احادیث
#976
صحیح بخاری - The Two Festivals (Eids)
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن بقیع کی طرف تشریف لے گئے اور دو رکعت عید کی نماز پڑھائی۔ پھر ہماری طرف چہرہ مبارک کر کے فرمایا کہ سب سے مقدم عبادت ہمارے اس دن کی یہ ہے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں پھر ( نماز اور خطبے سے ) لوٹ کر قربانی کریں۔ اس لیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو وہ ایسی چیز ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھلانے کے لیے جلدی سے مہیا کر دیا ہے اور اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو پہلے ہی ذبح کر دیا۔ لیکن میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے اور وہ دوندی بکری سے زیادہ بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیر تم اسی کو ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسی پٹھیا جائز نہ ہو گی۔
حدثنا ابو نعيم، قال حدثنا محمد بن طلحة، عن زبيد، عن الشعبي، عن البراء، قال خرج النبي صلى الله عليه وسلم يوم اضحى الى البقيع فصلى ركعتين، ثم اقبل علينا بوجهه وقال " ان اول نسكنا في يومنا هذا ان نبدا بالصلاة، ثم نرجع فننحر، فمن فعل ذلك فقد وافق سنتنا، ومن ذبح قبل ذلك فانما هو شىء عجله لاهله، ليس من النسك في شىء ". فقام رجل فقال يا رسول الله، اني ذبحت وعندي جذعة خير من مسنة. قال " اذبحها، ولا تفي عن احد بعدك
Metadata
- Edition
- صحیح بخاری
- Book
- The Two Festivals (Eids)
- Hadith Index
- #976
- Book Index
- 25
Grades
- -
