Loading...

Loading...
کتب
۴۲ احادیث
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے زبید سے بیان کیا، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن خطبہ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن سب سے پہلے ہمیں نماز پڑھنی چاہیے پھر ( خطبہ کے بعد ) واپس آ کر قربانی کرنی چاہیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو یہ ایک ایسا گوشت ہو گا جسے اس نے اپنے گھر والوں کے لیے جلدی سے تیار کر لیا ہے، یہ قربانی قطعاً نہیں۔ اس پر میرے ماموں ابوبردہ بن نیار نے کھڑے ہو کر کہا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو نماز کے پڑھنے سے پہلے ہی ذبح کر دیا۔ البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دانت نکلی بکری سے بھی زیادہ بہتر ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بدلہ میں اسے سمجھ لو یا یہ فرمایا کہ اسے ذبح کر لو اور تمہارے بعد یہ ایک سال کی پٹھیا کسی کے لیے کافی نہیں ہو گی۔
حدثنا سليمان بن حرب، قال حدثنا شعبة، عن زبيد، عن الشعبي، عن البراء، قال خطبنا النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر قال " ان اول ما نبدا به في يومنا هذا ان نصلي ثم نرجع فننحر، فمن فعل ذلك فقد اصاب سنتنا، ومن ذبح قبل ان يصلي فانما هو لحم عجله لاهله، ليس من النسك في شىء ". فقام خالي ابو بردة بن نيار فقال يا رسول الله، انا ذبحت قبل ان اصلي وعندي جذعة خير من مسنة. قال " اجعلها مكانها او قال اذبحها ولن تجزي جذعة عن احد بعدك
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے سلیمان کے واسطے سے بیان کیا، ان سے مسلم بطین نے، ان سے سعید بن جبیر نے، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان دنوں کے عمل سے زیادہ کسی دن کے عمل میں فضیلت نہیں۔ لوگوں نے پوچھا اور جہاد میں بھی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جہاد میں بھی نہیں سوا اس شخص کے جو اپنی جان و مال خطرہ میں ڈال کر نکلا اور واپس آیا تو ساتھ کچھ بھی نہ لایا ( سب کچھ اللہ کی راہ میں قربان کر دیا ) ۔
حدثنا محمد بن عرعرة، قال حدثنا شعبة، عن سليمان، عن مسلم البطين، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم انه قال " ما العمل في ايام العشر افضل من العمل في هذه ". قالوا ولا الجهاد قال " ولا الجهاد، الا رجل خرج يخاطر بنفسه وماله فلم يرجع بشىء
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے محمد بن ابی بکر ثقفی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے تلبیہ کے متعلق دریافت کیا کہ آپ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اسے کس طرح کہتے تھے۔ اس وقت ہم منیٰ سے عرفات کی طرف جا رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ تلبیہ کہنے والے تلبیہ کہتے اور تکبیر کہنے والے تکبیر۔ اس پر کوئی اعتراض نہ کرتا۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا مالك بن انس، قال حدثني محمد بن ابي بكر الثقفي، قال سالت انسا ونحن غاديان من منى الى عرفات عن التلبية كيف كنتم تصنعون مع النبي صلى الله عليه وسلم قال كان يلبي الملبي لا ينكر عليه، ويكبر المكبر فلا ينكر عليه
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے عاصم بن سلیمان سے بیان کیا، ان سے حفصہ بنت سیرین نے، ان سے ام عطیہ نے، انہوں نے فرمایا کہ ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ) میں ہمیں عید کے دن عیدگاہ میں جانے کا حکم تھا۔ کنواری لڑکیاں اور حائضہ عورتیں بھی پردہ میں باہر آتی تھیں۔ یہ سب مردوں کے پیچھے پردہ میں رہتیں۔ جب مرد تکبیر کہتے تو یہ بھی کہتیں اور جب وہ دعا کرتے تو یہ بھی کرتیں۔ اس دن کی برکت اور پاکیزگی حاصل کرنے کی امید رکھتیں۔
حدثنا محمد، حدثنا عمر بن حفص، قال حدثنا ابي، عن عاصم، عن حفصة، عن ام عطية، قالت كنا نومر ان نخرج يوم العيد، حتى نخرج البكر من خدرها، حتى نخرج الحيض فيكن خلف الناس، فيكبرن بتكبيرهم، ويدعون بدعايهم يرجون بركة ذلك اليوم وطهرته
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبیداللہ عمری نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عیدالفطر اور عید الاضحی کی نماز کے لیے برچھی آگے آگے اٹھائی جاتی اور وہ عیدگاہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گاڑ دی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی کی آڑ میں نماز پڑھتے۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا عبد الوهاب، قال حدثنا عبيد الله، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان تركز الحربة قدامه يوم الفطر والنحر ثم يصلي
ہم سے ابراہیم بن المنذر حزامی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ جاتے تو برچھا ( ڈنڈا جس کے نیچے لوہے کا پھل لگا ہوا ہو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے لے جایا جاتا تھا پھر یہ عیدگاہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گاڑ دیا جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی آڑ میں نماز پڑھتے۔
حدثنا ابراهيم بن المنذر، قال حدثنا الوليد، قال حدثنا ابو عمرو، قال اخبرني نافع، عن ابن عمر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يغدو الى المصلى، والعنزة بين يديه، تحمل وتنصب بالمصلى بين يديه فيصلي اليها
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد نے، ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے، آپ نے فرمایا کہ ہمیں حکم تھا کہ پردہ والی دوشیزاؤں کو عیدگاہ کے لیے نکالیں اور ایوب سختیانی نے حفصہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح روایت کی ہے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں یہ زیادتی ہے کہ دوشیزائیں اور پردہ والیاں ضرور ( عیدگاہ جائیں ) اور حائضہ نماز کی جگہ سے علیحدہ رہیں۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، قال حدثنا حماد، عن ايوب، عن محمد، عن ام عطية، قالت امرنا ان نخرج، العواتق وذوات الخدور. وعن ايوب عن حفصة بنحوه. وزاد في حديث حفصة قال او قالت العواتق وذوات الخدور، ويعتزلن الحيض المصلى
ہم سے عمرو بن عباس نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے عبدالرحمٰن بن عابس سے بیان کیا، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے عیدالفطر یا عید الاضحی کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا پھر عورتوں کی طرف آئے اور انہیں نصیحت فرمائی اور صدقہ کے لیے حکم فرمایا۔
حدثنا عمرو بن عباس، قال حدثنا عبد الرحمن، حدثنا سفيان، عن عبد الرحمن، قال سمعت ابن عباس، قال خرجت مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم فطر او اضحى، فصلى ثم خطب، ثم اتى النساء فوعظهن وذكرهن، وامرهن بالصدقة
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن بقیع کی طرف تشریف لے گئے اور دو رکعت عید کی نماز پڑھائی۔ پھر ہماری طرف چہرہ مبارک کر کے فرمایا کہ سب سے مقدم عبادت ہمارے اس دن کی یہ ہے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں پھر ( نماز اور خطبے سے ) لوٹ کر قربانی کریں۔ اس لیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو وہ ایسی چیز ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھلانے کے لیے جلدی سے مہیا کر دیا ہے اور اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو پہلے ہی ذبح کر دیا۔ لیکن میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے اور وہ دوندی بکری سے زیادہ بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیر تم اسی کو ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسی پٹھیا جائز نہ ہو گی۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا محمد بن طلحة، عن زبيد، عن الشعبي، عن البراء، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم يوم اضحى الى البقيع فصلى ركعتين، ثم اقبل علينا بوجهه وقال " ان اول نسكنا في يومنا هذا ان نبدا بالصلاة، ثم نرجع فننحر، فمن فعل ذلك فقد وافق سنتنا، ومن ذبح قبل ذلك فانما هو شىء عجله لاهله، ليس من النسك في شىء ". فقام رجل فقال يا رسول الله، اني ذبحت وعندي جذعة خير من مسنة. قال " اذبحها، ولا تفي عن احد بعدك
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان ثوری سے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، ان سے دریافت کیا گیا تھا کہ کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عیدگاہ گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں اور اگر باوجود کم عمری کے میری قدر و منزلت آپ کے یہاں نہ ہوتی تو میں جا نہیں سکتا تھا۔ آپ اس نشان پر آئے جو کثیر بن صلت کے گھر کے قریب ہے۔ آپ نے وہاں نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا۔ اس کے بعد عورتوں کی طرف آئے۔ آپ کے ساتھ بلال رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ نے انہیں وعظ اور نصیحت کی اور صدقہ کے لیے کہا۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ عورتیں اپنے ہاتھوں سے بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالے جا رہی تھیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ گھر واپس ہوئے۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا يحيى، عن سفيان، قال حدثني عبد الرحمن بن عابس، قال سمعت ابن عباس، قيل له اشهدت العيد مع النبي صلى الله عليه وسلم قال نعم، ولولا مكاني من الصغر ما شهدته، حتى اتى العلم الذي عند دار كثير بن الصلت فصلى ثم خطب ثم اتى النساء، ومعه بلال، فوعظهن وذكرهن، وامرهن بالصدقة، فرايتهن يهوين بايديهن يقذفنه في ثوب بلال، ثم انطلق هو وبلال الى بيته
ہم سے اسحاق بن ابراہیم بن نصر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو میں نے یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالفطر کی نماز پڑھی۔ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اس کے بعد خطبہ دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہو گئے تو اترے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ میں منبر نہیں لے کر جاتے تھے۔ تو اس اترے سے مراد بلند جگہ سے اترے ) اور عورتوں کی طرف آئے۔ پھر انہیں نصیحت فرمائی۔ آپ اس وقت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا رکھا تھا جس میں عورتیں صدقہ ڈال رہی تھیں۔ میں نے عطاء سے پوچھا کیا یہ صدقہ فطر دے رہی تھیں۔ انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ صدقہ کے طور پر دے رہی تھیں۔ اس وقت عورتیں اپنے چھلے ( وغیرہ ) برابر ڈال رہی تھیں۔ پھر میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ اب بھی امام پر اس کا حق سمجھتے ہیں کہ وہ عورتوں کو نصیحت کرے؟ انہوں نے فرمایا ہاں ان پر یہ حق ہے اور کیا وجہ ہے کہ وہ ایسا نہیں کرتے۔
حدثني اسحاق بن ابراهيم بن نصر، قال حدثنا عبد الرزاق، قال حدثنا ابن جريج، قال اخبرني عطاء، عن جابر بن عبد الله، قال سمعته يقول قام النبي صلى الله عليه وسلم يوم الفطر، فصلى فبدا بالصلاة ثم خطب، فلما فرغ نزل فاتى النساء، فذكرهن وهو يتوكا على يد بلال وبلال باسط ثوبه، يلقي فيه النساء الصدقة. قلت لعطاء زكاة يوم الفطر قال لا ولكن صدقة يتصدقن حينيذ، تلقي فتخها ويلقين. قلت اترى حقا على الامام ذلك ويذكرهن قال انه لحق عليهم، وما لهم لا يفعلونه
ابن جریج نے کہا کہ حسن بن مسلم نے مجھے خبر دی، انہیں طاؤس نے، انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے فرمایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عیدالفطر کی نماز پڑھنے گیا ہوں۔ یہ سب حضرات خطبہ سے پہلے نماز پڑھتے اور بعد میں خطبہ دیتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے، میری نظروں کے سامنے وہ منظر ہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ہاتھ کے اشارے سے بٹھا رہے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صفوں سے گزرتے ہوئے عورتوں کی طرف آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بلال تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی ”اے نبی! جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کے لیے آئیں“ الآیہ۔ پھر جب خطبہ سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ کیا تم ان باتوں پر قائم ہو؟ ایک عورت نے جواب دیا کہ ہاں۔ ان کے علاوہ کوئی عورت نہ بولی، حسن کو معلوم نہیں کہ بولنے والی خاتون کون تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیرات کے لیے حکم فرمایا اور بلال رضی اللہ عنہ نے اپنا کپڑا پھیلا دیا اور کہا کہ لاؤ تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ چنانچہ عورتیں چھلے اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔ عبدالرزاق نے کہا «فتخ» بڑے ( چھلے ) کو کہتے ہیں جس کا جاہلیت کے زمانہ میں استعمال تھا۔
قال ابن جريج واخبرني الحسن بن مسلم، عن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال شهدت الفطر مع النبي صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر وعثمان رضى الله عنهم يصلونها قبل الخطبة، ثم يخطب بعد، خرج النبي صلى الله عليه وسلم كاني انظر اليه حين يجلس بيده، ثم اقبل يشقهم حتى جاء النساء معه بلال فقال {يا ايها النبي اذا جاءك المومنات يبايعنك} الاية ثم قال حين فرغ منها " انتن على ذلك ". قالت امراة واحدة منهن لم يجبه غيرها نعم. لا يدري حسن من هي. قال " فتصدقن " فبسط بلال ثوبه ثم قال هلم لكن فداء ابي وامي، فيلقين الفتخ والخواتيم في ثوب بلال. قال عبد الرزاق الفتخ الخواتيم العظام كانت في الجاهلية
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے حفصہ بن سیرین کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم اپنی لڑکیوں کو عیدگاہ جانے سے منع کرتے تھے۔ پھر ایک خاتون باہر سے آئی اور قصر بنو خلف میں انہوں نے قیام کیا میں ان سے ملنے کے لیے حاضر ہوئی تو انہوں نے بیان کیا کہ ان کی بہن کے شوہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ لڑائیوں میں شریک رہے اور خود ان کی بہن اپنے شوہر کے ساتھ چھ لڑائیوں میں شریک ہوئی تھیں، ان کا بیان تھا کہ ہم مریضوں کی خدمت کیا کرتے تھے اور زخمیوں کی مرہم پٹی کرتے تھے۔ انہوں نے پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے اگر کسی کے پاس چادر نہ ہو اور اس وجہ سے وہ عید کے دن ( عیدگاہ ) نہ جا سکے تو کوئی حرج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی سہیلی اپنی چادر کا ایک حصہ اسے اڑھا دے اور پھر وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر جب ام عطیہ رضی اللہ عنہا یہاں تشریف لائیں تو میں ان کی خدمت میں بھی حاضر ہوئی اور دریافت کیا کہ آپ نے فلاں فلاں بات سنی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں میرے باپ آپ پر فدا ہوں۔ ام عطیہ رضی اللہ عنہا جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو یہ ضرور کہتیں کہ میرے باپ آپ پر فدا ہوں، ہاں تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوان پردہ والی یا جوان اور پردہ والی باہر نکلیں۔ شبہ ایوب کو تھا۔ البتہ حائضہ عورتیں عیدگاہ سے علیحدہ ہو کر بیٹھیں انہیں خیر اور مسلمانوں کی دعا میں ضرور شریک ہونا چاہیے۔ حفصہ نے کہا کہ میں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا کہ حائضہ عورتیں بھی؟ انہوں نے فرمایا کیا حائضہ عورتیں عرفات نہیں جاتیں اور کیا وہ فلاں فلاں جگہوں میں شریک نہیں ہوتیں ( پھر اجتماع عید ہی کی شرکت میں کون سی قباحت ہے ) ۔
حدثنا ابو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، قال حدثنا ايوب، عن حفصة بنت سيرين، قالت كنا نمنع جوارينا ان يخرجن يوم العيد، فجاءت امراة فنزلت قصر بني خلف فاتيتها فحدثت ان زوج اختها غزا مع النبي صلى الله عليه وسلم ثنتى عشرة غزوة فكانت اختها معه في ست غزوات. فقالت فكنا نقوم على المرضى ونداوي الكلمى، فقالت يا رسول الله، على احدانا باس اذا لم يكن لها جلباب ان لا تخرج فقال " لتلبسها صاحبتها من جلبابها فليشهدن الخير ودعوة المومنين ". قالت حفصة فلما قدمت ام عطية اتيتها، فسالتها اسمعت في كذا وكذا قالت نعم، بابي وقلما ذكرت النبي صلى الله عليه وسلم الا قالت بابي قال " ليخرج العواتق ذوات الخدور او قال العواتق وذوات الخدور شك ايوب والحيض، ويعتزل الحيض المصلى، وليشهدن الخير ودعوة المومنين ". قالت فقلت لها الحيض قالت نعم، اليس الحايض تشهد عرفات وتشهد كذا وتشهد كذا
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے محمد بن ابراہیم ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عون نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہمیں حکم تھا کہ حائضہ عورتوں، دوشیزاؤں اور پردہ والیوں کو عیدگاہ لے جائیں ابن عون نے کہا کہ یا ( حدیث میں ) پردہ والی دوشیزائیں ہے البتہ حائضہ عورتیں مسلمانوں کی جماعت اور دعاؤں میں شریک ہوں اور ( نماز سے ) الگ رہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، قال حدثنا ابن ابي عدي، عن ابن عون، عن محمد، قال قالت ام عطية امرنا ان نخرج فنخرج الحيض والعواتق وذوات الخدور. قال ابن عون او العواتق ذوات الخدور، فاما الحيض فيشهدن جماعة المسلمين ودعوتهم، ويعتزلن مصلاهم
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے کثیر بن فرقد نے نافع سے بیان کیا، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدگاہ ہی میں نحر اور ذبح کیا کرتے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثنا الليث، قال حدثني كثير بن فرقد، عن نافع، عن ابن عمر، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان ينحر او يذبح بالمصلى
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابوالاحوص سلام بن سلیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا کہ ان سے عامر شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز کے بعد خطبہ دیا اور فرمایا کہ جس نے ہماری طرح کی نماز پڑھی اور ہماری طرح کی قربانی کی، اس کی قربانی درست ہوئی۔ لیکن جس نے نماز سے پہلے قربانی کی تو وہ ذبیحہ صرف گوشت کھانے کے لیے ہو گا۔ اس پر ابوبردہ بن نیار نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قسم اللہ کی میں نے تو نماز کے لیے آنے سے پہلے قربانی کر لی میں نے یہ سمجھا کہ آج کا دن کھانے پینے کا دن ہے۔ اسی لیے میں نے جلدی کی اور خود بھی کھایا اور گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو بھی کھلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بہرحال یہ گوشت ( کھانے کا ) ہوا ( قربانی نہیں ) انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک بکری کا سال بھر کا بچہ ہے وہ دو بکریوں کے گوشت سے زیادہ بہتر ہے۔ کیا میری ( طرف سے اس کی ) قربانی درست ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں مگر تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسے بچے کی قربانی کافی نہ ہو گی۔
حدثنا مسدد، قال حدثنا ابو الاحوص، قال حدثنا منصور بن المعتمر، عن الشعبي، عن البراء بن عازب، قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم النحر بعد الصلاة فقال " من صلى صلاتنا ونسك نسكنا فقد اصاب النسك، ومن نسك قبل الصلاة فتلك شاة لحم ". فقام ابو بردة بن نيار فقال يا رسول الله والله لقد نسكت قبل ان اخرج الى الصلاة، وعرفت ان اليوم يوم اكل وشرب فتعجلت واكلت واطعمت اهلي وجيراني. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " تلك شاة لحم ". قال فان عندي عناق جذعة، هي خير من شاتى لحم، فهل تجزي عني قال " نعم، ولن تجزي عن احد بعدك
ہم سے حامد بن عمر نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز پڑھ کر خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر لیا اسے دوبارہ قربانی کرنی ہو گی۔ اس پر انصار میں سے ایک صاحب اٹھے کہ یا رسول اللہ! میرے کچھ غریب بھوکے پڑوسی ہیں یا یوں کہا وہ محتاج ہیں۔ اس لیے میں نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا البتہ میرے پاس ایک سال کی ایک پٹھیا ہے جو دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ مجھے پسند ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔
حدثنا حامد بن عمر، عن حماد بن زيد، عن ايوب، عن محمد، ان انس بن مالك، قال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى يوم النحر، ثم خطب فامر من ذبح قبل الصلاة ان يعيد ذبحه فقام رجل من الانصار فقال يا رسول الله، جيران لي اما قال بهم خصاصة، واما قال بهم فقر واني ذبحت قبل الصلاة وعندي عناق لي احب الى من شاتى لحم. فرخص له فيها
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے اسود بن قیس نے، ان سے جندب نے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بقر عید کے دن نماز پڑھنے کے بعد خطبہ دیا پھر قربانی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا ہو تو اسے دوسرا جانور بدلہ میں قربانی کرنا چاہیے اور جس نے نماز سے پہلے ذبح نہ کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے۔
حدثنا مسلم، قال حدثنا شعبة، عن الاسود، عن جندب، قال صلى النبي صلى الله عليه وسلم يوم النحر ثم خطب، ثم ذبح فقال " من ذبح قبل ان يصلي فليذبح اخرى مكانها، ومن لم يذبح فليذبح باسم الله
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ابوتمیلہ یحییٰ بن واضح نے خبر دی، انہیں فلیح بن سلیمان نے، انہیں سعید بن حارث نے، انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن ایک راستہ سے جاتے پھر دوسرا راستہ بدل کر آتے۔ اس روایت کی متابعت یونس بن محمد نے فلیح سے کی، ان سے سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا لیکن جابر کی روایت زیادہ صحیح ہے۔
حدثنا محمد، قال اخبرنا ابو تميلة، يحيى بن واضح عن فليح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، عن جابر، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم اذا كان يوم عيد خالف الطريق. تابعه يونس بن محمد عن فليح. وحديث جابر اصح
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے یہاں ( منٰی کے دنوں میں ) تشریف لائے اس وقت گھر میں دو لڑکیاں دف بجا رہی تھیں اور بعاث کی لڑائی کی نظمیں گا رہی تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چہرہ مبارک پر کپڑا ڈالے ہوئے تشریف فرما تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چہرہ مبارک سے کپڑا ہٹا کر فرمایا کہ ابوبکر جانے بھی دو یہ عید کے دن ہیں ( اور وہ بھی منٰی میں ) ۔
حدثنا يحيى بن بكير، قال حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عايشة، ان ابا بكر رضى الله عنه دخل عليها وعندها جاريتان في ايام منى تدففان وتضربان، والنبي صلى الله عليه وسلم متغش بثوبه، فانتهرهما ابو بكر فكشف النبي صلى الله عليه وسلم عن وجهه فقال " دعهما يا ابا بكر فانها ايام عيد ". وتلك الايام ايام منى. وقالت عايشة رايت النبي صلى الله عليه وسلم يسترني، وانا انظر الى الحبشة وهم يلعبون في المسجد، فزجرهم عمر فقال النبي صلى الله عليه وسلم " دعهم، امنا بني ارفدة ". يعني من الامن