يوذن بالصلاة يوم الفطر، انما الخطبة بعد الصلاة. واخبرني عطاء، عن ابن عباس، وعن جابر بن عبد الله، قالا لم يكن يوذن يوم الفطر ولا يوم الاضحى. وعن جابر بن عبد الله، قال سمعته يقول ان النبي صلى الله عليه وسلم قام فبدا بالصلاة، ثم خطب الناس بعد، فلما فرغ نبي الله صلى الله عليه وسلم نزل فاتى النساء، فذكرهن وهو يتوكا على يد بلال، وبلال باسط ثوبه، يلقي فيه النساء صدقة. قلت لعطاء اترى حقا على الامام الان ان ياتي النساء فيذكرهن حين يفرغ قال ان ذلك لحق عليهم، وما لهم ان لا يفعلوا
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے حسن بن مسلم نے خبر دی، انہیں طاؤس نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ نے فرمایا کہ میں عید کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم سب کے ساتھ گیا ہوں یہ لوگ پہلے نماز پڑھتے، پھر خطبہ دیا کرتے تھے۔
حدثنا ابو عاصم، قال اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني الحسن بن مسلم، عن طاوس، عن ابن عباس، قال شهدت العيد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر وعثمان رضى الله عنهم فكلهم كانوا يصلون قبل الخطبة
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابواسامہ حماد بن ابواسامہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ نے نافع سے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔
حدثنا يعقوب بن ابراهيم، قال حدثنا ابو اسامة، قال حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر وعمر رضى الله عنهما يصلون العيدين قبل الخطبة
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، انہوں نے عدی بن ثابت سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر کے دن دو رکعتیں پڑھیں نہ ان سے پہلے کوئی نفل پڑھا نہ ان کے بعد۔ پھر ( خطبہ پڑھ کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے اور بلال آپ کے ساتھ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا خیرات کرو۔ وہ خیرات دینے لگیں کوئی اپنی بالی پیش کرنے لگی کوئی اپنا ہار دینے لگی۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا شعبة، عن عدي بن ثابت، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، ان النبي صلى الله عليه وسلم صلى يوم الفطر ركعتين، لم يصل قبلها ولا بعدها، ثم اتى النساء ومعه بلال، فامرهن بالصدقة، فجعلن يلقين، تلقي المراة خرصها وسخابها
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زبید نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبی سے سنا، ان سے براء بن عازب نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اس دن پہلے نماز پڑھیں گے پھر خطبہ کے بعد واپس ہو کر قربانی کریں گے۔ جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق عمل کیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو اس کا ذبیحہ گوشت کا جانور ہے جسے وہ گھر والوں کے لیے لایا ہے، قربانی سے اس کا کوئی بھی تعلق نہیں۔ ایک انصاری رضی اللہ عنہ جن کا نام ابوبردہ بن نیار تھا بولے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے تو ( نماز سے پہلے ہی ) قربانی کر دی لیکن میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے جو دوندی ہوئی بکری سے بھی اچھی ہے۔ آپ نے صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کہ اچھا اسی کو بکری کے بدلہ میں قربانی کر لو اور تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہ ہو گی۔
حدثنا ادم، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا زبيد، قال سمعت الشعبي، عن البراء بن عازب، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " ان اول ما نبدا في يومنا هذا ان نصلي، ثم نرجع فننحر، فمن فعل ذلك فقد اصاب سنتنا، ومن نحر قبل الصلاة فانما هو لحم قدمه لاهله، ليس من النسك في شىء ". فقال رجل من الانصار يقال له ابو بردة بن نيار يا رسول الله، ذبحت وعندي جذعة خير من مسنة. فقال " اجعله مكانه، ولن توفي او تجزي عن احد بعدك
ہم سے زکریا بن یحییٰ ابوالسکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن محاربی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن سوقہ نے سعید بن جبیر سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں ( حج کے دن ) ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب نیزے کی انی آپ کے تلوے میں چبھ گئی جس کی وجہ سے آپ کا پاؤں رکاب سے چپک گیا۔ تب میں نے اتر کر اسے نکالا۔ یہ واقعہ منیٰ میں پیش آیا تھا۔ جب حجاج کو معلوم ہوا جو اس زمانہ میں ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتل کے بعد حجاج کا امیر تھا تو وہ بیمار پرسی کے لیے آیا۔ حجاج نے کہا کہ کاش ہمیں معلوم ہو جاتا کہ کس نے آپ کو زخمی کیا ہے۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تو نے ہی تو مجھ کو نیزہ مارا ہے۔ حجاج نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ آپ نے فرمایا کہ تم اس دن ہتھیار اپنے ساتھ لائے جس دن پہلے کبھی ہتھیار ساتھ نہیں لایا جاتا تھا ( عیدین کے دن ) تم ہتھیار حرم میں لائے حالانکہ حرم میں ہتھیار نہیں لایا جاتا تھا۔
حدثنا زكرياء بن يحيى ابو السكين، قال حدثنا المحاربي، قال حدثنا محمد بن سوقة، عن سعيد بن جبير، قال كنت مع ابن عمر حين اصابه سنان الرمح في اخمص قدمه، فلزقت قدمه بالركاب، فنزلت فنزعتها وذلك بمنى، فبلغ الحجاج فجعل يعوده فقال الحجاج لو نعلم من اصابك. فقال ابن عمر انت اصبتني. قال وكيف قال حملت السلاح في يوم لم يكن يحمل فيه، وادخلت السلاح الحرم ولم يكن السلاح يدخل الحرم
ہم سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسحاق بن سعید بن عمرو بن سعید بن عاص نے اپنے باپ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ حجاج عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا میں بھی آپ کی خدمت میں موجود تھا۔ حجاج نے مزاج پوچھا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اچھا ہوں۔ اس نے پوچھا کہ آپ کو یہ برچھا کس نے مارا؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ مجھے اس شخص نے مارا جس نے اس دن ہتھیار ساتھ لے جانے کی اجازت دی جس دن ہتھیار ساتھ نہیں لے جایا جاتا تھا۔ آپ کی مراد حجاج ہی سے تھی۔
حدثنا احمد بن يعقوب، قال حدثني اسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، عن ابيه، قال دخل الحجاج على ابن عمر وانا عنده، فقال كيف هو فقال صالح. فقال من اصابك قال اصابني من امر بحمل السلاح في يوم لا يحل فيه حمله، يعني الحجاج