Loading...

Loading...
کتب
۶۳۰ احادیث
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے کچھ رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو کوئی لاٹھی کھڑی کر لے، اگر وہ بھی نہ پائے تو لکیر کھینچ لے، پھر جو چیز بھی اس کے سامنے سے گزرے گی اسے نقصان نہیں پہنچائے گی ۔
حدثنا بكر بن خلف ابو بشر، حدثنا حميد بن الاسود، حدثنا اسماعيل بن امية، ح وحدثنا عمار بن خالد، حدثنا سفيان بن عيينة، عن اسماعيل بن امية، عن ابي عمرو بن محمد بن عمرو بن حريث، عن جده، حريث بن سليم عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اذا صلى احدكم فليجعل تلقاء وجهه شييا فان لم يجد فلينصب عصا فان لم يجد فليخط خطا ثم لا يضره ما مر بين يديه
بسر بن سعید کہتے ہیں کہ لوگوں نے مجھے زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے ( نمازی ) کے آگے سے گزرنے کے متعلق سوال کروں، انہوں نے خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: چالیس … تک ٹھہرے رہنا نمازی کے آگے سے گزرنے سے بہتر ہے ۔ سفیان بن عیینہ ( راوی حدیث ) کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال یا چالیس مہینے یا چالیس دن یا چالیس گھنٹہ کہا۔
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان بن عيينة، عن سالم ابي النضر، عن بسر بن سعيد، قال ارسلوني الى زيد بن خالد اساله عن المرور، بين يدى المصلي فاخبرني عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لان يقوم اربعين خير له من ان يمر بين يديه " . قال سفيان فلا ادري اربعين سنة او شهرا او صباحا او ساعة
بسر بن سعید سے روایت ہے کہ زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے ابوجہیم انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں کیا سنا ہے، جو نمازی کے آگے سے گزرے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم میں سے کوئی جان لے کہ اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت میں گزرنے میں کیا گناہ ہے، تو اس کے لیے چالیس … تک ٹھہرے رہنا آگے سے گزرنے سے بہتر ہے ۔ راوی کہتے ہیں کہ مجھے یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس سال، چالیس مہینے یا چالیس دن فرمایا ۱؎۔
حدثنا علي بن محمد، حدثنا وكيع، حدثنا سفيان، عن سالم ابي النضر، عن بسر بن سعيد، ان زيد بن خالد، ارسل الى ابي جهيم الانصاري يساله ما سمعت من النبي، صلى الله عليه وسلم في الرجل يمر بين يدى الرجل وهو يصلي فقال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " لو يعلم احدكم ماله ان يمر بين يدى اخيه وهو يصلي كان لان يقف اربعين - قال لا ادري اربعين عاما او اربعين شهرا او اربعين يوما - خير له من ذلك
ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میں سے کوئی اس گناہ کو جان لے جو اپنے بھائی کے آگے سے نماز کی حالت آڑے میں گزرنے سے ہے تو وہ ایک قدم اٹھانے سے سو سال کھڑے رہنا بہتر سمجھے ۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن عبيد الله بن عبد الرحمن بن موهب، عن عمه، عن ابي هريرة، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " لو يعلم احدكم ما له في ان يمر بين يدى اخيه معترضا في الصلاة كان لان يقيم ماية عام خير له من الخطوة التي خطاها
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مقام عرفہ میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر صف کے کچھ حصے کے سامنے سے گزرے، پھر ہم سواری سے اترے اور گدھی کو چھوڑ دیا، پھر ہم صف میں شامل ہو گئے
حدثنا هشام بن عمار، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي بعرفة، فجيت انا والفضل على اتان، فمررنا على بعض الصف، فنزلنا عنها وتركناها، ثم دخلنا في الصف
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے حجرہ میں نماز پڑھ رہے تھے، اتنے میں آپ کے سامنے سے عبداللہ یا عمر بن ابی سلمہ گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا وہ لوٹ گئے، پھر زینب بنت ام سلمہ گزریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسی طرح اشارہ کیا مگر وہ سامنے سے گزرتی چلی گئیں، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے، تو فرمایا: یہ عورتیں نہیں مانتیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا وكيع، عن اسامة بن زيد، عن محمد بن قيس، - هو قاص عمر بن عبد العزيز - عن ابيه، عن ام سلمة، قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في حجرة ام سلمة فمر بين يديه عبد الله او عمر بن ابي سلمة فقال بيده فرجع فمرت زينب بنت ام سلمة فقال بيده هكذا فمضت فلما صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " هن اغلب
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کالا کتا اور بالغ عورت نماز کو توڑ دیتے ہیں ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن خلاد الباهلي، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا شعبة، حدثنا قتادة، حدثنا جابر بن زيد، عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يقطع الصلاة الكلب الاسود، والمراة الحايض
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے ۔
حدثنا زيد بن اخزم ابو طالب، حدثنا معاذ بن هشام، حدثنا ابي، عن قتادة، عن زرارة بن اوفى، عن سعد بن هشام، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يقطع الصلاة المراة والكلب والحمار
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت، کتے اور گدھے کا گزرنا نماز کو توڑ دیتا ہے ۔
حدثنا جميل بن الحسن، حدثنا عبد الاعلى، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن الحسن، عن عبد الله بن مغفل، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يقطع الصلاة المراة والكلب والحمار
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نمازی کے آگے کجاوہ کی لکڑی کے مثل کوئی چیز نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے اور کتے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے ۱؎۔ عبداللہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کالے کتے کی تخصیص کی کیا وجہ ہے؟ اگر لال کتا ہو تو؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا جو تم نے مجھ سے کیا ہے تو آپ نے فرمایا: کالا کتا شیطان ہے ۲؎۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن حميد بن هلال، عن عبد الله بن الصامت، عن ابي ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " يقطع الصلاة اذا لم يكن بين يدى الرجل مثل موخرة الرحل المراة والحمار والكلب الاسود " . قال قلت ما بال الاسود من الاحمر فقال سالت رسول الله صلى الله عليه وسلم كما سالتني فقال " الكلب الاسود شيطان
حسن عرنی کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ان چیزوں کا ذکر ہوا جو نماز کو توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کتے، گدھے اور عورت کا ذکر کیا، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے پوچھا: تم لوگ بکری کے بچے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، تو بکری کا ایک بچہ آپ کے سامنے سے گزرنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی سے قبلہ کی طرف بڑھے ۱؎۔
حدثنا احمد بن عبدة، انبانا حماد بن زيد، حدثنا يحيى ابو المعلى، عن الحسن العرني، قال ذكر عند ابن عباس ما يقطع الصلاة فذكروا الكلب والحمار والمراة فقال ما تقولون في الجدى ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي يوما فذهب جدى يمر بين يديه فبادره رسول الله صلى الله عليه وسلم القبلة
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نماز پڑھے تو سترہ کی جانب پڑھے، اور اس سے قریب کھڑا ہو، اور کسی کو اپنے سامنے سے گزرنے نہ دے، اگر کوئی گزرنا چاہے تو اس سے لڑے ۱؎ کیونکہ وہ شیطان ہے ۲؎۔
حدثنا ابو كريب، حدثنا ابو خالد الاحمر، عن ابن عجلان، عن زيد بن اسلم، عن عبد الرحمن بن ابي سعيد، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا صلى احدكم فليصل الى سترة. وليدن منها. ولا يدع احدا يمر بين يديه. فان جاء احد يمر فليقاتله. فانه شيطان
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو اپنے سامنے کسی کو گزرنے نہ دے، اور اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، کیونکہ اس کے ساتھ اس کا ساتھی ( شیطان ) ہے ۔ حسن بن داود منکدری نے کہا کہ اس کے ساتھ عزّی ہے۔
حدثنا هارون بن عبد الله الحمال، والحسن بن داود المنكدري، قالا حدثنا ابن ابي فديك، عن الضحاك بن عثمان، عن صدقة بن يسار، عن عبد الله بن عمر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اذا كان احدكم يصلي فلا يدع احدا يمر بين يديه فان ابى فليقاتله فان معه القرين " . وقال المنكدري فان معه العزى
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز پڑھتے تھے، اور میں آپ کے اور قبلہ کے درمیان جنازہ کی طرح آڑے لیٹی ہوتی تھی
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا سفيان، عن الزهري، عن عروة، عن عايشة، ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي من الليل، وانا معترضة بينه وبين القبلة، كاعتراض الجنازة
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ان کا بستر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سجدہ گاہ کے بالمقابل ہوتا تھا۔
حدثنا بكر بن خلف، وسويد بن سعيد، قالا حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد الحذاء، عن ابي قلابة، عن زينب بنت ابي سلمة، عن امها، قالت كان فراشها بحيال مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم
عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے لیٹی ہوتی تھی، اور بسا اوقات جب آپ سجدہ فرماتے تو آپ کا کپڑا مجھ سے چھو جاتا۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا عباد بن العوام، عن الشيباني، عن عبد الله بن شداد، قال حدثتني ميمونة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وانا بحذايه وربما اصابني ثوبه اذا سجد
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بات چیت کرنے والے، اور سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎۔
حدثنا محمد بن اسماعيل، حدثنا زيد بن الحباب، حدثني ابو المقدام، عن محمد بن كعب، عن ابن عباس، قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يصلى خلف المتحدث والنايم
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سکھاتے کہ ہم رکوع اور سجدے میں امام سے پہل نہ کریں اور ( فرماتے ) جب امام «اللہ اکبر»کہے تو تم بھی «اللہ اکبر» کہو، اور جب سجدہ کرے تو تم بھی سجدہ کرو ۱؎۔
حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة، حدثنا محمد بن عبيد، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، قال كان النبي صلى الله عليه وسلم يعلمنا ان لا نبادر الامام بالركوع والسجود واذا كبر فكبروا واذا سجد فاسجدوا
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص امام سے پہلے اپنا سر اٹھاتا ہے، کیا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سر کو گدھے کے سر سے بدل دے ۱؎۔
حدثنا حميد بن مسعدة، وسويد بن سعيد، قالا حدثنا حماد بن زيد، حدثنا محمد بن زياد، عن ابي هريرة، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " الا يخشى الذي يرفع راسه قبل الامام ان يحول الله راسه راس حمار؟
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا بدن بھاری ہو گیا ہے، لہٰذا جب میں رکوع میں جاؤں تب تم رکوع میں جاؤ، اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھا لوں تو تم اپنا سر اٹھاؤ، اور جب سجدہ میں چلا جاؤں تو تم سجدہ میں جاؤ، میں کسی شخص کو نہ پاؤں کہ وہ مجھ سے پہلے رکوع یا سجدے میں چلا جائے ۔
حدثنا محمد بن عبد الله بن نمير، حدثنا ابو بدر، شجاع بن الوليد عن زياد بن خيثمة، عن ابي اسحاق، عن دارم، عن سعيد بن ابي بردة، عن ابي بردة، عن ابي موسى، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اني قد بدنت، فاذا ركعت فاركعوا، واذا رفعت فارفعوا، واذا سجدت فاسجدوا، ولا الفين رجلا يسبقني الى الركوع، ولا الى السجود