Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم رکوع اور سجدے میں مجھ سے سبقت نہ کرو، اگر میں رکوع تم سے پہلے کروں گا تو تم مجھ کو پا لو گے جب میں رکوع سے سر اٹھا رہا ہوں گا، اور اگر میں سجدہ میں تم سے پہلے جاؤں گا تو تم مجھ کو پا لو گے جب میں سجدہ سے سر اٹھا رہا ہوں گا، کیونکہ میرا جسم بھاری ہو گیا ہے ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن ابن عجلان، ح وحدثنا ابو بشر، بكر بن خلف حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن عجلان، عن محمد بن يحيى بن حبان، عن ابن محيريز، عن معاوية بن ابي سفيان، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لا تبادروني بالركوع ولا بالسجود، فمهما اسبقكم به اذا ركعت، تدركوني به اذا رفعت، ومهما اسبقكم به اذا سجدت، تدركوني به اذا رفعت، اني قد بدنت
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ بدسلوکی اور بےرخی کی بات ہے کہ آدمی نماز ختم کرنے سے پہلے اپنی پیشانی پر باربار ہاتھ پھیرے ۔
حدثنا عبد الرحمن بن ابراهيم الدمشقي، حدثنا ابن ابي فديك، حدثنا هارون بن عبد الله بن الهدير التيمي، عن الاعرج، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ان من الجفاء ان يكثر الرجل مسح جبهته، قبل الفراغ من صلاته
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز میں اپنی انگلیاں نہ چٹخاؤ ۔
حدثنا يحيى بن حكيم، حدثنا ابو قتيبة، حدثنا يونس بن ابي اسحاق، واسراييل بن يونس، عن ابي اسحاق، عن الحارث، عن علي، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تفقع اصابعك وانت في الصلاة
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے
حدثنا ابو سعيد، سفيان بن زياد المودب حدثنا محمد بن راشد، عن الحسن بن ذكوان، عن عطاء، عن ابي هريرة، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يغطي الرجل فاه في الصلاة
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس نے نماز میں تشبیک کر رکھی ہے ۱؎، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی انگلیاں الگ الگ کر دیں۔
حدثنا علقمة بن عمرو الدارمي، حدثنا ابو بكر بن عياش، عن محمد بن عجلان، عن سعيد المقبري، عن كعب بن عجرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى رجلا قد شبك اصابعه في الصلاة ففرج رسول الله صلى الله عليه وسلم بين اصابعه
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص جمائی لے تو اپنا ہاتھ اپنے منہ پر رکھ لے اور آواز نہ کرے، اس لیے کہ شیطان اس سے ہنستا ہے ۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا حفص بن غياث، عن عبد الله بن سعيد المقبري، عن ابيه، عن ابي هريرة، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا تثاءب احدكم فليضع يده على فيه، ولا يعوي، فان الشيطان يضحك منه
ثابت کے والد دینار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نماز میں تھوکنا، رینٹ نکالنا، حیض کا آنا اور اونگھنا، شیطان کی جانب سے ہے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا الفضل بن دكين، عن شريك، عن ابي اليقظان، عن عدي بن ثابت، عن ابيه، عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " البزاق والمخاط والحيض والنعاس في الصلاة من الشيطان
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین لوگوں کی نماز قبول نہیں ہوتی: ایک تو وہ جو لوگوں کی امامت کرے جب کہ لوگ اس کو ناپسند کرتے ہوں، دوسرا وہ جو نماز میں ہمیشہ پیچھے ( یعنی نماز کا وقت فوت ہو جانے کے بعد ) آتا ہو، اور تیسرا وہ جو کسی آزاد کو غلام بنا لے
حدثنا ابو كريب، حدثنا عبدة بن سليمان، وجعفر بن عون، عن الافريقي، عن عمران بن عبد، عن عبد الله بن عمرو، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا تقبل لهم صلاة الرجل يوم القوم وهم له كارهون، والرجل لا ياتي الصلاة الا دبارا - يعني بعد ما يفوته الوقت - ومن اعتبد محررا
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین اشخاص ایسے ہیں کہ ان کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھی اوپر نہیں جاتی: ایک وہ شخص جس نے کسی قوم کی امامت کی اور لوگ اس کو ناپسند کرتے ہیں، دوسرے وہ عورت جو اس حال میں رات گزارے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو، اور تیسرے وہ دو بھائی جنہوں نے باہم قطع تعلق کر لیا ہو ۔
حدثنا محمد بن عمر بن هياج، حدثنا يحيى بن عبد الرحمن الارحبي، حدثنا عبيدة بن الاسود، عن القاسم بن الوليد، عن المنهال بن عمرو، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " ثلاثة لا ترتفع صلاتهم فوق رءوسهم شبرا رجل ام قوما وهم له كارهون، وامراة باتت وزوجها عليها ساخط واخوان متصارمان
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو یا دو سے زیادہ لوگ جماعت ہیں ۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا الربيع بن بدر، عن ابيه، عن جده، عمرو بن جراد عن ابي موسى الاشعري، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اثنان، فما فوقهما، جماعة
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس رات بسر کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز ( تہجد ) کے لیے اٹھے، میں بھی اٹھا اور جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ۱؎۔
حدثنا محمد بن عبد الملك بن ابي الشوارب، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عاصم، عن الشعبي، عن ابن عباس، قال بت عند خالتي ميمونة فقام النبي صلى الله عليه وسلم يصلي من الليل فقمت عن يساره فاخذ بيدي فاقامني عن يمينه
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب پڑھ رہے تھے میں آیا اور آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کر لیا ۱؎۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا ابو بكر الحنفي، حدثنا الضحاك بن عثمان، حدثنا شرحبيل، قال سمعت جابر بن عبد الله، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي المغرب، فجيت فقمت عن يساره، فاقامني عن يمينه
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر کی ایک عورت اور میرے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے مجھے اپنے دائیں جانب کھڑا کیا، اور عورت نے ہمارے پیچھے نماز پڑھی ۱؎۔
حدثنا نصر بن علي، حدثنا ابي، حدثنا شعبة، عن عبد الله بن المختار، عن موسى بن انس، عن انس، قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بامراة من اهله، وبي، فاقامني عن يمينه وصلت المراة خلفنا
ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں ہمارے کندھوں پہ ہاتھ پھیرتے اور فرماتے: الگ الگ نہ رہو، ورنہ تمہارے دل الگ الگ ہو جائیں گے، اور تم میں جو عقل اور شعور والے ہیں وہ میرے نزدیک کھڑے ہوں، پھر وہ لوگ جو عقل و شعور میں ان سے قریب ہوں، پھر وہ جو ان سے قریب ہوں ۱؎۔
حدثنا محمد بن الصباح، انبانا سفيان بن عيينة، عن الاعمش، عن عمارة بن عمير، عن ابي معمر، عن ابي مسعود الانصاري، قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يمسح مناكبنا في الصلاة ويقول " لا تختلفوا، فتختلف قلوبكم، ليليني منكم اولو الاحلام والنهى، ثم الذين يلونهم، ثم الذين يلونهم
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پسند فرماتے تھے کہ مہاجرین اور انصار آپ کے قریب کھڑے ہوں، تاکہ آپ سے دین کی باتیں سیکھ سکیں۱؎۔
حدثنا نصر بن علي الجهضمي، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا حميد، عن انس، قال كان رسول الله يحب ان يليه المهاجرون والانصار، لياخذوا عنه
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو دیکھا کہ وہ پیچھے کی صفوں میں رہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آگے آ جاؤ، اور نماز میں تم میری اقتداء کرو، اور تمہارے بعد والے تمہاری اقتداء کریں، کچھ لوگ برابر پیچھے رہا کرتے ہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو پیچھے کر دیتا ہے ۱؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابن ابي زايدة، عن ابي الاشهب، عن ابي نضرة، عن ابي سعيد، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم راى في اصحابه تاخرا فقال " تقدموا فاتموا بي، ولياتم بكم من بعدكم، لا يزال قوم يتاخرون حتى يوخرهم الله
مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرا ایک ساتھی دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، جب ہم واپس ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جب نماز کا وقت ہو جائے تو اذان و اقامت کہو، اور تم میں جو عمر میں بڑا ہو وہ امامت کرے ۱؎۔
حدثنا بشر بن هلال الصواف، حدثنا يزيد بن زريع، عن خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن مالك بن الحويرث، قال اتيت النبي صلى الله عليه وسلم انا وصاحب لي فلما اردنا الانصراف قال لنا " اذا حضرت الصلاة فاذنا واقيما، وليومكما اكبركما
ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کی امامت وہ شخص کرے جو لوگوں میں قرآن زیادہ جانتا ہو، اگر قراءت میں سب یکساں ہوں تو امامت وہ کرے جس نے ہجرت پہلے کی ہو ۱؎، اگر ہجرت میں سب برابر ہوں تو امامت وہ کرے جو عمر کے لحاظ سے بڑا ہو، اور کوئی شخص کسی شخص کے گھر والوں میں اور اس کے دائرہ اختیار و منصب کی جگہ میں امامت نہ کرے ۲؎، اور کوئی کسی کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پہ بغیر اس کی اجازت کے نہ بیٹھے ۳؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن اسماعيل بن رجاء، قال سمعت اوس بن ضمعج، قال سمعت ابا مسعود، يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " يوم القوم اقروهم لكتاب الله، فان كانت قراءتهم سواء، فليومهم اقدمهم هجرة، فان كانت الهجرة سواء، فليومهم اكبرهم سنا، ولا يوم الرجل في اهله ولا في سلطانه، ولا يجلس على تكرمته في بيته، الا باذن، او باذنه
ابوحازم کہتے ہیں کہ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے جوانوں کو آگے بڑھاتے وہی لوگوں کو نماز پڑھاتے، کسی نے سہل رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ جوانوں کو نماز کے لیے آگے بڑھاتے ہیں، حالانکہ آپ کو سبقت اسلام کا بلند رتبہ حاصل ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: امام ( مقتدیوں کی نماز کا ) ضامن ہے، اگر وہ اچھی طرح نماز پڑھائے تو اس کے لیے بھی ثواب ہے اور مقتدیوں کے لیے بھی، اور اگر خراب طریقے سے پڑھائے تو اس پر گناہ ہے لوگوں پر نہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عبد الحميد بن سليمان، اخو فليح حدثنا ابو حازم، قال كان سهل بن سعد الساعدي يقدم فتيان قومه يصلون بهم فقيل له تفعل ولك من القدم ما لك قال اني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " الامام ضامن، فان احسن، فله ولهم، وان اساء - يعني - فعليه ولا عليهم
خرشہ کی بہن سلامہ بنت حر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ دیر تک کھڑے رہیں گے، کوئی امام نہیں ملے گا جو انہیں نماز پڑھائے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن ام غراب، عن امراة، يقال لها عقيلة عن سلامة بنت الحر، اخت خرشة قالت سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ياتي على الناس زمان يقومون ساعة، لا يجدون اماما يصلي بهم